Skip to playerSkip to main content
Hazrat Uzair (A.S) Ka Waqia | 100 Saal Baad Zinda Hone Ka Mo‘jiza | Islamic History

Hazrat Uzair (A.S) Allah ke barguzida banday aur baaz riwayaat ke mutabiq Nabi thay. Aap ka waqia Quran-e-Pak mein aik azeem mo‘jizay ke taur par bayan kiya gaya hai, jahan Allah ne aap ko 100 saal tak wafat di aur phir dobara zinda farmaya taa ke qudrat-e-ilahi ka zahoor ho.

Is waqia mein Allah ne murday ko zinda karne, haddi-yaan jorne aur rizq ko mehfooz rakhne ka mo‘jiza dikhaya, jo qayamat tak insaniyat ke liye imaan afroz nishani hai.

Is video mein aap jaanenge:

Hazrat Uzair (A.S) ka waqia

100 saal baad zinda hone ka mo‘jiza

Allah ki qudrat ka zahoor

Is waqia se milnay wali naseehat

Yeh waqia humein yaqeen dilata hai ke Allah har cheez par qudrat rakhta hai.

🎙️ Bayan: Qadir Kalhoro

#HazratUzair #UzairAS #IslamicStories #QuranWaqia #MoJiza #IslamicHistory #QadirKalhoro

Category

📚
Learning
Transcript
00:00بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہو
00:04ناظرین اگرامی ہم امید کرتے ہیں کہ آپ خیریت سے ہوں گے
00:08ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ تمام بھائیوں کو اور میری محترم بہنوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے
00:15زندگی میں کبھی بھی کوئی دکھ کوئی پریشانی کوئی بھی تکلیف آپ کی زندگی کے قریب سے بھی نہ گزرے
00:22اللہ تعالیٰ آپ کے اور ہمارے رزق حلال میں برکت نصیب فرمائے آمین
00:27دوستو قصص الانبیاء کا یہ سلسلہ جاری ہے جس سلسلے کی پہلے بھی ہم کافی ویڈیوز بنا کر اپنی اسی پلے لسٹ میں اپلوڈ کر چکے ہیں
00:36اگر آپ مزید ویڈیوز بھی دیکھنا چاہیں تو پلے لسٹ کو ضرور دیکھئے
00:41اور آگے بھی یہی سلسلہ جاری رہے گا
00:43آج کی اس ویڈیو میں ہم حضرت عزیر علیہ السلام کا قصہ آپ کی سماعتوں کے گوش گزار کریں گے
00:50ناظرین حضرت عزیر علیہ السلام حضرت حارون علیہ السلام کی اولاد اور بنی اسرائیل کے انبیاء میں سے تھے
00:58اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام کو حضرت سلمان علیہ السلام کے بعد اور حضرت زکریہ علیہ السلام سے پہلے مبعوث فرمایا
01:07یہ چھٹی صدی قبل مسیح کی بات ہے جب بنی اسرائیل کی سرکشی نافرمانیاں اور مشرکانہ حرکتیں حد سے تجاوز کر چکی تھی
01:16ہر طرف ظلم و جبر فساد اور لوٹ مار کا بازار گرم تھا
01:21اللہ تعالی نے اس زمانے کے پیغمبروں کے ذریعے بنی اسرائیل کو متنبع فرمایا
01:26کہ اپنی ان قبی حرکتوں سے باز آ جائیں ورنہ گزشتہ قوموں کی طرح انہیں بھی عذابِ الہی کا سامنا کرنا ہوگا
01:35بار بار کی تنبیہ کے باوجود جب ان پر کوئی بھی اثر نہ ہوا اور ان کی بد آمالیاں روز بروز بڑھتی چلی گئیں
01:44تو قومِ عمالقہ کا ایک ظالم اور فاسق بادشاہ جس کا نام بخت نصر تھا
01:50بابل سے ایک بڑی فوج کے ساتھ آندھی اور توفان کی طرح راستے کی حکومتوں کو پامال کرتا ہوا
01:57فلسطین کی طرف بڑھا اور تھوڑے ہی عرصے میں اس نے اینٹ سے اینٹ بجا دی
02:02تورات کے مطابق چالیس ہزار سے زائد علماء قتل کر دیے گئے
02:07یہاں تک کہ وہاں تورات کا ایک بھی عالم زندہ نہ بچا
02:11اس کے ساتھ ہی بخت نصر نے بنی اسرائیل کے اسی ہزار افراد کو قیدی بنا دیا
02:16اور انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح ہنکا کر بابل لے گیا
02:20جن میں حضرت عزیر علیہ السلام بھی شامل تھے جو اس وقت نو عمر تھے
02:26بخت نصر کے حکم پر اس کی خونخوار فوج نے بیت المقدس میں حضرت سلمان علیہ السلام کی تمام باقیات کو تباہ و برباد کر دیا
02:35عظیم الشان محلات خندرات میں تبدیل کر دیے گئے
02:39حیکل سلمانی میں موجود وسیع و عریض اور نادر و نایاب کتب سے مزین کتب خانہ بھی جلا کر راکھ کر دیا گیا
02:48جس میں تورات کے اصل نسخے بھی تھے
02:50نیز تابوت سکینہ بھی کہیں غائب کر دیا گیا
02:54تورات کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اس ظالم و جابر بادشاہ پر عذاب نازل کیا
02:59اور اس کی شکل مسخ کر دی
03:02حضرت عزیر علیہ السلام ایک طویل عرصے تک دیگر اسرائیلیوں کی طرح بابل میں قید رہے
03:08اور پھر اللہ تعالیٰ نے چالیس سال کی عمر میں آپ علیہ السلام کو منصب نبوت پر سرفراز فرمایا
03:16حضرت عزیر علیہ السلام کو جب بابل کی اسیری سے نجات ملی
03:20تو بحکم خداوندی دوبارہ بیت المقدس تشریف لے آئے
03:25اس وقت تورات کا کوئی حافظ زندہ تھا اور نہ ہی تورات کا کوئی نسخہ موجود تھا
03:31آپ علیہ السلام کو فکر لاحق ہوئی
03:34کہ اب اللہ کے کلام کو عام لوگوں تک کیسے پہنچایا جائے
03:38چنانچہ انہوں نے اسرائیلیوں کو جمع کیا
03:41اور چونکہ آپ علیہ السلام نے بجپنہی میں تورات حفظ کر لی تھی
03:45لہٰذا اسے ان سب کے سامنے پڑھ کر تحریر کروا دیا
03:50بعض اسرائیلی روایات کے مطابق کے جس وقت انہوں نے بنی اسرائیل کو جمع کیا تھا
03:55تو سب کی موجودگی میں آسمان سے دو چمکتے ہوئے شہاب اترے
04:00اور حضرت عزیر علیہ السلام کے سینے میں سماکے
04:03تب حضرت عزیر علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو
04:06اثر نو تورات مرتب کر کے عطا فرمائی
04:10جب وہ اس اہم کام سے فارغ ہوئے
04:13تو بنی اسرائیل نے انتہائی مسررت کا اظہار کیا
04:16اور ان کے قلوب میں آپ علیہ السلام کی قدر و منزلت بڑھ گئی
04:20لیکن پھر وقت کے ساتھ ساتھ ان کی یہ محبت و عقیدت
04:24گمرائی میں تبدیل ہوتی گئی
04:26یہاں تک کہ بنی اسرائیل نے حضرت عزیر علیہ السلام کو
04:30اللہ کا بیٹا کہنا شروع کر دیا
04:32جس کے بارے میں اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا
04:37اور یہود کہتے ہیں کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں
04:40اور عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح اللہ کے بیٹے ہیں
04:44یہ ان کے موں کی باتیں ہیں
04:46پہلے کافر بھی اسی طرح کی باتیں کہا کرتے تھے
04:49یہ بھی ان کی ہی ریز کرنے لگے ہیں
04:52اللہ انہیں ہلاک کرے
04:54یہ کہاں بھٹکتے پھرتے ہیں
04:56بحوالہ صورت توبہ آیت نمبر تیس
04:59ناظرین ابن عساکر رحمت اللہ علیہ نے
05:02حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت نقل کی ہے
05:07کہ آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے سوال کیا
05:14کہ اس فرمانِ الہی کا کیا مطلب ہے
05:16اور یہود نے کہا
05:18کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں
05:20یہ یہود نے کیوں کہا
05:22عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا
05:25کہ حضرت عزیر علیہ السلام نے
05:28بنی اسرائیل کی خاطر
05:29پوری تورات حفظ کر لی
05:31جس پر انہوں نے کہا
05:32کہ موسیٰ علیہ السلام بھی اتنی طاقت نہیں رکھتے تھے
05:36کہ بغیر کتاب کے پوری تورات سنا سکیں
05:39اور پیش کر سکیں
05:40جبکہ حضرت عزیر علیہ السلام ہمارے پاس پوری تورات
05:44بغیر لکھی اور بغیر کسی کتاب کے لے آئے
05:47اسی وجہ سے بنی اسرائیل کے کئی گروہ اس بات کے قائل ہو گئے
05:52کہ عزیر علیہ السلام اللہ کا بیٹا ہے
05:54بحوالہ ابن کثیر
05:56ناظرین حضرت عزیر علیہ السلام کی حیاتِ طیبہ کے بارے میں
06:01قرآن و احادیث اور تاریخ کی کتابوں میں
06:04کوئی زیادہ مواد موجود نہیں ہے
06:06قرآن کریم کی صورتِ طوبہ میں صرف ایک جگہ آپ علیہ السلام کا نام ذکر میں آیا ہے
06:12اس کے علاوہ صورتِ بقرہ کی آیت نمبر دو سو انسٹھ میں
06:16ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے
06:18اس کے بارے میں علماء اور مفسرین کا یہ کہنا ہے
06:22کہ وہ حضرت عزیر علیہ السلام کے بارے میں ہی ہے
06:25خود تورات میں حضرت عزیر علیہ السلام کے نام سے
06:29صحیفِ عزرہ میں بھی ان کی اپنی زندگی کے بارے میں
06:33بہت زیادہ معلومات نہیں ملتی صرف اس قدر پتا چلتا ہے
06:38کہ جس وقت بخت نصر نے بیت المقدس پر حملہ کیا
06:42تو آپ کم عمر تھے اور قید کر کے بابل لے جائے کہے تھے
06:46پھر بابل کی قید سے دوبارہ بیت المقدس کی تعمیر تک
06:50آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کے ساتھ ہی رہے
06:53حافظ ابو القاسم بن عساکر رحمت اللہ علیہ نے
06:57آپ علیہ السلام کا نسب یوں بیان کیا ہے
07:00عزیر بن جروات جنہیں ابن سورق بھی کہا گیا ہے
07:05بن عدیہ بن عیوب بن درزنا بن عری بن تقی بن اسبوع بن فخاس
07:13بن العازر بن حارون بن عمران
07:17ایک قول کے مطابق آپ علیہ السلام کے والد کا نام سروخہ تھا
07:22واللہ عالم
07:23ناظرین قرآن کریم کی صورت بقرہ میں ارشاد باری تعالی ہے
07:27اور پھر اس شخص کو دیکھو جس کا ذکر اس بستی پر ہوا جو چھت کے بل اوندھی پڑی تھی
07:34وہ کہنے لگا کہ اس کی موت کے بعد اللہ تعالی اسے کس طرح زندہ کرے گا
07:39تو اللہ تعالی نے اسے مار دیا ایک سو سال کے لیے پھر اسے اٹھایا
07:44پوچھا بتاؤ کتنی مدت پڑے رہے ہو
07:47کہنے لگا کہ ایک دن یا دن کا کچھ حصہ فرمایا
07:51تم پر ایک سو سال اسی حالت میں گزر چکے ہیں
07:54اب ذرا اپنے کھانے اور پانی کو دیکھو
07:56یہ خراب تو نہیں ہوئے
07:58اور اپنے گدھے کو بھی دیکھو
08:00ہم تمہیں لوگوں کے لیے ایک نشانی بنا دینا چاہتے ہیں
08:03پھر دیکھو کہ ہڈیوں کے اس پنجرے پر
08:06ہم کس طرح سے گوشت بوست چڑھاتے ہیں
08:08اس طرح جب حقیقت اس کے سامنے بالکل نمائع ہو گئی
08:12تو اس نے کہا
08:13کہ میں جانتا ہوں
08:15کہ اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے
08:17بحوالہ صورت بقرہ آیت نمبر دو سو انسٹھ
08:22ناظرین مفسرین فرماتے ہیں
08:23کہ اس آیت میں جس شخص کا ذکر ہے
08:26وہ حضرت عزیر علیہ السلام ہیں
08:28حضرت علی حضرت عبداللہ بن عباس
08:31اور حضرت عبداللہ بن سلام
08:33رضی اللہ تعالی عنہم کا رجحان بھی یہی ہے
08:36کہ یہ واقعہ حضرت عزیر علیہ السلام سے متعلق ہے
08:40تفسیر ابن کسیر جلد نمبر ایک صفہ نمبر تین سو چودہ
08:45مفسرین فرماتے ہیں
08:46کہ جب حضرت عزیر علیہ السلام کو بابل میں
08:49نصر بخت کی قید سے نجات ملی
08:52تو اللہ تعالی نے انہیں حکم دیا
08:54کہ اب تم واپس بیت المقدس جاؤ
08:57ہم اس کو دوبارہ آباد کریں گے
08:59اور ایک خوبصورت اور پر رونق شہر بنائیں گے
09:03چنانچہ وہ جب وہاں پہنچے
09:04اور شہر کو تباہ و برباد اور کھندر پایا
09:07تو حیرت ہوئی
09:08اور تعجب کے ساتھ بے اختیار ان کے موں سے نکلا
09:12کہ اس مردہ بستی کو کیسے زندگی ملے کی
09:15اللہ جل شانہو کو یہ بات پسند نہ آئی
09:18اس کے بعد ان کی موت کی نیند کا واقعہ پیش آیا
09:22پھر جب وہ دوبارہ زندہ کیے گئے
09:25تو بیت المقدس یعنی یروشلم
09:27ایک آباد اور پر رونق شہر تھا
09:30حافظ ابن کثیر اسحاق بن بشیر
09:33رحمت اللہ علیہ کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں
09:36کہ حضرت عزیر علیہ السلام بڑے دانا تھے
09:39اور نیک انسان تھے
09:41ایک دن اپنی زمین کی طرف نکلے
09:43واپسی میں ایک ویران عمارت میں ٹھہر گئے
09:46کیونکہ گرمی سخت تھی
09:48آپ علیہ السلام اپنے گدے سے اتر کر عمارت میں داخل ہوئے
09:51آپ علیہ السلام کے ساتھ کھانے کے دو ٹوکرے بھی تھے
09:55ایک ٹوکرے میں انجیر اور دوسرے میں انگور تھے
09:58آپ علیہ السلام نے اپنے ساتھ موجود پیالہ نکالا
10:02اور اس میں انگور نچوڑے
10:03پھر خوشک روٹی نکالی
10:05اور اسے مشروب میں ڈال دیا
10:07تاکہ کچھ نرم اور میٹھی ہو جائے
10:09تو کھا لیں
10:10پھر آپ علیہ السلام تھوڑی دیر کے لیے لیٹ گئے
10:13نظریں امارت کی ویران چھت کی طرف اٹھیں
10:17تو دیکھا
10:17کہ یہ امارت اپنے عرش پر کھڑی ہے
10:20اور اس کے رہنے والے مر کھپ چکے ہیں
10:24جن کی بوسیدہ ہڈیاں بکھری پڑی ہیں
10:26تو آپ علیہ السلام کی زبان سے یہ بے ساختہ نکلا
10:30کہ اللہ کیسے ان کو موت کے بعد زندہ فرمائے گا
10:34آپ علیہ السلام کو یہ شک نہیں تھا
10:36کہ اللہ ان کو زندہ فرمائے گا
10:38بلکہ اس کے طریق اور اس کی کیفیت پر وہ تعجب فرما رہے تھے
10:44پھر اللہ عزو جل نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو ان کے پاس بھیجا
10:48جنہوں نے حضرت عزیر علیہ السلام کی روح قبض کر لی
10:52اور پھر ایک سو سال تک اللہ نے ان کو یوں ہی موت کی نید سلائے رکھا
10:58اس دوران بنی اسرائیل میں بہت سے واقعات اور حادثات بھی رونما ہوئے
11:03اور بیت المقدس پھر آباد ہو کر ایک پر رونق شہر بن چکا تھا
11:08پھر اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام میں روح پھونک دی
11:12آپ علیہ السلام زندہ ہو کر بیٹھ گئے تو فرشتے نے پوچھا
11:15آپ یہاں کتنی مدت رہے
11:17جواب دیا کہ ایک دن یا دن کا کچھ حصہ
11:20دراصل آپ علیہ السلام دن کے شروع میں آرام فرما ہوئے تھے
11:24اور اس وقت غروبِ آفتاب کا وقت تھا
11:27فرشتے نے کہا کہ نہیں
11:29بلکہ آپ ایک سو برس تک اسی حالت میں رہے ہیں
11:33اپنے کھانے پانی کو دیکھئے جو بدلہ تک نہیں
11:36جب حضرت عزیر علیہ السلام نے اپنے کھانے کی طرف نظر ڈالی
11:40تو انگور کا شیرہ اور خوشک روٹی اپنی اسی حالت میں تھی
11:45دونوں میں کوئی بھی تغیر پیدا نہیں ہوا تھا
11:48اسی طرح انجیر اور انگور بھی اسی طرح سے ترو تازہ موجود تھے
11:53پھر آپ علیہ السلام کے دل میں بتائی گئی مدت کے بارے میں انکار کا خیال پیدا ہوا
11:59تو فرشتے نے کہا کہ آپ میری بتائی ہوئی مدت کو بعید اور غلط سمجھ رہے ہیں
12:05تو پھر ذرا اپنے گدے کی طرف تو دیکھئے
12:08جب حضرت عزیر علیہ السلام نے گدے کی طرف دیکھا
12:11تو حیران رہ گئے کیونکہ اس کی ہڈیاں گل سڑ کر بوسیدہ ہو چکی تھیں
12:16فرشتے نے ہڈیوں کو حکم دیا تو ہڈیاں ہر طرف سے ایک کٹھی ہو کر ایک جگہ جمع ہوئیں
12:22اور پھر جڑ کر دھانچہ بن گئیں
12:24حضرت عزیر علیہ السلام حیران ہو کر اللہ کی قدرت کا نظارہ دیکھ رہے تھے
12:29پھر اس دھانچے پر رگیں چڑھیں پٹھے بنیں گوشت چڑھا
12:33پھر ان پر کھال اور بال آ گئے پھر فرشتے نے اس میں پھونک ماری
12:38تو گدہ آسمان کی طرف اپنا سر اور کان اٹھائے
12:42آوازیں نکالتا ہوا کھڑا ہو گیا
12:44حضرت عزیر علیہ السلام نے قدرت الہی کی یہ نشانیاں دیکھیں
12:49اور شہر کو پہلے سے زیادہ بارونک پایا
12:52تو بول اٹھے کہ میں یقین کرتا ہوں
12:55کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے
12:57پھر آپ علیہ السلام اپنے گدے پر سوار ہو کر
13:00اپنے محلے میں تشریف لائے
13:02تو لوگوں نے آپ علیہ السلام کو نہیں پہچانا
13:05آپ علیہ السلام اپنا گھر بھی بھول چکے تھے
13:08دھونڈتے دھونڈتے اپنے گھر تک پہنچے
13:11تو وہاں ایک نابینا اور اپاہج بڑھیا کو بیٹھے ہوئے پایا
13:15جس کی عمر تقریباً ایک سو بیس سال تھی
13:18وہ وہاں کے رہائشوں کی والدہ تھی
13:21جس وقت آپ گھر سے نکلے تھے
13:23اس وقت وہ بیس سال کی جوان لڑکی تھی
13:26اور آپ علیہ السلام سے خوب اچھی طرح سے واقف بھی تھی
13:30حضرت عزیر علیہ السلام نے اس بڑھیا سے پوچھا
13:33کیا یہ عزیر کا گھر ہے
13:35تو بڑھیا نے حیران ہو کر کہا جی ہاں
13:38پھر بڑھیا کی آنکھوں سے آنسوں جاری ہو گئے
13:40اور بولی کہ میں نے ایک عرصے سے
13:43کسی کے موں سے عزیر علیہ السلام کا ذکر نہیں سنا
13:46اب تو لوگ بھی ان کو بھول چکے ہیں
13:49اس پر حضرت عزیر علیہ السلام نے فرمایا
13:52کہ میں ہی عزیر ہوں
13:54اللہ نے مجھے ایک سو سال تک موت کی نیت سلا دیا تھا
13:58اور مجھے اب اٹھایا ہے
13:59بڑھیا نے کہا کہ سبحان اللہ
14:02بے شک عزیر کو ہم سے بچھڑے ہوئے ایک سو سال ہو چکے ہیں
14:06اور کسی سے ان کے متعلق ہم نے کچھ سنا بھی نہیں
14:09لیکن آپ کیسے عزیر ہو سکتے ہیں
14:12عزیر علیہ السلام تو مستجابل دعوات تھے
14:15وہ جس مریض یا مصیبت زدہ کے لیے دعا کرتے تھے
14:20وہ فوراں ٹھیک ہو جاتا تھا
14:22لہذا اگر آپ دعا کریں
14:23کہ اللہ مجھے بسارت لوٹا دے
14:26تو میں آپ کو دیکھ کر بتاؤں گی
14:28کہ آپ عزیر ہیں یا نہیں
14:30حضرت عزیر علیہ السلام نے دعا کی
14:33اور اپنے دستہ مبارک کو اس کی آنکھوں پر پھیرا
14:36تو اس کی بسارت بحال ہو گئی
14:39چونکہ وہ اب آج بھی تھی
14:40اس لیے آپ علیہ السلام نے بڑھیا کا ہاتھ پکڑا
14:44اور فرمایا اللہ کے حکم سے کھڑی ہو جا
14:47تو اللہ نے اس کی ٹانگیں بھی درست فرما دیں
14:51بڑھیا نے آپ علیہ السلام کو دیکھا
14:53تو پکار اٹھی
14:54کہ میں گواہی دیتی ہوں
14:56کہ آپ ہی عزیر علیہ السلام ہیں
14:59پھر بڑھیا ان کو لے کر بنی
15:01اسرائیل کے محلے میں ان کے عزیزوں کے گھر پہنچی
15:04وہاں حضرت عزیر علیہ السلام کا ایک بیٹا بھی موجود تھا
15:08جس کی عمر ایک سو اٹھارہ سال تھی
15:11جبکہ ان کے پوتے بھی قبیلے کے بڑے بزرگ اور سردار تھے
15:15بڑھیا نے ان سب کو آواز دی اور بولی
15:18کہ یہ عزیر علیہ السلام ہیں
15:20اللہ نے ان کو ایک سو سال کے لیے موت کی نید سلا دیا تھا
15:24یہ اب اللہ کے حکم سے اٹھے ہیں
15:26اور تم سے ملنے آئے ہیں
15:28لوگوں نے پہلے تو یقین نہیں کیا
15:31لیکن جب وہ اس نے اپنی بینائی آنے
15:33اور اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے ٹھیک ہونے کے بارے میں بتایا
15:37تو سب حیران رہ گئے
15:39حضرت عزیر علیہ السلام کے بیٹے نے کہا
15:42کہ میرے والد کے دونوں شانوں کے درمیان ایک سیاہ نشان تھا
15:47آپ علیہ السلام نے اپنے شانوں کو کھولا
15:49تو وہ نشان موجود تھا
15:51پھر بنی اسرائیل نے کہا
15:53کہ ہمارے اندر کوئی تورات کا حافظ نہیں تھا
15:56سوائے حضرت عزیر علیہ السلام کے
15:58اور بخت نصر نے تورات کے سارے نسخیں جلا دیئے تھے
16:02لہٰذا آپ علیہ السلام ہمارے لیے تورات کو لکھ کر دکھائیے
16:06حضرت عزیر علیہ السلام کے والد نے
16:09بخت نصر کے ایام میں تورات کے ایک اصل نسخے کو دفن کر دیا تھا
16:14اور آپ علیہ السلام کے علاوہ
16:17کسی کو اس جگہ کا علم نہیں تھا
16:19چنانچہ حضرت عزیر علیہ السلام ان کو لے کر اس جگہ پہنچے
16:23اور گڑھا کھوڑ کر تورات نکالی
16:26لیکن اس کے اوراق بہت بوسیدہ ہو چکے تھے
16:29اور لکھائی بھی مٹ چکی تھی
16:31پھر آپ علیہ السلام سب کو لے کر ایک درخت کے سائے میں تشریف فرما ہوئے
16:36اتنے میں اللہ کے حکم سے آسمان سے دو شعلے اترے
16:40اور آپ علیہ السلام کے سینہ مبارک میں داخل ہو گئے
16:44اور آپ کو پوری تورات خوب یاد آ گئی
16:47آپ علیہ السلام نے نئے سرے سے تورات لکھ کر
16:50بنی اسرائیل کے حوالے کر دی
16:52ایک تو آپ علیہ السلام نے تورات لکھی
16:55اور دوسرا آپ علیہ السلام کے ساتھ دو شعلوں والا موجزہ بھی پیش آیا
17:00جس کی وجہ سے بنی اسرائیلوں نے اللہ کا بیٹا کہنے لگے
17:04نعوذ باللہ ہے
17:06ناظرین حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہو فرماتے ہیں
17:10کہ حضرت عزیر علیہ السلام
17:12اس آیت کی حقیقت کے مصداق بن گئے
17:15اور ہم آپ کو لوگوں کے لئے نشانی بنا دیں
17:19یعنی بنی اسرائیل کے لئے
17:21اور یہ نشانی اس طرح تھی
17:23کہ آپ علیہ السلام جب اپنے بیٹوں اور پوتوں کے ساتھ بیٹھتے تھے
17:28تو وہ بڑھے لگتے تھے
17:29اور آپ علیہ السلام جوان
17:32کیونکہ آپ علیہ السلام کی وفات چالیس برس کی عمر میں ہوئی
17:36اور ایک سو سال بعد جب اٹھے
17:38تو پھر بھی وہی عمر تھی
17:40مفسرین کے مطابق آپ علیہ السلام کی قبر اطہر دمشق میں ہے
17:45ناظرین ان آیتوں اور تفاصیر میں صاف صاف موجود ہے
17:49کہ ایک ہی جگہ پر ایک ہی آب و ہوا میں
17:52حضرت عزیر علیہ السلام کا گدھا تو مر کر گل سڑ گیا
17:56اور اس کی ہڈیاں ریزہ ریزہ ہو کر بکھر گئیں
17:59مگر پھلوں اور شیرہ انگور
18:02اور خود حضرت عزیر علیہ السلام کی ذات میں
18:06کسی قسم کا کوئی تغیر نہیں ہوا
18:09یہاں تک کہ سو برس میں ان کے بال بھی سفید نہیں ہوئے
18:12اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک ہی قبرستان کے اندر
18:16ایک ہی آب و ہوا میں اگر بعض مردوں کی لاشیں گل سڑ کر فنا ہو جائیں
18:21اور بعض بزرگوں کی لاشیں سلامت رہ جائیں
18:24اور ان کے کفن بھی میلے نہ ہوں
18:26ایسا ہو سکتا ہے
18:28بلکہ بارہ ایسا ہوا ہے
18:30اور حضرت عزیر علیہ السلام کا یہ قرآنی واقعہ
18:33اس کی بہترین دلیل ہے
18:35واللہ عالم
18:36دوستو ہم امید کرتے ہیں کہ ہماری آج کی یہ ویڈیو آپ کو ضرور پسند آئی ہوگی
18:42اور آپ کے علم میں اضافہ ہوا ہوگا
18:44اگر ایسا ہی ہے تو اس ویڈیو کو شیئر ضرور کیجئے کا
18:48آنے والی ویڈیو تک آپ کا اپنا میزبان قادر بخش کلھوڑو
18:52آپ سے اجازت چاہتا ہے
18:55اللہ حافظ
18:56اللہ حافظ
Be the first to comment
Add your comment

Recommended