In this captivating video, Noor TV narrates the inspiring and thought-provoking story of Hazrat Muhammad ﷺ and his encounter with the Jinnat. This remarkable incident, mentioned in both the Quran and authentic Hadith, highlights the wisdom, patience, and guidance of our beloved Prophet ﷺ in delivering the message of Islam not only to humans but also to the unseen beings – the Jinn.
Key Highlights of the Video:
What Happened During the Encounter?: The story of how Prophet Muhammad ﷺ preached Islam to the Jinnat and their response.
Quranic References: Verses from Surah Al-Jinn explaining the Jinn’s acknowledgment of Allah’s Oneness.
Lessons from the Incident: How this event reflects the universality of the message of Islam.
Behavior and Nature of Jinnat: Understanding the nature of Jinn and their role in Islamic teachings.
The Prophet’s ﷺ Wisdom: How Prophet Muhammad ﷺ handled this encounter with patience and compassion.
This story is not only spiritually enlightening but also offers valuable lessons about the universal nature of Islam and the importance of patience, wisdom, and reliance on Allah (SWT).
Noor TV emphasizes that the encounter between Hazrat Muhammad ﷺ and the Jinnat serves as a powerful reminder of the Prophet’s ﷺ role as a messenger to all of creation, both seen and unseen.
Watch this video to delve into this extraordinary incident from Seerat-un-Nabi ﷺ and strengthen your understanding of Islamic teachings and the unseen world.
#HazratMuhammadSAW #JinnatKaQissa #SeeratUnNabi #NoorTV #ProphetAndJinn #IslamicStories #QuranicLessons #FaithAndGuidance #StoryOfJinn #ProphetMuhammadTeachings
Key Highlights of the Video:
What Happened During the Encounter?: The story of how Prophet Muhammad ﷺ preached Islam to the Jinnat and their response.
Quranic References: Verses from Surah Al-Jinn explaining the Jinn’s acknowledgment of Allah’s Oneness.
Lessons from the Incident: How this event reflects the universality of the message of Islam.
Behavior and Nature of Jinnat: Understanding the nature of Jinn and their role in Islamic teachings.
The Prophet’s ﷺ Wisdom: How Prophet Muhammad ﷺ handled this encounter with patience and compassion.
This story is not only spiritually enlightening but also offers valuable lessons about the universal nature of Islam and the importance of patience, wisdom, and reliance on Allah (SWT).
Noor TV emphasizes that the encounter between Hazrat Muhammad ﷺ and the Jinnat serves as a powerful reminder of the Prophet’s ﷺ role as a messenger to all of creation, both seen and unseen.
Watch this video to delve into this extraordinary incident from Seerat-un-Nabi ﷺ and strengthen your understanding of Islamic teachings and the unseen world.
#HazratMuhammadSAW #JinnatKaQissa #SeeratUnNabi #NoorTV #ProphetAndJinn #IslamicStories #QuranicLessons #FaithAndGuidance #StoryOfJinn #ProphetMuhammadTeachings
Category
📚
LearningTranscript
00:12AVAILABLE NOW
00:30دور وادی نخلہ کے کنارے ایک ناقابل بیان روشنی کا ظہور ہوا
00:34یہ روشنی کسی معمولی شولے کی نہیں تھی بلکہ ایک مقدس پیغام کی گواہی دے رہی تھی
00:40یہ وہ لمحہ تھا جب جنات کی ایک جماعت اللہ کے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ
00:47وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر قرآن پاک کی تلاوت سنتی ہے
00:51ان کے دلوں کی دنیا بدل جاتی ہے اور وہ اس حقیقت کے سامنے جھک جاتے ہیں جسے نہ انسان
00:57جھٹلا سکا نہ کوئی اور مخلوق
01:00یہ داستان صرف ایمان کی نہیں بلکہ عشق قربانی اور الہی پیغام کی وہ سرگزشت ہے جو وقت کی حدوں
01:08کو پار کر گئی
01:09یقیناً تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں ہم اسی کی حمد و سنا کرتے ہیں اسی سے مدد کے
01:15طلبگار ہیں
01:16میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبود برحق نہیں
01:20ناظرین آج کی ویڈیو جنات سے متعلق دلچسپ اور معلوماتی حقائق پر مبنی ہے
01:26اس ویڈیو میں ہم آپ کو جنات کی تخلیق کے بارے میں بتائیں گے ان کی آقائے دو جہاں حضرت
01:32محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے
01:35ملاقاتوں اور اسلام قبول کرنے کی تاریخی باقیات کا ذکر کریں گے
01:40اس کے ساتھ ساتھ مسجد جن کی تاریخ اور اہمیت پر بھی روشنی ڈالیں گے
01:45اس ویڈیو کے ذریعے آپ کو جنات سے متعلق کچھ ایسے اسلامی حقائق بھی جاننے کو ملیں گے جو آپ
01:50کے علم میں اضافہ کریں گے
01:52ویڈیو انتہائی معلوماتی اور دلچسپ ہے اس لئے اس آخر تک ضرور دیکھیں اور کچھ بھی مصنا کریں
01:57اگر آپ کو یہ ویڈیو پسند آئے تو براہ کرم ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں ویڈیو کو لائک کریں اور
02:02اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کرنا نہ بھولیں
02:04آپ کی قیمتی آرہ کا ہمیں ہمیشہ انتظار رہتا ہے تو کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں
02:10ناظرین کرام اسلامی روایات میں جنات کی روحانی دنیا اور ان کا قرآن پاک سے متاثر ہونا
02:16ایک ایسا دلچسپ اور ایمان افروز موضوع ہے جو ہمیں نہ صرف حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
02:22رسالت کی وسط سے آگاہ کرتا ہے
02:25بلکہ اس حقیقت کی بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ اسلام کی تعلیمات انسانی دنیا تک محدود نہیں بلکہ غیر
02:32مرئی مخلوقات تک بھی پھیل چکی ہیں
02:34یہ باقی ہمیں بتاتا ہے کہ جنات جو ایک پوشیدہ مخلوق ہیں اور آگ سے پیدا کیے گئے ہیں
02:39قرآن پاک کے اثر اور حضور علیہ السلام کی تعلیمات سے کس طرح متاثر ہوئے اور اپنے دلوں میں ایمان
02:46کا چراغ روشن کیا
02:47کہا جاتا ہے کہ ایک موقع پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بادی نخلہ میں قیام کیا
02:54اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے اور قرآن پاک کی تلاوت فرما رہے
03:00تھے
03:00اسی وقت کو جنات کا ایک گروہ وہاں سے گزرا اور انہوں نے قرآن پاک کے موجزانہ کلام کو سننا
03:06شروع کیا
03:06وہ اس کے گہرے اثر میں مبتلا ہو گئے اور انہیں اس بات کا احساس ہوا کہ یہ کلام الہی
03:11پیغام ہے
03:12قرآن پاک کی آیات نے ان کے دلوں کو اس طرح مسخر کیا کہ وہ فوراں ایمان لے آئے
03:17جنات کے اس گروہ نے نہ صرف اسلام قبول کیا بلکہ وہ واپس جا کر اپنی قوم کو بھی اسی
03:23حق کی دعوت دینے لگے
03:24یہ واقعہ میں جنات کے ایمان کی گواہی دیتا ہے اور ان کے اسلام کے راستے پر چلنے کا عملی
03:31مظاہرہ بھی ہے
03:32اسلامی تاریخ میں مکہ مکرمہ کے قریب واقعے مسجد جن اس روحانی ملاقات کی یادگار کے طور پر موجود ہے
03:39کہا جاتا ہے کہ اسی جگہ پر جنات نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کی اور
03:45اپنے سوالات کے جوابات حاصل کیے
03:47ان کے سوالات زیادہ تر اسلام کی تعلیمات عبادات اور شریعت کے بارے میں تھے
03:51حضور علیہ السلام نے ان کے سوالات کے جوابات نہایت شفقت اور حکمت سے دیئے جسے وہ بہت متاثر ہوئے
03:58یہ داستان نہ صرف ایمان کی گہرائی کو واضح کرتی ہے بلکہ ہمیں حضور علیہ السلام کے اخلاق اور ان
04:05کی محبت کی ایک جھلک بھی دکھاتی ہے
04:08آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شخصیت اور ان کی تعلیمات کا یہ عالم تھا
04:12کہ نہ صرف انسان بلکہ جنات بھی ان سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے
04:16قرآن پاک میں سور جن میں بھی ان واقعات کا ذکر کیا گیا ہے جو اس بات کی تصدیق کرتا
04:22ہے
04:22کہ جنات نے قرآن کو سنا اور اس کے کلام کی حقانت کو تسلیم کیا
04:27یہ واقعہ مسلمانوں کے عقائد اور روحانی فلسفے میں ایک اہم مقام رکھتا ہے
04:31اور اس سے ہمیں یہ سیکھنوں کو ملتا ہے کہ اسلام کی تعلیمات کا دائرہ وسیع ہے
04:36اور اس میں ہر مخلوق کے لئے ہدایت موجود ہے
04:38اس واقعے سے ہمیں جنات اور انسانوں کے درمیان ایک منفرد تعلق کا بھی پتہ چلتا ہے
04:43جو روحانی دائرے میں اسلام کی وسط اور شمولیت کو واضح کرتا ہے
04:47یہ کہانی آج بھی مسلمانوں کے دلوں میں ایمان کو مضبوط کرنے
04:51قرآن پاک کی عظمت کو سمجھنے
04:53اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کو فروغ دینے کا ذریعہ بنتی ہے
04:59جنات کے ایمان لانے کا یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے
05:02کہ اسلام کی روشنی ہر طرف پھیلانے کا مشن ہر مسلمان کے ذمہ داری ہے
05:07چاہے وہ انسانوں کے درمیان ہو یا جنات کی دنیا میں
05:10ناظرین کرام اسلامی تاریخ میں جنات کی بے شمار ایسی روایات موجود ہیں
05:15جو ان کی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے
05:18گہری محبت، عقیدت اور روحانی تعلق کو ظاہر کرتی ہیں
05:22یہ واقعات حضور علیہ السلام کی عصمت اور تمام مخلوقات پر ان کی رحمت کا عملی مظہر ہیں
05:29ان کہانیوں میں جنات کی جانب سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضری
05:34مسائل کا حل طلب کرنا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات سے
05:39رہنمائی حاصل کرنے کی بے پناہ خواہش نمائی ہے
05:42تاریخ روایت کے مطابق جنات نہ صرف قرآن کے موجزانہ کلام سے متاثر ہوئے
05:47بلکہ وہ اپنی زندگی کے مسائل حل کروانے کے لیے بھی بارگاہ رسالت میں حاضر ہوتے تھے
05:52آپ علیہ السلام نے ان کے معاملات کو نہایت شفقت اور حکمت کے ساتھ حل فرمایا
05:58یہ باقیات اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ اسلام کی رحمت ہر مخلوق کے لیے ہے
06:03چاہے وہ انسان ہو یا جنات
06:05جنات کی جانب سے آپ علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضری
06:08اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق
06:12علم اور انصاف سے بے حد متاثر تھے
06:14ایک موقع پر جنات نے اپنے سفر کے لیے خوراک طلب کی
06:17رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی حاجت کو پورا کیا
06:20اور انہیں ہڈیوں اور گوبر کو ان کی خوراک کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دی
06:25یہ شرط رکھتے ہوئے کہ یہ پاکیزہ اور طیب ہوں
06:27یہ واقعہ نہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رحمت اور شفقت کا آئینہ دار ہے
06:32بلکہ اس بات کو بھی ظاہر کرتا ہے
06:34کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر مخلوق کی ضروریات کا خیال رکھا ہے
06:39جنات کی حضور علیہ السلام سے محبت کا ایک منفرد واقعہ حضرت حامہ کی حاضری ہے
06:45حضرت حامہ جو حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے میں توبہ کرنے والے جن تھے
06:49اور ابلیس کے پڑھ پوتے کے طور پر جانے جاتے تھے
06:52کئی انبیاء اکرام کے صحبت سے فیضی آفتہ تھے
06:55وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے
06:58قرآن پاک سیکھنے کے خواہش ظاہر کی
07:00اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا سلام پیش کیا
07:02رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہایت محبت کے ساتھ
07:06انہیں قرآن کی چند صورتیں سکھائیں
07:08اور آئندہ ملاقات کی تعقید فرمائی
07:10یہ واقعہ جنات کی تعلیمات اسلام سے
07:12محبت اور روحانی وابستگی کی گواہی دیتا ہے
07:15ساتھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت
07:19اور ان کے علم کے بے پایا سمندر کو بھی واضح کرتا ہے
07:22حجرت کے وقت بھی جنات نے اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار کیا
07:26جب آپ علیہ السلام مکہ مکرمہ سے
07:29مدینہ منورہ کی جانب روانہ ہوئے
07:31تو جنات نے قصیدے پڑھے
07:32جن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
07:34اور حضرت عبقر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان و عظمت کو بیان کیا
07:39ان قصیدوں نے عاشق مصطفیٰ کے دلوں کو سکون اور تسلی دی
07:43اور ان کے ایمان کو مزید مضبوط کیا
07:45جنات کی طرف سے اسلام کے دفاع کے واقعات بھی
07:47اسلامی تاریخ کا حصہ ہیں
07:49جنات نے ذکر مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چرچے کیے
07:53اور گستاخان رسول کو ان کے انجام تک پہنچا کر
07:56اسلام کی حقانیت کو دنیا کے سامنے پیش کیا
07:58یہ واقعات جنات کی ایمانی وابستگی
08:00اور ان کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عشق کا اظہار ہیں
08:04یہ تمام واقعات نہ صرف جنات کی محبت اور ایمان کی گواہی دیتے ہیں
08:08بلکہ اس بات کو بھی ظاہر کرتے ہیں
08:10کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت
08:13کسی ایک مخلوق تک محدود نہیں
08:15آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
08:17ہر مخلوق کے لئے مشعل راہ ہیں
08:19اور آپ کی تعلیمات کا اثر
08:21ہر دائرے میں محسوس کیا جاتا ہے
08:23ناظرین کرام حضرت عبد الرحمن بن عافر
08:25رضی اللہ عنہ سے مروی ہے
08:27کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
08:29ولادت با سعادت کے وقت
08:31ایک عجیب منظر دیکھا گیا
08:33جبل ابو قیس اور حجون کے پہاڑوں پر
08:35جننات نے چڑھ کر صدا دی
08:37حجون پہاڑ سے جن نے بلند آواز میں کہا
08:39میں قسم کھاتا ہوں کہ نہ کسی انسانی عورت کو
08:42وہ عزت نصیب ہوئی جو آمنہ زہرہ کو ملی
08:45اور نہ ہی کسی مانے ایسا عظیم اور شان
08:47اور شوکت والا فرزن جنہ
08:48جیسا کہ آمنہ کے گھر میں پیدا ہوا ہے
08:51یہ احمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
08:54تمام قبائل میں سب سے افضل ہیں
08:56ان کی والدہ یہ خود دونوں ہی
08:58قابل عزت و لائق احترام ہیں
09:00اسی دوران جبل ابو قیس پر موجود
09:02ایک اور جن نے مکہ مکرمہ کے رہنے والوں
09:04کو مقاتب کرتے ہوئے کہا
09:06اے اہلِ بطخہ حقیقت کو سمجھنے میں غلطی نہ کرو
09:09اپنی روشن اقل سے
09:11اس سچائی کو تسلیم کر لو
09:12کہ قبیلہ ابنو زہرہ جو تمہاری ہی نسل سے ہے
09:15ان میں نمازی میں اور ناحال میں
09:18ایسی کوئی خاتون ہے جس نے
09:19نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
09:22جیسے پاکیزہ اور
09:23اعلی صفات والے فرزند کو جنم دیا ہو
09:26یہ صدا اس بات کی گواہ تھی
09:28کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
09:30کی ولادت نہ صرف زمین پر
09:32بلکہ جننات کی دنیا میں بھی
09:34ایک غیر معمولی اور عظیم الشان واقعہ تھی
09:37یہ جننات کے جذبات اور عقیدت کا اظہار تھا
09:40جو ہر مقلوق کو سرور کائنات
09:42صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت
09:44اور ان کی برطری کا اعتراف کرنے پر
09:46مجبور کر رہا تھا
09:47ناظرین اکرام حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
09:50علل اعلان دعوت اسلام پر
09:53رو سائے کفر بپھر گئے
09:55اور آپ کو جادوگر اور جھوٹا
09:57مشہور کرنے کا منصوبہ بنا لیا
09:58البتہ جب اپنے ساتھی ولید سے رائے لی
10:01تو اس نے اظہار رائے کے لیے
10:03تین دن کی محلت مانگی اور گھر چلایا
10:05اس کے گھر سونے چاندی کے دو بدھ تھے
10:07جنہیں اس نے جوہرات و قیمتی لباس
10:09پہنا کر کرسیوں پر بٹھا رکھا تھا
10:11اس نے مسلسل تین دن ان کی خوب عبادت
10:13کرنے کے بعد نہایت ہی گڑ گڑا کر
10:15اپنے بدھ سے کہا میری بے لوس
10:17عبادت کا واسطہ مجھے بتاؤ
10:19کہ محمد سچے ہیں یا نہیں
10:20اسی وقت ایک شیطان جن ایک بدھ کے اندر آ گیا
10:23بدھ حرکت میں آیا اور بولا
10:25نبی محمد نہیں
10:26ہرگز ان کی تحضیق مت کرنا
10:28ولید خوش ہو گیا اور اس نے دوسرے کافروں
10:31کو بھی بلا کر بٹھ کی بکواس سنائی
10:33پھر ان بدبختوں نے بڑے مجمع کا احتمام کر کے
10:35سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
10:38کو بھی بلوایا
10:38اپنے بٹھ کو مختلف رنگوں کا لباس پہنایا
10:41رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
10:44حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ
10:46کو ساتھ لے کر تشریف لائے
10:47کفار نے بٹھ کو سجدہ کیا
10:49پھر ولید نے بٹھ سے کہا
10:50میرے معبود
10:51تو محمد کے بارے میں اظہار خیال کر
10:53بٹھ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
10:56کے بارے میں نازیبہ باتیں کی
10:57آپ وہاں سے اٹھ کر تشریف لے گئے
10:59راستے میں سبز لباس میں ملبوس
11:01ایک سبار ملا
11:02اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار تھی
11:04جس سے خون ٹپک رہا تھا
11:05سبار گھوڑے سے اترا
11:07اور نہایت عدب سے سلام کیا
11:09اور بتایا
11:10میرا نام محین بن ابحر ہے
11:12کوہ تور پر میرا گھر ہے
11:14میں نے حضرت نو علیہ السلام کے
11:16زمانے میں اسلام قبول کیا تھا
11:17میں سفر میں تھا
11:18بطن واپسی ہوئی تو گھر پہنچنے پر
11:20زوجہ نے روتے ہوئے بتایا
11:22کہ مصفر نامی جن نے
11:23آپ کی گستاخی کی ہے
11:25میں اسی وقت اس کے تاقب میں نکلا
11:26صفہ و مروہ کے درمیان
11:28وہ مجھے مل ہی گیا
11:29میں نے وہیں اس کا سر اتار دیا
11:31یہ رہا اس کا سر
11:32اور وہ خدگدے کی صورت میں
11:34مہم مرہ پڑا ہے
11:35رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
11:37اس کی باتیں سن کر خوش ہوئے
11:39نیز جب اگلے دن
11:40کفار پھر مجمع میں
11:41اسی حبل نامی بت کو
11:42زیورات و ملبوسات سے سجا کر
11:44اور اسے سجدہ کر کے بولے
11:46کہ محمد کو برا بھلا کہے
11:48تو مہین نامی یہی جن
11:49حضور کی جادت سے اس بت میں جا کر بولا
11:51اے اہل مکہ
11:52حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
11:55سچے ہیں
11:55ان کی باتیں اور دین سچا ہے
11:57یہ تمہیں باطل کی جگہ دین حق
11:59اپنانے کی دعوت دیتے ہیں
12:00جبکہ تم اور تمہارے بت
12:02باطل و جھوٹے ہو
12:03خود گمراہ اور دوسروں کو
12:05گمراہ کرنے والے ہو
12:06اگر تم محمد عربی پر ایمان
12:07لا کر ان کی تصدیق نہ کرو
12:09تو روز قیامت و زخ
12:10تمہارا دائمی ٹھکانہ ہوگا
12:12لہٰذا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
12:15پر ایمان لے آؤ
12:16جو اللہ کے رسول اور خلق خدا میں
12:18سب سے افضل ہیں
12:18اپنے ہی بت سے یہ باتیں سن کر
12:20ایک طرف تو کفار آگ بگولا ہوئے
12:23بلکہ ابو جہل نے اسے اٹھا کر
12:25زمین پر پٹک دیا
12:25اور پھر اسے نظر آتش کر دیا
12:27جبکہ دوسری طرف
12:29رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
12:31نہایت خوش ہوئے
12:32اور آپ نے اس جن کا نام
12:33عبداللہ رکھ دیا
12:35ناظرین اکرام جنات کے
12:36قرآن سننے اور ایمان لانے کا ذکر
12:38احادیث صحیحہ میں تفصیل سے ملتا ہے
12:40جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
12:42کی بیعثت ہوئی
12:43تو جنات کو آسمانی خبر سننے سے روک دیا گیا
12:46پہلے وہ آسمان کی خبریں سن کر
12:48اپنی دنیا میں پہنچاتے تھے
12:50لیکن اب اگر کوئی جن خبر سننے کی کوشش کرتا
12:52تو شہاب ساقب اسے بھگا دیتے
12:54یہ صورتحال جنات کے لیے حیرت کا باعث بنی
12:57اور وہ جاننا چاہتے تھے
12:58کہ زمین پر ایسا کونسا واقعہ پیش آیا ہے
13:01جس کی وجہ سے یہ تبدیلی آئی
13:02چنانچہ جنات کے مختلف گروہ تحقیق کے لیے
13:05دنیا کے مختلف خطوں میں پھیل گئے
13:07ان میں سے ایک گروہ حجاز کی سرزمین پر پہنچا
13:09اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
13:12بطن نخلہ کے مقام پر
13:14چند صحابہ کے ساتھ موجود تھے
13:16اور سقوک اکاز کی طرف جانے کا ارادہ رکھتے تھے
13:18جو ایک مشہور بازار تھا
13:20عرب کے لوگ خاص مواقع پر یہاں تجارتی
13:22اور سماجی سرگرمیوں کے لیے جمع ہوتے تھے
13:24جیسے آج کل نمائشیں منقت کی جاتی ہیں
13:26بطن نخلہ میں
13:28آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
13:29صبح کی نماز پڑھ رہے تھے
13:31کہ جنات کا یہ گروہ وہاں پہنچا
13:33جب انہوں نے قرآن کی تلاوت سنی
13:35تو ایک دوسرے سے کہا
13:36قاموش ہو جاؤ اور غور سے سنو
13:37قرآن سننے کے بعد وہ کہنے لگے
13:39یہی وہ چیز ہے جو ہماری اور آسمانی خبروں کے درمیان حائل ہوئی ہے
13:42یہ جنات قرآن کی ہدایت سے متاثر ہو کر
13:45ایمان لائے اور اپنی قوم میں واپس جا کر
13:47انہیں بھی اسلام کی دعوت دی
13:49کچھ روایات میں ذکر ہے کہ ان میں سے نو جنات تھے
13:51جبکہ بعض کے مطابق ساتھ
13:53ان کی دعوت پر تین سو جنات اسلام قبول کرنے کے لیے
13:56نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے
14:00اللہ تعالیٰ نے سورہ جن کے ذریعے
14:01نبی اکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو
14:03اس واقعے کی خبر دی
14:05جس میں جنات کے ایمان لانے کا ذکر موجود ہے
14:07انہوں نے قرآن کو عجیب و غریب کتاب قرار دیا
14:10جو سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتی ہے
14:12اور کہا کہ ہم اس پر ایمان لائے
14:14اور اب ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے
14:17یہ واقعات نہ صرف جنات کی ہدایت کو ظاہر کرتے ہیں
14:20بلکہ قرآن کی عالمگیر تاثیر
14:23اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کی حقانیت کو بھی واضح کرتے ہیں
14:28ناظرین اکرام مسجد جن کا واقعہ
14:30اسلامی تاریخ کا ایک انتہائی اہم اور روحانی پہلو پیش کرتا ہے
14:33یہ مسجد سعودی عرب کے شہر مکہ مکرمہ میں واقع ہے
14:37اور جنت المعلا کے قبرستان کے قریب موجود ہے
14:40مسجد جن اسلامی تاریخ کے ان مساجد میں شامل ہے
14:43جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اہم واقعہ پیش کیا
14:47یہ وہ جگہ ہے جہاں جنات نے اسلام قبول کیا
14:50اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی
14:54حضرت عبداللہ بن مسجد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں
14:57ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
15:01صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرمایا
15:04جو شخص جنات کو دیکھنا چاہتا ہے وہ میرے ساتھ آئے
15:07ان کے مطابق صرف وہی اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ گئے
15:12جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنت المعلا کے قریب ایک مقام پر پہنچے
15:17تو آپ نے زمین پر ایک دائرہ کھینچا
15:19اور حضرت عبداللہ بن مسجد رضی اللہ عنہ کو ہدایت کی
15:22کہ وہ اس دائرے کے اندر آئیں
15:23کہ وہ اس دائرے کے اندر رہیں
15:25اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھے اور قرآن مجید کی تلاوت شروع کی
15:30جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن مجید کی تلاوت شروع کی
15:34جنات بڑی تعداد میں فوجوں کی صورت میں وہاں جمع ہونے لگے
15:38ان کی تعداد اتنی زیادہ تھی
15:54ایک اور روایت کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
15:58کہ جنات میں سے ایک پکارنے والا آیا
16:01اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی قوم کے پاس لے گیا
16:05آپ نے انہیں قرآن مجید کی تلاوت سنائی
16:07اور اللہ کی عبادت کا حکم دیا
16:09جنات نے آپ علیہ السلام سے رزق کے متعلق سوال کیا
16:13جس پر آپ نے فرمایا
16:14کہ ان کے لئے ہر وہ ہڈی جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو
16:17گوش سے بھری ہوئی ہوگی
16:19اور یہ ان کی خوراک ہوگی
16:20یہ واقعہ اس جگہ پیش آیا
16:22جہاں آج مسجد جن قائم ہے
16:24اس مقام کو بیعت کی مسجد بھی کہا جاتا ہے
16:27کیونکہ یہاں جنات نے
16:28نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی
16:32اور اسلام قبول کیا
16:33یہ مسجد تاریخی اہمیت کی حامل ہے
16:35اور مسلمانوں کے لئے ایک خاص روحانی مقام رکھتی ہے
16:38کہا جاتا ہے کہ مسجد جن کو پہلی مرتبہ
16:41سترہ سو عیسویں کے قریب ایک زیر زمین
16:43مسجد کے طور پر تعمیر کیا گیا
16:45تاکہ اس تاریخی مقام کو محفوظ رکھا جا سکے
16:48بعد میں مختلف ادوار میں اس کی تذین و آرائش کی گئی
16:51اور آخر کار شاہ فہد بن عبدالعزیز کے دور میں
16:54اس مسجد کو جدید طرز پر تعمیر کیا گیا
16:56مسجد میں جدید سہولیات جیسے وضوح کے لئے پانی
16:59ائر کنڈیشنر پنکھے اور کشادہ نماز کے لئے قالین موجود ہیں
17:05آج مسجد جن حج رمرے کے دوران
17:07زیارت کے لئے آنے والے مسلمانوں کے لئے ایک خاص مقام ہے
17:10لوگ یہاں آ کر اس مقام کی روحانیت کو محسوس کرتے ہیں
17:13جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
17:16جنات کو اسلام کی دعوت دی تھی
17:18مسجد جن کے حوالے سے یہ بھی تصور کیا جاتا ہے
17:21کہ پاکزہ جنات انسانوں کی طرح یہاں آ کر نماز عدا کرتے ہیں
17:25اور اللہ کی عبادت کرتے ہیں
17:27اسلامی تعلیمات کے مطابق جنات کو بھی انسانوں کی طرح
17:30عبادت کرنے اور مسجد میں نماز پڑھنے کے برابر حقوق حاصل ہیں
17:34یہ مسجد نہ صرف ایک یادگار ہے
17:36بلکہ اسلامی تاریخ کا ایک باب ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے
17:39کہ اللہ کے دین کی دعوت ہر مخلوق کے لئے ہے
17:41چاہے وہ انسان ہو یہ جن
17:43ناظرین اکرام روایت حدیث میں
17:45لیلت الجن کا واقعہ بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے
17:49جس میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ
17:51نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمرا تھے
17:55یہ واقعہ اس بات کی واضح دلیل ہے
17:57کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
17:59جنات کو تبلیغ دین کے لئے
18:01مقام قرمہ کے قریب ایک جنگل میں
18:03قرآن مجید پڑھٹ کر سنایا
18:05اور ان کے سوالات کے جوابات عطا فرمائے
18:07علامہ خفاجی کے مطابق
18:09معتبر حدیث سے یہ بات ثابت ہے
18:11کہ جنات کے وفود چھے مرتبہ
18:13حضور علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے
18:16ہر بار ان سے گفتگو ہوئی
18:18اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
18:20نے انہیں قرآن مجید سنایا
18:22حضرت عبداللہ بن مسعود
18:24زبیر بن عوام
18:25عبداللہ بن عباز
18:26حسن بسری
18:27سعید بن جبیر
18:28زر بن حبیش
18:29مجاہد اور اکرمہ جیسے
18:31معتبر رابیوں کے مطابق
18:32جنات کی پہلی حاضری
18:34بطن نخلہ کے مقام پر ہوئی
18:36ابن عساق
18:37ابو نعیم صفحانی
18:38اور واقدی کا بیان ہے
18:39کہ یہ واقعہ
18:40اس وقت پیش آیا
18:41جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
18:43طائف کے واقعے کے بعد
18:45مکہ معظمہ
18:46واپس تشریف لارہے تھے
18:47راستے میں آپ نے
18:48نخلہ کے مقام پر قیام فرمایا
18:50اور نماز عشاء
18:51فجر
18:52یا تحجد کے دوران
18:53قرآن کی تلاوت فرما رہے تھے
18:55جنات کے ایک گروہ کا
18:56وہاں سے گزر ہوا
18:57اور وہ آپ
18:58صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
18:59کی تلاوت سن کر رک گئے
19:01تمام روایت
19:02اس بات پر متفق ہیں
19:03کہ
19:03اس موقع پر جنات
19:04نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
19:07کے سامنے
19:07حاضر نہیں ہوئے تھے
19:08اور آپ
19:09علیہ السلام
19:09نے
19:10انہیں دیکھ
19:11یا محسوس نہیں فرمایا
19:12بعد میں
19:12اللہ تعالیٰ نے
19:13وحی کے ذریعے
19:14آپ علیہ السلام
19:15کو ان کے آنے
19:16اور قرآن سن کر
19:17ایمان لانے کی خبر دی
19:18یہ واقعہ
19:19قرآن کی
19:19عالمگیر تاثیر
19:20اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
19:22کی نبوت کی
19:23عظمت کو
19:24نمائع کرتا ہے
19:25جس نے
19:26جنات جیسی مقلوق
19:27کو بھی
19:27ہدایت کے راستے پر
19:28لانے کا
19:29ذریعہ بنایا
19:29ناظرین اکرام
19:30حضرت سلیمان علیہ السلام
19:31کو
19:32اللہ تعالیٰ نے
19:32جنات پر
19:33مکمل اختیار دیا تھا
19:34اور قرآن کریم میں
19:35ان کے اس اختیار
19:36کا ذکر
19:37کئی جگہ ملتا ہے
19:38جیسے
19:38سورہ نمل میں
19:39کہا گیا
19:39اور سلیمان
19:40کے لیے
19:41ہوائیں
19:41مسخر کر دی گئیں
19:42اور جنات
19:43کو ان کے حکم
19:44کے تحت
19:44کر دیا گیا
19:45جنات ان کے حکم
19:46کے مطابق
19:47قلعے
19:47امارتیں
19:48حوز
19:48اور دیگر
19:48عظیم و شان
19:49امارتیں
19:50تعمیر کرتے تھے
19:51یہ کام
19:51حضرت سلیمان علیہ السلام
19:52کی عظمت
19:53کو ظاہر کرتا ہے
19:54اور ان کے دور میں
19:55جنات کی شرکت
19:56کو بھی
19:56ایک مشہور
19:57واقعہ
19:57بیان کیا جاتا ہے
19:58کہ حضرت سلیمان
19:59علیہ السلام کے
19:59دربار میں
20:00بلکیس کا تخت
20:01لانے کا
20:01معاملہ پیش آیا
20:02اس موقع پر
20:03ایک طاقتور جن
20:04نے کہا
20:04کہ وہ اسے
20:05پلک جھپکنے
20:06سے پہلے
20:06لا سکتا ہے
20:07لیکن ایک انسان
20:08جسے اللہ نے
20:09علم دیا تھا
20:09اس نے بھی
20:10اس سے کم وقت میں
20:11لاکر پیش کر دیا
20:12یہ واقعہ
20:13اس بات کو
20:13ظاہر کرتا ہے
20:14کہ جنات باوجود
20:15اپنی زبردست طاقت کے
20:16علم کی برطری
20:17کے سامنے
20:18محدود ہیں
20:18حضرت سلیمان
20:19علیہ السلام کی
20:19وفات کا
20:20ایک اور
20:20مشہور واقعہ ہے
20:21کہ جب آپ کا
20:22انتقال ہوا
20:22تو آپ
20:23اسا کے سہارے
20:24کھڑے تھے
20:24اور جنات
20:25یہ سمجھتے رہے
20:25کہ وہ زندہ ہیں
20:26وہ مسلسل
20:27کام کرتے رہے
20:28یہاں تک
20:28کہ ایک دیمت
20:29نے اسا کو کھا لیا
20:30اور حضرت سلیمان
20:31علیہ السلام کی
20:32لاش گر پڑی
20:33تب جنات کو
20:34معلوم ہوا
20:34کہ وہ
20:34انسان کی
20:35موت کا
20:36علم بھی نہیں
20:36رکھتے
20:37یہ واقعہ
20:38جنات کی
20:38محدودیت
20:39اور انسان کی
20:40عظمت
20:40کو ظاہر کرتا ہے
20:41ناظرین کرام
20:42یہاں جنات
20:43کے قبول
20:43اسلام کا
20:44ایک دلچسپ
20:45واقعہ پیش ہے
20:45جو حضرت عمر
20:46فاروق
20:47رضی اللہ عنہ
20:47کی مجلس میں
20:48پیش آیا
20:48ایک دن حضرت عمر
20:50رضی اللہ عنہ
20:50بیٹھے ہوئے تھے
20:51کہ ایک شخص
20:52کا وہاں سے
20:52گزر ہوا
20:53کسی نے پوچھا
20:54اے امیر المومنین
20:55کیا آپ
20:56اس شخص
20:56کو پہچانتے ہیں
20:57حضرت عمر
20:58رضی اللہ عنہ
20:58نے فرمایا
20:59یہ کون ہے
20:59لوگوں نے
21:00جواب دیا
21:01یہ حضرت
21:01سواد بن قارب
21:02رضی اللہ عنہ
21:03ہیں
21:03جنہیں
21:04ایک جن نے
21:05نبی کرم
21:05صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
21:07کی بیست کی
21:08خبر دی تھی
21:08حضرت عمر
21:09رضی اللہ عنہ
21:10نے انہیں بلایا
21:11اور پوچھا
21:11کہ تم
21:12سواد بن قارب ہو
21:13انہوں نے
21:14اس بات میں
21:14جواب دیا
21:15حضرت عمر
21:16نے فرمایا
21:16تم جاہلیت
21:17کے زمانے میں
21:18کہانت کا
21:19کام کرتے تھے
21:20یہ سنکہ
21:20حضرت سواد
21:21رضی اللہ عنہ
21:22کو قصہ آ گیا
21:23اور انہوں نے
21:23کہا
21:24امیر المومنین
21:25جب سے میں
21:25مسلمان ہوا ہوں
21:26کسی نے
21:27مجھ سے
21:27ایسی بات نہیں کی
21:28حضرت عمر
21:28رضی اللہ عنہ
21:29نے فرمایا
21:30سبحان اللہ
21:30ہم بھی تو
21:31جاہلیت میں
21:32شک کرتے تھے
21:32جو تمہاری
21:33کہانت سے
21:34کہیں زیادہ
21:34برا تھا
21:35اب بتاؤ
21:35تمہارے پاس
21:36آنے والے جن
21:37نے
21:37نبی کریم
21:38صلی اللہ علیہ
21:38علیہ وآلہ وسلم
21:39کی بیست کی
21:40خبر کیسے دی
21:40حضرت سواد
21:41رضی اللہ عنہ
21:42نے واقعہ
21:43بیان کیا
21:43ایک رات میں
21:44سو رہا تھا
21:45کہ بیداری
21:46اور نیند کے
21:46درمیان حالت میں
21:47ایک جن آیا
21:48اور مجھے
21:48پاؤں سے ہلایا
21:49اس نے کہا
21:50اے سواد بن قارب
21:51اٹھو اور سنو
21:52قریش کی شاق
21:53بنی لووی بن غالب
21:55میں ایک رسول
21:55مبوس ہوئے ہیں
21:56جو اللہ کی عبادت
21:58اور اس کی توحید
21:58کی دعوت دیتے ہیں
21:59تین راتوں تک
22:00وہ جناتا رہا
22:01اور یہی بات
22:02دہراتا رہا
22:03آخر کار
22:04میں نے اپنی
22:04اونٹنی تیار کی
22:05اور مدینہ روانہ
22:07ہو گیا
22:07وہاں نبی کریم
22:08صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
22:09کو صحابہ کے ساتھ پایا
22:10اور قریب جا کر
22:12عرص کیا
22:12اے اللہ کے رسول
22:13میں گواہی دیتا ہوں
22:14کہ اللہ کے سوا
22:15کوئی معبود نہیں
22:16اور آپ
22:17صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
22:19اللہ کے رسول ہیں
22:20میں نے
22:21یہ اشعار پڑھے
22:22رات کے آخر حصے میں
22:23ایک جن میرے پاس آیا
22:25تین راتوں تک
22:26مجھے جگاتا رہا
22:27وہ کہتا تھا
22:28ایک رسول
22:29مبوس ہوا ہے
22:29جو قریب کے قبیلے سے ہے
22:31میں نے اپنی سواری
22:32تیار کی
22:32اور سفر شروع کیا
22:33یہاں تک کہ
22:34آپ کے پاس پہنچا
22:35اے زمین کے
22:36سب سے بہتر انسان
22:37ہمیں
22:38ان عمال کا حکم دیں
22:39جو اللہ کی طرف سے
22:40آپ پر نازل ہوئے ہیں
22:41ہم انہیں قبول کریں گے
22:43چاہے ان کی سختی سے
22:44ہمارے بال سفید ہو جائیں
22:46یہ سن کر
22:46نبی اکرم
22:47صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
22:49اور صحابہ اکرام
22:50بہت ہوش ہوئے
22:51حضرت مر رضی اللہ عنہ نے کہا
22:52میری خواہش تھی
22:53کہ تم سے یہ قصہ سنو
22:54اب کیا وہ جن
22:55تمہارے پاس آتا ہے
22:56حضرت سواد رضی اللہ عنہ نے جواب دیا
22:58جب سے میں نے
22:59قرآن پڑھنا شروع کیا ہے
23:00وہ نہیں آیا
23:01اللہ کی کتاب
23:03اس کا بہترین نعم البدل ہے
23:04یہ واقعات
23:05اس بات کی گواہی دیتے ہیں
23:06کہ قرآن مجید
23:07نہ صرف انسانوں
23:08بلکہ جنات جیسی پوشیدہ
23:10مخلوقات کو بھی
23:10ہدایت اور سکون فراہم کرتا ہے
23:12قرآن کی تلاوت کی تاثیر سے
23:14جنات کے دل بدل گئے
23:15اور وہ ایمان لے آئے
23:17جس سے ظاہر ہوتا ہے
23:18کہ سچائی اور ہدایت کے کلمات
23:20دلوں کو جیتنے کی
23:21بے پناہ قوت رکھتے ہیں
23:22یہ واقعات ہمیں
23:23حضور علیہ السلام کی
23:24بے پناہ رحمت اللی العالمینی
23:27کا احساس دلاتے ہیں
23:28آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
23:30نے
23:30اپنی تعلیمات اور اخلاق کے ذریعے
23:33نہ صرف انسانوں
23:34بلکہ جنات کے دلوں کو بھی
23:35متاثر کیا
23:36یہ واقعات ہمیں
23:37نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
23:38کے بلند اخلاق اور تعلیمات
23:40کو اپنانے کی ترغیب دیتے ہیں
23:42تاکہ ہم اپنے کردار سے
23:43دوسروں کو متاثر کر سکیں
23:45اس کے ساتھ ساتھی کہانیہ میں
23:46جنات کے وجود
23:47اور اسلامی عقائد میں
23:49ان کی حیثیت کے بارے میں
23:50متوازن اور درست فہم
23:52فراہم کرتی ہے
23:52اسلام کی تعلیمات
23:54ہر مخلوق کے لیے
23:55رحمت کا باعث ہیں
23:56اور یہ دین
23:57انسانوں کے ساتھ ساتھ
23:58دیگر مخلوقات کو بھی
23:59اپنی وسط میں شامل کرتا ہے
24:01ہمیں چاہیے کہ
24:02قرآن مجید کی تلاوت کو
24:03اپنی زندگی کا حصہ بنائیں
24:05کیونکہ یہ نہ صرف جنات
24:07بلکہ ہمیں بھی شر سے بچانے
24:08اور اللہ کی حفاظت
24:10کے دائرے میں رکھنے کا ذریعہ ہے
24:11یہ داستان ہمیں یاد دلاتی ہے
24:13کہ ایمان کی مضبوطی
24:14اور قرآن کی ہدایت ہی
24:16حقیقی سکون
24:17اور کامیابی کی زمانت ہے
24:18ہمیں اپنے عمال میں
24:19ان تعلیمات کو شامل کرتے ہوئے
24:21دوسروں کو بھی
24:22اس روشنی سے
24:23مستفید کرنے کی کوشش کرنی چاہیے
24:25یہ سبق ہماری زندگیوں کو
24:26با مقصد بنانے
24:27اور ہمیں اللہ کے قریب کرنے کا
24:29ذریعہ بن سکتے ہیں
24:30اسلام میں یہ تعلیم دی جاتی ہے
24:32کہ مومنوں کو
24:33جنات کے شر
24:34اور فطروں سے
24:35اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے
24:36قرآن مجید کی مخصوص آیات
24:39جیسے سور فلق
24:40اور سور ناس کی تلاوت کرنا
24:41ایک طاقت و روحانی تحفظ
24:43کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے
24:44ان آیات کے ذریعے
24:46انسان جنات کے منفی اثرات
24:47سے محفوظ رہنے کی
24:48دعا کرتا ہے
24:49مسلمانوں کو نماز
24:51قرآن کی تلاوت
24:52اور اللہ کے ذکر کے ذریعے
24:54اپنے تعلق کو
24:55مضبوط رکھنے کی
24:55ترغیب دی جاتی ہے
24:57یہ عمل نہ صرف
24:58روحانی سکون کا باعث بنتا ہے
24:59بلکہ جنات کے اثرات سے
25:01بچنے کے لیے
25:01ایک روحانی دفاع بھی
25:02فراہم کرتا ہے
25:03جنات اسلامی کائنات
25:05کا ایک لازمی حصہ ہے
25:06لیکن مسلمانوں کے لیے
25:08ضروری ہے
25:08کہ وہ اپنی دنیاوی زندگی
25:10اور ان کے کردار کے بارے میں
25:11ایک متوازن تفہیم قائم کریں
25:13ناظرین یہ تھی
25:14ہماری آج کی ویڈیو
25:15ہم امید کرتے ہیں
25:16کہ آپ کو ہماری
25:17آج کی یہ ویڈیو
25:18ضرور پسند آئی ہوگی
25:19اگر آپ کو
25:20ہماری آج کی یہ ویڈیو
25:21پسند آئی ہے
25:22تو براہ کرم
25:22ہماری چینل کو
25:23سبسکرائب کریں
25:24تاکہ آپ ہماری
25:25آنے والی دلچسپ
25:26اور معلوماتی
25:27ویڈیوز سے
25:38ہماری ویڈیوز کو
25:39لائک کرنا نہ بھولیں
25:40کیونکہ آپ کی پسندی درائے
25:41ہمارے لئے بہت قیمتی ہے
25:42آپ سے درخواست ہے
25:44کہ کمنٹس میں
25:44اپنی قیمتی رائے کا
25:45اظہار ضرور کریں
25:46تاکہ ہم
25:47اپنے مواد کو
25:47اور بہتر بنا سکیں
25:48ہم آپ کے فیڈ بیک
25:50کا خیر مقدم کرتے ہیں
25:51اور آپ کے سوالات
25:52یا تجاویز کا بھی
25:53جوش و خروش سے
25:54انتظار کرتے ہیں
25:55آپ کے تعابون کا شکریہ
25:57ہم امید کرتے ہیں
25:58کہ آپ ہمارے ساتھ
25:59اسی طرح جڑے رہیں گے
26:00اللہ تعالی ہمیں
26:01اور آپ کو
26:01ہدایت عطا فرمائے
26:02آمین
Comments