00:00ادھر شاد آود بریرہ کو سالگرہ کا توفہ دینے کے لیے پروفیسر اجاز کے گھر پہنچتا ہے لیکن مہاں بریرہ
00:04کو موجود نہ پا کر حیران رہ جاتا ہے
00:05وہ فوراں پروفیسر اجاز سے اس کے بارے میں پوچھتا ہے پروفیسر اجاز بھی پریشانی کا اصحار کرتے ہوئے بتاتے
00:09ہیں کہ بریرہ کچھ دیر پہلے گھر سے نکلی تھی لیکن انہیں یہ معلوم نہیں کہ وہ کہاں گئی ہے
00:12یہ بات سن کر شاد آود کی پریشانی پڑ جاتی ہے اور وہ فوراں حویلی واپس آ جاتا ہے
00:16تمثیل جب اسے اس قدر بے چین دیکھتی ہے تو پوچھتی ہے کہ آخر کیا معاملہ ہے لیکن شاد آود
00:19اسے کوئی بات کیے بغیر رستم کو بلاتا ہے
00:21اور اسے حکم دیتا ہے کہ بریرہ کو تلاش کرنے کے لیے اپنے تمام آدمی لگا دے
00:24رستم فوراں تلاش شروع کر دیتا ہے مگر کافی کوشش کے باوجود بریرہ کا کوئی سراغ نہیں ملتا
00:28اسی دوران شاد آود کو حویلی میں ایک خط ملتا ہے
00:30خط میں لکھا ہوتا ہے کہ بریرہ ہمیشہ کے لیے اس کی زندگی سے چار ہی ہے
00:32اور اسے چاہیے کہ وہ تمثیل سے نکاح کر لے
00:34یہ خط دراصل تمثیل کی ایک اور سازش ہوتی ہے
00:36وہ چاہتی تھی کہ شاد آود بریرہ کو بھول کر اس سے شادی کر لے
00:39بریرہ کو کھو دینے کے خوف اور اس خط میں لکھی باتوں سے پریشان ہو کر
00:41شاد آود بلاخر تمثیل سے نکاح کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے
00:44اگلے دن حویلی میں دونوں کے نکاح کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں
00:46نکاح کے وقت مولوی صاحب تمثیل سے پوچھتے ہیں
00:48کہ کیا اسے شاد آود سے نکاح قبول ہے
00:49تمثیل فوراں ہاں کہہ دیتی ہے
00:51اور یوں دونوں کا نکاح ہو جاتا ہے
00:52لیکن جب ارباز کو معلوم ہوتا ہے
00:53کہ تمثیل نے اس کی بجائے شاد آود سے شادی کر لی ہے
00:55تو وہ غصے سے بے قابو ہو جاتا ہے
00:57وہ فوراں منصف علی خان کے پاس پہنچتا ہے
00:58اور کہتا ہے کہ شاد آود نے اس سے اس کی محبت چھین لی ہے
01:00اور اب وہ اسے کسی صورت معاف نہیں کرے گا
01:02منصف علی خان بھی اسے شاد آود کے خلاف مزید بھڑکاتا ہے
01:05اسی دوران ارباز کو حقیقت معلوم ہو جاتی ہے
01:06کہ بریرہ کو اغوا کروانی کی پیچھے تمثیل کا ہاتھ ہے
01:08وہ اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے بریرہ تک پہنچ جاتا ہے
01:11اور تمثیل کو فون کر کے دھمکی دیتا ہے
01:12کہ اگر وہ فوراں اس کے پاس نہ آئی
01:13تو وہ بریرہ کو لے کر شاد آود کے سامنے پہنچ جائے گا
01:15اور اس کی تمام سازشوں کا پردہ فاش کر دے گا
01:17یہ سن کر تمثیل کے قدموں تلے سے زمین نکل جاتی ہے
01:19اسے خوف ہوتا ہے کہ اگر شاد آود کو حقیقت معلوم ہو گئی
01:21تو اس کی ساری محنت ضائع ہو جائے گی
01:23وہ ارباز سے پوچھتی ہے کہ آخر وہ چاہتا کیا ہے
01:25ارباز صاف کہتیتا ہے کہ وہ صرف اسے اپنے ساتھ دیکھنا چاہتا ہے
01:27مجبور ہو کر تمثیل فارم ہاؤس پہنچ جاتی ہے
01:29وہاں بریرہ کو دیکھتے ہی اس کا غصہ مزید بڑھ جاتا ہے
01:31وہ بریرہ کو الزام دیتی ہے کہ اسی کی وجہ سے شاد آود اس سے دور ہو رہا ہے
01:34اور وہ کسی صورت اسے شاد آود کی زندگی میں برداش نہیں کر سکتی
01:37دوسری طرف شاد آود کو تمثیل کی سرگرمیوں پر شک ہونے لگتا ہے
01:39وہ خاموشی سے اس کی گاڑی کا پیچھا کرتا ہوا فارم ہاؤس تک پہنچ جاتا ہے
01:41وہاں کا منظر دیکھ کر اس کے خوش اڑ جاتے ہیں
01:43کیونکہ تمثیل بریرہ کو نقصان پہنچانے کی تیاری کر رہی ہوتی ہے
01:45شاد آود فوراں آگے پڑھ کر تمثیل کو روک لیتا ہے
01:48لیکن اسی دوران ارباز بھی وہاں پہنچ جاتا ہے
01:50وہ شاد آود کو دیکھتے ہی غصے میں اس پر فائر کر دیتا ہے
01:52گولی شاد آود کے بازوں میں لگتی ہے
01:53اور وہ زخمی ہو کر گر پڑتا ہے
01:54اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے
01:56ارباز اور منصر فلی خان وہاں سے فرار ہو جاتے ہیں
01:58جبکہ تمثیل بھی موقع ملتے ہی نکل جاتی ہے
02:00رستم فوراں شاد آود کو اسپتال پہنچاتا ہے
02:01جب بریرہ کو شاد آود کی حالت کا علم ہوتا ہے
02:03تو وہ بھی بیچین ہو کر اسپتال پہنچاتی ہے
02:05ڈاکٹر موینے کی بات بتاتے ہیں
02:06کہ شاد آود کو فوری طور پر خون کی ضرورت ہے
02:08رستم خون کا انتظام کرنے کی کوشش کرتا ہے
02:10لیکن مطلوبہ گروپ کا خون دستیاب نہیں ہوتا
02:11یہ سن کر بریرہ فوراں ڈاکٹر سے کہتی ہے
02:13کہ اگر اس کا خون شاد آود کے لیے موضوع ہے
02:15تو وہ اپنا خون دینے کے لیے تیار ہے
02:17ضروری جانچ کے بعد
02:18ڈاکٹر بریرہ کا خون شاد آود کو منتقل کر دیتے ہیں
02:20اور یوں اس کی جان بن جاتی ہے
02:21کچھ وقت بعد جب شاد آود کو ہوش آتا ہے
02:23تو اسے معلوم ہوتا ہے
02:24کہ بریرہ نے اپنا خون دے کر اس کی زندگی بجائی ہے
02:26یہ بات سن کر وہ جذباتی ہو جاتا ہے
02:28اور اسے احساس ہوتا ہے
02:28کہ بریرہ بھی اس سے بے پناہ محبت کرتی ہے
02:31شاد آود فوراں رستم کو حکم دیتا ہے
02:32کہ تمثیل کو تلاش کر کے پولیس کے حوالے کیا جائے
02:34رستم اسے بتاتا ہے
02:35کہ تمثیل اپنا سامان لے کر
02:36ہوای اڈے کی طرف روانہ ہو چکی ہے
02:38یہ خبر سنتے ہی
02:39شاد آود پولیس کو ساتھ لے کر
02:40ہوای اڈے پہنچ جاتا ہے
02:41کافی تلاش کے بعد تمثیل اسے نظر آ جاتی ہے
02:43اور پولیس اسے کرفتار کر لیتی ہے
02:44تمثیل شاد آود کے سامنے ہاتھ چوڑ کر
02:46معافی مانگنے لگتی ہے