Sarmaya e Aslaf - Topic: Imam Ahmed Raza Khan Barelvi R A
To Watch All Episodes of Sarmaya e Aslaf || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xie8GN5M09gP6xhh0tJzM39Z
Speaker: Mufti Ahsen Naveed Niazi
#sarmayaeaslaf #muftiahsennaveedniazi #aryqtv #ImamAtaibnAbiRabahRA
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficials
To Watch All Episodes of Sarmaya e Aslaf || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xie8GN5M09gP6xhh0tJzM39Z
Speaker: Mufti Ahsen Naveed Niazi
#sarmayaeaslaf #muftiahsennaveedniazi #aryqtv #ImamAtaibnAbiRabahRA
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficials
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:01Zamanah jis hai, hor jaha hai, yeh au beya Allah
00:14بسم اللہ الرحمن الرحیم, الحمدللہ, fil ardi wasama, wa salaatu wasalamu ala akramil korama wa ala alihi wa sahbihi wal
00:20aimati wal علama
00:21Amma bat, معazes, nādrin och sāmii nā ajih eek mertbha, phir program, sarmaiya aslaaf lage kar, hym av ki khidmat
00:27me hadir hain
00:27Now our topic has been a paker, ilm, and hikmah, syrape, ishk, and mokb,
00:33imam ehl sunnat, mujadid, deen, and millet,
00:36aalha, hazret, imam ahmed rada khan rahimahullah,
00:39mutwafah, 1340 sena hijjriya, and have you all.
00:43what is the comment?
00:44Inam ehl sunnat rahimahullah.
00:46What is the answer?
00:47aalha, hazret, imam ahmed rada khan rahimahullah,
00:49charismatic personality,
00:51charismatic personality.
00:53towering personality,
00:54you have to be able to share your information.
00:56علم وعمل کے جامعے ظاہر و باطن کے جامعے علوم اقلیاں ہوں یا علوم نقلیاں ہوں
01:02اس کے جامعے اصول و فرو پر حاوی تھے
01:04حاوی الاصول والفرو اور جامع الماکول والمنکول
01:09بلکہ جبل العلم کا لفظ جو ہے وہ آپ کی کامت زبا پر صادق آتا ہے
01:13جبل العلم کہتے ہیں علم کے پہاڑ کو
01:16جب ہمارے یہاں جبل العلم کہا جاتا ہے تو اس میں تشبیح پہاڑ سے دیتے ہیں
01:21اس وجہ سے ایک وجہ تشبیح تو یہ ہوتی ہے کہ جس طرح پہاڑ راسخ ہوتا ہے
01:26تو جو بندہ راسخ فی العلم ہو تو رسوخ فی العلم کی بنیاد پر اسے کہا جاتا ہے جبل العلم
01:32یعنی یہ راسخ فی العلم ہے جیسے پہاڑ راسخ ہے اپنی جگہ پر
01:36تو ایسی یہ علم میں راسخ ہے اس کو علم میں ایسی پختگی حاصل ہے
01:40ایسی گہرائی اور گیرائی حاصل علم کے اندر کمان
01:43اور دوسری تشبیح ہوتی ہے بعض اوقات وجہ تشبیح یہ ہوتی ہے
01:47پہاڑ سے تشبیح دیتے ہیں
01:48زخامت میں
01:52علم کی عظمت
01:53علم کی زخامت
01:54یعنی کسرت علم
01:56وفور علم
01:56اور کبھی ایسا ہوتا ہے
01:58کہ دونوں میں تشبیح دینا مقصود ہوتا ہے
02:00تو آل حضرت امام حمد رضا خان رحم اللہ
02:02وہ ہیں جنہیں ان دونوں بنا پر
02:04جبل العلم کہا جاتا ہے
02:06کہ رسوخ فی العلم کو دیکھیں
02:08تو بھی یہ جبل العلم ہیں
02:09اور کسرت علم کو دیکھیں
02:11وفور علم کو دیکھیں
02:12تو بھی یہ جبل العلم ہیں
02:14باہر العلم کا لفظ آپ کے لئے استعمال ہوتا ہے
02:17یعنی علوم کا سمندر
02:19تھاٹھیں مارتا سمندر تھے آپ خود
02:21اور آپ نے جو تعلیفات لکھی ہیں
02:23کتابیں لکھی ہیں
02:24سینکڑوں کتابیں آپ نے تعلیف فرمائی ہیں
02:27ایک ہزار عدد بیان کیا جاتا ہے
02:29سب تو دستیاب بھی نہیں ہو سکیں
02:31لیکن باہرحال سینکڑوں کتابیں
02:33بلا مبالغہ آپ نے تعلیف فرمائی ہیں
02:35اور جن میں ٹاپ آف دا لسٹ جو ہے
02:36وہ آپ کا مجموعہ فتاوہ
02:4233 مجلدات پر ہے
02:4333 والیمز پر
02:44اور یہ ہماری میز کی زینت بھی اس وقت سامنے
02:46اسی کی بعض جلدیں ہم نے رکھی ہوئی ہیں
02:48میز پر سجائی ہیں
02:49آلہ حضرت کا مجموعہ فتاوہ نہیں ہے
02:51اکیلے آدمی کا کام ہے
02:52ایک آدمی کا مجموعہ فتاوہ ہے
02:54اور 33 جلدوں میں آیا ہے
02:56اور یہ بھی آپ کے سارے فتاوہ کا مجموعہ نہیں ہے
02:59ابھی بھی کچھ فتاوہ رہ گئے
03:00جو فتاوہ دستیاب ہو سکے
03:02جو رسائل دستیاب ہو سکے
03:04ان پر اچھی انداز میں کام کر کے
03:0533 جلدوں میں اسے شائع کیا گیا ہے
03:08بہترین کام ہے
03:09شاندار اور جاندار کام ہے
03:11اور کیوں نہ ہو جناب
03:13کہ آپ نے اس کا نام رکھا
03:16کہ یہ نبوی عطائیں ہیں
03:19فتاوہ رضویہ کی صورت میں
03:20یعنی حضور جانِ عالم
03:22صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے
03:25جو فیض ملا ہے
03:26جو آپ کی برکات ہیں
03:28جو آپ کی برکات سے
03:29آپ کے صدقے طفیل
03:31اللہ نے جو علوم عطا فرمائے ہیں
03:33مجھے یہ فتاوہ رضویہ کی صورت میں
03:36میں نے انہیں بخیر دیا ہے
03:37نام رکھا اس کا
03:41اختصارا ہم لوگ فتاوہ رضویہ کہہ کر
03:43اسے یاد کرتے ہیں
03:45اور آپ کا جو انداز ہے
03:47فتاوہ رضویہ کے اندر
03:48سبحان اللہ
03:48کہ اگر کوئی سوال
03:50عربی دبان میں پوچھا جاتا ہے
03:51تو آپ عربی دبان میں جواب دیتے ہیں
03:53سوال فارسی دبان میں پوچھا جاتا ہے
03:55آپ فارسی میں جواب دیتے ہیں
03:56سوال اردو میں پوچھا جاتا ہے
03:58its questions if you Jiat have a reply
04:02. . . . . . ?
04:02. . . . . . I would say from the top of you
04:09are those who youUnited as a chega
04:13. . . . . . . . . . ?
04:16. . . . . . . . . ?
04:25foreign
04:55Yeah, you can put it on your own.
04:56But first of all, in the book, we have some write about AAP71,
05:00which we have brought about a lot of a book.
05:02It's like the first time of a program, we have determined.
05:06As well, the book, I will put it on the Arab in the Arab society.
05:10So, we have to talk about now that we have a book that we have not been recognized
05:13that it can be complete with and comes out of the book.
05:15We have to be able to book a book that we have put in the book.
05:16We have to be able to book a book that just to make up our book.
05:20So, we have a book on the book that we have done.
05:21Now we have got to book a book that is published in a book that has been published in the
05:24book.
05:24If you see the
05:25answers are
05:38in
05:41the most important part is that we have in the first place
06:09ڈسیکرائب کیا گیا
06:10Then the third is
06:13Juhud al-imam al-barilwi wa-a-thar-uhu fi t-tafsir
06:16Imam Ahmad Rada Khan rahimahullah ki
06:20Juhud al-imam al-imam al-barilwi wa-a-thar-uhu fi t-tafsir
06:33Juhud al-imam al-barilwi wa-a-thar-uhu fi al-hadith wa-alum hii
06:38حدیث اور علوم حدیث کے بارے میں جو آپ کی کاوشیں ہیں
06:41جو آپ کی خدمات ہیں
06:42ان کا بڑے ہی امدہ انداز میں جائزہ لیا گیا
06:45اس جلد کے اندر یہ پوری جلد وقف ہے
06:47حدیث اور علوم حدیث کے میدان میں آپ کی خدمات کے لیے
06:50آپ کی خدمات کا جائزہ لیا ہے
06:52آپ کی کتابوں کا تذکرہ کیا ہے
06:53آپ کی رسالوں کا تذکرہ کیا ہے
06:55کہ حدیث کے والے سے کیا کیا کام آپ نے کیا ہے
06:57علوم الحدیث پر کیا کیا کام کیا ہے
06:59पिर आपकी किताबों के अंदर जो कांटेन बिखरा हुए हादीस और अल्मिफ भीष पहाले से कहां किस किस किसम के
07:05उसमें नादिर नकात मौझे ये हुआ है
07:08इसी तरह पिर जहोहूद अलमाम निबरिम्मार थार हुव फी इसलाह अम्माथ
07:15umt کی اصلاح کے معاملے میں
07:17عالی حضرت امام احمد رضا خان رحم اللہ کی کوششیں
07:20اور آپ کے آثار
07:21آپ کی تصانیف
07:22آپ کی خدمات
07:23کہ آپ نے اصلاح امت کے لیے
07:25اصلاح معاشرہ کے لیے
07:27society کی فلاح و بیبود کے لیے
07:29بدعات کی بے کنی کے لیے
07:32بدعات کے استحال کے لیے
07:34کیا کوششیں کی ہیں
07:35آپ کی کیا تعلیمات ہیں
07:36اور اس حوالے سے
07:37آپ کے کریڈ پر کیا کام ہے
07:39یہ پوری جلد اس کے لیے وقف کی گئی ہے
07:41یعنی آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں
07:42کہ امام احمد رضا اور رد بدت
07:44یا یوں کہلیں امام احمد رضا اور
07:46اصلاح معاشرہ
07:48یا یوں کہلیں کہ امام احمد رضا اور خدمت خالق
07:50ان سارے انوانات کو اس نے گھیرا ہوا ہے
07:53بڑے اچھے انداز میں اس پر کام ہے
07:54یہ چار جلدیں یہ وقف ہیں
07:57اعلیٰ حضرت امام اہل سنت رحم اللہ کی شخصیت
07:59اور آپ کے تفسیری کارناموں
08:01حدیثی کارناموں
08:02اور اصلاح امت کے لیے
08:04اصلاح معاشرہ کے لیے
08:05سوسائٹی کی فلاو بیبود کے لیے
08:07آپ کی کاوشوں کے نام
08:08تو یہ المجموعت الاولہ ہے
08:09پھر المجموعت و ثانیہ
08:11جو ہے المجموعت و ثانیہ میں
08:13المجلد الخامس
08:14جو پانچمیں جلد ہے
08:15وہ ہے مجموعت و خطبات و آسانید و اجازات
08:18آپ کے جو خطبات ہیں
08:20ان کو اس میں شامل کیا گیا ہے
08:22آپ کی آسانید اور اجازات کو شامل کیا گیا
08:24یعنی جو آسانید آپ کو حاصل تھیں
08:26جن آئمہ سے
08:28جن مشایخ سے
08:29جن علماء سے آپ کو آسانید حاصل ہیں
08:31اس میں حدیث کی آسانید بھی شامل ہیں
08:33فقہ کی آسانید بھی شامل ہیں
08:35اس میں تصوف کی طریقت کی آسانید بھی شامل ہیں
08:38اسی طرح آپ نے آگے جو آسانید دی ہیں
08:40جو اہلِ علم و فضل کو
08:42جن کو آپ نے سند دی ہے
08:43کسی کو حدیث کی سند دی
08:44یا فقہ کی سند دی
08:46یا دیگر علوم و فنون کی اجازت کی آپ نے سند دی
08:48یا طریقت کی خلافت کی سند دی
08:51تو وہ سندوں کا مجموعت جا ہے آپ کا
08:53پوری جل اس کے وقف ہے اس کے لئے
08:55المجلد خامس
08:57پھر اس کے بعد جو المجموعہ تو ثالثہ ہے
08:59المجلد سادث یعنی چھٹی جل
09:01چھٹی جل وہ مجموعہ ہے
09:03رسم الافتاع کے بارے میں آپ کے تین رسالوں کا
09:06مجموعہ تو رسائل فی رسم الافتاع
09:08رسم الافتاع میں افتاع کے قوائد و زوابط کے بارے میں
09:11افتاع کی علامات
09:12فتوہ نویسی میں جن چیزوں کی ضرورت پیش آتی ہے
09:15فتوہ نویسی کے حوالے سے جو اصول ہیں
09:17جو قوائد ہیں جو زوابط ہیں
09:19اس کے حوالے سے تین رسالے ہیں
09:21آپ کے جو اس جلد میں جمع کیے گئے ہیں
09:23ایک رسالہ پہلا رسالہ ہے
09:25اجل العلام ان الفتوہ
09:27مطلقاً علا قول الامام
09:29اس رسالے میں آپ نے
09:31البحر و رائق کے جو مصنف ہیں
09:32امام ابن نوجائم مصری رحمہ اللہ
09:35انہوں نے جہاں یہ فرمایا کہ فقہ حنفی کے اندر
09:37فتوہ مطلقاً امام آدم ابو حنیفہ
09:39رحمہ اللہ کے قول پر ہوتا ہے
09:40کچھ مقصوص صورتیں ہیں
09:42کچھ مقصوص اسباب ہیں جن کی وجہ سے
09:45فتوہ تبدیل ہوتا ہے
09:46اس میں فتوہ تبدیل ہوتا ہے
09:48ان مقصوص اسباب سے ہٹ کر
09:50عام حالات میں وہ چھے اسباب
09:52اسباب ستہ کے نام سے مشہور ہیں
09:54اور ویسے اگر انہیں کھول کر بیان کیا جائے تو وہ
09:55سات اسباب بنتے ہیں ٹوٹل
09:57سات بنیادی اصول ہیں وہ فقہ کے
10:00فقہ حنفی کے
10:01ان اسباب کو چھوڑ کر
10:04جن کی وجہ سے فتوہ تبدیل ہوتا ہے
10:06بقیہ عام حالات میں جنرل کنڈیشن میں
10:08فتوہ امام آدم ابو حنیفہ رائی مولا کے
10:10کال پر ہی ہوتا ہے
10:12فقہ حنفی میں
10:13یہ صاحب البحر و رائق نے یہ بات فرمائی تھی
10:16بعض علماء نے ان کی اس بات کا رد کیا تھا
10:18تو آلہ حضرت امام علی سنت نے
10:19البحر و رائق والوں کی اس بات کا دفاع کیا
10:22اور جو دیگر حضرات علماء نے
10:24اس پر شبہات پیش کیے تھے
10:25یا اعتراضات کیے تھے
10:26آپ نے ان اعتراضات کا تنقیدی جائدہ لیا ہے
10:29ان کا جواب دی اور بتایا
10:30کہ جنرل صاحب البحر و رائق کی یہ بات
10:32بالکل درست ہے
10:33کہ فقہ حنفی میں فتوہ مخصوص
10:35چند صورتوں کو چھوڑ کر
10:37فتوہ امام آدم ابو حنیفہ رائی مولا کے
10:39کال پر ہوتا ہے
10:40اور یہ بات سمجھانے کے لیے
10:41آپ نے اس سے پہلے
10:42سات تمہیدی مقدمات بیان فرمائے ہیں
10:45بڑے ہی امدہ مقدمات آپ نے بیان فرمائے ہیں
10:47جو لوگ بھی فقہ سے شگف رکھنے والے ہیں
10:50ان کے لیے یہ لازم المتعالی رسالہ ہے
10:53بلکہ ہمارے یہاں برے سیر پاک و ہند میں
10:55جہاں تخصص فلفق ہوتا ہے
10:58سپیشلائزیشن انجوری شپروڈینس
10:59تو وہاں پر بقاعدہ یہ رسالہ نساب کا حصہ ہے
11:02مفتی کورس کے جو طلبہ ہیں
11:04ان کے کریکلم کا حصہ ہے
11:05ان کو یہ رسالہ بقاعدہ پڑھایا جاتا ہے
11:08درسیات میں شامل ہے
11:09متداول ہے
11:10بڑے امدہ اس میں آپ نے مقدمات بیان کی ہیں
11:12تمہیدی مقدمات
11:13ان کے میں جس میں آپ نے یہ بات ذکر فرمائی ہے
11:16کہ فتوہ کسے کہتے ہیں
11:17فتوے کی اقسام بیان کی ہیں
11:19آپ نے دلیل کی اقسام بیان کی ہیں
11:22بتایا ہے کہ ایک حقیقی فتوہ ہوتا ہے
11:24ایک عرفی فتوہ ہوتا ہے
11:25دلیل کی اقسام بیان کی
11:26تفصیلی دلیل ہوتی ہے
11:27ایک اجمالی دلیل ہوتی ہے
11:29تقلید کی اقسام بیان کی
11:30کہ ایک حقیقی تقلید ہے
11:32ایک عرفی تقلید ہے
11:33کال کی اقسام بیان کی
11:35کہ ایک قول سوری ہوتا ہے ایک قول ضروری ہوتا ہے
11:37پھر ان سب کی کیا تفصیلات ہیں
11:39بڑے ہی امدہ انداز میں آپ نے اسے واضح فرمایا
11:41تو بڑا شاندار رسالہ ہے آپ کا یہ شاندار اور جاندار رسالہ
11:45زبردست کام ہے آپ کا فقہ حنفی پر
11:47اور یہ رسالہ پڑھ کر پتا چلتا ہے
11:49کہ فقہ حنفی پر اور خصوص اور بالعموم فقہ اسلامی پر
11:54آپ کی کیسی گہری نظر تھی
11:56کہ آپ اس میں یدے طولہ رکھتے تھے
11:58یدے بیضہ رکھتے تھے
11:59اس کے اندر فقہ کے اندر بہترین فقی چوٹی کے فقی تھی آپ
12:03آل حضرت امام احمد رضا خان راہی مولا
12:05تو اس کے اندر آپ نے مختلف عشقالات کا جائزہ بھی لیا ہے
12:09ان کا حل بھی کیا بڑے امدہ انداز میں سمجھا ہے
12:12یہاں بتایا دلیل کی تفصیل بیان کی
12:14کہ ایک دلیل تفصیلی ہوتی ہے
12:15بتایا کہ فتوہ بغیر دلیل کے نہیں دیا جا سکتا
12:17دلیل کے ساتھ ہوتا ہے
12:18دلیل کی بات کی تو بتایا جناب ایک دلیل تفصیلی ہوتی ہے
12:21ایک دلیل جمالی ہوتی ہے
12:23دلیل تفصیلی تو یہ ہے
12:24کہ ایک بندہ خود کتاب و سنت سے براہ راست استمباد کرے
12:27تو کہا یہ دلیل تفصیلی یہ
12:29مشتحد کے ساتھ خاص ہے
12:30کیوں؟
12:30اس لیے کہ دلیل تفصیلی کے لیے ضروری ہے
12:33کہ بندے کو یہ پتہ ہو
12:34کہ یہ دلیل
12:35اس کے معارض کوئی دوسری دلیل نہیں پائی جاتی
12:37تو اس کے لیے استقرائے عدلہ ضروری ہے
12:40یعنی تمام دلائل معلوم ہونا ضروری ہے
12:42اور تمام دلائل تو صرف مشتحد کوئی معلوم ہوتے ہیں
12:45غیر مشتحد تمام دلائل معلوم کری نہیں سکتا
12:47تو دلیل تفصیلی کی جو معرفت ہے
12:49یہ مشتحد کے ساتھ خاص ہے
12:50دلیل اجمالی کیا ہے
12:51وہ جو قرآن نے بیان فرمایا
12:53فَسْأَلُوا أَحَلَ الذِّكْرِ إِن كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
12:56کہ تم علم والوں سے پوچھو
12:58اگر تمہیں کسی چیز کا پتہ نہ ہو
13:00تم نہ جانتے ہو
13:01تو علم والے کا قول یہ بھی دلیل ہے
13:03یا جہاں قرآن میں فرمایا
13:04کہ اللہ کی اطاعت کرو
13:05اللہ کے رسول کی اطاعت کرو
13:07اور علل الامر کی اطاعت کرو
13:08تو اب یہ بھی دلیل اجمالی ہے
13:10تو کہا ہے جو تقلید جب ہم کہتے ہیں
13:12حقیقی تقلید وہ ہے
13:13کہ جب بندہ بے دلیل کسی کی بات مانے
13:16یعنی نہ دلیل تفصیلی بندے کے پاس ہو
13:18نہ دلیل اجمالی ہو
13:19وہ تقلید حقیقی ہے
13:21اور وہ ممنوع ہے
13:22وہ ناجائز ہے
13:23اس کی مدمت کی گئی ہے
13:24باقی جسے ہمارے عرف میں تقلید کہا جاتا ہے
13:27یہ تقلید عرفی ہے
13:28یہ حقیقی تقلید نہیں ہے
13:30اسے تقلید کہا جاتا ہے
13:31کسی امام مجتحد کی بات کو تسلیم کرنا
13:35ہمیں دلیل معلوم نہ ہو
13:36پھر بھی امام مجتحد کے قول کو ہم اختیار کر لیں
13:38تو آپ نے واضح فرمایا
13:40کہ امام مجتحد کا قول خود دلیل ہے
13:42مقلد کی حق میں
13:43قرآن کی روشن میں
13:44قرآن نے کہا ہے
13:45کہ اہل علم سے پوچھو
13:46اگر تمہیں نہ پتا ہو
13:47تو وہ اہل علم کا بتانا دلیل ہے
13:50عام آدمی کے لیے
13:51جو عام مقلد ہے
13:52اس کے لیے دلیل ہے
13:53فرمایا
13:53لہذا وہ تقلید عرفی ہے
13:55تو تقلید عرفی میں کوئی مداقع نہیں
13:56بلکہ تقلید عرفی جو ہے وہ
13:58عام لوگوں کے لیے ضروری ہے
13:59باقی جو اشتہاد کرنے والا ہے
14:01جو مجتحد ہے
14:02اس کے لیے تقلید نہیں ہے
14:03باقی جو تقلید حقیقی ہے
14:05وہ تو کسی کے لیے بھی نہیں ہے
14:06نہ عوام کے لیے
14:07نہ خواص کے لیے
14:08اور اس کا ہمارے یہاں
14:09کوئی قائل نہیں ہے
14:10تو تقلید
14:11لہذا اس پر جو اطراز ہے
14:12وہ اطراز بھی آپ نے دور کیا
14:13بڑے امدہ انداز میں
14:14بہرحال آپ نے سمجھایا
14:15اسی میں آپ کا ایک اور دوسرا رسالہ
14:17جلی و نصفی اماکن رخص
14:21رخصتیں شریعت کے اندر
14:22کسی چیز کے درجات کیا ہوتے ہیں
14:24ضرورت
14:25حاجت
14:25زینت
14:26منفعت
14:27فضول
14:27کس صورت میں حکم تبدیل ہوتا ہے
14:29کس میں نہیں ہوتا
14:30ضرورت شدیدہ ہو
14:32تو حکم تبدیل ہوتا ہے
14:33ضرورت شریعہ ہو
14:34حکم تبدیل ہوتا ہے
14:35پھر حاجت کس صورت میں
14:36ضرورت کے ساتھ ملحق ہوتی ہے
14:38حاجت شدیدہ ہو
14:39تو ضرورت کے ساتھ ملحق ہے
14:40حکم تبدیل ہو جاتا ہے
14:41حاجت شدید نہ ہو
14:43تو وہ ضرورت کے ساتھ ملحق نہیں ہوتی
14:44منفعت ہو
14:45اس کے ساتھ حکم تبدیل نہیں ہوتا
14:47زینت کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتا
14:48فضول کے ساتھ تو بدرجہ والا نہیں ہوتا
14:50اس کو مثالیں دیر کر بڑے ہی امدہ انداز میں سمجھایا
14:53کہ کن صورتوں میں رخصت کا پہلو آتا ہے
14:56کن صورتوں میں رخصت کا پہلو نہیں آتا
14:58تو کوئی اگر اس فلسفے کو سمجھنا چاہے
15:00کہ کہاں پر شریعت رخصت دیتی ہے
15:03کہاں پر نہیں دیتی
15:04اور اس رخصت کے اصول کیا ہے
15:06اس کا ڈیکورم کیا ہے
15:07اس کا پروٹوکول کیا ہے
15:08اس کے اصول و ضوابط کیا ہیں
15:10تو اس کے لئے یہ شاندار رسالہ ہے
15:12جلیوں نصفی اماکن رخص
15:14پھر اس کے بعد اسی کے اندر جو تیسا رسالہ ہے
15:16الفضل الموحبی فی مانا اذا صح الحدیث و فو مذہبی
15:21بہتین رسالہ ہے
15:22زبردست امدہ قسم کے اس میں مباعث ہیں
15:24بالخصوص حدیث کے حوالے سے
15:26فگاہ کے حوالے سے بھی ہیں حدیث کے حوالے سے بھی
15:27اس میں آپ نے اس بات کا جائزہ لیا ہے
15:37تو آپ نے یہ واضح کیا ہے
15:41کہ اس قول کے مخاطب کون لوگ ہیں
15:42آیا یہ انہیں ہر بندے سے کہا ہے
15:44ہر عام آدمی جسے جو ہے وہ عربی نہ آتی ہو
15:46جسے کسی طرح کے علوم و فنون پر کمانڈ نہ ہو
15:49وہ بھی اس کے مخاطب ہیں
15:50یا بعض خاص لوگ مخاطب ہیں
15:52تو آپ نے بتایا کہ خواس مخاطب ہیں
15:54جو مجتحد فی المدھب ہیں
15:55جو خود صاحب ندر ہیں
15:56اس قول کے مخاطب وہ لوگ ہیں
15:59عوام مخاطب نہیں ہیں
16:00پھر اس قول میں صحت سے کیا مراد ہے
16:02ایک ہوتی ہے صحت جو محدثین کی اسطلاح ہے
16:04اور ایک ہوتی ہے صحت فقہی
16:06جو فقہا کی اسطلاح ہے
16:07تو آپ نے بتایا کہ یہاں صحت حدیثی کافی نہیں ہے
16:10بلکہ صحت فقہی مراد ہے
16:12وہ ضروری ہے
16:13پھر اس میں بھی بتایا آپ نے کہ
16:14امام مجتحد بعض اوقات حدیث موجود ہوتی ہے
16:17اس کے بوجود حدیث پر عمل نہیں کر رہا ہوتا
16:19اس کی کیا وجوہ ہیں
16:21تو آپ نے تقریباً 18 وجوہ بیان کی ہیں
16:24بڑے امدہ انداز میں
16:25پھر اجتحاد کا بتایا ہے
16:26پھر اجتحاد کے چار درجات بیان کی ہیں
16:29مرادت بیان کی ہیں
16:30جن کے ذریعے صحت فقہی چیک ہو سکتی ہے
16:33کہ صحت حدیثی چیک کرنے کا ایک میار ہے
16:35ایک ضابط ہے
16:36ایک صحت فقہی چیک کرنے کا میار اور ضابط ہے
16:39تو وہ کیا ضابط ہے
16:40بڑے امدہ شاندار انداز میں آپ نے وعدے کی ہے
16:42الگراز جو اس کو پڑے گا
16:44تو اسے وعدے ہو جائے گا
16:45بہت سے جو اس کے اشکالات اور اترادات ہیں
16:48تقلید کے حوالے سے
16:49یا امام مشتحد کے حوالے سے
16:50یا امام ادم اب حنیفہ کے حوالے سے
16:52یا دیگر آئے میں مشتحدن کے حوالے سے
16:53تو اس کا ذن کلیر ہو جائے گا
16:55اس کے وہ سارے اترادات دور ہو جائیں گے
16:57اور معاملہ اچھے انداز میں سمجھ میں آ جائے گا
16:59تو یہ زبردست مجموعہ ہے
17:01یہ جو مجموعہ رسائل الامام محمد رضا خان
17:03یہ اس کا پہلا حصہ ہے
17:04چھ جلدوں پر
17:05تین مجموعہ ہے
17:06چھ جلدیں شاندار ہے
17:07زبردست لائق کے مطالعہ
17:08یہ عربی زبان میں سارا
17:09پھر جہاں وہ ایک کتاب آپ کی امی نظر آتی ہے
17:11مشتلل عروس و مراد النفوس کے نام سے
17:14یہ کتاب آپ نے علم جفر پر تعلیف فرمائی
17:17مدینہ منورہ سے ایک عالم آئیت علامہ سید حسین
17:20بن علامہ سید عبدالقادر
17:22طرابلوسی مدنی رحمہ اللہ
17:23چودہ ماہ آپ کے پاس انہوں نے قیام کیا
17:25انہوں نے آپ سے علم جفر سیکھا
17:27اور دیگر علم بھی سیکھے
17:28تو آپ نے یہ ان کے لئے کتاب لکھی تھی
17:30مشتلل عروس و مراد النفوس
17:32علم جفر پر شاندار کام ہے
17:33بہترین کام آپ نے کیا
17:34زبردست کتاب ہے آپ کی یہ
17:36اللہ تعالیٰ حضرت امام علیہ السنت
17:38رحم اللہ کے درجات کو بلند فرمائے
17:40اعلیٰ حضرت کا جو ہم پڑھتے ہیں
17:42ان کی زیست کا مطالعہ کرتے ہیں
17:45سوانے حیات کا مطالعہ کرتے ہیں
17:46اور خود جو ان کا اپنا کام ہے
17:48جو لٹریچر ہے ان کا
17:49اسے جب ہم پڑھتے ہیں
17:50تو واقعی وہ میر تقیمیر کا
17:52یہ شیر دوان پر جاری ہو جاتا ہے
17:53میر تقیمیر نے ویسے
17:54اپنے بارے میں کہا تھا
17:55سارے عالم پر ہوں میں چھایا ہوا
17:58مستند ہے میرا فرمایا ہوا
18:00لیکن جب ہم آلہ حضرت کو پڑھتے ہیں
18:01تو ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے
18:03کہ واقعی آلہ حضرت یہ کہنے کے حق دار ہیں
18:05انہیں یہ حق پہنچتا ہے
18:06کہ وہ یہ بات کہیں
18:08سارے عالم پر ہوں میں چھایا ہوا
18:10مستند ہے میرا فرمایا ہوا
18:11یعنی فقہ کی دنیا میں
18:13فقہ کے عالم پر
18:14سارے عالم پر ہمیں چھایا ہوا
18:16مستند ہے میرا فرمایا ہوا
18:17اللہ تعالیٰ و تعالیٰ
18:19امامِ اللہ سنت
18:19آل حضرت رحم اللہ کے درجات
18:21کو اور بلند فرمائے
18:22اور ہمیں آپ کی تصانیف و
18:23تعلیف سے استفادہ کرنے کی
18:25اور آپ کی تعلیمات پر
18:26عمل پیرا ہونے کی
18:27توفیق رفیق برحمت فرمائے
18:28بہاکھرو دعوانا
18:29ان الحمدللہ رب العالمین
18:31زمانہ جس ہے اور جہاں ہے
18:39یہ عویہ اللہ
Comments