Skip to playerSkip to main content
Hazrat Nooh (A.S) Ka Mukamil Qissa | Pehlay Rasool | Toofan Aur Kashti Ki Kahani

Hazrat Nooh (A.S) Allah ke azeem Rasool thay jinhein sabr, daawat aur istiqamat ki misaal banaya gaya. Aap ne apni qaum ko 950 saal tak Allah ki taraf bulaya, magar jab log na maane to Allah ke hukm se kashti banayi aur phir woh azeem toofan aaya jo sirf imaan walon ke liye nijaat ka zariya bana.

Is video mein aap dekhenge:

Hazrat Nooh (A.S) ka paighaam aur daawat

Kashti banane ka waqia

Toofan aur qaum ki halakat

Is qissay se milnay wali badi naseehat

Yeh qissa humein sikhata hai ke sabr, yaqeen aur Allah par bharosa kabhi zaya nahi jata.

🎙️ Bayan: Qadir Kalhoro

#HazratNooh #NoohAS #IslamicStories #AnbiyaQissay #ToofanNooh #KashtiNooh #IslamicHistory #QadirKalhoro

Category

📚
Learning
Transcript
00:00اہل زمین پر شیطان کا راج ہے
00:02اللہ تعالیٰ سے مانگی ہوئی محلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے
00:05ابلیس نے پوری قوم کو کفر و شرک میں مبتلا کر دیا ہے
00:09گھر بدکدے بن چکے ہیں اور پانچ بتوں کو اپنا معبود تصور کر لیا گیا ہے
00:15انہی پانچ بتوں کو انہوں نے مشکل کشا حاجت روا ٹھہرا رکھا ہے
00:19قرآن کریم نے ان بتوں کے نام ود، سعاو، یغوس، یعوق اور نصر بتائے ہیں
00:25لوگ انبیاء سابقین یعنی ابول بشر حضرت آدم علیہ السلام
00:30حضرت شیس اور حضرت عدریس علیہ السلام کی تعلیمات کو یک سر بھلا چکے ہیں
00:36حضرت عدریس علیہ السلام نے تو ان کی بڑھتی ہوئی کفرانہ حرکتوں کے سبب ان سے جہاد بھی کیا تھا
00:42جس کا وقتی طور پر فائدہ بھی ہوا اور لوگ واپس دین حق کی جانب پلٹے
00:48لیکن اب تو حضرت عدریس علیہ السلام کو بھی وفات پائے سیکڑوں برس گزر چکے ہیں
00:53اولاد آدم کی نافرمانیاں اور شیطان کی مکاری اور آیاری نے
00:58پوری زمین کو کفر و شرک برائی اور بے حیائی کی غلازتوں سے مکمل بھر دیا ہے
01:05ابلیس اپنی کارکردگی پر بہت خوش ہے
01:08اور ادھر آسمانوں میں فرشت اہل زمین کی مخدوش حالت اور شیطان کی کامیابی
01:14اور اس کے مکر و فریب پر حیران بھی ہیں اور پریشان بھی
01:18ان کی نگاہیں بار بار بیت المعمور کی جانب اٹھتی ہیں
01:22وہ منتظر ہیں کہ اللہ کب ان کی تباہی اور بربادی کا حکم نازل فرمائیں گے
01:27لیکن اللہ کے فیصلے تو بڑی حکمت والے ہوتے ہیں
01:31اللہ تعالی کا دستور ہے کہ جب اس کی نافرمانیاں اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہیں
01:36تو وہ نبی مبعوس فرماتا ہے
01:39اور اگر قوم نبی کی باتوں کو بھی نہ مانے
01:42تو پھر قہرِ الہی نازل ہو کر رہتا ہے
01:45چنانچہ اللہ تعالی نے اس قوم ہی میں سے ایک نیک شخص حضرت نوح علیہ السلام کو نبوت کے جلیل القدر منصب پر فائز فرما دیا
01:54قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے
01:57ہم نے نوح علیہ السلام کو ان کی قوم کی طرف نبی بنا کر بھیجا
02:01انہوں نے ان سے کہا میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے اور یہ پیغام پہنچانے آیا ہوں
02:08کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو
02:11اگر تم اسی طرح کفر و شرک میں مبتلا رہے
02:15تو مجھے ڈر ہے کہ تم کسی سخت عذابِ الہی میں مبتلا نہ ہو جاؤ
02:20لیکن قوم نے ان کی ہدایت کو حقارت سے ٹھکرا دیا
02:23ناظرین حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں
02:27کہ اللہ تعالی نے حضرت نوح علیہ السلام کو چالیس برس کی عمر میں نبوت عطا فرمائی
02:33توفان سے پہلے آپ علیہ السلام مسلسل ساڑھے نو سو برس تک اپنی قوم کو وائز و تبلیغ کرتے رہے
02:41قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے
02:43اور ہم نے نوح علیہ السلام کو ان کی قوم کی طرف بھیجا
02:47تو وہ ان میں پچاس برس کم ہزار برس رہے
02:51یوں قرآنی تصریح کے مطابق ان کی عمر نو سو پچاس برس سے تجاوز کر گئی
02:57قوم کی بے راہ روی اور مسائب کا کوہ گران یہ ہے
03:01کہ حضرت نوح علیہ السلام طویل عرصے سے ہما وقت تبلیغ دین میں مصروف رہنے کے باوجود
03:07اپنی قوم کی بے راہ روی پر بڑے دل گرفتا رہتے
03:11ان کی قوم انہیں طرح طرح کی عذیتیں دیتیں
03:14ان پر مسائب کے پہاڑ ڈھاتی لیکن وہ سبر کرتے
03:18ان کے لئے دعائیں خیر کرتے رہتے
03:20حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں
03:24کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
03:27کسی نبی کو اپنی قوم کے ہاتھوں اتنی تکلیف اور عذیت نہیں پہنچی
03:31جتنی حضرت نوح علیہ السلام کو اپنی قوم کے ہاتھوں برداشت کرنی پڑی
03:36کافر ان کو ڈراتے تھے دھمکاتے تھے اور تبلیغ سے باز رکھنے کے لئے
03:41اتنا مارتے کہ وہ بےہوش ہو جاتے تھے
03:44کبھی ان کے گلے میں پھندہ ڈال کر بازاروں میں گھسیٹتے پھرتے تھے
03:48حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے ایک اور روایت منقول ہے
03:53فرماتے ہیں کہ ان کی قوم انہیں اتنا مارتی کہ وہ گر جاتے
03:58ان کو کمبل میں یہ لوگ لپیٹ کر کسی مکان یا کسی ویرانے میں پھینک دیتے تھے
04:04اور سمجھتے تھے کہ ان کا انتقال ہو گیا
04:07مگر پھر جب ان کو ہوش آ جاتا
04:09تو دوبارہ اپنی قوم کو راہ حق کی طرف بلانے میں مصروف ہو جاتے
04:14حضرت نوہ علیہ السلام کی تبلیغی جدوجہد ساڑھے نو سو سال تک جاری رہی
04:20رات کی تنائیوں میں وہ آنسوں بہاتے
04:23اور آنسوں کے سمندر کے دوران اپنے رب کریم سے قوم کے لیے دعائیں کرتے
04:29کہ اے میرے پروردگار میری قوم نادان ہے نا سمجھ ہے
04:34اسے معاف کر دے
04:35نیز اس دوران اپنی قوم کو ہر ممکن طریقے سے سمجھاتے رہے
04:40کبھی عذاب الہی سے ڈراتے رہے
04:43تو کبھی دوزخ کی سختیوں اور جنت کی نعمتوں کا ذکر فرماتے
04:48لیکن قوم ان کا تمسخر اڑاتی
04:51فبتیاں کستیں گویا وہ کانوں سے بہرے اور آنکھوں سے اندھے ہو چکے تھے
04:56اس طویل جدوجہد کے نتیجے میں صرف اسی لوگ ایمان لائے
05:01حضرت سیدنا نوح علیہ السلام اپنی قوم کی بدحالی پر بہت غمزدہ رہنے لگے
05:07لیکن امید کا دامن انہوں نے کبھی نہیں چھوڑا
05:10مگر کب تک آخر کار طویل اور سخت ترین کاوشوں کے بعد
05:15وہ لمحہ بھی آ گیا
05:17کہ جب آپ علیہ السلام قوم سے بالکل مایوس ہو کر
05:21اپنے رب کریم کے سامنے
05:23اپنی معروضات پیش کرنے پر مجبور ہو گئے
05:27اللہ تعالیٰ کا قرآن پاک میں ارشاد ہے
05:29نوح علیہ السلام نے اللہ سے عرض کی
05:33اے میرے پروردکار
05:34میں اپنی قوم کو دن رات بلاتا رہا
05:37لیکن وہ میرے بلانے سے اور زیادہ بھاگتے رہے
05:41میں نے جب کبھی انہیں تیری بخشش کی طرف بلایا
05:44تو یہ اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیتے
05:47اپنے چہروں کو کپڑوں سے چھپا لیتے
05:50اور زد تکبر اور غرور کرتے
05:53میں نے ان کو عیلانیاں خفیہ غرض ہر طرح سے سمجھایا
05:57اور کہا کہ اپنے پروردکار سے معافی مانگو
06:00کہ وہ بڑا معاف کرنے والا ہے
06:03وہ تم پر آسمان سے پانی برسائے گا
06:05تمہارے مال و اولاد میں ترقی دے گا
06:08اور تمہیں باغ عطا کرے گا
06:10اور تمہارے لیے نہریں بہا دے گا
06:12آخر تم کو کیا ہوا ہے
06:14کہ تم اللہ کی عظمت کا اعتقاد نہیں رکھتے
06:17حالانکہ اس نے تم کو کئی طرح سے بنایا ہے
06:21کیا دیکھتے نہیں ہو
06:22کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان اور اوپر تلے بنائے ہیں
06:27اور ان میں چاند کو خوب جگ مگاتا ہوا
06:30اور سورج کو چراغ بنایا
06:32اور اللہ ہی نے تم کو زمین سے پیدا کیا ہے
06:35پھر وہ تمہیں اس زمین میں واپس لے جائے گا
06:39اور اسے یکا یک تم کو نکال کھڑا کر دے گا
06:43اور اللہ نے زمین کو تمہارے لیے فرش کی طرح بچھا دیا
06:46تاکہ تم اس کے اندر کھلے راستوں میں چلو
06:50نوح علیہ السلام نے کہا
06:52میرے رب انہوں نے میری بات رد کر دی
06:55اور ان رئیسوں کی پیروی کی
06:57جو مال اور اولاد پا کر اور زیادہ نامراد ہو گئے
07:01ان لوگوں نے بڑا بھاری مکر کا جال پھیلا رکھا ہے
07:05انہوں نے کہا
07:06کہ اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا
07:09اور ود اور سعا اور یغوز اور یعوق
07:12اور نصر کو کبھی ترق نہ کرنا
07:15انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کیا ہے
07:17اور تو بھی ان ظالموں کو گمراہی کے سوا
07:21کسی چیز میں ترقی نہ دے
07:23آخر وہ اپنے گناہوں کے سبب بہلے غرق کر دیے گئے
07:26پھر آگ میں ڈال دیے گئے
07:28تو انہوں نے اللہ کے سوا
07:30کسی کو اپنا مددگار نہ پایا
07:32اور نوح علیہ السلام نے دعا کی
07:34اے میرے پروردکار
07:36کسی کافر کو روح زمین پر بسنے والا نہ چھوڑ
07:40اگر تو نے ان کو چھوڑ دیا
07:42تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے
07:45اور ان کی نسل سے جو بھی پیدا ہوگا
07:48وہ بھی بدکار اور سخت کافر ہی ہوگا
07:51اے میرے پروردکار
07:52مجھ کو میرے والدین کو
07:55اور ہر اس شخص کو
07:57جو میرے گھر میں مومن کی حیثیت سے داخل ہوا ہے
08:00اور سب مومن مردوں اور عورتوں کو معاف کر دے
08:04اور ظالموں کے لیے
08:05اور زیادہ تباہی بڑھا
08:07حضرت نوح علیہ السلام کی گزارشات
08:10بارگاہ خداوندی میں قبول فرما لی گئیں
08:13اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی نازل فرمائی
08:16قرآن کریم میں ارشاد ہوا
08:17اور نوح علیہ السلام کی طرف وحی کی گئی
08:20کہ تمہاری قوم میں جو لوگ ایمان لا چکے ہیں
08:23ان کے سواب اور کوئی ایمان نہیں لائے گا
08:26تو جو کام یہ کر رہے ہیں
08:28ان کی وجہ سے غم نہ کھاؤ
08:30اور ایک کشتی ہمارے حکم سے
08:32ہمارے روبرو بناو
08:34اور ان کافروں سے متعلق
08:36اب کوئی گفتگو ہم سے نہ کرنا
08:38کیونکہ یہ سب لازمی طور پر غرق کر دیے جائیں گے
08:42ابن کثیر رحمت اللہ علیہ نے لکھا ہے
08:45کہ بعض بزرگوں کے مطابق
08:47اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو
08:49یہ حکم بھی فرمایا
08:51کہ فلان درخت ہوگاؤ
08:52جس سے کشتی بنائی جائے گی
08:55تو حضرت نوح علیہ السلام نے وہ درخت ہوگایا
08:58اور ایک سو سال تک اس کا انتظار کیا
09:00پھر اس کو کاٹ کر چھیلا ہموار کیا
09:03اس میں بھی ایک قول کے مطابق
09:06ایک سو سال
09:07اور دوسرے قول کے مطابق
09:09چالیس سال کا عرصہ لگ گیا
09:12واللہ عالم
09:13محمد بن اسحاق رحمت اللہ علیہ
09:16حضرت سوری رحمت اللہ علیہ سے نقل کرتے ہیں
09:19کہ وہ لکڑی ساگوان کی تھی
09:21اور دوسرے قول کے مطابق
09:23وہ سنوبر کے درخت کی تھی
09:25حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے
09:29کہ اس کشتی کی لمبائی بارہ سو گز
09:31اور چوڑائی چھ سو گز تھی
09:34ایک اور قول کے مطابق
09:36لمبائی دو ہزار گز
09:38اور چوڑائی ایک سو گز تھی
09:40حضرت سوری رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں
09:43کہ حضرت نوح علیہ السلام کو
09:45کشتی کے اندرونی اور بیرونی حصوں میں
09:48تارکول یعنی ڈانبر
09:50اچھی طرح سے ملنے کا حکم ملا تھا
09:53اور ہدایت کی گئی تھی
09:54کہ کشتی کے سامنے کا حصہ بلند
09:57اور اٹھا ہوا ہو
09:58تاکہ وہ پانی کو چیر سکے
10:00اس کشتی کی اونچائی تیس گز تھی
10:03اور اس میں تین منزلیں تھیں
10:05کشتی کے اوپر ایک ڈھکن تھا
10:07جس سے وہ بند کر دی جاتی تھی
10:10بحوالہ قصص الانبیاء ابن کثیر
10:13گویا آج کے زمانے کے مطابق
10:15وہ عظیم عابدوز تھی
10:17حضرت نوح علیہ السلام
10:18کشتی بنانے میں مصروف تھے
10:20قوم کے سردار آپ علیہ السلام
10:23کے پاس سے گزرتے
10:24تو ہنسی مزاق اڑاتے
10:26پھبتیاں کستے
10:27یہاں تک کہ کشتی تیار ہو گئی
10:30اور جب عذاب الہی کا وقت آیا
10:32تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا
10:34کہ ہر قسم کے جانور کا ایک ایک جوڑا
10:37اس میں رکھ لو
10:38اور جو لوگ ایمان لائے ہیں
10:40انہیں بھی سوار کر لو
10:41حضرت نوح علیہ السلام نے
10:43حکام خداوندی کے مطابق
10:45سب کو سوار کر لیا
10:46اور عبادت الہی میں مصروف ہو گئے
10:49آخر کار طوفان کے آثار ظاہر ہونے لگے
10:52اور دیکھتے ہی دیکھتے
10:53زمین کی ہر گوشے سے پانی ابلنے لگا
10:56آسمان سے قیامت خیز بارش ہر
10:59شئے کو بہا کر لے جانے کے در پہ تھی
11:01گویا قیامت کا منظر تھا
11:03کشتی طوفان کی پہاڑ جیسی اونچی لہروں پر تیر رہی تھی
11:08حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کا نعان کو دیکھا
11:11جو ایک اونچے مقام پر موجود تھا
11:14انہوں نے کہا
11:15اے بیٹے ہمارے ساتھ کشتی میں سوار ہو جا
11:18اور کافروں کے ساتھ نہ رہے
11:20اس نے کہا
11:21اببا میری فکر نہ کرو
11:23میں ابھی اس سب سے اونچے پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا
11:27اور پانی سے بچ جاؤں گا
11:28نوح علیہ السلام نے کہا
11:30آج قہرِ الٰہی سے کوئی نہیں بچ سکتا
11:33اسی اثناء میں
11:34ان دونوں کے درمیان پانی کی ایک بڑی لہر حائل ہو گئی
11:38اور وہ غرق ہو گیا
11:40حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے رب سے
11:42اپنے بیٹے کی مغفرت اور نجات کے لیے عرض کی
11:46اے میرے پروردگار
11:47تو نے میرے گھر والوں کی بخشش کا وعدہ
Be the first to comment
Add your comment

Recommended