00:00محبت کرتا ہے یہ سن کر سبھی حیران رہ جاتے ہیں
00:02ادھر زمیل کو جیسے ہی پتا چلتا ہے کہ زریاب ابو بکر کا گھر چھوڑ کر حبیب کے گھر آگئی
00:05ہے
00:05وہ ابو بکر کو زریاب کو طلاق دینے کے لیے لان بناتا ہے
00:07دوسری طرف زریاب ابو بکر کو چھوڑ کر حبیب کے گھر پر ہوتی ہے
00:10تو اچانک اس کی طبیعت خراب ہو جاتی ہے
00:11یہ دیکھ کر حبیب فوراں زریاب کو اسپتال لے کر پہنچتے ہیں
00:14زریاب چیک اپ کرنے کے بعد حبیب کو اس کی پرگننسی کی خبر سنا دیتے ہیں
00:16یہ سن کر حبیب کے خوش اڑ جاتے ہیں
00:18ادھر اب تبھی ابو بکر گھر پہنچتا ہے
00:19لیکن زریاب وہاں موجود نہیں ہوتی
00:21یہ دیکھر خوشبخت اسے بتاتی ہیں کہ زریاب اپنے ابو حبیب کے گھر چلی گئی ہے
00:24جس کے بعد ابو بکر کہتا ہے
00:25امی اب میں اسے کبھی واپس نہیں لاؤں گا
00:26لیکن خوشبخت اس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کہتی ہیں
00:28بیٹا میرے ہاتھ تمہارے سامنے جڑے ہوئے ہیں
00:29تم زریاب کو منا کر گھر لے آو
00:31یہ سن کر ابو بکر زریاب کو منانے اس کے گھر پہنچ جاتا ہے
00:33اسی وقت اسے پتا چلتا ہے کہ زریاب پرگننٹ ہے
00:35یہ سن کر ابو بکر حیران رہ جاتا ہے
00:36اور زریاب سے کہتا ہے
00:37زریاب ہمارے بیچ تو ایسا کوئی تعلق بھی نہیں رہا
00:39پھر تم پرگننٹ کیسے ہو گئیں
00:40ابھی زریاب سے ملنے زمیل بھی وہاں پہنچ جاتا ہے