Har insaan apni zindagi mein sukoon ki talash mein hota hai, lekin asal sukoon sirf Allah ki yaad aur uski ita'at mein hai. Is dil ko choo lene wale aur iman afroz bayan mein Saqib Raza Mustafai batate hain ke dil ka sukoon daulat, shohrat ya duniya ki cheezon mein nahi, balki Allah se mazboot ta'alluq, dua, zikr aur Deen par amal karne mein hai.
Yeh life changing bayan humein sabr, tawakkul, tauba aur Allah par yaqeen ki ahmiyat samjhata hai. Agar aap pareshani, udaasi ya bechaini se guzar rahe hain aur asli roohani sukoon chahte hain to is bayan ko zaroor sunein aur apne doston ke sath bhi share karein.
#SukoonKiTalash #SaqibRazaMustafai #IslamicBayan #EmotionalBayan #LifeChangingBayan #IslamicReminder #DeenKiBatein #UrduBayan #AllahKiYaad #HeartTouchingBayan
Yeh life changing bayan humein sabr, tawakkul, tauba aur Allah par yaqeen ki ahmiyat samjhata hai. Agar aap pareshani, udaasi ya bechaini se guzar rahe hain aur asli roohani sukoon chahte hain to is bayan ko zaroor sunein aur apne doston ke sath bhi share karein.
#SukoonKiTalash #SaqibRazaMustafai #IslamicBayan #EmotionalBayan #LifeChangingBayan #IslamicReminder #DeenKiBatein #UrduBayan #AllahKiYaad #HeartTouchingBayan
Category
📚
LearningTranscript
00:25ڈالی نصد کوٹھیوں میں سکون تلاش کرتا ہے
00:30کوئی خوبصورت عورت کے پہلو میں سکون تلاش کرتا ہے
00:35کوئی دولت کے امبار میں سکون تلاش کرتا ہے
00:40اقتدار کی بچی ہوئی مستدیں سکون آور سمجھی جاتی ہیں
00:45لیکن پوچھ لو ان سب کو کہ سکون ہے
00:49نہ علی نصد کوٹھیوں میں سکون
00:52نہ عظیم الشان بنگلوں میں سکون
00:55نہ اقتدار کی بچی ہوئی مستد پہ سکون
01:00سکون بندہ وہاں سے ڈھونڈ رہا ہے جہاں سکون ہے ہی نہیں
01:04کیسے سکون ملے گا
01:05سکون باہر سے نہیں آتا
01:07سکون کے سوتے تو اندر سے پوٹتے
01:11وقتی طور پہ ان چیزوں سے
01:13کوئی تھوڑا سا دل بہل جاتا ہے
01:17لیکن حقیقی سکون ان چیزوں سے نہیں ہے
01:19اقتدار مل گیا دولت مل گئی
01:22شہرت مل گئی عزت مل گئی
01:24تو وقتی طور پہ جو ہے وہ خوشی ہوئی
01:26اور اس کو بندہ آواز کا سکون سمجھ لیتا ہے
01:29لیکن وہ سکون نہیں ہوتا
01:31وہ وقتی ایک مسررت ہوتی ہے جو ظاہل ہو جاتی ہے
01:33سکون کے سوتے اندر سے بھوٹتے ہیں
01:36میں مثال دیا کرتا ہوں
01:38کہ جتنی مرضی بارش برسے
01:40کبھی بارش کے پانی سے کونہ نہیں بھرتا
01:43اوپر سے جتنی مرضی بارش آئے
01:46کچھ چند کترے
01:48پانی کے کونے کے اندر آ جائیں گے
01:50کونہ کیسے بھرتا ہے
01:52نیچے سے جو سوتے بھوٹتے ہیں
01:55وہی کونے کو مالا مال کرتے ہیں
01:58اسی طرح سکون کے سوتے باہر سے نہیں
02:00اندر سے بھوٹتے ہیں
02:01اور وہ دل سے بھوٹتے ہیں
02:03اس لئے فرمایا
02:09اگر سکون ڈھونڈتے ہو
02:10اس کا نام جپو
02:12تمہارے دکھی دل کو قرار آ جائے
02:14تو سکون اس کی یاد میں ہے
02:17سکون اس کے ذکر میں ہے
02:19اور بعض اکل پرست لوگ کہتے ہیں
02:23کہ یاد کرنے میں
02:24ذکر کرنے میں سکون کیسے بھلے گا
02:27جبکہ موجودہ سائنس نے
02:29اس بات کو تسلیم کیا ہے
02:32کہ جو الفاظ ہیں
02:35ان کے اثرات ہوتے ہیں
02:38آپ پھول کا نام لیں
02:39تو طبیعت میں خوشی آئے گے
02:41کہ نہیں آئے گا
02:42کسی اپنے عزیز دوست کا تذکرہ چھڑ دیں
02:47ماں کا تذکرہ چھڑ دیں
02:48باپ کی باتیں کرنے لگ جائیں
02:50تو طبیعت میں تسکین آئے گی
02:54خوشبو کی باتیں چھڑیں
02:56تو ماحول میں
02:57ایک خوشبو پھیل جائے گی
02:59لیکن اگر کسی
03:01کریو المنظر شخص کی بات چھڑ دیں
03:05کسی ظالم کا تذکرہ چھڑ دیں
03:09کسی قتل کی کہانی کو چھڑ کے بیٹھ جائیں
03:14ظلم جبر اور بربریت کی کسی بات کو چھڑ کے بیٹھ جائیں
03:18تو اثرات اس طرح کے ذہن میں مرتب ہوگیا
03:23کسی قرآن دکھ کی بات چھڑیں
03:25تو ان باتوں میں وہ دکھ تازہ ہو جائے گی
03:28کسی خوشی کا تذکرہ کریں
03:29تو چہرے پہ مسرد پھیل جائے گی
03:33دکھ زیادہ ہو جائیں
03:35بات مدینے کی چھیڑتے ہیں
03:37دکھ دور ہوں گے کہ نہیں ہوں گے
03:40حضرت شیخ
03:41شبلی
03:43علی رحمہ
03:45بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں
03:49آپ معارف اسم ذات بیان فرما رہے تھے
03:52کہ اللہ کا نام لینے سے
03:55دل میں سکون آتا ہے
03:57اور دل کی کیفیت بدل دیئے
03:59من میں اجالے اور روشنیاں پیدا ہوتے
04:01بو علی سینہ
04:04جو اس نور کا بہت بڑا فلسفی تھا
04:07وہ اس مجلس میں موجود تھا
04:10وہ کہنے لگا یہ آپ نے عجیب بات کہہ دی
04:14اللہ تعالی کی ذات تو مؤثر ہے لیکن نام میں کیا رکھا ہے
04:19ہمارے جو فلسفی حضرات ہیں وہ ہر چیز کی چار شکلیں بیان کرتے ہیں
04:25ہر شکلیں ہیں ایک شکل خارجی ایک شکل زہنی ایک شکل کتابی اور ایک شکل لفظ
04:35مثال کے طور پر ہم آگ لفظ بولیں
04:39ایک آگ تو وہ ہے جو باہر روشنر جل رہی ہے
04:42اس میں ہاتھ لگائیں گے تو جل جائے گا ہاتھ
04:45دوسری آگ وہ ہے جو زبان سے لفظ آگ ہم بول رہے ہیں
04:50تیسرا جب لفظ آگ کہیں گے
04:53تو دماغ میں اس کا تصور آئے گا
04:56اور چوتھا
04:58کاغذ کے اوپر آگ چھاپنے
05:00اس کی تصویر بنا دیں
05:02تو یہ شکل کتابی ہوگا
05:03اس میں اصل شکل جو ہے وہ اس کی شکل خارجی ہے
05:07اس طرح وہ فلسفی حضرات کہتے ہیں
05:10کہ ہر شے کی
05:12چار شکلیں ہیں
05:14حقیقی شکل شکل خارجی ہی ہوتی ہیں
05:16آگ کہنے سے ہونٹ نہیں جلے گئے
05:18کاغذ پر آگ کی تصویر چھاپنے تو
05:21اس سے کاغذ جل نہیں جائے گا
05:24آگ کا تصور کرنے سے
05:26ذہن جلے گا نہیں
05:27لیکن وہ جو خارج میں آگ موجود ہے
05:30اس میں ہاتھ لگائیں گے
05:31اس کے قریب جائیں گے تو
05:33ہاتھ بھی جلے گا
05:34اور آپ کو تپش اور حدت کا احساس بھی ہوگا
05:36تو وہ خارجی
05:38جو اس کی صورت ہے
05:40وہی اس کی صورت اصلی ہے
05:42باقی اعتباری صورت
05:44وہ کہتے ہیں
05:45اللہ کی ذات تو مؤثر ہے
05:47لیکن نام کہنے سے
05:49نام لینے سے کیا ہوگا
05:51تو حضرت شیخ شبلی علیہ رحمہ نے
05:53بو علی سینہ کو
05:54سمجھایا
05:55کہ نائمیاں نام میں بھی اثر ہوتا ہے
05:58نام میں بھی تاثیر ہوتی ہے
06:01وہ کہنے لگا نہیں
06:03مؤثر تو صرف صورت خارجی ہوتی ہے
06:05لہٰذا
06:06میں اس بات کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں
06:09زد میں آگیا
06:11میں نے عرض کر دیا
06:12کہ بزرگوں کا ایک اپنا طریقہ ہوتا ہے
06:15تو حضرت شیخ شبلی
06:18تھوڑا سا غصے میں آگئے
06:20اور فرمانے لگے
06:21ابو علی سینہ
06:22میں تیرے سے کیا بات کروں
06:23تو تو گدہ ہے
06:24اس کے سرخیں آگی چہرے پہ
06:27غصے سے لال ملا ہوگیا
06:29مجھے گدہ کہا
06:30بری مجلس میں
06:31اتنا بڑا فلسفے کا امام
06:34زوانہ میرے نام کا مطرف
06:36اتنی کتابیں میں نے لکھی
06:39تو حضرت شیخ شبلی مسکرہ پڑے
06:42فرمانے لگے دیکھا نا
06:43گدے کے نام سے
06:44تیرے چہرے کا رنگ بدل گیا
06:46تو کہا جب گدے کے نام میں
06:48اتنا اثر ہے
06:49کہ تیرے چہرے کا رنگ
06:51بدل سکتا ہے
06:51تو کیا اللہ کا نام لینے سے
06:53دل کا رنگ نہیں بدل سکتا
06:56تو اس کا نام لگے
06:58تو دل بدلے گا
06:59اور دل قرار پائے گا
07:02دل کو نور رصیب ہوگا
07:04دل کو اجالہ ملے گا
07:06اس کے بابرکت نام لینے سے
07:08اس لیے جب زبان سے بدلتا
07:09اللہ اللہ کہتا رہتا ہے
07:12تو اس کے اثرات
07:13اس کے دل پر مرتب ہوتے ہیں
07:16اور گسرت سے
07:17ذکر کرنے والا شخص
07:19اس کا دل پر نور ہو جاتا ہے
07:21بلکہ
07:22ہم نے تو تصرف کی کتابوں میں پڑا ہے
07:25جب کوئی شخص ایک مرتبہ
07:27اللہ کہتا ہے
07:29اللہ تعالیٰ اس کی طرف
07:30نظرِ رحمت سے دیکھتا ہے
07:31اور جس کی طرف
07:33اللہ تعالیٰ نظرِ رحمت سے دیکھ لے
07:36اس کے ستر گناہ جل کے راک ہو جاتے ہیں
07:40اور جس نے
07:41اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے
07:43وظیفہ یہی رکھا
07:44پھر اس کے من میں کتنے اجالے اتریں گے
07:48کتنی روشنیاں اس کو نصیب ہوں گی
07:50تو گا
07:51یا یهلزین آمن
07:52نذکر اللہ
07:53ذکراں کثیرا
07:55اے ایمان والو
07:56اپنے رب کا
07:57کسرت سے ذکر کرو
07:59اور میرے اور آپ کے آقا
08:01مولا حضور نبی رحمت
08:02صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
08:04نے ارشاد فرمایا
08:05اللہ کا ذکر اس انداز سے کرو
08:09کہ لوگ تمہیں مجدون کہیں
08:11کہیں یہ تو پاگل ہو گیا
08:14بلکہ ایک روایت
08:15امام تبرانی نے بیان فرمائی ہے
08:17کہ اللہ کا ذکر اس طرح کرو
08:19کہ منافق تمہیں تانہ دے
08:21کہ ریاکاری کر رہے ہو
08:23اس انداز کے ساتھ
08:25تم اس کا ذکر کرو
08:27میرے حضور کی بالعالم
08:28فرماتے ہیں
08:29اٹھ دی بیندی
08:30ٹردی پھر دی
08:32ستے آنتے جاگ دی
08:33نام جھپ دی
08:35روتے کھپ دی
08:36ویخصور اس راگ دی
08:38نام جھپیاں
08:39قرب ملدہ
08:40نام دی کر پوری سام
08:42شیشے وچ کسطوری جے کر
08:44پھر ضرورت کھاگ دی
08:46تیرے تو سب کچھ اندر ہی رکھا ہوا ہے
08:48تو ذرا غور تو کر
08:50تفکر تو کر
08:51ذرا اس کو آواز تو دیکھ کے دے
08:53تیرے من سے آوازیں نہ آئیں تو کہنا
08:56اندر بوٹی
08:57مشک مچایا
08:58آتے جان پھلندتے آئی ہو
09:00تُو نے دردر کیا جانا ہے
09:02سب کچھ تو تیرے اندر رکھا ہوا ہے
09:04وہ کہتے ہیں ایک سنیارہ تھا
09:07بمبئی کا رہنے والا یہاں مارے گئے
09:09لاہور میں آگیا
09:10پرانے دور کی بات ہے
09:12اس کے پاس بڑے قیمتی موتی تھے
09:15اس نے کسی مجلس کے اندر اپنے موتی کھولے
09:17اور ایک موتی کہنے لگا
09:19یہ شب افروز ہے
09:20رات کو چمکتا ہے
09:22جب اس نے سامان سمیٹا
09:24اٹھ کے جانے لگا
09:25تو ایک چور بھی
09:28اس مجلس میں بیٹھا ہوا تھا
09:30کہنے لگا
09:32ذرت کہاں کی ارادییں کہاں بمبئی جا رہا ہوں
09:34کہاں بھسن اتفاق
09:35ارادیتیں میرے بھی بمبئی کہیں
09:37چلو کٹھے چلیتے ہیں
09:39وہ جہوری سمجھ گیا
09:41کہ یہ اصل میرا ہم سفر نہیں ہے
09:43اس کا دل اس موتی پہ آگئے
09:45لیکن وہ تھا بڑا سمجھدار
09:47تو اس نے کہا آجاؤ
09:49سالہ دن سفر میں رہے
09:51جب رات کو سونے لگے
09:53تو اس نے اپنی کمیز
09:55یا واسکوٹ وغیرہ اتار کے
09:57جو ہے وہ لٹکاری کسی چیز کے ساتھ
10:00یہ اٹھا
10:01اور اس نے نظر بچا کے
10:03وہ قیمتی موتی اس کی جیب میں رکھ دیا
10:07اور خود بے فکر ہو کے سو گیا
10:09یہ چور اٹھا
10:10اس کا سمان ٹولتا رہا
10:13لیکن موتی نہیں ملنا تھا
10:14نہ ملا
10:16صبح یہ اٹھا
10:17اور نظر بچا کے
10:18اس کی جیب سے موتی نکال کے اپنی جیب میں رکھ لیا
10:22ناشتے پہ بیٹھے کہنے لگا
10:23یار وہ تمہارے موتی کی رات
10:25کہیں چمک شمک نظر نہیں آئی
10:27جیب میں ہاتھ ڈالا
10:28کہا نہیں یار میرے پاس ہی تھا
10:30بڑا حیران ہوا ہے
10:31میں نے تو جیب پٹولیز آئی رات
10:33اگلے دن اس نے سوچا
10:35چلو آج میں مزید کوشش کروں
10:37اس نے پھر وہی کام کیا
10:38نظر بچا کے اس کی جیب میں رکھ لیا
10:40وہ ساری رات
10:42ڈھونڈتا رہا
10:43موتی نہیں ملنا تھا
10:44نہ ملا
10:44صبح نظر بچا کے
10:45اس نے اپنی جیب میں رکھ لیا
10:47صبح ناشتے پہ پھر بات چلی
10:49یار وہ آپ کہہ دے رات کو چمک
10:51تو اس کی کوئی چمک شمک
10:52نظر نہیں آئی
10:53کہا یار میری جیب مہتا
10:55دو چار دن ایسے گزرے
10:57ایک دن اس نے عظم کر لیا
10:59کہ شاید وہ
11:00بغل میں رکھ لیتا ہے
11:01موہ میں رکھ لیتا
11:02کہاں رکھ لیتا
11:03تو اس کو میں بیدار بھی یہ ہو جائے
11:04تو میں پھر بھی یہ وہ موتی
11:06اسے لے لینا
11:07وہ اس کے پاس پلٹتا رہا
11:09لیکن وہ
11:10مست ہے
11:11اس کو بتا ہے
11:11موتی محفوظ جگہ پہ ہے
11:13اور صبح اٹھا نظر بچا کے
11:15موتی اپنی جیب میں ڈال لیا
11:17اس نے پھر بات کی
11:19اس نے کہا کہ
11:20یار میرے پاس ہی تھا
11:21اس نے کہا
11:23میں آج سچی بات بتاؤں
11:25میں تیرا ساتھی نہیں تھا
11:26میں تو تک چور
11:28میں تو چور تھا
11:31اس موتی کی غرض میں تیرے ساتھ ہو لیا
11:33لیکن آپ تو میرے بھی استاد نکلے
11:35میں نے بڑی محنت کی
11:37مجھے تین دن ہو گئے موتی نہیں ملا
11:39میں آپ کو استاد مانا
11:41آپ مجھے بتائیں کہ
11:42موتی آپ اللہ کی دیکھتے ہیں
11:44اس نے کہا
11:45میاں تو اوروں کی جیب میں
11:47ٹھٹولتا رہا
11:48کبھی اپنی جیب میں بھی تو ہاتھ ڈال دیا ہوتا
11:51نہ مسجد ویچ
11:53نہ مندر ویچ
11:54لب یار مو اپنے
11:56اندر ویچ
11:58سب کچھ تو تیرے اندر ہے
11:59تو اوروں کی جیب میں
12:00ٹھٹولتا رہا
12:01سلطان وہ فرماتے ہیں
12:03نہ کر منت تخاج خزر دی
12:05تیرے اندر آب حیاتی ہو
12:08اور کبھی فرماتے ہیں
12:10وچے ہی بیڑے وچے ہی چیڑے
12:12وچے ہی بنج مہانے ہو
12:14چودہ تبق دلے دے اندر
12:16تمبو بانگو تانے ہو
12:18سب کچھ تو تیرے اندر ہے
12:20اور اقبال کہتا ہے
12:21خود ہی کا نشیمن تیرے دل میں ہے
12:23فلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہے
12:26یہ سب کچھ تو انسان کے اندر رکھا ہوا ہے
12:29بس تھوڑی سی توجہ کرنے کی تیار
12:31دل کی تخطیل پر اس کا نام لکھا ہوا ہے
12:34میں نے اس نے ارز کیا تھا
12:36کہ اقبال نے کہا تھا
12:37کہ نیٹشے کے بارے میں
12:38قلب او مومن دماغش قافر است
12:40اس کا دل مومن تھا دماغ قافر
12:43لیکن ہر شخص کا دل مومن ہوتا ہے
12:46تو اس دل کی ایک ایک پرک پر
12:48اب کا نام لکھا ہوا ہے
12:50اور قافر کو قافر اس لیے کہتے ہیں
12:53کہ وہ اس حقیقت کو چھپا دیتا ہے
12:56یہ جو کاشتکار زمین کو کھود کر
12:59اس کے اندر بیج رکھتا ہے
13:00اس کو بھی عربی میں کافر کہتے ہیں
13:03کاشتکار کو بیج کو چھپانے والا ہے
13:05تو کافر کو کافر اس لیے کہتے ہیں
13:07کہ وہ حق کو چھپا دیتا ہے
13:09ہمارے سینے کے اندر
13:11ہمارے رب کا نام موجود ہے
13:14اور دل تو ٹھکانا ہی اس کا ہے
13:16دل تو بنایا ہی اس لیے ہے
13:18کہ یہ اللہ کا عرش بنے
13:20اور وہ فرماتا ہے کہ میں زمین و آسمان میں کہیں نہیں سماتا
13:24مجھے ڈھونڈنا ہو تو مومن کے دل میں تلاش کرو
13:29دلوں کے اندر اس کے ڈیرے اور اس کے بسیرے ہیں
13:32تو اس کا ذکر کر کے دل چلا پاتا ہے
13:36دل تسکین پاتا ہے
13:38دل میں روشنی ہوتی ہے
13:39تو ہمارا پیزاج یہ ہونا چاہیے
13:42کہ اٹھتے بیٹھتے چلتے بلتے
13:44اس کے ذکر کو ہم ہرزے جا بنا لیں
13:47جب بندہ ایک ملطبہ کہتا ہے سبحان اللہ
13:50زمین آسمان کے درمیان جتنا فاصلہ ہے
13:53سارا نور سے بھر جاتا ہے
13:56یہ بلکتیں ہیں ذکر کی
13:58اس کا نام تو لے
14:00کوئی معمولی نام ہے
14:02جب زبان پہ اللہ کہتا ہے
14:04چودہ طبق روشن ہو جاتے ہیں
14:06یہ اتنا بڑا نام ہے
14:08یہ اتنا بڑا وظیفہ ہے
14:11کس سے بڑا کیا وظیفہ ہو سکتا ہے
14:14اس کا نام اس کا ذکر
14:16تو فرمایا اللہ کا ذکر
14:19اتنی کسرت سے کرو
14:20کہ لوگ تمہیں کہیں مجنون ہیں
14:23اور منافق تمہیں
14:25ریاکاری کے تانے دیں
14:26تم اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے
14:29اس کے ذکر کو
14:31ہرزے جا بنائے رکھو
14:33یہی تمہارا سرمایہ ہے
14:35یہی تمہارا وظیفہ ہے
14:37دکھے ہوئے دل کا بھی
14:39یہی علاج ہے
14:40پریشان خاطری کا بھی
14:42یہی علاج ہے
14:44اندر کی کالک
14:45اس کے ذکر سے
14:47دھلتی ہے
14:48وظیفہ مالک
14:49کل شہن سقالت
14:51وَسَقَالَتُ الْقُلُوبِ ذِكْرُ اللَّهِ
14:53ہر شے کا زنگ دور کرنے کے لیے
14:56کچھ نہ کچھ بنایا گیا
14:57کپڑے کو مہ لگ جائے
14:59تو سابر
14:59یا سرف سے دھوتے ہیں
15:01اس طرح لوہے کو زنگ لگ جائے
15:02تو ریگ مار سے سابت کرتے ہیں
15:04ہر شے کا زنگ دور کرنے کے لیے
15:06کچھ نہ کچھ ہے
15:07فرمایا
15:08دلوں کو زنگ لگ جائے
15:10تو اللہ کا ذکر کرو
15:11تمہارے دل سترے ہو جائے
15:14وَسَقَالَتُ الْقُلُوبِ ذِكْرُ اللَّهِ
15:17دل کی سقالت
15:18دل کے زنگ کو دور کرنے کا جو عالی ہے
15:21وہ اللہ کا ذکر ہے
15:23جب انسان ذکر کرتا ہے
15:25تو دل جلا پاتا ہے
15:26دل روشنی پاتا ہے
15:27گناہ سے دل میلہ ہوتا ہے
15:29روایت میں آتا ہے
15:30جب انسان گناہ کرتا ہے
15:31تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ لگ جاتا ہے
15:35اگر وہ توبہ کے آنسوں سے اس کو دھو لے
15:38تو اس کا دل شفاف ہو جائے گا
15:40اور اگر وہ توبہ نہیں کرتا
15:42اور تقرارے گناہ کرتا ہے
15:43تو اس نکتے کے ساتھ ایک اور نکتہ لگ جاتا ہے
15:46وہ غیر مری نکتہ ہے
15:48ہم اپنی آنکوں سے نہیں دیکھ سکتے
15:49لیکن وہ دل کے اوپر پھیلتا چلا جاتا ہے
15:52گناہ پر گناہ اس کے دل کو سیاہ کر دیتا ہے
15:56پھر ایک ایسا نوقع بھی آتا ہے
15:58کہ اسے بدی اور نیکی میں تمیز ختم ہو جاتا ہے
16:02جو شخص پکا نمازی ہو
16:04نماز چھوٹ جائے اس کی
16:05تو اس کی زندگی میں جو چین ہوتا ہے وہ لٹ جاتا ہے
16:09جتنی دیر تک نماز پڑھ نہیں لیتا
16:11اتنی دیر تک اسے سکون نہیں آتا ہے
16:14جس شخص کے ضمیر پر ظلم کا داغ نہ ہو
16:17وہ کسی کو گالی بھی دیر بیٹھے
16:19تو خود پریشان ہو جاتا ہے
16:20کسی کو تپڑ بھی مار بیٹھے
16:23تو خود پریشان ہو جاتا ہے
16:24جتنی دیر تک اس سے معذرت نہیں کرتا
16:26اسے سکون نہیں آتا ہے
16:27اسی طرح اللہ تعالی نے یہ دل کو پاک پیدا کیا
16:33یہ ہم نے آپ اس کو گندہ کیا
16:35نفس پلیت پلیت چاکیتا
16:39اصل پلیت تا ناسے
16:41نفس نے ہمیں پلیت کر دی
16:43ہم تو پاک آئے تھے سچ رہے آئے تھے
16:45اور میاں صاحب علیہ رحمہ فرماتے ہیں
16:47چٹی چادر فمنا والی
16:49تے داغ نہ لانی جڑیا
16:51فیر نہ آکھی حشر دہارے
16:54حال ربا کی بڑیا
16:56تو یہ چٹی چادر ہے بالکل
16:58تو اس کے اوپر کہیں داغ نہ لگا بیٹھ
17:01اور اگر اس کے اوپر
17:03داغ پہ داغ لگ جائے
17:04اور دل سیاہ ہو جائے
17:05تو پھر حق و باطل کی تمیز ختم ہو جائے
17:08پھر گناہ پہ گناہ کریں
17:09اسے پتہ نہیں ہوتا
17:11چونکہ جو پہلے ہی داغ داغ چادر ہو
17:13ایک اور دبا لگ جائے گا
17:15تو کوئی پریشانی نہیں ہوگا
17:16چٹی چادر پہ معمولی سا داغ بھی لگے گا
17:19تو ہر ایک کو نظر آئے گا
17:21محسوس کیا جائے گا یہ داغ لگا ہوا
17:23اس لیے گناہ کرنے کا جو شخص
17:26مزاج بنا لیتا ہے
17:27اس کے لیے گناہ مشکل نہیں رہتا
17:29بلکہ روایت میں آتا ہے
17:31کہ جب مومن گناہ کرتا ہے
17:32تو اس کی حالت یہ ہوتی ہے
17:34جس طرح اہت پہاڑ کے نیچے آگئے
17:36کہ ابھی اوپر سے
17:37وہ گر جائے ورسے کچل دے
17:39اور منافق جب گناہ کرتا ہے
17:42تو وہ یوں محسوس کرتا ہے
17:44جس طرح مکھی بیٹھی تھی
17:46اور اس نے اس کو اڑا دیا
17:49تو ہم دیکھیں
17:50کہ ہمارا دل کہیں اتنا سیادتی ہو گیا
17:52اللہ کے حکموں کو توڑے میں پروائی نہ ہو
17:56نماز چھوڑے میں پروائی نہ ہو
17:57آنکھ بھٹک رہی ہو
17:59ہمیں پروائی نہ ہو
18:00خیال بہک رہا ہو
18:02ہمیں پروائی نہ ہو
18:03زبان گند بول رہی ہو
18:04ہمیں پروائی نہ ہو
18:06ذہن غلط سوچ رہا ہو
18:07ہمیں پروائی نہ ہو
18:09کسی پہ ظلم جبر کا بازار گرم کیے ہوئے ہو
18:12کتنوں کے دل توڑ رہے ہو
18:16Then this is the process that the people and the people
18:19It's not like that.
18:20It's not like they're without pain.
18:22It's not like they're not that they're not докумists.
18:26So what do you mean?
18:32What do you mean?
18:35The power of the parable.
18:38When the understanding of the people are given,
18:40then the heart of the people will be given away.
18:43What do you mean?
18:45بِذِکرُ اللَّهِ
18:46اور
18:47دلوں کا
18:48کی سقالت
18:49دلوں کا
18:50زنگ
18:50اللہ کے
18:50ذکر سے
18:51اترتا ہے
18:52تو جب اللہ کا
18:53ذکر قصد سے
18:54کرے گا
18:54تو اس کو
18:55تسکین کی دولت
18:56نصیب ہو جائے گی
18:58تو اللہ فرماتا ہے
18:59اللہ بِذِکرِ اللَّهِ
19:00تَطْمَئِنُ الْقُلُوبِ
19:02سُن لو
19:03دلوں کی
19:04تمانیت
19:05اس کے
19:06ذکر میں ہے
19:07اور فرمایا
19:08کچھ رجال
19:09ایسے ہیں
19:09کچھ اللہ کے
19:10بندے ایسے ہیں
19:11کہ اللہ کا
19:12ذکر
19:13اس انداز میں
19:15کرتے ہیں
19:15کہ بیع و شرع
19:17اور تجارت
19:18ان کو
19:18اللہ کے ذکر سے
19:19روکتی نہیں
19:20یعنی وہ کام
19:21بھی کر رہے ہوتے ہیں
19:22اور ذکر بھی کر رہے ہوتے ہیں
19:23حضرتِ شاہِ نقشبند
19:25بخاری علیہ رحمہ
19:26آپ فرماتے ہیں
19:28میں نے
19:28منام ایک شخص کو دیکھا
19:29ستر ہزار
19:31دراہم کا
19:32کاروبار کر رہا تھا
19:33میں حیران ہو گیا
19:34کہ یہاں آ کر
19:35اتنا بڑا کاروبار
19:36لیکن جب میں نے
19:37غور کیا
19:38تو اس کا دل
19:39ایک لمحے کے لیے بھی
19:41رب کی یاد سے
19:42غافل نہیں تھا
19:44اور میں نے
19:44ایک شخص کو
19:45قابط اللہ کا
19:46تواف کرتے دیکھا
19:47لیکن اس کا دل
19:48رب کی یاد سے
19:49غافل تھا
19:50تو دل کا
19:51اس کے ساتھ
19:52لگ جانا
19:53اور ایک لمحے کی
19:54غفلت کا تاری نہ ہونا
19:55یہ حقیقتِ ذکر ہے
19:57اور یہ مومن کا
19:58مطلوب ہے
19:59وہ ایک لمحہ بھی
20:01جو ہے
20:01وہ اپنے رب سے
20:02غافل نہیں ہوتا
20:03غفلت اس کی موت ہے
20:05غفلت ہوگی
20:07غفلت ہوگی تو
20:08وسوس آئے گا
20:09غفلت ہوگی تو
20:10گناہ سازد ہوگا
20:11لہذا وہ غافل ہی نہ ہو
20:13اور مرشدِ باہو
20:14اس لیے کہہ گئے
20:15کہ جو دم غافل
20:16سو دم کافر
20:18کوئی لمحہ
20:19غفلت میں گزرے نہ
20:20تمہیں ایک لمحہ
20:21اپنے رب کی
20:22یاد میں رہو