Skip to playerSkip to main content
Surah Al Kausar Quran Pak ki chhoti lekin azeem Surah hai. Is bayan mein Peer Ajmal Raza Qadri Surah Al Kausar ki fazilat, is se milne wale roohani sabaq aur mushkilaat ke waqt Quran se rehnumai hasil karne ke hawale se bayan karte hain.
Yeh iman afroz bayan Allah par yaqeen, dua aur Quran Pak se mazboot ta'alluq ki ahmiyat samjhata hai. Agar aap Surah Al Kausar ki fazilat aur is se muta'alliq wazifa ke bare mein jan'na chahte hain to is bayan ko zaroor sunein aur dusron tak bhi share karein.
#SurahAlKausar #SurahKausar #PeerAjmalRazaQadri #Wazifa #IslamicBayan #QuranPak #IslamicReminder #Dua #DeenKiBatein #UrduBayan #IslamicMotivation #HeartTouchingBayan

Category

📚
Learning
Transcript
00:00We have been going to be with the arabs.
00:02Mehdoot.
00:04We said,
00:04please come and make it a person.
00:06Then,
00:06we are going to have a connection.
00:09No.
00:09I will give children to show them the same thing.
00:12Then I will be with the other age.
00:13Now I will give them the same thing.
00:15Why would you have to have,
00:18why would you have to take it?
00:18Why would you like to have,
00:19why would you like to have?
00:21Why would you want to have,
00:22why would you have to take it?
00:23That if you have a question,
00:24then the other side and the other side of the queue.
00:26He has a question.
00:56Every time I have a gift, I have a gift, I have a gift, I have a gift.
01:53He said,
01:56دو روٹیاں بغیر مشکت کے روز ملنی شروع ہو گئی
02:00دعا مانگی تھی نا کہ
02:02یا اللہ دو روٹیاں مل جائے نا بغیر مشکت کے
02:04کہتے ہیں وہ دو روٹیاں روز ملتی ہیں
02:06کوئی کام نہیں کرنا پڑتا تھا
02:07پر جیل ہو گئی
02:10فرماتے ہیں میں بڑا پریشان تھا
02:12روز روٹیاں پبندی سے آتی ہیں
02:14اور بہترین آتی ہیں
02:15کھانا ملتا
02:16پھر کچھ عرصے کے بعد میں نے سوچا
02:18کہ یار یہ دعا تو قبول ہو گئی نا تیری
02:21اب تو اگر اس پر کوئی
02:23الگ بات کرے گا تو وہ تو غلط کرے گا
02:25کہتا ہے پھر خود ہی میرے دل میں
02:27اللہ نے بات ڈالی اور میں نے
02:29عرض کی مالک دو روٹیاں نہیں مجھے تو
02:31آفیت چاہیے
02:33مجھے تو آفیت دے
02:35میرے اوپر تو کرم فرما
02:36تو نظر رحمت کر
02:39جے ایک قطرہ بخشے
02:41مہنو
02:45ایک قطرہ بخشے
02:46مہنو
02:47تے کام بن جاندہ ہی میرا
02:49مربانی کر
02:50آفیت عطا کر
02:51فرماتے ہیں پھر خدا نے کرم کیا
02:53کہاں سے اسباب بنے
02:55میرے جیل سے چھوٹنے کے
02:57کون کون میرے زمانتی بنے
02:59اللہ ہی جانتا ہے
03:00فرماتے ہیں دروازے بھی کھول گئے
03:02رزق بھی ملتا ہے
03:04سید بھی مجسر ہے
03:05سجدہ بھی کر لیتا ہوں
03:06سویرے تلاوت بھی کرتا ہوں
03:08شام کو مدینے والے کی بارگاہ میں
03:10رج کے درود و سلام بھی عرض کرتا ہوں
03:12میں ممکن ہوتا ہے
03:14تو کسی غریب کی داد رسی بھی کرتا ہوں
03:17اب سمجھ آئی ہے
03:18ربنا آتنا فی الدنیا حسنتم
03:21وفی الاخرات حسنتم
03:24وکی نعذاب النار
03:25اب سمجھ آئی ہے
03:26رب سے جب بھی مانگنا ہے
03:28آفیت ہی مانگنی
03:29حضرت عباس بن عبد المطلب
03:31رضی اللہ تعالیٰ عنہ
03:32نبی پاک علیہ السلام کے پیارے چچا جان ہیں
03:35عرض گزار ہیں
03:36یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
03:38مجھے بتائیے
03:39میں اپنے رب سے مانگو
03:41تو کیا مانگو
03:42تو حضور نے فرمایا
03:43رب سے آفیت مانگو
03:47کہتے ہیں
03:47میں کچھ دن رکا
03:48کچھ دنوں کے بعد
03:50پھر حاضر بارگاہ ہوا
03:51اور عرض کی
03:53یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
03:56مجھے بتائیے
03:56میں اپنے مالک سے مانگو
03:58تو کیا مانگو
03:59تو حضور نے پھر فرمایا
04:01اللہ سے مانگنا
04:02تو آفیت مانگنا
04:04بزرگ فرماتے ہیں یہ آفیت کیا ہے
04:08آفیت یہ ہے کہ
04:09یا اللہ ظاہری پریشانیہ
04:12باطنی پریشانیہ
04:13اے اللہ
04:15ظاہر کے محل کچھ اے بھی دور ہو جائیں
04:17باطن کے بھی دور ہو جائیں
04:19اے اللہ
04:19ہر معاملے میں ہر آزمائش میں
04:22ہر دکھ میں ہمیں تیری پناہ نظیب ہو جائے
04:25یہ آفیت ہے
04:27اور صوفیہ اکرام فرماتے ہیں
04:29آفیت سے بڑی نعمت کوئی نہیں
04:31اگر کسی کو میسر آئے تو
04:33آفیت سے بڑا حسن کوئی نہیں
04:35اگر کسی شخص کو یہ نصیب ہو جائے
04:37اور ایک
04:39اللہ والے نے تو ایک اور بڑا خوبصورت
04:41ترجمہ یہاں کیا ہے
04:42وہ کہتے ہیں آفیت کا مطلب ہے
04:45دل کا قرار
04:47آفیت کا مطلب ہے باطن
04:49کا سکون آفیت کا مطلب ہے
04:51انسان کے نزاج کا حوصلہ
04:53تھنڈک بردباری
04:54اس بندے کو آفیت نصیب ہو جاتی ہے
04:57گویا اللہ اسے سکون کی دولت عطا فرما دیتا ہے
05:00تھوڑے پیسوں میں بھی سکون
05:03بغیر شورت کے بھی سکون
05:04کوئی بات مان لے تب بھی سکون
05:07کوئی دھدکار دے پھر بھی
05:08سکون لوگوں کی گوڑ بک میں ہو پھر بھی سکون
05:12اور اگر لوگ
05:13سارے مخالفت میں آ جائے تو
05:15کیونکہ اللہ نے آفیت دی ہے پھر بھی
05:17سکون اللہ تعالی نے ان لوگوں کو
05:19قرار کی دولت
05:20اللہ سے آفیت مانگی جائے
05:23اس میں دنیا کی بھی بھلائی شامل ہے
05:26آخرت کی بھی بھلائی شامل
05:27نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
05:30توجہ دلاتے کہ اللہ اسے
05:32تم آفیت مانگو ہمارا ندی
05:36کیونکہ
05:36سب سے بڑا مسئلہ روحانی
05:38تربیت کا ہے
05:40ہمارے ہاں باتیں
05:42دھیر سارے لوگوں کو آتی ہیں اور بہت
05:44زیادہ آتی ہیں
05:46منصوبہ بندی کرنا پلاننگ کرنا
05:48اپنے معاملات کو
05:50خود سے کیسے لے کے چلنا ہے کیسے
05:52ٹھیک کرنا ہے اپنے حق میں
05:54دنیا کو کس طرح قائل کرنا ہے
05:56یہ دھیر سارے لوگوں کو آتا ہے
05:58اور اپنے حق میں دلائل کس طرح
06:00قائم کرنے ہیں
06:01اس میں بہت سارے لوگ خود
06:02کفیل ہوتے ہیں
06:03انہیں کسی سے مشاورت کی بھی
06:05ضرورت نہیں ہوتی
06:07لیکن اللہ کی بارگاہ سے
06:09اپنا رشتہ کیسے جوڑنا ہے
06:13مالک سے کرم کا سوالی
06:15کس طرح کر کے ہونا ہے
06:16اللہ سے آفیت کا سوال
06:18کیسے کرنا ہے
06:20یہ
06:21چونکہ روحانی تربیت میں
06:23ہمارا مزاج نہیں ہوتا
06:24لہذا ہم اس طرف جاتے نہیں
06:27ہم وہ اپنی مرضی کی چیزیں
06:29یعنی
06:31وظیفہ پوچھ کے گئے ہیں ایک صاحب
06:34کچھ عرصے کے بعد آئے ہیں
06:36تو آکے کہتے ہیں
06:37مولانا صاحب پیر صاحب
06:38یا کاری صاحب
06:39یا فلان صاحب
06:40کسی سے بھی پوچھ کے گئے
06:41کسی جس کو نیک آدمی جانا
06:43پھر لوٹ کر آکے کہتے ہیں
06:44کہ آپ نے وظیفہ بتایا تھا
06:45پر کام کوئی نہیں ہوا
06:49تو میں تو صاف کہتا ہوں
06:51اور کھلے دل سے کہتا ہوں
06:52کہ بھئی وظیفہ آپ کو بتایا تھا
06:54کہ اللہ کی رحمت متوجہ ہوگی
06:56خدا کی رحمت کو آواز دینے کے لیے
06:58وظیفہ دیا تھا
06:59کوئی بھی وظیفہ
07:00رب کو مجبور تو نہیں نہ کر سکتا
07:02معاذر
07:04اور وظائف کس لیے پڑے جاتے ہیں
07:07کہ جلدی سے معاملات ٹھیک ہو جائیں
07:09میرے حق میں چیزیں بہتر ہو جائیں
07:11تو اللہ کی رضا کیلئے پڑے جاتے ہیں
07:14تو وظائف کو عبادات کو
07:16نوافل کو تلاوت کو
07:18درود پاک کو
07:19تو رضا الہی کا ذریعہ بنانا چاہیے
07:21لیکن ہم چونکہ
07:23ایک پورا الجھاؤ رکھتے ہیں
07:25اپنی دنیا داری کے معاملات سیدے کرنے
07:28ایک پورا خیر رکھتے ہیں
07:31وہ
07:34لوگ ملتے رہتے ہیں
07:35مختلف بزرگوں
07:37کی نسبت کے تعلق سے
07:39تو بعض جگہوں پر
07:40بعض لوگ بڑے تیز ہوتے ہیں
07:44یعنی ان سے آپ کی ملاقات ہوتی ہے
07:45تو بندے کو محسوس ہوتے ہیں
07:47کہ یار اسے تو پہلے ہی ساری باتوں کو پتہ ہے
07:49اور کئی دفعہ ان سے ملنے کے بعد
07:51احساس ہوتا ہے
07:52کہ یار اس سے تھوڑا سی ہی لیتے تو بہتر تھا
07:55یہ تو بات بڑی آگے نکل گئی
07:56سارا پتہ ہوتا ہے
07:58باشعور ہوتے ہیں
07:59لیکن ڈھار آتا ہے اللہ سے
08:02اتنا باشعور آدمی
08:03سمجھدار
08:04پنچائد
08:05پریا
08:06لوگ
08:06دین
08:07دنیا
08:07سارا پتہ ہے
08:10نماز کا ٹائم آگیا تو وہ چھپتا پھرتا ہے
08:14اس کی طبیعت پر بوج بن رہا ہے
08:17ماذا اللہ اللہ کے حضور حاضر ہونا
08:20اسے خیر کا کام کرنا پڑ رہے تو وہ
08:23وہ ادھر ادھر نکلتا جا رہا ہے
08:25تو سوال یہ ہے کہ پھر یہ شعور کا کیا مطلب رکھا ہوا ہے
08:29ہم نے
08:30پھر اللہ سے
08:33دعا کرنے کی ضرورت نہیں
08:35محضرت عارف رومی رحمت اللہ تعالیٰ علیہ فرمایا کرتے تھے
08:38بعض لوگوں کو رب سارا کچھ دیتا ہے
08:42سجدے کی توفیق نہیں دیتا
08:46اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کہتا ہے یہ سارا کچھ لے اور نکل جا میرے گھر نہ آنا
08:50رکھ سارا کچھ پاس
08:53رب سے آفیت مانگی جائے
08:55اس سے اس کا فضل مانگا جائے
08:57اس سے اس کا کرم مانگا جائے
08:59اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
09:03اس آفیت
09:04مانگنے پر زور دیتے
09:06توجہ دیتے
09:07میں آپ کو یہ صحیح بتاتا ہوں
09:12رب نے اگر کسی بندے کو آفیت میں رکھا ہونا
09:16تو حالات کیسے بھی برے چل رہے ہیں اس کا بگاڑ کچھ نہیں سکتے
09:21اور اللہ تعالیٰ معاف کرے سو دفا خاکم بدھن
09:26اگر کسی وقت اس کے کرم کی نگاہ پھر جائے
09:31تو پھر سارے اسباب سمیت بھی انسان اپنے پیروں پہ کھڑا نہیں رہ سکتا
09:37اس سے جب تک طلبِ کرم نہیں ہوتا
09:40طلبِ آفیت نہیں ہوتی
09:42اس کی بارگاہ سے جب تک بندہِ مومن پورا رجوع نہیں کرتا
09:47یہ آفیت اتنی عالی چیز ہے
09:51کہ نبی پاک علیہ السلام نے فرمایا
09:53آزان اور اقامت کے درمیان جو وقت ہوتا ہے
09:56اس میں دعائیں رد نہیں ہوتی
09:59دعا مانگا کرو گے
10:00تمہاری اللہ اپنے فضل سے قبول کر لے گا
10:03عرض کی یا رسول اللہ کیا مانگے
10:05تو فرمایا آفیت مانگو رب سے
10:07حضرت انسمن مالی قدیث کے راوی ہے رضی اللہ تعالی
10:10یہاں بھی فرمایا یہ این قبولیت کا ٹائم ہے
10:13اب لا سے آفیت مانگ لو
10:15اس کی پناہ
10:15ہم نہ
10:18ہم دعاوں میں بھی محدود ہو جاتے ہیں
10:21رب دا طالب کوئی نہ ملے آ جو ملے آ طالب زردہ ہو
10:26دعاوں میں بھی حد بندی
10:28بعض اوقات بچے بھی تربیت کرتے ہیں نا
10:31ایک مولانا ہے
10:32ان کا خیال ہے کہ انہوں نے مجھ سے کچھ پڑا ہے
10:34تو کبھی کبھی استاد جی کہہ دیتے ہیں
10:37بہت پرانی بات ہے
10:40انہوں نے مجھے فون کیا
10:41کہ اگر آپ
10:42کبھی تشریف لائیں
10:43تو میں نے کہا پتر دعا مانگ
10:45اللہ کو چھوٹی جی گڑی دے وے
10:47تو اس بچے نے میری بڑی تربیت کی
10:49کہن لگا استاد جی اللہ کو لو منگ نہیں
10:51یہ تے بڑی ساری منگو
10:53آپ نے مادود کیوں کیا
10:54کہ بھئی یہ چھوٹی سی اللہ گاڑی
10:56کیوں اللہ چھوٹی دے
10:57راب دے تو بڑی دے
10:58اور رحمت سے دے
11:00اللہ سے مانگنی ہے نا جی
11:01ہم تربیت نہیں لیتے
11:03میں نے اس کا شکریہ ادا کیا
11:05انہیں کہا بیٹے
11:06تُنہیں بڑی سونی بات کی
11:07اللہ تجھے اس کا عجر عطا کرے
11:09اللہ تجھے برکات عطا کرے
11:11اگر آپ نے سیکھنا ہے
11:12تو پھر آپ سیکھ لیں گے
11:13اور اگر نہیں سیکھنا
11:14تو پھر یہی کہنا ہے
11:15ساری عمر لنگی بندہ کو نہیں ملیا
11:18چونکہ مزاج نہیں ہے نا
11:19سیکھنے کا
11:20اس لیے پھر ملا ہی کوئی نہیں
11:21پھر ساری زندگی کو
11:23میسر ہی نہیں آیا
11:24کسی نے نصیت ہی نہیں کی
11:25کوئی آنکھوں کو بھائی نہیں
11:26خود ہی بڑے سیانے تھے
11:28خود ہی بہت بڑے تھے
11:29اپنا قادی بڑا انچا تھا
11:30سب ٹھگنے چھوٹے
11:32اور کمزور اور بھونے نظر آئے
11:34نبی پاک علیہ السلام
11:37نے ایک شخص سے پوچھا
11:39کیا دعا مانگ رہے ہو
11:40تو اس نے کہا
11:40یا رسول اللہ
11:41میں اللہ کی بارگاہ میں
11:42سبر کا سوال کر رہا ہوں
11:44تو حضور فرمانے لگے
11:45سبر تو
11:46مسئیبت پر ہوتا ہے
11:49یا رسول اللہ
11:49پھر کیا مانگو
11:51آپ
11:52ان جملوں اور لفظوں کی
11:53گہرائی کو سمجھیں
11:54سبر کے لیے
11:55تو پہلے مسئیبت آئے گی
11:57پھر سبر آئے گا
11:58تو یا رسول اللہ
11:59کیا مانگو
12:00فرمایا
12:00تو رب سے آفیت مانگ
12:02مانا کیا ہے
12:03مسئیبت آئے کیوں
12:05اللہ تجھے
12:06اپنی حفاظت کے
12:07حسار میں لے لے
12:08وہ وقت ہی کیوں آئے
12:10کہ جب تیری طبیعت
12:11الہج جائے
12:12جب تُو پریشان ہو جائے
12:13جب تُو آزم
12:14تو اللہ سے آفیت مانگنا
12:16جب تُو آفیت مانگے گا
12:18تو اگر کبھی
12:19مشکل آئے گی بھی نہ
12:20تو خدا پھر اپنے فضل سے
12:22مشکل سے نکلنے میں
12:23رستہ بھی بڑی جلدی
12:30امت ہے نا
12:32تو یہ ہمارے گرد
12:33اللہ کے فضل
12:34اور اس کی رحمت کا حسار ہے
12:35یہ حسار ہے ہمارے گرد
12:38وہ درویش نے کہا تھا نا
12:40کہ کروں شکر کتنا
12:42اور کروں فخر کتنا
12:44کہ تیرے کرم نے مجھے
12:46فائض المرام کیا
12:48دیکھو بنا کے
12:50سید عالم کا امتی
12:52مجھ کو
12:52گناہ سے پہلے ہی
12:54بخشش کا انتظام کیا
12:56اب میں نے غلطی کی نہیں
12:58لیکن مجھے
12:59حضور کا غلام بنا دیا
13:00بخشش کا بندو بس پہلے ہو گیا
13:02اپنے مالک سے
13:04بیمار بھی اس سے آفیت مانگیں
13:08مکروز بھی اس سے آفیت مانگیں
13:10بے اولاد بھی اس سے آفیت ہی مانگیں
13:13صاحبِ اولاد بھی اس سے آفیت ہی مانگیں
13:18جو
13:19طولت کے
13:20غصول کے
13:22رزقِ حلال کے خواہش مند ہیں
13:24وہ بھی اس سے آفیت مانگیں
13:26اور جن کی جھولی اس نے بھر دی ہے
13:28وہ بھی اپنے رب سے
13:30آفیت ہی مانگیں
13:31مالک سے جب سوال کرے
13:33ایک بزرگ تھے انہوں نے تو
13:35اپنی انگوٹھی میں لکھوا لیا تھا
13:37کہ یا اللہ مجھے آفیت عطا فرما
13:39مگرد جب بھی دیکھتا ہوں
13:40یاد آ جاتا ہے
13:41کہ اللہ سے آفیت مانگنی
13:42اپنے مالک کی بارگاہ کے اندر
13:45دیکھو
13:48میں نے دیکھا ہے
13:49وہ کسی نے کہا تھا
13:51کہ
13:53تیری خواہش ہے
13:54کہ وہ تیری آرزو کرے پوری
13:57اور میری خواہش ہے
13:58کہ تیری آرزو بدل جائے
14:01کچھ لوگ
14:02ایسی خواہشات بھی لے کے آتے ہیں
14:04کہ جو پوری نہ ہو
14:05تو بہتر ہوتا ہے
14:07اس لیے
14:08آپ کا پتہ ہے
14:09موت مانگنا جائز نہیں دین میں
14:13مسائم سے گھبرا کر
14:14مشکلات سے گھبرا کر
14:17زندگی کے مدو جذر سے پریشان ہو کر
14:19موت کا سوال کرنا جائز نہیں
14:21کس طرح جائز ہے
14:23ان لفظوں کے ساتھ دعا کر سکتا ہے
14:25کہ یا اللہ جب تک میری زندگی بہتر ہے
14:27مجھے زندہ رکھ
14:29اور جب میرا دنیا سے جانا بہتر ہے
14:32پھر تو مجھے اپنی بارگاہ میں بھولا لیں
14:34یہ بھی کیا ہے
14:35یہ بھی آفیت کا سوال یہ
14:37کہ یا اللہ رکھ بھی
14:38تب تک جب تک رہنا
14:40بہتر ہے
14:41نبی پاک نے بھی
14:42ارضہ للعمر ہونے سے پناہ مانگی
14:45ہمارا یہ مزاج بن گیا ہے
14:46کہ ہم اپنے حق میں
14:48ایسی چیزوں کا سوال کر رہے ہوتے ہیں
14:50جو کئی دفعہ ہمیں مل جائے
14:52تو ہمارا نقصان کریں
14:54قرآن حکیم ایک جگہ پہ
14:55اللہ کریم نے فرمایا ہے
14:56کہ اگر سب لوگوں کو مال دے دوں
14:58تو بغاوت کریں
15:00ساتھ ہو جائے
15:02کیا مانا ہے
15:03کہ اپنا نقصان کر بیٹھے لوگ
15:05ہم اپنے مالی کی بارگاہ میں
15:08بعض ایسی چیزوں کے سوالی ہیں
15:10کہ جو ہمارے لئے ٹھیک نہیں ہے
15:13ہمیں اس کے کرم پر چھوڑنا ہے
15:16اس سے آفیت مانگنی
15:18اور بعض لوگ
15:19کیونکہ میں کہہ چکا ہوں شروع میں
15:21کہ ہماری دینی روحانی تربیت نہیں ہوتی
15:25اور ہم کہیں سے باقاعدہ
15:27اسباق لینے کے قائل ہی نہیں ہوتے
15:29پوری تربیت کا ہمارا مزاج نہیں ہوتا
15:32اپنی اکل اور اپنا شعور اور اپنے حساب سے
15:35ہم زندگی کو بتانا چاہتے ہیں
15:37اور یہ جو میرا دور ہے
15:38یہ ویسے ہی الجا ہوا زمانہ ہے
15:40اللہ ماشاءاللہ
15:41پتہ نہیں کوئی کیا بول رہا ہے
15:43کوئی کیا کہہ رہا ہے
15:44ایسے ہے جیسے کمیلہ لگا ہوا ہے
15:46اور کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی
15:49جس کی دکان پر کوئی گہاک نہیں
15:51وہ بھی کہہ رہا ہے لائنے بنا لو
15:53ایسا الجا محول ہے
15:55اور ایسی آزمائش ہے
15:56کہ لوگ بچارے پریشان ہیں
15:58دیکھیں
15:59جب تربیت کے ساتھ
16:01انسان آگے بڑھتا ہے نا
16:02ہمارے پاس مقتدع ہے
16:04اللہ رسول کا کلام
16:05ہمارا پیشوا ہے
16:07رب رسول کا فرمان
16:08جب ہم کتاب و سنت کی روشنی میں
16:11آگے بڑھتے ہیں
16:12تو پھر ہمارے لئے منزل آسان بھی ہوتی
16:14اور قریب بھی ہوتی
16:15پھر ہمارے لئے آگے کی طرف سفر کرنا
16:18آگے بڑھ جانا یہ آسان ہوتا ہے
16:20آپ غور کریں
16:22جو لوگ دنیا میں کامیاب رہے
16:25بھلا کس طرح کامیاب رہے
16:28وہ اس طرح کامیاب رہے
16:29کہ انہوں نے نہ اپنے رب سے
16:31عفیت مانگی
16:32اللہ تعالی نے خود بخود
16:34ان کے لئے رستے بنائے
16:36آپ تاریخ پڑھیں گے
16:37بعض لوگوں کی
16:38تو لگ نہیں رہا تھا
16:39کہ وہ اتنی کامیابی
16:40حاصل کریں گے
16:40دیکھ لیں آپ
16:41حضرت غوث آزم جلانی
16:43رضی اللہ تعالیٰ عنہ
16:44بغداد شریف تشریف لاتے ہیں
16:46تو
16:46ان کی
16:48کیفیت یہ ہے
16:49کہ پتے کھا کے
16:50گزارہ کرنا پڑتا ہے
16:53یعنی پیچھے
16:54کوئی ایسا بیگراؤنڈ
16:56کسی کا بنایا ہوا
16:57ادارہ
16:57کوئی بڑی خان کا
16:58کوئی بڑے لمبے چوڑے
16:59والد صاحب کے مریدین
17:00کوئی بڑا لمبا سلسلہ
17:02نہیں ملے لگا
17:03ان کو بظاہر
17:04پتے کھا کے
17:05گزارہ کرنا پڑتا ہے
17:06لیکن چونکہ وہ
17:07نکلے ہیں
17:08نکلے ہیں
17:08اللہ کی مدد کے ساتھ
17:10انہیں اللہ نے
17:11تعیید دی ہے
17:12فضل فرمایا ہے
17:13تو نتیجہ یہ نکلا ہے
17:15کہ ستر ستر ہزار
17:17بندہ ایک ایک وقت میں
17:18تربیت لینے کے لئے
17:19ان کے سامنے موجود ہیں
17:21یہ اللہ نے
17:22اسباب بنائے ہیں
17:23کیونکہ جب رب
17:24آفیت اطاع کرتا ہے
17:25تو پھر اللہ
17:26اسباب بھی پیدا فرماتا ہے
17:28ہمارا ذہن
17:29تو تھک جاتا ہے
17:30سیاست کرتے کرتے
17:32ہم تو جناب
17:33پوری ترتیب سے
17:35ہمیں سلکہ آتا ہے
17:36کس طرح کر کے
17:37کس بندے کو
17:37کیسے کائل کرنا
17:39پورے طور پر
17:40ہم وہ
17:41ساری زندگی
17:42سیاست کرتے رہتے ہیں
17:43وہ خاندانوں میں
17:44بھی چلتی ہے
17:44گلی محلے میں
17:45بھی چلتی ہے
17:45دوستوں میں بھی چلتی ہے
17:47بعد میں پتہ چلتا ہے
17:48کہ یہ پتے کھیل
17:49کون را تھا
17:50اصل میں
17:51صلح کرانے والا تھا
17:52کہ لڑائی کرانے والا تھا
17:53یہ سب خیرخواہ تھا
17:55یہ سب کی
17:56ذہن کے اندر
17:57فطور کی آمیزشی
17:59اس شخص کی وجہ سے تھی
18:00ہم چونکہ
18:01وہ خاص
18:02آفیت
18:02اللہ سے نہیں مانگتے
18:04ہماری مقصود
18:05سیاست ہوتی ہے
18:05سب ہی کو راضی رکھو
18:07اس کا نتیجہ
18:08یہ نکلتا ہے
18:08کہ ایک ٹائم آتا ہے
18:09کوئی بھی راضی نہیں رہتا
18:10ہم اگر
18:11اپنے مالک
18:12کی طرف
18:12رجحان کریں
18:13اور اللہ نے
18:14جو ہمیں شعور دیا ہے
18:16اس شعور کو
18:17لے کر
18:17اللہ کی بارگاہ
18:19کی طرف بڑھیں
18:19آپ یقین کریں
18:21اعلیٰ حضرت بریلوی
18:23رحمت اللہ لے کی
18:23کتابیں ہیں
18:26ایک ایک کتاب پر
18:27پی اچ ڈی ہو رہی ہے
18:30اور انہوں نے
18:32ڈیڑھ سو سال پہلے
18:34بیٹھ کر
18:34جو کچھ لکھا تھا
18:36بھائی نے ہی
18:37لفظ بلفظ
18:38اس کی ضرورت
18:40آج محسوس
18:41ہو رہی ہے
18:41اور آنے والے وقت میں
18:42بڑھ رہی ہے
18:44کہ انہوں کے پاس
18:45کوئی ٹیم نہیں تھی
18:45پچاس لوگ نہیں تھے
18:46جو ان کے پاس
18:47بیٹھ کے لکھواتے ہیں
18:49اپنا پریس نہیں تھا
18:51ایسے لوگ نہیں تھے
18:53جو جن کو پتا ہوتا
18:54کہ کتاب ہم کل چھاپیں گے
18:55اور اتنے فیصد یہ
18:56مارکیٹ میں نکل بھی جائے گی
18:58ایسا کچھ نہیں تھا
18:59کیا تھا
19:00اللہ کی مدد ساتھ تھی
19:03تحیدِ ایزوی ساتھ تھی
19:04اللہ نے اپنی آفیت میں رکھا تھا
19:07وہ قرآن مجید کی آیت کا
19:08ترجمہ کرتے ہیں
19:09نال حضرت اہدن السراط المستقیم
19:12یا اللہ ہمیں سیدھی راہ پر چلا
19:16بہت سارے مفسرین نے کہا
19:17اے اللہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا
19:20فرماتے ہیں اے اللہ ہمیں سیدھی راہ پر
19:24چلا
19:25تو کسی نے کہا
19:26حضور یہ چلا اور دکھا میں کیا فرق ہے
19:28فرمانے لگے دکھانے کا مطلب یہ ہوتا ہے
19:30کہ کسی نے پوچھا میں نے گجنہ والا جانا ہے
19:33تو دکھانا یہ ہے
19:34کہ اسے کہا یہاں سے باہر نکلو
19:35روڑ پر چار جاؤ سیدھے جاؤ
19:37ایک پولہ ہے کہ اسے کراس کرنا
19:39نیچے اترنا وہاں سے شہر شروع ہو جائے گا
19:41پھر اس نے اگر کوئی اندرونی جگہ شہر کی پوچھ لی
19:44تو اس کو کہا کہ رائٹ ہو جانا پھر لیفٹ ہو جانا
19:47پھر آگے کسی سے مزیع ہے راستہ دکھانا
19:51اور ایک ہے چلانا
19:53اس نے کہا میں نے گجنہ والا جانا ہے
19:55تو اس نے کہا ساتھ بیٹھنا میری گاڑی پہ
19:57جہاں تُو نے جانا ہے میں چھوڑ کے آتا ہوں
20:00یہ راستے پر چلانا ہے
20:03یہ مقام تفکر ہے
20:04آپ اس پر غور فرمائیں گے
20:06کہتے ہیں یا اللہ تُو ہمیں راستہ دکھائے گا
20:09اور دکھاتا ہے
20:10لیکن چاروں جانب شیطان بھی تو بیٹھا ہے نا
20:13فتنے بھی تو ہیں نا
20:14تو اگر تیری رحمت ساتھ ساتھ رہے
20:17مانا کہ محبت کے سفر میں
20:19ہر گام پہ سو سو مشکل ہیں
20:22لیکن یہ سفر آسان بھی ہے
20:24اگر ساتھ تمہارا ہو جائے
20:26اگر تُو ساتھ چلے
20:28تو پھر یہ سفر مشکل ہے
20:30وہ
20:33حارون رشید نا
20:34اپنے محل کی ساتھ پہ ٹیل رہا تھا
20:36سب سے اوپر والے چوارے پر
20:37نیچے زرد بیلول دانا گزر رہے تھے
20:40اوپر اس کے ساتھ سپاہی بھی تھے
20:41گن مین بھی تھے
20:42اس نے کہا یہ بابا تو ذرا اوپر اٹھاؤ
20:45انہوں نے
20:46ایک ڈولی
20:47ایک ٹوکری سمجھ لیں
20:49اس کو رشیاں باندھ کے نیچے پھینکا
20:52نیچے جو سپاہی تھے
20:53ان کو کہا کہ یہ بابا جی کو پکڑ کے
20:55اس میں بٹھاؤ انہوں نے
20:56جبرن تھاما بابا جی کو
20:57اس میں ڈالا اوپر والوں نے کہا
20:58اچھ لیا دو تین منٹ لگے
21:01حارون رشید کے سامنے
21:02حضرت بیلول دانا پہنچ گئے
21:03تو تھوڑے نراض بھی ہوئے
21:05کہ یہ کوئی طریقہ تو نہیں نا بلانے کا
21:07ملاقات ہوئی تو کہا کیوں بلائیا
21:09کہنے لگے ایک مسئلہ پوچھنا تھا
21:10فرمانے لگے بادشاہ ہے نا
21:11تیرے مسئلے پوچھنے کا بھی
21:13اپنا ہی انداز ہے
21:13پوچھ مسئلہ
21:15کہنے لگا بابا پوچھنا تھا کہ
21:18آپ اللہ تک کیسے پہنچے
21:21حضرت بیلول دانا چپ کر گئے
21:23دو چیئر منٹ کے بعد
21:24کہنے لگے
21:25جس طرح بھی ابھی زمین سے
21:27تیرے تک نہیں پہنچا
21:30بالکل اسی طرح پہنچ گیا
21:31رب کریم کی بارگاہ تک
21:34اور وہ بھی جو اس نے کرم فرمایا ہے
21:36ورنہ میں تو نہیں سمجھتا
21:37کہ میں پہنچ گیا ہوں
21:38وہ بھی اگر تیری خوش گمانی ہے
21:41حارون رشید کہنے لگا
21:42مجھے سمجھ نہیں آئی
21:44فرمانے لگے
21:44تو بادشاہ جو ہے
21:46اتنی جلدی کیسے سمجھ میں آئے گی
21:48تجھے بات
21:49فرمانے لگے
21:49اگر میں تجھ سے ملنا چاہتا
21:51نا
21:52تو میں ایک درخواست لکھتا
21:54پھر کسی وزیر سے
21:55سفارشی سائن کراتا
21:57پھر وہ جمع کراتا
21:58پھر مجھے ٹائم ملتا
22:00کہ فلان دن
22:00فلان تاریخ
22:01فلان ٹائم آ جانا
22:02پھر آ کے میں لائن میں لگتا
22:04پھر بھی تو بادشاہ ہے
22:05تیرا موڑ بنتا
22:06ملنے کا کناہ بنتا
22:08جب میں چاہتا
22:09تو پتہ نہیں
22:09کتنا ٹائم لگ جاتا
22:11جب تو نے چاہا ہے نا
22:13تو ایک منٹ بھی نہیں لگا
22:15فرمانے لگے
22:16میں نے دعوی نہیں کیا
22:17کہ میں جد و جہد کر کے
22:19پہنچوں گا
22:20میں نے تو رب کی بارگاہ میں
22:22آجزی کی ہے
22:23پھر رب نے کرم فرمایا ہے
22:25اسی نے میربانی کی ہے
22:27مانا کہ محبت کے سفر میں
22:29ہر گام پہ سو سو مشکل ہیں
22:31لیکن یہ سفر آسان بھی ہے
22:33گر ساتھ تمہارا ہو جائے
22:34اس کے کرم کا ساتھ رہا ہے
22:36اس سے آفیت مانگی ہے
22:38اپنے آپ کو اس کے سپرد کیا ہے
22:39تو اس نے کرم کر دیا
22:41جب تک یہ مزاج نہیں ہم بناتے
22:43کہ مالک سے آفیت کا سوال کریں
22:47اپنے آپ کو اپنے رب کے حوالے کر دیں
22:50اس کی رحمتوں کے سپرد کر دیں
22:52اتنی دیر تک زندگی میں
22:53ٹھراؤ نہیں آتا
22:54قرار نہیں آتا
22:57مشکات میں موجود ہے
22:58اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم
23:01تیمارداری کے لئے گئے
23:03تو صحابہ اکرام فرماتے ہیں
23:04وہ بندانہ
23:05اتنا پتلہ نحیف اور لاغر ہو گیا تھا
23:09جس طرح چڑیا کا بچہ ہوتا ہے
23:10کمزوری زوف تاری تھا
23:13تو محبوب کریم نے اسے دیکھا
23:15تو بڑے کریمانہ انداز میں
23:17کریم فرمانے لگے
23:19تو کوئی دعا نہیں مانگتا
23:20تو آفیت نہیں مانگتا
23:22ارز کی
23:23یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
23:25میں نے اپنے رب کی بارگاہ میں ارز کی ہے
23:27مالک قیامت کا عذاب بڑا سخت ہے
23:29میں نہیں برداشت کر سکتا
23:31تو نے اگر مجھے کوئی سزا دینی ہے
23:33تو یہیں دے لے
23:36قیامت کو نہ دینا
23:38کہتے ہیں محبوب فرمانے لگے
23:39سبحان اللہ
23:41اوہ خدا کے بندے
23:42تو رب کی سزا دنیا میں بھی نہیں شہ سکتا
23:44اللہ سے یہ بھی سوال نہ کر
23:47تو رب سے کہہ ربنا آتنا فی الدنیا حسنتا
23:51وفی ال آخرت حسنتا
23:53وکنا عذاب النار
23:55تو رب سے دنیا میں بھی حسنا مانگ
23:58بھلائی مانگ
23:59تو آخرت کے لیے بھی بھلائی مانگ
24:01تو اس سے آفیت کا سوال کر
24:03تو نے یہ سوال کیوں کیا
24:05ارز کیا رسول اللہ کرم ہو گیا ہے
24:07مجھے سمجھ آ گئی ہے
24:08اب میں اسی طرح ہی کروں گا
24:10عزیز دوستو ہم کہاں سہ سکتے ہیں
24:13ہم دنیا میں رب کی سزا
24:15ہم نہیں سہ سکتے ہیں
24:16ہم کمزور ہیں
24:16تو گھر بھی نہیں سہ سکتے
24:18شدید سردی نہیں سہ سکتے
24:20شدت کی بھوک لوگ نہیں سہ سکتے
24:22کوئی آزمائش نہیں سہ سکتے
24:24وہ جو لوگ بعض وقت کہہ دیتے ہیں
24:25نا جی فلان چیز ہمارے عمال کا نتیجہ ہے
24:27تو میں کہا کرتا ہوں
24:28نہ کوئی یار
24:29ہم تو یہ بھی نہیں سہ سکتے
24:31ہم کہاں برداشت کر سکتے
24:33ہمیں تو وہ معافی فرمائے
24:35ہم حساب والے ہیں ہی نہیں
24:37ہم تو ذرہ معافی والے ہیں
24:38ہم سے نہ حساب پوچھے
24:40اس نے حساب پوچھا
24:42تو پھر تو بڑی مشکل ہو جائے گی
24:44اگر اس نے حساب پوچھا
24:46تو بڑی رسوائی ہو جائے گی
24:49اگر حساب پوچھا
24:50تو مشکلات سامنے دکھائی دینے لگ جائیں گی
24:53ہم سے تو وہ درگزر والا معاملہ کرے
24:56ہم سے تو وہ کہے
24:57جا میں نے معبوب کے صدقے
24:59تجھے معاف کیا
25:00جا تیرے لئے رحمت اور بخشش والا فیصلہ کیا
25:03وہ کوئی سبب اس کی رحمت
25:06کسی سبب کو دیکھ لے
25:07اور درگزر کر لے
25:08تو آج کی پوری گفتگو میں
25:10میں آج آپ کو بڑی ذمہ داری سے
25:13یہ گزارش کر رہا ہوں
25:15اللہ سے آفیت مانگے
25:16ہر وقت آفیت مانگے
25:18میری سالوں سے روٹین ہے
25:20میں دعا مانگتا ہوں
25:21اللہم اِنَّا
25:22نَسْأَلُكَ الْأَفْوَىٰ
25:24وَالْآفِيَةَ فِي الدِّینِ وَالْدُنِيَا
25:33وَالْآخِرَىٰ
25:33اللہ سے آفیت مانگے
25:35دین میں
25:35دنیا میں
25:36آخرت میں
25:38اس کو اپنا مزاج بنائے
25:39اللہ تبارک وطالعہ
25:41ہم سب کو آفیت نصیف فرمائے
25:43آخر دعویان
25:45الحمدلہ
Comments

Recommended