Skip to playerSkip to main content
Sarmaya e Aslaf - Topic: Imam ibn Hajar Al Asqalani RA

To Watch All Episodes of Sarmaya e Aslaf | https://bit.ly/47jbLHu

Speaker: Mufti Ahsen Naveed Niazi

#SarmayaeAslaf #MuftiAhsenNaveedNiazi #ARYQtv

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00Al-Fatiha.
00:30war always for the mutspah mr.
00:31Mokhtar
00:32sallallahu alayhi wa alayhi wa saha bhit
00:35feebina al-athar
00:37amma bat
00:37mozzaz nazirin u samin
00:39anach eek mertabah phir progam
00:41surmaayah asalaf lekar
00:42hama hap ki khidmat mein hadir hain
00:44anach emara mevzuh sukhan hai
00:46shaykh ul-islam
00:47khatimat ul-hufassoci
00:49imdat ul-muhakkikin
00:51wal-mudakkikin
00:52imam shihabuddin
00:54abulfuzil ahmad bin aliy
00:56ibni hjar
00:57askalani rahimahullah
00:58852 سنہ حجریہ
01:01اور آپ کی بعض تعلیفات
01:02ناظرین ہم آپ کو یہاں بتاتے چلیں
01:05کہ امام ابن حجر اسکلانی راہی محلہ پر
01:07سرمایہ اسلاف کے ہم دو پرامز
01:09پہلے بھی کر چکے ہیں
01:10ای پی 42 اور ای پی 66
01:12آج ہم ان کے بارے میں جو گفتگو کریں گے
01:15تو گویا یہ پارٹ 3 ہے
01:17ای پی 42 پارٹ 1 ہے
01:18ای پی 66 پارٹ 2 ہے
01:20اور آج ای پی 86 اس کا پارٹ 3 ہے
01:23آج ہم جو گفتگو کریں گے
01:25وہ اس سے ہٹ کر گفتگو کریں گے
01:28جن کتب کا تذکرہ ہم نے پچھلے دو پرامز میں کر دیا تھا
01:31آج ان سے ہٹ کر
01:32ہم آپ کی دیگر کتابوں کا تذکرہ کریں گے
01:34اور کچھ آپ کے حوال بیان کریں گے
01:36امام ابن حجر اسکلانی راہی محلہ کی
01:39کیا بات ہے
01:40بڑے بڑے آئمہ نے آپ کو والہانہ انداز میں
01:43خراج تحسین پیش کیا ہے
01:45ٹریبیوٹ پیش کیا ہے
01:46بلکہ خود حافظ شمسودین سخاوی راہی محلہ
01:49اور دیگر اقابر نے یہ بات لکھی ہے
01:51کہ آئمہ میں سے کوئی بھی
01:53امام ایسا نہیں ہے
01:54جس نے حافظ ابن حجر اسکلانی راہی محلہ کے سامنے
01:57سر تسلیم خم نہ کیا ہو
02:00تو آپ کو سب نہیں مانا
02:01بلکہ خود آپ کے اپنے استاد
02:04وہ بھی بڑے محدث چوٹی کے محدث تھے
02:06محدثین کے استاد تھے
02:08حافظ عراقی راہی محلہ
02:09وہ بھی آپ کا بڑا اکرام فرمایا کرتے تھے
02:12اور جب آپ کبھی تشریف لے کے جاتے
02:14کہیں سفر کے لئے
02:15تو وہ آپ کو بقاعدہ الودا کہتے
02:18اور جب آپ واپس آتے تو بقاعدہ آپ کو مبارک بات دیا کرتے تھے
02:22اور اگر وہ مجلس درس میں ہوتے
02:24اور حافظ بن حجر اسکلانی راہی محلہ کو تاخیر ہو جاتی
02:27تو وہ انتظار فرمایا کرتے
02:28اور جب کبھی حافظ بن حجر اسکلانی راہی محلہ
02:31ان کی مجلس میں حاضر ہوتے
02:32تو مجلس میں ایک گونج ہوتی تھی
02:34ایک آواز آتی تھی
02:35پتہ چلتا تھا کہ کوئی آیا ہے
02:37تو بڑا ہی اکرام فرمایا کرتے تھے
02:40اور بڑی ہی رسپیکٹ دیتے تھے
02:41حافظ بن حجر اسکلانی راہی محلہ کو
02:43حافظ راکی استاد ہونے کے باوجود
02:45اور پھر جب ان سے ان کے وقت وصال پوچھا گیا
02:48کہ آپ کے بعد آپ کا جانشین کون ہوگا
02:50تو اس پر آپ نے رشاد فرمایا تھا
02:52کہ میرے بعد میرا جانشین ابن حجر ہوگا
02:55پھر میرا بیٹا ابو زرائع راکی ہوگا
02:57اور پھر علامہ حیسمی
02:59تین بندوں کا ذکر کیا تھا
03:00سب سے پہلے آپ نے حافظ بن حجر اسکلانی راہی محلہ کا ذکر فرمایا
03:04اور حافظ شمسودین سخاوی راہی محلہ نے ذکر کیا
03:07حافظ بن حجر اسکلانی راہی محلہ کا
03:08تو کہا
03:09کہ حافظ بن حجر اسکلانی جب تک زندہ تھے
03:12تو دنیا کے تمام شہروں سے
03:14تمام خطوں سے
03:15تمام گوشوں سے
03:16حدیث کے علم کی خاطر
03:19ان کے پاس سفر کر کے آنا واجب تھا
03:21یہی وجہ ہے
03:22کہ جب تک وہ زندہ رہے ہیں
03:24تو میں نے کہیں اور کا سفر اختیار نہیں کیا
03:26صرف انہی کی خدمت میں رہا ہوں
03:28اور ان سے اقتصاب فیض کیا ہے
03:30جب ان کا وسال ہوا
03:31تو ان کے وسال کے بعد
03:33میں نے دیگر خطوں کا
03:34دیگر علاقوں کا سفر کیا
03:36اور دیگر علاقوں کے شیوخ سے بھی علم حاصل کیا
03:38یعنی ان کے نازیک حافظ بن حجر اسکلانی راہی محلہ
03:41مرتبے کی ایسی بلندی پر فائز تھے
03:43کہ وہ اپنے زمانے کے
03:45عالم العلمات تھے
03:46سب سے بڑے عالم تھے
03:48اور آپ کے ہوتے ہوئے
03:50کسی اور کے پاس
03:51آپ کو چھوڑ کر جانا
03:52انہیں گوارہ نہیں تھا
03:54اور ان کے نزدیک یہ درست نہیں تھا
03:55اور وہ چاہتے تھے
03:57کہ ان کے قریب رہ کر
03:58ان کی ملازمت اختیار کر کے
04:00یعنی ان کی ہمیشہ صحبت اختیار کر کے
04:03ان سے حد تل مقدور
04:04بھرپور استفادہ کیا جا
04:06اور آپ نے واقعی بھرپور استفادہ کیا
04:09اور یہی وجہ ہے
04:09کہ حافظ سخاوی راہی محلہ کی
04:11شخصیت سازی میں
04:12سب سے بڑا کردار جو ہے
04:14وہ حافظ بن حجر اسکلانی راہی محلہ کا ہے
04:16اور اگر اور کوئی شاگرد
04:18حافظ بن حجر اسکلانی راہی محلہ کا
04:19نام بھی ہوتا
04:20حافظ شمسون سخاوی کے سوا
04:21تو آپ کا نام زندہ رکھنے کے لیے کافی تھا
04:23لیکن حال یہ ہے
04:25کہ حافظ شمسون سخاوی راہی محلہ
04:26ایسے کئی اقابر
04:28حافظ بن حجر اسکلانی راہی محلہ کے شاگرد ہیں
04:30جو خود چوٹی کے امام ہیں
04:32محدث ہیں فقی ہیں
04:33That's how he is.
05:03that you do well, you should have a good look at the table,
05:10the personality of the church had come with you,
05:13so this is an idea other people who were working on a church and deserved
05:19and was super capable of healing and healing,
05:22that would be done, he went and came out and had you
05:26that sheikh Islam has said to keep saying that
05:30she said that
05:33and the world is the end of the hide and the jail is and the jail is
05:39and the jail is of the jail
05:41and the jail is so on
05:43this is the jail
05:45and the jail is so on
05:46this is the jail
05:48which is what I saw
05:51this is what I gave
05:56. . . . .
06:26میں ملنا ہے اور تم چونکہ
06:28کافر ہو اللہ کو نہیں مانتے
06:30اللہ پر ایمان نہیں رکھتے تو تمہارے
06:32لیے آخرت میں جو عذاب علیم
06:34تیار ہے دردناک عذاب تیار
06:36ہے اس کا اس دنیا کی حالہ
06:38سے موادنہ کیا جائے تو دنیا میں تو گویا
06:40تم اس کے مقابلے میں جنت میں رہ رہے ہو
06:42اس کا مطلب یہ ہے
06:43اس پر وہ یہودی مسلمان ہو گیا
06:46آپ کی اس تشریح سے اس توزیح
06:48سے مطمئن ہوا اور آپ کے اخلاق
06:50سے متاثر ہوا اور اس نے
06:51کلمہ پڑھ لیا اور حلقہ بگوش اسلام ہو گیا
06:54یہ بات امام مناوی راہی مولا نے
06:56ذکر فرمائی ہے فیض القدیر کے اندر
06:58حافظ بن حضر اسکرانی راہی مولا کی
07:00بڑی امدہ شان ہے شان و شوقت
07:02کے مالک تھے تصنیف و تعلیف
07:04جو آپ نے فرمایا عظیم لیگیسی ہے
07:06آپ کی گریٹ لیگیسی ہے جو آپ نے
07:08پیچھے سرمایہ چھوڑا ہے جو
07:10بجا طور پر سرمایہ افتخار
07:12ہے دھائی سو سے
07:14زائد کتابیں آپ نے تعلیف
07:16فرمائی ہیں ان میں سے اکثر کتابیں
07:18مطبو ہیں کچھ کتابیں مخطوط ہیں
07:20کچھ کتابیں تاحال مفقود ہیں
07:22مسنگ ہیں اس وقت یہ میرے ہاتھ میں کتاب
07:24ہے مصنفات تو شیخ الاسلامی
07:26ابن حجر کے نام سے یہ آپ کے
07:28شاگرد رشید امام اللامہ برحان الدین
07:30ابراہیم بن عمر بقائی راہیم اللہ
07:32متوفہ آٹھ سو پچاسی سنہ حجریہ انہوں
07:34نے تعلیف فرمائی تھی انہوں نے
07:35آپ کی کتابوں کی ایک لسٹ
07:37تیار کی تھی ایک فیرست تیار کی تھی
07:39وہ فیرست ہے اس کے اندر پر انہوں نے اپنی ایک دوسری
07:41کتاب انوانو زمان میں آپ بھی
07:43کچھ تعلیفات کا ذکر کی ہے اس کو بھی
07:45اس فیرست کے اندر ایڈ کیا گیا ہے اور اس کے
07:47ساتھ پھر حافظ شمسو دین سخاوی راہیم اللہ
07:49نے الجواہر و درر میں جن
07:51کتابوں کا ذکر کی ہے ان سے ہٹ کر ان کو
07:53بھی ذکر کیا گیا تو یہ دھائی سو سے زائد
07:55کتابوں کا تذکرہ باقاعدہ
07:57اس رسالے میں موجود ہے
07:59یعنی دو سو چھتر کتابوں
08:01کا تذکرہ موجود ہے آپ کی
08:03ڈیٹیل دی گئے اس کے اندر کے جو کتابیں آپ نے
08:05تعلیف فرمائے اتنا عظیم آپ نے ذکرہ چھوڑا ہے
08:07تو اب ہم آپ کی کچھ کتابوں کا
08:08تعرف پیش کرتے ہیں جن کا ذکر ہم نے پہلے
08:11نہیں کیا تھا پچھلے دو پرائیمز میں بھی ہم کچھ
08:13کتابوں کا تذکرہ کر چکے ہیں آج ہم ان سے
08:15ہٹ کر کچھ کتب کا تذکرہ کرتے ہیں
08:16یہ میرے ہاتھ میں آپ کی کتاب ہے
08:18قوت الحجاج فی عموم المغفرتی
08:21للحجاج بڑی شاندار
08:23کتاب ہے اس کتاب کا
08:25موضوع یہ ہے کہ ایک حدیث
08:27مبارک ہے جو حضور جانے عالم
08:29علیہ السلام سے منقول ہے حاجی
08:31کے لیے کہ حاجی کو حقوق اللہ اور حقوق
08:33اللہ عباد دونوں طرح کے گناہ
08:35معاف کر دیے جاتے ہیں دونوں میں جو
08:37کوتائیاں ہیں وہ معاف کر دی جاتے ہیں
08:39ایک طویل حدیث ہے جس کے اندر اس بات
08:40کا ذکرہ ہے کہ حضور جانے عالم
08:42صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
08:44شب عرفہ اللہ کے حضور دعا فرمائی
08:46حاجی کی مغفرت کے لیے اپنی امت
08:48میں جو حج کرنے والے ہیں ان کی
08:50مغفرت کے لیے تو اللہ تعالیٰ
08:52نے مغفرت کا اعلان فرمایا
08:54ظلم کو چھوڑ کر یعنی حقوق
08:56اللہ کی معافی کا اعلان فرمایا
08:59حضور جانے عالم صلی اللہ
09:00تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پھر بھی
09:02دعا فرماتے رہے کہ انہیں بھی
09:03معاف کر دیا جائے تو پھر اگلی شب
09:05شب مزدلفہ کو اللہ تعالیٰ نے
09:08اس میں بھی معافی کا اعلان فرما دیا
09:10اور پھر اس پہ نبی پاک علیہ السلام
09:12مسکرائے اور جب پوچھا گیا کیوں
09:13مسکرائے تو آپ نے بتایا کہ میں نے شیطان
09:15کو دیکھا کہ شیطان جو ہے وہ
09:17زمین پہ گر رہا ہے اور
09:19اپنا مو زمین پہ مار رہا ہے اور مٹی
09:21اپنے سر میں ڈال رہا ہے اور جس طرح آہو بکا
09:23کر رہا ہے چیخو پکار کر رہا ہے اس کی وہ
09:25حالت دیکھ کر مجھے ہنسی آ رہی ہے
09:27میں مسکرار ہوں تو یہ طویل حدیث ہے
09:29جس کے اندر یہ بات بیان کی گئی ہے
09:31کہ جو حاجی ہوتا ہے جو حج مبرور
09:33کرنے والا ہے جس کا حاج اللہ کی
09:35بارگاہ میں مقبول ہو جائے تو اسے حقوق
09:37اللہ اور حقوق اللہ بعد دونوں طرح
09:39کے جو جرائم ہیں دونوں میں جو
09:41کوہتائیاں ہوئی ہیں وہ اسے معاف کر دی جاتی
09:43ہیں اس کے لیے عام مغفرت کا اعلان
09:45ہو جاتا ہے یہ پروانہ اسے
09:47دے دیا جاتا ہے تو حافظ بن حجر
09:50اسکلانی رائی مولا سے سوال پوچھا گیا
09:51اس حدیث کے بارے میں کہ یہ جو حدیث
09:54ہے اس حدیث کا درجہ کیا ہے
09:55سٹیٹس کیا ہے آیا یہ حدیث
09:57صحیح ہے حسن ہے یا ایسی
10:00ضعیف ہے جو فضائل عامال
10:01میں قابل قبول ہو مقبول
10:04ہو اس پر عمل کیا جا سکتا ہو
10:05یا یہ منکرات اور موضوعات
10:07کے قبیل سے یعنی منگھڑت ہے
10:09منکر روایت ہے یا موضوع ہے منگھڑت ہے
10:12فیبریکیٹڈ ہے کونکوکٹڈ ہے
10:13اس کا سٹیٹس کیا ہے اس کا درجہ کیا ہے
10:15اور بعض علماء نے اس کو موضوع قرار
10:17بھی دیا تھا جیسے کہ ہم ابن جوزی رائی مولا
10:19تو حافظ بن حجر اسکلانی رائی مولا نے
10:21یہ پورا رسالہ تعلیف فرمایا ہے
10:23یہ پوری کتاب تعلیف فرمائی ہے اس حدیث
10:25کی تحقیق پر تو آپ نے
10:27بھرپور تحقیق پیش کی ہے پہلے
10:29اس بات کو ثابت کیا ہے کہ یہ روایت
10:31درست ہے اور اس کے کئی شواہد
10:33موجود ہیں ترک بھی موجود ہیں
10:35کثیر ترک بھی آپ نے اس کے ذکر
10:37فرمایا ہے اور بیان کیا ہے کہ بنیادی طور پر
10:39جو حدیث ہے وہ حضرت
10:41ابباس بن مرداس
10:43سلمی رضی اللہ تعالی جو صحابی ہیں
10:45یہ ان سے مروی ہے پھر اس حدیث
10:47کو آپ نے ذکر کیا پھر اس کے حوالے
10:49ذکر کیے کہ کن کن آئمہ حدیث
10:51نے اپنی اپنی کتاب میں اس کو ذکر کیا ہے
10:53اس کے بعد پھر آپ نے ان حوالوں
10:55کے ساتھ ساتھ اس کے ترک جمع کی ہیں
10:57ترک ذکر کیے ترک ذکر کر کے آپ نے
10:59یہ بات بیان فرمائی کہ یہ حدیث
11:01یہ اپنے ان شواہد کے ساتھ
11:03مجموعے کے ساتھ مل کر
11:05یہ روایت جو ہے وہ حسن درجے کی ہے
11:07اس کا سٹیٹس یہ ہے کہ یہ حسن ہے
11:09یعنی یہ قابل عمل ہے اور یہ روایت
11:11درست ہے پھر اس کے بعد آپ نے
11:13اس بات کو بھی ذکر فرمایا ہے کہ یہ روایت
11:15صرف حضرت ابباس ہی سے مروی نہیں ہے
11:17بلکہ حضرت ابباس بن مرداز سلمی
11:19رضی اللہ تعالیٰ کے سوا
11:20پانچ اور صحابہ سے بھی یہ مروی ہے
11:23جن کے اندر حضرت اببادہ بن سامت ہیں
11:25حضرت انس بن مالک ہیں
11:26حضرت عبداللہ بن عمر ہیں حضرت ابو حریرہ ہیں
11:28اور حضرت زید عبدالرحمان بن عبداللہ بن زید
11:31کے دادا حضرت زید رضی اللہ عنہ مجمعین
11:33یہ پانچ صحابہ حضرت ابباس کے علاوہ
11:36ان پانچ سے بھی یہ حدیث مروی
11:38یعنی کوٹ ٹوٹل
11:396 صحابہ سے یہ حدیث مروی ہے
11:41پھر آپ نے ان سب کے بھی حوالے دینا شروع کیے
11:43کہ ان سے جو مروی روایت ہے
11:45وہ کون کون سی حدیث کی کتابوں کے اندر موجود ہے
11:47کن کے نسانیت کے ساتھ ہے
11:49پھر سب کی سنادی حیثیت پر بھی
11:50تھوڑا تھوڑا کلام آپ ساتھ فرماتے گئے
11:52اس کے بعد پھر آپ نے
11:54علامہ عبدالعامان ابن جوزی رحمہ اللہ کے حوالے سے بتایا
11:57کہ انہوں نے اسے روایت کو موضوع قرار دیا ہے
11:59فبریکیٹڈ قرار دیا ہے
12:01کونکوکٹڈ قرار دیا ہے
12:02اور انہوں نے جو دلائل ذکر کیے
12:04وہ آپ نے ذکر کیے
12:05پھر آپ نے بتایا کہ لیکن علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ کا
12:08اسے موضوع قرار دینا درست نہیں ہے
12:11موضوع قرار دینے کے لیے
12:12جس طرح کے شواہد کی اور دلائل کی ضرورت ہے
12:16وہ علامہ ابن جوزی کے پاس موجود نہیں ہیں
12:18ان کے پیش کردہ دلائل کافی نہیں ہے
12:21اس حدیث کو موضوع قرار دینے کے لیے
12:23पिर आपने बारी बारी उनके दलायल का तनकीदी जाइजा लिया है
12:27critical analysis किया है और उनके जवाबा जिकर की है
12:31जवाबा जिकर करके बताया है कि यहत्य अबास बिन मिर्दा सुलमी की जो रिवायत है
12:35यह रिवायत इमाम तिर्मजी की इस्तिला के मताबिक हसन बनती है
12:38बिल्खुस अगर इसके पूरे मजमुए को देखा जाए जो तरोक हैं वो सारे मिलाकर पता चलता है
12:43कि यह रिवायत अपनी जगा दुरस्त है यह रिवायत मौजू नहीं है
12:46इसे मौजू करार देना दुरस्त नहीं है
12:48फिर आपने इसके बाद कुछ और अहादीस जिकर की हैं जो इस हदीस के बाद मुझमून की शाहिद बन सकती है
12:54उनको जिकर किया उनको जिकर करके फिर आपने आखर में ये बाद भी जिकर फरमाई कि यह इमाम बहकी राही मौला के वाले से
13:01کہ مام بیقی رائی مولا نے فرمایا
13:03کہ اس حدیث کی اصل کیلئے
13:05قرآن مجید فرقان حمید بھی شاہد
13:07بنتا ہے یعنی قرآن میں بھی ثبوت
13:08موجود ہے اشارہ موجود ہے
13:10جس سے اس حدیث کے مضمون کی
13:13تعاید نکلتی ہے اور وہ اشارہ
13:15کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا ہے کہ اللہ
13:16تبارک و تعالی کا جو فرمان ہے
13:18کہ ان اللہ لا يغفر انیشرا کبھی
13:21ویغفر ما دون ذالک لما یشا
13:23کہ بے شک اللہ اس بات
13:25کو نہیں بخشتا نہیں
13:26معاف فرماتا کہ اس کے ساتھ شریک
13:29ٹھرائے جائے کفر کیا جائے اور
13:30اس سے نیچے نیچے کفر و شرک سے نیچے
13:33نیچے جو گناہ ہے اللہ جس کے لیے
13:34چاہتا ہے معاف فرما دیتا ہے
13:36تو وہ امام بیقی رائی مولا فرماتے ہیں
13:38اور حافظ بن جرس کلانی رائی مولا بھی دونوں ادرات
13:40نے یہ کہا کہ اس کے اندر عموم ہے
13:42چاہے وہ حقوق اللہ سے متعلق
13:44گناہ ہوں یا حقوق اللہ
13:46سے متعلقہ گناہ ہوں سب کے لیے
13:48اللہ تعالیٰ نے یہ بات فرمای ہے
13:50کفر و شرک سے نیچے نیچے جو بھی
13:52گناہ ہے جو بھی جرم ہے
13:54چاہے حقوق اللہ میں کوتائی سے متعلق ہو
13:57یا حقوق اللہ میں کوتائی سے متعلق ہو
13:59اللہ جس کے لیے چاہے گا
14:00معاف فرما دے گا
14:02اللہ اس کے لیے مغفرت کا اعلان فرما رہا ہے
14:04قرآن میں تو یہ جو حدیث ہے
14:06اس حدیث کا جو مضمون ہے اس کے اصل کی
14:08تعاید قرآن مجید فرقان حمید سے بھی
14:10ہو رہی ہے
14:11تو الگرس بہترین کتاب ہے
14:13شاندار تعلیف ہے
14:14اسی طرح اس کے اندر اصول حدیث بھی
14:16بعض آپ نے بڑے امدہ بیان کی ہیں
14:18زمناً وہ باتیں بھی آگئی ہیں
14:19جیسا کہ مدسین میں مشہور ہے
14:22کہ حافظ امام ادعود رحمہ اللہ
14:24وہ اگر کسی حدیث کو ذکر کریں
14:26اور اس کے بعد سکوت اختیار فرمائیں
14:27تو وہ روایت جو ہے وہ کیا ہوتی ہے
14:29اس کا درجہ کیا ہوتا ہے
14:31اس کا سٹیٹس کیا ہوتا ہے
14:32تو حافظ ابن عزقیلانی رحمہ اللہ نے بتایا
14:34کہ حافظ ابن صلی اللہ رحمہ اللہ
14:36اور ان کے متابعین کے نزدیک
14:37تو وہ روایت حسن ہوتی ہے
14:38اور جمہور کے نزدیک بھی ایسا ہی ہے
14:41لیکن جمہور یہ کہتے ہیں
14:42کہ اگر اس کے ساتھ دیگر شواہد مل جائیں
14:45دیگر طرق مل جائیں
14:46جن سے اس کو تقویت مل جائیں
14:47تو پھر وہ حسن کے درجہ میں ہے
14:49اور حافظ ابن عزقیلانی رحمہ اللہ کا اندیا بھی یہی ہے
14:52یعنی اس سے یہ پتہ چل گیا
15:02تو اب جب آپ نے خود فرمایا تھا
15:13کہ جس پر میں سکوت اختیار کروں
15:15وہ روایت صالح ہوتی ہے
15:17تو اس کے صالح ہونے سے کیا مراد ہے
15:19بعض نے لیا صالح للاحتجاج
15:21بعض نے مراد لیا صالح للاحتبار
15:23خیر جو بھی مراد لیا جائے
15:25حافظ ابن عزقیلانی رحمہ اللہ کا کہنا یہ ہے
15:27کہ وہ تعدد ترک سے
15:29اور دیگر شواہد ساتھ ملنے سے
15:31مضبوط ہو جاتی ہے
15:32پھر اسی طرح آپ نے اس پر آگے
15:34ایک اور اصول بڑا اندہ بیان فرمایا
15:36ذکر گیا کہ بعض اوقات
15:39کوئی روایت اپنی انفرادی حیثیت میں
15:41قابل قبول نہیں ہوتی
15:43لیکن اس کے ساتھ دیگر ترک مل جاتے ہیں
15:45شواہد مل جاتے ہیں
15:46وہ مل کر مجموعی طور پر
15:48وہ روایت مقبول بن جاتی ہے
15:50اب یہ بات ویسے تو مشہور ہے
15:52لیکن اس میں جو ایک اور پہلو انوکھا
15:54جو آپ نے ذکر کیا ہے وہ یہ ہے
15:56کہ چاہے وہ شواہد
15:58چاہے وہ ترک اپنی انفرادی حیثیت میں
16:01کمزور ہی کیوں نہ ہوں
16:03کہ الگ الگ انہیں دیکھا جائے
16:04تو وہ سارے کمزور ہوں
16:05لیکن جب وہ سارے مل جائیں
16:07تو وہ سارے مل کر
16:08مجموعی طور پر اسے تقویہ دے دیتے ہیں
16:11اس کی تائید کرتے ہیں
16:13اس کی تقویہ کا باعث بنتے ہیں
16:15قوت دینے کا باعث بنتے ہیں
16:16تو وہ روایت قابل قبول
16:18مجموعی حیثیت میں ہو جاتی ہے
16:20اس طرح آپ نے ایک اور امدہ اصول
16:21اس کے اندر یہ بیان کیا
16:23وجہ بیان فرمائی
16:24کہ بعض اوقات محدثین
16:25جو ہے وہ ایک ہی حدیث کو
16:27کہ ترک متعدد ترک ذکر کرتے ہیں
16:30تو ایک حدیث ایک سنت کے ساتھ
16:31ذکر کرنا کافی ہوتا ہے
16:32الگ الگ ترک کے ساتھ ذکر کرنا
16:34اور تھوڑا تھوڑا متن کا فرق ہوتا ہے
16:36الفاظ کا فرق ہوتا ہے
16:37ان سب کو اکٹھے جمع کرتے چلے جانا
16:39ذکر کرتے چلے جانا
16:40اس کا کیا فائدہ ہے
16:41تو حافظ اسکلانی رحمہ اللہ نے بیان فرمایا
16:44کہ یہ اس کا فائدہ یہ ہے
16:45کہ اس سے فقی کو پتا چلتا ہے
16:47فقی کو بنیادی طور پر اس کا فائدہ ہے
16:49کہ اگر فقی کے پاس وہ روایت
16:51صرف ایک ہی سنت سے پہنچے
16:53اور وہ کمزور سنت ہو
16:54تو ذاری بات تو اس سے استدلال ترک کر دے گا
16:56اس پر عمل نہیں کرے گا
16:58تو جب وہ متعدد ترک سے آئے گی
17:00سامنے الگ الگ ترک آئیں گی
17:01تو صرف فقی کو یہ فائدہ حاصل ہوگا
17:03کہ اسے پتا چل جائے گا
17:04کہ یہ جو بات ہے
17:05ایک سنت سے اگر یہ ضعیف ہے
17:07یا ایک سنت سے درست نہیں ہے
17:09لیکن بہت سی اثنات اس کی موجود ہیں
17:11آسانیت بہت سی ہیں
17:12متعدد ترک سے ہے
17:13تو اس کی کوئی نہ کوئی اصل موجود ہے
17:15تو پھر وہ اس سے استدلال
17:17اگر اعتبار کے قابل ہوگی
17:19تو اعتبار کے لائک اسے بنائے گا
17:20مطابع اور شاید کے طور پر قبول کرے گا
17:22اگر استدلال کے لائک ہوگی
17:24تو اس سے استدلال کرے گا
17:25اور اسی طرح اور چیزیں بھی اسے بازی ہوں گی
17:27کہ بعض اوقات ایک ہی واقعہ ہوتا ہے
17:29کچھ الفاظ ایک حدیث میں موجود ہوتے ہیں
17:31کچھ دوسری میں موجود ہوتے ہیں
17:32کچھ تیسری میں موجود ہوتے ہیں
17:33وہ سارے مل کر جوڑ کر دیکھا جاتا ہے
17:36تو پکچر کلیر ہو جاتی ہے
17:38اور بات اچھی طرح سمجھ آ جاتی ہے
17:40تو یہ بھی آپ نے اصول دے کر فہم
17:41الگرد یہ بڑا ہی شاندار آپ کا رسالہ ہے
17:44قوت الحجاج فی عموم المغفرہ للحجاج
17:47حدیث کے اعتبار سے بڑی امدہ تحقیق ہے
17:49اور رسول حدیث بھی بڑے امدہ انداز میں بیان کیے گئے ہیں
17:51وہ حضرات جو حدیث سے شگف رکھتے ہیں
17:54چاہے وہ علماء حدیث ہوں
17:55چاہے طلباء حدیث ہوں
17:57چاہے حدیث پڑھنے والے ہوں
17:59حدیث پڑھانے والے ہوں
18:00یا ویسے حدیث کے مطالعہ کا ذوق رکھنے والے ہوں
18:02ان کے لئے یہ امدہ کتاب ہے
18:04لائک مطالعہ ہماری میز کی زینت ہے
18:06میرے ہاتھ میں ہے
18:06اللہ تعالیٰ سے دعا ہے
18:08کہ حافظ بن حجر اسکرانی رحمہ اللہ کے درجات کو اور بلند فرمائے
18:12اور ہمیں آپ کے فویز و برکات سے حضر و آفر اطاع فرمائے
18:15وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین
Comments

Recommended