Zindagi ka asal maqsad samajhna har insaan ke liye bohat zaroori hai. Is emotional aur fikri bayan mein Muhammad Raza Saqib Mustafai zindagi ke asal maqsad, Allah ki ibadat aur insani zindagi ki haqeeqat ko dil ko choo lene wale andaaz mein bayan karte hain.
Yeh iman afroz bayan humein yaad dilata hai ke duniya sirf aik imtehan hai aur asal kamyabi Allah ki raza mein hai. Agar aap apni zindagi ko behtar banana chahte hain aur apna maqsad samajhna chahte hain to is bayan ko zaroor sunein aur dusron tak share karein.
#ZindagiKaMaqsad #RazaSaqibMustafai #EmotionalBayan #IslamicBayan #IslamicReminder #DeenKiBatein #MotivationalBayan #UrduBayan #LifePurpose
Yeh iman afroz bayan humein yaad dilata hai ke duniya sirf aik imtehan hai aur asal kamyabi Allah ki raza mein hai. Agar aap apni zindagi ko behtar banana chahte hain aur apna maqsad samajhna chahte hain to is bayan ko zaroor sunein aur dusron tak share karein.
#ZindagiKaMaqsad #RazaSaqibMustafai #EmotionalBayan #IslamicBayan #IslamicReminder #DeenKiBatein #MotivationalBayan #UrduBayan #LifePurpose
Category
📚
LearningTranscript
00:15कार्खाने कुदरत
00:30this is why it is a fault that is a fault that is why it is it.
00:36It has a fault that we need to leave.
00:40It has no fault or no ни прay.
00:44This is why it is not good why it is this fault for amplifier to it.
00:50And it is not good for you.
00:53But if it is not bad for us,
00:56So you can go and put it in your own place.
01:27가 concealer
01:32दो आद्गे से इसे बढ़ाया जाता है
01:34और जब मकसद पर अमल करना चोड़ दे
01:38और मकसदियत से आरी हो जाए
01:41तो फिर उसकी कोई तोकीर और कोई عز AMY
01:44नहीं रहती
01:45अन्र मू किया है
01:51भी मकसद इसको पैदा ता लिए offers यादा आ pregnant
01:54पैदा नहीं किया गया है
01:56In this case, there are little children who are not allowed to do this.
02:01Man is a part of this.
02:04This is a part of this.
02:06This is a part of this.
02:08We understand that it is a part of this.
02:11But when we ask for this, we ask for this.
02:17This is a part of this.
02:18I have a place where a person will be taken and taken and took a place.
02:26So I can say, his mind those who have been used a毒.
02:32It can also be used as a result of this.
02:35This is a result of this.
02:36It also takes me to do it.
02:40It's so ironic to know and to kind.
02:46As for me, we are asking,
02:50which we have no idea
02:52so we can ask them
02:54to ask them
02:56that today
02:57for the future of this
02:59and for the future of this
03:05which we have not
03:08in our eyes
03:08which we have
03:09so we have
03:10which we have not
03:13but
03:14which we have not
03:16but
03:17which we have
03:19which we have
03:20which we have
03:21which we have
03:21which we have
03:22which we have
03:23which we have
03:23which we have
03:24which we have
03:25which we have
03:27which we have
03:28which we have
03:29which we have
03:30which we have
03:32God has no reason, by the end of God.
03:36By the end of God, God has no reason.
03:38God has no reason for that.
03:39There is no reason for that.
03:43God has no reason for that.
03:46God has no reason for that.
03:53He does not show that where 관리 the Lord god must stand for it.
03:57ुلَّا لِيَعْبُدُونَ
03:59ہم نے جن و انس
04:01کو اس لیے پیدا کیا ہے
04:04کہ وہ میری عبادت کریں
04:06انسان کی
04:08تخلیق کا مقصد
04:09اور مدعاء
04:10اللہ تعالیٰ جللہ شانہو کی عبادت کرنا ہے
04:14اللہ تعالیٰ جللہ
04:16شانہو کی عبادت
04:18اس لیے نہیں
04:19کہ اس کو بندوں کی عبادت
04:21کی ضرورت ہے
04:22اسے کوئی غرض ہے
04:24بندوں کو تخلیق اس نے اس لیے کیا ہے
04:26کہ وہ مجھے پوچھیں گے
04:29اور میری عبادت کریں گے
04:31تو کوئی مجھے فائدہ ہوگا
04:33اللہ تعالیٰ جللہ شان رو
04:34ایسی کسی غرص سے پاک ہے
04:36خود رشاد فرمایا
04:38ما ارید منہم مر رزقن
04:40وما ارید این یتعمون
04:42نہ تو میں
04:44اس سے کوئی رزق چاہتا ہوں
04:46اور نہ یہ چاہتا ہوں
04:48کہ وہ مجھے کھلائیں
04:50چونکہ وہ کھانے سے بھی پاک ہے
04:53اور اسے رزق کی بھی ضرورت نہیں ہے
04:55بلکہ اِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ
04:58ذُلْقُوَّةٍ مَتِين
04:59اس کی شان یہ ہے کہ وہ خود رزاق ہے
05:02وہ پوری دنیا کو دینے والا ہے
05:04اور وہ
05:06قوتوں کا مالک ہے
05:08وہ رب جو خود قوتوں کا مالک ہے
05:10جو متین ہے
05:12ذُلْقُوَّةَ ہے اور رزاق ہے
05:14اس کو غرص کوئی نہیں ہے
05:17تو پھر بندوں کو
05:18حکم کیوں کیا گیا
05:20کہ وہ اس کی عبادت کریں
05:22اصل بندے کے لیے
05:24کمال یہ ہے
05:25کہ وہ بندگی میں رہے
05:27اور اس سے
05:28اس کے اخلاقِ رزیلہ ختم ہوں گے
05:30اور اس میں اخلاقِ حسنہ پیدا ہوں گے
05:32اس لیے
05:33اس کو عبادت کا حکم دیا گیا
05:35تاکہ
05:36وہ اپنی زندگی کا
05:38جمال پا سکے
05:39اگر وہ پوجہ نہیں کرے گا
05:41اللہ کی پرستش نہیں کرے گا
05:43تو اللہ تعالی جللہ شانہو
05:44کو کوئی فرق نہیں پڑتا
05:46کائنات کی کوئی چیز نہیں ہے
05:48جو طوعن اور کرہن
05:50اس کے حضور
05:51سجدہ ریز نہیں ہے
05:53اس کی تسبیح نہیں بولتی
05:55علماء نے لکھا
05:56کہ تمام درخت
05:58جو تم دیکھ رہے ہو
05:59یہ حالتِ قیام میں ہیں
06:01اور اللہ کی تسبیح بول رہے ہیں
06:03اور درخت
06:04جب تک تسبیح بولتا رہتا ہے
06:06اپنے تنے پہ کھڑا رہتا ہے
06:08اور جب تسبیح بولنا چھوڑ دیتا ہے
06:10تو کٹ دیا جاتا ہے
06:11جو درخت کٹ دیا جائے
06:13سمجھ لو
06:14کہ اب
06:15تسبیح کا عمل
06:16اس سے موقوف ہو گیا تھا
06:18اب
06:18اس کو کٹ دیا گیا
06:20تو سارے درخت
06:21حالتِ قیام میں ہیں
06:22چوپائیں
06:24حالتِ رکوع میں ہیں
06:25مینڈک
06:26حالتِ تشہد میں ہیں
06:28اور حشراتِ لرز
06:29گیڑے مکوڑے
06:30یہ حالتِ سجدہ میں ہیں
06:32اللہ تعالی نے انسان کو
06:34جو عبادت دی
06:35نماز کی صورت میں
06:37وہ ان تمام
06:38صورتوں کی جامعے ہیں
06:40ان تمام عبادات کی جامعے ہیں
06:42درختوں کا قیام بھی ہے
06:44چوپائیں کی طرح
06:46رکوع بھی ہے
06:47مینڈک کی طرح
06:47تشہد و رکادہ بھی ہے
06:49اور حشراتِ لرز کی طرح
06:51سجدہ بھی ہے
06:52اس لیے کہ
06:53یہ انسان
06:55خلاسہِ کائنات ہے
06:56اور تمام مخلوقات
06:58کا مقصود ہے
06:59اور پوری کائنات کا چرخ
07:01اس کے گرد گھومتا ہے
07:02اس لیے
07:03اس کی عبادت بھی
07:04تمام مخلوقات کی
07:06عبادات کی جامعے ہونی چاہیے
07:08اس لیے اس کو
07:09نماز کا حکم دیا گیا
07:11اور یہ حکم ایک بار نہیں دیا
07:13قرآنِ مجید کے اندر
07:14متعدد مرتبہ
07:16اسے نماز کا حکم نامہ دیا گیا
07:18اس شخص سے بڑا بدنصیب کوئی نہیں
07:20جو اللہ کی حضور جھکنا نہیں جانتا
07:23صبح سے لے کر شام تک
07:25کس کس کو سلوٹ کرتے ہیں
07:27روٹی کے چند ٹکڑے اور نوالے کمانے کے لیے
07:30کس کس سے ہس ہس کے بولنا پڑتا ہے
07:32اور کس کس کے سامنے جو ہے
07:35وہ حاضر ہونا پڑتا ہے
07:36ایک اللہ کی حضور نہیں جھکا جاتا
07:39جو کہ رازق ہے
07:41اور حقیقی مالک ہے
07:42اللہ تعالیٰ جللہ شانہو نے
07:44قرآنِ مجید میں
07:45ایک مقام پرشاد فرمایا
07:51اے لوگو اللہ کی عبادت کرو
07:54کیوں؟
07:54ربکم
07:55وہ تمہارا رب ہے
07:59اپنے رب کی عبادت کرو
08:01تمہاری تربیت کرنے والا ہے
08:03تمہیں درجہ کمال تک پہنچانے والا ہے
08:06یہاں صرف اہلِ ایمان کو حکم نہیں دیا گیا
08:08یہاں پوری انسانیت کو
08:11اللہ کی حضور حاضر ہونے کا کہا گیا ہے
08:13چونکہ وہ صرف اہلِ ایمان کا رب ہی نہیں ہے
08:16بلکہ وہ تمام کائنات کا رب ہے
08:18سورة الفاتح اٹھائیں
08:21تو وہاں ارشاد ہوتا ہے
08:23الحمدللہ رب العالمین
08:25تمام خوبیاں اللہ کے لیے
08:27جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے
08:29وہاں رب المسلمین نہیں کہا
08:31کہ صرف وہ اہلِ اسلام کا رب ہے
08:33وہ تمام جہانوں کا رب ہے
08:35پوری کائنات کا رب ہے
08:37ہر شخص کو اس کی ضرورت کے مطابق باہم پہنچا رہا ہے
08:41جو اسے مانتا اسے بھی دیتا ہے
08:43جو نہیں مانتا اسے بھی دیتا ہے
08:45کبھی ایسا نہیں ہوا
08:46کہ اس کی حضور کوئی سجدہ ریز نہ ہوتا ہو
08:49اور اس نے اس کے رزق کے دروازے بند کر دیے ہو
08:52سورج کو حکم دیا ہو
08:53اس کے گھر میں روشنی نہ بھیجنا
08:55یہ میرے نافرمانوں کا گھر ہے
08:57آپ تین مہینے بل نہ دیں
08:59تو وابڑا والے آپ کا میٹر کاٹ دیں گے
09:02آپ بل نہ دیں
09:03تو گیس والے آپ کا میٹر کاٹ دیں گے
09:05ٹیلی فون کا بل نہ دیں
09:06تو وہ تار کاٹ دیں گے
09:09لیکن ساری زندگی کوئی اس کی حضور سجدہ ریز نہ ہو
09:12کبھی اس نے چاند کو حکم نہیں دیا
09:14اس کے آنگن میں چاند نہیں نہ بکھیرنا
09:16یہ میرے نافرمانوں کا گھر ہے
09:17کبھی ہوا کو نہیں کہا
09:19اس کے ویڑے میں آکسیجن نہ پہنچنے پائے
09:22یہ نافرمانوں کا گھر ہے
09:24بلکہ سورج جس طرح روشنی
09:26حضرت باعزید بستامی کے گھر میں بکھیرتا ہے
09:29اس آسی کے گھر میں ایسے ہی بکھیرتا ہے
09:31یہ اس کی ربوبیت ہے
09:33جس کا عموم پوری انسانیت کو فیض دے رہا ہے
09:37حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عادت تھی
09:40کہ مہمان کے بغیر کھانا نہیں کھاتے تھے
09:43اور جو کھانا مہمان کے ساتھ کھایا جائے
09:46اس کا حساب بھی نہیں ہوگا
09:48ساری زندگی یہ ان کو معمول رہا ہے
09:50اور مہمان تمہارے گھر میں آ کر کے
09:53تمہارا نہیں کھاتا
09:54وہ اپنا حصہ خود لے کر کے آتا ہے
09:58مہمان کو دیکھ کر کے
09:59ناک مو نہیں چڑھانا چاہیے
10:02خوشی کے آثار چہرے پہ ظاہر ہوں
10:04کہ اللہ تعالیٰ نے یہ مہمان مجھے عطا فرما دیا
10:07تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ عادت تھی
10:11کہ مہمان کے بغیر کھانا نہیں کھاتے تھے
10:14ایک دن بھوک لگی
10:16گھر والوں کو کھانا پکانے کا کہا
10:17اور خود مہمان ڈھونڈے نکلے
10:19ایک شخص کو جو کہ بوڑا تھا
10:22لے آئے دسترخان پہ بٹھایا
10:24کھانا جب لگ گیا
10:25تو اس کو کہا
10:26اللہ کا نام لے کے شروع کرو
10:28اس نے کہا
10:29میں تو اللہ کو نہیں مانتا
10:31آپ نے فرمایا
10:32کہ میں تیرے سے کوئی ربط
10:35رشتہ اور تعلق نہیں رکھتا
10:36اللہ ہی کے نام پہ تجھے کھلا رہا ہوں
10:39تو میرے رب کا نام
10:40تجھے کم از کم لینا چاہیے
10:41اس نے کہا
10:42میں تو بتوں کا پجاری ہوں
10:44اور روٹی کے چند ٹکڑوں کے لیے
10:46اپنے بتوں سے بے وفائی نہیں کر سکتا
10:49آج لوگ چائے کی پیالی پہ دین بیچ رہے ہیں
10:52لیکن دیکھئے
10:53وفا کی ریت انہیں بھاگے آنا
10:55اس نے کہا
10:55کہ میں بتوں سے بے وفائی
10:57روٹی کے ٹکڑوں
10:59اور چند لکموں کے لیے نہیں کر سکتا
11:00حضرت ابراہیم علیہ السلام بولے
11:02جب تو اتنا غیرت مند ہے
11:04کہ میرے رب کا نام نہیں لیتا
11:07اور اپنے بتوں سے بے وفائی نہیں کر سکتا
11:09تو پھر میرا بھی تو کیا لگتا ہے
11:11اگر میرے رب کو نہیں مانتا
11:13تو میں تو کھانا
11:15اس رب کے نام پہ کھلاؤں گا
11:16کھاتا ہے تو ٹھیک نہیں تو تیری مرضی
11:18وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام
11:20کے دستخان سٹھ کے چلتا بنا
11:22وہ گیا تو جبریل امین حاضر ہو گا
11:24سلام دیا
11:25سندیسہ سنایا
11:27رب کہتا ہے
11:28اے میرے خلید
11:29تو نے میرا ایک بندہ ناراض کر دیا
11:31یا اللہ
11:33وہ تیرا بندہ تھا
11:34وہ تو
11:35تیرا نام لینا گوارہ نہیں کرتا تھا
11:38اور تو فرما رہا ہے
11:39کہ وہ میرا بندہ تھا
11:40ارشاد ہوا ابراہیم
11:41بتاؤ اس کی عمر کتنی ہوگی
11:44یا اللہ
11:45اسی سال کے قریب ہوگی
11:46کہا
11:47اتنا عرصہ ہو گیا
11:48میں اس کو رزق دے رہا ہوں
11:51تمہیں ایک دن نہیں کھلا سکے
11:52اب حضرت ابراہیم اس کو ڈونڈ رہے ہیں
11:55وہ دور پہاڑ پہ جا چکا ہے
11:57اس کے قریب پہنچے گا
11:58میاں کھانا تھنڈا ہو رہا
12:00جلدی آؤ
12:00اس نے کہا
12:02ایک شرط ہے
12:03تمہارے رب کا نام نہیں لوں گا
12:05کہا
12:06تو کہنے لگا
12:08لہجے میں اتنا قداز
12:09اتنی گرمی کیسے آگئی
12:10تم تو کہتے تھے
12:11رب کے نام کلوہ کلاؤں گا نہیں
12:14کہا کہ
12:14اسی رب کا ہی تو پیغام آیا ہے
12:16کہ میں بھی اس کو دے رہا ہوں
12:18اس نے کہا
12:19اگر تیرا رب اتنا اچھا ہے
12:20تو کھانا بات میں کھائیں گے
12:22پہلے اس کا غلام بنا لے مجھ کو
12:24تو وہ رب ہے سب کا
12:26ہمارا حق ہے
12:27کہ ہم اس کی پوجہ کریں
12:28تو اللہ تعالیٰ جللہ شہنو
12:30نے اشار فرمائی
12:35ایک تو وہ تمہارا رب ہے
12:37اور پھر اللہ زی خالہ کا قوم
12:39اس نے تمہیں پیدا بھی کیا ہے
12:41توجہ چاہوں گا
12:42کتنی شان ہے
12:43کہ اس نے تخلیق بھی کیا
12:46اور پھر
12:47اس نے تمہاری تربیت بھی کی
12:49جو تخلیق بھی کرے
12:51اور تمہاری تربیت بھی کرے
12:53کیا اس کا حق نہیں ہے
12:55کہ اس کی حضور سجدہ ریزیاں کی جائیں
12:57ساری زندگی انسان
12:59ماں کی خدمت کرتا رہے
13:01تو بتاؤ
13:01ماں کی خدمتوں کا بدلہ دے سکتا ہے
13:04ماں کے پیار کا صلح دے سکتا ہے
13:06عرض کی گئی
13:08کہ میں اپنی
13:09ماں کو اپنے کندوں پر اٹھا کر کے
13:12حاج کروایا ہے
13:13اور سائی اور قابط اللہ کا تواف کرایا ہے
13:17اور حالت یہ تھی
13:19کہ اگر
13:20چٹان کے اوپر
13:22گوشت کا ایک ٹکڑا ڈال دیا جاتا
13:24تو وہ بھی
13:25بھن کے قباب بن جاتا
13:27اتنی گرمی کی شدت تھی
13:29کہ میری ماں نے
13:30میری جو خدمت کی
13:31میری کفالت کی
13:33مجھے دودھ پلایا
13:34مجھے جنم دیا
13:35تو میں نے کیا
13:37ماں کی خدمتوں کا صلح دے دیا ہے
13:39تو جواب آیا
13:40تو نے ابھی
13:42اس کی ایک مسکراہت کا بدلہ بھی نہیں دیا
13:45ماں جب ہس کے دیکھتی ہے
13:47تو جنت کی ساری کلیاں کھل اٹھتی
13:49اور بیٹے کی زندگی
13:51ماں کی اس ہسنے سے
13:52جو ہے وہ عبارت ہوتی ہے
13:54بیٹے کے لیے
13:55ماں کے جو جذبات ہیں
13:57ماں کی جو کہانیاں ہیں
13:58ماں کے سینے میں
13:59جو درد کے امٹ تھی ہوئی
14:01ایک کائنات ہے
14:01اس کا کوئی بدل نہیں ہو سکتا
14:03ساری زندگی
14:04ایک ٹانگ پر کڑا ہوگے
14:05بندہ ماں کی خدمت کرتا رہے
14:07پھر بھی حق ادا نہیں ہوگا
14:09ماں ماں ہوتی ہے
14:11اللہ تعالی جللہ شانہو نے
14:12اس کو وہ درجہ اطا فرمائے
14:14بیٹے کے ساتھ
14:15جو پیار ماں کرتی ہے
14:17بھلا کوئی کر سکتا ہے
14:18کوئی اتنی محبت دے سکتا ہے
14:20جتنی ماں
14:21محبت دیتی ہے
14:22ساری زندگی بھی انسان
14:24ان محبتوں کا بدل دینا چاہے
14:26تو نہیں دے سکتا
14:27چونکہ ماں کے پیار کا کنارہ ہی کوئی نہیں
14:29ماں کی محبت کی گہرائی
14:32اور گیرائی کو کوئی نا پی نہیں سکتا
14:34سمندر کے پاتال تک
14:36تو شاید کوئی پہنچ گیا ہو
14:37لیکن ماں کے پیار کا کنارہ
14:39آج تک کسی کو نہیں ملا
14:41کبھی دیکھا نہیں
14:42جب بچہ گھر سے نکلتا ہے
14:44تو دنیا کو اکل و بینش
14:47کا درس دینے جاتا ہے
14:48لوگ اس کے ایک ایک جملے کے لیے
14:50کان لگائے کھڑے ہوتے ہیں
14:52کوئی ایک لفظ بھی زائع نہ ہو جائے
14:54دنیا کے بڑے بڑے سکالر
14:56بڑی بڑی یونیورسٹیوں
14:57اور جامعات میں جاتے ہیں
14:59اور لوگ ان کی ایک ایک بات کو
15:01موتی سمجھ کے قبول کرتے ہیں
15:02لیکن وہ جو زمانے کو
15:05زندگی کا درس دینے گھر سے نکلتا ہے
15:07جب گھر سے نکلنے لگتا ہے
15:09ماں دیہات کی رہنے والی ہو
15:11یا گل برگ کی رہنے والی ہو
15:13ماں اس کو کہتی ہے
15:14بیٹے سڑک دیان سے عبور کرنا
15:16جو دنیا کو عقل سے کھانے جا رہا ہے
15:19اس کو اتنا ہی نہیں پتا
15:20کہ سڑک عبور کیسے کرنی ہے
15:21لیکن یہ ماں کے پیار کا ایک روپ ہے
15:24یہ ماں کی محبت کا ایک انداز ہے
15:26اللہ تعالیٰ نے اس کے سینے میں
15:28دھڑکتا ہوا جو دل رکھا ہے
15:30اور تڑپتی ہوئی جو ممتہ رکھی ہے
15:32وہ ایک مثال بنی ہوئی ہے
15:34کہ کسی نے
15:35کسی کو کہا کہ میں تیرے پہ راضی تب ہوں گی
15:38کہ اگر تو اپنی ماں کا کلیجہ نکال کے لے آئے
15:42اس بدبخت نے
15:44اپنی اس محبوبہ کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے
15:47اس اقدام کی تیاری بھی کر لی
15:49اور جا کے ماں کا سینہ چھیرا
15:51اور اس کا کلیجہ نکالا
15:53اور اپنی اس محبوبہ کی خوشنودی کے لیے
15:56تیز تیز آ رہا ہے
15:57کہ میں اس کو دکھاؤں
15:59کہ میں نے یہ کارنامہ بھی سر انجام دے دیا
16:02اور یہ چھوٹی بھی سر کر لی ہے
16:03تو تیزی سے آ رہا تھا
16:05راستے میں ٹھوکر لگی
16:06جب گرا
16:07تو کہتے ہیں ماں کے کلیجے سے آوازیں پتر چوٹ تو نہیں آئی ہے
16:11یہ ماں کے پیار کا روپ ہے
16:14یہ ماں کی محبت کا انداز ہے
16:16دنیا والوں
16:17ماں کی قدر کو زائع نہ کرنا
16:19ماں کے پیار کو
16:21اور اس کی محبت کا
16:23صلح دے تو نہیں سکتے
16:24لیکن ساری زندگی
16:26ماں کی نوکری کرنا
16:27اور اپنے باپ کی زندگی کے اندر
16:30کبھی بھی نافرمانی نہ کرنا
16:32یہ سعادت مندی اور خوشنصیبی ہوتی ہے
16:35حضور نے ممبر کی تین سیڑھیوں پہ قدم رکھتے ہوئے
16:38آمین آمین کہا تھا
16:40تو بات میں پوچھا گیا حضور
16:42آپ نے ہر سیڑھی پہ قدم رکھتے ہوئے آمین کہا
16:45تو یہ کیا ماجرہ تھا
16:46فرمایا جبریل آئے تھے
16:48انہوں نے مجھے کہا تھا
16:49اس شخص کی ناخہ کالود ہو
16:51جو ماہ سیام رمضان المبارک کو پائے
16:54اور پھر کسرت عبادت سے
16:57اپنی بخشش نہ کروا سکے
16:59تو میں نے آمین کہا
17:00پھر کہا اس شخص کی ناخہ کالود ہو
17:03جو والدین کو بھڑاپے میں پائے
17:05اور جنتی نہ ہو سکے ان کی خدمت کر کے
17:07تو میں نے آمین کہا
17:08پھر جبریل نے کہا
17:10اس شخص کی ناخہ کالود ہو
17:12جس کے سامنے آپ کا ذکر کیا جائے
17:14اور آپ پر درود نہ پڑے
17:15تو میں نے آمین کہا
17:18تو وہ شخص کتنا بدنصیب ہے
17:20جو والدین کو ناراض کر لیتا ہے
17:23میں کہتا ہوں
17:24ساری کائنات ماں کے قدم و تلے ہے
17:26بلکہ میرے محبوب نے
17:28جنت کو ماں کے قدم و تلے قرار دیا
17:30جنت ماں کے قدم و تلے ہیں
17:35حضرت بایزید بستامی کہتے ہیں
17:37میں نے اپنی ماں کے آگے ہاتھ جوڑے
17:40میں نے کہا
17:41امی تیرے حق ادا کروں
17:42یا اللہ کے حق ادا کروں
17:44دو ہستیوں کے حق
17:45مجھ سے ادا نہیں ہو سکتے
17:47اپنے حق تو ماف کر دے
17:49اللہ کو میں راضی کر دوں گا
17:51ماں پھر بھی ماں ہوتی ہے
17:52ماں نے کہا جا بیٹے
17:53میں نے اپنے حق ماف کر دیے
17:55حضرت بایزید کہتے ہیں
17:57میں پارہ سال جنگلوں میں گھومتا رہا
18:02ایک دن
18:02مجھے خیال آیا
18:04بستام کے قریب سے گزر رہا تھا
18:06کہ چلتے چلتے ماں کو سلام کر جاؤں
18:09دروازے کو دست تک دینے لگا
18:12تو اس احساس نے ہاتھ روک لیا
18:14کہ ساری زندگی ماں کو سکت دیا نہیں
18:17دکھ بھی کیوں پہنچاؤں
18:18ماں اب سو رہی ہوگی
18:19اور میں دروازہ ناک کروں گا
18:22تو ماں اٹھے گی
18:22سردیوں کی لمبی رات تھی
18:24میں دروازے کے ساتھ لگ کے کھڑا رہا
18:26کہ چلو جب ماں بیدار ہوگی
18:28تب ہی
18:29میں دروازے پہ دست تک دوں گا
18:31کہتے ہیں جب سہری کا وقت ہوا
18:33تو اندر سے جو نالی آتی تھی
18:35وہاں سے پانی آیا
18:37میں سمجھ گیا
18:38کہ میری ماں تاجد کے لیے اٹھی ہے
18:40کہتے ہیں میں دروازے کو دست تک دی
18:42تو اندر سے آواز آئی
18:44بیٹا با یزید ٹھہرو
18:45میں ابھی آتی ہوں
18:47مائیں بیٹوں کے دست تک کے
18:49انداز سے بھی جانتی ہوتی ہیں
18:54سال کے بعد دست تک دی دی
18:56اور ماں پہچان رہی ہے
18:57یہ کس بیٹے کے ہاتھوں کی لمس ہے
18:59اور یہ کس بیٹے کے ہاتھوں کی آہٹ ہے
19:03بارسلونہ کے ائرپورٹ پہ کھڑا تھا
19:06فلائٹ ابھی لیٹ تھی
19:08اور وہاں کوئی ہم زبان مل جائے
19:10تو غنیمت ہوتا ہے
19:11تو مجھے ایک سمجھ
19:13ایسے محسوس ہوا
19:14کہ جس طرح کوئی مو بھولی
19:16پنجابی میں بات کر رہا ہے
19:17میں اٹھ کے ادھر لڑک گیا
19:19تو دیکھا کہ وہاں کچھ لوگ
19:21پنجابی میں آپس میں گفتگو کر رہے تھے
19:23میں ان کے پاس جا کے بیٹھ گیا
19:25تو وہ انڈیا کے لوگ تھے
19:28میں نے پوچھا کہ آپ
19:29تو کہنے لگے کہ یہ ہمارا دوست ہے
19:31اس کو ہم الویدا کرنے آئے ہیں
19:34تو میں ان کے پاس بیٹھ کے
19:36گفتو شنید شروع کر دی
19:38تو وہ شخص کہنے لگا
19:41کہ مجھے
19:42ستائی سال تین ماہ ہو گئے ہیں
19:45میں انڈیا سے آیا تھا
19:47لیکن یہاں ایسے مسائل بنتے گئے
19:49کہ میں جا نہیں سکا
19:50اس وقت
19:51میرا لڑکپن کا زمانہ تھا
19:53اور اب
19:54میرے بال بھی
19:56سفید ہو رہے ہیں
19:57تو میں
19:58ستائی سال تین ماہ کے بعد جا رہا ہوں
20:00اور اس نے ساتھ کہا
20:02کہ پتہ نہیں میرے گھر والے
20:03مجھے پہچانتے بھی ہیں یا کہ نہیں
20:05تو میں نے کہا
20:06میاں
20:07اور کوئی پہچانے نہ پہچانے
20:09ماں تیرے قدموں کی آہٹ سے پہچانیں گی
20:11کہ یہ میرے بیٹے کے قدموں کی آواز ہے
20:13یہ ماں کے پیار کا روپ ہے
20:15تو بندہ ساری زندگی
20:17خدمت بھی کرتا رہے
20:19ماں نے پیار اتنا کر دیا ہوتا ہے
20:21ماں نے معبت اتنی دے دی ہوتی ہے
20:23کہ اس پیار کا
20:24پدل انسان جو ہے
20:26نہیں دے سکتا
20:27انسان تو دیکھتا ہے
20:29جب ہوش سمبھالتا ہے
20:30کہ میری ماں نے میرے سے کتنا پیار کیا
20:32لیکن جب بندے کی ہوش نہیں ہوتی
20:34ماں اس وقت جو پیار کرتی ہے
20:36گندگی سے دتڑا ہوا بچہ
20:38اور ماں اس کو فرش سے اٹھاتی ہے
20:40پہلے چومتی ہے
20:41پھر غلازتیں دھوتی ہے
20:42یہ ماں کے پیار کا روپ ہے
20:44یہ ماں کے پیار کا انتاز ہے
20:46ماں کو بیٹے کے ساتھ
20:48اتنا پیار ہے
20:49اور بندہ ساری زندگی
20:51نوکری بھی کرے
20:52ماں باپ کی
20:53تو پھر بھی
20:54خدمتوں کا صلح نہیں دے سکتا
20:56ایک شاعر وہ ہے
20:57احسان دانش
20:58اس کی ماں بیمار ہوگی
21:00تو وہ خود
21:00اس کے کپڑے جا کے دھوتا تھا
21:02تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر
21:05دہرتی وہاں جا کے لباس دھوتا
21:06اور پھر دوسرا لباس لے جاتا
21:08تو اس کی بیوی نے کہا
21:10کہ یہ خدمت میں سر اجام دوں گئی
21:12تو احسان دانش نے کہا تھا
21:14کہ ماں میری ہے
21:15اور یہ حق میرا ہے
21:16کہ میں اس کی خدمت کروں
21:17اور یہ سعادت مندی
21:19میرے حصے میں آنی چاہیے
21:20میں کسی اور کو نہیں دوں گا
21:22یہ سعادت مندی ہوتی ہے
21:23اولاد کی
21:24تو انسان جتنی مرضی خدمت کر کے
21:27ماں باپ کو راضی کرنے کی کوشش کرے
21:29وہ تو راضی ہوتے ہیں
21:30بلکہ نالائک اولاد کے لیے
21:33ماں باپ کی دعائیں
21:33اور زیادہ ہوتی ہیں
21:35تو انسان ان کی خدمت کا حق نہیں دے سکتا
21:39ماں باپ کے اتنے حق کیوں ہیں
21:41اس لیے
21:42کہ ماں نے بیٹے کو جنم دیا
21:45اس پہ میں آپ کی توجہ چاہوں گا
21:48اور آج کی
21:49اس گفتگو کا اس کو نکتہ
21:51اروج بھی سمجھ لیجئے گا
21:52کہ ماں اتنا پیار کرتی ہے
21:55کہ جس کا کسی طرازو پہ
21:57توڑ نہیں ہو سکتا
21:58اور اس کے پیار کا سلح
21:59بدلہ ساری زندگی خدمت میں بھی گزار دیں
22:02پھر بھی نہیں دیا جا سکتا
22:04اس قدر
22:05ماں کے حق کیوں ہیں
22:06اس لیے کہ ماں نے بچے کو جنم دیا ہے
22:09جس نے جنم دیا ہے
22:11اس کے اتنے حق ہیں
22:12تو جس رب نے خلق کیا ہے
22:14اس کے کتنے حق ہوں گے
22:16جس نے تخلیق کیا ہے
22:18دست قدرت سے بنایا ہے
22:19تو پھر اس کے کتنے حق ہوں گے
22:21تو مجھے بتائیے
22:22اس شخص سے بڑا بدبخت کوئی ہو سکتا ہے
22:25جو اللہ کی حضور سجدہ ریزی نہیں کرتا
22:27صبح کے وقت
22:28چڑھیاں بھی اللہ کا نام لے رہے ہوتی ہیں
22:30حشرات العرض بھی رب کا نام پکار رہے ہوتے ہیں
22:34پلوں سے سر نکال کر
22:35جانور بھی اللہ کا نام پکار رہے ہوتے ہیں
22:37اور اس شخص سے بڑا بدنصیب زمانے میں
22:40کوئی نہیں ہے
22:41کہ جو اللہ کی حضور جھکنا نہیں جانتا
22:44جو اللہ کی حضور
22:45جو ہے
22:45وہ عبادت کا سر نہیں رکھتا
22:54انسان کے دل میں خیال آتا ہے
22:55کہ تم مرے تو والدین نے مجھے پیدا کیا
22:58تو فرمایا
22:59اب بتاؤ تمہارے والدین کو کس نے پیدا کیا
23:02اگر کہو کہ ان کے والدین ہے
23:04تو ان کو کس نے پیدا کیا
23:05پھر ان کو کس نے پیدا کیا
23:07بات حضرت عادم علیہ السلام تک چلی جائے گی
23:10پھر حضرت عادم علیہ السلام کو کس نے پیدا کیا
23:12تمہیں ماننا پڑے گا
23:13انکار نہیں کر سکو گے
23:15کہ وہ رب ہے جو تمہیں پیدا کرنے والا ہے
23:17ماں کے رحم کے اندر کون نقش و ونگار دینے والا ہے
23:21کس نے گوشت کے لوتھرے کو بولنا سکھایا ہے
23:25کس نے چشم خانوں کے اندر روشن چراغ رکھ دیئے ہیں
23:29اور کس نے سر کے اندر ایک نشید اور روشن دماغ رکھ دیا ہے
23:33کس نے ہاتھوں کو پکڑنے کی قوت دی
23:35اور کانوں کو شنوائی کی طاقت دی
23:37اور کس نے جو ہے وہ سونگنے کی قوت اور قوت شامہ
23:40ناک کے نتنوں کے اندر رکھ دی
23:42کون ہے جو ٹانگوں میں زور پیدا کرتا ہے
23:44کون ہے جس نے چھاتی کو طاقت دی
23:47کون ہے جس نے انسانیت کو آسن تقویم بنایا
23:50انسان کیا تیرا حق ہے
23:52کہ مسجد کے قریب سے تو گزر جائے
23:54اور اللہ کا نمائندہ پکار رہا ہو
23:59آجا نیکی کی طرف آجا نماز کی طرف
24:01اور تو جو ہے وہ اس کو سننے کے باوجود گزر جائے
24:05ایسا ہو سکتا ہے
24:07کہ تو اس کے حضور آئے نہ حاضر نہ ہو
24:09یہ بدنصیبی نہیں
24:10تو اور کیا ہے
24:12اللہ تعالیٰ جللہ شانہو
24:13ہمیں اپنی عبادت کی توفیق نصیب فرمائے
24:16اور یہ سعادت مندی ہے
24:18اب عبادت کسے کہتے ہیں
24:20عبادت کے کئی مفاہیم ہیں
24:23ایک عام مفہوم عبادت کا
24:25پوجہ اور پرستش کرنا ہے
24:27اور یہ اللہ کے علاوہ کسی کا حق نہیں ہے
24:30اللہ ہی کی پوجہ کی جائے
24:32اور کوئی اس بات کا استحقاق نہیں رکھتا
24:35کہ اس کی پوجہ پاٹ کی جائے
24:37ایک خدا کو پوجیں گے
24:38دوسرا عبادت کا مفہوم یہ ہے
24:45بندے کے لئے جمال اور حسن ہی بندگی ہے
24:48وہ اللہ کی حضور اپنا سر جھکائی اس طرح
24:51کہ جو اس کا حکم ہے
24:53اس کو بجا لائے
24:54وہاں سے سر نہ پھیرے
24:56اور اس میں
24:57اپنی عقل
24:58اپنی سمجھ
24:59اپنے فہم و ادراک کے گھوڑے نہ دوڑائے
25:01بس اس کے حکم کو
25:02ہر صورت کے اندر قبول کرے
25:04اور تیسرا مفہوم جو ہے
25:06وہ بندگی اور غلامی کے معنی میں
25:09بندگی اور غلامی کے معنی میں عبادت ہے
25:11کہ بندہ اس کا
25:13جو ہے وہ اس طرح غلامی کا حق نبائے
25:16جس طرح غلام کو
25:17آقا کے کسی بات پر کوئی اتراز نہیں ہوتا
25:19تو ہزاروں آقا
25:21اللہ تعالیٰ جللہ شانعو
25:23کے جو ہے وہ فرامین
25:25اس کے پابند ہیں
25:26اور بندہ اس کا کیوں پابند نہ ہو
25:28جن کو دنیا آقا مانتی ہے
25:30وہ بھی ان کے حضور کھڑے ہوئے ہیں
25:31تو پھر اس کی بات کو
25:33کس انداز سے بندہ ٹالے
25:35اور آج اس دنیا کے اندر
25:37آپ کہیں ملازمت کرتے ہیں
25:39آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی دینا ہوتی ہے
25:41ان آٹھ گھنٹوں کے اندر
25:43آپ کا مالک آپ کو بلائے
25:45صرف آٹھ گھنٹوں میں
25:47ایک عارضی ملک آپ کے اوپر رکھتا ہے
25:49تو آپ دھوڑ کے جاتے ہیں
25:50کہ نہیں جاتے ہیں
25:52آپ کے مہمان بھی آپ کے پاس بیٹھے ہو
25:54اور آپ چائے بھی ان کو پلا رہے ہیں
25:56لیکن باس بلالے آپ کو
25:58اور وہ گھنٹی دے
25:59تو آپ بیل پہ سب کو چھوڑ کے
26:01بھاگتے ہیں کہ نہیں بھاگتے
26:02مہمانوں سے بھی معذرت کرتے ہیں
26:03مجھے پاس نے بلائے
26:04آپ دھوڑتے جا رہے ہیں
26:06یار ایک دنیا کا پاس بلائے
26:09تو مہمانوں کو چھوڑ کے
26:11چائے کو چھوڑ کے
26:12مرغن غزاؤں کو چھوڑ کے
26:13سب کو چھوڑ کے بھاگ جاتے ہیں
26:15اور رب کا نمائندہ پکارے
26:17حیعہ علیہ السلام
26:18اور حیعہ علیہ الفلام
26:20جو بندہ اس کی حضور نہ جائے
26:22کتنا بڑا بدنصیب ہیں
26:23کتنی بدنصیبیں
26:25اس کا مقدر ہیں
26:26کہ جو اس کی حضور
26:27لیکن یہ
26:27اللہ تعالی جللہ شانہو
26:29کی رحمت کی عمومیت ہے
26:31اگر آج
26:32آٹھ گھنٹے کے لیے
26:33آپ کہیں ڈیوٹی کرتے ہیں
26:35وہ آپ کو آواز دے
26:36اور آپ نہ جائیں
26:36تو وہ آپ کی نوکری ختم کر دے گا
26:39آپ کو سخت سرنش
26:41اسی وقت کرے گا
26:42یا پھر آپ کو فارق کر دے گا
26:43لیکن اللہ تعالی جللہ شانہو
26:45اس کی نافرمانی پہ
26:47نافرمانی کرتے رہیں
26:49کبھی اس نے
26:49رزق کے دروازے بند نہیں کیے
26:51بلکہ جو نہیں مانتے
26:52ان کو اور زیادہ دے رہا ہے
26:54چونکہ ان کا حصہ
26:55صرف دنیا پہ یہ نا
26:56آخرت میں تو حصہ کوئی نہیں ہے
26:57بلکہ فرمایا
26:58اگر مسلمانوں کی
27:00دل جوئی کا لحاظ نہ ہو
27:01تو میں کافروں کے گھروں کی
27:03سیڑیاں بھی سونے
27:04اور چاندی کی بنا دوں
27:06لیکن یہ کہیں گے
27:07ہمیں تو زیادہ رگڑ دیا گیا ہے
27:09چونکہ انہوں نے
27:09دنیا کوئی دیکھا ہے
27:10آخرت ابھی دیکھی نہیں ہے
27:12ورنہ جو ان کے لئے
27:13آخرت میں رکھا گیا ہے
27:14دنیا کی کوئی شہ
27:16ان کے نزدیک حصیت ہی نہ رکھے
27:18بلکہ حدیث میں آتا ہے
27:19صحابہ مشقات نے اس کو لکھا
27:21کہ دنیا کے اوپر
27:23جس کو سب سے زیادہ
27:24تکلیفیں پہنچی ہوں گی
27:25وہ جنت میں لے جایا جائے گا
27:27اور ایک مرتبہ جنت میں
27:29جو ہے وہ داخل کر کے
27:30نکال دیا جائے گا
27:31اور کہا جائے گا
27:33کہ بتاں
27:34دنیا کے اوپر
27:35تجھے بڑی تکلیفیں پہنچی
27:36وہ کہے گا
27:37یا اللہ مجھے تو
27:38کوئی تکلیف پہنچی ہی نہیں ہے
27:39جنت کی صرف آب و ہوا
27:41سارے دکھ ختم کر دے گی
27:43اور جس نے
27:44تخت و تاج پہ بیٹھ کے بھی
27:46زندگی ساری گزاری ہو
27:47حدیث میں آتا ہے
27:48اس کو جہنم میں
27:49ایک ڈبکی لگائی جائے گی
27:50اور پھر اس کو کہا جائے گا
27:52بتا
27:53تو دنیا کے اوپر
27:55کوئی راحت پائی ہے
27:56وہ کہے گا
27:57مالک دنیا کے اوپر
27:58میں نے کوئی سکھ دیکھا ہی نہیں ہے
28:00ایک غوتہ جہنم کے اندر دیا جائے گا
28:03دنیا کے سارے سکھ ہی بھول جائے گا
28:05کہ میں وہاں بادشاہ ہوا کرتا تھا
28:07میں وہاں عکمران ہوا کرتا تھا
28:09میں دنیا کے اوپر
28:10جو ہے وہ اوباما تھا
28:11میں دنیا کے اوپر بوشت تھا
28:13میں دنیا کے اوپر
28:14کوئی دنیا کو میں نے
28:15جو ہے وہ ریور کی طرح آنکھا تھا
28:17اور انسانیت کا قتل کیا تھا
28:18میری رعونت اور میرا تقبر
28:20دنیا کو چکا دیتا تھا
28:22اس کو کوئی شے اور اپنی کوئی آکڑ
28:24اور کوئی بات یاد نہیں رہے گی
28:26صرف ایک ڈبکی کی بات ہے
28:28اور جس نے دکھ پہ دکھ کاٹے
28:30غربت تنہائی دکھ
28:32عذیت مسائب آلام
28:34مشکلات لیکن ایک
28:36بار جنت سے گزار کر کے
28:38جنت کی صرف آبو ہوا ہی سنگائی
28:40جائے گی تو اس کو کہا جائے گا
28:42بتا دنیا کی اوپر تجھے کوئی دکھ پہنچا
28:44وہ کہے گا میرے رب دنیا پہ
28:46مجھے کوئی دکھ نہیں پہنچا
28:47اب بتائیے کہ اللہ کے حضور
28:50ہم حاضر ہوں
28:52یا کہ دنیا کوئی منشاہ و مقصود
28:54بنا لیں ہماری زندگی
28:56کی ڈگر کیا ہونی چاہیے
28:57پہلی بات تو یہ ہے کہ جنت کے
29:00مقابلے میں اس دنیا کی حیثیت
29:02ہی کوئی نہیں اور دوسری بات
29:05اگر دنیا
29:06کے اوپر ہم عزتیں سرخرویاں
29:08جس کو ہم سمجھتے ہیں یہ سرخرویاں
29:10وہ پا بھی لیں تو وہ
29:12کتنا قرصہ ہے پھر اس کا حساب
29:14بھی تو ہم نے دینا ہی دینا ہے
29:15اس لیے ہم دیکھ لیں جتنا
29:18برداشت کرتے ہیں اس کے مطابق
29:20جو ہے وہ ہم چلیں
Comments