Skip to playerSkip to main content
In this mind-blowing video, Noor TV investigates the shocking claim that NASA has found Allah’s Arsh (Divine Throne) and aired its video. This raises a profound question: Can modern science ever reach the Divine Throne of Allah? Or is this a misinterpretation of celestial discoveries?
Using authentic Quranic references and Hadith, this video explores:
Key Highlights of the Video:
What is Allah’s Arsh?: Understanding the concept of Arsh-e-Ilahi in Islam.
NASA’s Discovery Explained: Analyzing recent astronomical findings and whether they relate to Allah’s Arsh.
Quran and Science: How the Holy Quran describes the universe in ways modern science is only beginning to understand.
The Reality Behind Viral News: Investigating whether this claim is fact or fiction and what Muslims should believe.
Spiritual Lessons for Believers: How to strengthen faith in Allah’s greatness beyond what science can prove.
This video provides a balanced and well-researched approach, comparing scientific discoveries with Islamic beliefs to help viewers distinguish between truth and misinformation.
Noor TV reminds believers that Allah’s knowledge is infinite, and no human technology can reach His Throne. Instead of seeking proof through science, we should strengthen our faith and connection with Allah through prayer, reflection, and understanding of the Quran.
Watch this video to uncover the truth behind NASA’s claim, the Islamic concept of Arsh, and what this means for faith and science.
#AllahKaArsh #NASAAndIslam #NoorTV #QuranAndScience #IslamicTeachings #SpiritualAwakening #NASAFoundAllahsArsh #DivineMysteries #IslamicMiracles #FaithBeyondScience

Category

📚
Learning
Transcript
00:02As the Lord, the Lord has the light of the earth, in the name of the Lord, the Lord has
00:05the light of the earth.
00:08Bismillahirrahmanirrahim.
00:10Assalamualaikum warahmatullahi wabarakatuhu.
00:12Natsrhein, kya kubhiyahatna shocha hai,
00:14kis vasiyah kainat mein,
00:16johan hamari nazer bhi tham jathi hai,
00:18kya kuchh chupah ho saktah hai?
00:21Aisiy jaga johan kya kishayen,
00:23roshni kya raftar se sifar kerti hai,
00:25or sitaron ke dremiyan bhe shumar raz chuphe hoi hai.
00:28Malayahe Daino Me Falkyad Daino Nne Eik Gheir Mahmolii Dariyaaf Ki Aya
00:32Jis Nne Sainz Daino Ko Hiret Ma De La Día
00:35Eur Puri Dunia Ko Sosnay Per Mجbور Kar Día
00:38E Kainat Ki Bepana Wosotin Hemayashi Se Insan Ki Aqal
00:41Eur Tujutsus Ko Apari Tarf Metوجeh Kar Diayayin
00:44Aasmaren Ketare Hemayashi Hemayashi Hemari Kehani Oka Hissar Rhein
00:47E Siyarun Ki Harakats Ne Hemayashi Sosnayas Koe Mutaasir Ki A
00:50Eur Khla Me Poshy Daarazh Ong Ko Jnanne Ki
00:53جستجو نے انسانیت کو آگے بڑھایا ہے
00:56مگر ہر نئی دریافت
00:57ہمیں مزید حیرت میں ڈال دیتی ہے
00:59اور ہمیں یہ احساس دلاتی ہے
01:01کہ کائنات میں موجود
01:03نشانیاں کتنی عظیم ہیں
01:04حال ہی میں ماہرین فلکیات نے خلا میں
01:07ایک شاندار دریافت کی ہے
01:08ایسا پانی کا زخیرہ جو زمین کے تمام
01:11سمندروں سے 140 کرب گناہ بڑھا ہے
01:13یہ حیرتنگی زخیرہ
01:15ایک آوازار کے قریب واقع ہے
01:16جو ہم سے 12 عرب نوری سال کے فاصلے پر موجود ہے
01:20یہ دریافت سائنس کی دنیا میں
01:21ایک سنگے میل کی حیثیت رکھتی ہے
01:23اور جب اسے مذہبی نکتہ نظر سے دیکھا جائے
01:26تو یہ اللہ کی بے مثال قدرت
01:27کی ایک عظیم نشانی محسوس ہوتی ہے
01:29کہا جاتا ہے کہ یہ پانی
01:31اللہ کے عرش سے جڑا ہو سکتا ہے
01:32لیکن کیا یہ حقیقت ہے
01:35کیا یہ واقعی عرش کا پانی ہے
01:36یا پھر یہ کائنات کی تخلیق کے آغاز سے
01:39موجود ایک قدرتی علامت ہے
01:41یہ سوالات نہ صرف سائنس دانوں کے
01:43بلکہ ہر انسان کے ذہن میں آتے ہیں
01:45آج کی ویڈیو میں ہم ان سوالات کی
01:47جوابات تلاش کرنے کی کوشش کریں گے
01:49تو اس ویڈیو کو آخر تک دیکھنا نہ بھولیں
01:51تاکہ آپ کو مکمل معلومات حاصل ہو سکے
01:53ناظرین خلائی تحقیق کے میدان میں
01:55ناسا اور دیگر خلائی ایجنسیوں نے
01:56حالی دہائیوں میں ایسے انکشاف کیے ہیں
01:59جو نہ صرف سائنسی برادری
02:00بلکہ عام انسانوں کے لئے بھی حیرت کا باعث بنے ہیں
02:03ان دریافتوں میں خلائی میں پانی کی موجودگی
02:05ایک بڑی کامیابی ہے
02:06جو کائنات کی ابتداء اور زندگی کی تشکیل
02:09کے رازوں کو سمجھنے میں
02:10اہم کردار ادا کرتی ہے
02:11ناسا کے ماہرین فلکیات نے
02:13دوہزار گیارہ میں خلائی کے ایک خطے میں
02:15پانی کے بڑے زخار دریافت کی ہیں
02:17جنہیں انٹر گلیکٹک ووٹر ریزر وائرز
02:20کہا جاتا ہے
02:21یہ زخار زمین کے تمام سمندروں سے
02:23ایک سو چالیس کھرب گناہ
02:25زیادہ پانی پر مشتمل ہیں
02:26یہ پانی ایک کبازار کے قریب پائے گیا ہے
02:29جو کہکشاؤں کے مرکز میں موجود
02:31ایک انتہائی روشن اور متحرک خطہ ہے
02:33یہ دریافت خاص کبازار کے قریب ہوئی ہے
02:36جو ہم سے بارہ عرب نوری سال کے فاصلے پر موجود ہے
02:39کبازار دراصل ایک بلیک ہول کے
02:41ارد گرد کی گیس اور دھول کا مجموعہ ہوتا ہے
02:44جو بلیک ہول کے شدید کششی میدان کے سبب
02:47روشنی خارج کرتا ہے
02:49خلا میں موجود گیس اور دھوئے کے بادل
02:51جنہیں انٹرسٹیلر کلاوڈز کہا جاتا ہے
02:54میں پانی کے سال میں پائے گئے ہیں
02:56یہ بادل ایسے خطوں میں ہیں جہاں ستارے پیدا ہوتے ہیں
02:58اور یہ دریافت اس بات کی نشاندہ ہی کرتی ہے
03:01کہ پانی کائنات کی تخلیق کے وقت سے ہی موجود ہے
03:04سائنسدانوں نے ان زخائر میں پانی کے سالموں کو
03:07شناک کرنے کے لیے
03:09اسپیکٹروسکوپی کا استعمال کیا ہے
03:10یہ پانی بخارات کی صورت میں موجود ہے
03:13اور اس کی تشکیل ہائیڈروجن اور اکسیجن کے تام مل سے ہوئی ہے
03:16جو کائنات کی تخلیق کے ابتدائی مراحل کا حصہ تھا
03:19سائنسدانوں کا معنی ہے کہ پانی زندگی کے لیے
03:21بنیادی جوز ہے
03:22اور خلا میں اس کی موجودگی سے یہ امکان بڑھ جاتا ہے
03:25کہ دیگر سیاروں یا کہکشاؤں میں
03:27زندگی موجود ہو سکتی ہے
03:29یہ دریافت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے
03:40پانی کے اس بے انتہام اقدار سے یہ بات واضح ہوتی ہے
03:42کہ کائنات کا ہر انصر غیر معمولی حکمت کے ساتھ ترتیب دیا گیا ہے
03:46ماہرین فلکیات نے ایسا خطہ دریافت کیا ہے
03:49جہاں پانی کے بے پانہ زخائر موجود ہیں
03:51جنہیں انٹر گیلیکٹک ووٹر ریزرو وائر کہا جاتا ہے
03:55یہ زخائر کوازار کے قریب آئے گئے
03:57جو بلیک ہولز کے گرد گیس اور دھول سے بھرپور
03:59ایک روشن خطہ ہے
04:01خلا میں پانی کی موجودگی ظاہر کرتی
04:03کہ کائنات کی تخلیق کے وقت ہی
04:04یہ بنیادی انصر اس کے نظام کا حصہ رہا ہے
04:07یہ دریافت نہ صرف سائنسی دنیا کیلئے حیران کن ہے
04:10بلکہ کائنات کی عظمت اور زندگی کے امکانات کو بھی اوجا کر کرتی ہے
04:14ناظرین اگر اسلامی روایت سے
04:15اللہ کے عرش اور اس کے نیچے موجود پانی کی بات کریں
04:17تو مخلوق میں سب سے عظیم اور بڑی مخلوق
04:20رحمان کا عرش ہے
04:21اللہ تعالی نے عظمت کو عرش کی صفت قرار دیا ہے
04:24اور عرش کی لمبائی چوڑائی
04:25اس کو بنانے والا ہی جانتا ہے
04:27البتہ عرش اللہ تعالی کی مخلوق ہے
04:30جیسے کہ فرمان باری تعالی ہے
04:31سورہ انام میں اللہ تعالی نے فرمایا
04:33یہ ہے اللہ تمہارا پروردگار
04:35جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں
04:37وہی ہر چیز کا خالق ہے
04:39دوستو اللہ تعالی نے خاص طور پر
04:41اپنے آپ کو عرش کا پروردگار بیان کر
04:44کہ اپنی تعریف بھی بیان فرمائی ہے
04:45جیسے کہ قرآن پاک کی سورہ توبہ کی آیت
04:48نمبر 129 میں ارشاد فرمایا
04:50اللہ عرش عظیم کا پروردگار ہے
04:52یہی نہیں اللہ تعالی نے اپنی تعریف میں
04:54عرش کی ملکیت کو بھی بیان کیا ہے
04:56کہ میں ہی اس کا مالک ہوں
04:57اور فرمایا سورہ غافر کی آیت
05:00نمبر 15 میں اللہ تعالی فرماتے ہیں
05:01بلند درجو والا اور عرش والا ہے
05:04اس آیت کی تفسیر میں
05:06ابن کسیر رحمہ اللہ کہتے ہیں
05:07کہ اللہ تعالی عرش عظیم کا مالک ہے
05:09جو کہ تمام مخلوقات سے بلند و بالا ہے
05:11اللہ تعالی نے عرش کا مقام و مرتبہ بڑھانے کے لیے
05:14اسے اپنی نسبت بھی عطا کی
05:16اور سورہ بروج میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا
05:18اللہ عرش والا اور بزرگی والا ہے
05:20دوستو جہاں تک سوال ہے
05:22اللہ تعالی نے عرش کو کب تخلیق کیا
05:23تو یاد رہے اللہ تعالی نے
05:25اسے آسمان اور زمین کی تخلیق سے پہلے پیدا کیا تھا
05:28جیسے کہ سورہ حود میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا
05:30وہی تو ہے
05:31جس نے آسمانوں اور زمین کو
05:33چھے دنوں میں پیدا کیا
05:34اور اس وقت اس کا عرش پانی پر تھا
05:36تاکہ تمہیں آزمائے
05:38کہ تم میں کون اچھے عمل کرتا ہے
05:40آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے
05:42اللہ تعالی موجود تھا
05:44اس سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی
05:45اللہ کا عرش پانی پر تھا
05:47پھر اللہ تعالی نے آسمان اور زمین کو پیدا فرمایا
05:50اور ذکر یعنی لوحے محفوظ میں
05:52ہر چیز لکھ دی
05:53دوستو کہتے ہیں کہ اللہ تعالی نے قلم کو
05:55جس وقت پیدا فرمایا
05:56تو سب سے پہلے
05:57اسے تقدیر لکھنے کا حکم دیا
05:59عرش اس سے بھی پہلے پیدا ہو چکا تھا
06:01رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے
06:04اللہ تعالی نے آسمانوں اور زمین کو تخلیق سے
06:07پچاس ہزار سال قبل
06:08تمام مخلوقات کی تقدیریں لکھ دی تھی
06:11اور اس وقت اللہ تعالی کا عرش پانی پر تھا
06:20بارے میں بتلایا ہے
06:21تاکہ اللہ پر ایمان پختہ ہو
06:23اور یہ بات بھی ذہن میں محکم ہو جائے
06:25کہ اللہ تعالی اپنی مخلوق سے بلند ہے
06:26روایات بتاتی ہیں کہ عرش الہی پورے جہاں پر
06:29قبے کی طرح ہے
06:30نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
06:32عرش کو ایسے ہی بیان کیا
06:34اور فرمایا بے شک اللہ کا عرش آسمانوں کے اوپر ایسے ہے
06:37آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
06:39اپنی انگلیوں کے ساتھ
06:40قبے کی طرح اشارہ فرمایا
06:42دوستو یاد رہے کہ عرش کے پائے اور پہلو بھی ہیں
06:44جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے
06:48لوگ قیامت کے دن مدھوش ہوں گے
06:50اور سب سے پہلے مجھ سے زمین پھٹے گی
06:52لیکن پھر بھی موسیٰ
06:53عرش کا ایک پایا تھامے ہوئے
06:55مجھ سے پہلے کھڑے ہوں گے
06:56اب معلوم نہیں
06:57کہ وہ بھی مدھوش ہوئے تھے
06:59یا پہلے دنیا میں تجلی کے وقت آنے والی
07:01بہوشی کی وجہ سے حساب برابر ہو گیا
07:03اسی حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں
07:05کہ موسیٰ عرش کے پہلو کو پکڑے ہوئے ہوں گے
07:08یہ الفاظ صرف صحیح بخاری شریف میں ہیں
07:10دوستو بیان ہو کہ آسمان اور زمین کی تخلیق سے پہلے
07:14عرش پانی پر تھا
07:15جیسے کہ سورہ حود میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے
07:17اور اس کا عرش پانی پر تھا
07:19اور تخلیق کے بعد سے لے کر اب تک پانی پر ہی ہے
07:22اس حوالے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے
07:25اللہ کا عرش پانی پر ہے
07:27اور اللہ عرش کے اوپر ہے
07:28اس کے لئے تمہارا کوئی عمل پوشیدہ نہیں
07:30دوستو یاد رہے کہ عرش سب سے عالی اور بلند مخلوق ہے
07:33وہ تمام مخلوقات کے لئے چھت بھی ہے
07:35اللہ تعالیٰ نے عرش کو اپنا خصوصی قرب دیا
07:38اس سے بڑھ کر کوئی مخلوق اللہ کے قریب نہیں
07:40اور چونکہ اللہ تعالیٰ پاکیزہ ذات ہے
07:43لہٰذا اس کے قریب پاکیزہ چیز ہی ہو سکتی ہے
07:45اللہ تعالیٰ نے عرش کو پیدا فرما کر
07:48اس اپنے تمام مخلوقات سے امتیازی بلندی عطا فرمائی ہے
07:51ابن کسیر رحمت اللہ علیہ کہتے ہیں
07:53عرش تمام مخلوقات کے لئے چھت ہے
07:55تمام آسمان زمین
07:57ان کے درمیان اور ان کے اندر کی ہر چیز عرش کے نیچے ہے
08:00سب کی سب اللہ تعالیٰ کے اختیار قدرت اور علم میں گھری ہوئی ہیں
08:04اللہ تعالیٰ کے تخمینیں ہر چیز پر درست ثابت ہوتے ہیں
08:07اور وہ ہر چیز کا کارساز ہے
08:09دوستو یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے
08:11کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو بزرگی سے موصوب فرمایا ہے
08:15جیسا کہ ارشاد ہے سورہ بروج میں
08:17اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ بزرگی والے عرش کا مالک ہے
08:20دوستو عرش کی بزرگی کا مطلب یہ ہے
08:22کہ عرش بہت بڑا ہے
08:23اس کی شان بہت عالی ہے
08:25بہتی موزز ہے
08:26اس میں بہت سی خوبیاں ہیں
08:28مخلوقات میں اس سے بڑھ کر کوئی نہیں
08:30اس کا منظر اور شکل و صورت انتہائی لبھانے والی ہے
08:33جیسا کہ فرمانے بار یہ تعالیٰ ہے
08:35سورہ مومنون کی آیت نمبر 116 میں
08:37اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
08:39پس بہت بلند ہے
08:40اللہ وہ سچا بادشاہ ہے
08:42اس کے سوا کوئی معبود نہیں
08:44عزت والے عرش کا پروردگار ہے
08:46دوستو یاد رہیں کہ عرش سب سے وزنی مخلوق ہے
08:49روایت ہے کہ ایک بار نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
08:52سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہ کے پاس
08:55صبح و صویرے فجر کی نماز کے وقت گزرے
08:57تو سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہ
08:59اپنی نماز کی جگہ پر بیٹھی تھی
09:01پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
09:03چاش کے وقت کے بعد واپس آئے
09:05تب بھی سیدہ جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
09:08مہیں بیٹھی تھی
09:08تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
09:11آپ اس وقت سے اسی حالت میں بیٹھی ہیں
09:13جس حالت میں چھوڑ کر گیا تھا
09:15They said, Yes, I have told you,
09:17my heart shall be judged.
09:19They'll be what he said.
09:26Allah is this.
09:27Allah is this.
09:29Allah is this.
09:31Allah is this.
09:34Allah is this.
09:36Islam will give you the name of Allah.
09:39Allah is this.
09:40It's clear that Allah is this.
09:42Allah is this.
09:43Ibrahim Bajori,
09:44رحمت اللہ علیہ عرش کی حیعت
09:46کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس کی حقیقت
09:48کا قطعی علم نہیں ہے اس لئے اس بارے میں
09:49حتمی رائے قائم کرنے سے خاموش رہنا
09:52بہتر ہے اس کی حیعت کے بارے میں
09:53تحقیق کیا ہے کہ عرش گول نہیں ہے
09:55بلکہ وہ گمبد نما ہے جو جنت
09:57کی چھت ہونے کے ساتھ تمام مخلوقات
10:00اور دنیا کے اوپر سائے فگن ہے
10:02اس کے چار ستون ہیں حضرت سیدنا
10:04عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ
10:05ماں فرماتے ہیں ہر میمار
10:07پہلے دیوار بناتا ہے پھر ان پر
10:09چھت ڈالتا ہے لیکن اللہ پاک
10:11نے پہلے چھت بنائی پھر دیوار ہے
10:13کیونکہ اس نے زمین و آسمان
10:15بنانے سے پہلے عرش بنایا پھر
10:17ہوا کو پیدا فرمایا اس کے پر بنائے
10:19ان پروں کی کسرت کو اللہ تعالیٰ
10:21ہی جانتا ہے پھر ہوا کو حکم دیا
10:23کہ وہ پانی کو اٹھائے اللہ تعالیٰ
10:25کا عرش پانی کے اوپر ہے جبکہ
10:27پانی ہوا پر ہے اس کے بعد
10:29اللہ تعالیٰ نے عرش کو اٹھانے والے
10:31فرشتوں کو پیدا فرمایا
10:32اللہ تعالیٰ کو عرش و کرسی کی حاجت نہیں
10:35بے شک وہ ان دونوں کے بنانے سے
10:37پہلے بھی تھا حالانکہ اس وقت
10:38مکان بھی نہ تھا دوستو جہاں تک
10:40سوال ہے کہ زمین و آسمان سے پہلے عرش
10:42کہاں تھا تو ہمارے پیارے نبی حضرت
10:44محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
10:46نے ارشاد فرمایا اللہ پاک نے زمین و
10:48آسمان پیدا کرنے سے پچاس ہزار
10:51سال پہلے ہی مخلوق کی تقدیر
10:53لگ دی تھی اس وقت اللہ کریم
10:55کا عرش پانی پر تھا شرائع حکیم
10:57الامت حضرت مفتی احمد یار خان
10:58نعیمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں
11:00اس پانی سے مراد یہ سمندر کا پانی نہیں
11:02بلکہ عرش آزم کے نیچے قدرتی
11:05پانی ہے جو ہوا پر ہے اور
11:07ہوا اللہ تعالیٰ کی قدرت پر
11:08اس فرمان کا مطلب یہ نہیں کہ عرش پانی
11:10پر رکھا ہوا تھا بلکہ مطلب یہ
11:12کہ اس پانی اور عرش کے درمیان کوئی آر نہ
11:14تھی جیسے ہم کہیں کہ آسمان زمین
11:16پر ہے اس سے معلوم ہو رہا ہے کہ عرش
11:18اور پانی سب سے پہلے پیدا ہوئے
11:20ناظرین اسلامی تعلیمات میں کائنات کی
11:22تخلیق اور اللہ کی قدرت کے مظاہر کا
11:24تفصیل ذکر موجود ہے
11:26عرش اور پانی کا تعلق قرآن
11:28اور حدیث میں بعض طور پر بیان کیا گیا ہے
11:30جو مسلمانوں کے لئے غور و فکر
11:32اور ایمان کو مزید تقویت دیتا ہے
11:34اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اپنی قدرت کی
11:36نشانیاں بیان کرتے ہوئے فرمایا
11:38اور وہی ہے جس نے آسمان اور زمین
11:40کو چھے دنوں میں پیدا کیا
11:42اور اس کا عرش پانی پر تھا
11:44تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم
11:46میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے
11:48سورہ حود آیت ساتھ
11:50یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ
11:52نے کائنات کی تخلیق کے وقت اپنے عرش
11:54کو پانی پر رکھا تھا
11:55علماء نے اس آیت کی مختلف
11:59تفسیریں کی ہیں یہ اللہ کی
12:00عظمت اور اس کی تخلیق کے ابتدا کی طرف اشارہ
12:02ہے یہ اس بات کو واضح
12:04کرتا ہے کہ کائنات کی تخلیق سے پہلے
12:06پانی موجود تھا اور اللہ نے
12:08اپنی قدرت سے ہر چیز کو وجود بخشا
12:10اس آیت میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے
12:12کہ کائنات کی تخلیق کا ایک مقصد
12:14انسانوں کی آزمائش ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے
12:16کہ کون بہترین عامال کرتا ہے
12:18ناظرین آحادیث مبارکہ میں بھی
12:20عرش اور پانی کا ذکر تفصیل میں آیا ہے
12:22حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے
12:24روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
12:27نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے
12:28زمین و آسمان کو پیدا کرنے سے
12:30پچاس ہزار سال پہلے تقدیر کو لکھا
12:32اور اس وقت اس کا عرش پانی پر تھا
12:34صحیح بخاری صحیح مسلم
12:36یہ حدیث اس بات کو واضح کرتی ہے کہ کائنات
12:38کی تخلیق سے پہلے اللہ نے پانی
12:40اور عرش کو وجود بخشا اس سے اللہ کی
12:42ازلی و عبدی قدرت اور
12:44علم پر روشنی پڑتی ہے
12:45ایک اور حدیث میں عرش کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے
12:48فرمایا گیا اللہ کے عرش کو
12:50آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں
12:51اور ہر ایک فرشتہ زمین و آسمان سے بھی بڑھا ہے
12:54ترمیزی
12:55یہ بیان عرش کی عظمت اور اللہ کی بے مثال قدرت کی جانے
12:58بشارہ کرتا ہے جو انسان کی
13:00محدود اقل سے کہیں بلند ہے
13:02علماء کے مطابق پانی کو زمین پر
13:04زندگی کا ذریعہ کہا گیا ہے
13:06اور قرآن میں سے زندگی کی بنیاد
13:08سورہ انبیاء آیت تیس
13:10قرار دیا گیا ہے کہ اللہ تعالی نے
13:12پانی کو کائنات کے ابتدا سے
13:14اپنی تقلیق کے عمل میں شامل رکھا ہے
13:16عرش کو اللہ کی حکمرانی اور قدرت
13:18کی علامت سمجھا جاتا ہے
13:19اور پانی کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ ہے
13:22کہ اللہ تعالی نے اپنے حکمت اور طاقت کے ساتھ
13:24کائنات کے ہرجوس کو ترتیب دیا ہے
13:26جب سائنس خلا میں پانی کے بڑے زخائر
13:28یا کائنات کے رازوں کو دریافت کرتی ہے
13:30تو یہ مسلمانوں کے لئے غور و فکر کا
13:32ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے
13:34یہ دریافتیں قرآن و حدیث کے بیانات کی
13:37عظمت کو مزید واضح کرتی ہیں
13:39اور اللہ کی تقلیق کے رازوں کو
13:40سمجھنے کی ترغیب دیتی ہیں
13:42عرش اور پانی کا ذکر قرآن و حدیث میں
13:44اللہ کی قدرت کی بےمثالیت کو ظاہر کرتا ہے
13:47یہ ہمیں دعوت دیتا ہے
13:48کہ ہم اپنی عقل کا استعمال کرتے ہوئے
13:50اس کی تقلیق پر غور کریں
13:51اور اللہ کی عظمت کو سمجھنے کی کوشش کریں
13:54سائنس کی دریافتیں ان اسلامی حقائق کے
13:56سائنس کی دریافتیں ان اسلامی حقائق کے
13:59قریب جانے کا ایک ذریعہ بن سکتی ہیں
14:00جو پہلے ہی ہمارے ایمان کا حصہ ہیں
14:02اسلامی تعلیمات میں یہ حقیقت واضح ہے
14:05کہ قرآن نہ صرف دینی معاملات میں
14:07رہنمائی فراہم کرتا ہے
14:08بلکہ کائنات کی تقلیق
14:10اس کی ساخت اور اس کے رازوں پر
14:12غور فکر کی دعوت دیتا ہے
14:14قرآن کی متعدد آیات ان حقائق کی
14:16نشاندہ ہی کرتی ہیں جنہیں آج
14:18سائنس دریافت کر رہی ہے
14:19کیا سائنس قرآن کے بیان کرد حقائق کی تصدیق
14:22کر رہی ہے
14:23یہ سوال کئی دہائیوں سے زیر بحث ہے
14:25کہ سائنس جو آج دریافت کر رہی ہے
14:27کیا وہ پہلے ہی قرآن میں موجود ہے
14:29قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے زندگی کی ابتداء
14:31پانی سے کرنے کی بات کہی
14:33اور ہم نے ہر جاندار چیز کو پانی سے پیدا کیا
14:36سورہ انبیاء آیت تیز
14:37سائنسی تحقیق یہ بھی ثابت کرتی ہے
14:40کہ زندگی کے لیے پانی بنیادی جوز ہے
14:42حالیہ دریافتیں جیسے خلام پانی کے بڑے زخائر
14:45اس قرآنی حقیقت کو مزید مضبوط کرتی ہیں
14:47جدید فلکیاتی تحقیقات نے
14:49خلام ایسے پانی کے بڑے زخائر دریافتی ہیں
14:52جو اس قرآنی بیان کے ساتھ
14:53ہم آہنگ نظر آتے ہیں
14:54قرآن میں اللہ نے فرمایا
14:56پھر اس نے آسمان کی طرف توجہ فرمائی
14:58اور اسے سات آسمان بنایا
15:00سورہ بقرہ آیت انتیس
15:02سائنسی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے
15:04کہ کائنات مختلف طبقات
15:06یا سطحوں میں ترتیب دی گئی ہے
15:07جیسے کہہ کشائیں نظام شمسی اور بلیک ہولز
15:10اسلامی سکولرز کا ماننا ہے
15:12کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے
15:13جو تمام زمانوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہے
15:23کرتے ہوئے کہتے ہیں
15:24کہ قرآن میں متعدد ایسے سائنسی حقائق موجود ہیں
15:27جو جدید تحقیق سے مطابقت رکھتے ہیں
15:30خلام پانی کے زخائر کی دریافت کو
15:32وہ اللہ کی تخلیق کی حکمت
15:33اور قرآن کی سچائی کی دلیل سمجھتے ہیں
15:35مولانا مدودین اپنی تفسیروں میں
15:37کائنات کی تخلیق سے متعلق
15:39قرآنی آیات کو بہت گہرائی سے بیان کیا ہے
15:41وہ کہتے ہیں کہ عرش کا پانی پر ہونا
15:43اللہ کی حکمرانی کی وسط
15:45اور اس کے تخلیقی عمل کی
15:47ابتدا کی نشاندہ ہی کرتا ہے
15:49شیخ الشورا بھی فرماتے ہیں کہ
15:51قرآن سائنس کی کتاب نہیں
15:52بلکہ ہدایت کی کتاب ہے
15:54لیکن اسے موجود اشارے سائنسی حقائق سے
15:56مطابقت رکھتے ہیں
15:58قلام پانی کی موجودگی اور زندگی کے لیے
16:00اس کی اہمیت قرآن کے بیان کردہ حقائق کو
16:02مزید اجاگر کرتے ہیں
16:04ناظرین قرآن بارہ انسان کو غور فکر کرنے
16:06کی دعوت دیتا ہے
16:07کیا یہ لوگ آسمانوں اور زمینوں کی تخلیق میں غور نہیں کرتے
16:12سورہ آل عمران آیت 190
16:14یہ آیت مسلمانوں کو تحقیق اور سائنسی دریافتوں کی ترغیب لیتی ہے
16:18پران اور سائنس میں تصادم نہیں
16:20بلکہ تکمیل کا رشتہ ہے
16:22سائنس ان رازوں کا آشکار کرتی ہے
16:24جن کا اشارہ قرآن میں موجود ہے
16:25اسلامی نکتہ نظر سے سائنس کی ہر دریافت
16:28قرآن کے بیان کردہ حقائق کی تصدیق کرتی ہے
16:31اور اللہ کی عظمت و قدرت کو واضح کرتی ہے
16:33اسلامی سکولرز کا ماننا ہے
16:35کہ یہ نشانیاں انسانوں کے ایمان کو مضبوط کرنے
16:38اور اللہ کے وحدانیت پر غور و فکر کا ذریعہ ہیں
16:41خلام پانی کے زخائر کے دریافت بھی
16:43اس حقیقت کا ایک حصہ ہیں
16:45جو انسان کو اللہ کی تخلیق کی وسط
16:47اور عظمت کی گواہی دیتا ہے
16:49ناظرین خلام پانی کے زخائر
16:51جیسی حیرت انگیز دریافتوں کو دیکھ کر
16:53یہ سوال پیدا ہوتا ہے
16:54کہ آیا یہ دریافتیں
17:01سائنسی اور مذہبی نکتہ نظر کو توازن کے ساتھ دیکھنا ضروری ہے
17:04سائنس خلا میں دریافت کی گئے پانی کے بڑے زخائر
17:07جیسے مظاہر کو
17:08کائناتی سرگرمیوں کا نتیجہ سمجھتی ہے
17:11ناظرین خلا میں
17:12ایش ٹو او خلائی داروں کے مطابق
17:14یہ دریافت کیا گیا ہے
17:16ناظرین خلا میں
17:17ناظرین خلا میں
17:18خلائی داروں کے مطابق یہ دریافت کیا گیا ہے
17:20کہ پانی کے سال میں مختلف خطوں میں موجود ہیں
17:23خاص طور پر
17:31یا کہکشاؤں کے اندرونی عمل کے دوران ہوتا ہے
17:34بارہ عرب نوری سال کے فاصلے پر واقعے
17:37ایک کوازار کے قریب
17:38ایسے پانی کے زخائر دریافت کیے گئے ہیں
17:40جو زمین کے تمام سمندروں سے
17:42ایک سو چالیس خرب گناہ زیادہ بڑے ہیں
17:44ناظرین یہ حیرت انگیز دریافت ایک کام واقعے نہیں
17:46بلکہ سالوں کی تحقیق اور سائنس دانوں کی
17:49انتھک محنت کا نتیجہ ہیں
17:51یہ پانی کا زخیرہ کوازار کے قریب پایا گیا ہے
17:54جو بارہ عرب نوری سال کے دوری پر واقع ہے
17:56دراصل کہکشاؤں کے مراکز میں
17:58موجود انتہائی روشن اجسام ہیں
18:00جن کے دل میں بہت بڑے بلیک ہولز ہیں
18:03یہ بلیک ہولز اپنی کشش سقل سے
18:04نہ صرف روشنی بلکہ قریبی مادے کو بھی
18:07اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں
18:08جس کے باعث یہ اتنے روشن نظر آتے ہیں
18:11کوازار کے قریب پانی کا اتنا بڑا زخیرہ دریافت کرنا
18:14سائنس کے لیے ایک بہت بڑا سنگے میل ہے
18:16یہ پانی صرف مایا حالت میں نہیں
18:18بلکہ بخارات کی صورت میں موجود ہے
18:20جو بلیک ہولز کے ارد گرد پھیلے ہوئے ہیں
18:22سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ بلیک ہول
18:24صورت سے بیس گنا زیادہ بڑا ہے
18:26اور یہ اتنی تورائی پیدا کر رہا ہے
18:28جو پوری دنیا کے لیے ناقابل تصور ہے
18:31یہ دریافت اس وقت ممکن ہوئی
18:33جب سائنسدانوں نے ایک خاص قسم کی
18:34ٹیلسکوپ کا استعمال کیا جو خلا میں
18:37انتہائی دور موجود اشیاء کا
18:39مطالعہ کرنے کے لیے بنائی گئی ہے
18:40اس ٹیلسکوپ نے پانی کے بخارات کے
18:42سگنلز کو کیپچر کیا جن کی مقدار
18:44زمین کے تمام سمندروں سے کئی کھرب
18:46جن کی مقدار زمین کے تمام سمندروں سے
18:49کئی کھرب گنا زیادہ ہے
18:50یہ دریافت نہ صرف سائنسی تحقیق کے لیے
18:53ایک اہم سنگے میل ہے
18:54بلکہ مذہبی نقطہ نظر سے بھی
18:56بے حد اہمیت رکھتی ہے
18:58سائندانوں کے مطابق پانی کا یہ
18:59زخیرہ کائنات کے ابتدائی دور سے جڑا ہوا ہے
19:02جب یہ کائنات تشکیل پا رہی تھی
19:04پانی کی اتنی بڑی مقدار کا موجود ہونا
19:06ظاہر کرتا ہے کہ کائنات میں
19:08پانی ہمیشہ ایک اہم انصر رہا ہے
19:10جو زندگی کی بنیاد فراہم کرتا ہے
19:12اسلامی تعلیمات کے مطابق
19:14اللہ کے عرش کے نیچے پانی کا ذکر
19:15کئی مقامات پر کیا گیا ہے
19:17قرآن و حدیث میں پانی کو
19:19زندگی کی بنیاد اور اللہ کی عظیم نعمت
19:21قرار دیا گیا ہے
19:22بعض علماء کا کہنا ہے کہ یہ
19:24اللہ کے عرش کے پانی کی نشانی ہے
19:26دوستو اس کے علاوہ حال ہی میں
19:28جیمز ویب اسپیس ٹیلسکوپ کے ذریعے کی جانے والی
19:31ایک تحقیق نے دنیا بھر کے
19:32سائندانوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے
19:34جب سائندانوں نے کائنات کے دور دراز
19:36حصوں کی تصویر لینے کا منصوبہ بنایا
19:38تو انہیں ایک ایسی تصویر ملی
19:40جو عام تصویروں سے بالکل مختلف تھی
19:42یہ تصویر ایک ایسی دنیا کی جھلک تھی
19:44جو ہمارے نظام شمسی سے باہر تھی
19:46اور اس میں کچھ ایسی علامتیں موجود تھیں
19:48جنہوں نے سائندانوں کو سوچنے پر مجبور کیا
19:50کہ شاید ہم نے ایک نئی چیز دریعات کر لی ہے
19:53یہ دریعات سائندانوں کے لیے
19:55حیرت انگیز اور چونکہ دینے والا لمحہ تھا
19:58پروکسیما بی
19:59جو کہ ہمارے نظام شمسی سے باہر واقع ہے
20:01یہ کیسی دنیا ہے جس کے دریعات
20:03نے سائندانوں کے ذہنوں میں سوالات
20:05اور تجسس کے نئے دروازے کھول دیئے ہیں
20:07اس سیارے کے دریعات سے پہلے
20:09ہمارے پاس صرف زمین جیسی دنیا کے بارے میں
20:11معلومات تھی
20:12لیکن پروکسیما بی نے
20:13ہمیں یہ باور کرایا کہ کائنات میں
20:15زندگی کے لیے مزید مقامات بھی موجود ہو سکتے ہیں
20:18پروکسیما بی
20:19ماحول اور اس کی خصوصیات
20:21ہماری زمین سے بہت مختلف ہیں
20:23یہ سیارہ پروکسیما
20:24سینڈوری ستارے کے گرد گھومتا ہے
20:27جو ہمارے سورج کے مقابلے میں بہت چھوٹا
20:29اور انتہائی سرد ہے
20:30یہ صرف ایک عام سیارہ نہیں ہے
20:32سائندانوں نے یہاں کچھ ایسی چیزیں دریعات کی ہیں
20:35جو ہمارے لیے ناقابل یقین ہیں
20:37یہاں کی زمین سونے اور چاندی کے پہاڑوں سے بھری ہوئی ہیں
20:40سائندانوں کا کہنا ہے کہ پروکسیما بی
20:42زمین میں سونے اور چاندی کے بے شمار مقدار موجود ہیں
20:46اور یہ مادنیات زمین کے سطح پر ایسے پھیلے ہوئے ہیں
20:49جیسے ہمارے ہاں مٹی اور پتھر
20:51آپ تصور کیجئے
20:52ایک ایسی دنیا جہاں پہاڑوں کی چھوٹیوں پر سونا چمک رہا ہو
20:55اور چاندی کے دریاں بہرائے ہوں
20:57یہ ایک ایسا منظر ہے جس نے سائندانوں کو حیران و پریشان کر دیا
21:01یہاں کے جنگلات میں ہیرے بھی اکتے ہیں
21:03جی ہاں ہیرے
21:04یہاں کے میدان بھی عجیب و غریب ہیں
21:06اس زمین کے نیچے جوہرات کے بے شمار خزانے دفن ہیں
21:09جو زمین کے سطح پر آنے کے منتظر ہیں
21:11سائندانوں کا کہنا ہے کہ یہ دنیا
21:13جوہرات کے اتنے بڑے زخائر سے بھری ہوئی ہے
21:16کہ اگر ہم یہاں سے ان کے جوہرات کو زمین پر لاسکیں
21:19تو دنیا کی معیشت ہمیشہ کے لیے بدل جائے
21:21پروکسیما بی کے ماحول میں ایک حیرت انگیز خصوصیت یہ ہے
21:24کہ وہاں اکسیجن کی مقدار بہت زیادہ ہے
21:27سائندانوں کا خیال ہے کہ وہاں کے ماحول میں اکسیجن کی مقدار
21:29اتنی زیادہ ہونی کی وجہ سے
21:31وہاں کے جانداروں کی جسمانی قد بہت بڑے ہو سکتے ہیں
21:34آپ سوچیں کہ وہاں کی جانور
21:36ہماری زمین کے جانوروں کے مقابل میں کئی گناہ بڑے ہو سکتے ہیں
21:39اکسیجن کی زیادہ مقدار کی وجہ سے
21:41وہاں کی فضاء بہت صاف اور شفاف ہو سکتی ہے
21:44جس کا اثر وہاں کی زندگی پر بھی ہوگا
21:46دوستو اس کے علاوہ پروکسیما بی کے بارے میں
21:48کچھ عجیب و غریب حقائق بھی سامنے آئے
21:50یہ سیارہ اپنے ستارے کے بہت قریب ہے
21:53جس کی وجہ سے یہاں دن اور رات بہت مختلف ہیں
21:56یہاں کا ایک دن اور رات گیارہ دنوں پر مستمیل ہوتا ہے
21:59جس کا مطلب ہے کہ
22:00دن کے وقت بہت زیادہ گرمی ہوتی ہے
22:02اور رات کے وقت انتہائی سردی
22:04لیکن پروکسیما بی کے ماحول میں خاصیت یہ بھی ہے
22:07کہ یہاں کے دن اور رات کے درمیان ایک ایسی جگہ ہے
22:09جہاں نہ تو بہت زیادہ سردی ہے
22:11اور نہ بہت زیادہ گرمی ہے
22:12اس جگہ پر پانی مایا حالت میں موجود ہو سکتا ہے
22:15اور یہ زندگی کے لیے سازگار ہوگا
22:17ماہرین کا کہنا ہے کہ انہیں دوہزار انیس میں
22:19پروکسیما سینٹوری سے ایک سگنل بھی موصول ہوا تھا
22:22یہ سگنل اتنی زیادہ فرکوینسی کا تھا
22:25یہ قدرتی طور پر نہیں ہو سکتا تھا
22:27اس پر ابھی بھی تحقیق جاری ہے
22:28اور کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے
22:30کسی ذہین مخلوق کی جانب سے بھیجا گیا ہو سکتا ہے
22:33اگر یہ بات درست ہے
22:34تو اس کا مطلب ہے کہ پروکسیما بی پر
22:36کوئی ایسی مخلوق موجود ہے
22:37جو ہمارے لئے ایک نئی دنیا کے رازوں سے پردہ اٹھا سکتی ہے
22:40پروکسیما بی ہم سے چار نوری سال کی دوری پر ہے
22:44یعنی اگر ہم روشنی کی رفتار سے سفر کریں
22:46تو وہاں پہنچنے میں چار سال لگ جائیں گے
22:48موجودہ ٹیکنالوجی کے ساتھ یہ سفر ہزاروں سالوں کا ہو سکتا ہے
22:52لیکن سائنسدان ایک نئی ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں
22:55جس سے لوٹ سیل کہا جا رہا ہے
22:57یہ ایک انتہائی ہلکہ سپیس کرافٹ ہوگا
22:59جسے لیزر کی مدد سے روشنی کی رفتار کے قریب پہنچایا جائے گا
23:03اور یوں صرف بی سالوں میں یہ کرافٹ پروکسیما بی تک پہنچ جائے گا
23:06اس کے علاوہ سائنسدانوں نے کچھ ایسے سیارے بھی دریافت کی ہیں
23:09جن کے بارے میں سن کر آپ کی حیرت کی انتہا نہیں رہے گی
23:12یہ سیارے اپنی عجیب و غریب خطرناک ماحول کی وجہ سے خاصے مشہور ہیں
23:17ان سیاروں پر ہونے والی بارشیں
23:19اور وہاں کے حالات ہماری زمین سے بلکل مختلف اور ناقابل یقین ہیں
23:23جیسے کہ 55 کینکری ای نامی یہ ستارہ ہی دیکھ لیں
23:26اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں پتھروں کی بارش ہوتی ہے
23:29اس سیارے کی سطح پر درجہ حرارت اتنا زیادہ ہوتا ہے
23:32کہ یہاں کے پتھر پگھلنے لگتے ہیں
23:34اور جب یہ پگھلے پتھر بادلوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں
23:37تو یہ بادلوں سے برسنے لگتے ہیں
23:39اور یہ منظر کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہوتا
23:41یقیناً اسے جہنمی سیارہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا
23:45ناظرین یہ سائنسی دریافتیں بتاتی ہیں
23:47کہ کائنات میں پانی ایک عام انصر ہے
23:49جو زندگی کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے
23:51لیکن یہ سائنسی مشاہدے کسی مخصوص مذہبی دعوے کی براہراز تجدیق نہیں کرتے
23:56اسلامی تعلیمات میں پانی اور عرش کا ذکر ایک خاص روحانی اور علامتی پسے منظر رکھتا ہے
24:01قرآن میں کہا گیا ہے کہ زندگی کے ہر جز پانی سے پیدا کیا گیا ہے
24:05اور ہم نے ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا ہے
24:09سورہ انبیاء آیت تیس
24:10یہ بیان خلا میں موجود پانی کی موجودگی کو اللہ کی تخلیق کی عظمت سے جوڑتا ہے
24:16جیسے کہ سورہ حود آیت ساتھ میں ذکر کیا گیا ہے
24:19اور اس کا عرش پانی پر تھا
24:21یہ بیان اللہ کی قدرت اور تخلیق کی ابتداء کی طرف اشارہ کرتا ہے
24:25جو انسانی عقل سے معورہ ہے
24:26اسلامی نکتہ نظر کے مطابق سائنس اور ایمان
24:29دون حقیقت کے مختلف پہلوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں
24:32سائنس کائنات کے مادی پہلوں کو بیان کرتی ہے
24:35اس کی ساتھ قوانین اور واقعات
24:37یہ تجربات اور مشاہدات پر مبنی ہے
24:39اور وقت کے ساتھ ترقی کرتی رہتی ہے
24:41ایمان روحانی حقائق اور کائنات کے مقصد کو بیان کرتا ہے
24:45یہ اللہ کی ذات اس کی تخلیق اور انسان کے زندگی کے معنی پر روشنی ڈالتا ہے
24:50سائنس اللہ کی تخلیق کی پیشیدگیوں اور عظمت کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہے
24:55ایمان ان دریافتوں کو اللہ کی قدرت کے نشانی کے طور پر دیکھتا ہے
24:59سائنس کے ذریعے دریافت کردہ پانی کی ذخائر ممکنہ طور پر قدرت کے تخلیقی عمل کا حصہ ہے
25:04لیکن یہ ضروری نہیں کہ براہرات قرآن میں بیان کردہ عرش کے پانی سے منسلک ہو
25:09چاہے یہ پانی عرش کے پانی سے منسلک ہو یا نہ ہو
25:12یہ دریافت اللہ کی تخلیق کی وسط اور عظمت کو ظاہر کرتی ہے
25:16ایمان اور سائنس دونوں تحقیق اور جستجو کو اہمیت دیتے ہیں
25:19جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا کہ وہ زمین اور آسمان میں غروف فکر نہیں کرتے
25:23سورہ روم آیت آٹھ
25:26یہ آیت ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم کائنات کے رازوں کو جاننے کے لیے
25:29اپنی عقل اور علم کا استعمال کریں
25:31سائنس اور مذہب کے تعلق کو سمجھنے کے لیے دونوں کے کردار کو تسلیم کرنا ضروری ہے
25:36سائنس مادی دنیا کے حقائق کی تشریح کرتی ہے
25:39جبکہ ایمان ان حقائق کے پیچھے موجود مقصد اور حکمت کو جاگر کرتا ہے
25:44قلام پانی کے دریافت چاہے برائے راست عرش کے پانی سے منسلک نہ ہو
25:47لیکن یہ قدرت کی وسط اور اللہ کی تخلیق کی عظمت کی ایک نشانی ضرور ہے
25:52یہ دریافت ہمیں غروف فکر اور تحقیق کی طرف مائل کرتی ہے
25:55جو قرآن کی تعلیمات کے عین مطابق ہے
25:58ناظرین یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ اسلام اپنے ماننے والوں کو
26:01مذہب اور سائنس دونوں کا نور عطا کرتا ہے
26:04اس لئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اسلام دنیا کا سب سے زیادہ ترقی آفتہ دین ہے
26:08جو نہ صرف قدم قدم پر سائنسی علوم کے ساتھ چلتا نظر آتا ہے
26:11بلکہ تحقیق اور جستجو کی راہوں میں سائنسی ذہن کی ہر مشکل میں رہنمائے بھی کرتا ہے
26:17واضح رہے کہ جون جون سائنس ترقی کر رہی ہے
26:19اسلام کی حقانت ثابت ہوتی جا رہی ہے
26:21اور جدید سائنس کی ترقی سے مذہب کا نور نکھرتا جا رہا ہے
26:25اور ایک وقت آئے گا جب سائنس اپنی تحقیقات کے نکتے کمال کو پہنچے گی
26:29تو اللہ کے دین کا ہر ایمانی تصور سائنس کے ذریعے صحیح ثابت ہو جائے گا
26:33قرآن مجید اور سائنس کا تقابلی مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے
26:37کہ سائنس کے بے شمار نظریات قرآن تصورات کو سو فیصد صحیح ثابت کرتے ہیں
26:42اور وہ دن دور نہیں جب سائنس کلی طور پر دینی نظریات کی تائد و توسیق کرنے لگے گی
26:47ناظرین کائنات کے رازوں کی کھوج میں سائنس روز بروز نئی دریافتوں سے پردہ اٹھا رہی ہے
26:52اور خلا میں پانی کے بڑے زخیر کے دریافت بھی انہی میں سے ایک ہے
26:56تاہم یہ سوال کیا ناسا نے اللہ کے عرش کا پانی دریافت کر لیا ہے
27:00محض سائنسی تحقیق کا موضوع نہیں بلکہ ایک دلچسپ مقالمہ پیدا کرتا ہے
27:05جو دین اور سائنس کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے
27:08سائنس دان خلا میں پانی کی موجودگی کو کائنات کی تخلیق اور زندگی کے امکانات کے تناظر میں دیکھتے ہیں
27:13ان کی تحقیق یہ ظاہر کرتی ہے کہ پانی کائنات کے بنیادی اناثر میں سے ایک ہے
27:18جو ہر جاندار کے وجود کے لیے ضروری ہے
27:20قرآن اور حدیث ہمیں کائنات کے بارے میں غور و فکر کرنے اور قدرت کی نشانیاں سمجھنے کی دعوت دیتے
27:25ہیں
27:26خلا میں پانی کے زخائر جیسے مظاہر ہمیں اللہ کی تخلیق کی عظمت اور وسط کا احساس دلاتے ہیں
27:32یہ ضروری نہیں کہ ناسا کی دریات براہ راست قرآن میں بیان کردہ عرش کے پانی سے منسلک ہو
27:37البتہ یہ اللہ کی قدرت کی ایک اور نشانی ہو سکتی ہے
27:41جو انسان کو اس کی تخلیق پر غور کرنے کی طرف راغب کرتی ہے
27:44یہ سوال کہ خلا میں پانی کے دریات کو اللہ کی نشانی کہا جا سکتا ہے یا نہیں
27:49ایک گہرے مقالمے کا دروازہ کھولتا ہے
27:51دین اور سائنس دونوں ہمیں تحقیق اور غور فکر کی دعوت دیتے ہیں
27:55آپ کا کیا خیال ہے کیا یہ واقعی اللہ کی نشانی ہو سکتی ہے
27:59اپنی رائے نیچے کمنٹس میں دیں اور اس دلچسپ مقالمے کا حصہ بنیں
28:03ناظرین یہ تھی ہماری آج کی ویڈیو
28:05ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو ضرور پسند آئی ہوگی
28:08اگر آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو پسند آئی ہے
28:11تو آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ آپ ہماری چینل کو ضرور سبسکرائب کر لیں
28:14اور ساتھی لگے بیل کے بٹن کو بھی پریس کر لیں
28:17تاکہ آپ کے پاس ہماری آنے والی
28:18مزید معلوماتی ویڈیوز کا نوٹفیکشن بروقت ملتا رہے
28:21سبسکرائب کے ساتھ ہماری ویڈیوز کو لائک بھی کریں
28:24اور اپنی قیمتی رائے کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں
28:27کمنٹس میں آپ اپنے سوالات بھی ہم تک پہنچا سکتے ہیں
28:29اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے حفظ و مان میں رکھے
28:32آمین
Comments

Recommended