00:00اس کے بعد ایک چیز بہت امپورٹنٹ ہے چونکہ ہم یہاں پہ مدود ہیں اس ملک میں
00:05اور یہ باز بکات فیملیز میں شادی ہوتی ہیں یا فیملیز کے آؤٹ آف فیملیز بھی ہوتی ہیں
00:10اپنے ملک میں جا کے شادیہ کرتے ہیں تو اس پہ ایک وصلہ یہ بہت آتا ہے پوچھا بھی جاتا
00:15ہے
00:18تو وہ یہ ہوتا ہے کہ یہ ٹیلی فون پر نکاح ہو جاتا ہے یہ نہیں
00:22ٹیلی فون پر نکاح ہو رکھنے ہونا اس کے بارے میں
00:25تو یہ ایک کامل وصلہ ہے اوزمیٹ پڑھ جاتی یہ بارے
00:30ملک کیا ہے احادیث سے لے کہ ہمیں پتہ چلتا ہے کہ آقا قریب صلی اللہ علیہ وسلم کی
00:36دورے مبارک کے بعد بھی ہمیشہ سے یہ رواج ہے کہ نکاح جو ہے
00:42زوجین کا افس میں اور دو آدل گوافوں کی موجود کی موجود ہوتا ہے
00:50اب چونکہ ٹیلی فون کے ہے اس پر تو آدل گواف کے سامنے موجود نہیں ہے
00:55ٹھیک ہے تو اب نکاح جو ہے ایسا نکاح کرنا جس میں آپ خود یہاں سے
01:01کروئے ہیں ادھر سے لڑکی ہے یا اپوزٹ ہے ادھر لڑکی ہے ادھر لڑکا ہے اور گواف
01:05جو ہے صرف ایک سامنے ٹھیک ہے وہاں پہ نکاح ایسا جائزی ہے ہاں اس کی ایک صورت ہے
01:10اگر ٹیلی فون پہ نکاح کرنا ہے تو اس کی ایک صورت یہ ہے کہ ادھر لڑکا یا لڑکی
01:15نسے ہیں وہ کسی کو اپنا ولی مقرر کرے اب اس کو اپنا ولی مقرر کرے اور کہے
01:23کہ میں اپنا پورا اختیار اس کو دیتا ہوں کہ یہ میرے لیے اس کو قبول کریں
01:28اور وہ جو آپ کو ولی ہوگا وہ آپ کی جگہ پہ اس کو قبول کرے گا آپ کے لیے
01:34تو وہ کہے گے کہ آپ اس لڑکی کو اس لڑکی کے لکار میں دیا آپ اس کو قبول کرتے
01:40ہیں
01:40تو وہ نہیں آپ کے بحافتے اور پہ قبول کرویں تو اگر ایسی صورت میں ہوتا ہے
01:45تب وہ اچائیس ہے تب وہ الاؤٹ ہے اور یہ شریف اس میں ہے ملکی قانون یہاں پہ چونکہ وہ
01:52اس کو
01:52کسی اپنی دھتے تو آپ کو پورا فیس کا ویزہ پر بھی نہیں ملے گا اس کے لیے آپ کو
01:56فیزیک رجا کے شادی کرنی
01:58ہوگی یا اس کو لاپی شادی کرنی ہوگی یا جو بھی سوٹ جا رہے تو ملکی قانون جو کہ اس
02:02کو
02:02نہیں مانتا اس طرح سے لکار کو اس کو ڈاؤٹ رہتا ہے
02:06تو اس لیا سے دیکھا کہ تو وہاں پہ جاری کرنا چاہیے لیکن شرح یہ ہے کہ لکار اگر آپ
02:11نے
02:11کرنا ہے آرلائن یا آپ پون کے ذریعے تو اس کے لیے آپ کو ایک بلیو قانون کرنا ہوگا
02:16جو آپ کے بحاف کے پر اس کو اور وہاں پہ چکے شاہد آدل جو دعا وجود ہیں
02:27تو یہ چند ایک چیزیں تھی یہاں پہ اور اس کے بعد جو ہے آگے
02:36اگلی جو آیات مدار کا ہے وہ بچوں کے مالے میں ہیں
02:40اور پھر کیونکہ زیادہ تھا یہاں معاملات یتیموں کے ساتھ رہے ہیں
02:45اور جیسے ہم نے کہاں پڑا تھا کہ یہ نظمہ اوہد کے بات کی معاملات زیادہ ہے ان آیات میں
02:49کہ نظمہ اوہد میں ستہ سابقہ کارل مرشید ہوگئے
02:52وہ بچے یتیم ہوگئے کچھ اوہد پہ بیوہ ہوگئے
02:55تو یہ سارے معاملات تک انتائے کے ہیں
02:57واللہ تعالی نے فرمایا
02:58وَلَا تُعْتُسُ فَهَا أَعْوَالَكُمِ الَّذِي جَعَلَ اللَّهُمْ لَكُمْ قِيَامٌ وَزُقُوْهُمْ فِيَّا وَقْسُورٌ مَقُولُ لَهُمْ قَوْلٍ وَعْرُوفًا
03:10فرمایا کہا
03:11وَلَا تُعْتُسُ فَهَا أَعْوَالَكُمْ
03:15کہ بے مکوفا کو اپنے مال نہ دے
03:20بے مکوف کیوں کو کہا گیا ہے جو نبالوں اچھے ہیں
03:23جن کو ابھی عقل کو نہیں پہنچے
03:26یا اپنی اختار کو نہیں پہنچے
03:28ان کے بارے میں فرمایا گیا کہ ان کو ان کے مال
03:31اپنے مال نہ دے
03:32اس کی وجہ کیا ہے کہ ان کو ان کے شعور دیئے
03:37اور لا شعوری طور پر
03:39وہ ان کو ایسی جبوں میں خنچ کر دے گئے
03:41یا سایہ کر دے گئے
03:43جو مناسب ہیں
03:45تو فرمایا کہ ان کو ان کے مال نہ دے
03:47اپنے مالوں کو رکھے رکھو
03:49ٹھیک ہے
03:51اور فرمایا کہ
03:52کم اپنے مالوں کو اپنے مالیں دے
03:54جن کو اللہ تعالی نے تمہاری مذرق اوقات کا ذریعہ بنایا ہے
03:59وَرْزُقُوْهُمْ فِيْهَا وَقْسُوْهُمْ
04:02ان کو ان کا رزق لوئے نہیں
04:04ان کو اچھا کرنا بانی درو
04:06وَقْسُوْهُمْ
04:07اور ان کو اچھا پہلاؤ اچھا کھلاؤ اچھا پہلاؤ
04:11وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَعْرُوفًا
04:13اور ان کے ساتھ خیر خائی کی بات کرتے رہو
04:16اچھی باتیں ان کے ساتھ کرتے رہو
04:18وَبْتَرُوا لِيَّةَا
04:20اور یہ یتیم بچے ہیں
04:22ان کو آزماتے رہو
04:24ان کا ٹیسٹ لیتے رہو
04:26بعض بار کیا ہوتا ہے کہ ایک بچہ جو ہے
04:29جس کو ہم بولتے ہیں
04:30کلیور ہوتا ہے تھوڑا
04:32ذہین ہوتا ہے
04:34تو ممکن ہے کہ وہ
04:3512 سال کے عمر میں مسائل کو سمجھنا شروع کر لیں
04:39چھوٹی عمر میں
04:41تو قرآن پاگر میں فرمایا کہ
04:43وَبْتَرُوا لِيَّةَا
04:44اور ان یتیموں کا امتحان لیتے رہو
04:47ان کی آزمائش کا پہلاؤ
04:49حَتَّى اِوَا بَالَهُمْ نِكَاحَ
04:51یہاں تک کہ وہ نکاح کی عمر
04:56فَإِنْ آَرَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْدًا
04:58اور اَدَرْتُمْ اُنْ مِنْ رُشْد کے
05:01یعنی کلیورنس کے انٹیلیجن کے
05:04ذہانت کے شواہد کو پا دھو
05:07اَدَرْتُمْ دیکھو کہ یہ بچے سمجھ دار ہو گیا ہے
05:09یہ بچہ معاملات کو سمجھتا ہے
05:11ہر چیز کو لفع نقصان کو سمجھ رہا ہے
05:13اپنے مال کا اس کو پتا ہے
05:15اس کی حفاظت کا پتا ہے
05:16ہر چیز کا پتا ہے
05:17فَإِنْ آَنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْدًا
05:20اَدَرْتُمْ اُنْ مِنْ مِنْ رُشْدًا
05:22اَدَرْتُمْ اُنْ مِنْ مِنْ رُشْد کے
05:22یعنی ان کی ذہانت کے ان میں
05:25اثرات کو اسباب کو پا دھو
05:28سمجھو کہ یہ بچہ زہین ہو گیا ہے
05:29فَدْفَعُوا اِنَيْهِمْ اَمْوَادًا
05:32تَبْتُمْ اُنْ کَمَالُ
05:33پھر ان کو واپس کر سکتے ہیں
05:36وَلَا تَعْقُلُوْهَا اسْوَافًا وَمِدَارًا اَنْ يَكْبَرُ
05:41اب ان کے بڑے ہونے کے خوف سے
05:44جلدی جلدی ان کے مال کو کھانے کی کوشش نہ کرو
05:47کیونکہ اب یہ اجزہین ہو رہے ہیں
05:48یہ سمجھ دان ہو رہے ہیں
05:49یہ بڑے ہو رہے ہیں
05:50تو ان کو واپس کرنا چاہتے پڑے گا
05:52تو ایسا نہ ہو کہ اس نرس سے
05:54کہ یہ جلدی بڑے ہوتے جا رہے ہیں
05:56تو اب ان کا مال جو ہے
06:05فرمایا کہ جو تم میں سے
06:07یتیم کا جو بارث منا ہو ہے
06:09اگر تم وہ غنی ہے
06:11یہ خود مالدار ہے
06:13فَلْيَسْتَعْفِرَ
06:14تو اس کو چاہیے کہ وہ ان کے مال میں سے کچھ بھی نہیں
06:18اس سے بچتا رہے ہیں
06:19وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا
06:21اور اگر کوئی فقیر ہے
06:24فَلْيَأْقُلْ بِالْمَعُورُ
06:25تو پھر اچھے طریقے سے اس میں سے کچھ نہیں
06:27کچھ سے مرادی ہے
06:28کہ ایک بندہ ایسا ہے
06:30اس کے پاس یتیم آگیا
06:31اور اس کا مال آگیا
06:33یتیم
06:34اس کا بدیجہ ہے بانجر ہے
06:36کوئی بھی ہے اس کی کفالت میں آگیا
06:38اور وہ اچھا خاصا مالدار ہے
06:39اور یہ جو اس کا چاہتا ہے
06:41یا کوئی بھی ہے
06:41یا رشتدار نہیں بھی ہے
06:43اب اس کے پاس اپنا مال نہیں ہے
06:45کچھ بھی نہیں ہے
06:45اس کے پاس غریب ہے
06:47اگر ساری کیئر
06:48سارا ٹائم اس پہ سپنڈ کرے گا
06:50تو یہ کچھ کمانے کے لائے نہیں مجھے گا
06:52کامی نہیں کر سکتا ہے
06:54تو ایسی صورتے ہاتھ میں
06:55یہاں پہ یہ خود غریب ہو
06:56تو اس میں سے صرف اتنا
06:58جو آپ کی مظہر بسر کے لئے کافی ہے
07:01آپ کا ڈیلی کھانا بھی نہ چلتا لے پاس
07:03اتنا لے سکتا ہے
07:04تو اس کے لئے فرمایا
07:05وَمَنْ قَرْ فَقِيرًا فَلْيَأْقُلِ بِالْمَعْرُوفِ
07:08اگر کوئی فقیر ہے مریب ہے
07:10جو سپرست ہے
07:11فمائے کہ وہ معروف
07:13یعنی مناسب سا اس میں سے لے سکتا ہے
07:16فَإِذَا دَفَعْتُمْ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ
07:20فَشْهِدُوا عَلَيْهِمْ
07:21فمائے کہ جب تم ان کا مال ان کو واپس کرنے لگو
07:25فَشْهِدُوا عَلَيْهِمْ
07:27فَشْهِدُوا عَلَيْهِمْ
07:29ایسا رہا ہے
07:30تم نے جتنا مال سے لیا تھا جب موری ٹیم ہوئے ہیں
07:33تم نے اس کی کفالت کی ہے
07:34جو کچھ بھی خرچ ہو گیا فرق کریں گنا
07:36خود صاحبِ استطاع نہیں تھے
07:39صاحبِ ایسی یا نہیں تھے
07:40تو تھوڑا بہت آپ اپنے استعمال میں ملاتے رہے ہیں
07:43تو میں جب ان کو واپس دینے لگوں
07:45تو اس پر کسی کو شاہد بنا لگو
07:47دعا لگو
07:48تاکہ آپ مطابقی یہ پر پاس تھا
07:50اپنے چل گیا یہ باقی وجہ یہ ہم آپ کی سوڑے ہیں
07:52آپ آپ اپنے والے لوگیں
07:54یہ آپ کی امانت آپ کے لیے واپس دے رہا ہوں
07:58وَقَفَا بِاللَّهِ حَسِيبًا
08:00فَنَوْا عَلَيْهِمْ
08:01اللہ تعالیٰ جو ہے وہ
08:03حساب میں وہاں کامی ہے
08:06اللہ تعالیٰ ہر چیز پر حساب میں آئے گا ہے
08:08وگر تو بلائی کے ساتھ
08:11حسبِ ضرورت اس میں سے استعمال کرنے ہوگے
08:13تب بھی اللہ جونتا ہے
08:14اور اگر تو خود غلی ہوتے ہوئے والدار ہوتے ہوئے
08:18بھی ان کا مال ہے اپنے کی کوشش کرو گے
08:20تب بھی اللہ بہتر جانتا ہے
08:22تو یہ چند ایک آیات مبارکہ تھی
08:24جو آج کی اس درس کی مناسبت سے ہم نے پڑھی
08:29اور اس میں سے یہ یتیموں کے بارے میں ہمیں بتایا گیا ہے
08:32اس کے بارے میں ہمیں بہت زیادہ خیال کرنے چاہئیے
08:36اب حدیث مبارکہ میں بھی ہے
08:37کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے
08:40حضرت علیہ بھی فرمایا
08:41کہ میں نے آقا کرنیا کہ کیا تم کو نہیں معلوم
08:46کہ تین اس خاص ایسی ہے جن سے قلم کو اٹھا لیا گیا ہے
08:50اس کو عربی کی اسطلاح میں مرف�worm قلم کہا جاتا ہے
08:53درس میں عرما کی اس طلاح سے مرفوح القلم
08:57مرفوح القلم کی مکنل قلم ہے
08:59جن سے قلم کو اٹھا ریا گیا ہے
09:01حزارہ کے ذہن میں ہمیں قلمwałائے ہیں
09:03جو منقلقیب ہوتے ہیں
09:04خدا بتلے ہیں
09:07سوش اللہ علیہ وسلم
09:08اللہ علیہ وسلم
09:08جتے ہیں اسے میں اٹھا ریا جاتا ہیں
09:10یعنی وہ اس کے آنوان پر لکھنے جاتے ہیں
09:12ایک بچہ ہے جو نپالی ہوتا ہے
09:14اب وہ سب جانتے ہیں کہ بچہ پورت ہو جائے
09:16تو قیامت والے دن میں وہ والدین کی شفاعت کرے گا
09:19کیونکہ وہ کسی چیز کا جواب دے دی گئے
09:21تو ابھی وہ مرفول قلب ہے
09:23اس پر قلب شروع کیا ہے
09:26فرمایا کہ بچہ حتیٰ کہ وہ بالک ہو جائے
09:29حضرت علی کے قبول کے مطابق
09:31سویا ہوا شخص یہاں تک کہ وہ بھی دار ہو جائے
09:33پوچھ جائے
09:34تو جب انسان سوارا ہوتا ہے
09:36تب یہ مرفول قلب ہوتا ہے
09:39فرمایا مغلوب العقل
09:41یہ ایسا شخص ہے
09:43جس کی عقل ہی جاتی رہی ہو
09:44مجلوب ہی اس کو کہتے ہیں
09:46پانگل ہی کہتے ہیں
09:47تو ایسا شخص جو پانگل ہو
09:49تو اس طرح کے لوگ ہیں
09:52ان کے تعالیٰ ہو رہے ہیں
09:53اور یہی وہ لوگ ہیں
09:54اگر ان مال سائے میں مال ہو
09:56اور یتیم ہو جائے
09:58ان کے سر پرست ہو جائے
09:59کہ اس کا آپ کی ذمہ داری گیا جاتے ہیں
10:01کہ آپ ان کا خیال کریں
10:02کیونکہ وہ اپنے معاملات کو سمجھ دی رہے ہیں
10:06حضرت نومان میں
10:07مشیر رضی اللہ تعالیٰ
10:08اگر روایت کرتے ہیں
10:09کہ میرے والد نے
10:10رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
10:12رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کے گئے
10:14اور کہا کہ میں نے
10:15اپنے اس بیٹے کو
10:18مال ہوا کر دیا ہے
10:19اب یہاں سے
10:20ایک اور چیز مال ہوگی
10:22کر لگے کہ
10:23رسول اللہ میں نے
10:23اپنے اس بیٹے کو
10:24مال ہوا کر دیا ہے
10:26رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا
10:28کہ کیا تم نے اپنے دیگر بیٹوں کو بھی
10:30اتنا ہی مال ہبا کیا ہے
10:32تو انہوں نے کہا کہ
10:33یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کیا
10:35تو آپ نے فرمایا کہ آپ اپنے اس قول سے
10:38اس ہبا سے رجوع کر لیں
10:39یعنی اس کو واپس رہے گا
10:41یہاں سے ہمیں ایک چیز نہیں معلوم ہوتی ہے
10:44حقیٰ جو ہم نے پڑھا قرآن پاک میں
10:45کیسے بچوں کو حال نہ دو
10:48اور یہاں پہ وہ کہتے ہیں
10:51اب آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا
10:54کہ تم نے ہبا کیوں رہا ہے
10:55یہ تو قرآن پاک میں رہا ہے
10:56تو یہاں سے اب ایک چیز معلوم یہ ہوتی ہے
11:00کہ ہبا کرنا آو ہے
11:01اور تصرف میں دے دینا آو ہے
11:04یعنی ایک بچہ ہے
11:05اس کو آپ لاکر دس ہزار پونڈ پکڑا دیں
11:08ٹھیک ہے
11:09تو یہ اس کے تصرف میں آگیا ہے
11:11ہبا بھی ہو گیا تصرف میں
11:12اور ایک یہ ہے کہ ہبا کر دیا
11:14آپ نے کہا کہ یہ دس ہزار پونڈ میں نے اس بچے کے لیے
11:19یہ اس کو ہبا کر دیا آپ نے
11:20جب وہ آقل ہو جائے گا
11:22بالی ہو جائے گا
11:22بڑا ہو جائے گا
11:23اس کو کھڑی چاہیے
11:24کچھ بھی چاہیے
11:24تو وہ اس کے استعمال دیا جائے گا
11:27تو ہبا کرنے سے
11:28آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع نہیں فرمایا
11:30قرآن پاہل نے جو منع فرمایا ہے
11:32وہ اس کو
11:32اس میں تصرف میں دے دینا سے منع فرمایا ہے
11:34اور ہبا سے
11:36اچھا یہاں پہ
11:37آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں
11:38کہ ابھی تو آپ نے پڑھا
11:39کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
11:40کہ آپ یہ اپنے فیصلہ واپس لے لیں
11:41تو فیصلہ واپس جو کروایا ہے
11:44وہ اس وجہ سے نہیں کروایا
11:45کہ یہ بچہ ہے
11:45تو آپ نے اس کو ہوا گئے گیا
11:47فیصلہ اس وجہ سے کروایا
11:49کہ آپ نے بچوں کے درمیان آدھر لے گیا
11:52اگر آپ ایک کو
11:53دس سزار ہوا کر گئے
11:54تو پھر آپ باقیوں کو
11:54دس سزار ہوا کریں
11:56تو اگر آپ
11:57ایک کو نہیں
11:58ہاں یہ ناروانی جو ہماری کو ٹیم میں ہوتا ہے
12:00کہ آپ
12:00دس پونڈ ایک بچے کی ضرورت ہے
12:02کہ ایک کوئی چیز لے رہے ہیں
12:03تو آپ نے اس کو دے دیا
12:04دوسرے کو اس کو بھی ضرورت نہیں دیئے
12:06تو یہ
12:06اس میں نہیں آتا
12:07کہ ان دونوں میں انسان پر لیں
12:09کیونکہ ہو سکتا ہے
12:09کال اس کا ضرورت پڑے
12:10تو آپ اس کو دے رہے ہیں
12:11ایک آپ
12:12مال کا حصہ جو ہے
12:13ایک لگ سے
12:14آپ
12:14ایک کو دے رہے ہیں
12:15تو وہ
12:16آپ دوسرے کو بھی
12:17اسی طرح سے دیں
12:18آپ اسی ضرورت کے قائل
12:19بڑی بہت جو ضرورت ہے
12:30یہ کیونکہ بہت سے
12:32ہمارے معاملات
12:32جو ہے
12:33وہ بکرتے ہیں
12:33انہی بڑی بڑی
12:34ہمیں ایک بچے کو
12:35یا بچی کو
12:36یا کسی نارملی بچوں کو
12:38ہی ہمارے
12:38تلچر میں یہ بہت برائی ہے
12:39کہ ہم بچوں کو
12:41بہت زیادہ تکیئی دیتے ہیں
12:42ہم بہت زیادہ دیتے ہیں
12:43اور بچیوں کو
12:44مرس پر کھا جاتے ہیں
12:46وہ بھی پکر کے پر
12:47بچوں کو دے دیتے ہیں
12:49یہ ظلم اور زیادتی ہے
12:50اس سے ہمیں حصورت کچھنا چاہیئے
12:52کیونکہ ہمیں بار بار
12:53انصاف کا
12:54عادل کا حکم نہیں آگیا ہے
12:56اور اگر ہماری
12:57سترسلی میں
12:58کوئی یتیم بچے
12:59یا بچیوں نے دے
13:00تو ان کا عمال
13:01ہمارے لیے
13:01جائز نہیں ہے
13:02سوائے اس کے
13:03کہ اگر ہم مجبور ہیں
13:04اپنا کچھ بھی نہیں ہے
13:06تو تب بھی اتنا ہے
13:07کہ ہم اپنا کھانا پانوٹینی کا
13:09جو پوٹیٹا
13:09وہ جا سکے بس
13:11تو جیسے ہی
13:12واقع مالی
13:13وہ نہیں
13:13تو ہمارے
13:14کوئی اٹم کھان دیا رہے
13:15یہ چند ایک چیزیں
13:16تھی جو آج کے
13:16اس نقص کے والے سے
13:17ہم نے پڑی
13:17اللہ تعالیٰ سے دعا ہے
13:19کہ اللہ تعالیٰ
13:20اس کو
13:20اپنا بہتر بشک
13:22اگر کوئی قبول
13:23اشید بھی نہیں
13:24تو اللہ تعالیٰ
13:24اس کو
13:25معافہ رہے
13:27آج ماشاءاللہ
13:28کیونکہ
13:28بہمان زیادہ ہے
13:29اور ہم سمجانتے ہیں
13:30ہمارے
13:31ادہائی محترم
13:32برادر
13:33عبدالمجید صاحب
13:34کیونکہ
13:35بائیدہ
13:35حافظ عبدالروش
13:36صاحب پاکستان
13:37نے اتقال
13:38بہتر دیا
13:39حافظ صاحب
13:40ماشاءاللہ
13:41ادہائی
13:43مخلص
13:44نیک
13:44صیرت
13:45اور نیک
13:46صورت
13:46شخصیت
13:48ماشاءاللہ
13:50قرآن پاک
13:51کی
13:51پینتی
13:52سال تک
13:52انہوں نے
13:53خدمت کی
13:53یہ درابی
13:54بقایا ہے
13:55یہ زندگی
13:56کا ایک بہت
13:57بڑا حصہ ہے
13:58اور بہت
13:58مشکل حصہ ہے
13:59پینتی سال
14:00مسلسل سنانا
14:01یہ کہنے پر
14:02بہت آسان ہے
14:03لیکن عبداللہ
14:04یہ بہت مشکل ہے
14:05ماشاءاللہ
14:06اگر انہوں نے
14:07قرآن پاک کو
14:08پڑا ہے
14:08اور پھر اس کو
14:09سنبھال کر رکھا ہے
14:11بہت بلی
14:11ذمہ داری ہے
14:12اور اس کے علاوہ
14:13پھر انہوں نے
14:14محبہ مندرسان
14:15محصیت جو تھی
14:15محبہ فری میں
14:16خدمت کی ہے
14:17فری اپ کواس کی
14:20ایک جائز
14:21جو ہے
14:22قرآن حدیث پہ
14:23اس کی شریع اجازت
14:25اس پر کوئی حج نہیں ہے
14:26لیکن اس کے باب
14:28بھی دونے ہی نہیں ہے
14:30تو یہ
14:31نیکی پر نیکی
14:32اس کو کہتے ہیں
14:33دور اور آراب دور ہے
14:34دور اور خدمت
14:35سنجان جی
14:36اس کے علاوہ
14:37انہوں نے
14:37اتنے معاملات
14:38یہ پچھلے دنوں
14:39میں کمارے میں
14:39سنتے ہو رہے ہیں
14:40کسی بندے سے
14:41کوئی ایک لفل بھی
14:43ایسا نہیں سنتے ہو رہے ہیں
14:43انہوں نے
14:44سنتے ہو رہے ہیں
14:45اور خاص طور پر
14:46اشتدار جب
14:47محبوب
14:47تو معلومات ہوتا ہے
14:48کہیں صرف
14:49میں ہم نے یہ کہہ دیا
14:50ہر سے وہ کہہ دیا
14:51تو حافظ صاحب کے معلے میں
14:53ابھی تک
14:53کوئی بھی ایسی ہے
14:54وہ ظاہریں
14:56ایسی شخصیتوں تھے
14:57جو کی تعریفی امسوہ ہیں
15:00تو آن کے
15:01ایک درس کے بعد
15:02میں آپ سب سے
15:03خاص طور پر اشتدار
15:04سے پوچھتا ہو
15:05کہ
15:05ہم ان کی کن چیزوں
15:07کیاڈ کر رہے ہیں
15:09کہ ہم میں سے کسی نے
15:11ابھی یہ پچھلے دو دنوں میں
15:12ہم یہاں پر بیٹھے رہے ہیں
15:14تو
15:14نہ میں نے کسی سے سنایا
15:16کہ حافظ صاحب کی کلھا کی دری
15:17ان کا دار کیسے چلتا ترہاں
15:20بہت اچھے مال دا تھے
15:22بیوی بچوں کے لیے
15:23کہاں چھوڑ کر دے گئے
15:24جس سے بھی سنا ہو
15:25یہ کہہ گئے
15:26کہ میں قرآن پاک کی تعلیم
15:27کی چیزیں دیتے
15:28قرآن پاک سنا رہے تھے
15:29برشت کی حدود کر رہے تھے
15:30حالانکہ سب کاری سکول پیچھے تھے
15:33اور کسی کا جنازہ
15:35بس نہیں کر رہتے
15:36تو یاد رکھیں
15:38اس سے ہمیں یہ پہنے دلتا ہے
15:40کہ یاد رکھیں
15:41جو پیچھے یاد کی جاتی ہیں
15:42چیزیں وہ نیکیاں ہیں
15:44اگر آپ نیک شخص ہیں
15:46تو نیکیاں یاد رہے گئے
15:48آپ کے یہ کسی کو نرے گا
15:49کہ کتنا مال ہے
15:50کتنا اولاد ہے
15:52کتنا زمین جائداد
15:54آپ نے چھوڑی ہے
15:54اللہ ہے وہ تو فیملی اور بچوں کے لیے
15:57آپ کے لیے نیکیاں ہیں
15:59جو کسی شخص نیکی ہے
16:01میں نے اگر کوئی اچھا کام کیا ہے
16:02تو وہ یاد رہے گا
16:04اور
16:05اگر میں نے کوئی برا کیا
16:06تو وہ بھی یاد رہے گا
16:09اچھا کیا ہے
16:09تو دعا کے لیے آتا دیں گے
16:11اور برا کیا ہے
16:12تو ظاہر بدعا کے لیے بٹھتے ہیں
16:13لوگ بدعائیں بھی دیتے ہیں
16:14ظاہر
16:14آپ کسی کو اتنا تن کرتے ہیں
16:17ظلم و سلم کرتے ہیں
16:18تو ظاہر بدعا بھی دھتے ہیں
16:21تو اس سب سے ہمیں یہ سیکھنا چاہیے
16:23کہ ہمیں
16:24ہمیشہ زندگی
16:26ایک آگے جو
16:27زندگی آ رہی ہے
16:29اگر جو منزل آ رہی ہے
16:34کون ہے یہ چیز
16:35چاہتا ہے کہ کل
16:36دنیا سے جائے
16:37اور پیشے سے لوگ بدعائیں
16:39لوگ کہہ رہے ہو کہ
16:40شکر ہوا گئی چاہیے
16:43اس دنیا میں اس نے
16:44محاصل اللہ جمعہ لگا
16:45لوگ ایسا کہتے ہیں
16:46کہ اس کا
16:48اس کے شر سے دنیا
16:49تو ہم اس کون
16:53ایسا چاہتا ہے
16:53کوئی بھی نہیں چاہتا ہے
16:55تو ہمیں چاہیے
16:56کہ اس کے لیے
16:57اللہ ہم نہیں چاہتے
16:58کہ ایسا کہا جائے
16:59تو اس کے لیے
17:00حالات بھی ایسا کہا جائے
17:01صرف ہماری چاہت سے
17:03تو ایسا نہیں ہوگا
17:04کہ ہم ہر پلٹا سیدھا
17:05کام کرتے رہیں
17:06اور ہم چاہیں یہ
17:07کہ جب ہم اس دنیا سے جائیں
17:09تو ہمارے لیے دعاوں کے لیے
17:10آت ہوتے ہیں
17:10تو ایسا نہیں ہوگا
17:11ہماری چاہت سے نہیں ہوگا
17:12ہمارے کرنے سے ہوگا
17:15اگر ہم اس کے لیے
17:16اپنی آتے تیار کر رہے ہیں
17:18اگر ہم اس کے
17:19اس کے لیے
17:20ایسے آمال کر رہے ہیں
17:22کہ کل کو ہمارے لیے
17:23ہمارے جانے کے پچھے دعا کے لئے
17:25کسی کہا
17:26تو پھر تو غیر لکھوٹ
17:28الحمدللہ
17:29لیکن اگر ہم ایسا نہیں
Comments