Sarmaya e Aslaf - Topic: Imam Makhul Shami RA
To Watch All Episodes of Sarmaya e Aslaf || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xie8GN5M09gP6xhh0tJzM39Z
Speaker: Mufti Ahsen Naveed Niazi
#sarmayaeaslaf #muftiahsennaveedniazi #aryqtv #ImamAmirShabiRA
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficials
To Watch All Episodes of Sarmaya e Aslaf || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xie8GN5M09gP6xhh0tJzM39Z
Speaker: Mufti Ahsen Naveed Niazi
#sarmayaeaslaf #muftiahsennaveedniazi #aryqtv #ImamAmirShabiRA
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficials
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:03Bismillahirrahmanirrahim
00:30113 سنہ حجریہ
00:32علی الاختلاف اور آپ سے متعلق
00:34بعض کتابیں
00:35ناظرین امام مکہول شامی رائم اللہ کی کیا
00:37اونچی شان ہے آپ جل قدر
00:39تابعی بزرگ تھے تابعی
00:41اس ہستی کو کہا جاتا ہے
00:43جس نے ایمان کی حالت میں کسی صحابی
00:46رسول رضی اللہ عنہ کی زیارت
00:48کی ہو اور ایمان کی حالت میں
00:49ان کا انتقال ہوا ہو
00:50تو یہ افراد تابعین کہلاتے ہیں
00:53صحابہ اکرام علی مردوان کے بعد
00:55سب سے اعلیٰ اور افضل طبقہ
00:57امت میں تابعین کا طبقہ کہلاتا ہے
00:59امام مکہول شامی رائم اللہ
01:02جل قدر تابعی ہیں
01:03پھر ان تابعین کے تین
01:05طبقات ہیں تین درجات ہیں
01:07ایک کبار تابعین کہلاتے ہیں
01:09دوسرے اوساط تابعین کہلاتے ہیں
01:11تیسرے سگار تابعین کہلاتے ہیں
01:13کبار تابعین یعنی بڑے تابعین
01:15اوساط تابعین یعنی درمیانے
01:17درجے کے تابعین اور سگار تابعین
01:19یعنی چھوٹے درجے کے تابعین
01:21امام اقول شامی رحم اللہ کا شمار اوساط تابعین میں ہوتا ہے
01:25یعنی درمیان درجے کے تابعین میں
01:27یہ جو گریڈنگ ہے تابعین کی کبار اوساط سگار
01:32یہ ان کے ذاتی مقام اور مرتبے کے اعتبار سے نہیں ہے
01:35بلکہ صحابہ اکرام علی مردوان سے اخذ و استفادے کے حوالے سے ہے
01:39کہ جنہوں نے بڑے صحابہ اکرام کی زیارت کی ہے
01:42اور ان کی زیادہ صحبت پائی ہے
01:43تو ان کو کبار تابعین کہا جاتا ہے
01:45اور جنہوں نے چھوٹے صحابہ کی زیارت کی ہے
01:48یا کم صحابہ سے انہوں نے استفادہ کی ہے
01:50وہ صغار تابعین کہلاتی ہیں
01:52اور جنہوں نے درمیان درجے کے صحابہ سے استفادہ کیا ہے
01:55یا کم استفادہ کیا ہے کبار تابعین کے مقابلے میں
01:59تو وہ کہلاتے ہیں اوساط تابعین
02:01تو یعنی ان کا جو ذاتی مقام مرتبہ ہے
02:03ذاتی علم و فضل ہے
02:05یہ اس کے اعتبار سے طبقہ نہیں ہوتا
02:07کبار اوساط سگار
02:08بلکہ صحابہ اکرام سے
02:09اخذ و استفادہ کم یا زیادہ ہونے کے حوالے سے
02:13یہ طبقات ہیں
02:14کبار اوساط اور سگار
02:16تو امام اکول شامی رائم اللہ کا شمار
02:18اوساط تابعین میں ہوتا ہے
02:20درمیان درجے کے تابعین میں ہوتا ہے
02:22اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ نو سے
02:25آپ نے روایت کی ہے
02:27ویسے تو آپ نے کئی صحابہ اکرام کی
02:29زیارت کا شرف آسل کیا ہے
02:30اور آپ نے ان سے استفادہ کیا ہے
02:32اور کئی سے آپ نے روایتیں بھی کی ہیں
02:34لیکن بعض صحابہ سے آپ کی روایت کے بارے میں
02:37کچھ کیلو کال ہے
02:38بعض رات کا کہنا یہ ہے
02:39کہ بعض صحابہ سے آپ نے براہ راست
02:41روایت نہیں لی
02:42بلکہ کسی واسطے سے آپ نے روایت لی ہے
02:44لیکن جو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ نو ہیں
02:47سیدنا واسلہ بن اسکا رضی اللہ تعالیٰ نو
02:49اور سیدنا ابو ہند عدداری رضی اللہ عنہ
02:51ان تین صحابہ سے آپ کی روایت تحقیق کی روح سے ثابت ہے
02:55بعض رات حضرت واسلہ بن اسکا
02:58اور حضرت ابو ہنداری کے حوالے سے بھی
02:59کچھ کیلو کال کرتے ہیں
03:01بعض کہتے ہیں کہ ثابت ہے
03:02بعض کہتے ہیں کہ نہیں ہے
03:03لیکن تحقیق یہ ہے
03:04محققین کے نزدیک
03:05ان دونوں صحابہ سے آپ کی روایت بھی ثابت ہے
03:08آپ کی لقاء یعنی ملاقات بھی ثابت ہے
03:10اور ان سے آپ کی براہ راست روایت بھی ثابت ہے
03:13اصول حدیث کی روشنی میں
03:14اور جو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ نو ہے
03:16ان سے آپ کی روایت اور رویت
03:19ان کی زیارت کرنا
03:20ان سے ملاقات کرنا
03:21اور ان سے روایت باقاعدہ لینا
03:23یہ تو ہر قسم کے شکو شبہ سے بالا تر ہے
03:26اس میں کوئی ڈاؤٹ کسی قسم کا نہیں ہے
03:28اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے
03:29سارے محدثین اس بات پر متفق ہیں
03:32کہ امام اکول شامی راہی مولا نے
03:34سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ کی
03:36زیارت کا شرف بھی حاصل کیا ہے
03:37اور ان سے باقاعدہ براہ راست
03:39آپ نے حدیثیں بھی روایت کی ہیں
03:41تو یوں آپ نے صحابہ کرام و مردوان سے
03:44استفادہ کیا ہے
03:45صحابہ کرام سے اقتصاب فیض کیا ہے
03:47اور امام اکول شامی راہی مولا خود
03:49مستحد ہیں اور فقہ میں آپ کا
03:51بڑا نام ہے اسی طرح حدیث میں بھی آپ کا
03:53بڑا نام ہے بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں
03:55کہ شاید فقی تو آپ بڑے ہیں لیکن
03:57دیگر فنون کے والے سے لوگ ان کو زیادہ نہیں
03:59جانتے تو ان کے لیے
04:01یہ گدارش ہے کہ جس طرح آپ
04:03فقہ میں بڑے امام ہیں تو اسی طرح
04:05آپ حدیث کے اندر بھی بڑے امام ہیں
04:07اور اسی طرح تفسیر میں بھی آپ بڑے امام ہیں
04:09اور اسی طرح سیر اور مغادی
04:11کے اندر بھی آپ کی آراء کو اہمیت
04:13دی جاتی ہے اور اسی طرح قرآنیات کے اندر
04:15بھی آپ بڑے کاری بھی ہیں
04:16یعنی قرآن میں بھی آپ کا شمار ہوتا ہے
04:19بڑے کاریوں میں آپ کا شمار ہوتا ہے
04:21اسی طرح بڑے مفسرین میں
04:23جو اصحاب تفسیر شمار ہوتے ہیں
04:25ان میں امام مکول شامی
04:27راہی مولا ہے امام تفسیر
04:29میں آپ کا شمار ہوتا ہے اور آپ کے تفسیری اقوال
04:31بھی مفسرین نے نکل کی ہیں
04:33بالخصوص علامہ جافت
04:34سیوتی رائی مولا نے
04:35اپنی تفسیرت در المنصور میں
04:36آپ کے اقوال
04:37بہت زیادہ نقل فرمائے ہیں
04:38تو امام مقہول
04:39شامی رائی مولا
04:40تفسیر کے بھی امام ہیں
04:42حدیث کے بھی امام ہیں
04:43فقہ کے بھی امام ہیں
04:44اور خود آپ
04:45مشتحد تھے
04:46جیسے امام آدم
04:47ابو حنیفہ رائی مولا
04:48مشتحد ہیں
04:49جیسے امام مالک
04:50رائی مولا
04:51مشتحد تھے
04:51جیسے امام
04:52محمد بن عدریس شافی
04:53رحم اللہ مجتحد تھے جیسے امام حمد بن حمد رحم اللہ مجتحد تھے اسی طرح امام
04:58مقہول شامی رحم اللہ بھی مجتحد تھے مجتحد مطلق تھے اور آپ کیا بقاعدہ
05:03مدھب بھی رہا کچھ عرصے تک کچھ لوگوں نے آپ کی بقاعدہ اتباع بھی کی ہے یہ
05:07لگ بات ہے کہ بعد میں آپ کا مدھب آگے جاری نہیں رہ سکا تدوین اس طرح آپ کی
05:12فقہ کی نہیں ہو سکی جس طرح ایم اربا کی ہوئی ہے تو جیسا کہ میں پہلے بھی
05:16مختلف پروگراموں میں یہ بات بتا چکا ہوں کہ ایم اربا کے علاوہ اور بھی
05:20کچھ مجتحد حضرات تھے جیسے امام عوضائی رحم اللہ جیسے امام سفیان سوری
05:24رحم اللہ جیسے امام عامر شاہ بھی رحم اللہ جیسے امام سفیان بن عیانہ
05:27رحم اللہ کہ چونکہ ان کا مدھب بقاعدہ اس طرح مدون نہیں ہوا اس طرح ان کے
05:31شاگردوں نے ان کے مدھب کو مدون نہیں کیا تو اس لیے ان کا مدھب آگے چل نہیں
05:35پایا لیکن تھے وہ بھی مجتحد اس طرح امام عقول شامی رحم اللہ بھی
05:38مجتحد تھے اور شاگرد آپ کی محمد بن راشد مقہولی وہ آپ کی ہی
05:42اتباع کرتے تھے ہر معاملے میں فقی آرام ہیں اسی نسبت سے ان کو مقہولی
05:46کہا بھی جاتا ہے اور بھی کچھ لوگ اپنے نام کے ساتھ مقہولی کی نسبت
05:50استعمال کرتے تھے آپ کے حوالے سے کہ چونکہ وہ آپ کی فقی آرام کو
05:54فالو کرتے تھے تو اس لیے اپنے نام کے ساتھ مقہولی لگایا کرتے تھے
05:57بعد میں جو ہے وہ آپ کے مذہب کی بقاعدہ تدوین نہیں ہو سکی تو اس لیے
06:01آگے جاری نہیں رہ پایا لیکن بہرحال آپ مجتحد تھے مجتحد مطلق تھے
06:05امام مقہول شامی رحم اللہ اور بڑے بڑے آئمہ جو ہے وہ یہ بات
06:08کہتے تھے کہ شام کے اندر آپ سے بڑا کوئی عالم نہیں ہے بلکہ بعد
06:13حضرات اہل علم نے تو یہاں تک فرمایا کہ شام کے جو فقہاں ہیں
06:16اس میں حضرت معاز بن جبل رضی اللہ عنہ حضرت ابو دردہ رضی اللہ عنہ
06:19صحابہ میں یہ ہیں اور صحابہ کے بعد اگر شام کا کوئی بڑا فقی ہے
06:23تو وہ کہتے تھے ان دو صحابہ کے بعد سب سے بڑا فقی شام میں مقہول شامی
06:28رحم اللہ امام مقہول رحم اللہ سب سے بڑے فقی شام کے
06:49So these are the ones who said,
06:50emamed usarid bin abdul-aziz
06:52tanoqi rahimullah,
06:53they said,
06:54bamah makholun afqaha min az zuhri,
06:56this is the one who said,
06:57America has been very goodly said,
07:00and then they say,
07:01waqana makhulun afqaha ahal shami,
07:04ahal shami,
07:05the third best of the god of faki,
07:06emame makhool shami rahimahullah,
07:08this is the one who said,
07:10Mohammed bin abdulll-ah bin amademar moslili,
07:12they said,
07:13emam ahal shami,
07:14maqhul ashami,
07:15that ahal shami,
07:16emam makhool shami rahimahullah,
07:19The
07:19They have very very high school.
07:21That you can have tribute to these people and you can be a big talent.
07:24So,
07:28gave him
07:28all of them.
07:36When they came from the beginning of the year,
07:36when they came from the beginning of the year,
07:37to take them apart from the beginning of the year.
07:39We are more than to get the finest.
07:40if they came from the beginning of the year,
07:43when they came from the beginning of the year,
07:44they came from,
07:48حسن بسری کے حوالے سے
07:49ہم اسے قبول کرلیتی ہیں
07:50وَعَدَى جَعَنَ الْعِلْمُ مِنَ الْجَزِیرَةً
07:53اَن مَامُون بِنُ مَحْرَان قَبِلْنَا
07:56اور جب ہمیں جزیرہ سے علم پہنچتا ہے
07:57محمون بن محران کے حوالے سے
07:59ہم اسے قبول کرلیتی ہیں
08:00اور پھر کہتے تھے
08:01وَعَدَى جَعَنَ الْعِلْمُ مِنَ الشَّامِ
08:03اَن مَقْهُول قَبِلْنَا
08:05And when we are in the end of the day of the season of the religion, the foreign completely understood
08:08the freedom of Islam.
08:09They were four of the genesis of the history, in the end of the day of Islam.
08:12They were saying that this is the이죠 of the Islam, this is the resemblance of the religion, this is the
08:16middle of the religion, and this is the Islands of the Islam.
08:19These four of them were mainly in the future, which were the이언 of Islam.
08:26But since theseherahs are just a part of the culture of Islam-of-the-코of-the-specialism, so they are
08:31in the culture of Islam-of-the-castle,
08:31so they are able to access them to complete the part.
08:33And the joining here, when raph?
09:03foreign
09:33...
10:03ils s'in allah w тысячи ہیں
10:04کہ innaho nhe kuda je bat frmai hai
10:06tuftul arda kullaha fii tlabil ilm
10:09کہ femeine poori zemine
10:12ka chaker kaata hai
10:13ilm hahasil karne ke liye
10:15ani you ye ap talib ilm me etnne mashor
10:17thae ir etnne mashor thae
10:19اور aap ko eisa zokh ta ilm ki pagha
10:21کہ آپ nne mختlib asfar kiye
10:23آپ nne iraq ka sifar bhi kiya
10:25hijaj uz amakadz ka sifar bhi kiya
10:27شam ka sifar bhi kiya
10:28misarga ba bhi sifar kiya
10:29mختlib ilaqe os wakt joh
10:30بڑے بڑے شہر مشہور تھے
10:33علم کے اعتبار سے
10:34جو علمی امثار تھے
10:35ان میں سے اکثر کا آپ نے سفر کیا
10:37اسی لئے آپ نے فرمایا
10:38تفتو لردہ کل لہا فی طلب العلم
10:41میں نے ساری روح زمین کا چکر کاٹا ہے
10:44ساری روح زمین میں گھوما ہوں
10:46علم حاصل کرنے کے لئے
10:48یہ آپ کی علم کے ساتھ کمیٹمنٹ ہے
10:50اور یہ آپ علم کے ساتھ
10:51آپ کی ڈیووشن کا عالم ہے
10:53آپ نے اپنے آپ کو علم کے لئے وقف کر رکھا تھا
10:55اور یہ بات بھی آپ نے کوئی
10:56ایسے فخر کے طور پر
10:58یا غرور کے طور پر بیان نہیں کی
11:00تکبر کے طور پر بیان نہیں کی
11:01بلکہ یہ بات بھی
11:02اصل میں تو آپ ایک بہت بڑے عالم تھے
11:04امام سعید بن مسیب رائیم اللہ
11:05ان کی شان ظاہر کرنا چاہ رہے تھے
11:08تو اس شان کو ظاہر کرتو یہ بات کہی
11:10کہ میں ساری زمین گھوما ہوں
11:12علم حاصل کرنے کے لئے
11:15مالکیتو آلمہ من سعید ابن المسیب
11:17اور میں نے سعید بن مسیب سے
11:19بڑا عالم نہیں دیکھا
11:20یعنی میں ساری زمین گھوما ہوا ہوں
11:22مختلف شہروں میں گیا ہوں
11:23جا کے علم حاصل کیا ہے
11:24لیکن سب سے بڑا عالم
11:25میں نے سعید بن مسیب کو پایا ہے
11:27جو افضل تابین شمار ہوتے ہیں
11:29اور امام سعید بن مسیب کے حوالے سے بھی
11:31ہم سرمایہ سلاف کا بقاعدہ پرگرام کر چکے ہیں
11:34جو اس میں دلچسپی رکھتے ہیں
11:35دیکھنا چاہیں
11:36تو یوٹیوب پہ جو ہماری سرمایہ سلاف کی پلی لسٹ ہے
11:38ایر وائی کیو ٹی وی کے افیشل یوٹیوب چینل پہ
11:40اس میں جا کے آپ وہ پرگرام دیکھ سکتے ہیں
11:42اس طرح امام حسن بسری کے والے سے بھی
11:44امام سفیان سوری کے والے سے بھی
11:45جن بزروں کے نام آئے
11:46ان کے بارے میں بھی بقاعدہ سرمایہ سلاف کے پرگرام موجود ہیں
11:49آپ دیکھ سکتے ہیں
11:50جو عدرات شوق رکھتے ہیں
11:51تو امام مکول شامی رائم اللہ بڑے عالم
11:53اور یہ ان کو اس طرح ٹریبیوٹ بڑے بڑے آئمہ نے پیش کی ہے
11:56پھر وہ اتنے عبادت گزار عالم تھے
11:59امام مکول شامی رائم اللہ کے
12:00سعید بن عبدالعزیز تنوخی
12:02جو خود بڑے محدث بھی ہیں
12:03فقی بھی ہیں
12:04بڑے امام ہیں
12:05خود ان کا اپنا سکہ چلتا ہے
12:07بادار علم کے اندر
12:08تو امام سعید بن عبدالعزیز تنوخی کہتے ہیں
12:11لَمْ يَكُنْ عِنْدَنَا أَحَدٌ
12:13اَحْسَنَ سَمْتًا مِنْ مَقْحُول وَرَبِيَعَ بِنْ يَزِيد
12:17کہ ہمارے نزدیک جتنے بھی لوگ ہم نے دیکھے
12:20ان کے اندر عبادت میں سب سے بڑھ کر
12:22مقحول اور ربیع بن يزید ہیں
12:24ان سے زیادہ اچھی عبادت کرنے والے
12:27میں نے نہیں دیکھے
12:28ہم نے نہیں دیکھے
12:29یعنی یہ اہل علم تو ہم نے بہت دیکھے ہیں
12:31لیکن جو علم اور عمل کے جامعے ہوں
12:33جس طرح وہ علم میں بڑے ہیں
12:34تو ایسے ہی عبادت کے اندر بھی بڑے ہوں
12:36حسنِ علم اور حسنِ عمل
12:38دونوں ان کے اندر جمع ہو گئے ہوں
12:39تو وہ ہم نے دو بڑے عالم دیکھے ہیں
12:41ان سے بڑا ہم نے کوئی نہیں دیکھا
12:43وہ کہتے تھے ایک ہے وہ ربیع بن يزید
12:44اور دوسرے امام مقحول شامی رائم اللہ
12:46اور عبادت کا تو آپ کی یہ عالم تھا
12:48کہ روزے آپ جو رکھتے تھے
12:50بقاعدہ ہر پیر اور ہر جمعرات کو روضہ رکھتے تھے
12:52تو ایک دور کسی نے پوچھا
13:04پیر اور جمعرات کو بندوں کے عامال
13:06اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوتے ہیں
13:08تو اس لیے میں پیر اور جمعرات کا روضہ رکھتا ہوں
13:11روضے رکھتے تھے
13:12کسرہ سے روضے رکھتے تھے
13:13ہر ہفتے میں یعنی دو روضے آپ کا معمول تھا
13:16پیر کا روضہ اور جمعرات کا روضہ
13:18نفلی عبادت کسرہ سے کرتے تھے
13:20نوافل بھی کسرہ سے پڑھا کرتے تھے
13:22فرائض تو فرائض ہے نوافل بھی
13:23اور تذکیہ نفس کے جو معاملات ہیں
13:25پھر لوگوں کے ساتھ جو آپ کا حسن سلوک ہے
13:27یعنی ایسا نہیں
13:28بعض وقت دیکھنے میں یہ آتا ہے
13:29کہ کچھ لوگ زیادہ عبادت کرتے ہیں
13:32تو اس کی وجہ سے طبیعت میں خوش کیا آ جاتی ہے
13:34یا علم زیادہ حاصل کر لیتے ہیں
13:35تو طبیعت میں تھوڑی خوش کیا آ جاتی ہے
13:37تو لوگوں کے ساتھ جو ان کا سلوک ہوتا ہے
13:40وہ اچھا نہیں ہوتا
13:40حسن سلوک کے حامل نظر نہیں آتے
13:42لیکن امام اکول شامی رائی مولا
13:44جیسے علم میں بڑے
13:45جیسے عبادت میں بڑے
13:46تقوی پریزگاری میں بڑے
13:47تو ایسی لوگوں کے ساتھ
13:49معاملات میں بھی ہمیں بڑے نظر آتے ہیں
13:50حسن سلوک کرتے تھے
13:52لوگوں کو عطا کیا کرتے تھے
13:53جو آپ کا بیت المال سے روزینہ مقرر تھا
13:55بقاعدہ لوگوں میں تقسیم کر دیا کرتے تھے
13:58ان کی زیافت کرتے تھے
13:59کھانا کھلایا کرتے تھے
14:00شربت پلاتے تھے
14:02اللہ کی رضا کے لیے
14:03آپ لوگوں کی خدمت کیا کرتے تھے
14:05حسن سلوک سے پیش آتے تھے
14:06اور بقاعدہ آپ کو
14:08دس ہزار دینار جب ملے ایک دفعہ
14:10تو آپ نے ان میں سے
14:12کئی مجاہدین کو
14:13بقاعدہ پچاس پچاس دینار
14:15الگ الگ دیئے
14:16اور اس وقت گھوڑے کی قیمت پچاس دینار تھی
14:19تو آپ نے پچاس پچاس دینار دیئے
14:20کہ یہ لوگ گھوڑا خریدیں
14:22اور جہاد فی سبیل اللہ کریں
14:23اکثر آپ جو اپنا مال ہے
14:25جیسے خلق خدا کی
14:26خبرگیری کے لیے
14:27اور ان کی خدمت کے کاموں کے لیے
14:29خرچ کرتے تھے
14:29فلاو بیبوت کے لیے خرچ کرتے تھے
14:31تو اسی طرح جہاد فی سبیل اللہ
14:33میں بھی آپ اپنا مال خرچ کرتے تھے
14:35جو مجاہدین ہوتے تھے
14:36تو ان کی بھی آپ مدد کیا کرتے تھے
14:38کسی کو گھوڑا دلا دیا
14:39کسی کو سامان دلا دیا
14:40کسی کی ویسے
14:41مالی امداد کیا کرتے تھے
14:43تو یہ آپ کے کریڈ پر نیک کام ہے
14:45خلق کے ساتھ
14:55وہ بادشاہ اس وقت کا خلیفہ
14:56اس وقت کا حکمران
14:58عبد المالک بن مروان کا بیٹا
14:59ولید وہ بھی آپ کی بقاعدہ
15:01علمی مجالس میں حاضر ہوتا تھا
15:02آپ سے استفادہ کرتا تھا
15:03اور ایک دفعہ جو ہے
15:05وہ عبد المالک بن مروان کا بیٹا
15:06یزید جو ہے
15:07وہ آپ کے مجلس کے اندر آیا
15:09تو جو آپ کے ساتھی دیگر
15:10آپ کے شاگرد بیٹھے تھے
15:12وہ اس نے انہوں نے دیکھا
15:12کہ بھئی یہ خلیفہ کا بیٹا ہے
15:14حکمران کا بیٹا ہے
15:15تو اس کو جگہ دینے کی
15:15انہوں نے کوشش کی
15:16کہ تھوڑا ہم اس کو جگہ دیتے ہیں
15:17جگہ کوشادہ کرتے ہیں
15:18پیچھے ہونے لگے
15:19تو آپ نے ارشاد فرمایا
15:20مکان اکم
15:21اپنی جگہ بیٹھے رہو
15:22دعوہو
15:23یجلسو
15:23حیسو وراغ
15:24اسے جہاں جگہ ملے
15:25اسے بیٹھنے دو
15:26لیت علمت توادو
15:27تاکہ وہ توازو سیکھے
15:29اس کے اندر توازو پیدا ہو
15:31آجزی انکساری پیدا ہو
15:33تو اب دیکھئے یہ
15:33ماں مقول شامی رائم اللہ کا
15:35ایک تو جہاں وہ لوگوں کے ساتھ
15:36حسن سلوک
15:37دوسرا یہ پتہ چلا
15:38کہ جو بادشاہ ہیں
15:39جو الیٹ کلاس ہے
15:40وہ بھی عوام کے ساتھ
15:42خواست بھی آپ کی
15:43مجلس علم میں حاضری دیا کرتے تھے
15:45اور دوسرا علم کی عظمت کیا ہے
15:47کہ آپ علم کی عظمت کو پیش نظر رکھتے تھے
15:49ان لوگوں کے لیے آپ اس طرح
15:51جھکتے نہیں تھے
15:52اٹھتے نہیں تھے
15:53اپنے علم کی مجلس کو ختم نہیں کرتے تھے
15:55جو آپ کی نشست ہے
16:03اور دوسرا جہاں جگہ ملے
16:05وہاں بیٹھ جائیں
16:05یہ نہیں کہ وہ حکمران ہیں
16:07یا حکمران کے بیٹا ہے
16:08یا الیٹ کلاس ہے
16:09تو اس کو آگے جگہ دی جائے گی نہیں
16:11اس کو جہاں جگہ ملی
16:12جو پہلے آیا ہیں
16:12ان کا پہلے حق ہے
16:13جو پہلے سے حاصل کر رہے ہیں علم
16:15تو جس کو جہاں جگہ ملی ہے
16:16وہاں بیٹھے اور علم حاصل کرے
16:18اس علم میں سارے برابر ہیں
16:19کسی عربی کو عجمی پر
16:20کسی عجمی کو عربی پر
16:21کوئی فضیلہ داصل نہیں ہے
16:22کالے کو گورے پر
16:23گورے کو کالے پر
16:24جو اسلام کی تعلیم ہے
16:25کہ فضیلہ صرف علم اور تقویٰ کی بنیاد پر
16:27تو جہاں جگہ ملی ہے
16:28وہیں بیٹھ کے علم حاصل کرے
16:29اور تیسہ یہ بھی
16:30کہ یہ حکمران کا بیٹا ہے
16:32لیکن اس کو بھی توازو آنی چاہیے
16:33جو اخلاقی خوبی ہے
16:34انکسار توازو
16:36یہ اس کے اندر بھی ہونی چاہیے
16:37تو کیسے سیکھے گا
16:38کیونکہ جب سارے ہی اس کو
16:39اس طرح پروٹو گول لیں گے
16:40تو توازو پیدا ہی نہیں ہو پائے گی
16:41تو آپ نے کہا
16:42کہ اس کو توازو سیکھنے دو
16:43اس کو بیٹھنے دو
16:44جہاں پر بیٹھا ہے
16:45تو یہ آپ کی تربیت کا انداز بھی ہے
16:47اور آپ کا علم کی عظمت بھی ہے
16:49اس میں ظاہر ہوتی ہے
16:50اور آپ کی تربیت بھی ظاہر ہوتی ہے
16:51کہ آپ اس طرح کسی کی پرواہ نہیں کرتے تھے
16:54تو امام اکول شامی رائی مولا
16:55جو ہے وہ بڑے امام تھے
16:57آپ کا مقہول
16:58آپ کا نام ہے
16:59کنیت آپ کی ابو عبداللہ ہے
17:00بعض لوگوں نے ابو عیوب
17:02اور بعض نے ابو مسلم بھی کنیت لکھی ہے
17:04کتاب میں یہ بھی لکھی ہے
17:05لیکن راجع کال یہ ہے
17:06مشہور کال یہ ہے
17:07کہ آپ کی کنیت ابو عبداللہ تھی
17:08اور شام میں
17:09چونکہ آپ رہتے تھے
17:10اس نسبت سے آپ شامی مشہور ہیں
17:11ویسے آپ کا تعلق بیسیکلی کابل سے تھا
17:13کابل کے تھے
17:14اس لئے کابلی بھی کہا جاتا ہے
17:15ولا کا تعلق آپ کا
17:17قبیلہ حضیل کے ساتھ تھا
17:18اس نسبت سے ہودالی بھی کہا جاتا ہے
17:20اور کیونکہ دمشق میں رہتے تھے
17:21اس نسبت سے آپ کو دمشقی بھی کہا جاتا ہے
17:23کتابیں جو آپ نے تعلق فرمائی ہیں
17:25تین کتابیں آپ نے تعلق فرمائی ہیں
17:27لیکن وہ حوادے سے دمانہ کی نظر ہو گئی ہیں
17:29میں نام بتا دیتا ہوں
17:30ایک کتاب آپ نے تعلق فرمائی ہے
17:32کتاب سنن فل فق
17:33دوسری کتاب آپ نے تعلق فرمائی ہے
17:35کتاب المسائل فل فق
17:36تیسری کتاب آپ نے تعلق فرمائی ہے
17:38كتاب الحج یہ آپ کے شاگرد رشید
17:40علی بن حارس نے روایت کی تھی لیکن
17:42یہ تینوں کتابیں مسنگ ہیں لاسٹ ہیں
17:44حوادث دمانہ کی نظر ہو گئی ہیں ملتی نہیں
17:46آپ کے بارے میں جو کام ہوا ہے
17:48اس کا ایک ریویو سرسری سا لے لیتے ہیں
17:50ایک بڑی امدہ کتاب ہے مقهول
17:52الشامی و اثرہو فی الفیک
17:54یہ ہے ناصر فتحی الفریدی کی
17:56بیسکلی یہ ماجستر کا یعنی امے
17:58کا مقالہ تھا جامعہ طلحذر مصر
18:00میں انہوں نے جو ایم اے کیا تھا اس کے لیے جو مقالہ لکھا تھا تو اس مقالے کو پھر
18:03انہوں نے بعد میں شائع کر آیا ہے
18:04بڑا عمدہ مقالہ ہے مقہول الشامی و اثر ہو فی الفق امام مقہول کی بائیوگرافی اور امام مقہول کا جو
18:10فقہ کے اندر جو ان کے اثرات ہیں
18:12جو ان کے آثار ہیں ان سے انفلونس ان کا پڑا ہے آگے دوسروں پر فقی آثار کے حوالے سے
18:17اس پر اچھی روشنیں ڈالی گئی ہیں
18:19پھر ہمیں ایک کتاب نظر آتی ہے فقہ الامام مقہول الشامی فی طہارہ و صلاح مقارنن بفقہ الائمت الارباہ
18:26یہ بھی جو ہے بنیادی طور پر ماجستیر کا مقالہ ہے جامعہ ملکرہ مکہ مکرمہ وہاں پہ ام اے کا
18:31مقالہ لکھا حیزہ ناصر احمد البرکاتین
18:34انہوں نے اس میں دو جلدوں کے اندر اس کو پھر شائع کیا انہوں نے اس کے اندر کیا کیا
18:37کتاب و طہارت اور کتاب و صلاح
18:39اس کے حوالے سے امام مقہول کی جو فقہی آرہاں ہیں استحادی آرہاں ہیں ان آرہاں کو ایک جگہ جمع
18:44کیا ہے اور احمد ارباہ کی جو فقہ ہے اس کے ساتھ اس کا تقابل کیا ہے
18:48اور اچھے انداز میں دراستہ کیے بھی امدہ کتاب ہے لائک مطالعہ
18:52پھر ہمیں ایک کتاب نظر آتی ہے مرویات و قوال مقہول الشامی من خلال در المنفور و قطب الاثار
18:58یہ بھی بنیادی طور پر تو ماجستیر کا ہی مقالہ ہے جامعہ امی درمان الاسلامیہ جمہوریہ سودان
19:06یعنی سودان کے اندر جامعہ امی درمان وہاں پر یہ مقالہ پیش ہوا ماجستیر کے لیے امی کے لیے لکھا
19:11گیا
19:11حسنا حمد محمد علی العونی یہ خاتون سکولر ہیں انہوں نے اس پر امی کیا تھا
19:16امام مقہول شامی رائم اللہ کے تفسیری اقوال جو مالا مجانسیوتی رائم اللہ کتاب الدر المنصور میں موجود ہیں
19:22اور کچھ دیگر تفاصیر میں اور دیگر کتب سنن میں جو آپ کے تفسیری اقوال موجود ہیں ان کا یہ
19:27ایک اچھا دراسہ کیا گیا ہے
19:28اس کے اندر تقریباً آپ کے تین سو اکیس اقوال ہیں مقررات ملا کر
19:32اور مقررات کو ہٹایا جائے تو آپ کے ایک سو اکتالیس روایات اور اقوال آپ کی ہیں تفسیری
19:37تو ان کا جمع کر کے ان کا دراسہ اچھی انداز میں کیا گیا یہ بھی لائک مطالعہ
19:41پھر ہم ایک کتاب نظر آتی ہے مقہول
19:43یہ دار القاسم اور مرکز اجیال المستقبل جو ہے انہوں نے ایک تارف علت تاوین کے نام سے ایک سلسلہ
19:49شروع کیا تھا
19:50مختلف تاوین کے بارے میں بنیادی نویت کی معلومات کا مختصر رسالے نکالے تھے
19:55تو اس میں ان کا جو سلسلہ نمبر آٹھ ہے جو آٹھویں جز انہوں نے نکالا تھا یہ امام مقہول
19:59کے بارے میں مقہول کے نام سے ہے
20:00اچھا ہے لائک مطالعہ بالخصوص بچوں کے لئے
20:03پھر جائے وہ ہمیں آخری ایک نظر آتا ہے
20:05آٹیکل ہے بڑا امدہ
20:06اصحاب الامام مقہول الشامی دراستوں استقرائیہ تحلیلیہ
20:10بلاہ بنت محمد التویجری یہ بھی خاتون سکولر ہیں
20:13انہوں نے جو ایک آٹیکل لکھا تھا
20:14یہ مجلت الاندل اس کے اندر جو ہے یہ آٹیکل چھپا ہے
20:18امام مقہول شامی رائی مولا کے جو شاگرد ہیں
20:20تقریباً بتیس شاگردوں کا ذکر کیا ہے
20:22طبقات بھی ان کے بیان کی ہیں جائد علیہ
20:24بڑے امدہ انداز میں ذکر کیا ان کے تلامتہ کا
20:26اللہ تعالیٰ سے دعا ہے
20:28کہ اللہ امام مقہول شامی رائی مولا کے دراجات
20:30کو اور بلند فرمائے اور ہمیں آپ کے
20:31فوج و برکات سے حضر وافر عطا فرمائے
20:33با آخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین
Comments