00:00Today we will try to understand the most important story of the Quran.
00:06This is the story of the Quran.
00:10This is the first time of the Quran.
00:14We will see how much of the Quran will be in the Quran.
00:20We will start with the Quran.
00:24if the person has a social problem,
00:25they don't have a problem.
00:26If the person has a problem,
00:29then the question the one who can do it?
00:34This is a sort of problem.
00:35It's not a problem.
00:36It's a problem for people to get rid of it.
00:42If the question is wrong with the problem,
00:44we will understand the problem,
00:47مشکل دور کو سمجھنا ہوگا
00:49اصل میں تاریخی اعتبار سے
00:51اگر دیکھا جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
00:54کو مکہ میں
00:54شدید مشکلات کے ایک سلسلے کا سامنا تھا
00:57توحید کی دعوت دینے پر
00:59معاشرے کے طاقتور لوگوں کی طرف سے
01:01بہت سخت مخالفت شروع ہو گئی
01:03اور پھر اسی مشکل وقت میں
01:05آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے
01:07بیٹوں کا لگتار انتقال ہو گیا
01:09یہ ایک بہت بڑا ذاتی صدمہ تھا
01:11اور اس پر صدمہ یہ
01:13کہ مخالفین نے ابتر کا تانہ دینا شروع کر دیا
01:15جس کا مقصد یہ جتانہ تھا
01:17کہ اب ان کا کوئی نام لینے والا باقی نہیں بچے گا
01:20لیکن ٹھیک اسی وقت
01:21جب مخالف یہ سوچ کر خوش ہو رہے تھے
01:24کہ وہ کامیاب ہو گئے ہیں
01:25ایک عظیم ربانی تسلی نازل ہوتی ہے
01:28یہ وہ وقت تھا جب یہ سورہ اتری
01:31اس کے بالکل پہلی آیت ہی کمال کی ہے
01:36یعنی بے شک ہم نے آپ کو کوزر عطا فرمائی
01:39یہ صرف الفاظ نہیں تھے
01:41بلکہ ایک ایسی فوری تسلی تھی
01:44جس نے پوری قیانات کا رخ موڑ دیا
01:46ایک وعدہ کہ جو کچھ چھین گیا ہے
01:49اس کے بدلے میں کچھ ایسا ملنے والا ہے
01:52جو انسانی تصور سے بھی کئی زیادہ عظیم ہے
01:54یہاں اس بات پر غور کرنا لازمی ہے
01:57کہ آخر اس لفظ کوسر کا اصلی مطلب کیا ہے
02:01دیکھیں کوسر صرف کوئی چھوٹی موٹی وقتی
02:04یا دنیا کے فائدے کا نام نہیں ہے
02:06اس کا لغوی مطلب ہی بہت زیادہ خیر ہے
02:10ایک ایسی لا محدود بے شمار بھلائی
02:13جو اتنی وسی ہے کہ اسے گناہی نہیں جا سکتا
02:16اسلامی روایات کے مطابق یہ جنت کی ایک خاصوسی نہر بھی ہے
02:20اور اس کے ساتھ ساتھ ہدایت اور انگنت نعمتوں کا ایک سمندر بھی
02:24یعنی دنیا کی جن چھوٹی چھوٹی چیزوں کے چھن جانے پر
02:28دشمن جشن منا رہے تھے نا
02:30کوسر ان سب سے بہت بہت آگے کی حقیقت ہے
02:33ذرا استقابل اس کونٹراسٹ کو دیکھیں
02:35ایک طرف دنیا اور معاشرے کی چھوٹی سوچ تھی
02:38جو کہہ رہی تھی کہ بس سب کچھ ختم ہو گیا
02:41اور دوسری طرف خالق کا بیان تھا کہ ہم نے کوسر عطا کر دی ہے
02:46یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے
02:47کہ انسانوں کی سنگی سوچ اور اس رب کے وسیع فیصلوں میں
02:51زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے
02:53دنیا کا نقصان تو وقتی ہے
02:55لیکن کوسر اس نقصان کا ایک عبادی اور بے مثال جواب ہے
03:00اس سے ایک بہت اہم سبق ملتا ہے
03:03جب سوسائٹی کسی کو اس کے آزی حالات کی بنیاد پر کمزور سمجھ لیتی ہے
03:07تو یاد رکھیں
03:09وہ سماجی رائے کبھی بھی حتمی سچائی نہیں ہوتی
03:12انسان تو صرف آج کی کمزوری دیکھتا ہے
03:15مگر رب کا فیصلہ اس عبادی مستقبل کو جانتا ہے
03:18جو ابھی ہماری نظروں سے اوجھل ہے
03:20اچھا یہ تو ہو گئی تسلی
03:23لیکن اس آزمائش اور عطا کے بعد
03:26ہمارا عملی جواب کیا ہونا چاہیے؟
03:28سورہ کے دوسری آیت
03:30بلکل واضح راستہ دکھاتی ہے
03:32فسلی لے رب کا ونہر
03:35یعنی نماز پڑھئے اور قربانی کیجئے
03:37یہ سکھاتا ہے کہ جب کوئی بڑی نعمت مل جائے
03:40تو اس کا فطری ریاکشن
03:42اس کا سب سے پہلا جواب
03:43شکر گزاری اور سچی عبادت ہی ہونا چاہیے
03:47نعمت ملنے پر مغرور نہیں ہونا
03:49بلکہ اور زیادہ آجز ہو جانا چاہیے
03:52ویسے عمومی طور پر انسانی نفسیت کیا ہے؟
03:55یہی نہ کہ
03:58یا پیسہ ڈوب جاتا ہے
04:00تب ہی دعائیں مانگی جاتی ہیں
04:01لیکن اس سورے کا پیغام یہ ہے
04:03کہ حقیقی بندگی وہ ہے
04:05جب انسان خوشی کامیادی
04:07اور راحت کے دور میں بھی
04:09اپنے خالق کو نہ بھولے
04:10سچا شکر ہر حال میں قائم رہنا چاہیے
04:13اور ہاں قربانی کے حکم کے پیچھے
04:16اخلاص یعنی نیت کی سچائی
04:18کا ایک بہت گہرا سبق بھی چھپا ہے
04:21اصل میں نا عمل کتنا بڑا ہے
04:23اس سے زیادہ فرق
04:24اس بات سے پڑھتا ہے
04:25کہ نیت کتنی خالص ہے
04:27جو کچھ بھی قربان کیا جائے
04:29وہ صرف اس رب کی رضا کے لیے ہو
04:31دنیا والوں کی واہ واہ
04:32یا دکھاوے کے لیے ہرگز نہیں
04:34اب آتے ہیں اس انجام کی طرف
04:36جو ایک عبادی مراز چھوڑ گیا
04:38سورہ قوسر کی تیسری اور آخری آیات
04:41دشمنوں کے سبھی غرور پر
04:44ایک حتمی موہر لگا دیتی ہے
04:49یعنی بے شک آپ سے دشمنی رکھنے والا ہی
04:52بے نام و نشان رہے گا
04:53ذرا سوچئے
04:55جس وقت مخالفین اپنے تانوں پر جشت منا رہے تھے
04:58اسی وقت اس آیت میں یہ اعلان ہو گیا
05:01کہ دراصل مٹنے والے وہ خود ہیں
05:03اور آج
05:04آج کی عالمی حقیقت ہمارے سامنے ہے
05:07مغرب سے مغرب تک
05:09کتنی ہی زبانیں اور قومیں ہیں
05:11مگر روزانہ ازان اور نماز کی صورت میں
05:14رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام
05:16پوری دنیا میں گونچتا ہے
05:18ان کی میراس آج بھی دلوں میں زندہ ہے
05:21جبکہ وہ تانہ زنی کرنے والوں کا
05:23تاریخ میں کہیں ذکر تک نہیں
05:25یہ اس بات کا زندہ ثبوت ہے
05:27کہ کوسر کی اس بے شمار خیر کا وعدہ
05:29کس قدر سچا تھا
05:31تو آخر میں سوال یہ بنتا ہے
05:33کہ اس عظیم واقعے سے
05:35ایک عام انسان
05:36جو شاید آج کسی غم سے گزر رہا ہو
05:39وہ کیا سیکھ سکتا ہے
05:40ان تین آیتوں کے اندر نہ
05:42غم کے اندھیرے سے نکلنے کا
05:45ایک پورا راستہ موجود ہے
05:46پہلا قدم جو نعمتیں پاس ہیں
05:49انہیں پہچانیں
05:50دوسرا مشکلات میں مایوس ہونے سے
05:53انکار کر دیں
05:54تیسرا لوگوں کی باتوں کے بجائے
05:56اس اوپر والے کے فیصلوں پر یقین رکھیں
05:59پھر شکر اور اخلاص کے ساتھ
06:01اس کی طرف رجوع کریں
06:02اور آخر میں نیگٹیو لوگوں اور ان کی باتوں
06:05کو مکمل طور پر اگنور کر دیں
06:07یہ وہ پریکٹیکل سٹیپس ہیں
06:09جو کسی کو بھی گہرے سے گہرے دکھ سے
06:11باہر نکال سکتے ہیں
06:12دراصل ہمارا آج کا یہ جائزہ ہمیں
06:15اس بہت ہی پیارے نکتے پر لا کھڑا کرتا ہے
06:17کہ آج کا نقصان
06:19کسی کی مکمل کہانی نہیں ہوتا
06:21آج کی تنہائی ہمیشہ نہیں رہنے والی
06:24اگر آج حالات برے لگ رہے ہیں
06:26تو وہ آخری فیصلہ ہرگز نہیں ہے
06:28کیونکہ پیدا کرنے والا
06:30کب کون سے اندیکھے
06:32راستے کھول دے
06:33اور کاثر کی شکل میں ایسی لا محدود خیر عطا کر دے
06:36جس کی کسی نے امید بھی نہ کی ہو
06:38یہ کوئی نہیں جانتا
06:39یہ جائزہ اب ہمیں ایک بہت ہی اہم
06:42فکری سوال کے ساتھ چھوڑے جاتا ہے
06:44سوچئے
06:45کیا ہم اپنی ساری توانائیاں
06:47اس چھوٹی سی دنیا کی آرزی اور جھوٹی تعریفیں
06:50سمیٹنے میں زائع کر دیں گے
06:52یا اس آبادی اور عظیم کاثر کے وعدے میں
06:55اپنا سکون تلاش کریں گے
06:56چنت ہماری اپنی ہے
06:58امید ہے
06:59اس جائزے سے اس موضوع کو دیکھنے کا
07:01ایک بلکل نیا اور گہرا زاویہ ملا ہوگا
Comments