Skip to playerSkip to main content
Insaan duniya mein kyun aya hai aur zindagi ka asal maqsad kya hai? Yeh sawal har sochne wale insaan ke zehan mein aata hai. Is gehre aur fikri bayan mein Saqib Raza Mustafai zindagi ke asal maqsad, Allah ki ibadat aur insani zindagi ki haqeeqat ko bohat hi asaan aur pur-asar andaaz mein samjhate hain.

Yeh iman afroz bayan humein yaad dilata hai ke duniya ek imtehan hai aur asal kamyabi Allah ki raza mein hai. Agar aap apni zindagi ka sahi maqsad samajhna chahte hain to is bayan ko zaroor sunein aur dusron tak share karein.

#ZindagiKaMaqsad #SaqibRazaMustafai #IslamicBayan #IslamicReminder #DeenKiBatein #MotivationalBayan #UrduBayan #LifePurpose #Hidayat

Category

📚
Learning
Transcript
00:00زندگی کی مقصدیت کو بیان کرنا ہے
00:02ہم اس دنیا پر کیوں بیجے گئے ہیں
00:05ہمارے آنے کا مقصد کیا ہے
00:08کارخانہ قدرت میں
00:10کوئی ایک چیز بھی ایسی نہیں ہے
00:12کہ جو بے مقصد پیدا کی گئی ہو
00:15اس کی تخلیق کا
00:17کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہے
00:20اور جب تک وہ چیز
00:22اس مقصد کی تکمیل کرتی رہتی ہے
00:25تو اسے عزت دی جاتی ہے
00:29جب مقصد پورا کرنا چھوڑ دے
00:32تو اسے کوئی عزت اور کوئی تقریم نہیں دی جاتی
00:37یہ مائک ہی ہے
00:38اس کا مقصد ایمپلی فائر تک آواز پہنچانا ہے
00:42اور اس کے ذریعے سے یہ آواز آگے آپ تک پہنچ رہی ہے
00:46لیکن اگر یہ کسی فنی خرابی کی وجہ سے
00:50اپنے مقصد تخلیق کو چھوڑ دے
00:52اور یہ ایمپلی فائر تک آواز نہ پہنچائے
00:56تو پھر اس خوبصورت جگہ پر
00:59اس کو سجایا نہیں جائے گا
01:02اس کو یہاں سے اتار کر کے
01:04کبار خانے میں پھینک دیا جائے گا
01:06یہ اب بہت قیمتی ہے
01:08اور بہت اچھی جگہ پہ
01:10اس کو مرتبہ دیا گیا ہے
01:12لیکن پھر اس کی کوئی توقیر نہیں ہوگی
01:15اسی طرح کائنات کی حرش ہے
01:18اور ہر چیز
01:19اپنے مقصد کی
01:21جب تک تکمیل کرتی رہتی ہے
01:24تو عزتوں کی مصدق پر اسے بٹھایا جاتا ہے
01:27اور جب مقصد
01:29پر عمل کرنا چھوڑ دے
01:31اور مقصدیت سے
01:33آری ہو جائے
01:34تو پھر اس کی کوئی توقیر
01:36اور کوئی عزت نہیں رہتی
01:37اللہ تعالیٰ جللہ شانہو نے
01:40حضرت انسان کو بھی
01:41کسی مقصد کے لئے پیدا کیا ہے
01:44بے مقصد اس کو پیدا
01:45نہیں کیا گیا ہے
01:47اس کائنات کے اندر
01:48چھوٹے چھوٹے جانور بھی
01:50بے مقصد پیدا نہیں کیے گئے
01:51انسان تو مقصود ہے کائنات کا
01:54یہ کیچوا جس سے مچلی ہم پکڑتے ہیں
01:56یہ سمجھتے ہیں کہ یہ فضول سی چیز ہے
01:59لیکن جن کشیتوں میں کیچوا پایا جاتا ہے
02:02ذمہ داروں سے پوچھیں
02:03کہ وہاں ذرخیزی بڑھ جاتی
02:05اسی طرح میں نے ایک جگہ پہ
02:07ایک شخص کو دھاگے کے ساتھ
02:09یہ کیچوے بند کر کے
02:10دوپ میں خوش کرتے ہوئے دیکھا
02:12تو میں نے اس حکیم صاحب سے پوچھا
02:15کہ اس کا مقصد کیا
02:16تو وہ کہنے لگے کہ یہ دوائیوں میں بھی استعمال ہوتا ہے
02:19اس کے بدن میں فولاد ہوتا ہے
02:22اسی طرح
02:22یہ کانٹا لگا کر کے
02:24مچلی پکڑنے کے کام بھی آتا ہے
02:27انتنا نحیف
02:28نظار اور کمزور جسم
02:30جس کے اندر ہڈی بھی نہیں ہوتی
02:32اس کے یہ تین فوائد
02:34بلکل ظاہر ہیں
02:35اس کے علاوہ بھی بہت سارے فوائد ہوں گے
02:37جو ہماری نظر میں نہیں ہیں
02:39اسی طرح یہ منڈک جو ہوتے ہیں
02:41یہ ذمہ داروں سے پوچھیں
02:43کہ آج کل چاول کی فصل کے لیے
02:46یہ کتنے مفید ہیں
02:47اور یہ کیڑے مکوڑے
02:49پیدا ہوتے ہیں جو فصلوں کے اندر
02:51ان کے لیے یہ کتنے
02:53بہتری کی زمانت ہیں
02:55تو ہم وہ چیزیں
02:57جن کے فوائد ہماری نظر میں
03:00نہیں ہیں لیکن وہ بھی چیزیں
03:01فوائد سے خالی نہیں ہیں
03:04تو جب یہ کیڑے مکوڑے
03:06یہ حشرات الارض
03:07یہ منڈک اور کیچوے
03:09یہ بھی بے مقصد پیدا نہیں کیے گئے
03:12تو جس کے گرد پوری کائنات کا چرخ
03:15بھومتا ہے
03:16اور جس کے لیے پوری کائنات کو
03:18تخلیق کیا گیا ہے
03:19وہ انسان کیا
03:21بے مقصد پیدا کر دیا گیا ہے
03:23اس کی تخلیق کا کوئی مقصد نہیں ہے
03:25یقیناً
03:26اس کی تخلیق کا
03:28کوئی مقصد ضرور ہے
03:29اس کی تخلیق کا
03:31کوئی مدعا
03:32ضرور ہے
03:33اللہ تعالی جللہ شانہو نے
03:34اس مقصد کو
03:36اس مدعا کو
03:37قرآن مجید میں
03:38بیان فروایا
03:40ارشاد کیا
03:42وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ
03:44إِلَّا لِيَعْبُدُونَ
03:46ہم نے
03:47جن و انس کو
03:48اس لیے پیدا کیا ہے
03:50کہ وہ میری عبادت کریں
03:52انسان کی
03:54تخلیق کا مقصد
03:56اور مدعا
03:57اللہ تعالی جللہ شانہو کی
03:59عبادت کرنا ہے
04:00اللہ تعالی جللہ شانہو کی
04:03عبادت
04:03اس لیے نہیں
04:06کہ اس کو
04:06بندوں کی عبادت
04:08کی ضرورت ہے
04:08اسے کوئی غرض ہے
04:10بندوں کو
04:11تخلیق
04:12اس نے اس لیے کیا ہے
04:13کہ وہ مجھے
04:14پوچھیں گے
04:15اور
04:16میری عبادت کریں گے
04:18تو کوئی مجھے فائدہ ہوگا
04:19اللہ تعالی جللہ شانہو
04:21ایسی کسی غرض سے پاک ہے
04:23خود ارشاد فرمائے
04:25مَا اُریدُ مِنْهُم مِنْ رِزْقِنْ
04:27وَمَا اُریدُ اَنْ يُتْعِمُونَ
04:30نہ تو میں
04:30اس سے کوئی
04:32رزق چاہتا ہوں
04:33اور نہ یہ چاہتا ہوں
04:35کہ
04:35وہ مجھے کھلائیں
04:37چونکہ وہ
04:38کھانے سے بھی پاک ہے
04:39اور اسے رزق کی بھی ضرورت نہیں ہے
04:42بلکہ
04:43اِنَّ اللَّهَ هُوَرْ رَزَّاقُ
04:44وَزُوْ قُوَّةٍ مَتِينْ
04:46اس کی شان یہ ہے
04:47کہ وہ خود رزاق ہے
04:49وہ پوری دنیا کو دینے والا ہے
04:51اور
04:52وہ
04:53قوتوں کا مالک ہے
04:55وہ رب جو خود قوتوں کا مالک ہے
04:57جو متین ہے
04:58ذو قوة ہے
05:00اور رزاق ہے
05:01اس کو غرص کوئی نہیں ہے
05:03تو پھر بندوں کو
05:05حکم کیوں دیا گیا
05:06کہ وہ اس کی عبادت کریں
05:08اصل بندے کے لیے
05:10کمال یہ ہے
05:12کہ وہ بندگی میں رہے
05:13اور اس سے
05:14اس کے اخلاقِ رزیلہ ختم ہوں گے
05:16اور اس میں اخلاقِ حسنہ پیدا ہوں گے
05:18اس لیے
05:19اس کو عبادت کا حکم دیا گیا
05:22تاکہ
05:23وہ اپنی زندگی کا
05:24جمال پا سکے
05:26ابر وہ پوجہ نہیں کرے گا
05:28اللہ کی پرستش نہیں کرے گا
05:30وہ اللہ تعالی جللہ شانہو کو
05:31کوئی فرق نہیں پڑتا
05:32کائنات کی کوئی چیز نہیں ہے
05:35جو توعن اور کرہن
05:37اس کے حضور
05:38سجدہ ریز نہیں ہے
05:39اس کی تسبیح نہیں بولتی
05:41علماء نے لکھا
05:43کہ تمام درخت
05:44جو تم دیکھ رہے ہو
05:46یہ حالت قیام میں ہیں
05:47اور اللہ کی تسبیح بول ہوئے ہیں
05:49اور درخت جب تک تسبیح بولتا رہتا ہے
05:52اپنے تنے پہ کھڑا رہتا ہے
05:54اور جب تسبیح بولنا چھوڑ دیتا ہے
05:57تو کٹ دیا جاتا ہے
06:00سمجھ لو
06:01کہ اب تسبیح کا عمل
06:03اس سے موقوف ہو گیا تھا
06:04اب اس کو کٹ دیا گیا
06:06تو سارے درخت حالت قیام میں
06:09چوپائیں حالت رکوع میں ہیں
06:11مینڈک حالت تشہد میں ہیں
06:14اور حشرات الارض گیڑے مکوڑے
06:17یہ حالت سجدہ میں ہیں
06:18اللہ تعالی نے انسان کو
06:20جو عبادت دی نواز کی صورت میں
06:23وہ ان تمام صورتوں کی جامعے ہیں
06:27ان تمام عبادات کی جامعے ہیں
06:29درختوں کا قیام بھی ہے
06:31چوپائیں کی طرح رکوع بھی ہے
06:33مینڈک کی طرح تشہد و رکادہ بھی ہے
06:35اور حشرات الارض کی طرح سجدہ بھی ہے
06:39اس لیے کہ یہ انسان خلاسہ کائنات ہے
06:43اور تمام مخلوقات کا مقصود ہے
06:46اور پوری کائنات کا چرخ اس کے گرد گھومتا ہے
06:49اس لیے اس کی عبادت بھی
06:51تمام مخلوقات کی عبادات کے جامعے ہونی چاہیے
06:55اس لیے اس کو نماز کا حکم دیا گیا اور یہ حکم ایک بار نہیں دیا
07:00قرآن مجید کے اندر متعدد مرتبہ
07:02اسے نماز کا حکم ناما دیا گیا
07:04اس شخص سے بڑا پت نصیب کوئی نہیں
07:07جو اللہ کی حضور جھکنا نہیں جانتا
07:09صبح سے لے کر شام تک
07:11کس کس کو سلوٹ کرتے ہیں
07:13روٹی کے چند ٹکڑے اور نوالے کمانے کے لیے
07:16کس کس سے ہس ہس کے بولنا پڑتا ہے
07:19اور کس کس کے سامنے جو ہے
07:21وہ حاضر ہونا پڑتا ہے
07:23ایک اللہ کی حضور نہیں جھکا جاتا
07:26جو کہ رازق ہے اور حقیقی مالک ہے
07:29اللہ تعالیٰ جللہ شانہو نے قرآن مجید میں
07:32ایک مقام پرشاد فرمایا
07:34یا یوہن ناسعبدو ربکم اللذی خالقاکم
07:37اے لوگو اللہ کی عبادت کرو
07:40کیوں ربکم وہ تمہارا رب ہے
07:44یا یوہن ناسعبدو ربکم
07:46اپنے رب کی عبادت کرو
07:48تمہاری تربیت کرنے والا ہے
07:50تمہیں درجہ کمال تک پہنچانے والا ہے
07:52یہاں صرف اہل ایمان کو حکم نہیں دیا گیا
07:55یہاں پوری انسانیت کو اللہ کی حضور حاضر ہونے کا کہا گیا ہے
07:59چونکہ وہ صرف اہل ایمان کا رب ہی نہیں ہے
08:02بلکہ وہ تمام کائنات کا رب ہے
08:05سورة الفاتحہ اٹھائیں
08:07تو وہاں ارشاد ہوتا ہے
08:09الحمدللہ رب العالمین
08:11تمام خوبیان اللہ کے لیے
08:13جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے
08:16وہاں رب المسلمین نہیں کہا
08:18کہ صرف وہ اہل اسلام کا رب ہے
08:20وہ تمام جہانوں کا رب ہے
08:22پوری کائنات کا رب ہے
08:24ہر شخص کو
08:25اس کی ضرورت کے مطابق بہم پہنچا رہا ہے
08:28جو اسے مانتا اسے بھی دیتا ہے
08:29جو نہیں مانتا اسے بھی دیتا ہے
08:31کبھی ایسا نہیں ہوا
08:33کہ اس کی حضور کوئی سجدہ ریز نہ ہوتا ہو
08:35اور اس نے اس کے رزق کے دروازے بند کر دیے ہو
08:39سورج کو حکم دیا ہو
08:40اس کے گھر میں روشنی نہ بھیجنا
08:42یہ میرے نافرمانوں کا گھر ہے
08:44آپ تین مہینے بل نہ دیں
08:46تو وابڑا والے آپ کا میٹر کاٹ دیں گے
08:48آپ بل نہ دیں تو گیس والے آپ کا میٹر کاٹ دیں گے
08:51ٹیلی فون کا بل نہ دیں
08:53تو وہ تار کاٹ دیں گے
08:55لیکن ساری زندگی کوئی اس کی حضور سجدہ ریز نہ ہو
08:58کبھی اس نے چاند کو حکم نہیں دیا
09:00اس کے آنگل میں چاند نہیں نہ بکھیر
09:02نہ یہ میرے نافرمانوں کا گھر ہے
09:04کبھی ہوا کو نہیں کہا
09:06اس کے ویڑے میں آنکسیجن نہ پہنچنے پائے
09:08یہ نافرمانوں کا گھر ہے
09:10بلکہ صورت جس طرح روشنی
09:13حضرت باعزید بستامی کے گھر میں بکھیرتا ہے
09:16اس آسی کے گھر میں ایسے ہی بکھیرتا ہے
09:18یہ اس کی ربوبیت ہے
09:20جس کا عموم پوری انسانیت کو فیض دے رہا ہے
09:24حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عادت تھی
09:26کہ مہمان کے بغیر کھانا نہیں کھاتے تھے
09:30اور جو کھانا مہمان کے ساتھ کھایا جائے
09:32اس کا حساب بھی نہیں ہوگا
09:34ساری زندگی یہ ان کو معمول رہا ہے
09:37اور مہمان تمہارے گھر میں آ کر کے
09:40نہیں کھاتا وہ اپنا حصہ خود لے کر کے آتا
09:44مہمان کو دیکھ کر کے
09:46ناکمو نہیں چڑھانا چاہیے
09:48خوشی کے آثار چہرے پہ ظاہر ہوں
09:51کہ اللہ تعالیٰ نے یہ مہمان مجھے عطا فرما دیا
09:54تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ عادت تھی
09:57کہ مہمان کے بغیر کھانا نہیں کھاتے تھے
10:01ایک دن بھوک لگی گھر والوں کو کھانا پکانے کا کہا
10:04اور خود مہمان ڈھونڈے نکلے
10:06ایک شخص کو جو کہ بوڑا تھا لے آئے دسترخان پہ بٹھایا
10:10کھانا جب لگ گیا
10:11تو اس کو کہا اللہ کا نام لے کے شروع کرو
10:15اس نے کہا میں تو اللہ کو نہیں مانتا
10:17آپ نے فرمایا
10:19کہ میں تیرے سے کوئی ربط رشتہ اور تعلق نہیں رکھتا
10:23اللہ ہی کے نام پہ تجھے کھلا رہا ہوں
10:25تو میرے رب کا نام تجھے کم از کم لینا چاہیے
10:28اس نے کہا میں تو بتوں کا پجاری ہوں
10:31اور روٹی کے چند ٹکڑوں کے لیے
10:33اپنے بتوں سے بے وفائی نہیں کر سکتا
10:35آج لوگ چائے کی پیالی پہ دین بیچ رہے ہیں
10:39لیکن دیکھئے
10:40وفا کی ریت انہیں بھاگے آنا
10:41اس نے کہا کہ میں
10:42بتوں سے بے وفائی
10:44روٹی کے ٹکڑوں اور چند لکموں کے لیے نہیں کر سکتا
10:47حضرت ابراہیم علیہ السلام بولے
10:49جب تو اتنا غیرت مند ہے
10:51کہ میرے رب کا نام نہیں لیتا
10:54اور اپنے بتوں سے بے وفائی نہیں کر سکتا
10:56تو پھر میرا بھی تو کیا لگتا ہے
10:58اگر میرے رب کو نہیں مانتا
11:00تو میں تو کھانا اس رب کے نام پہ کھلاؤں گا
11:03کھاتا ہے تو ٹھیک نہیں تو تیری مرضی
11:05وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام
11:07کے دستخان سے اٹھ کے چلتا بنا
11:08وہ گیا تو جبریل امین حاضر ہوگا
11:11سلام دیا
11:12سندیسہ سنایا
11:13رب کہتا ہے
11:14اے میرے خلید
11:16تو نے میرا ایک بندہ ناراض کر دیا
11:18یا اللہ وہ تیرا بندہ تھا
11:21وہ تو تیرا نام لینا گوارہ نہیں کرتا تھا
11:24اور تو فرما رہے کہ وہ میرا بندہ تھا
11:27ارشاد ہوا ابراہیم
11:28بتاؤ اس کی عمر کتنی ہوگی
11:30یا اللہ اسی سال کے قریب ہوگو
11:33کہا اتنا عرصہ ہو گیا نا
11:35میں اس کو رزق دے رہا ہوں
11:37تمہیں ایک دن نہیں کھلا سکے
11:39اب حضرت ابراہیم اس کو ڈھونڈ رہے ہیں
11:41وہ دور پہاڑ پہ جا چکا ہے
11:43اس کے قریب پہنچے کہا
11:45میاں کھانا تھنڈا ہو رہا جلدی آؤ
11:47اس نے کہا
11:48ایک شرط ہے
11:49تمہارے رب کا نام نہیں لوں گا
11:54لہجے میں اتنا قداز اتنی نرمی کیسے آگئی
11:57تم تو کہتے تھے رب کے نام کلوہ کلاؤں گا نہیں
12:00کہا کہ اسی رب کا ہی تو پیغام آیا ہے
12:03کہ میں بھی اس کو دے رہا ہوں
12:05اس نے کہا
12:06اگر تیرا رب اتنا اچھا ہے
12:07تو کھانا بات میں کھائیں گے
12:08پہلے اس کا غلام بنا لے مجھے
12:11تو وہ رب ہے سب کا
12:13ہمارا حق ہے کہ ہم اس کی پوجہ کریں
12:15تو اللہ تعالیٰ جللہ شانوں نے اشار فرمای
12:20اپنے رب کی عبادت کہو
12:21ایک تو وہ تمہارا رب ہے
12:23اور پھر اللہ زی خالہ کا قوم
12:25اس نے تمہیں پیدا بھی کیا ہے
12:27توجہ چاہوں گا
12:29کتنی شان ہے
12:30کہ اس نے تخلیق بھی کیا
12:33اور پھر اس نے تمہاری تربیت بھی کی
12:36جو تخلیق بھی کرے
12:37اور تمہاری تربیت بھی کرے
12:40کیا اس کا حق نہیں ہے
12:41کہ اس کی حضور سجدہ ریزیاں کی جائیں
12:43ساری زندگی انسان
12:46ماں کی خدمت کرتا رہے
12:47تو بتاؤ ماں کی خدمتوں کا بدلہ دے سکتا ہے
12:50ماں کے پیار کا صلح دے سکتا ہے
12:53عرض کی گئی
12:55کہ میں اپنی ماں کو
12:57اپنے کندوں پر اٹھا کر کے
12:58حاج کروایا ہے
13:00اور سائی اور قابط اللہ کا تواف کرایا ہے
13:03اور حالت یہ تھی
13:05کہ اگر
13:07چٹان کے اوپر
13:08گوشت کا ایک ٹکڑا ڈال دیا جاتا
13:11تو وہ بھی بھن کے قباب بچ جاتا
13:14اتنی گرمی کی شدت تھی
13:15کہ میری ماں نے میری جو خدمت کی
13:18میری کفالت کی مجھے دودھ پلایا
13:20مجھے جنم دیا
13:22تو میں نے کیا
13:23ماں کی خدمتوں کا صلح دے دیا ہے
13:26تو جواب آیا
13:27تو نے ابھی
13:28اس کی ایک مسکراہت کا بدلہ بھی نہیں دیا
13:31ماں جب ہس کے دیکھتی ہے
13:33تو جنت کی ساری کلیاں کھل اٹھتی
13:35اور بیٹے کی زندگی
13:37ماں کی اس ہسنے سے
13:39جو ہے وہ عبارت ہوتی ہے
13:41بیٹے کے لیے ماں کے جو جذبات ہیں
13:43ماں کی جو کہانیاں ہیں
13:45ماں کے سینے میں جو درد کے امٹ کی ہوئی ایک کائنات ہے
13:48اس کا کوئی بدل نہیں ہو سکتا
13:50ساری زندگی ایک ٹانگ پہ کڑا ہوگے
13:52بندہ ماں کی خدمت کرتا رہے
13:54پھر بھی حق ادا نہیں ہوگا
13:56ماں ماں ہوتی ہے
13:57اللہ تعالیٰ جللہ شانہو نے
13:59اس کو وہ درجہ عطا فرمائے
14:01بیٹے کے ساتھ جو پیار ماں کرتی ہے
14:03بھلا کوئی کر سکتا ہے
14:04کوئی اتنی محبت دے سکتا ہے
14:06جتنی ماں محبت دیتی ہے
14:08ساری زندگی بھی انسان
14:10ان محبتوں کا بدل دینا چاہے
14:12تو نہیں دے سکتا
14:13چونکہ ماں کے پیار کا کنارہ ہی کوئی ہوئی
14:16ماں کی محبت کی گہرائی
14:18اور گیرائی کو کوئی نا پھی نہیں سکتا
14:21سمندر کے پاتال تک
14:22تو شاید کوئی پہنچ گیا ہو
14:24لیکن ماں کے پیار کا کنارہ
14:26آج تک کسی کو نہیں ملا
14:28کبھی دیکھا نہیں
14:29جب بچہ گھر سے نکلتا ہے
14:31تو دنیا کو اکل و بینش
14:33کا درس دینے جاتا ہے
14:35لوگ اس کے ایک ایک جملے کے لیے
14:37کان لگائے کھڑے ہوتے ہیں
14:38کوئی ایک لفظ بھی ضائع نہ ہو جائے
14:40دنیا کے بڑے بڑے سکالر
14:42بڑی بڑی یونیورسٹیوں
14:44اور جامعات میں جاتے ہیں
14:45اور لوگ ان کی ایک ایک بات
14:47کو موتی سمجھ کے قبول کرتے ہیں
14:49لیکن وہ جو زمانے کو
14:51زندگی کا درس دینے گھر سے نکلتا ہے
14:54جب گھر سے نکلنے لگتا ہے
14:56ماں دیہات کی رہنے والی ہو
14:58یا گل برگ کی رہنے والی ہو
14:59ماں اس کو کہتی ہے
15:01بیٹے سڑک دیان سے عبور کرنا
15:03جو دنیا کو عقل سے کھانے جا رہا ہے
15:05اس کو اتنا ہی نہیں پتا
15:06کہ سڑک عبور کیسے کرنی ہے
15:08لیکن یہ ماں کے پیار کا ایک روپ ہے
15:11یہ ماں کی محبت کا ایک انداز ہے
15:13اللہ تعالیٰ نے اس کے سینے میں
15:15دھڑکتا ہوا جو دن رکھا ہے
15:17اور تڑپتی ہوئی جو ممتہ رکھی ہے
15:19وہ ایک مثال بنی ہوئی ہے
15:21کہ کسی نے
15:22کسی کو کہا کہ میں تیرے پہ راضی تب ہوں گی
15:25کہ اگر تو اپنی ماں کا کلیجہ نکال کے لے آیا
15:28اس بدبخت نے
15:30اپنی اس محبوبہ کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے
15:33اس اقدام کی تیاری بھی کر لی
15:36اور جا کے ماں کا سینہ چیرا
15:38اور اس کا کلیجہ نکالا
15:40اور اپنی اس محبوبہ کی خوشدودی کے لیے
15:43تیز تیز آ رہا ہے
15:44کہ میں اس کو دکھاؤں
15:45کہ میں نے یہ کارنامہ بھی سر انجام دے دیا
15:48اور یہ چوٹی بھی سر کر لی ہے
15:50تو تیزی سے آ رہا تھا
15:52راستے میں ٹھوکر لگی
15:53جب گرا
15:54تو کہتے ہیں ماں کے کلیجے سے آوازیں پتر چوٹ تو نہیں آئی ہے
15:58یہ ماں کے پیار کا روب ہے
16:00یہ ماں کی محبت کا انداز ہے
16:03دنیا والوں
16:04ماں کی قدر کو زائع نہ کرنا
16:06ماں کے پیار کو
16:07اور اس کی محبت کا
16:09صلح دے تو نہیں سکتے
16:11لیکن ساری زندگی
16:13ماں کی نوکری کرنا
16:14اور اپنے باپ کی زندگی کے اندر
16:17کبھی بھی نافرمانی نہ کرنا
16:18یہ سعادت مندی اور خوش نصیبی ہوتی ہے
16:22حضور نے ممبر کی تین سیڑھیوں پہ قدم رکھتے ہوئے
16:25آمین آمین کہا تھا
16:27تو بات میں پوچھا گیا حضور
16:28آپ نے ہر سیڑھی پہ قدم رکھتے ہوئے آمین کہا
16:31تو یہ کیا ماجرہ تھا
16:33فرمایا جبریل آئے تھے
16:34انہوں نے مجھے کہا تھا
16:36اس شخص کی ناخہ کالود ہو
16:38جو ماہ سیام رمضان المبارک کو پائے
16:41اور پھر کسرت عبادت سے
16:43اپنی بخشش نہ کروا سکے
16:45تو میں نے آمین کہا
16:47پھر کہا اُس شخص کی ناخہ کالود ہو
16:49جو والدین کو بڑاپے میں پائے
16:51اور جنتی نہ ہو سکے
16:53ان کی خدمت کر کے
16:54تو میں نے آمین کہا
16:55پھر جبریل نے کہا
16:56اُس شخص کی ناخہ کالود ہو
16:58جس کے سامنے آپ کا ذکر کیا جائے
17:01وہ آپ پر ضرور نہ پڑے
17:02تو میں نے آمین کہا
17:04تو وہ شخص کتنا بدنصیب ہے
17:06جو والدین کو ناراض کر لیتا ہے
17:09میں کہتا ہوں ساری کائنات
17:11ماں کے قدموں تلے ہیں
17:13بلکہ میرے محبوب نے جنت کو ماں کے قدموں تلے قرار دیا
17:17جنت ماں کے قدموں تلے
17:21حضرت باجزید بستامی کہتے ہیں
17:24میں نے اپنی ماں کے آگے ہاتھ جوڑے
17:26میں نے کہا امی تیرے حق ادا کروں یا اللہ کے حق ادا کروں
17:30دو ہستیوں کے حق مجھ سے ادا نہیں ہو سکتے
17:33اپنے حق تو معاف کر دے
17:35اللہ کو میں راضی کروں گا
17:37ماں پھر بھی ماں ہوتی ہے
17:39ماں نے کہا جا بیٹے میں نے اپنے حق معاف کر دی
17:42حضرت باجزید کہتے ہیں
17:44میں پارہ سال جنگلوں میں گھومتا رہا
17:48ایک دن مجھے خیال آیا
17:51بستام کے قریب سے گزر رہا تھا
17:53کہ چلتے چلتے ماں کو سلام کر جاؤں
17:56دروازے کو دستک دینے لگا
17:58تو اس احساس نے ہاتھ روک لیا
18:00کہ ساری زندگی ماں کو سکت دیا نہیں
18:03دکھ بھی کیوں پہنچاؤں
18:05ماں اب سو رہی ہوگی
18:06اور میں دروازہ ناک کروں گا تو ماں اٹھے گی
18:09سردیوں کی لمبی رات تھی
18:11میں دروازے کے ساتھ لگ کے کھڑا رہا
18:13کہ چلو جب ماں بیدار ہوگی
18:15تب ہی میں دروازے پہ دستک دوں گا
18:18کہتے ہیں جب سہری کا وقت ہوا
18:20تو اندر سے جو نالی آتی تھی
18:21وہاں سے پانی آیا
18:23میں سمجھ گیا کہ میری ماں تاجد کے لیے اٹھی ہے
18:26کہتے ہیں میں دروازے کو دستک دی
18:28تو اندر سے آواز آئی
18:30بیٹا با یزیر ٹھہرو میں ابھی آتی ہوں
18:34مائے بیٹوں کے دستک کے انداز سے بھی جانتی ہوتی ہیں
18:38کہ یہ میرا کون سا بیٹا دستک دے رہا ہے
18:40بارہ سال کے بعد دستک دی تھی
18:42اور ماں پہچان رہی ہے
18:44یہ کس بیٹے کے ہاتھوں کی لمس ہے
18:46اور یہ کس بیٹے کے ہاتھوں کی آئٹ ہے
18:50بارسلونہ کے ائرپورٹ پہ کھڑا تھا
18:52فلائٹ ابھی لیٹ تھی
18:54اور وہاں کوئی ہم زبان مل جائے
18:57تو غنیمت ہوتا ہے
18:58تو مجھے ایک سمجھ
19:00ایسے محسوس ہوا
19:01کہ جس طرح کوئی مو گولی پنجابی میں بات کر رہا ہے
19:04میں اٹھ کے ادھر لڑک گیا
19:06تو دیکھا کہ وہاں کچھ لوگ
19:08پنجابی میں آپس میں گفتگو کر رہے تھے
19:10میں ان کے پاس جا کے بیٹھ گیا
19:11تو وہ انڈیا کے لوگ تھے
19:13میں نے پوچھا کہ آپ
19:14تو کہنے لگے کہ یہ ہمارا دوست ہے
19:16اس کو ہم الویدا کرنے آئے ہیں
19:18تو میں ان کے پاس بیٹھ کے گفتو شنید شروع کر دی
19:21تو وہ شخص کہنے لگا
19:24کہ مجھے ستائیس سال تین ماہ ہو گئے ہیں
19:27میں انڈیا سے آیا تھا
19:29لیکن یہاں ایسے مسائل بنتے گئے
19:31کہ میں جا نہیں سکا
19:32اس وقت میرا لڑکپن کا زمانہ تھا
19:35اور اب میرے بال بھی سفید ہو رہے ہیں
19:39تو میں ستائیس سال تین ماہ کے بعد جا رہا ہوں
19:42اور اس نے ساتھ کہا
19:44کہ پتہ نہیں میرے گھر والے
19:45مجھے پہچانتے بھی ہیں یا کہ نہیں
19:47تو میں نے کہا
19:48میاں اور کوئی پہچانے نہ پہچانے
19:51ماں تیرے قدموں کی آہٹ سے پہچانیں گی
19:53کہ یہ میرے بیٹے کے قدموں کی آواز ہے
19:55یہ ماں کے پیار کا روپ ہے
19:59خدمت بھی کرتا رہے
20:00ماں نے پیار اتنا کر دیا ہوتا ہے
20:03ماں نے معبت اتنی دے دی ہوتی ہے
20:05کہ اس پیار کا پدل انسان جو ہے نہیں دے سکتا
20:09انسان تو دیکھتا ہے جب غوش سنبھالتا ہے
20:12کہ میری ماں نے میرے سے کتنا پیار کیا
20:14لیکن جب بندے کی غوش نہیں ہوتی
20:16ماں اس وقت جو پیار کرتی ہے
20:18گندگی سے دتڑا ہوا بچہ
20:20اور ماں اس کو فرش سے اٹھاتی ہے
20:22پہلے چومتی ہے پھر غلازتیں دھوتی ہے
20:24یہ ماں کے پیار کا روپ ہے
20:26یہ ماں کے پیار کا انتاز ہے
20:28ماں کو بیٹے کے ساتھ
20:30اتنا پیار ہے
20:31اور بندہ ساری زندگی نوکری بھی کرے
20:34ماں باپ کی
20:34تو پھر بھی خدمتوں کا صلح نہیں دے سکتا
20:38ایک شاعر ہوئے احسان دانش
20:40اس کی ماں بیمار ہوگی
20:42تو وہ خود اس کے کپڑے جا کے دھوتا تھا
20:44تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر
20:46دہرتی وہاں جا کے لباس دھوتا
20:48اور پھر دوسرا لباس لے جاتا
20:50تو اس کی بیوی نے کہا
20:52کہ یہ خدمت میں سر اجام دوں گا
20:54تو احسان دانش نے کہا تھا
20:56کہ ماں میری ہے اور یہ حق میرا ہے
20:58کہ میں اس کی خدمت کروں
20:59اور یہ سعادت مندی میرے حصے میں آنی چاہیے
21:02میں کسی اور کو نہیں دوں گا
21:04یہ سعادت مندی ہوتی ہے
21:05اولاد کی
21:06تو انسان جتنی مرضی خدمت کر کے
21:09ماں باپ کو رازی کرنے کی کوشش کریں
21:11وہ تو رازی ہوتے ہیں
21:12بلکہ نالائک اولاد کے لیے
21:14ماں باپ کی دعائیں اور زیادہ ہوتی ہیں
21:17تو انسان ان کی خدمت کا حق نہیں دے سکتا
21:21ماں باپ کے اتنے حق کیوں ہیں
21:23اس لیے کہ ماں نے بیٹے کو جنم دیا
21:27اس پہ میں آپ کی توجہ چاہوں گا
21:29اور آج کی اس گفتگو کا اس کو نکتہ اروج بھی سمجھ لیجئے گا
21:34کہ ماں اتنا پیار کرتی ہے
21:37کہ جس کا کسی ترازو پہ تول نہیں ہو سکتا
21:40اور اس کے پیار کا صلح بدلہ
21:42ساری زندگی خدمت میں بھی گزار دیں
21:44پھر بھی نہیں دیا جا سکتا
21:46اس قدر ماں کے حق کیوں ہیں
21:48اس لیے کہ ماں نے بچے کو جنم دیا ہے
21:51جس نے جنم دیا ہے
21:53اس کے اتنے حق ہیں
21:54تو جس رب نے خلق کیا ہے
21:56اس کے کتنے حق ہوں گے
21:58جس نے تخلیق کیا ہے
22:00دستِ قدرت سے بنایا ہے
22:01تو پھر اس کے کتنے حق ہوں گے
22:03تو مجھے بتائیے
22:04اس شخص سے بڑا بدبخت کوئی ہو سکتا ہے
22:07یہ اللہ کی حضور سجدہ ریزی نہیں کرتا
22:09صبح کے وقت چڑیاں بھی
22:11اللہ کا نام لے رہی ہوتی ہیں
22:12حشرات العرض بھی رب کا نام پکار رہے ہوتے ہیں
22:15پلوں سے سر نکال کر
22:17جنور بھی اللہ کا نام پکار رہے ہوتے ہیں
22:19اور اس شخص سے
22:21بڑا بدنصیب زمانے میں کوئی نہیں ہے
22:23کہ جو اللہ کی حضور جھکنا نہیں جانتا
22:25جو اللہ کی حضور
22:27جو ہے وہ عبادت کا سر نہیں رکھتا
22:30رشاد فرما
22:35انسان کے دل میں خیال آتا ہے
22:37کہ تم مرے تو والدین نے مجھے پیدا کیا
22:40تو فرمایا
22:41اب بتاؤ تمہارے والدین کو کس نے پیدا کیا
22:44اگر کہو کہ ان کے والدین ہے
22:46تو ان کو کس نے پیدا کیا
22:47پھر ان کو کس نے پیدا کیا
22:49بات حضرت عادم علیہ السلام تک چلی جائے گی
22:52پھر حضرت عادم علیہ السلام کو کس نے پیدا کیا
22:54تمہیں ماننا پڑے گا انکار نہیں کر سکو گے
22:57کہ وہ رب ہے جو تمہیں پیدا کرنے والا ہے
22:59ماں کے رحم کے اندر
23:01کون تکش و بنگار دینے والا ہے
23:03کس نے گوشت کے لوترے کو بولنا سکھایا ہے
23:07کس نے چشم خانوں کے اندر روشن چراغ رکھ دیا ہے
23:11اور کس نے سر کے اندر
23:12ایک نشید اور روشن دماغ رکھ دیا ہے
23:15کس نے ہاتھوں کو پکڑنے کی قوت دی
23:17اور کانوں کو شنوائی کی طاقت دی
23:19اور کس نے جو ہے وہ سونگنے کی قوت
23:21اور قوت شامہ ناک کے نتنوں کے اندر رکھ دی
23:24کون ہے جو ٹاموں میں زور پیدا کرتا ہے
23:26کون ہے جس نے چھاتی کو طاقت دی
23:29کون ہے جس نے انسانیت کو آسنِ تقویم بنایا
23:32انسان کیا تیرا حق ہے
23:34کہ مسجد کے قریب سے تو گزر جائے
23:36اور اللہ کا نمائندہ پکار رہا ہو
23:39ایہا علی الصلاح ایہا علی الفلاح
23:40آجا نیکی کی طرف آجا نماز کی طرف
23:43اور تو جو ہے وہ
23:45اس کو سننے کے باوجود گزر جائے
23:47ایسا ہو سکتا ہے
23:49کہ تو اس کے حضور آئے نہ آزر نہ ہو
23:51یہ بدنصیب بھی نہیں
23:52تو اور کیا ہے
23:54اللہ تعالی جللہ شانہو ہمیں اپنی عبادت کی
23:57توفیق نصیب فرمائے
23:58اور یہ سعادت مندی ہے
24:00اب عبادت کسے کہتے ہیں
24:02عبادت کے کئی مفاہین ہیں
24:05ایک عام مفہوم عبادت کا
24:07پوجہ اور پرستش کرنا ہے
24:09اور یہ اللہ کے علاوہ کسی کا حق نہیں ہے
24:12اللہ ہی کی پوجہ کی جائے
24:14اور کوئی اس بات کا استحقاق نہیں رکھتا
24:17کہ اس کی پوجہ پاٹ کی جائے
24:19ایک خدا کو پوجیں گے
24:21دوسرا عبادت کا مفہوم یہ ہے
24:23اطاعت و فرمبرداری
24:27بندے کے لئے جمال اور حسن ہی بندگی ہے
24:30وہ اللہ کی حضور اپنا سر جھکائی اس طرح
24:33کہ جو اس کا حکم ہے
24:35اس کو بجا لائے
24:36وہاں سے سر نہ پھیرے
24:38اور اس میں اپنی اکل
24:40اپنی سمجھ
24:41اپنے فہم و اجراء کے گھوڑے نہ دوڑائے
24:43بس اس کے حکم کو
24:44ہر صورت کے اندر قبول کرے
24:46اور تیسرا مفہوم جو ہے
24:48وہ بندگی اور غلامی کے معنی میں
24:51بندگی اور غلامی کے معنی میں عبادت ہے
24:53کہ بندہ اس کا
24:55جو ہے وہ اس طرح غلامی کا حق نبائے
24:58جس طرح غلام کو
24:59آقا کی کسی بات پر کوئی اتراز نہیں ہوتا
25:01تو ہزاروں آقا
25:03اللہ تعالیٰ جللہ شان روح
25:05کے جو ہیں وہ فرامین
25:07اس کے پابند ہیں
25:08اور بندہ اس کا کیوں پابند نہ ہو
25:10جن کو دنیا آقا مانتی ہے
25:12وہ بھی ان کے حضور کھڑے ہوئے ہیں
25:13تو پھر اس کی بات کو
25:15کس انداز سے بندہ ٹالے
25:17اور آج اس دنیا کے اندر
25:19آپ کہیں ملازمت کرتے ہیں
25:21آٹھ گھنٹے کی ڈوٹی دینا ہوتی ہے
25:23ان آٹھ گھنٹوں کے اندر
25:25آپ کا مالک آپ کو بلائے
25:27صرف آٹھ گھنٹوں میں
25:29ایک عارضی ملک آپ کے اوپر لگتا ہے
25:31تو آپ دھوڑ کے جاتے ہیں کہ نہیں جاتے ہیں
25:33آپ کے مہمان بھی آپ کے پاس بیٹھے ہوں
25:36اور آپ چائے بھی ان کو پلا رہے ہیں
25:38لیکن باس بلا لے آپ کو
25:40اور وہ گھنٹی دے
25:41تو آپ بیل پہ سب کو چھوڑ کے بھاگتے ہیں
25:43کہ نہیں بھاگتے ہیں
25:44مہمانوں سے بھی معذرت کرتے ہیں
25:45مجھے پاس نے بلائے
25:46آپ دھوڑتے جا رہے ہیں
25:48یار ایک دنیا کا پاس بلائے
25:51تو مہمانوں کو چھوڑ کے
25:53چائے کو چھوڑ کے
25:54مرغن غزاؤں کو چھوڑ کے
25:55سب کو چھوڑ کے بھاگ جاتے ہیں
25:57اور رب کا نمائندہ پکارے
25:59ہی آلالسولا اور ہی آلالفلا
26:02جو بندہ اس کی حضور نہ جائے
26:04کتنا بڑا بدنصیب ہے
26:05کتنی بدنصیبیں اس کا مقدر ہیں
26:08کہ جو اس کی حضور
26:09لیکن یہ اللہ تعالیٰ جللہ شانہو
26:11کی رحمت کی عمومیت ہے
26:13اگر آج آٹھ گھنٹے کے لیے
26:15آپ کہیں جوٹی کرتے ہیں
26:16وہ آپ کو آواز دے اور آپ نہ جائیں
26:18تو وہ آپ کی نوکری ختم کر دے گا
26:21آپ کو سخت سرنش اسی وقت کرے گا
26:24یا پھر آپ کو فارغ کر دے گا
26:25لیکن اللہ تعالیٰ جللہ شانہو
26:27اس کی نافرمانی پر نافرمانی کرتے رہیں
26:30کبھی اس نے رزق کے دروازے بد نہیں کیے
26:33بلکہ جو نہیں مانتے ان کو اور زیادہ دے رہا ہے
26:36چونکہ ان کا حصہ صرف دنیا پہ یہ نا
26:38آخط میں تو حصہ ہی کوئی نہیں ہے
26:39بلکہ فرمایا
26:40اگر مسلمانوں کی دل جوئی کا لحاظ نہ ہو
26:43تو میں کافروں کے گھروں کی
26:45سیڑیاں بھی سونے اور چاندی کی بنا دوں
26:47لیکن یہ کہیں گے
26:49ہمیں تو زیادہ رگڑ دیا گیا ہے
26:50چونکہ انہوں نے دنیا کوئی دیکھا ہے
26:52آخط ابھی دیکھی نہیں ہے
26:54ورنہ جو ان کے لئے آخط میں رکھا گیا ہے
26:56دنیا کی کوئی شہ ان کے نزدیک حیثیت ہی نہ رکھے
27:00بلکہ حدیث میں آتا ہے
27:01صحابہ مشقات نے اس کو لکھا
27:03کہ دنیا کے اوپر جس کو سب سے زیادہ تکلیفیں پہنچی ہوں گی
27:07وہ جنت میں لے جایا جائے گا
27:09اور ایک مرتبہ جنت میں
27:11جو ہے وہ داخل کر کے نکال دیا جائے گا
27:14اور کہا جائے گا
27:15کہ بتا دنیا کے اوپر تجھے بڑی تکلیفیں پہنچی
27:18وہ کہے گا
27:19یا اللہ مجھے تو کوئی تکلیف پہنچی ہی نہیں ہے
27:26تخت و تاج پہ بیٹھ کے بھی زندگی ساری گزاری ہو
27:29حدیث میں آتا ہے
27:30اس کو جہنم میں ایک ڈبکی لگائی جائے گی
27:33اور پھر اس کو کہا جائے گا
27:34بتا
27:35تو دنیا کے اوپر کوئی راہت پائی ہے
27:38وہ کہے گا
27:39مالک دنیا کے اوپر میں نے کوئی سکھ دیکھا ہی نہیں ہے
27:42ایک غوتہ جہنم کے اندر دیا جائے گا
27:45دنیا کے سارے سکھ ہی بھول جائے گا
27:47کہ میں وہاں بادشاہ ہوا کرتا تھا
27:49میں وہاں اکمران ہوا کرتا تھا
27:56دنیا کو میں نے جو ہے وہ ریور کی طرح آنکھا تھا
27:59اور انسانیت کا قتل کیا تھا
28:00میری رعونت اور میرا تقبر
28:02دنیا کو چھکا دیتا تھا
28:04اس کو کوئی شہ اور اپنی کوئی آکڑ
28:06اور کوئی بات یاد نہیں رہے گی
28:08صرف ایک ڈبکی کی بات ہے
28:10اور جس نے دکھ پہ دکھ کاٹے
28:12غربت تنہائی دکھ
28:14عذیت مسائب آلام
28:16مشکلات لیکن ایک بار
28:18جنت سے گزار کر کے
28:20جنت کی صرف آب و ہوا ہی سنگائی جائے گی
28:23اس کو کہا جائے گا بتا دنیا کی اوپر تجھے کوئی دکھ پہنچا
28:26وہ کہے گا میرے رب
28:28دنیا پہ مجھے کوئی دکھ نہیں پہنچا
28:29اب بتائیے کہ
28:31اللہ کے حضور ہم حاضر ہوں
28:34یا کہ دنیا کوئی منشاہ و مقصود
28:36بنا لیں ہماری زندگی
28:37کی ڈگر کیا ہونی چاہیے
28:39پہلی بات تو یہ ہے کہ جنت کے
28:42مقابلے میں اس دنیا کی حیثیت
28:44ہی کوئی نہیں اور دوسری بات
28:45اگر دنیا کے اوپر ہم عزتیں
28:48سرخرویاں جس کو ہم سمجھتے ہیں
28:50یہ سرخرویاں وہ پا بھی لیں
28:52تو وہ کتنا کوئی سا ہے
28:53پھر اس کا حساب بھی تو ہم نے دینا ہی دینا ہے
28:56اس لیے ہم دیکھ لیں
28:58جتنا برداشت کرتے ہیں
29:00اس کے مطابق جو ہے وہ ہم چلیں
29:01پھر اس کے مطابق جو ہے
Comments

Recommended