00:00منصب علی خان کے آدمی شہداؤد کی گاڑی کے سامنے آ جاتے ہیں اور اس پر گولی چلا دیتے ہیں
00:03گولی شہداؤد کے بازو پر لگتی ہے اور اسی موقع کا فائدہ اٹھا کر منصب علی خان کے آدمی بریرہ
00:07کو گاڑی سے نکال کر کٹنیپ کر لیتے ہیں
00:08جس کے بعد وہ بریرہ کو منصب علی خان کے فارم ہاؤس میں لے جاتے ہیں
00:10ادھر رستم زخمی شہداؤد کو فوراں اسپتال پہنچاتا ہے
00:13دوسری طرف عرباز تمثیل کو کال کر کے کہتا ہے
00:15تمثیل میں نے تمہارا کام کر دیا ہے
00:16یہ سن کر تمثیل بھی اپنی گاڑی لے کر فارم ہاؤس کی طرف نکل پڑتی ہے
00:19ادھر ڈاکٹر شہداؤد کے بازو کا علاج کرتے ہیں اور کچھ ہی دیر بعد اسے ہوش آ جاتا ہے
00:22شہداؤد سب سے پہلے رستم سے بریرہ کا پوچھتا ہے
00:24تو رستم بتاتا ہے کہ بریرہ کو کچھ لوگ کٹنیپ کر کے لے گئے ہیں
00:26یہ سن کر شہداؤد غصے میں آ جاتا ہے اور پولیس کو حکم دیتا ہے
00:29کہ بریرہ کو ہر حال میں ڈھونڈ نکالا جائے
00:30اسی وقت تمثیل فارم ہاؤس میں بریرہ کے پاس پہنچتی ہے
00:32بریرہ اسے دے کر حیران رہ جاتی ہے اور کہتی ہے
00:34تمثیل یہ سے تم نہیں کیا ہے
00:35تب ہی تمثیل اپنی گن نکال کر بریرہ پر تان دیتی ہے
00:38اور کہتی ہے تمہاری وجہ سے میرا شہداؤد مجھ سے دور ہو گیا ہے
00:41اب میں تمہیں نہیں چھوڑوں گی
00:42لیکن تب ہی شہداؤد کو بریرہ کی لوکیشن مل جاتی ہے
00:44اور وہ رستم کے ساتھ فوراں منصب علی خان کے فارم ہاؤس پہنچ جاتا ہے
00:47شہداؤد کو آتا دے کر
00:48ارباز اور منصب علی خان فوراں اپنی گاڑی لے کر
00:51ائرپورٹ کی طرف بھاگ جاتے ہیں
00:52اسی وقت تمثیل بریرہ پر گولی چلانے ہی والی ہوتی ہے
00:54کہ شہداؤد اس کے ہاتھ سے گن چھین لیتا ہے