Mushkil waqt har insaan ki zindagi mein aata hai, lekin kamyab wohi hota hai jo sabr karta hai. Is dil ko choo lene wale bayan mein Muhammad Raza Saqib Mustafai sabr ki taqat, Allah par tawakkul aur mushkil halat mein mazboot rehne ka paigham dete hain.
Yeh emotional bayan humein sikhata hai ke har takleef ke baad aasani hoti hai aur jo banda sabr karta hai Allah usay behtareen ajar deta hai. Agar aap mushkil waqt se guzar rahe hain to yeh bayan zaroor sunein — yeh aapko himmat aur sukoon dega.
#Sabr #PowerOfPatience #RazaSaqibMustafai #EmotionalBayan #IslamicReminder #MotivationalBayan #DeenKiBatein #UrduBayan #LifeLessons
Yeh emotional bayan humein sikhata hai ke har takleef ke baad aasani hoti hai aur jo banda sabr karta hai Allah usay behtareen ajar deta hai. Agar aap mushkil waqt se guzar rahe hain to yeh bayan zaroor sunein — yeh aapko himmat aur sukoon dega.
#Sabr #PowerOfPatience #RazaSaqibMustafai #EmotionalBayan #IslamicReminder #MotivationalBayan #DeenKiBatein #UrduBayan #LifeLessons
Category
📚
LearningTranscript
00:00بلکہ فرمایا کہ مومن کے پاؤں میں کانٹا بھی چپتا ہے
00:03تو اس کا بھی اس کو عجر دیا جاتا ہے
00:06اس کے درجہ بلند ہوتے ہیں
00:08اس کے گناہ معاف کر دیا جاتے ہیں
00:09اس کی خطاؤں سے درگزر کر لیا جاتا ہے
00:12لیکن یہ مشروط ہے
00:14اس تکلیف کو صبر کے ساتھ برداشت کرنے سے
00:17اگر وہ واویلہ کرتا ہے
00:19ناشکری کے قلمات کہتا ہے
00:21تو تکلیف تو ختم نہیں ہوتی
00:23لیکن عجر زائل کر دیا جاتا ہے
00:26تو اس لیے ہمیں ہر صورت کے اندر
00:28صبر کے دامن کو مضبوطی سے
00:31تھامنے کی تلقین کی گئی
00:33اور اہل ایمان کو یہ بھی سبق دیا گیا
00:35کہ جب انہیں کوئی بھی مصیبت پہنچتی ہے
00:38تو وہ کہتے ہیں
00:39اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِهُمْ
00:41کہ ہم اسی کے ہیں اور اسی کے حضور پلٹ کے جانا ہے
00:44تو یہ وہ عمر ہے
00:46جو ان کی طبیعت کے اندر
00:48ٹھہراؤ پیدا کرتا ہے
00:50اور ان کی زندگیوں کے اندر
00:52اللہ تعالیٰ جللہ شانہو پر
00:54جو یقین ہے اس کا پتہ دیتا ہے
00:57اگر مصیبت کو
00:58اللہ کی طرف سے سمجھ کے
01:00مان کے سبر کیا جائے
01:02اس کو مقدود سمجھا جائے
01:03اس پر وعویلہ نہ کیا جائے
01:05اللہ کی نافرمانی کا کوئی کلمہ نہ بولا جائے
01:07اپنے عقیدے میں تزلزل نہ آنے دیا جائے
01:10اپنے رویوں کی خوبصورتی کو
01:12زائل نہ ہونے دیا جائے
01:13تو اس کا مطلب ہے کہ وہ شخص مومن ہے
01:15اس کا یقین ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے
01:17تو پھر اس کے یقین کے سلے کے اندر
01:20اللہ اس کو پھر ہدایت قلب کا چراغہ
01:22نصیب کرتا ہے
01:24اور فرمایا
01:25وَاللَّهُ بِكُلَّ شَيْنَ عَلِيمِ
01:27اور اللہ ہر شئے کو جاننے والے
01:29اس سے پتہ ہے
01:31کہ کسی پر مصیبت نازل کیوں کرنی ہے
01:34اور اس مصیبت سے
01:36اس کا امتحان لینا مقصود ہے
01:38اس کے درجوں کو بلند کرنا مقصود ہے
01:40اس کے گناہوں کو معاف کرنا مقصود ہے
01:42اس کو کسی آزمائش میں ڈال کر کے
01:45اس کو مزید کندن بنانا مقصود ہے
01:47یا اس کا کیا مقصود ہے
01:50اس کو سزا دینا مقصود ہے
01:51یہ اسے پتہ ہے
01:52تمہارا رب
01:53تمہاری طرف آنے والی جو تکلیفیں ہیں
01:56ان کے اندر ہزار ہا پنہا حکمتوں سے واقف ہے
02:00یہاں یہ بات بھی
02:01سمجھنے کے قابل ہے
02:03کہ جو شخص
02:05مصیبت کے آنے پر
02:07صبر اور استقامت کے ساتھ
02:10اس سے
02:11نپٹتا ہے
02:12اور اللہ پر جو اس کا یقین ہے
02:15اس میں تزلزل پیدا نہیں ہونے دیتا
02:18کل کل من عند اللہ
02:19اے محبوب فرما دیجئے
02:21جو کچھ ہے وہ تمہارے رب کی طرف سے
02:23یہ اس کا خیال اور فکر ہے
02:25کہ یہ میرے اللہ کی طرف سے
02:26تو پھر اس مصیبت کو ٹالنے والا بھی وہی ہے
02:30تو اگر یہ اس کا عقیدہ پختا تھا
02:32تو پھر وہ مالک کی دہلیز چھوڑ کے
02:35مالک کی چوکھٹ چھوڑ کے
02:36کسی اور دہلیز پہ نہیں جائے گا
02:38کسی اور چوکھٹ پہ نہیں جائے گا
02:41وہ
02:42اس مصیبت کو دور کرنے والا
02:45محصر حقیقی
02:47اللہ کو ہی جانتا ہوگا
02:49اور اسی کے حضور دعائیں کرے گا
02:51التجائیں کرے گا
02:52کسی شرک کا ارتقاب نہیں کر سکتا ہے
02:55اور وہ مالک کی دہلیز سے کبھی روکردانی نہیں کر سکتا
02:59بلکہ اس تکلیف کے آنے سے
03:00وہ اپنے رب کے ساتھ اور زیادہ جڑ جائے گا
03:03اور
03:05اگر وہ
03:06سبر کرے
03:07تو یہ اس کا ایک مرتبہ ہے
03:10کہ وہ حوصلے کے ساتھ
03:11اس تکلیف کو برداش کرے
03:13اور دوسرا مرتبہ
03:14جو اس سے بڑھ کر ہے
03:15کہ اس پہ
03:16اللہ کی رضا کے سانچے میں
03:19اپنے آپ کو ڈھال لیں
03:20کہ جے سوڑا میرے دکھ وچہ راضی
03:22میں سکنوں چلے ڈاوہا
03:23اگر وہ اس بات پہ راضی ہے
03:25تو کوئی بات نہیں ہے
03:26میں اس پہ راضی ہوں
03:28کہ میرے رب کی یہ رضا ہے
03:29تو یہ دونوں چیزوں
03:31کا مل جانا
03:33یا دونوں میں سے کسی ایک کا مل جانا
03:35یہ اللہ کی طرف سے
03:36اس کو دیا گیا انعام ہے
03:38جو اس مشکل حالات میں
03:40اس کو حاصل ہوتا ہے
03:42اب
03:42وہ کس قیفیت میں ہے
03:45اللہ تعالیٰ اس کو خوب جانتا ہے
03:47کہ وہ اس پہ سبر کر رہے
03:48یا
03:50اس کا اندر ڈول رہا ہے
03:51اس کا عقیدہ کمزور تھا
03:53اور وہ کمزوری کے باعث
03:56جو ہے
03:56وہ تزلزل کا
03:58تزبزب کا شکار ہو گئے
04:00تو یہ تمہارا رب خوب جانتا ہے
04:01تو تمہارے سینے کے اندر
04:03چھپی ہوئی کیفیت
04:05تمہارے رب کی علم میں ہے
04:06حضور علیہ السلام نے فرمایا
04:08کہ مومن کا معاملہ بھی بڑا عجیب ہے
04:10کہ اسے اگر تکلیف ہوتی ہے
04:13تو اس پر وہ سبر کرتا ہے
04:15یا اسے خوشی ملتی ہے
04:17تو اس پر وہ شکر کرتا ہے
04:19تو دونوں صورتوں میں
04:21اللہ اس کو عجر عطا کرتا ہے
04:23اور یہ صرف شان مومن کی ہی ہے
04:25کہ وہ مسئیبت پر سبر کرے
04:28ارشاد فرمایا
04:29اللہ انبیوکم
04:30کیا میں تمہیں خبر نہ دوں
04:32بے اکبر القبائد
04:34جو بڑے بڑے گناہ ہیں
04:35ان کی وہ ہما تنگوش ہو گئے
04:38کہ جی حضور ارشاد کیجئے
04:40تو حقہ کریم نے
04:41جو پہلی بات ارشاد فرمائی
04:43اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ہے
04:46اس کی ذات میں
04:47اس کی صفات میں
04:49اس کے افعال میں
04:50کوئی شریک نہیں
04:51وہ وحدہ لا شریک ہے
04:53دوسری بات
04:54حضور نے جو ارشاد فرمائی
04:56وہ ہے
04:58وَأَقُوْكُ الْوَالِدَيْنِ
05:00والدین کی نافرمانی
05:02امام فخر الدین رازی نے
05:05تفسیرِ قبیر میں لکھا ہے
05:07کہ
05:08انسان کے وجود کا
05:09سبب حقیقی ذاتِ باری طالع ہے
05:12اور سبب مجازی والدین ہے
05:14تو اس لئے
05:16گناہوں میں جو بڑے گناہ ہیں
05:18اکبر القبائد جو ہیں
05:20ان میں سے دوسرا بڑا گناہ
05:21اللہ کے محبوب علیہ السلام نے
05:23اَقُوْكُ الْوَالِدَيْنِ کو بیان فرمایا
05:25تو والدین کے ساتھ
05:27اس نے سلوک کرنے کی ہمیں
05:28تلقین کی گئی
05:30اور یہ شریعتِ اسلامیہ کا
05:33ہم سے تقاضہ ہے
05:34اور ویسے بھی اولاد
05:37اگر طبعاً فطرتاً
05:40شکر گزار ہو
05:41تو وہ ہوئی نہیں سکتا
05:43کہ وہ اپنے والدین کی نافرمانی کرے
05:46اللہ کے محبوب علیہ السلام
05:47نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا
05:48کہ
05:49مَلُونُن مَنْ سَبَّ عَبَاهُوْ
05:52مَلُونُن مَنْ سَبَّ عَبَاهُوْ
05:54وہ شخص لانتی ہے
05:55جو اپنے ماں باپ کو گالی دیتا ہے
05:57تو کتنی سخت مزمت کی گئی
06:00ایک شخص کی جو والدین کی نافرمانی کرتا ہے
06:04ایک موقع پر حضور علیہ السلام نے فرمایا
06:06رَغِمَا أَنفُنْ سُمَّا رَغِمَا أَنفُنْ
06:08سُمَّا رَغِمَا أَنفُنْ تین مرتبہ فرمایا
06:10اُس شخص کی ناخاکالود ہو
06:12پھر اُس کی ناخاکالود ہو
06:15پھر تیسے مرتبہ فرمایا
06:16اُس شخص کی ناخاکالود ہو
06:18تو قیلہ
06:19مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهُ
06:21صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
06:22مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهُ
06:23کس کی ناخاکالود ہو
06:24خواقی کریم علیہ السلام نے فرمایا
06:26مَنْ عَدْرَكَ عَبَوَيْهِ
06:29اندَلْكِبَرْ
06:34جس نے والدین کو ایک کو یا دونوں کو بڑاپے میں پایا اور جنت میں داخل نہ ہو سکا
06:42اور یہ تیسری بات ارشاد فرمانے سے قبل حضور نے تقیہ چھوڑ دیا تھا
06:48حضور ٹیک لگائے تشریف فرما تھے لیکن جب حضور یہ بات ارشاد فرمانے لگے
06:55فجالسا وقانمت تقیہ تو حضور بیٹھ گئے اور حضور نے تقیہ چھوڑ دیا
07:02اور حضور نے فرمایا
07:06تیسری چیز جھوٹی بات کرنا ہے جھوٹ بولنا ہے
07:10تو یہ ہے اللہ کے محبوب علیہ السلام کا سخت تاقید کرنا جھوٹ سے اپنی امت کو بچانے کے لئے
07:20اچھا یہاں ایک بات رکھ کے یہ سمجھ لیں
07:24کہ جھوٹ بہت بری چیز ہے لیکن شرک اس سے بڑا گناہ ہے
07:30تو اس کی تاقید اتنی زیادہ کیوں کی
07:33حضور نے ٹیک چھوڑ دی اور آقا کریم علیہ السلام بار بار اشارت فرماتے رہے
07:39تو اس کی وجہ یہ ہے کہ شرک کو بڑا گناہ سارے سمجھتے ہیں
07:46اس لئے ماں باپ کی نافرمانی ہر شخص سمجھتا ہے کہ بہت بڑا گناہ ہے
07:51اور اگر کوئی شخص ماں باپ کا بے عدب ہو گستاخ ہو
07:56تو لوگوں کی نظروں میں بھی وہ گر جاتا ہے
07:58کہ یہ برا شخص ہے کہ ماں باپ کے ساتھ بدسلوکی کر رہا ہے
08:03تو یہ تو گناہ ایسے ہیں
08:06کہ جو لوگوں کو اچھی طرح معلوم ہے
08:08لیکن عمومی طور پر جھوٹ باز کاتھ
08:11بعض معاشروں کے اندر یوں رچ بس جاتا ہے
08:14کہ اس کو عیب نہیں سمجھا جاتا
08:16اس لئے حضور نے اس پر خاص تاقید کی
08:18اور ٹیک چھوڑ کے آگے بڑھے
08:21اور پھر بار بار رشاد فرماتے رہے
08:23کہ اس کو چھوٹا نہ سمجھنا
08:24جس طرح اکبر القبائر میں شرک ہے
08:28اکبر القبائر میں عقوق الوالدین ہے
08:30اسی طرح یہ بھی اکبر القبائر میں شامل ہے
08:33کہ کوئی شخص جھوٹ بولے
08:34تو جھوٹ بولنا
08:36یہ اللہ کی ناراضگی کا سبب اور ذریعہ ہے
08:41تقریباً دو سو قرآنی آیات
08:45جھوٹ کی مزمت
08:46اور جھوٹ سے بچنے کی تاقید
08:49اور ترغیب میں ہیں
08:51اور سینکڑوں احادیث
08:54جھوٹ کی مزمت میں
08:56اور جھوٹ سے دامن کو
08:58بچانے کی تلقین پر مشتمل ہیں
09:01تو اس لئے اللہ کی بارگاہ میں
09:02یہ دعا مانگیں
09:03کہ اللہ ہمیں جھوٹ کے مرز سے نجات دے
09:06اور ہمیں ہمیشہ
09:07سچ اور سچائی کی توفیق سے ملعبال کرے
09:11آئیے حضور علیہ السلام کا
09:12ایک اور فرمان دیکھتے ہیں
09:15حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم
09:17نے اشارت فرمایا
09:18من کانت نیتہو طلب الاخرہ
09:22جس شخص کی نیت
09:23مقصد زندگی آخرت طلب کرنا ہے
09:26وہ دنیا پہ آیا اس لئے ہے
09:28اس کی آرزو ہے کہ
09:29میری آخرت ٹھیک ہو چاہتا ہے
09:31وہ دن رات لگا ہوا ہے
09:32آخرت کو درست کرنے کے معاملے میں
09:34جس کا مقصد زندگی طلب آخرت ہے
09:39جالاللہو غناہو فی قلبہی
09:41وجامالہو شاملہو
09:43وعتتہو دنیا وہی راغمتوں
09:45تو اللہ تعالیٰ اس کے دل میں غناہ ڈال دیتا ہے
09:49اس کی محتاجی دور کر دیتا ہے
09:51اور دنیا ساری اس کے پاس
09:53جو ہے
09:54ایسے آتی ہے
09:55اس کے پاس
09:56جس طرح کے لونڈیاں آتی
09:58لونڈی بن کے
09:59خادمہ بن کے
10:00نوکر بن کے
10:01دنیا اس کے قدموں تلے آتی
10:03یہ وہ جس کا مقصد آخرت ہے
10:06دنیا کی مثال سائے کی ہے نا
10:08سائے کے پیچھے بھاگو تو آگے بھاگتا ہے
10:10سائے کے آگے بھاگو تو پیچھے بھاگتا ہے
10:12جس کی طلب دنیا نہیں ہے
10:14جس کی طلب آخرت ہے
10:16تو اس کے مقصد اور مقدر کی جو دنیا ہے
10:19وہ اس کو ملنی ملنی ہے
10:21لیکن اسو پیچھے بھاگے گی
10:22لونڈیوں کی طرح
10:23خادماؤں کی طرح کے پیچھے آئے گی
10:25اور فرمایا
10:26ومن کانت نیتہو تلب الدنیا
10:30اور جس کا مقصد زندگی
10:31تلب دنیا ہے
10:32جالاللہ الفقرہ بین اے نیہے
10:35اللہ تعالیٰ اس کی دو آنکھوں کے درمیان
10:38محتاجی لکھ دیتا ہے
10:41وشتت علیہ امرہو
10:44اور
10:45اس کے اوپر
10:46ماملے مشکل ہو جاتے ہیں
10:48متنوے اور مختلف ہو جاتے ہیں
10:50یہ بھی مصیبت یہ بھی کرنے ہیں
10:52وہ بھی کرنے ہیں
10:54وَلَا يَاتِهِ مِنْهَا اِلَّا مَا قُتِبَ لَهُ
10:57اتنا کچھ ہونے کے باوجود
10:59حضور فرمایا
11:00ملتا وہی ہے جو اس کے مقدر میں لکھا ہوا ہے
11:03پہلے کو بھی مقدر کا ملا
11:05دوسرے کو بھی مقدر کا ملا
11:07لیکن پہلے کے پیچھے بھاگ کے دنیا گئی
11:10اور دوسرا دنیا کے پیچھے بھاگتا رہا
11:12پہلے کے پیچھے دنیا زلیل ہو کے آئی
11:15اور دوسرا دنیا کے پیچھے زلیل ہوتا رہا
11:17اب اگر آخرت کے طالب بن جائیں گے
11:20تو دنیا پیچھے پیچھے ہوگی
11:21اگر دنیا کے طالب بن جائیں گے
11:23تو پھر دنیا آگے آگے ہو
11:24حضرت ابو حریرہ رضی اللہ تعالی
11:27انہو سے ہی ایک روایت ہے
11:29فرماتے ہیں
11:30کہ
11:31امرانی ربی بے تسعین
11:34کی حضور فرماتے ہیں
11:35کہ میرے رب نے مجھے نو چیزوں کا حکم دیا
11:38میرے رب نے مجھے
11:40نو چیزوں کا حکم دیا
11:42خشیت اللہ فی سرغ والعلانیہ
11:45کہ میں اعلانیہ بھی اور مخفی بھی
11:49اللہ سے ڈر ہوں
11:50ایک تو مجھے اس کا حکم دیئے
11:52اعلانیہ طور پہ بھی اللہ کا خوف ہو
11:54اور مخفی طور پہ بھی
11:56دوسری بات
11:56وَقَلِمَتِ الْعَدْلِ فِي الْغَدْبِ وَرْرِدَا
11:59غصے میں ہوں
12:01یا کہ خوشی کے محول میں
12:03میں عدل انصاف کو ہاتھ سے نہ چھوڑو
12:06کلمہِ عدل ہی کہوں
12:07مجھے یہ بھی حکمِ رب نے دیا
12:09تیسرا حکم
12:10وَالْقَسْتِ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَا
12:13دولت مندی اور
12:16محتاجی غربت دونوں
12:18ادوار کے اندر مجھے
12:19میانہ روی سے چلنے کا حکم دیا ہے
12:22چوتھی چیز
12:23وَأَنْ آسِلَ مَنْ قَاتَ عَانِ
12:25جو میرے سے قطع تعلق کرے
12:28میں اس سے تعلق جوڑو
12:29یہ مجھے حکم دیا گیا ہے
12:31پانچوہ حکم یہ دیا گیا ہے
12:33وَأَوْتِيَا مَنْ حَارَ مَانِ
12:35جو مجھے محروم کرے
12:37میں اس کی جھولیاں بھر دوں
12:38وَأَعْفَوَا أَمَّنْ زَلَمَنِ
12:41اور جو میرے اکر ظلم کرے
12:43میں اس کو معاف کر دوں
12:46وَأَنْ يَقُونَا سَمْتِي فِقْرَ
12:48میں خموش رہوں تو فکر کرنے
12:50وَنُتْكِ ذِكْرَ
12:52جب بولوں تو ذکر کروں
12:53وَنَزْرِي عِبْرَ
12:55جب دیکھوں تو عبرت حاصل کروں
12:57وَآَمُرَ بِالْعُرْفِ
12:58وَكِيلَ بِالْمَعْرُوفِ
13:00اور جب کسی کو حکم دوں
13:01تو نیکی کئی حکم دوں
13:02کہا میرے رب نے یہ مجھے
13:04نو باتیں ارشاد فرمائی ہیں
13:06اب حضرت ابو
13:08ذر غفاری رضی اللہ تعالی عنہ
13:10وہ جو حضور نے ارشاد فرمایا
13:12وہ بھی سماعت کر لیں
13:16کہا میرے آقا و مولا حضور ختمی المرتبت
13:19نے مجھے سات چیزوں کا حکم دیا
13:21وہ حضور فرماتے ہیں
13:22میرے رب نے مجھے یہ حکم دیا
13:24ان نو چیزوں پر عمل کر
13:25اور یہاں حضرت ابو ذر غفاری فرماتے ہیں
13:28میرے آقا نہیں
13:28حضور نے مجھے
13:29ان سات چیزوں پر عمل کرنے کا حکم دیا
13:32اب ان سات چیزوں کو من میں اتاریں
13:35اور آج کے اس جمعے کے اجتماع میں
13:37اپنے دامن میں لپیٹ کے لے جائیں
13:39اور اس پر عمل کی کوشش کریں
13:41پہلی بات
13:48حضرت ابو ذر غفاری فرماتے ہیں
13:50حضور نے مجھے مسکینوں سے پیار کرنے کا حکم دیا
13:54وَدْدَنُوْوِ مِنْهُمْ
13:55اور فرمایا کہ ان کے پاس بیٹھا کرو
13:57جو مسکینوں کے پاس بیٹھتا
13:59اس میں تکبر قیدہ نہیں ہوتا ہے
14:02پہلا حکم حضور نے مجھے دیا
14:03کہ میں مسکینوں کے پاس بیٹھا کروں
14:06اور ان کے ساتھ محبت کیا کروں
14:09اور دوسرا حکم حضور نے یہ دیا
14:12وَعَمَارَنِيْ
14:17حضور نے مجھے یہ حکم دیا ہے
14:19کہ میں اپنے اوپر نہ دیکھوں
14:20اپنے نیچے دیکھوں
14:22اپنی مٹی پہ ہی چلنے کا سلیکہ سیکھو
14:25سنگ مرمر پہ چلوگے تو فسل جاؤگی
14:29حضرت شیف ساری فرماتے ہیں
14:30کہ میں دمشق کی جامعہ مسجد میں جمعہ پڑھنے گیا
14:33میرے کسی نے جوتے اٹھا لیے
14:34میرے پاس پیسہ بھی نہیں تھے
14:36کہ مزید جوتے خرید سکتا
14:38بازار میں گزر رہا ہوں
14:40دل میں یہ بات آئی
14:41کہ زمانہ تیرا احترام کرتا
14:43تیری یہ حالت کے جوتے خریدنے کے لیے
14:45رکم بھی تیرے پاس نہیں
14:46کہتے ہیں یہ شکوہ پیدا ہوئی رہا تھا
14:49آگے سے ایک بندہ آ رہا تھا
14:50جس کے پاؤں ہی نہیں
14:51تو میں نے فوراں سر جھکا دیا
14:53میں نے کہا مالک تیرا شکر ہے
14:55جوتے آج نہیں تو کل نصیب ہو جائیں گے
14:57میرے پاؤں تو سلامت ہے
14:59حضرت عبوزار غفاری فرماتے ہیں
15:01مجھے حضور نے حکم دیا
15:02عبوزار
15:03اپنے اوپر نہ دیکھا کرو
15:05اپنے نیچے دیکھا
15:07تم اوپر دیکھتے ہو
15:08اگر ہم دیکھ رہے ہیں
15:10ہمیں پنکھا بھی رسید نہیں ہے
15:11اور ہم یہاں میدان میں بیٹھے ہوئے ہیں
15:14تو ان کو بھی دیکھیں
15:15کہ جن کا گھر لٹا ہوا ہے
15:16اور وہ سڑکوں پر بیٹھے ہوئے ہیں
15:18کھانے کے لکمے کا انتظار کر رہے ہیں
15:21ہم ان کو بھی دیکھیں
15:22جب نیچے دیکھیں گے
15:24جب اوپر دیکھیں گے
15:25تو پھر بندہ بیتاب ہو جائے گا
15:27مسترب ہو جائے گا
15:28کہ آئے میں ساتھ کیا بن گیا
15:29اس لیے فرمایا
15:31کیسا زندگی گزارنے کا ڈب سکھایا حضور نے
15:34فرمایا
15:38اپنے سے اوپر نہ دیکھوں
15:40اپنے سے نیچے دیکھوں
15:46مجھے حضور نے یہ حکم دیا
15:47کہ میں رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کر رہا
15:50اگرچہ وہ پیٹھ پھیر کے بھاگنا بھی چاہیں
15:52لیکن میں ان کا پیچھا نہ چھوڑوں
15:54میں رشتہ داری کے حق کو نبھاؤں
15:57وَأَمَرَنِي أَلَّا أَسْعَلَ أَحَدًا شَيْعَا
16:00کہا مجھے حضور نے
16:02یہ بھی حکم دیا ہے
16:04کہ ابو ذر کبھی کسی سے کچھ نہ مانگنا
16:07کسی کے سامنے سوال
16:09نہ کرنا ہاتھ نہ پھیلانا
16:11علمان نے لکھا ہے
16:13کہ جب انتہائی بندہ مجبور ہو جائے پس جائے
16:16اور جان کے جانے کا اندیشہ پیدا ہو جائے
16:20اس وقت بوقت ضرورت
16:23بقدر حاجت
16:24مانگ لینا جائز ہے
16:25لیکن جو اہلاللہ ہیں
16:27اس موقع کے اوپر بھی
16:29جو ہے وہ اپنے آپ کو سوال سے بچاتے ہیں
16:32آپ نے حدیث تو سنی حضرت ابو حیرہ والے
16:35حضرت ابو حیرہ نو کے حدیث
16:36مشہور ہے اس کا پہلا حیسہ یہ ہے
16:38حضرت ابو حیرہ رضی اللہ تعالیہ نو
16:40فرماتے ہیں کہ مجھے بھوبنے ستایات
16:42کمر سی دنی ہو رہی تھی
16:44نہ نماز پڑھی جا رہی تھی
16:45نہ قرآن پڑھا جا رہا تھا
16:47میں مسجد نبوی کے ایسے زاویے میں
16:50بیٹھ گیا جہاں لوگوں کا گزر ہوتا تھا
16:52میں نے کہا میں نے سوال تو
16:54کرنا نہیں کوئی مجھے دیکھ کر کے
16:55میرے اندر کوئی دھونڈ لے اور میری مدد کر دے
16:58کہتے ہیں میں دروازے پہ بیٹھ گیا
17:00لوگ آتے اور گزرتے چلے جاتے
17:02وہ کیا کسی نے کہا
17:04نہ ہستی پلکوں کے نیچے غم بھی پلتے ہیں
17:07مگر کون دیکھتا ہے
17:08اتنی گہنائی میں
17:09کہتے ہیں لوگ آتے گزر جاتے
17:11خیر میں نے ہیلا ذہن میں آیا
17:14حضرت ابو بکر صدیق آئے نا
17:15تو میں نے قرآن کی کسی آیت کے بارے میں
17:18مسئلہ پوچھا
17:20تو انہوں نے مسئلہ بتایا
17:22آیت بتائی اور چلے گئے
17:24میرا خیال تھا کہ میں آیت پوچھوں گا
17:26اس دوران وہ مجھے دیکھیں گے
17:28اور میری حالت سے آگاہ ہوں گے
17:30تو میری ضرورت کو پورا کریں گے
17:31لیکن ان کی توجہ ادھر نہ گئی جلدی میں تھے
17:34انہوں نے بات بتائی اور چلے گئے
17:36میں پھر پریشان پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ
17:39میں ان سے بھی کوئی مسئلہ پوچھا
17:40انہوں نے مسئلہ بتایا اور چلتے بنے
17:42میں پھر پریشان ہوا
17:44اور پھر اداس بیٹھ گیا اور
17:46جان نکل رہی ہے بھوپ سے
17:47کہتے ہیں پھر دل و قلب و نگاہ کا
17:50مرشد اولین آگے
17:52حضور تشریف لے آئے
17:53میں نے حضور سے بھی کچھ پوچھا
17:55جب میں نے حضور سے پوچھا
17:57تو حضور نے میری جانب غور سے دیکھا
17:59اور پھر مسکرا کے بولے
18:01ابو حریرہ بھوگ لگی ہوئی ہے
18:03میں نے عرض کیا حضور بھوگ لگی ہوئی ہے
18:05تو کیونکہ مسئلہ میرا یہی تھا
18:07کہا پھر آجو میرے ساتھ
18:08پھر وہ واقعہ اپنے علماء سے سنا ہے
18:10کہ دودھ کا ایک پیالہ تھا
18:12ستر آدمی پی گئے
18:13موسیقا
Comments