Skip to playerSkip to main content
Roshni Sab Kay Liye

Watch All The Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xic1NLGY05O7GY70CDrW_HCC

Topic: Seerat un Nabi SAWW

Host: Safdar Ali Mohsin

Guest: Dr Zia Ullah Shah, Prof. Taimoor Farroqi

#RoshniSabKayLiye #islamicinformation #ARYQtv

A Live Program Carrying the Tag Line of Ary Qtv as Its Title and Covering a Vast Range of Topics Related to Islam with Support of Quran and Sunnah, The Core Purpose of Program Is to Gather Our Mainstream and Renowned Ulemas, Mufties and Scholars Under One Title, On One Time Slot, Making It Simple and Convenient for Our Viewers to Get Interacted with Ary Qtv Through This Platform.

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00. . . . . .
00:30. . . . .
01:00. . . . . .
01:29. . . . .
01:59isnta ko shukranah saari umr bih ida ker ein
02:01To wo poor nahi ho sakta
02:04Sohudra rahmat ala alam sallalhi sallam ki sirit
02:06Yani siritu nabhi
02:07Hemhar aoyha ka maozoo sakhon hai
02:09Siritu ko shirili anodaz me ekaire Shop
02:13Kata huwa
02:13Meman oge khyr magdam ki dharuna whita ho
02:15Kisra ke darubam guahaun mein schamil
02:18Kisra ke darubam guahaun mein schamil
02:22Kapir bi nahi
02:24Munkir e ausafi hamida
02:25Kisra ke darubam guahaun mein schamil
02:29کافر بھی نہیں منکرِ اوصافِ حمیدہ
02:32اس نام پہ تحمت ہیں درندوں کی دکانیں
02:35اس نام پہ تحمت ہیں درندوں کی دکانیں
02:38ظالم کو بھی آقا نے محبت سے خریدا
02:40ظالم کو بھی آقا نے محبت سے خریدا
02:44آئیے اسی کریم آقا کے سیرت کے ذکر کے لیے
02:46مہمانوں کے خیر مقدم کی طرف اولاً بڑھتے ہیں
02:49آج کی نشست میں ہمیں ایک دفعہ پھر شرفیاب کیا ہے
02:52ہمارے مقدوم و محترم
02:54جس نشست میں بھی آپ تشریف فرما ہوتے ہیں
02:56اللہ کے فضل سے وہ نشست بابرکت ہو جاتی ہے
02:59بامانی ہو جاتی ہے
03:00بامقصد ہو جاتی ہے
03:02تعمیری ہو جاتی ہے
03:03اور قیمتی ترین پیغامات
03:04آپ کی ذات سے پوری دنیا تک
03:06اے آر وائکو ٹی وی کی ذریعے نشر ہوتے ہیں
03:08میری مراد ہے جنابِ ڈاکٹر سید زیا اللہ شاہ بخاری صاحب سے
03:11سلام علیکم
03:12شاہدی نہائیت شکریہ آپ کا تشریف لائے
03:18اور ربیو نور کی آخری آخری گھڑیاں ہیں
03:20میں آپ کا خیر مقدم کرتا ہوں اسٹوڈیو میں
03:22دوسری شخصیت آپ کا تعلق شعبہ تعلیم و تدریس سے ہے
03:26ہیڈ آف اسلامی ڈپارٹمنٹ ہیں
03:27پجاب گروپ آف کالیجز کے
03:29اور میمبر ہیں انٹر فیت ہارمنی
03:32لاہور چیمبر آف کامرس اور انڈسٹری کے
03:34ہمارے انتہائی محترم
03:35نوجوان سکالر ہیں
03:37بہت خوبصورت اور وزادار گفتگو کرتے ہیں
03:40جنابِ پروفیسر تیمور فاروقی
03:43السلام علیکم
03:44فاروقی صاحب آپ کا بھی خیر مقدم
03:46خوش آمد دے
03:47آئیے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم
03:50کے عنوان پر گفتگو کا آغاز کرتے ہیں
03:51شاہ صاحب قبلہ
03:53حضور علیہ السلام کی سیرت کے جو نمائن
03:56ترین پہلو پوری دنیا نے دیکھے
03:58اور روشنی حاصل کی
03:59یا جن سے روشنی حاصل کرنی چاہیے
04:01اس کا آپ اظہار فرمائیے
04:03بسم اللہ الرحمن الرحیم
04:06بھائی صفدر علی محسن صاحب
04:08اللہ کو سلامت رکھے
04:10اور آپ کے دارہ ای آروی کیو ٹی وی
04:12کو اللہ عجل عظیم عطا فرمائے
04:14کہ ماہ ربیو الاول کی
04:16بابرکت جو سعاتیں تھیں
04:18لمحات تھیں گڑیاں تھیں شب و روز تھیں
04:21ان کو آپ نے اپنی
04:22نشریات کے ذریعے سچی بات ہے
04:24بڑی حد تک اپنی
04:26بسات کے مطابق خوشبودار کیے رکھا
04:28اللہ کو عجل عظیم عطا فرمائے
04:30یقینا نہیں سعادت بزور
04:32بازویں
04:33یہ تو اللہ کی حطا کردہ
04:34تو اللہ کو اس پہ جزائے خیر عطا فرمائے
04:39یقینا آج جو ہمارا عنوان ہے
04:41اور اس تناظر میں آپ نے
04:43بڑی انٹرو میں میں سمجھتا ہوں
04:44روح پرور گفتو فرمائی
04:47نبی پاہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ
04:49اور اس تناظر میں بھی آپ نے جو سوال کیا
04:51کہ آپ کی سیرت مبارکہ کون سے پہلو
04:53میں سمجھتا ہم ہاں تو
04:55ہر پہلو اتنا جذاب اور پرکشش
04:57اور خوشبودار ہے
04:58کہ شکارِ ماہ کے تسخیرِ آفتاب کروں
05:01میں کس کو ترک کروں
05:02کس کو انتغاب کروں
05:03تو ہر پہلو ہمیں اپنی طرف کھینچتا ہے
05:06تو یقینا ہماری ایک طالب علموں کی حسیت سے
05:09جو ایک بات ہوتی ہے
05:10تو اس حوالے سے عرض یہ ہے
05:11کہ حضرتِ ام المومنی
05:13سیدہ عیشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی نے
05:15جو فرمایا تھا
05:16صحیح مسلم میں مروی ہے
05:17اور مسلم امام احمد کے اندر بھی
05:19یہ روایت موجود ہے
05:20تو صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہے
05:28پورا قرآن نبی پاک کے جو اخلاقِ عالیہ ہیں
05:31انہیں بیان کرتا ہے
05:32جو آپ کا خلق کا پہلو ہے
05:33جس کے بارے میں اللہ نے قسم اٹھا کر فرمایا
05:36نون والقلم وما یسترون
05:38اور آگے فرما
05:40وَإِنَّكَ الْعَالَى خُلُكِ نَعْدِيمِ
05:42تو نبی پاک کا اخلاقِ عالیہ ہے
05:44خلقِ عظیم
05:45اللہ میں اکبال میں اس لئے فرماتے ہیں
05:47نگائش کو مستی میں
05:48وہی اول وہی آخر
05:50وہی قرآن وہی فرقان
05:52تو جو آپ کا اخلاقِ عالیہ ہے
05:55فرمایا کہ میری جو بنیادی بیست کے مقاصد ہیں
06:00ان میں ایک کیا ہے
06:02لِأُطَمِ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ
06:04وہ جو اخلاق والے پہلو ہیں
06:06جس سے ابھی آپ بیان کر رہے تھے
06:08وَمَا رَسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ
06:11کہ آپ نے سارا جو جہاں تھا
06:13اس کو اپنے وہ رحمت والے
06:15اور اخلاق والے پہلو سے
06:16اللہ کے رسول صلی اللہ نے
06:18سب کو مولیا فَبِ مَا رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ
06:21وَلَوْكُمْ تَفَزْزًا غَلِيظًا الْقَلْبِ لَنْفَضُّ مِنْ حَوْلِقِ
06:25امام عبداللہ ببارک رحمت اللہ علیہ
06:26وہ فرماتے ہیں
06:27کہ چار اوصاف کا نام
06:29اخلاقِ عالیہ ہوتا ہے
06:31ان میں سب سے پہلے
06:32طلاقت الوجھ
06:33کہ اخلاق والے کا جو چہرہ ہوتا ہے
06:36وہ مسکرامی والا
06:36تبسم والا ہوتا ہے
06:38تو نبی پاہ سے بڑھ کر
06:39ایسا چہرہ کس کے پاس تھا
06:41اور دوسرا فرماتے ہیں
06:43عرف کو فیل کلام
06:44اس کی زبان میٹھی ہوتی ہے
06:46شیری زبان ہوتا ہے
06:48اس کی گفتگو حلاوت سے بری ہوتی
06:50تو اس حوالے سے
06:51نبی پاہ سلیم سے بڑھ کر
06:53حلاوت والی زبان
06:54کس کے پاس ہی
06:55نگہ بلاند سخن دن نواز
06:57جہاں پر سوز
06:59یہی رکھتے ہیں
07:00سفر میرے کاروان کے لیے
07:01میرے آقا کی زبان
07:02مٹھا سے بری رہی تھی
07:03اور تیسرا ہے
07:04بزر الخیر
07:05اس انسان کے اندر
07:07جو خیر ہوتی
07:08اللہ کی طرف سے عطا کرتا
07:09وہ سے اللہ کی مخلوق پر
07:11نچھاور کر دیتا ہے
07:12قربان کر دیتا ہے
07:13صرف کر دیتا ہے
07:14خرش کر دیتا ہے
07:15لکھا دیتا ہے
07:16تو نبی پاہ سلیم کے اندر
07:17تو خیر ہی خیر تھی
07:18وہاں تو
07:19ہر پہلو
07:21ہر آپ کا جو انداز ہے
07:22آپ کی ہر ادا
07:24آپ کا ہر اسلوپ
07:25وہ خیر سے بھرا ہوا ہے
07:27وہاں خیر ہی خیر تھی
07:28خیر کے سوا
07:29وہاں کچھ بھی نہ تھا
07:30تو آپ نے
07:31ہر طرح کی جو خیر تھی
07:32اللہ کی مخلوق پر لٹا دی
07:34آپ سیت مبارکہ کا
07:35مطالعہ کر کے دیکھیں
07:36وہاں آپ کو یہی نظر آ رہا ہے
07:38اور چوتھا ہوتا ہے
07:40کہ وہ ہے تحمل
07:41دوسرا اضاف پہنچائے
07:42تکلیف پہنچائے
07:43تو آپ نے جواہ میں
07:45ایٹ کا جواب
07:45پتھر سے تو کجاہ
07:46ایٹ سے کیا
07:47فرمایا کہ
07:48ایٹ کا جواب
07:50اور پتھر کا جواب
07:51بھی آپ نے دعاوں سے دیا
07:52کیا کہنا
07:53حضرت جبریل امین نے
07:54طیف کے میدان میں
07:55کہا تھا
07:55یہ حضر ملک الجبال
07:57یہ پہاڑوں کا فرشتہ
07:58میرے ساتھ ہے
07:59پتھروں کے جواب
08:00اکشہ بیان نام کے
08:01پہاڑ اٹھا کے پھینک دیتا ہے
08:03تو آپ فرمایا تھا
08:04میں
08:05اس طرح کا بن کے نہیں آیا
08:07انما بوشت رحمتا
08:09میں تو رحمت بن کر آیا ہوں
08:11اور آپ نے وہیں پہ یہ دعا مانگی تھی
08:13لا بل ارجو اللہ
08:14تو یہ نبی پاک ہے جو پہلو ہے
08:29یہ بہت ہی میں سمجھتا ہوں
08:30بہت ہی پرکشش
08:31بہت ہی خوشبودار
08:33ہمارے لئے یہ آلہ نمونہ ہے
08:34آپ نے اس کو سمرائز کر کے
08:36ہم سارے طالب علموں کے لئے
08:38اور آسان کر دیا
08:39شاہ صاحب قبلہ
08:42جو کچھ حدیث پاک کی روشنی میں
08:44بیان کر رہے تھے
08:45جنابِ آزم چشتی کا ایک شیر شاہ جی
08:48موضوع کو آگے بڑھانے کے لئے
08:50بڑا معاون ہے
08:51آپ کا شیریز اوک
08:52اچھے شیروں کا بہت اچھا ہے
08:53پروفیس صاحب آپ کی بھی توجہ
08:55جو آزم صاحب ایک جگہ
08:56پنجابی کی ایک ناتیا غزل میں لکھتے ہیں
08:59کہ کچھ سمجھ نہ آوے لوکا نو
09:01او کادے نال شہید کرے
09:03کچھ سمجھ نہ آوے لوکا نو
09:05او کادے نال شہید کرے
09:07ڈٹھی یار دے ہتھ تلوار بھی نہیں
09:09کوئی خالی جاندہ وار بھی نہیں
09:12اللہ اکبر
09:14یہ اخلاقِ آلیہ کی تلوار ہے
09:16اللہ اکبر
09:18اللہ کریم ہمیں بھی عمل کیلتوفیق دے
09:20پروفیسر دمور فاروقی صاحب کی بلا
09:21آپ کی طرف بڑھتے ہیں
09:23پرسنیلٹی ڈیویلمنٹ کے حوالے سے
09:26مجھے آپ سے ارز کرنا ہے
09:27کہ جب بھی تعمیر شخصیت کے حوالے سے
09:28ہمیں دیکھتے ہیں
09:29تو سیرتِ طیبہ ہمارے لئے
09:31یہ سب سے بہترین رول موڈل ہے
09:32اسی سے ہمیں فائدہ بھلائی
09:35اور ساری نعمتیں وہاں سے مل سکتی ہیں
09:36ہم اسے اپنے لئے رول موڈل کیسے بنا سکتے ہیں
09:39اگر کسی کو
09:40اپنی پرسنیلٹی کو اسی طریق سے
09:42ڈیویلمنٹ کرنا ہے
09:43جس طرح ایک بندہ مومن کی شخصیت ہونی چاہیے
09:45اعوذ باللہ ہمین الشیطان الرجیم
09:48بسم اللہ الرحمن الرحیم
09:49سفدر صاحب بڑا ایک
09:52امپورٹنٹ اور اہمیت
09:53رکھنے والا یہ سوال ہے
09:55کہ جس میں ہم نے
09:57کریکٹر بیلڈنگ بھی ہے
09:59اور پرسنیلٹی کی گرومنگ بھی ہے
10:01دراصل جو تعمیر شخصیت ہے
10:04اس کا معنی کیا ہوتا ہے
10:05تعمیر کا مطلب ہوتا ہے
10:06کسی جیس کو سوارنا
10:07درست کرنا
10:09اس کو اس کی جگہ پر رکھ دینا
10:11اور شخصیت کا تعلق حضرتِ انسان سے ہے
10:14انسان کی آدات و اتوار
10:17اس کے اخلاق
10:18اس کا کردار
10:19اور اس کی زندگی
10:21اس کے ظاہر اور باطن کی کیفیت کو
10:24ہم شخصیت کے نام سے لیتے ہیں
10:26یہ تعمیر شخصیت وہ روشن چراغ ہے
10:29کہ جو انسان کو
10:30ہیوانی حصلتوں سے نکال کر
10:33ایک کمال انسانیت کے رفتوں تک لے جاتا ہے
10:37اور یہ
10:38ایک انسان کی زندگی کے لیے
10:40اتنا ضروری ہے
10:41کہ
10:42ہر انسان اس دنیا کے اندر
10:44اگر آپ دیکھیں
10:45کہ سینکڑوں ہزاروں مذاہب ہیں اس دنیا میں
10:47اور ہر مذہب کچھانے والا شخص
10:50جو ہے ماننے والا شخص وہ چاہتا ہے
10:52کہ اس کی ایک بات ایسی ہو
10:55اس کی شخصیت ایسی ہو
10:56کہ دوسرے لوگ اس سے متاثر ہوں
10:57اس کی بات کریں
10:59اس کا تذکرہ کریں
11:00اس کی تعریف کریں
11:00اس کے کال اور فیل کو فالو کریں
11:03لیکن اگر ہم یہ نقوش
11:05تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں
11:06تو میں سمجھتا ہوں کہ
11:08اسلام وہ دین مبین ہے
11:10اور رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت
11:12وہ کامل شخصیت ہے
11:13کہ جس میں ہمیں یہ رہنمائی ملتی ہے
11:15اب اس حوالے سے
11:16اگر تاریخ کے جھروکوں میں
11:18اگر ہم دیکھیں
11:18تو آپ کے سامنے عرب کی تاریخ ہے
11:21کہ عرب کی وہ لوگ جو
11:23نخوتوں نفرتوں
11:24اور عداوتوں میں مبتلا تھے
11:26اور دنیا کی اس وقت کی محذب قومیں
11:29ان کو جوہلا میں شمار کرتی تھی
11:30کہ یہاں کے اکثر لوگ جوہلا ہیں
11:32ان کو تہذیب نہیں آتی
11:34ان کو سیولائزیشن سے یہ لوگ
11:35عراستہ نہیں ہیں
11:36تو کیسا وہ ان پر اللہ کا کرم ہوا
11:39کہ اللہ تعالیٰ نے فاران کی چوٹیوں سے
11:41وہ سراج منیر بھیج دیا
11:43کہ جس کے نورانیت سے زمانہ جگمگا ہوتا
11:45رسالت مام صلی اللہ علیہ وسلم
11:47نے جب وہاں پر تشریف آوری ہوئی
11:49تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم
11:50نے ان کی کریکٹر بلڈنگ کی
11:52ان کی پرسنیلٹی کو گروم کیا
11:54اور وہی لوگ جو ڈاکو تھے
11:57جو رہزنی کرتے تھے
11:59جو قتل و غارت میں مبتلا تھے
12:00جو غیبت بہتان
12:02اور ترہ ترہ کی جو سوسائیٹی میں
12:04ایشوز تھے
12:05ان میں مبتلا تھے
12:06حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سکھایا
12:08ان کو بتایا
12:08کہ لوگو تم عدافتوں سے دور ہو جاؤ
12:11تم نفرتوں سے اپنے آپ کو ختم کرو
12:13تم ان چیزوں کو ختم کرو
12:15جو سوسائیٹی کے اندر تمہاری بربادی کا سبب بنتی ہیں
12:18اور پھر دیکھتے دیکھتے
12:19رسالت مام صلی اللہ علیہ وسلم نے
12:20ایک ایسی سوسائیٹی
12:22ایک ایسا معاشرہ اسٹیبلش کیا
12:24کہ وہ لوگ جن کو کوئی جانتا نہ تھا
12:26وہ لوگ جو اس عرب کے معاشرے کے اندر
12:28غلامی کی زندگی بسر کر رہے تھے
12:30حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے
12:31ان کو صحابیت کا درجہ عطا فرما دیا
12:33اور ان کی ان عداوں کو
12:35نہ صرف زمانے نے دیکھا
12:36بلکہ اللہ کے اس انقلابی صحیفے نے
12:40ان کو رضی اللہ عنہم وردوانم
12:42کہہ کے مخاطب کیا
12:43تو یہ رسالت مام صلی اللہ علیہ وسلم کا در ہے
12:45کہ جب انسان یہاں پر آتا ہے
12:47تو انسان کی کریکٹر بلڈنگ بھی ہوتی ہے
12:48اس کی شخصیت کے اندر بھی نکھار آتا ہے
12:50سبحان اللہ سبحان اللہ
12:52بہت خوبصورت انداز میں گفتگو کا آغاز فرمایا
12:55جنابی ڈاکٹر زیاؤلہ شاہ بخاری صاحب نے
12:57اور بہت آسن پیراہ میں باتشید آگے بڑھائی
12:59جنابی پروفیسر تیمور فاروقی صاحب نے
13:01یہاں وقت ہے
13:02ایک وقت سر سے وقفے کا واپس آتے ہیں
13:04تو حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک
13:17علیہ وسلم ہمارا آج کا عنوان ہے
13:19شاہ صاحب قبلہ کی طرف بڑھیں گے
13:21شاہ جی قبلہ
13:22انسان دوستی اور احترام آدمیت کی
13:25جو سب سے بڑی مثال ہمیں ملتی ہے
13:28وہ تاجدار خطب نبوت
13:29صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک حیات سے ہی ملتی ہے
13:33اس کے کچھ اشاریے
13:35اس کی کچھ کرنے ہمیں عطا فرمائی
13:37یقینہ آپ کی تعلیماتیں مبارکہ پر بھی آپ دیکھیں
13:39پھر آپ کا اس کے مطابق عصوہ حسنہ ہے
13:42وہ ہمارے لئے مشہل راہ ہے
13:44آپ نے یہ ہمیں تعلیم ارشاد فرمائی
13:47کہ لا فضل لعربی
13:49علی عجمی
13:50ولا لعجمین علی عربی
13:51اللہ اکبر
13:53ولا لأسود لأحمر
13:54ولا لأحمر لأسود
13:55اللہ بتقویٰ کلکم من آدم و آدم من طراب
13:58اللہ
13:59کوئی فضیلت نہیں ہے
14:00کہ کالا ہے گورا ہے
14:01اور یہ عربی اور یہ عجمی ہے
14:04یہ اللہ کیاں
14:05اور ہم میری شریعت و دین میں ایسی چیزیں نہیں ہیں
14:07یہاں سب یقصہ ہیں
14:08سب برابر ہیں
14:09سب کا احترام بحیثیت انسان
14:12بحیثیت بنی آدم
14:13وَلَقَدْ قَرَّمْنَا بَنِي آدم
14:15وَحَمَلَّاوْ فِي الْبَرِّ وَالْبَخْرِ
14:18ہم نے پورے بنی آدم کو تقریم عطا کیے
14:21عزت والا بنا کر بیجا ہوا
14:22یا ایوہ الناس
14:24اِنَّا اَخْلَقْنَاكُمْ مِنْ زَكَرِيمُ وَأُنْسَا
14:27تم سب کا باپ
14:28تم سب کی اممہ جان تو ایک ہے
14:30وَجَعَلْنَاكُمْ شَعُوبًا وَقَبَائِلِ تَعَارَفُ
14:33یہ قبیلے
14:34یہ برادریاں
14:35یہ خاندان
14:36تو اسے تعرف کری ہیں
14:37اللہ اکبر
14:37اِنَّا اَقْرَمَكُمْ مِنْدَ اللَّهِ اَتْقَاكُمْ
14:40اللہ کے ہاں میار
14:41اگر ہے نا بڑے چوٹے کا
14:42تو وہ صرف صرف تقویٰ ہے
14:44اللہ کی غلامی
14:45یا نبی پاہ صلی اللہ کی غلامی ہے
14:46بس یہ میار
14:47اس کے علاوہ کوئی اور میار نہیں
14:49تو یہ ہمیں اصل میں
14:50انسانوں کے اندر
14:51جو ہم نے خود تفریق پیدا کی ہے
14:53انسانوں کی
14:54وہ نبی پاہ صلی اللہ
14:55بلکہ بنیادی طور پر ختم کر دی
14:57اور ہمیں
14:57ہر انسان کا احترام کرنے کا
14:59صرف یہ نہیں
15:00کہ ہر مسلمان کا
15:01ہم نے احترام کرنا ہے
15:02وہ تو ہے یہ ہے
15:03کہ ہم نے اکرام مسلم
15:04یہ بنیادی تعلیم میں شامل ہے
15:06اس کے ساتھ ساتھ
15:08احترام آدمیت
15:09احترام انسانیت
15:10یہ بھی ہمیں ایسا سکھایا
15:12کہ خود آپ تشریف فرمائے
15:13ایک جنادہ گزرا
15:14آپ اس جنادے کے احترام میں
15:17کھڑے ہوگئے
15:17اللہ اکبر
15:18احترام آدمیت کی
15:19اس سے بڑھ کر
15:20وہ کیا مثال ہے
15:21صحابہ نے عرض کی
15:22اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم
15:24یہ تو یہودی تھا
15:26یہ یہودی کے جنادہ ہے
15:27یہ جمعید ایک یہودی کی ہے
15:29تو میرے آقا علیہ السلام
15:30نے کیا فرمایا
15:31بھائی صفی اللہ علیہ وسلم
15:33صاحب فرماتے ہیں
15:34علیست نفسن
15:35ہائے
15:35اللہ اکبر
15:36یہودی تو تھا
15:37مگر انسان نہیں تھا
15:38کیا انسان نہیں تھا
15:39اس انسان کا احترام
15:41اللہ کا بندہ نہیں تھا
15:42نبی پاک علیہ السلام
15:43جیسی ہستی
15:44نبیوں کے سردار
15:45کائنات کے امام
15:46وہ کھڑے ہو کر
15:47احترام کر رہے ہیں
15:48ہمیں تعلیم دی جا رہی ہے
15:49قیامت تک کے لیے
15:51آپ
15:51اطلاع ملتی ہے
15:53کہ فلان جو یہودی سردار ہے
15:55اس کا بیٹا بیمار ہے
15:57آپ
15:58اس محلے میں تشریف لے کر گئے
15:59اس کے دروازے پہ
16:00دستک دی گئی
16:01وہ یہودی سردار
16:02بہر آیا
16:03تو حیران ہوا
16:03آقا کو دیکھ کر
16:05رحمت العالمی صلی اللہ علیہ وسلم
16:06کو دیکھ کر
16:06آہ میرے دروازے پہ
16:08فرمایا مجھے
16:08اطلاع ملتی ہے
16:09بیٹا بیمار ہے
16:10وہ طویل واقعہ ہے
16:11تو اس نے کہا
16:12جی میرا بیٹا بیمار
16:13فرمایا
16:14میں اس کی تیمارداری کرنے آہوں
16:16یہ احترام آدمی
16:16یہ ہمیں سکھایا جا رہا ہے
16:18نبی کریم علیہ السلام
16:19نے
16:20ہمیں اس کے علاوہ
16:21یہ بھی سکھایا
16:22کہ
16:23جو گناہگار ہوتا ہے
16:24وہ بھی انسان ہی ہوتا ہے
16:25گناہگاروں سے احترام
16:27اور جو خطاکار ہوتے ہیں
16:29ان سے نفرت نہیں کی جاتی
16:30گناہ سے نفرت کی جاتی ہے
16:31اس غلطی سے نفرت کی جاتی ہے
16:33وہ بڑی معروف حدیث ہے
16:34نعیب پاسل اللہ
16:35مشتنوی کے اندر تشریف فرمایا
16:37کلاس لگی
16:38یہ آپ پڑھا رہے ہیں
16:39تدریس فرما رہے ہیں
16:41وہ آپ نے
16:41فروقی صاحب کے والے سے فرمایا
16:42درس و تدریس سے یہ منسلک ہیں
16:44یہ بہت عظیم شعب ہے
16:45نبی پاسل صلی اللہ علیہ وسلم
16:46کا یوسوہ حسن ہے
16:47یہ نبوی شعب ہے
16:48نبوی شعب ہے
16:49تو آپ تدریس میں مشہور ہیں
16:51تو ایک آپ کی کلاس میں آکر
16:53دہا سے بندہ آکے
16:54اس دن بیٹھا ہوا تھا
16:55تو اس کو پشاب کی حاجت تھی
16:57وہ اٹھا دہا کے محول کے مطابق
16:59جا کر کونے پشاب کرنا شروع کر دی ہے
17:01فَنَحَا
17:02صحابہ اکرام نے اس کو ڈانٹنا چاہا
17:06اس کے اس انداز پر
17:08فَنَحَا هُمُ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم
17:10نبی پاسل صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع کر دیا
17:12ڈانٹنے والا
17:13نا نا نا نا
17:14ایسا نہیں کرنا
17:14نبی پاسل صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کی خطاب پر
17:17اس کا نام لے کر
17:19بری مجلس میں آپ کے اس مخاطب نہیں کیا
17:21نہ ذکر کیا
17:22آپ فرمایا کہیں
17:23مَا بَالُوَ وَقْوَامِ
17:24اللہ میری توبہ
17:25بھئی لوگوں کو کیا ہو گیا ہے
17:28یہ کیوں ایسی غلطی کرتے ہیں
17:29آپ اس طرح ذکر فرماتے ہیں
17:31اس کو خود بخود ہی اندازہ ہو جاتا ہے
17:33کہ میرے اندر یہ غلطی ہے
17:34تو نبی کریم علیہ وسلم نے ہمیں ہر لحاظ سے
17:38ہر لحاظ سے انسانوں کا عدب سکھایا
17:41احترام سکھایا
17:42مَا بَاپ ان سے بڑھ کر کون ہے
17:44آپ نے جو ان کا عدب سکھایا
17:45اور خود نمونہ بن کر دکھایا
17:47حضرت حلیمہ سادیہ رضی اللہ عنہ
17:50آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی نا
17:53تو نبی پہ نے دیکھا
17:54جلدی سے اٹھ کر کھڑے ہوئے
17:55نبوت کے کندوں سے
17:57چادر اتار کر نیچے بچھا دی
17:58ایک انساری صحابی نے
18:00جو نہیں جانتا تھے اس علاقے کو
18:02اس نے ایک مہاجر صحابی سے ارز کیا
18:04کہ یہ خاتون بڑی کون ہے
18:06اتنا نبی پہ نے احترام کیا
18:07فرمایا تم نہیں پہچانتے یہ کون ہے
18:09نہیں جانتے
18:10کہا میں تو نہیں جانتا
18:11کہا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
18:12رضائی امہ جان حلیمہ سادیہ ہیں
18:14نبی پہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس
18:16ایک نوجوان صحابی
18:17ایک بڑے بابا جی کو لے کر آیا
18:18شہری بہت شکریہ
18:19تو آپ نے فرمایا
18:20آپ نے اس کو دیکھا تو فرمایا
18:21یہ بابا جی کون ہے
18:22کہا جی میرے ابا جان ہے
18:23آپ نے جو نصیت فرمایی نہ احترام کی
18:26فرمایا بیٹا ہے انتا کبھی آونا
18:28لا تجلس قبلہو ولا تمشی امامہو
18:31نہ اس کے آگے چلنا ابا جان کے
18:33نہ اسے کبھی پہلے مجلس میں بیٹھنا
18:35تو ہمیں ہر لحاظ انسانیت
18:37بحثیت انسانیت عدب سکھایا گیا
18:39سبحان اللہ
18:40دنیا میں احترام کے قابل ہیں
18:43جتنے لوگ
18:44میں سب کو مانتا ہوں
18:46مگر مصطفیٰ کے بعد
18:47صلی اللہ علیہ وسلم
18:49آگے بڑھتے ہیں گفتگو کا سلسلہ
18:51فاروقی صاحب
18:53یہ سیرت طیبہ کے جو
18:55اوورال بینیفٹس اور اس کے جو
18:57فوائد بھلائیاں پورے معاشرے میں
18:59نظر آتے ہیں یقیناً اس کے کچھ
19:01سپیرچول بینیفٹس بھی ہوں گے
19:03ہمارا ظاہر کے علاوہ اندر کے لیے بھی
19:05ہمیں جہان آباد کرنا ہے اندر والا سسٹم بھی
19:07ٹھیک رکھنا ہے تو جو اس کے روحانی فائدے ہیں
19:09اور جو اس کے
19:11تربیتی فائدے ہیں
19:13وہ کچھ چند گنوائیے تاکہ
19:15ہماری یوت کو بالخصوص اوورال
19:17نوجوان نسل کو اس کا زیادہ فائدہ ہو
19:19رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت
19:25صرف
19:27تاریخ کے روشن باب
19:29تک محدود نہیں ہے
19:30بلکہ قرآن مجید
19:33کے ساتھ ساتھ آب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
19:35کی جو شخصیت ہے وہ ایک
19:37روحانی تربیتگاہ اور ترسگاہ بھی ہے
19:39درست ہے؟ رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم
19:41نے صرف ظاہر
19:43کو ٹھیک نہیں فرمایا بلکہ آقا
19:45علیہ السلام نے انسان کے باطن
19:47کو بھی درست فرمایا
19:48قرآن مجید فرقانی حمید کی جو آیت مقدسہ ہے
19:51لَقَدْ خَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ عَسْوَةٌ حَسَنَا
19:53علماء اس کا
19:55مانا بیان کرتے ہیں
19:56عصفہ کا مانا ہم جو ایک ترمنالوجی میں لیتے ہیں وہ رستے کو لیتے ہیں
19:59لیکن وہ رستہ صرف
20:01باطن کے ساتھ تعلق نہیں رکھتا
20:02وہ انسان کے ظاہر کے ساتھ بھی تعلق رکھتا ہے
20:05اس کی مثال میں ایسے دوں
20:06کہ دنیا کے اندر
20:07ایک بات ہے کہ
20:09آج کل میڈیکل سائنسز اتنی ترقی کر گئی ہے
20:12کہ آج کل دماغ کا علاج بھی ہے
20:14دل کا علاج بھی ہے
20:16ہر طرح کا علاج جو ہے ہو رہا ہے
20:18لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے
20:19کہ ایک دل کی اندر کی کیفیت ہوتی ہے
20:22وہ کیفیت جس کے بارے میں
20:24نبی علیہ السلام نے فرمایا
20:25کہ جب انسان گناہ کرتا ہے
20:27اس کا دل پر سیاہ دھبا لگ جاتا ہے
20:28حتیٰ کہ وہ گناہوں میں لطپت ہوتا ہے
20:30دل اس کا سیاہ پڑ جاتا ہے
20:32تو اس وقت اللہ کا ذکر اس کے دل کو
20:34گناہوں سے نجات دلاتا ہے
20:35تو وہ تربیت کرنے والا کہاں سے ملے گا
20:38کہ جو انسان کی باطن کی کیفیت کو درست کرے
20:41تو وہ ایک ہی دہلیز مقدس ہے
20:44جو کاشاین محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں
20:46ہمیں میسر آتی ہے
20:47کہ رسالت معاف صلی اللہ علیہ وسلم نے
20:48دلوں کی تربیت فرمائی
20:50ظاہر اور باطن کو ٹھیک فرمایا
20:52اب آقا علیہ السلام جس طرح
20:54قبلہ شاہ صاحب فرما رہے تھے
20:56کہ انسانیت کی رسپیکٹ
20:57دیکھیں روحانیت رکھنے والا جو پرسن ہوتا ہے
21:00جو چاہتا ہے کہ اس کی روحانیت ٹھیک ہو
21:03اس کا تعلق باللہ
21:04تعلق بالرسول ٹھیک ہو
21:05تو سب سے پہلے اس کو انسانیت کا احترام کرنا پڑے گا
21:09لوگوں کے دلوں کے نازک آبگینے کو نہیں توڑنا
21:12تو رسالت معاف صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق میں
21:14ایک واقعہ بیان کروں کہ
21:15اکرمہ بھی نبی جہل
21:16کتنا نام ہے تاریخ میں
21:18ابو جہل کا بیٹا
21:20کہ رسالت معاف صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو جہل کے بارے میں فرمایا تھا
21:22کہ یہ وہ شخص ہے جو ملی امت کا فیرون ہے
21:24لیکن جب آپ اسلام قبول کرنا ہے
21:27حضرت اکرمہ
21:27آپ تشریف لاتے ہیں
21:29تو رسالت معاف صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو فرمایا
21:30کہ خبردار
21:31اس کے باپ کے بارے میں کوئی بات نہ کرنا
21:33اس کے سامنے کچھ ایسی بات نہ کرنا
21:35جس سے اس کا دل ٹوٹے
21:36تو یہ چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی
21:39ہمیں یہ سکھاتی ہے
21:40کہ اگر ہم اپنی ایک روح کی تازگی چاہتے ہیں
21:44تو ہمیں سب سے پہلے
21:45اللہ کے ساتھ تعلق قائم کرنا ہوگا
21:47رسول اللہ کی سیرت پر چلنا ہوگا
21:48اور لوگوں کے ساتھ
21:50احترام انسانیت
21:51ہمیں لوگوں کے ساتھ قائم کرنا ہوگا
21:53حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت
21:55قرآن مجید نے کیا ذمہ داری بتائی
21:58کہ نبی علیہ السلام کی ذمہ داری کیا ہے
21:59یہ چار ڈیوٹیز ہیں
22:05تو پتہ یہ چلتا ہے
22:09تو ہمارا حسام نے
22:10تسکیہ نفس کرنے والی جو ذات ملتی ہے
22:12وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس ہے
22:14کہ جب بندہ ان کی دہلیز مقدس پر آتا ہے
22:18تو بندہ ایک چھوٹا بھی ہو
22:20وہ اگر حبشہ سے تعلق رکھنے والا بلال بھی ہو
22:23تو زمانہ اس کو بلال حبشی کے نام سے
22:25مصطفیٰ کے غلام کے نام سے یاد کرنا ہے
22:27حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت
22:29نے ان لوگوں کو تیار کیا
22:31اور پھر یہ ایسے لوگ تیار ہوئے
22:33جن کا ظاہر بھی صاف تھا
22:35جن کا باطن بھی صاف تھا
22:37اور یہ لوگ رول موڈل بنے
22:39ساری انسانیت کے لیے
22:40حضرت ابو بکر سے لے کر
22:42حضرت مولا علی جناب رسول اللہ کے آخری صحابی تک
22:45تمام صحابہ کرام ردوان علیہ تعالیٰ علیہ مجمعین
22:48کہ نبی علیہ السلام نے
22:49بلاخر زمان نبوت سے ان کے بارے میں
22:52یہ ارشاد فرمایا
22:52کہ السحابی کا نجوم
22:54کہ آئیہم اقتدائیتم احتدائیتم
22:57اللہ وہ صحابہ ستاروں کی مانت ہیں
23:03اشان نہ ہونا تمہیں ان کا دامن تھامو
23:05یہ تمہیں مجھ محمد کی دہلیس تک پہنچا دیں گے
23:07تو رسالت معاف صلی اللہ علیہ وسلم کی
23:09صیرت نہ صرف انسان کے ظاہر کو
23:12صفائی ستھرائی کو بلکہ انسان کے باطن
23:14کو بھی صاف کرتی ہے
23:15فاروقی صاحب سبحان اللہ
23:17روح کا کنیکشن بتا رہے تھے
23:21کہ روح کے ٹھیک ہونے سے فائدہ کیا ہوتا ہے شاہ جی
23:24ایک شیر
23:25ڈاکٹر وی آشمی کا
23:27بڑا ایمان افروز آپ کے موضوع سے تعلق رکھتا ہے
23:29وہ لکھتے ہیں کہ اگر تو
23:31روح کا اندر سے در کھلا ہوا ہے
23:34اگر تو روح کا
23:36اندر سے در کھلا ہوا ہے
23:38ہر ایک شہر مدینے سے پھر جڑا ہوا ہے
23:41سبحان اللہ
23:42اگر تو روح کا اندر سے در کھلا ہوا ہے
23:45ہر ایک شہر پھر
23:47مدینے سے جڑا ہوا ہے
23:49اسی طرح اگر روح کام کر رہی ہے
23:51تو اس کا مطلب ہے کہ
23:53صاحب مدینہ سے بھی میرا اور آپ کا کنیکشن
23:55QAIM है.
23:56आईे आगे बढ़ते हैं.
23:57शाजी किबला, अभी सहाब रिक्राम की बात की,
24:00एहल बैट रिसूल की बात की,
24:02खानवादा रिसालत की बात हुई.
24:04ये सारे कि सारे नफूस कुद्सिया,
24:07हुजरुर्ण अड़े स्वेशलाम की सीनत के आइनादार थे.
24:09جس کسی نے بعد کے دور میں حضور کی صیرت کو دیکھنا چاہا
24:13سمجھنا چاہا
24:14اس سے روشنی حاصل کرنا چاہی
24:16ان آئینوں کو انہوں نے دیکھا
24:18اور مصطفیٰ کی صیرت کی چمک ان میں محسوس کر لی
24:21تو یہ جو آئینہ نماغ افراد تھے سارے
24:24صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم تھے
24:26اہل بیت اکرام علیہ السلام تھے
24:28ان کے بارے میں کیا فرمائیے
24:29جنہیں کامل آئینہ بنا دیا
24:31اللہ نے اس کریم کی صیرت کا
24:33بالاشبہ سچی بات
24:35قرآن مجید فرقان حمید میں اللہ تعالی نے
24:39یہ اس آئینے کو خود بیان کیا ہے
24:41کہ صحابہ میرے محبوب کی
24:42صیرت مبارکہ کے آئینہ تھے
24:44وہ کیا تھے
24:46فرمایا جو میرے محبوب کے صحابہ
24:58ان کی شانت و خیر بہت ہی بلاندک
25:02نبی پاک کی صیرت مبارکہ کے آئینہ
25:04فرمایا جو ان کے نقشے قدم پر چلنے والے
25:07میرے محبوب کے صحابہ کے نقشے قدم پر چلنے والے
25:10ان کا فرمایا
25:11اللہ کیاں اتنا ہنچا مقام ہو جاتا ہے
25:14کہ رضی اللہ عنہم
25:15اللہ ان سے راضی ہو جاتا ہے
25:17وہ اللہ سے راضی ہو جاتے ہیں
25:18یہ ہے نبی پاکہ سلیم کے صحابہ کا مقام
25:21اور اہل بیت اطہار کا مقام
25:22کہ انہوں نے نبی پاکہ سلیم کا جو رنگ تھا نا
25:25سبغت اللہ ومن احسن من اللہ سبغا
25:28وہ اللہ کے رنگ میں سنداز رسول اللہ سلیم
25:30کو اس وحسنہ کو پناتے ہوئے رنگیں گئے
25:32اللہ پاہ نے قیامت تک کے لئے ان کو میار بنا دیا
25:39کہ جو ان جیسا بننے کے کوشش کرے گا
25:41میرے محبوب کے صحابہ اور تلامیزہ اور رفقہ کی طرح
25:45ان کے اہل بیت اطہار کی طرح
25:46میں اللہ گرنٹی دے رہا ہوں
25:47یہ ہدایت یافتہ بن جائیں گے
25:50اور مجھے یہاں پر ایک فارسی کا شیر یاد آیا
25:52آپ شیر ارشاد فرمایے
25:54باقی بات پھر انشاءاللہ وقفے کے بعد ہم لیکن شیر آپ این آئے تھے
25:58وہ کہتے ہیں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کیسے
26:00اینہ دار فرماتے ہیں صدیق اکس کمال محمد است
26:03فاروق زل جہو جلال محمد است
26:06عثمان زیاء شما جمال محمد است
26:08حیدر بہار بہار باغ خسال محمد است
26:13اور آگے فرماتے ہیں ایمان ماہ حب فرماتے ہیں
26:17اسلام ماہ اطاعت خلافہ راشدین
26:19ایمان ماہ حب آل محمد است
26:22تو یقین نبی پاک کے صحابہ جو تھے رسول اللہ کے سیر
26:25کے مختلف گوشوں کے وہ سب آئینہ دار تھے
26:27سبحان اللہ سبحان اللہ
26:29شاہ جی کی گفتگو سے میں طالب علم تو یہی سمجھا ہوں
26:32کہ چاہتے ہو تم اگر نکھرا ہوا فردہ کا رنگ
26:36سارے عالم پر چھڑک دو گمبدے خزرہ کا رنگ
26:39آئیے سبوت اللہ کے حصول کی کوشش کریں گے
26:43جاری رکھیں گے ایک مختصر سے وقفے کے بعد
26:45خوش آمدید ناظرین آپ کا ایک دفعہ پھر خیر مقدہ پروگرام ہے
26:48روشنی سب کے لیے
26:49لاہور سٹوڈیو سے گفتگو بڑے خوبصورت
26:52احسن اور بابرکت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے
26:54حضور شاہ جی سے ہم گفتگو کر رہے تھے
26:56جس وقت میں وقفے میں جانا پڑا ہے شاہ جی قبلہ
26:58صحابہ اکرام کی بات ہو رہی تھی
27:00سبغت اللہ کی بات ہو رہی تھی
27:01جو رنگ اللہ نے حضور علیہ السلام کے خانوادے کے افراد پر چڑھایا
27:05اہل بیت رسول پر اور صحابہ اکرام کے اس قدسی گروہ پر چڑھایا
27:10اس رنگ کی رنگت کے اثرات آج کے دن تک چودہ سو سال بعد
27:14ہم محسوس کر سکتے ہیں
27:15کیا فرمائیے گا اس بار
27:16بلا شبہ آپ دیکھیں
27:17میں نے جیسے عرض کیا
27:19کہ صحابہ اکرام اہل بیت اطحار کی
27:21ان کی آپ زندگیاں اٹھا کر دیکھیں
27:23نبی پاک علیہ السلام کی سیطن بارکہ سے
27:26انہوں نے جو کچھ سیکھا
27:27جو کچھ سمجھا
27:29اس کے مطابق انہوں نے عمل کر کے دکھایا
27:31حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ جیسی ہستی
27:34ساڑھے بائیس لاکھ مربع میل خکمران
27:37بیت اللہ شیعہ کا تواف کریں
27:39یہ صحیح مسلم کے اندر روایت موجود ہے
27:40حجر یا سبت کو چومنے لگے
27:42تو فرماتے ہیں
27:43تو بہت مقدس ہے
27:44بڑا مبارک ہے
27:45مگر میں تجھے پتا کیوں چوم رہا ہوں
27:48لولا انی رائیت رسول اللہ السلام
27:50اکبلکا ما قبلتوکا
27:52میں نے آقا کا تمہیں چومتے دیکھا تھا
27:54ہماری تو پوری زندگی کا مرکز و مہوری یہ ہے
27:57کہ مصور کھینچ وہ نقشہ جس میں یہ صفائی ہو
28:00ادھر فرمان محمد ہو
28:02ادھر گردن جکائی ہو
28:03ہے یہ طریقی عاشقی
28:05چاہیے اس میں بے خودی
28:06اس میں چنی چنا کہاں
28:08اگر مگر کہاں
28:09اگر بخشے تو زہی قسمت
28:11نہ بخشے تو شکایت کیا
28:12سر تسریم خم ہے جو مزاج یار میں
28:15میرے آقا علیہ السلام کا جو عثوہ حسنہ تھا
28:18صحابہ اکرام یہ سمجھ آ جاتا تھا
28:21وہ اس کے رنگ میں ایسے رنگیں جاتے تھے
28:23ایک صحابی کا میں واقعہ پڑھا تھا
28:25کہ وہ اپنے شگردوں کے ساتھ گزر رہے تھے
28:27ایک سفر پر راستے سے
28:28تو وہاں سے ایک جگہ سے گزرتے
28:30انہوں نے ایسے اپنے سر کو جھکایا
28:32اور وہاں سے اس طرح گزرے
28:33تلامزہ نے عرض کیا
28:34کہ یہاں درست کوئی ایسی چیز تو
28:36تھی نہیں
28:36جو رکاوٹ ہوتی
28:37اور آپ نے اپنا سر ایسے جھکایا
28:39کہا جب ہم نبی پاکستان
28:41یہاں سے گزرے تھے
28:42تب یہاں بے ایک درخت ہوا کرتا تھا
28:44تو میرے آقا علیہ السلام
28:45جب یہاں سے گزرے
28:47تو آپ نے یہ انداز اختیار کیا تھا
28:49تو میرے دل نے
28:50اور آقا سجھ میری محبت تھی
29:00میں اس کو اپنائے بغیر یہاں سے گزر جاؤں
29:02کسی صحابی نے
29:04یہاں آپ کا بٹن کھلا دیکھا
29:05تو ساری زندگی وہ اسی ادا پی رہا
29:07تو یہ نبی پاکستان کا جو رنگ تھا
29:10صحابہ
29:10امہ جی ہے
29:11سیدہ عیشہ صدیقہ
29:12رضی اللہ عنہ
29:13نبی پاکستان کی جو سخاوت تھی
29:15سیدہ فاطمہ کی سخاوت کی باتیں
29:17تو ہم نے سنی نا
29:18وہ دسترخان لگا ہوا تھا
29:19افتاری کرنے والے تھے
29:21تین روٹیاں پڑی تھی جو کی
29:23دروازے پہ دستے کو ہتی
29:24ایک اٹھا کر فقیر کو
29:26یتیم کو دے دی
29:27دوسری قیدی کو دے دی
29:28تیسری غلام کو دے دی
29:30تو آپ نے پانی کے ساتھ
29:31اور نمک کے ساتھ روزہ افتار کی
29:33یہ بچوں نے بھی اسی طرح سنیان کریم
29:34میں نے
29:35سر کے تار سیدہ علیہ مرزا نے
29:37تو حضرت امہ جی
29:38ایشہ کے گھر نبی پاہ نے
29:39پورا بکرہ زمان کر کے بیجا
29:40تھوڑی دیر کے بعد
29:42گھر تے شیو لائے
29:43تو فرمایا
29:43ایشہ
29:43میں نے وہ گوش بے جا تھا
29:45پورا بکرہ
29:46عرض کرتی
29:47مسکرا کر
29:47ماں باقیہ
29:48اللہ کاتی فوا
29:49آنکہ وہ تو سارا ہی
29:50میں نے تقسیم کر دیا
29:51سرکندے کا گوش
29:52تھوڑا سا بچا ہے
29:53فرمایا
29:53باقیہ
29:54کلوہ
29:55اللہ کاتی فوا
29:55اگر میری نگاہ سے دیکھو نا
29:58سارا وہی بچا
29:59جو ہم نے دے دیا
30:00یہ نہیں بچا
30:01باقی وہ اصل میں بچا
30:03اللہ اکبر کبیرہ
30:07اللہ اکبر کبیرہ
30:09پروفیسر تیمور فاروقی صاحب
30:11پروگرام کے
30:12اختتامی لمحات ہیں
30:13آج کی اگر نشیس کو
30:15ہم کنکلوٹ کرنا چاہیں
30:16تو آپ
30:16کیا پیغام دیجئے گا
30:18ہمارے ناظرین کو
30:18سفدر صاحب
30:20بہت اہم پیغام ہے
30:22اور وہ یہ ہے
30:23کہ
30:23ہمارا موضوع
30:25جو کہ بڑا اہم تھا
30:26امپورٹنٹ تھا
30:27تعمیر شخصیت کے حوالے سے
30:28میں آج کے اس دور کی بات کروں
30:31کہ آج ہر شخص نفسہ نفسی میں
30:33مبتلا ہے
30:34جذباتی کیفیت ہے
30:36غسیلہ بندہ ہوتا چلا جا رہا ہے
30:39اور مادیت پرستی کا غلبہ
30:41ہر انسان کے اوپر ہے
30:42ہر شخص یہ چاہتا ہے
30:44کہ میں اپنے کریئر میں
30:45کچھ ایسا کر جاؤں
30:46کہ میرا نام جو ہے وہ زندہ رہی
30:48لیکن اس شخص کو پتا نہیں ہوتا
30:50کہ کچھ ہی سالوں بعد
30:51اس کا نام اس کا کریئر
30:52ختم ہو جاتا ہے
30:53اگر شخصیت
30:55انسانیت کے طریقے پر گزاری جائے
30:57رسول اللہ کے رستے پر گزاری جائے
30:59تو تاریخ میں کچھ ہمیں
31:01ایسی مثالیں ملتی ہیں
31:02کہ جنہوں نے
31:02اللہ کے ساتھ تعلق مضبوط کیا
31:04اور جب رسول اللہ کے ساتھ
31:05تعلق مضبوط کیا
31:06تو اللہ نے ان کے ناموں کو
31:08دوام عطا فرما دیا
31:09ان کے ناموں کو
31:11عزتیں عطا فرما دی
31:12آج
31:13نہ صرف ہمیں
31:14عبادات کے معاملات کے اندر
31:16بلکہ ہماری
31:17ڈیلی لائف کے اندر
31:18جتنے بھی معاملات ہیں
31:19ان کے اندر بھی ہمیں
31:20رسول اللہ علیہ السلام کی
31:21صیرت ایک نمونہ قرار دیتے ہیں
31:24مجھے ایک کرنٹلسٹ کے لفظ یاد ہے
31:26اس نے کہا کہ
31:26محمد صلی اللہ علیہ وسلم
31:27was not only the prophet of Allah
31:30کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم
31:31صرف اللہ کے پیغمبر نہیں تھے
31:32he was a statement
31:34he was a preacher
31:35he was a warrior
31:36آپ warrior بھی تھے
31:38آپ preacher بھی تھے
31:39آپ نے ہر طرح کی
31:40ایک مثال قائم کی
31:42انسانیت کو دکھلایا
31:44اپنی 63 سالہ زندگی کے اندر
31:46اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
31:47کی صیرت
31:48آپ کے صیرت
31:50کو درخشان جو پہلو ہیں
31:52وہ آج کی انسانیت کے لیے
31:53قامل اور اکمل نمونہ ہے
31:55اگر انسان کو
31:56اپنا نام زندہ کرنا ہے
31:58اپنی عزت بنانی ہے
31:59اپنے دل کی تسکین چاہیے
32:01اپنی روح کی تسکین چاہیے
32:02تو اس کو بلاخر
32:03رسول اللہ علیہ السلام کی
32:04صیرت مقدس عبر
32:05عمل پیرا ہونا پڑے گا
32:06وہ چاہے کوئی باپ ہو
32:08چاہے کوئی استاد ہو
32:09چاہے کسی بھی شعبے سے
32:11کوئی شخص تلق رکھتا ہو
32:12وہ رسالت معاف صلی اللہ علیہ وسلم کی
32:13صیرت کو اپنائے گا
32:14تو اللہ تعالیٰ اس کو
32:15دونوں جہانوں میں
32:16کامیابی آتا فرما دے گا
32:17بہت قیمتی خوبصورت بات
32:19بہت قیمتی خوبصورت بات
32:21شاید یہ بھی
32:22کچھ لمحے ہمیں اجازت دیتے ہیں
32:24تو آپ
32:25آج کی ہماری جو
32:27بالخصوص یوت ہے
32:28اس کے لئے کیونکہ
32:29یوت پہ ہم زور اس لیے دیتے ہیں
32:30کہ
32:31بہت سارے لوگ جو ہے
32:32وہ پچاس پچپن کے ساٹھ کے پیٹے میں
32:34جب آتے ہیں
32:35تو ایک نیچرل عمر
32:36آلموسٹ وہ پوری کر رہے ہوتے ہیں
32:37لیکن نوجوان نسل
32:39ہمارا اتنا قیمتی ایسٹ ہے
32:40کہ انہوں نے ابھی پوری زندگی
32:41چالیس پچاس سال کی گزار نہیں ہوتی ہے
32:43تو ہم اس کو فوکس کرتے ہیں
32:45اپنے ہر پیغام میں
32:46کہ ہماری اگر اگلی نسلیں
32:47ٹھیک ہو جائیں گی
32:48تو یقینا ہمارا آنے والا معاشرہ
32:49بھی ٹھیک ہو جائے گا
32:51حضورت اسلام کی صیرت سے
32:52کیسے کیسے آج کے نوجوان
32:54بیٹے بیٹیاں
32:55وہ رحمت کشید کریں
32:57نور کشید کریں
32:58روشنی حاصل کریں
32:59اپنے لئے گولز کیسے سیٹ کریں
33:02چھوٹے چھوٹے زندگی میں
33:03جو اچیف کرنے بھی آسان ہو
33:05اور ان کو یہ معلوم بھی نہ ہو
33:07کہ یار بڑی مشکت ہے
33:08جی بڑا چلا کاٹنا پڑتا ہے
33:10یا بہت کچھ ہی
33:11اس میں ایسا کرنا پڑتا ہے
33:12تو میں چاہتا ہوں
33:12سادہ سادہ چد قیمتی نسکے بتائیں
33:14آپ حضور کی اہلِ بیعت کے گھر والے ہیں
33:16تو حضور کی اہلِ بیعت کے گھر سے
33:18جو نور نکلتا ہے
33:19وہ یقیناً دیر پا بھی ہوتا ہے
33:20روشنی والا ہوتا ہے
33:21بڑی خوصورت بات کی
33:22آپ نے بھائی سفدلی محسن صاحب
33:25ایک تو یہ بات
33:26بڑی اچھی شاہ فرمائی
33:28کہ جو یوتھ ہیں نوجوان
33:29یہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہوتی ہے
33:31کسی قوم اور حصت کے لیے
33:32ابھی پچھلے دنوں
33:34آپ صوبائی صیرت کانفرنس میں بھی تھے
33:36تو اس میں بھی غالباً
33:37آپ کی ایک تقریر کا بھی چکڑا
33:39ایک اور ہمارے مقرروں نے بتایا
33:40کہ پاکستان دنیا کے
33:41ان خوش قسمت ترین ملکوں میں ہیں
33:44جس میں ساٹھ فیصد کے قریب
33:46یوتھ ہیں
33:47یقیناً ایسی میں یہی عرض کرنے لگا تھا
33:49کہ ساڑھ سے لیکے ستر فیصد کے درمیان
33:51فگر بنتا ہے
33:52جو ہماری نوجوان نسل
33:53اور یہ صرف پاکستان کا تقریب ہے
33:55کسی کے پاس یہ نعمت ہے
33:56کسی ملک میں چھ فیصد ہے
33:57کسی میں چودہ ہے
33:58اس طرح کی صورتحال
33:59یہ دنیا میں واحد ریاست ہے
34:01جس کو اللہ پاک نے یہ نعمت اطاف فرمائی
34:03اتنا بڑا ٹیلنٹ
34:04اور بہت ذہین
34:06جفاکش
34:07مینٹی ذہین
34:09دنیا میں اس کی مثال ہی کوئی نہیں
34:10تو یقین ان کے لیے
34:12آپ نے بڑی خوبصورت بات
34:13یہ بھی رشاہ فرمائی
34:14تربیتی لحاظ سے
34:15کہ آسان طریقے سے
34:16اور نعیبہ صلی اللہ نے
34:17جو نوجوان صاحبہ بیجتے ہیں
34:19یمن کی طرف
34:20وہ نوجوان اپنا پیغام دے کر
34:22چونکہ ذرائع بلاج
34:23جو نے اس دور کے
34:24نعیبہ صلی اللہ نے سارے استعمال فرمائے
34:26بلکل ایسے ہی ہے
34:27حقیقت اللہ کا دین تھا
34:28لیکن ان کو یہ سال فرمایا
34:29میرے بیٹوں وہاں جاکا
34:36حضرت ابو موسیٰ شریف تھے
34:37حیدر کرار
34:38حضرت سیدن علی المرزا تھے
34:40حضرت معاذ ابن جبل تھے
34:42کہ وہاں دین کو
34:44آسان بنا کر پیش کرنا
34:45مشکل بنا کر پیش نہ کرنا
34:47سننے والوں کے لیے
34:48ایسا انداز اختیار کرنا
34:49کہ ان کے دل
34:50وہ مطمئن ہو جائے
34:52خوش ہو جائے
34:53خوش کبریاں دینا
34:54نفرت دینا سنانا
34:55نفرت سے ان کا بیزاری سے
34:56ان کا دل دور نہ ہو جائے
34:57اس انداز سے
34:58تو یقینا نوجوان نسل کو
35:00ہم نے اس انداز
35:01تو میں ایک تو
35:02یہ علامہ اقبال کا
35:03پیغام دیتا ہوں
35:03ان کے الفاغوں
35:04کہتے ہیں
35:04فرماتے ہیں
35:05کہ قوت عشق سے
35:06نبی پاک کی جو
35:08محبت اور عشق
35:09نہیں یہ ایسی قوت ہے
35:10وہ فرماتے ہیں
35:11قوت عشق سے
35:12ہر پست کو
35:13بالا کر دے
35:14دہر میں
35:15اسم محمد سے
35:16اجھالا کر دے
35:17سلام
35:17آج ہمارے پاس
35:19اس دور کا
35:20بہترین
35:21ایک ذریعہ بلاغ آگیا ہے
35:22جو
35:23ہم سوشل میڈیا
35:24کے نام سے
35:24سمجھتے ہیں
35:25یہ سوشل میڈیا
35:26ہر نوجوان کے پاس
35:27درست ہے
35:28نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
35:29کے دور میں
35:30جتنا میڈیا
35:30آپ نے استعمال کیا
35:31آپ ذرا غور فرمائے
35:32وہ سارے وہ
35:33ذرائع تھے
35:34جو نبی پاک کے
35:35مخالف بھی استعمال کرتے تھے
35:36یہ جو
35:37جتنے سورسز تھے
35:38وہ نبی پاک کے
35:38مخالف بھی استعمال کرتے تھے
35:39وہ بھی استعمال کرتے تھے
35:40حضرت حسان ابن سابد
35:41رضی اللہ تعالیٰ
35:42نے ایک تشریف فرمایا
35:43نبی پاک کے
35:43مجد نوی میں
35:44آپ کے ایوان
35:45ایوان سربراہ بھی وہ تھا
35:47ایک وفد آیا
35:47جو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
35:48کے مخالفین پر مشتمل تھا
35:50انہوں نے آپ کے سامنے
35:51کچھ ایسے اشار کے
35:52جن میں اسلام کی
35:53اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
35:54کے بارے میں
35:54صحیح آدام ملہوظ نہ تھے
35:56تو آپ نے حضرت حسان ابن
35:58صاحب سے فرمایا
35:59کہ کھڑے ہو جاؤ
36:00ایدک اللہ بی روح القدس
36:01ان کا جواب
36:02اسی انداز
36:03اسی پیٹرن میں
36:03جس طرح انہوں نے کہا
36:04اسی میڈیا میں
36:05وہ میڈیم جو تھا نا
36:07وہ شعروں کا تھا نا
36:07نظم کا تھا
36:08اسی میڈیم نے
36:09یہ نہیں فرمایا
36:10کہ ہم نے اس میڈیا کو
36:11چھوڑ دینا ہے
36:12یہ میڈیا غلط نہیں
36:13میڈیا وہی ہوتا ہے
36:14آپ نے اس کو استعمال کرنا
36:16مصبت طریقے سے
36:17آج سوشل میڈیا میں
36:18اگر غلط چیزیں ہیں
36:19تو ہم نے اس کو
36:20صحیح طریقوں سے برنا ہے
36:21صحیح چیزوں سے
36:22تو ہمارے نوجوانوں کو
36:23چاہیے
36:24وہ نبی پاہ صلی اللہ علیہ وسلم
36:25کی سیطے مبارکہ سے
36:26خشبو لیں
36:26اس خشبو کو عام کر دیں
36:28اہلِ بیتحار
36:29حسنین کریم ان کی زندگی
36:31سیدہ فاطمہ تزارہ کی زندگی
36:32امہ حاتموں میں ان کی زندگی
36:34میری بیٹیوں کے لیے
36:35اعلیٰ نمونہ ہے
36:36وہاں سے خشبو لیں
36:37عام کر دیں
36:38پانچ نمازیں پڑھیں
36:39آسانی سے
36:40روزے رکھیں
36:41قرآن پڑھا کریں
36:41دروشی پڑھا کریں
36:42اتنا ہی دین پر
36:43آپ عمل کر لیں
36:44کہ تو انشاءاللہ
36:45اللہ کیا نجات ہو جگے
36:46نبی پاک شفاد مر جگی
36:48اور یہ بات دوسرے تک
36:49پہنچانے کی کوشش کریں
36:50فاروقی صاحب
36:50جب آپ نے
36:51سٹوڈنٹس کو پڑھا رہے ہوتے ہیں
36:53تو ان کو آپ
36:53میں ایک دو جملے بس
36:55آپ کے انپوٹ
36:55اتنا ہی ہمارے پاس مارجن ہے
36:56ان کو بھی آپ پھر
36:57اسی طرح ہی
36:58بتاتے ہیں
36:59یہ سوشل میڈیا
37:00آج غالب ہر جگہ سے
37:01آپ اپنے سٹوڈنٹس کے حوالے سے
37:03جو on the spot
37:03سامنے فیزیکلی
37:04ان کو کیسے پیغام ناشر کرتے ہیں
37:06جی بالکل
37:06محسن صاحب
37:07یہ ہی ہوتا ہے
37:07کہ ہم جب اپنے دولوا کو
37:08تیچ کرتے ہیں
37:09تو ایک تو ہمارا سبجیکٹ
37:11بھی اسلامی سٹیڈیز کا ہے
37:12تو دیفنیٹلی
37:13بچے آج کل کے جو سٹوڈنٹس
37:14وہ بہت کنفیئن کا شکار ہے
37:16اگرید
37:16چونکہ جو
37:18باطل قوتیں ہیں
37:19تاغوتی قوتیں ہیں
37:20وہ ان پر بہت زیادہ حملہ آور ہیں
37:22پوری انڈسٹری ہے سر
37:23اگزیکٹل
37:23اب اس وقت ضرورت ہے
37:24بچوں کے اندر
37:25ڈیمانڈ ہے
37:26سٹوڈنٹس کے اندر
37:27ایک ڈیمانڈ ہے
37:27کہ ہمیں کچھ ایسی بات
37:29سننے کو ملے
37:29ایک پلائٹنس کے اندر
37:31ایک شستہ اور شائستہ
37:33لہجے کے اندر
37:33کہ جو ہمارا دل کو اترے
37:35ہم آج کل
37:36ہمارا سوشل میڈیا کا
37:37معاملہ ہی ہوتا چاہ رہا ہے
37:38کہ ہم جو ہے
37:38وہ نفرت ہیں
37:39جسر شاہ صاحب نے فرمایا
37:40حدیث ہے
37:41بلکہ خوشحبریاں دو
37:45ہمارے علماء
37:46جو بھی ہیں
37:47ان کو اس سوالے سے
37:47ہی سوچنا ہوگا
37:48کہ ہماری یوت
37:49جیسے کہ آپ نے کہا
37:49یہ ایسیٹ ہے ہمارا
37:51اساسہ ہیں
37:51ان کی تعلیم و تربیت
37:53بہت ضروری ہے
37:54سوالے سے کہ ان کا
37:55کردار سازے کی جائیں
37:56شاہ جی
37:57بہت بندہ نوازی
37:58آپ کی
37:58فاروقی صاحب
37:59آپ بھی سلامت رہیں
38:00کیونکہ سیرت
38:01ہمارا آج کا موضوع ہے
38:02شاہ جی
38:02آپ سے دعا لیتا ہوا
38:03ناظرین کی سماعتوں میں
38:04دو تین قیمتی
38:05ترین شیر منتقل کرتا ہوا
38:07میں آپ کا میزبان بھی
38:09اجازت قطلبگار
38:11پھر انشاءاللہ
38:11نیکی اور خیر کی
38:12اگلی مجلس کے ساتھ
38:13آپ سے ملاقات ٹھہرے گی
38:14پیغام دیکھے گا
38:15دو تین
38:16مختلف
38:17سٹیپس کی صورت میں
38:18میں نہیں کہتا
38:20کہ تم ایسا کرو
38:21ویسا کرو
38:22میں نہیں کہتا
38:23کہ تم ایسا کرو
38:25ویسا کرو
38:26ان کی سیرت آئینہ ہے
38:28آئینہ دیکھا کرو
38:29اللہ
38:30اللہ اکبر
38:31ان کی سیرت آئینہ ہے
38:33آئینہ دیکھا کرو
38:34اور شاہ جی دیکھئے
38:36یہ تعلقی مراج دیکھئے
38:37کہ بات تو جب ہے
38:38کہ ایسا رابطہ پیدا کرو
38:41بات تو جب ہے
38:43کہ ایسا رابطہ پیدا کرو
38:45وہ تمہیں دیکھا کریں
38:47اور تم انہیں دیکھا کرو
38:48وہ تمہیں دیکھا کریں
38:50اور تم انہیں دیکھا کرو
38:52گمبدِ خزرہ کا سایہ دولتِ
38:55دنیا او دین
38:56گمبدِ خزرہ کا سایہ
38:59دولتِ دنیا او دین
39:00ہر طرف کیا دیکھنا
39:02بس اس طرف دیکھا کرو
39:04ہر طرف کیا دیکھنا
39:06بس اس طرف دیکھا کرو
39:07اور آخری منظر
39:08دیکھنے والے کی آنکھوں میں بسی ہیں
39:11جنتیں
39:12دیکھنے والے کی آنکھوں میں
39:15بسیں ہیں جنتیں
39:17جس نے دیکھا ہے مدینہ
39:19تم اسے دیکھا کرو
39:20اس طرح بھی منتقل ہوتی ہیں چیزیں
39:23جس نے دیکھا ہے مدینہ
39:25تم انہیں دیکھا کرو
39:27اور جنہوں نے حضرت السلام کی صیرت
39:28نسل بعد از نسل دیکھی ہے
39:31انہی سے ہم نے نور
39:32روشنی اجالہ
39:34رحمت رفت رافت
39:36کشید کرنی ہے یہی ہمارا آج کا پیغام
39:38انشاءاللہ پھر ملاقات ہوگی
39:40السلام علیکم ورحمت اللہ
40:10ورحمت اللہ
Comments

Recommended