Skip to playerSkip to main content
Hazrat Salih (A.S) Ka Mukamil Qissa | Qaum-e-Samood Aur Oontni Ka Mo‘jiza | Islamic History

Hazrat Salih (A.S) Allah ke azeem Nabi thay jinhein Qaum-e-Samood ki taraf bheja gaya. Yeh qaum paharon ko kaat kar ghar banati thi aur apni taqat aur hunar par ghoroor karti thi. Hazrat Salih (A.S) ne unhein Tauheed aur Allah ki itaat ki daawat di, magar aksar log na maane.

Allah ke hukm se Oontni ka mo‘jiza zahir hua, lekin jab qaum ne na-farmani karte hue oontni ko qatl kar diya to unpar sakht azaab nazil hua aur poori qaum halaak kar di gayi.

Is video mein aap jaanenge:

Hazrat Salih (A.S) ka paighaam

Qaum-e-Samood ki sarkashi

Oontni ka mo‘jiza

Azaab aur is qissay ki aham naseehat

Yeh qissa humein sikhata hai ke Allah ki nishaniyon ka inkaar tabahi ka sabab banta hai.

🎙️ Bayan: Qadir Kalhoro

#HazratSalih #SalihAS #QaumESamood #IslamicStories #AnbiyaQissay #OontniKaMojiza #IslamicHistory #QadirKalhoro

Category

📚
Learning
Transcript
00:00بسم الله الرحمن الرحيم
00:01السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
00:04ناظرین آج کی وڈیو میں ہم حضرت صالح علیہ السلام کا قصہ بیان کریں گے
00:09امید کرتے ہیں کہ آپ وڈیو کو آخر تک ضرور ملاختہ کریں گے
00:13ناظرین سمود آدھ کے وارث بنے
00:16جس طرح کے آدھ نوح علیہ السلام کی قوم کے وارث بنے تھے
00:20سمود آدھ کے نقش قدم پر ہی چلے
00:23جس طرح کے آدھ نوح علیہ السلام کی قوم کے نقش قدم پر چلے تھے
00:27سمود کی زمین بھی خوبصورت اور سر سبز و شاداب تھی
00:30اس میں باغات چشمیں اور ایسے باغیچے تھے
00:34جن کے نشیب میں دریار رواندوان تھا
00:36سمود تعمیرات کھیتی باڑی اور باغات کی کسرت کے اعتبار سے آدھ کے مانند تھے
00:43اقل و دانش اور صناعت میں وہ ان سے فوقیت لے گئے
00:48وہ پاڑوں میں کھلے اور خوشنما گھر تراشنے اور پتھروں میں امدہ نقش و نگار بناتے
00:54ان کی اقل و دانش اور کاریگری کی وجہ سے
00:56پتھر ان کے لئے نرم ہو گیا
00:58وہ اس کے ساتھ ویسے ہی کرتے جیسے انسان موم کے ساتھ کرتا ہے
01:03جب کوئی انسان ان کے شہر میں داخل ہوتا تھا
01:06تو ایک عجیب و غریب منظر دیکھتا تھا
01:08وہ پہاڑوں کی مانند بلند محلات دیکھتا
01:11گویا کہ انہیں جنہوں نے بنایا
01:13اور وہ دیواروں میں خوشنما پھول دیکھتا
01:16جیسا کہ موسم بہار نے انہیں اگایا
01:19اللہ تعالیٰ نے سمود پر آسمان اور زمین سے برکتیں کھول دیں
01:23اللہ تعالیٰ نے سمود پر ہر چیز کے دروازے کھول دیے
01:27آسمان نے ان کے لئے بارشوں کی سخاوت کر دی
01:30زمین نے ان کے لئے پودوں اور پھولوں کی سخاوت کر دی
01:34باغات نے ان کے لئے میووں اور پھولوں کی سخاوت کر دی
01:38اللہ نے ان کی روزی اور عمروں میں برکت دے دی
01:42اس سب کچھ نے سمود کو شکر گزاری
01:45اور اللہ کی عبادت پر آمادہ نہ کیا
01:48بلکہ انہیں ناشکری اور سرکشی پر ابھارا
01:51وہ اللہ کو بھول گئے جو کچھ انہیں دیا گیا
01:55وہ اس پر پھولے نہ سمائے اور ڈینگیں مارنے لگے
01:58کہ ہم سے طاقت میں بڑھ کر کون ہے
02:01ان کا خیال تھا کہ وہ مریں گے نہیں
02:04نہ وہ اپنے محلات اور باغات سے باہر نکلیں گے
02:07انہوں نے خیال کیا کہ موت پہاڑوں میں داخل نہیں ہو سکے گی
02:11اور نہ ان تک کوئی راستہ ہی پا سکے گی
02:14شاید کہ انہوں نے خیال کر لیا تھا
02:17کہ نوح علیہ السلام کی امت اس لئے ڈوب گئی تھی
02:20کہ وہ میدانی علاقے میں تھی
02:22وہ اس لئے تباہ ہوئے کہ وہ میدان میں تھے
02:25اور یہ خوف اور موت سے امن کی جگہ پر ہیں
02:28قوم سمود نے پتھر کو تراشا
02:31بتوں کی عبادت کی
02:32وہ پتھروں کی عبادت کرنے لگے
02:34جس طرح نوح علیہ السلام کی امت
02:37ان کی عبادت کیا کرتی تھی
02:39اور یہی طرز عمل آدھ کا بھی تھا
02:42اللہ تعالیٰ نے انہیں پتھر کا بادشاہ بنا لیا تھا
02:45لیکن وہ اپنی جہالت کی وجہ سے پتھر کے غلام بن گئے تھے
02:49اللہ تعالیٰ نے ان کو عزت عطا کی
02:52اور عمدہ رزق عطا کیا
02:54لیکن انہوں نے اپنے آپ کو زلیل اور رسوہ کر لیا
02:57اور انسانیت کو زلیل کیا
02:59اللہ لوگوں پر ظلم نہیں کرتا
03:02لیکن لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں
03:05بڑے تعجب کی بات ہے
03:06کہ پتھر جس کو یہ اپنے ہاتھوں سے تراشتے تھے
03:10نہ وہ انکار کرتا ہے
03:12اور نہ ان کی نافرمانی کرتا ہے
03:14اب وہ اس کے سامنے جھگ گئے
03:16اور اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے گر پڑے
03:19کیا طاقتور کمزور کی عبادت کرتا ہے
03:22کیا آقا اپنے غلام کو سجدہ کرتا ہے
03:25لیکن وہ اللہ کو بھول گئے
03:27تو انہوں نے اپنے آپ کو بھولا دیا
03:29اور انہوں نے انکار کر دیا
03:31کہ اللہ کی عبادت کریں
03:33تو اللہ نے انہیں زلیل اور رسوہ کر دیا
03:35اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف ایک رسول بھیجا
03:39جیسا کہ نوح علیہ السلام کی امت کی طرف بھیجا
03:42اور آدھ کی طرف رسول بھیجا تھا
03:44ان میں ایک شخص تھا
03:46جس کا نام تھا صالح
03:48وہ ایک شریف گھرانے میں پیدا ہوا
03:50انہوں نے اقل و دانش اور نیکی کے محول میں پرورش پائی
03:55وہ ایک بہت شریف انسان تھے
03:57وہ بہت ہونہار تھے
03:59لوگ ان کی طرف اشارہ کیا کرتے تھے
04:01لوگ کہتے تھے کہ یہ صالح ہے
04:03یہ صالح ہے
04:05لوگوں کو ان سے بڑی امیدیں تھیں
04:07وہ کہا کرتے تھے
04:09کہ اس کی بڑی شان ہوگی
04:11اس کی بڑی عظمت ہوگی
04:12لوگوں کا خیال ہے
04:14کہ صالح ان کے چودریوں میں سے ہوگا
04:17اور وہ اس کے مالداروں میں سے ہوگا
04:19لوگ خیال کرتے
04:21کہ اس کا ایک خوبصورت محل
04:23اور بڑا باغ ہوگا
04:25ان کا باپ دیکھ رہا تھا
04:27کہ بیٹا صالح
04:28اپنی عقل سے بڑا مال کمائے گا
04:31اور لوگوں میں آگے نکل جائے گا
04:33وہ گھوڑے پر نکلے گا
04:35اور اس کے پیچھے نوکرچا کروں گے
04:37لوگ اسے سلام کریں گے
04:39اور وہ یہ کہیں گے
04:41کہ یہ فلان کا بیٹا ہے
04:42تو اسے کتنی خوشی ہوگی
04:44جبکہ وہ لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنے گا
04:47یہ بڑا خوش نصیب ہے
04:48اس کا بیٹا بڑا مالدار ہے
04:50لیکن اللہ نے کچھ اوری چاہا
04:52اللہ نے ارادہ کیا
04:54کہ اسے نبوت کا شرف آتا کرے
04:57اور اسے اپنی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے
05:00تاکہ وہ انہیں اندھیروں سے نور کی طرف نکال لائے
05:04کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی شرف ہو سکتا ہے
05:06کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی عزت ہو سکتی ہے
05:09حضرت صالح علیہ السلام
05:11اپنی قوم میں کھڑے ہوئے اور بلند آواز سے کہنے لگے
05:15اے میری قوم
05:16اللہ کی عبادت کرو
05:18اس کے سوا کوئی تمہارا معبود حقیقی نہیں
05:22مالدار کھانے پینے اور کھیل کود میں مشغول تھے
05:26وہ بتوں کی عبادت کرتے تھے
05:28ان کے علاوہ کسی کو معبود نہیں سمجھتے تھے
05:31انہیں صالح علیہ السلام کی دعوت پسند نہ آئی
05:35سمود کے مالدار ناراض ہوئے
05:37اور انہوں نے کہا یہ کون ہے
05:39نوکروں نے کہا یہ صالح ہے
05:41انہوں نے پوچھا یہ کیا کہتا ہے
05:43خادموں نے کہا یہ کہتا ہے
05:44کہ تم اللہ کی عبادت کرو
05:46تمہارا اس کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں
05:50اور وہ یہ کہتا ہے
05:51کہ اللہ مر جانے کے بعد
05:53تمہیں دوبارہ اٹھائے گا
05:55اور تمہیں بدلہ دے گا
05:56نیز وہ یہ کہتا ہے
05:58کہ میں اللہ کا رسول ہوں
06:00اس نے مجھے میری قوم کی درف بھیجا ہے
06:02دولت مند لوگ یہ باتیں سن کر ہسنے لگے
06:05کہ بیچارہ مسکین ہے
06:07کیا یہ پیغمبر بن سکتا ہے
06:09نہ اس کے پاس کوئی محل ہے
06:11نہ باغ ہے
06:12نہ اس کے پاس ذرعی رقبہ ہے
06:14اور نہ ہی نخلستان
06:16یہ بلا کیسے رسول بن سکتا ہے
06:18دولت مندوں نے دیکھا
06:19کہ کچھ لوگ صالح علیہ السلام کی طرف
06:22جھکا اور اختیار کر رہے ہیں
06:24تو انہیں اپنی سرداری کا خطرہ لاحق ہوا
06:27اور وہ پکار اٹھے
06:28یہ تو محض تم جیسا ایک انسان ہے
06:31وہی کچھ کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو
06:33وہی کچھ پیتا ہے جو تم پیتے ہو
06:36کیا وہ تمہیں اس بات کا وعدہ دیتا ہے
06:39کہ جب تم مر جاؤگے
06:40مٹی اور ہڈیاں بن جاؤگے
06:42تو تمہیں زمین سے اٹھایا جائے گا
06:44بہت دور کی بات ہے
06:47بہت ہی دور کی بات ہے
06:48جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے
06:51یہ تو دنیا کی زندگی ہے
06:53ہم اس میں مرتے ہیں اور جیتے ہیں
06:55ہمیں دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا
06:57وہ تو ایک ایسا شخص ہے
06:59جس نے اللہ کے بارے میں جھوٹ بولا ہے
07:02ہم تو اس پر ایمان لانے والے نہیں
07:04اس طرح لوگوں نے صالح علیہ السلام کا انکار کر دیا
07:08اور وہ ان پر ایمان نہیں لائے
07:10جب صالح علیہ السلام نے انہیں وائز و نصیحت کی
07:14اور انہیں بتوں کی عبادت سے روکا
07:16تو انہوں نے کہا
07:17اے صالح
07:18تو بڑا ہی شریف لڑکا تھا
07:20تو بڑا ہونہار بیٹا تھا
07:22تیرے بارے میں ہمارا خیال تھا
07:24کہ تو تو بڑے لوگوں اور سرداروں میں سے ہوگا
07:27ہمارا تیرے بارے میں یہ خیال تھا
07:29کہ تو تو فلان شخص کی ماند اپنا نام پیدا کرے گا
07:33ارے تم تو کچھ بھی نہ بنے
07:35جو تیرے ہم عمر تھے
07:37اور تجھ سے کم عقل تھے
07:39وہ بڑے آدمی بن گئے
07:40اے صالح
07:41تو نے فقیری کا راستہ اختیار کر لیا
07:44ہمارا خیال تیرے بارے میں غلط نکلا
07:46تیرے بارے میں ہماری امیدوں پر پانی پھر گیا
07:49تیرے بیچارے باپ نے تجھ سے کوئی خیر نہ پائی
07:53تیری بیچاری ماں نے تیری خاطر
07:55اپنی ساری محنت کو ضائع کر دیا
07:57حضرت صالح علیہ السلام نے یہ ساری باتیں سنی
08:01اور اپنی قوم پر افسوس کا اظہار کیا
08:04جب بھی حضرت صالح علیہ السلام
08:06اپنی قوم کے پاس سے گزرتے
08:08تو وہ لوگ از راہ افسوس یہ کہتے
08:11کہ اللہ صالح کے باپ پر رحم کرے
08:14اس کا بیٹا تو ضائع ہو گیا
08:16صالح علیہ السلام اپنی قوم کو مسلسل نصیحت کرتے رہے
08:21اور انہیں بڑی حکمت
08:23اور بڑی ہی نرمی سے اللہ کی طرف دعوت دیتے رہے
08:26مگر جن کے نصیب میں ہدایت نہ لکھی ہو
08:29وہ انبیاء کے رشتے دار ہونے کے باوجود بھی
08:32ایمان کی دولت سے محروم ہی رہتے ہیں
08:35ان کے دلوں پر مہر لگ چکی ہوتی ہے
08:37جس کو ختم کرنا صرف رب العالمین کے اختیار میں ہی ہوتا ہے
08:42ایسا ہی قوم سمود کے ساتھ بھی ہوا
08:44ان میں چند افراد کے علاوہ
08:47ساری قوم نے آپ علیہ السلام کی مخالفت کی
08:50اور بالاخر اللہ کے عذاب کا شکار ہو گئے
08:53ناظرین قوم سمود
08:55اللہ کے پیغمبر جناب صالح علیہ السلام کی قوم ہے
08:59جو وادی القرآن میں رہتی تھی
09:02جو مدینہ اور شام کے درمیان واقع ہے
09:05یہ قوم اس سرزمین میں خوشحال زندگی بسر کر رہی تھی
09:09لیکن اپنی سرکشی کی بنا پر صفحہ حستی سے یوں مٹ گئی
09:13کہ آج اس کا نام و نشان تک باقی نہیں رہا
09:17قرآن پا کے سلسلے میں فرماتا ہے کہ قوم سمود نے خدا کے رسولوں کو جھٹلایا
09:23کیونکہ تمام انبیاء کی دعوت حق ایک جیسی تھی
09:27اور اس قوم کا اپنے پیغمبر جناب حضرت صالح علیہ السلام کی تقذیب کرنا
09:33در حقیقت تمام رسولوں کی تقذیب کے مترادف تھا
09:37جبکہ ان کے ہمدرد پیغمبر صالح علیہ السلام نے ان لوگوں سے کہا
09:42آیا تقوی اختیار نہیں کرتے ہو وہ جو کہ تمہارے بھائی کی طرح تمہارا حادی اور رابر تھا
09:49اس کی نظر میں نہ برتری جتانہ تھا اور نہ ہی مادی مفادات
09:54اس لیے قرآن نے حضرت صالح علیہ السلام کو بھائی سے تعبیر کیا ہے
10:00جناب صالح علیہ السلام نے بھی دوسرے انبیاء کی ماند
10:04اپنی دعوت کا آغاز تقوی اور فرض کے احساس سے کیا
10:08پھر اپنا تعرف کراتے ہوئے فرماتے ہیں
10:11کہ میں تمہارے لیے امین پیغمبر ہوں
10:14میرا ماضی میرے اس دعوی کی دلیل ہے
10:17اس لیے تم تقوی اختیار کرو
10:19خدا سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
10:21کیونکہ میرے مد نظر رضا الہی
10:24تمہاری خیر خوبی اور سعادت کے سوا اور کچھ نہیں
10:28میں اس دعوت کے بدلے میں تم سے کوئی عجرت نہیں مانگتا
10:32میں تو کسی اور کے لیے کام کرتا ہوں
10:35اور میرا عجر بھی اس کے پاس ہے
10:37ہاں تو میرا عجر صرف عالمین کے پروردگار کے پاس ہے
10:42یہ جناب صالح علیہ السلام کی داستان کا ابتدائی حصہ تھا
10:47جو دو جملوں میں بیان کیا گیا ہے
10:49ایک دعوت کا پیش کرنا اور دوسرا رسالت کو بیان کرنا
10:54پھر دوسرے حصے میں افراد قوم کی زندگی کی قابل تنقید
10:58اور حساس پیلوں کی نشاندہی کرتے ہوئے
11:01انہیں ضمیر کی عدالت کے کٹھڑے میں لاکھڑا کر دیا
11:05ارشاد ہوتا ہے کہ آیا تم یہ سمجھتے ہو
11:08کہ ہمیشہ آمن و سکون اور ناز و نعمت کی زندگی بسر کرتے رہو گے
11:13کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہاری یہ مادی اور غفلت کی زندگی ہمیشہ کے لیے ہے
11:18اور موت انتقام اور سزا کا ہاتھ تمہارے گرے بانوں تک نہیں پہنچے گا
11:24کیا تم گمان کرتے ہو کہ یہ باغات اور یہ چشمیں اور یہ کھیت اور خجور کے درخت
11:31جن کے پھل شیرین اور شاداب اور پکے ہوئے ہیں
11:34ہمیشہ ہمیشہ کے لیے باقی رہیں گے
11:36پھر انپختہ اور خوشحال گھروں کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہتے ہیں
11:41کہ تم پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے ہو اس میں آیاشی کرتے ہو
11:45جبکہ قوم سمود شکم کی اسیر اور نازو نعمت بری خوشحال زندگی سے بہرامند تھی
11:52حضرت صالح علیہ السلام اس تنقید کے بعد انہیں متنبے کرتے ہوئے کہتے ہیں
11:58کہ حکم خدا کی مخالفت سے ڈرو میری اطاعت کرو اور مصرفین کا حکم نہ مانو
12:04وہی جو زمین میں فساد کرتے ہیں اور اسلح نہیں کرتے
12:09یہ دھیان میں رہے کہ خدا نے قوم آدھ کے بعد تمہیں ان کا جانشین اور خلیفہ قرار دیا ہے
12:16اور زمین میں تمہیں جگہ دی ہے
12:18یعنی ایک طرف تو تم کو اللہ تعالی کی نعمتوں کا خیال رہنا چاہیے
12:23دوسرا یہ بھی یاد رہے کہ تم سے پہلے جو قوم تھی
12:27وہ اپنی سرکشی اور تغیانی کے باعث عذابِ الہی سے تباہ اور برباد ہو چکی ہے
12:33پھر اس کے بعد انہیں عطا کی گئی کچھ نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے
12:37ارشاد ہوتا ہے کہ تم ایک ایسی سرزمین میں زندگی بسر کرتے ہو
12:42جس میں ہموار میدان بھی ہیں جن کے اوپر تم عالی شان قصر اور آرام دہ مکانات بنا سکتے ہو
12:50نیزس میں پہاڑی علاقے بھی ہیں جن کے دامن میں تم مضبوط مکانات تراش کر سکتے ہو
12:56جو سخت موسم اور سردیوں کے زمانے میں تمہارے کام آ سکتے ہیں
13:01اس تعبیر سے یہ پتا چلتا ہے کہ وہ لوگ قومِ آدھ سردی اور گرمی میں اپنی سکونت کی جگہ بدل دیتے تھے
13:10فصلِ بہار اور گرمیوں میں وسیع اور پر برکت میدانوں میں ذرائط کرتے تھے
13:16اور پرندے اور چوپائے پالنے میں مشغول رہا کرتے تھے
13:20اس وجہ سے وہ وہاں خوبصورت اور آرام دہ مکانات بناتے تھے
13:25جو انہوں نے پہاڑوں پر تراش کر بنائے تھے
13:28اور یہ مکانات انہیں سیلابوں اور طوفانوں سے محفوظ رکھتے تھے
13:32یا وہ اتمینان سے سردی کے دن گزارتے تھے
13:36آخر میں فرمایا خداوند کریم کی ان سب نعمتوں کو یاد کرو
13:40اور زمین میں فساد نہ کرو اور نہ کفران نعمت کرو
13:45جواب میں اس کی قوم کی گفتگو بھی سنیے
13:48انہوں نے کہا کہ اے صالح تم سہر زدہ ہو کر اپنی عقل کھو چکے ہو
13:53لہذا غیر معقول باتیں کرتے ہو
13:55ان کا یہ عقیدہ تھا کہ بساوقات جادو کر لوگ جادو کے ذریعے
14:00انسان کی عقل اور حوش کو بیکار بنا دیتے ہیں
14:03صرف انہوں نے جناب صالح علیہ السلام پر ہی یہ تحمت نہیں لگائی
14:07بلکہ اور لوگوں نے بھی دوسرے انبیاء پر ایسی ہی تحمتیں لگائی ہیں
14:11حتیٰ کہ خود محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات تک کو تحمت کیا
14:17جی ہاں ان کے نزدیک عقل مند انسان وہ ہوتا ہے جو مال میں ڈھل جائے
14:22ابن الوقت بن جائے اور خود تمام برائیوں پر منتبق ہو جائے
14:26اگر کوئی انقلابی مرد خدا فاسد عقائد اور غلط نظام کے بتلان کے لیے قیام کرتا
14:33تو وہ اپنی اس منطق کی روح سے اسے دیوانہ مجنو اور سحر زدہ کہتے تھے
14:40اسی طرح قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے اس خود پسند طبقے نے اللہ کی وحدانیت کا انکار کیا
14:48کہ آخرت میں ملاقات کو جھٹلایا حالانکہ ہم نے انہیں دنیا کی بہت سی نعمتوں سے مالا مال کر رکھا تھا
14:55وہ کہنے لگے کہ یہ تمہاری ہی طرح کا انسان ہے جو تم کھاتے ہو یہ بھی کھاتا ہے
15:01اور جو تم پہنتے ہو یہ بھی پہنتا ہے
15:04بے شک وہ اشراف کا خوشحال طبقہ جو قرآن مجید کی اسلاح میں صرف ظاہر بین تھا
15:11اور کور باطن تھا وہ اس عظیم پیغمبر کے مشن کو اپنے مفاد کا مخالف
15:17ناجائز منافع خواری استحصال اور بیجا بالا دستی سے متصادم دیکھ رہا تھا
15:24یہ طبقہ اپنی پرعیش زندگی کی وجہ سے اللہ سے کوسوں دور چلا گیا تھا
15:30آخرت کا منکر ہو گیا تھا
15:33انہوں نے اللہ کے نمائندوں کے انسان ہونے اور دیگر انسانوں کی طرح کھانے پینے کو
15:38ان کی رسالت کی نفی کی دلیل قرار دیا
15:41حالانکہ یہ بات ان مایاناز شخصیتوں کی نبوت و رسالت کی پرزور تائید تھی
15:47کہ وہ عام لوگوں میں سے ہوں
15:49تاکہ انسان کی ضروریات اور مسائل سے اچھی طرح سے آگا ہوں
15:54اس کے بعد انہوں نے معاد اور قیامت کا انکار کیا
15:57جس کو ماننا ہمیشہ سے خود سر اور ہوا و عوض کے رہبروں کے لیے مشکل رہا ہے
16:03اور کہا کہ کیا یہ شخص تم سے وہ وعدہ کرتا ہے
16:07کہ مرنے کے بعد مٹی اور بوسیدہ ہڈی ہو جانے کے بعد
16:11تم ایک بار پھر قبروں سے نکلو گے
16:13اور ایک نئی زندگی پاؤ گے
16:15یہ بہت دور اور بہت دور کی بات ہے
16:19وہ وعدے جو تم سے کیے گئے ہیں
16:21وہ بالکل بے بنیاد اور کھوکلے ہیں
16:23ناظرین وہ کہتے تھے کہ مجموعی طور پر کیا یہ ممکن ہے
16:27کہ ایک آدمی جو مر گیا ہو
16:29مٹی کے ساتھ مٹی ہو گیا ہو
16:31اس کے اجزائے دھر و دھر بکھر گئے ہوں
16:33وہ دوبارہ زندہ ہو سکتا ہے
16:35نہیں یہ محال ہے
16:36یہ محال بات ہے
16:38آخر میں اپنے نبی پر ایک مجموعی الزام لگاتے ہوئے
16:41انہوں نے کہا کہ یہ ایک جھوٹا شخص ہے
16:44جس نے اللہ پر بہتان باندھا ہے
16:46اور ہم اس پر ارگز ایمان نہیں لائیں گے
16:49نہ اس کی رسالت اللہ کی طرف سے ہے
16:51نہ قیامت سے متعلق اس کے وعدے سچے ہیں
16:54اور نہ ہی دوسرے احکام ایسے ہیں
16:56کوئی اقل مند آدمی اس پر کیسے ایمان لاسکتا ہے
17:00انہوں نے حضرت صالح علیہ السلام کو غیر معصر بنانے کے لیے
17:04یا کم از کم ان کی باتوں کو بے تاثیر کرنے کے لیے
17:08ایک نفسیاتی حربہ استعمال کیا
17:11اور وہ آپ کو دھوکہ دینا چاہتے تھے
17:13کہنے لگے
17:14اے صالح اس سے پہلے تو ہماری امیدوں کا سرمایہ تھا
17:19مشکلات میں ہم تیری پناہ لیتے تھے
17:21تجھ سے مشورہ کرتے تھے
17:22تیرے اقل اور شعور پر ایمان رکھتے تھے
17:25تیری خیر خواہی اور ہمدردی میں ہمیں ہرگز کوئی شک نہ تھا
17:29لیکن افسوس کہ تم نے ہماری امیدوں پر پانی پھیر دیا
17:33دینِ بدھ پرستی کی اور ہمارے خداوں کی مخالفت کر کے
17:37جو ہمارے بزرگوں کا رسم و رواج تھا
17:40اور ہماری قوم کے افتخارات میں سے تھا
17:43تو نے ظاہر کر دیا کہ
17:44تُو بزرگوں کے احترام کا قائل نہیں ہے
17:47نہ ہماری اقل پر تمہیں کوئی اعتماد ہے
17:50اور نہ ہی تُو ہمارے طور طریقوں کا حامی ہے
17:53کیا سچ مجھ تُو ہمیں ان کی پرستش سے روک دینا چاہتا ہے
17:58جن کی عبادت ہمارے آبا و اجداد کرتے تھے
18:01بہرحال اس سرکش قوم نے
18:03اس عظیم پیغمبر کی ہم دردانہ نصیحتوں کو
18:07دل کے کانوں سے سننے
18:08اور ان پر عمل درامت کرنے کی بجائے
18:11واہیات اور بیکار باتوں کے ذریعے
18:14ان کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لی
18:16منجملہ اور باتوں کے انہوں نے کہا
18:19کہ ہم تمہیں اور جو لوگ تمہارے ساتھ ہیں
18:23سب کو ایک بری فعل سمجھتے ہیں
18:25معلوم ایسا ہوتا ہے
18:27کہ وہ سال خوشک سالی اور قہد سالی کا تھا
18:29اس لئے وہ سالح علیہ السلام سے کہنے لگے
18:32کہ یہ سب کچھ تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے
18:36نامبارک قدموں کی بدولت ہوا ہے
18:38تم منحوس لوگ ہو
18:40ہمارے معاشرے میں تم ہی بدبختی اور نخوست لائے ہو
18:44وہ بری فعل کو
18:45اس بہانے سے جو درحقیقت بیکار
18:48اور شریر لوگوں کا بہانہ ہوتا ہے
18:51جناب سالح علیہ السلام کے بہترین دلائل کو
18:55کمزور کرنا چاہتے تھے
18:56لیکن حضرت سالح علیہ السلام نے جواب میں کہا
19:00بری فعل اور تمہارا نصیب تو خدا کے پاس ہی ہے
19:03اس نے تمہارے عامال کی وجہ سے تمہیں ان مسائب میں ڈال دیا ہے
19:07اور تمہارے عامال ہی تمہاری اس سزا کا سبب بنے ہیں
19:11درحقیقت تمہارے لیے یہ خدا کی ایک عظیم آزمائش ہے
19:15تم ہی ایسے لوگ ہو جن کی آزمائش کی جائے گی
19:19یہ خدا کی آزمائش ہوتی ہے
19:21اور خبردار کرنے والی چیزیں ہوتی ہیں
19:24تاکہ جو لوگ سنبھل جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں
19:27وہ سنبھل جائیں
19:28خواب غفلت سے بیدار ہو جائیں
19:30غلط رستے کو چھوڑ کر خدای راستے کو اختیار کر لیں
19:35اس کے بعد آپ نے اپنی دعوت کی حقانیت کے لیے
19:37معجزے اور نشانی کی نشاندہی کی
19:40ایسی نشانی جو انسانی قدرت سے معورہ ہے
19:44اور صرف قدرتِ الہی کے سارے پیش کی گئی ہے
19:48اس نے کہا
19:49اے میری قوم یہ ناقہِ الہی
19:52تمہارے لیے آیت اور نشانی ہے
19:54اسے چھوڑ دو کہ یہ بیابانوں پر چراغاؤں میں گھاس فوس کھائے
19:59اور اسے ہرگز کوئی تکلیف نہ پہنچانا
20:02اگر ایسا کرو گے
20:03تو فوراً تمہیں دردناک عذابِ الہی گھیر لے کا
20:07لغت میں ناقہ اونٹنی کے معنی ہیں
20:10یہ اونٹنی ایک عام اونٹنی نہ تھی
20:13اور ایک حوالے سے
20:14یا کئی حوالوں سے موجزے کے طور پر تھی
20:17لیکن قرآن میں یہ مسئلہ تفصیل کے ساتھ نہیں آیا
20:21کہ اس ناقہ کی خصوصیات کیا تھی
20:23اس قدر معلوم ہوتا ہے
20:25کہ یہ کوئی عام اونٹنی نہیں تھی
20:27بس یہی ایک چیز قرآن میں دو مواقع پر موجود ہے
20:31کہ حضرت صالح علیہ السلام نے
20:33اس ناقہ کے بارے میں
20:35اپنی قوم کو بتایا
20:36کہ اس علاقے میں پانی کی تقسیم ہونا چاہیے
20:39ایک دن پانی ناقہ کا حصہ ہے
20:42اور ایک دن لوگوں کا
20:43لیکن یہ بات پوری طرح سے مشخص نہیں ہو سکی
20:46کہ پانی کی یہ تقسیم کس طرح خارق العادات تھی
20:50ایک احتمال یہ ہے
20:52کہ وہ اونٹنی بہت زیادہ پانی پیتی تھی
20:55اس طرح چشمے کا تمام پانی
20:57اس کے لیے مخصوص ہو جاتا
20:59اور دوسرا احتمال یہ ہے
21:01کہ جس وقت وہ پانی پینے کے لیے آتی
21:03تو دوسرے جانور پانی پینے کی جگہ پر آنے کی جرت نہ کرتے
21:08بہرکیف حضرت صالح علیہ السلام جیسے عظیم نبی نے
21:12اس ناقہ کے بارے میں بہت سمجھایا بجھایا
21:15مگر انہوں نے آخر کار ناقہ کو ختم کر دینے کا ارادہ کر لیا
21:20کیونکہ اس کی خارق عادات اور غیر معمولی خصوصیات کی وجہ سے
21:24لوگوں میں بیداری پیدا ہو رہی تھی
21:27اور وہ حضرت صالح علیہ السلام کی طرف مائل ہو رہے تھے
21:30لہذا قوم سمود کے کچھ سرکشوں نے
21:33جو حضرت صالح علیہ السلام کی دعوت کے اثرات کو
21:37اپنے مفادات کے خلاف سمجھتے تھے
21:39اور وہ ہرگز لوگوں کی بیداری نہیں چاہتے تھے
21:43کیونکہ خلق خدا کی بیداری سے
21:45ان کے استعماری مفادات کو نقصان پہنچتا تھا
21:48لہذا انہوں نے ناقہ کو ختم کرنے کی سازش تیار کی
21:52کچھ افراد کو اس کام پر معمول کیا گیا
21:55آخر کار ان میں سے ایک نے ناقہ پر حملہ کیا
21:59اور اس پر ایک یا کئی وار کیے اور اسے مار ڈالا
22:04ناظرین اس اونٹنی کا واقعہ کچھ اس طرح سے ہے
22:07کہ حضرت صالح علیہ السلام نے جب انہیں دعوت توحید دی
22:11تو انہوں نے کہا کہ اگر تم واقعی اللہ کے رسول ہو
22:14تو اللہ سے کہو کہ بطور نشانی اس پہاڑ سے ایک اونٹنی نکال دے
22:18انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی
22:20اللہ نے ان کی دعا قبول کر لی
22:23اور پہاڑ سے اونٹنی نکل آئی
22:26تب انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا
22:28کہ اللہ نے بطور موجزہ
22:30تمہارے مطالبے کے مطابق اونٹنی بھیج دی ہے
22:34تم لوگ اسے نہ چھڑو
22:35یہ اللہ کی زمین پر جہاں چاہے گی
22:38جائے گی کھائے گی پیے گی
22:40کوئی اسے نہ چھڑے اور نہ تکلیف پہنچائے
22:43ورنہ تم پر بہت جلد اللہ کا عذاب آ جائے گا
22:47صورت خود میں ارشاد ہے
22:49تو انہوں نے اس کی ٹانگیں کاٹ دیں
22:51تو اس نے کہا کہ اپنے گھروں میں تین دن خوب فائدہ اٹھا لو
22:55یہ وعدہ ہے جس میں کوئی جھوٹ نہیں بولا گیا
22:59پھر جب ہمارا حکم آ گیا
23:01تو ہم نے صالح کو اور ان لوگوں کو
23:03جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے
23:05اپنی طرف سے عظیم رحمت کے ساتھ بچا لیا
23:08اور اس دن کی رسوائی سے بھی
23:11بے شک تیرا رب ہی بے حد قوت والا
23:14سب پر غالب ہے
23:15اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا
23:18انہیں چیخ نے پکڑ لیا
23:20تو انہوں نے اپنے گھروں میں
23:21سحال میں صبح کی
23:23کہ گرے پڑے تھے
23:24جیسے وہ ان میں رہے ہی نہ تھے
23:27سن لو
23:27بے شک
23:28سمود نے اپنے رب سے کفر کیا
23:31سن لو
23:31سمود کے لئے حلاقت ہے
23:34قوم کے بدبختوں نے صالح علیہ السلام کی
23:36ایک نہ سنی
23:38اور اس اونٹنی کو قتل کر دیا
23:40جب ان کی سرکشی انتہا کو پہنچ گئی
23:43تو حضرت صالح علیہ السلام نے
23:45اللہ کے حکم سے
23:46ان سے کہا
23:47کہ اب تم لوگ تین دن تک
23:49اپنے گھروں میں رہ کر
23:50اپنے انجام کا انتظار کرو
23:53یہ اللہ کا قطعی اور حتمی فیصلہ ہے
23:56انہوں نے اونٹنی کو
23:58بدھ کے دن قتل کیا تھا
23:59اس کے بعد جمرات
24:01جمعہ اور ہفتہ
24:03تین دن تک زندہ رہے
24:05اتوار کے دن صبح کے وقت
24:07اللہ کا عذاب ان پر نازل ہو گیا
24:09اللہ تعالیٰ نے صالح علیہ السلام
24:12اور ان کے مسلمان ساتھیوں کو
24:14اس عذاب سے بچا لیا
24:15یہ عذاب ایک حیبتناک اور خطرناک چیخ تھی
24:19جو آسمان سے آئی تھی
24:21جس کی شدت تاثیر سے
24:23تمام کافروں کے جسموں پر
24:25کپ کپی تاری ہو گئی
24:26اور دیکھتے ہی دیکھتے
24:28سبھی موت کے گھاٹ اتر گئے
24:30ان کی بستیاں ایسی ویران اور سنسان ہو گئیں
24:34کہ جیسے پہلے سے وہاں کوئی رہتا ہی نہیں تھا
24:37اور ان کے ساتھ ایسا اس لیے ہوا
24:39کہ انہوں نے اپنے رب کا انکار کر دیا
24:41اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے
24:43ان پر ہمیشہ کے لیے لانت
24:45اور بربادی مسلط کر دی
24:47یہ آیت خبر دیتی ہے
24:49کہ اللہ تعالیٰ قوم آدھ کی طرح
24:52قوم سمود سے بھی بہت زیادہ غزبناک تھا
24:55اور ان سے اس کی نفرت شدید تھی
24:59صحیح مسلم کی روایت کے مطابق
25:01سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ
25:04انہو بیان کرتے ہیں
25:06کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ
25:10حجر پر سے گزرے
25:11تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
25:15ظالموں کے گھروں میں مت چاؤ
25:17مگر روتے ہوئے
25:18اور بچو کہ کہیں تم پر بھی وہ عذاب نہ آ جائے
25:21جو ان پر آیا تھا
25:23پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
25:25اپنی سواری کو ڈانٹا اور جلدی چلایا
25:28یہاں تک کہ حجر پیچھے رہ گیا
25:31ناظرین بعض مفسرین کہتے ہیں
25:33کہ جب عذاب آیا
25:34تو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوستوں کی
25:37تعداد چار ہزار تھی
25:39جو آپ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ
25:41عذاب سے بچ گئے تھے
25:42اور حکم پروردگار کے مطابق
25:45فساد اور گناہ سے لبریز
25:47اس علاقے سے کوچ کر کے
25:49حضر موت جا پہنچے تھے
25:51یہاں پر حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
25:53اور ان کی قوم کی داستان
25:55کا ایک اور حصہ بھی بیان
25:57کیا گیا ہے جو در حقیقت
25:59گزشتہ حصے کا تطمہ ہے
26:01اور اسی پر اس داستان
26:03کا اختتام ہوتا ہے
26:04اس میں حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
26:06قتل کے منصوبے کا ذکر ہے
26:08جو کافر اور منافقوں
26:11نے تیار کیا تھا اور خدا
26:12نے ان کے اس منصوبے کو
26:14ناکام بنا دیا فرمایا گیا
26:16کہ اس شہر یعنی وادی القرآن
26:18میں نو ٹولے تھے جو زمین میں
26:20فساد برپا کرتے تھے
26:22اور اصلاح نہیں کرتے تھے
26:24ان نو میں سے ہر گروہ کا
26:26ایک ایک سربراہ بھی تھا
26:28اور شاید ان میں سے ہر ایک
26:30کسی نہ کسی قبیلے کی طرف منصوب
26:32بھی تھا ظاہر ہے کہ جب
26:34صلی اللہ علیہ السلام نے ظہور فرمایا
26:36اور اپنا مقدس اور اصلاحی
26:39آئین لوگوں کے سامنے پیش کیا
26:41تو ان ٹولوں پر عرصہ
26:42حیات تنگ ہوئی یہی وجہ ہے
26:45کہ قرآن کے مطابق انہوں نے
26:46کہا کہ آؤ خدا کی قسم
26:48اٹھا کر اہد کرتے ہیں
26:50کہ صالح علیہ السلام اور
26:52ان کے خاندان پر شب خون
26:54مار کر انہیں قتل کر دیں گے
26:56پھر ان کے خون کے وارث سے
26:58کہیں گے کہ ہمیں اس کے خاندان
27:00کے قتل کی کوئی خبر نہیں
27:02اور اپنی اس بات میں ہم بالکل
27:04سچے ہیں پھر لائے کے غور بات
27:06یہ ہے کہ انہوں نے قسم بھی
27:08اللہ کی کھائی تھی جس سے
27:10ظاہر ہوتا ہے کہ وہ
27:12بتوں کو پوجھنے کے علاوہ
27:14زمین و آسمان کے خالق اللہ پر
27:16بھی عقیدہ رکھتے تھے اور
27:18اپنے اہم مسائل میں اسی
27:20کے نام کی قسم کھاتے تھے
27:22یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ وہ
27:24اتنے مغرور اور بدمست ہو
27:26چکے تھے کہ اس قدر حولناک
27:28جرم کے ارتکاب کے لیے بھی
27:30انہوں نے خدا ہی کا نام لیا
27:32گویا وہ کوئی اہم عبادت
27:34یا کوئی ایسا کام انجام دینے
27:36لگے ہوں جو اللہ کو بہت منظور
27:38ہے خدا سے بے خبر
27:40مغرور اور گمراہ لوگوں
27:42کا وطیرہ ایسا ہی ہوا کرتا ہے
27:44حضرت صالح علیہ السلام کے
27:46ہم نواؤں اور ان کے قوموں
27:48قبیلہ سے خوف کھاتے تھے
27:50لہٰذا انہوں نے ایسا منصوبہ بنایا
27:52کہ جس سے وہ اپنے مقصد میں
27:54بھی کامیاب ہو جائیں اور حضرت
27:56صالح علیہ السلام کے طرفداروں
27:58کے غیض و غضب کا بھی شکار
28:00نہ ہوں گویا وہ ایک تیر
28:02سے دو شکار کرنا چاہتے تھے
28:04بہرحال انہوں نے رات کے وقت
28:06حملے کی ترکیب سوچی اور
28:08طے کر لیا کہ جب بھی کوئی شخص
28:10ان سے پوچھ کچھ کرے گا تو
28:12سب متفق ہو کر قسم اٹھائیں گے
28:14کہ اس منصوبے میں ان کا
28:16کوئی عمل دخل نہیں تھا
28:18یہاں تک کہ وہ اس وقت
28:19موجود بھی نہیں تھے کیونکہ ان کی
28:21صالح علیہ السلام کے ساتھ مخالفت
28:24پہلے سے دنیا کو معلوم تھی
28:26تاریخوں میں ہے کہ ان کی
28:28سازش کچھ یوں تھی کہ
28:30شہر کے اطراف میں ایک پہاڑ تھا
28:32پہاڑ میں ایک غار تھا
28:34جس میں جناب صالح علیہ السلام
28:36عبادت کیا کرتے تھے
28:38اور کبھی کبھار وہ رات کو بھی
28:40اسی غار میں جا کر
28:41اپنے پروردگار کی عبادت کرتے تھے
28:44اور اس سے راز و نیاز کی
28:46باتیں کرتے تھے انہوں نے تیہ کر لیا
28:48کہ وہاں کمین لگا کر بیٹھ جائیں گے
28:51جب بھی صالح علیہ السلام
28:52آئیں گے تو انہیں قتل کر دیں گے
28:55ان کی شہادت کے بعد
28:56ان کے اہل خانہ پر حملہ کر کے
28:58انہیں بھی رات و رات
29:00موت کے گھاٹ اتار دیں گے
29:02پھر اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں گے
29:04اگر ان سے اس بارے میں کسی نے پوچھ بھی لیا
29:07تو اس سے لاعلمی کا اظہار کر دیں گے
29:10لیکن خداوند عالم نے ان کی اس سازش کو
29:13عجیب و غریب طریقے سے ناکام بنا دیا
29:16اور ان کے اس منصوبے کو نقش براب کر دیا
29:20جب وہ ایک کونے میں گھات لگائے بیٹھے تھے
29:23تو پہاڑ سے پتھر گرنے لگے
29:25اور ایک بہت بڑا ٹکڑا پہاڑ کی چوٹی سے گرا
29:28اور آن کی آن میں اس نے ان سب کا صفایہ کر دیا
29:33قرآن پاک ان کی ہلاکت کی قیفیت
29:35اور ان کے انجام کو یوں بیان کرتا ہے
29:38دیکھو یہ ان لوگوں ہی کے گھر ہیں
29:41کہ جو اب ان کے ظلم و ستم کی وجہ سے ویران پڑے ہیں
29:45نہ وہاں سے کوئی آواز سنائی دیتی ہے
29:48نہ کسی قسم کا شور شرابہ سننے میں آتا ہے
29:51اور نہ ہی وہ رزق برق گناہ بھری محفلیں دکھائی دیتی ہیں
29:55جی ہاں وہاں پر ظلم و ستم کی آگ بھڑکی
29:59جس نے سب کو جلا کر راک کر دیا
30:01ظالموں کے اس انجام میں خداوند عالم کی قدرت کی واضح نشانی
30:06اور درس عبرت ہے ان لوگوں کے لیے جو علم و آگاہی رکھتے ہیں
30:11لیکن اس بھٹی میں سب خوش کو تر نہیں جلے
30:15بلکہ بے گناہ افراد گناہگاروں کی آگ میں جلنے سے بچ گئے
30:19ہم نے ان لوگوں کو بچا لیا جو ایمان لا چکے تھے اور تقوی اختیار کر چکے تھے
30:26حضرت صالح علیہ السلام کے قتل کی سازش کے بعد ہی عذاب نازل ہوا
30:30بلکہ قوی احتمال یہ ہے
30:33کہ خدا تعالیٰ کے اس پیغمبر کے قتل کی سازش کے واقعے میں
30:37فقط سازشی ٹولے ہلاک ہوئے اور دوسرے ظالموں کو سنبھل جانے کے لیے محلت دی گئے
30:43لیکن ناقا کے قتل کے بعد تمام ظالم اور بے ایمان گناہگار فنا ہو گئے
30:48صورتِ حود اور صورہِ عراف کی آیات کے ملانے سے یہی نتیجہ نکلتا ہے
30:55ناظرین ہم امید کرتے ہیں کہ ہماری آج کی ویڈیو بھی آپ کو ضرور پسند آئی ہوگی
31:00اور اس ویڈیو کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر ضرور کریں گے
31:04آنے والی ویڈیو تک اپنے میزبان قادر بخش کلھوڑو کو اجازت دیجئے
31:09اللہ حافظ
Be the first to comment
Add your comment

Recommended