00:00اگر سالحہ حیران رہ جاتی ہے اور اسے میں کہتی ہے تم خوش میں تو ہو
00:02میں اپنے بیٹے کی شادی کسی عام گھرانے کی لڑکی سے کبھی نہیں ہونے دوں گی
00:05اگر تم نے میری مرضی کے خلاف قدم اٹھایا تو اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے
00:07ماں کی سخت باتیں سن کر زرار خاموش ہو جاتا ہے
00:09اور وقتی طور پر مہرمہ سے شادی کا ارادہ ترک کر دیتا ہے
00:12اتر یہیہ کے چچے اس کے پاس آتے ہیں اور اسے بتاتے ہیں
00:14کہ کبیر آج ہی آسیا سے نکاح کرنے والا ہے
00:15وہ اپنے موبائل پر اسے دونوں کے نکاح کی تیاریوں کی خبر دکھاتے ہیں
00:18یہ دیکھ کر یہیہ کے ہوش ہو جاتے ہیں
00:19اور وہ بغیر وقت ضائع کیے آسیا کی گھر کی طرف روانہ ہو جاتا ہے
00:22دوسری جانب کبیر بھی نکاح کی تیاری مکمل کر کے آسیا کی گھر پہنچ جاتا ہے
00:24مولوی صاحب کی موجودگی میں نکاح کی کاروائی شروع ہونے والی ہوتی ہے
00:26کہ اچانک یہیہ وہاں پہنچ جاتا ہے
00:28وہ کبیر کے سامنے کھڑا ہو کر کہتا ہے
00:29کبیر تم میری زندگی میں جو چاہو کر سکتے ہو
00:31لیکن میں اپنی محبت کو اس طرح کسی اور کا ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا
00:34اس کے بعد یہیہ آسیا کی طرف دیکھ کر کہتا ہے
00:36آسیا میں جانتا ہوں کہ میری وجہ سے تم نے بہت کچھ برداشت کیا ہے
00:38میں تم سے صرف ایک مہوکہ مانگتا ہوں
00:40اگر تم صالحہ آنٹی کے کیے کا حساب لینا چاہتی ہو
00:42تو میں تمہارے ساتھ کھڑا ہوں گا
00:43اور تمہارے ساتھ ہونے والی ہر نائن صافی کا جواب دوں گا
00:45آسیا یہیہ کی بات سنتی ہے
00:47اور صالحہ سے بدلہ لینے کے ارادے سے اس کے ساتھ نکاح کرنے پر رضا مند ہو جاتی ہے
00:50یوں سب کی موجودگی میں یہیہ اور آسیا کا نکاح ہو جاتا ہے
00:52دوسری طرف زرار یونیورسٹی پہنچتا ہے
00:54تو محرومہ اسے پوچھتی ہے
00:54کیا تمہاری امی ہمارے رشتے کیلئے راضی ہو گئی ہیں
00:56زرار اپنی امی کی مخالفت سے پریشان ہو کر
00:58محرومہ کو سخت جواب لیتا ہے
00:59اور کہتا ہے کہ وہ اس سے شادی نہیں کر سکتا
01:01یہ سن کر محرومہ کا دل ٹوچ جاتا ہے
01:02اور وہ روتی ہوئی وہاں سے چلی جاتی ہے
01:04وہ سڑک پار کرنے کی کوشش کر رہی ہوتی ہے
01:05کہ اچانکہ ایک ٹرک اس کی طرف بڑھتا ہے
01:07زرار اسے خطرے میں دیکھ کر فوراں اس کی مدد کیلئے پہنچتا ہے
01:09اور اسے محفوظ جگہ پر لی آتا ہے
01:10زرار کی یہ فکر دیکھ کر محرومہ کو یقین ہو جاتا ہے
01:12کہ وہ بھی اس سے محبت کرتا ہے
01:13وہ زرار سے کہتی ہے
01:14اگر ہماری گھر والے ہماری رشتی کیلئے تیار نہیں
01:16تو ہم اپنی مرضی سے کوٹ میریج کر سکتے ہیں
01:17محرومہ کی یہ بات سن کر زرار حیران رہ جاتا ہے
01:19اور سوچنل لگتا ہے کہ اسے کیا فیصلہ کرنا چاہیے
01:21ادھر یاہیا آسیا کو لے کر اپنے گھر پہنچ جاتا ہے
01:23جیسے ہی سالحہ کی نظر آسیا پر پڑتی ہے
01:24وہ غصے سے یاہیا کے پاس آتی ہے
01:25اور کہتی ہے
01:26یاہیا تم اس لڑکی کو ہمارے گھر کیوں لے کر آئے ہو
01:27کیا تمہیں اندازہ بھی ہے
01:28کہ یہ ہمارے خاندان کے لیے کتنی بڑی مصیبت بن سکتی ہے
01:31یاہیا اپنی امی کو جواب دیتے ہوئے کہتا ہے
01:32مام اب آسیا اس گھر میں صرف ایک مہمان نہیں
01:34بلکہ میری بیوی بن کر آئیے
01:35میں اس سے نکاح کر چکا ہوں
01:36اور اب کوئی بھی اسے میری زندگی سے علاق نہیں کر سکتا
01:38یہ سن کر سالحہ کے پیروں تلے سے زمین نکل جاتی ہے
01:40وہ غصے اور حیرت سے یاہیا کو دیکھتی رہ جاتی ہے
01:42یاہیا کچھ دیر بعد اپنے کمرے میں تازہ دم ہونے کے لیے چلا جاتا ہے
01:44لیکن سالحہ کا غصہ کم ہونے کے بجائے مزید پڑ جاتا ہے
01:46اسی دوران آسیا خاموشی سے سالحہ کے سامنے آتی ہے
01:48اور کہتی ہے
01:49آپ نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا
01:50کہ جس لڑکی کو آپ نے ایک دن اپنے گھر کی دہلیز سے زلیل کر کے نکالا تھا
01:52وہی ایک دن آپ کی بیٹی کی بیوی بن کر اسی گھر میں واپس آئے گی
01:55اب میں یہاں سے جانے والی نہیں ہوں
01:56کیونکہ اب مجھے اپنے ساتھ ہونے والی ہر نائنصافی کر جواب چاہیے
01:59آسیا کی یہ باتیں سن کر سالحہ غصے سے بے غاب ہو جاتی ہے
02:01اور اسے دھمکی دیتی ہے کہ وہ اس گھر میں زیادہ دن نہیں رہ سکے گی
02:03لیکن آسیا بھی خاموش رہنے کے بچائے اسے واضح کر دیتی ہے
02:05کہ اب وہ پہلے والی کمزور آسیا نہیں رہی
02:07اب دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا آسیا واقعی سالحہ سے
02:09اپنے ساتھ ہونے والی ذاتیوں کا بدلہ لے پائے گی
02:11کیا یاہیہ اپنی محبت کو دوبارہ حاصل کر سکے گا
02:13اور کیا زرار محرمہ کے لیے اپنی ماں کے خلاف جانے کا فیصلہ کرے گا