Akhri Ramzan _ Euphrates River Ki Ajeeb Awaz Aur Qayamat Ki Nishani _ Noor TV
In this extraordinary video, Noor TV delves into the mysterious sounds reported from the Euphrates River tunnel and their potential connection to the 2025 Ka Akhri Ramzan. According to Islamic teachings, the Euphrates River holds significant importance in the signs of Qayamat (Judgment Day), as foretold by Prophet Muhammad ﷺ. This recent event has sparked global curiosity and serves as a wake-up call for believers to reflect on their faith and prepare for the trials of the End Times.
Key Highlights of the Video:
The Euphrates Mystery: An in-depth look into the sounds coming from the Euphrates River tunnel and their possible explanations.
Islamic Prophecies Fulfilled?: How this incident aligns with Hadith that predict the drying of the Euphrates River and the emergence of a treasure that will cause strife among mankind.
2025 Ka Akhri Ramzan: The spiritual significance of Ramzan in the End Times and its connection to these events.
Qayamat Ki Nishaniyan: A discussion of minor and major signs of Qayamat and how they are unfolding in today’s world.
Lessons for Humanity: The importance of strengthening one’s faith, turning towards Allah, and preparing for the trials ahead.
This video combines authentic Quranic references, Hadith, and reflections to offer a balanced understanding of this mysterious incident and its spiritual implications. Noor TV emphasizes that these signs are a reminder for believers to renew their faith and seek Allah’s forgiveness.
Watch this video to uncover the mystery of the Euphrates River, its connection to 2025 Ka Akhri Ramzan, and the lessons it holds for the Ummah.
#EuphratesRiver #QayamatKiNishaniyan #2025KaAkhriRamzan #NoorTV #EndTimesProphecy #IslamicTeachings #SignsOfJudgmentDay #MysteriousSounds #FaithAndReflection #QuranAndProphecies
In this extraordinary video, Noor TV delves into the mysterious sounds reported from the Euphrates River tunnel and their potential connection to the 2025 Ka Akhri Ramzan. According to Islamic teachings, the Euphrates River holds significant importance in the signs of Qayamat (Judgment Day), as foretold by Prophet Muhammad ﷺ. This recent event has sparked global curiosity and serves as a wake-up call for believers to reflect on their faith and prepare for the trials of the End Times.
Key Highlights of the Video:
The Euphrates Mystery: An in-depth look into the sounds coming from the Euphrates River tunnel and their possible explanations.
Islamic Prophecies Fulfilled?: How this incident aligns with Hadith that predict the drying of the Euphrates River and the emergence of a treasure that will cause strife among mankind.
2025 Ka Akhri Ramzan: The spiritual significance of Ramzan in the End Times and its connection to these events.
Qayamat Ki Nishaniyan: A discussion of minor and major signs of Qayamat and how they are unfolding in today’s world.
Lessons for Humanity: The importance of strengthening one’s faith, turning towards Allah, and preparing for the trials ahead.
This video combines authentic Quranic references, Hadith, and reflections to offer a balanced understanding of this mysterious incident and its spiritual implications. Noor TV emphasizes that these signs are a reminder for believers to renew their faith and seek Allah’s forgiveness.
Watch this video to uncover the mystery of the Euphrates River, its connection to 2025 Ka Akhri Ramzan, and the lessons it holds for the Ummah.
#EuphratesRiver #QayamatKiNishaniyan #2025KaAkhriRamzan #NoorTV #EndTimesProphecy #IslamicTeachings #SignsOfJudgmentDay #MysteriousSounds #FaithAndReflection #QuranAndProphecies
Category
📚
LearningTranscript
00:03دریائے فرات کی غار میں قید فرشتوں کی آوازیں
00:06بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:08السلام علیکم رحمت اللہ وبرکاتہ
00:11حضرین نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
00:14دریائے فرات کے حوالے سے جو پیشگوئی کی تھی
00:18وہ ایک بہت اہم اور قیامت کے قریب ہونے والی پیشگوئیوں میں سے ہے
00:22جو آج کے دور میں حقیقت بن رہی ہے
00:24اس پیشگوئی کے مطابق دریائے فرات میں کسی وقت اتنی بڑی لڑائی ہوگی
00:29کہ اس میں 99 فیصد لوگ مارے جائیں گے
00:31اور صرف ایک فیصد بچیں گے
00:33آج کی ویڈیو میں ہم اس پیشگوئی پر روشنی ڈالیں گے
00:36اور دیکھیں گے کہ ماہرین اور سائنسدان اس بارے میں کیا کہتے ہیں
00:40دریائے فرات کے خوشک ہونے کے بعد کئی خوفناک دریافتیں ہو رہی ہیں
00:43اور ماہرین کا کہنا ہے کہ دریائے کی گہرائی سے نکلنے والی غاروں میں سے
00:47کچھ ایسی آوازیں آ رہی ہیں جو بہت عجیب اور پرسرار ہیں
00:51سائنسدانوں نے ان آوازوں اور ان دریافتوں کے بارے میں
00:54کئی حیرت انگیز معلومات فراہم کی ہیں
00:56جو کس پیشگوئی کے ساتھ جوڑی ہوئی ہیں
00:58اس ویڈیو میں دریائے فرات کی اہمیت اور تاریخ کو بھی بیان کریں گے
01:03تاکہ آپ بہتر طور پر سمجھ سکیں
01:05کہ یہ پیشگوئی کس طرح حقیقت کے قریب پہنچ رہی ہے
01:08اور دنیا کس طرح ایک آخری جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے
01:11جس کا ذکر احادیث مبارکہ میں آیا ہے
01:14اس ویڈیو کو آخر تک دیکھیں
01:15اور اگر آپ ہمارے چینل پر نئے ہیں
01:17تو براہ کرم سبسکرائب کریں
01:19تاکہ آپ کو مزید اہم ویڈیوز مل سکیں
01:21ناظرین دریائے فرات کوہ عرارت کے برف پوش پہاڑیوں سے نکلتا ہے
01:26اور یہی وہ پہاڑ ہے جہاں سیدنا نوح کی کشتی طوفان نوح کے بعد آ کر ٹھہری تھی
01:31یہ پہاڑ آرمینیائی پہاڑی سلسلے کا حصہ ہے
01:34جس کی سب سے بلند چھوٹی عرارت سولہ ہزار آٹھ سو چپون فٹ بلند ہے
01:39اسی پہاڑ سے نکلنے والا دریائے فرات کہلاتا ہے
01:42جس کے کنارے ایک عظیم تہذیب آباد تھی
01:44جسے بابل کی تہذیب کہا جاتا ہے
01:47بابل کے بعد شبخت نصر نے یروشلم کی ایٹ سے ایٹ بجا کر
01:50وہاں کے یہودیوں کا قتل عام کیا تھا
01:52اور جو ہنرمند تھے انہیں غلام بنا کر فرات کے کنارے آباد کر دیا تھا
01:57یہودی اسے اپنی عبرانی زبان میں پرات اور عربی میں الفرات کہتے ہیں
02:01دریائے فرات کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
02:05کہ قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک دریائے فرات خوشک نہ ہو جائے
02:10اور اس میں سے سونے کا ایک پہاڑ ظاہر نہ ہو
02:12اس سونے کے پہاڑ کے لئے لوگ آپس میں شدید جھگڑا کریں گے اور جنگ کریں گے
02:16اور ہر شخص اس سونے کے خزانے کی بلکیت حاصل کرنا چاہے گا
02:19اس جنگ میں اتنا خون بھے گا کہ ہر سو میں سے 99 لوگ مالے جائیں گے
02:23اور صرف ایک بچے گا
02:25اگر تم اس سونے کے پہاڑ کو دیکھو تو تمہیں اس لڑائے میں شامل نہیں ہونا چاہیے
02:28کیونکہ اس لڑائے میں حصہ لینے والے تمام افراد جہنمی ہوں گے
02:32یہ سونا اللہ کی طرف سے ایک آزمائش ہوگا اور آخر کار اللہ اسے غائب کر دے گا
02:36ناظرین یہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقیقت
02:40ہمیں بتاتی ہے کہ سونے کے زخیرے کی اتنی زیادہ قیمت ہوگی
02:44کہ دنیا کی ہر قوم اسے حاصل کرنے کیلئے لڑے گی
02:46تاہم اللہ کی طرف سے ایک عظیم آزمائش ہوگی
02:49جس سے بچنا ضروری ہے
02:50اور یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
02:53اس لڑائے میں شامل ہونے سے منع کیا
02:56ناظرین اگر ہم دریا فراد کی اہمیت کو دیکھیں
02:58تو یہ دریا تین بڑے مذہب یعنی اسلام
03:02عیسائیت اور یہودیت میں ایک خاص مقام رکھتا ہے
03:04حتیٰ کہ ایک حدیث میں یہ بھی ذکر ہے
03:06کہ دریا فراد جنت کے چشموں میں سے ایک چشمہ ہے
03:09جس کا پانی نہ صرف صاف بلکہ پاکیزگی دینے والا ہے
03:13یہ تصور عیسائیوں کی کتاب بائبل میں بھی پائے جاتا ہے
03:16جہاں بائبل کے چپٹر نمبر سولہ میں بتایا گیا ہے
03:19کہ یہ دریا جنت کے دریاؤں میں سے ایک ہے
03:21اور اس کے خوشک ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے
03:23اس پیشگوئی کا ذکر بائبل میں بھی ہے
03:26مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
03:28نے اس پیشگوئی کو زیادہ وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے
03:31گر ہم کسی دریا کو جنت کے چشمے میں سے ایک سمجھیں
03:34تو اس کا خوشک ہونا یقیناً اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہوگا
03:37اور اس کی ناراضگی کا اظہار بھی
03:40موجودہ صورتحال پر نظر ڈالتے ہوئے
03:42ہم دیکھتے ہیں کہ پچھلے تیس سے چالیس سالوں میں
03:44دریا افراد کی سطح بہت تیزی سے کم ہو رہی ہے
03:47حال یا کچھ عرصے میں دریا اپنے اصل
03:49حجم سے تقریباً اسی فیصد تک سکڑ چکا ہے
03:52اور ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے چند سالوں میں
03:55دریا افراد مکمل طور پر خوشک ہو سکتا ہے
03:58جس کے نتیجے میں ان علاقوں میں پانی کی شدید کمی ہوگی
04:01جہاں یہ دریا ہمیشہ سے زندگی کا اہم وسیلہ رہا ہے
04:04جہاں تک سونے کی زخیرے کا تعلق ہے
04:06جو دریا افراد کے خوشک ہونے پر ظاہر ہوگا
04:08تو اس کا راز بھی اتفاقاً ماہرین کی تحقیقات میں سامنے آیا
04:11ایک ٹیم نے دریا افراد کے سکڑنے کے اثرات پر تحقیق کی
04:14اور دریا کے کنارے بسنے والے لوگوں سے انٹریویو کیے
04:17ان لوگوں سے پوچھا گیا
04:18کہ دریا افراد کے پانی میں کمی اور مشلیوں سمیت
04:21دیگر انوا کی کمی سے ان کی روز مرد زندگی پر
04:24کیا سرات مرتب ہوئے ہیں
04:25ماہرین اس حقیقت سے حیران رہ گئے
04:27جب دریا افراد کے کنارے بسنے والے خانہ بدوش
04:30ماہیگیروں نے بتایا کہ اگرچہ دریا سکڑ رہا ہے
04:33اور مشلیوں کی تعداد کم ہو گئی ہے
04:35جس کی وجہ سے ان کا کاروبار متاثر ہوا ہے
04:37مگر دریا کے کناری کی ریت میں
04:39پانی کے ساتھ سونے کے ذرات بھی موجود ہیں
04:41جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا
04:43اور نہ ہی ان کے آباؤ اجداد سے ایسا سنا تھا
04:46انہی ماہیگیروں کے مطابق جب انہوں نے
04:48دریا افراد کے پانی میں مٹی کو چھانا
04:50تو اس میں سونے کے چھوٹے چھوٹے ذرات ملے
04:52جو یہ اشارہ دیتے ہیں
04:54کہ دریا افراد کے نیچے سونے کا ایک بڑا زخیرہ دفن ہے
04:57چونکہ دریا افراد اب بھی اپنی اصلی حالت میں موجود ہے
05:00اور اس پر لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کا دار و مدار ہے
05:03اس لئے اس دریا کو مکمل طور پر خوش کرنا
05:05یا موڑنا ممکن نہیں
05:07ماہرین کی تحقیق تو کچھ اور تھی
05:09لیکن یہ انکشاف ان کے لئے نئے سوالات کا سبب بن گیا
05:12اس کے بعد انہیں یہ پتا چلا
05:13کہ اس بارے میں اللہ کی الہامی کتابوں میں
05:15پہلے سے پیشگوئیاں موجود ہیں
05:17نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
05:19نے نہ صرف اس سونے کے زخیرے کی پیشگوئی کی
05:22بلکہ اس سے جڑے عظیم فساد کے بارے میں بھی بتایا
05:25جو سونے پر قبضہ کرنے کے لئے برپا ہوگا
05:27دریا افراد کا خوشک ہونا
05:29اس میں سونے کا ظاہر ہونا
05:30اور اس پر قبضے کے لئے دنیا کی طاقتور اقوام کا
05:33آپس میں لڑنا
05:33یہ سب قیامت کی ابتدائی علامات میں سے ایک ہے
05:36حدیث کے مطابق اس فساد کے بعد
05:38قیامت کی بڑی نشانیاں شروع ہو جائیں گی
05:40اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے
05:41کہ دریا افراد کے خوشک ہونے سے پہلے
05:43دجال کا ظہور ہوگا
05:44اور امام مہدی علیہ السلام کا ظہور بھی ہوگا
05:47جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی نازل ہوں گے
05:59اس کے مطابق اس فساد کے بعد
06:01قیامت کی آخری نشانیاں جیسے کہ
06:02بڑے توفان اور وہ ہوا جس سے
06:05تمام مومن افراد اللہ کی طرف
06:07منتقل ہو جائیں گے
06:08ان سب کا آغاز ہو جائے گا
06:09اس کی نتیجے میں سے فقافری دنیا میں باقی رہ جائیں گے
06:12جن پر قیامت آئے گی
06:13ناظرین سائنسی تحقیق کے مطابق
06:15ماہرین نے حال ہی میں دریافت کیا
06:17کہ دریافت کے مکمل طور پر خوشک ہونے میں
06:20ابھی تقریباً دس سے پندرہ سال کا وقت ہے
06:22جبکہ ایک تحقیق کے مطابق یہ وقت
06:24بیس سے پچیس سال تک بھی ہو سکتا ہے
06:26اس کے بعد بھی چونکہ دریافت کا ڈیلٹا
06:28ایک دلدلی علاقے کی طرح بن جائے گا
06:30مزید تحقیق کرنا بہت مشکل ہوگا
06:33تاہم اللہ کی قدرت سے کچھ بائید نہیں ہے
06:35کیونکہ جس طرح سے دریافت کے پانی میں
06:37سونے کے ذرہ رہے ہیں
06:39یہ واضح طور پر دکھاتا ہے
06:40کہ وہ وقت زیادہ دور نہیں
06:41جب یہ دریاء مکمل طور پر خوشک ہو جائے گا
06:44اور قیامت کی علامات کا ظہور شروع ہو جائے گا
06:47اس ہم موضوع پر بات کرتے ہوئے
06:49ہمیں اللہ رب العزت کے حکامات پر عمل کرنا بہت ضروری ہیں
06:52نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق
06:55اگر دریاء فراد سے سونے کا زخیرہ ظاہر ہو
06:58تو ہمیں ایسی کسی بھی لڑائی میں حصہ نہیں لینا
07:01نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واضح طور پر تنبی کی ہے
07:11ناظرین دوہزار چوبیس میں دریاء فراد سب سے زیادہ گوگل کیا جانے والا دریاء بن چکا ہے
07:15اور اس دریاء سے متعلق ایسی خبریں منظر عام پر آئی ہیں
07:18جنہوں نے ماہرین کو گہری سوچ میں مبتلا کر دیا ہے
07:21حالی میں سائنسدانوں نے دریاء فراد کے بارے میں کچھ ایسی دریافتیں کی ہیں
07:24جنہیں سن کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے
07:27کیونکہ یہ باتیں اس بات کا ثبوت فراہم کرتی ہیں
07:29کہ یقیناً دریاء فراد میں ہونے والی تبدیلیوں کے باعث
07:41جاتا ہے اور یہ کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا کہ یہ کبھی خوشک ہو سکتا ہے
07:45لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
07:49چودہ سو سال پہلے ہی اس دریاء کے خوشک ہونے کی پیش گوئی کر دی تھی
07:53آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ بلکل بیسہ ہی ہو رہا ہے
07:55جیسے کہ حدیث میں ذکر کیا گیا
07:57پچھلے تین چار سالوں میں دریاء فراد غیر معمولی طور پر تیزی سے خوشک ہو رہا ہے
08:02جس نے سائجدانوں کو بھی شدید حیرانی میں مبتلا کر دیا ہے
08:05لیکن مسئلہ صرف اس عظیم دریاء کے خوشک ہونے تک محدود نہیں ہے
08:09اصل مسئلہ اس وقت سامنے آتا ہے جب اس دریاء کی خوشکی سے جڑے
08:13دیگر واقعات کی تفصیلات سامنے آتی ہیں
08:15ناظرین سب سے پہلے آپ کو بتاتے چلیں کہ دریاء فراد کا خوشک ہونا
08:19نہ صرف اسلام بلکہ عیسائیت میں بھی اتنی ہی اہمیت کا حامل ہے
08:22بائبل اور قرآن پاک دونوں میں کئی موقعوں پر
08:25اس دریاء کو لے کر گفتگو اور مختلف پیشگوئیاں کی گئی ہیں
08:28بائبل کے مطابق دریاء فراد کے پانے کا اصل ماخوز جنت کا پانی ہے
08:32یہ وہ دریاء ہے جو مشرق کے مغرب شعلہ کرتا ہے
08:35اور خدا کے علاوہ یہ بات کوئی نہیں جانتا
08:37کہ کئی صدیوں سے موجود اس عظیم دریاء نے کتنی قوموں تحذیبوں اور قبیلوں کو اپنے اندر دفن کیا ہے
08:44قرآن پاک کے علاوہ دنیا بھر کی کئی مذہبی کتابوں میں بھی
08:47اس دریاء کا ایک مقدس دریاء ہونے کی حیثیت سے ذکر آ چکا ہے
08:51اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بیان کیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو
08:54جو زمین دینے کا وعدہ کیا گیا تھا
08:57اس کے لیے اس دریاء کو ایک حد کے طور پر مقرر کیا گیا تھا
09:00ان ساری معلومات کا بنیادی مقصد آپ کو یہ بتانا تھا
09:04کہ دریاء فراد جغرافیائی اور سائنسی اعتبار سے تو اہام ہے ہی
09:07لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کی مذہبی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا
09:12قرآن پاک کے علاوہ پرانی سے پرانی مذہبی کتب میں بھی
09:15اس دریاء کا ذکر ملتا ہے
09:17جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب سے یہ زمین وجود میں آئی تھی
09:20تب سے یہ دریاء موجود ہے
09:21اور کچھ سالوں پہلے تک اپنی اسی تیزی اور روانگی کے ساتھ بہتا رہا ہے
09:26لیکن پشلے تین سے چار سالوں میں یہ دریاء خوشک ہوتا ہوتا
09:29اب مکمل طور پر سوک چکا ہے
09:31اور اس کے سوکنے کی وجہ سے کئی انہونے باقیات رونما ہو رہے ہیں
09:35جو اس دریاء کو مزید پور اثرار بنا رہے ہیں
09:38ناظرین جب دریاء فرات کے خوشک ہونے والے
09:40بڑے حصوں کا تفصیل ایجائزہ لیا گیا
09:42تو ماہرین نے کچھ ایسی عجیب و غریب دریافتوں کی نشاندہی کی
09:46جن پر یقین کرنا مشکل ہوتا ہے
09:48خاص طور پر اکتوبر 2020 میں
09:50ایک عرب نیوز چینل ان دریاء فرات کے کنارے بسنے والے
09:53مقامی لوگوں کے انٹرویوز کیے
09:55اور ان سے یہ جاننے کی کوشش کی
09:56کہ دریاء فرات کے خوشک ہونے سے
09:58ان کی زندگیوں پر کیا حصرات پڑے ہیں
10:00ان انٹرویوز میں جو ان کے شفاظ سامنے آئے
10:03وہ نہ صرف حیران کن تھے
10:05بلکہ ان سے جڑی بہت سی پورا حصرار باتیں تھیں
10:07جو آپ کو سوچنے پر مجبور کر دیں گی
10:09بہت سے لوگوں نے بتایا کہ ان کے گھروں سے
10:11اکثر چیزیں اچانک غائب ہو جاتی تھیں
10:13اور کچھ دنوں بعد وہ چیزیں واپس مل جاتیں
10:15مگر ان چیزوں کی حالت انتہائی خراب
10:17اور جلی ہوئی ہوتی تھی
10:19کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا کہ یہ اشیاء ملنے کے بعد
10:21اکثر ان میں سے عجیب سی بو آتی تھی
10:23یا وہ غیر معمولی طور پر خرابی کا شکار ہو جاتی تھی
10:26ان لوگوں کے مطابق یہ اشیاء اکثر
10:28ان کی توقعات کے مطابق واپس نہیں آتی
10:30بلکہ ان میں ایسا کچھ ہوتا تھا
10:32جسے وہ سمجھنے سے قاسر تھے
10:34سب سے زیادہ حیران کن اور پرسرار بعد
10:36ان غاروں کے بارے میں تھی جو دریائے فرات کی گہرائی میں موجود تھے
10:39یہ غاریں اتنی گہری اور غیر معمولی تھیں
10:42کہ ان کا وجود عموماً لوگوں کی نظروں سے اوجھل تھا
10:45بعض ایسائی مذاہب کے پیروکاروں کا ماننا تھا
10:48کہ یہ غاریں صدیوں سے شیطانوں کا مسکن بنی ہوئی ہیں
10:50اور ان میں شیطانی قوتیں رہتی ہیں
10:52ان کے مطابق یہ غاریں اس قدر پور اثرار
10:54اور خطرناک ہیں
10:55کہ جو بھی ان کے قریب جانے کی کوشش کرتا ہے
10:57وہ کچھ عجیب و غریب واقعات کا سامنا کرتا ہے
11:00دلچسپ بات یہ کہ
11:01دریائے فرات کے کنارے بسنے والے مقامی
11:03لوگوں کی کہانیاں بھی اس سے ملتی جلتی ہیں
11:06ان لوگوں کے مطابق ان کے گھروں میں
11:07اشیاں بھی غائب ہو جاتی تھیں
11:09اور وہ اکثر عجیب و غریب آوازیں سننے کا دعویٰ کرتے تھے
11:12جو ان کے مطابق ان غاروں سے آتی تھیں
11:14ایک اور فرقے کے مطابق ان غاروں میں
11:16کچھ فرشتوں کو قید کیا گیا تھا
11:17جو اپنے آزاد ہونے کے لئے پکار رہے ہیں
11:20ان لوگوں کے مطابق ان غاروں میں
11:21ایسا کچھ چھپا ہوا ہے
11:23جو انسانوں کی سمجھ سے بالتر ہے
11:25اور جو ان جگہوں کے قریب جانے کی جورت کرتا ہے
11:28وہ نہ صرف خطرے میں ہوتا ہے
11:29بلکہ بعض اوقات ان غاروں سے آنے والی آوازیں بھی
11:32ان کی زندگیوں کو غیر معمولی طور پر متاثر کر دیتی ہیں
11:36یہ تمام واقعات اور انکشافات
11:38اس بات کا اشارہ ہے
11:39کہ دریائے فراد کے خوشک ہونے کے ساتھ ساتھ
11:41وہاں ہونے والی پوراسرار تبدیلیاں
11:44نہ صرف ماہرین بلکہ ان مقامی لوگوں کے لئے بھی
11:47ایک انوکی اور فکر انگیز حقیقت بن چکی ہیں
11:49ان غاروں اور پوراسرار اشیاء کی گمشدگی کے حوالے سے
11:52لوگوں کی کہانیاں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں
11:55کہ دریائے فراد کے اندر کچھ ایسا ہو رہا ہے
11:57جو وقت کے ساتھ ساتھ ایک اور اسرار کو جنم دے رہا ہے
12:01ناظرین فرشتوں کے وجود پر ایمان لانا ہمارے دین کا حصہ ہے
12:04لیکن باہیسیت مسلمان ہمارا اس نظریے کو لے کر
12:07کوئی عقیدہ یا یقین نہیں ہے
12:08کہ ان غاروں میں شیطان بستے ہیں
12:10یا فرشتوں کو قید کیا گیا ہے
12:12کیونکہ ایسی کوئی بات قرآن و حدیث سے ثابت نہیں ہے
12:15البتہ دریائے کی خوشکی کو قرب قیامت کی ایک نشانی ضرور بتایا گیا ہے
12:19جس پر ہم مسلمان ایمان رکھتے ہیں
12:21دوسری جانب مذہبی پیشواؤں سے ہٹ کر
12:23سائنسدانوں کی تحقیقات کو سامنے رکھا جائے
12:25تو ان آوازوں سے متعلق ان کا نظریہ بالکل الگ ہے
12:28سائنسدان جب سمندری زندگی کا متعلقہ کرتے ہیں
12:31تو ان کے لئے سب سے دلچسپ اور اہم چیز ان آوازوں کا تذزیہ ہوتا ہے
12:35جو مختلف سمندری مخلوقات جیسے کہ ویل اور ڈالفن پیدا کرتی ہیں
12:39ان آوازوں کو ریکارڈ کرنے کے لئے سائنسدان ہائیڈرو فونز جیسے آلات استعمال کرتے ہیں
12:44جو سمندری مخلوقات کی گفتگو اور ان کے ماحول کا متعلقہ کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں
12:49ہائیڈرو فونز ان جانوروں کی آوازوں کو ریکارڈ کرتے ہیں
12:53جسے سائنسدان ان کی زندگی کے مختلف پہلووں اور ان کے رہنے کے ماحول کو بہتر طور پر سمجھ پاتے
12:58ہیں
12:58اس کے علاوہ زمین کے اندرونی حرکتوں کی آواز سننے کے لئے سائنسدان جیو فونز کا استعمال کرتے ہیں
13:04جو زمین کی سطح یا اس کے نیچے ہونے والی ہلکی سے ہلکی حرکت کو بھی ریکارڈ کرنے کی صلاحیت
13:10رکھتے ہیں
13:10یہ تمام سائنسی آلات بہت حساس ہوتے ہیں
13:13اور سمندری دنیا یا زمین کی نشلی پرتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کو بڑی باریکی سے نوٹ کرتے ہیں
13:19ہائیڈرو فونز، جیو فونز اور جی پی آر یعنی گراؤنڈ پینٹریٹنگ ریڈار جیسے آلات ایک ساتھ استعمال کرتے ہوئے
13:27سائنسدان سمندری گہرائی یا زمین کے اندر کیا ہو رہا ہے اس کا پتہ لگا سکتے ہیں
13:32ان آلات سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا تجزیہ سائنسی تحقیقات کے لئے بہت اہمیت رکھتا ہے
13:37کیونکہ یہ معلومات سمندری دنیا کے نظام کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہیں
13:41تاہم یہ کہنا ہے کہ ان آلات سے حاصل ہونے والے تمام ڈیٹا کا تجزیہ ہمیشہ سادہ اور واضح ہوتا
13:46ہے درست نہیں ہوگا
13:48سائنسدانوں کو اس ڈیٹا کی تشریح کے لئے دیگر شعبوں کے ماہرین جیسے کے آثار قدیمہ، جغرافیہ اور ثقافتی علوم
13:54کے ماہرین کی مدد بھی درکار ہوتی ہے
13:56تاکہ وہ ان آوازوں اور موجودہ تبدیلیوں کا تفصیلی تجزیہ کر سکیں
14:01اسی وجہ سے دریا فراہ سے آنے والی آوازوں کے حوالے سے سائنسدان ابھی تک کسی حتمی نتیجے پر نہیں
14:06پہنچ پائے ہیں
14:07سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ آوازیں مختلف نویت کی ہیں اور ان آلات کی مدد سے ان آوازوں کو
14:12ریکارڈ کرنا اتنا آسان نہیں ہے
14:14یہ آلات اتنے بھی جدید نہیں کہ وہ سمندر کی گہرائی میں ہونے والی تمام تبدیلیوں کو مکمل طور پر
14:21نوٹ کر سکیں
14:21بعض آوازوں کی فریکونسی اتنی بلند یا اتنی کم ہوتی ہے کہ انہیں نہ تو سائنسدان خود سن سکتے ہیں
14:28اور نہ ہی ان کے آلات انہیں درست طریقے سے ریکارڈ کر پاتے ہیں
14:31اس کا مطلب یہ کہ کبھی کبھی آواز ریکارڈ تو ہو جاتی ہے لیکن اسے سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے
14:36اور یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ آواز کس چیز کی ہے یا اس کا کیا مقصد ہے
14:41یہی وجہ ہے کہ دریا فراہ سے آنے والی آوازیں بہت غیر معمولی سمجھی جارہی ہیں
14:45دریا کی پیشیدہ نویت اور اس میں ہونے والی مسلسل تبدیلیاں اس بات کو مزید پیشیدہ بنا دیتی ہیں
14:51دریا فراہ ایک بہت بڑا دریا ہے جس کے جغرافیہ دھانچہ پیشیدہ اور قدرتی ماحول بہت جاندار ہے
14:57اس دریا کا ایک بڑا حصہ وقت کے ساتھ خوشک ہو چکا ہے اور اس میں روزانہ کی بنیاد پر
15:02نئی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں
15:03سائنسی تحقیق کے لئے ضروری ہے کہ ماحول میں کسی حد تک استحقام ہو
15:07تاکہ متعلیہ اور تجزیہ زیادہ موثر ہو سکے لیکن دریا فراہ کی موجودہ حالت میں یہ استحقام نہیں ہے
15:14اب جبکہ سائنسی تان دریا فراہ کے مختلف حصوں خاص طور پر گہری کھائیوں اور غاروں سے آنے والی آوازوں
15:20کو سمجھنے میں ناکام ہیں
15:21مذہبی پیروکاروں کے لئے صورتحال کا فائدہ اٹھانا زیادہ آسان ہو چکا ہے
15:26کئی لوگ اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ ان غاروں میں شیطانوں کی موجودگی ہے
15:29اور یہ آوازیں دراصل شیطانوں کی قید میں پھسے ہوئے فرشتوں کی پکار ہیں
15:33چونکہ سائنس ابھی تک ان آوازوں کا کوئی واضح اور حتمی جواب نہیں دے سکی
15:38اس لئے یہ باتیں مذہبی حلقوں میں زیادہ قبولیت حاصل کر رہی ہیں
15:42یہ کیسا مسئلہ بن چکا ہے جس کی مختلف تفسیریں اور نظریات پیش کیے جا رہے ہیں
15:46اور اس میں حقیقت کیا ہے یہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا
15:50ناظرین عیسائی مذہب کا یہ نظریہ مسلمانوں کے نظریے سے بالکل الگ ہے
15:54بحیثیت مسلمان ہمارا اس بات پر یقین ہے کہ اس دنیا میں ایسی کوئی طاقت نہیں
15:59جو اللہ کی مرضی کے بغیر کسی کو قید کر سکے
16:01رہی ان خوفناک آوازوں کی تو یقیناً آج یکل سائنس دان اس بات کا خوش لگا ہی لیں گے
16:07تب تک ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا فوکس یہ ہونا چاہیے
16:11کہ دریا فراد کی خوشکی سے ہم کیا سبق لیتے ہیں
16:14کیا اس پیچگوئی کا پورا ہونا ہمارے لیے ایک یاد دہانی نہیں ہے
16:17کہ اس دنیا کو ایک دن ختم ہونا ہے
16:19اور ہمیں اگلی دنیا کی تیاری رکھنی چاہیے
16:22ناظرین یہاں کو دریا فراد کی مزید آمیں تو تاریخ بتاتے چلیں
16:25جس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں
16:27کہ کس طرح دنیا اس آخری جنگ کی طرح بڑھتی چلی جا رہی ہے
16:31جس کا تذکرہ احادیث مبارکہ میں بھی موجود ہے
16:34ناظرین یہ دریا ترکی سے گزرتا ہوا عرفہ کے شہر کے پاس شام کے علاقے میں داخل ہوتا ہے
16:39عرفہ وہی شہر ہے جہاں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو نمرود کی آگ میں پھینکا تھا
16:44اور آگ اللہ کے حکم سے سرد ہو گئی تھی
16:47آج بھی بلند پہاڑیوں پر وہ دو ستون استعدہ ہیں
16:51جن سے باندھ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو منجنیق نمہ بڑی غلیل سے نیچے جلائی گئی
16:56بلندیوں کو چھوٹی ہوئی آگ میں اچھالا گیا تھا
16:58آج اس آگ والی جگہ ایک خوبصورت آلاب ہے
17:01جس میں رنگ برنگی مشلیاں تیرتی ہوتی ہیں
17:04جرابلس کے شہر کے پاس سے گزرتا ہوا یہ دریا اس بڑے سہرہ نمہ میدان میں داخل ہو جاتا ہے
17:10جہاں آماق اور دابک کے مقامات ہیں
17:12یہ وہی مقامات اور سہرہ ہیں جہاں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
17:16اس بڑی جنگ کی پیشگوئی کی ہے
17:18جس میں اہل روم یعنی یورپ اسی جھنڈوں تلے اکھٹا ہو کر لڑنے آئیں گے
17:27اور ہر جھنڈے تلے بارہ ہزار سپائی ہوں گے
17:29یعنی نو لاکھ اسی ہزار انفینٹری
17:32اتنی بڑی تعداد بیق وقت ایک مہاز پر کسی جنگ میں آج تک استعمال نہیں ہوئی
17:36عراق میں یہ دریا علمبار کے علاقے سے داخل ہوتا ہے
17:39اسی دریا کے کنارے کربلا کا میدان ہے
17:41جہاں نوازہ رسول سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی المناک شہدت ہوئی تھی
17:46قربو جوار میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نجف ہے
17:49یہ دریا اپنے ہم رکاب ذرا فاصلے پر بہنے والے دریا دجلہ کے ساتھ ساتھ بہتا ہوا
17:56آپس میں مل کر شہط الارب کے مقام پر خلیج فارس میں ڈوب جاتا ہے
18:00سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے لے کر آج تک یہ دریا لا تعداد اہم واقعات کا شاہد ہے
18:06انہی دونوں دریاوں کے درمیان دنیا کے قدیم ترین تہذیب میسو پوٹیمیا آباد تھی
18:10جو تین ہزار سال قبل مسیح سے بھی پرانی ہے
18:13اس دریا کے کنارے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنا سفر شروع کیا
18:17مکہ کی وادی میں خان کعبہ کو اس کی بنیادوں پر استوار کیا
18:21سیدہ حاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے حوالے یہ مقدس ہر زمین کی
18:26اور خود یروشلم چلے گئے
18:28جہاں آج بھی الخلیل میں ان کا مزار ہے
18:30اس پورے سفر کے ہر شہر اور علاقے کو یہودی مقدس مانتے ہیں
18:34اور اس سے وابس حاصل کر کے آخری زمانے میں قائم ہونے والی
18:37عالمی یہودی سلطنت میں شامل کرنا چاہتے ہیں
18:40اسی فرات و دجلہ کے درمیان واقعی ڈیلٹا میں قادسیہ کی جنگ ہوئی تھی
18:44جہاں اپنے زمانے کی عالمی قوت
18:46ایران اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں
18:50عرب کے بادیا نشین مسلمانوں کے ہاتھوں
18:53زلت آمیش شکست کا شکار ہوئی تھی
18:55یہ دریہ جو شاید ابتدائی آفری نش سے بہتا چلا رہا ہے
18:59گزشتہ ایک صدی سے ایک مسلسل کشم کش
19:01اور قوت و طاقت کی مڈ بھیڑ دیکھ رہا ہے
19:04یہ کشم کش اس وقت سے شروع ہی
19:06جب اس کے کنارے پر موجود میدانوں اور سہراؤں میں تیل دریاؤں تھوا
19:12شام میں دیر الزور کے تیل کے چشم دریائے فرات کے دونوں کناروں پر واقع ہیں
19:16یہاں سے روزانہ تیس لاکھ پچاسی ہزار بیرل تیل نکالا جاتا ہے
19:21جبکہ عراق کے تیل کے کوئیں دجلہ و فرات دونوں دریاؤں کے آپس پھیلے ہوئے ہیں
19:25اور اس کے آس پاس ایک سو چالیس ارب بیرل کا زخیرہ موجود ہے
19:29یہ تیل گزشتہ ایک سو برس سے بلکہ کاغذی کرنسی کے مالیت متعین کرنے کے لیے
19:34سونے کا سب سے بڑا متبادل ہے
19:36گویا یہ آج کے دور میں وہی حیثیت رکھتا ہے
19:39جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سونے کی تھی
19:43اسی سونے کی تشبیح دیتے ہوئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
19:47فرات کے کناروں کا ذکر کیا
19:49آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
19:51انقریب دریاء فرات سے سونے کا پہاڑ نمودار ہوگا
19:54جب لوگ اس کے بارے میں سنیں گے تو اس کی طرف چل پڑیں گے
19:57اور جو پہاڑ کے پاس ہوں گے وہ کہیں گے
19:59کہ اگر ہم نے اسے چھوڑ دیا
20:00تو دوسرے لوگ اسے لے جائیں گے
20:02آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
20:04پھر اس غزانے کو حاصل کرنے کے لیے سب لوگ لڑیں گے
20:07اور سو میں سے ننان میں لوگ قتل ہو جائیں گے
20:13یہ جنگ کا آغاز
20:15اور اختتام کے بارے میں بھی حدیث
20:17صحی مسلم اور نئیم بن حماد کی کتب الفتن میں ہی ملتی ہے
20:20جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
20:23کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
20:26وہ وقت قریب ہے جب عراق والوں کے پاس
20:29نفیر یعنی غلہ اور درہم پیسے نہ آئیں
20:32ہم نے ارز کیا
20:33کیا کس سبب سے
20:34تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
20:36عجم غیر عرب ایرانی روک لیں گے
20:39اور پھر کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہا
20:41کہ وہ وقت بھی قریب ہے
20:43جب اہل شام پر بھی یہ پابندی لگا دی جائے گی
20:45پوچھا گیا یہ پابندی کس طرف سے ہوگی
20:48آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
20:50اہل روم مغرب والوں سے
20:52پھر تھوڑی دیر خاموشی کے بعد رشاد فرمایا
20:54میری امت میں ایک خلیفہ ہوگا
20:56جو لوگوں کو مان لپ لپ بھر کر دے گا
20:58اور شمار نہیں کرے گا
21:06اسلام یقیناً اپنی پہلی حالت کی طرف لوٹے گا
21:09جس طرح اس کی ابتدا مدینے سے ہوئی تھی
21:12صحیح مسلم
21:12یعنی فراد پر سونے کی پہاڑ کے لیے
21:15ہونے والی جنگ ایک سو میں سے
21:1699 افراد کی جان لے لے گی
21:18اور اس کے بعد امام مہدی یا خلیفہ مہدی
21:20مسلمانوں کی قیادت کریں گے
21:22اس جنگ کا آغاز اس وقت سے ہو گیا تھا
21:24جب 1912 میں تیل دریافت ہوا
21:26تو خلافت عثمانیہ نے ترکش آئل کمپنی بنائی
21:29اس کے ٹھیک چار سال بعد
21:306 نومبر 1916 کو برطانیہ نے
21:33عراق سے جنگ کا آغاز کیا
21:34اور 1917 میں بغداد پر قبضہ کر لیا
21:36حجاز میں انگریزوں کا ساتھ دینے والے
21:38شریف مکہ حسین بن علی کے بیٹے
21:41فیصل کو فراد و دجلہ کی سرزمین
21:43کا سربراہ بنایا گیا
21:451932 میں عراق کو آزاد کیا گیا
21:47تو تین سال بعد 1935 میں
21:49فراد کے کنارے ایک بہت بڑی شیعہ
21:51سنی لڑائی شروع ہو گئی جو ایک سال
21:52چلتی رہی اور ہزاروں انسانوں کی
21:54جانے لے گئی دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی
21:57تو ایک عرب قوم پرست رشید
21:58آلی اکلانی نے جرمنی کی مدد سے
22:01بغاوت کر دی اور عراق پر قبضہ کر لیا
22:03اسی وجہ سے برطانیہ نے عراق پر
22:05حملہ کیا اس خون ریز معارکے میں
22:07برطانیہ نے فتح حاصل کی لیکن پھر
22:08تقریباً سات سال یعنی چھے اکتوبر
22:111947 تک برطانوی
22:13فوجیں عراق میں رہیں اس وقت سے
22:15لے کر آج تکی خطہ مسلسل
22:16حالت جنگ برہا ہے
22:18بیرونی حملہ آور نہ بھی تھے
22:20تو آپس میں کبھی شیعہ سننی مار کے
22:21اور کبھی قوم پرست عرب
22:23یا دیگر کرد قوم پرست حکومت سے
22:25علشتے رہے اور فرات کے کنارے
22:26انسانوں کا خون بہتا رہا
22:28اسرائیل کے ساتھ بھی دو جنگیں ہوئیں
22:301948 میں اور دوسری
22:321967 میں دونوں جنگوں میں دریائے فرات
22:35پر آباد لوگوں نے
22:35ظلت آمیش شکست کھائی
22:371938 سے لے کر 1988 تک چلنے والی
22:40ایران اراق جنگ
22:41دس لاکھ انسانوں کا نظرانہ لے گئی
22:43صدام حسین کا اراق پہلے
22:46سوویت یونین کی سیاست کا کھاڑا تھا
22:47اور اس کے پڑوسی ایران پر
22:49خطے کا امریکی تھانے دار
22:51رضا شاہ پہلوی برسر اقتدار تھا
22:53لیکن آیت اللہ خمینی کے ایرانی انقلاب
22:55نے پورے خطے میں وفاداریوں کی بسات
22:57الٹ کر رکھ دی
22:58فرات کے کنارے آباد صدام حسین کے
23:01اراق نے ایران کو کمزور جانا اور اس پر
23:03جنگ مسلط کر دی
23:04اس آٹھ سالہ جنگ میں دس لاکھ لوگ لقمہ اجل بن گئے
23:07جنگ ختم ہوئی
23:08صرف تین سال عمد سے گزرے تھے
23:10کہ امریکہ نے اراق پر حملہ کر دیا
23:12اس سے پہلے صدام حسین کو اکسایا
23:13کہ کوئیت پر قبضہ کرو
23:15اور پھر فروری
23:161991 میں اراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی
23:19جنگ میں شکست کے بعد
23:20وہاں کی شیعہ اور کرد آبادی کو
23:22صدام کے خلاف بغاوت پر اکسایا گیا
23:25بدترین لڑائے ہوئی
23:26جس میں کیمیہ ہتھیار تک استعمال کیے گئے
23:28اقوام متحدہ نے وہاں کے کردوں کے لیے
23:30ایک محفوظ علاقہ مخصوص کیا
23:32جس پر اراق کے تیاروں کی پرواز منع کر دی گئی
23:35اس حد تک پابندیاں لگائے گئیں
23:37کہ دوائیاں تک روک لی گئیں
23:38ایک اندازے کے مطابق 20 لاکھ بچے
23:40صرف دوائے نہ ملنے پر
23:42موت کی آغوش بھی چلے گئے
23:43بدنا میں زمانہ تیل کے بدلے خوراک پروگرام شروع ہوا
23:46اور دنیا بھر کا کرپ مافیا
23:48اراقیوں کا تیل
23:49آنے پانے داموں خرید کر انہیں
23:51خوراک بہاں پہنچاتا رہا
23:53اس سالی صورتحال معاشی پابندی کے درمیان
23:55دسمبر 1998 میں
23:57امریکہ اور برطانیہ کے جنگی جہازوں نے
23:59اراق کے ٹھکانوں پر اس لیے حملہ کر دیا
24:01کہ انہیں شکتہ کے وہاں کیمیائی ہتھیار موجود ہیں
24:0411 ستمبر 2001 کے بعد
24:06دنیا بدلی تو فرات کا یہ کنارہ
24:08ایک دفعہ پھر لہو رنگ ہو گیا
24:10مارچ 2003 میں
24:12امریکہ نے اراق پر حملہ کر دیا
24:14اور پھر صدام کی 7 لاکھ فوج
24:16چشم زند میں غائب ہو گئی
24:17بیچ چوراہے میں لگا صدام کا مجسمہ
24:20امریکی فوجیوں نے گرایا
24:21اور بغداد کے تخت پر حکومت کے لیے
24:24ایک گورننگ کانسل بنا دی
24:25اس دن سے دسمبر 2005 تک امریکی افاج
24:28القائدہ و دشتگردی کے نام پر
24:30بغداد میں قتل عام کرتی رہی
24:31ناظرین کیسی کیسی کہانیاں ہیں
24:34جو اس دور میں منظر عام پر آئیں
24:36ابو غریب جیل میں انسانوں پر
24:37کتے چھوڑنے سے لے کر
24:39جنسی زیادتیاں تک سب کچھ ہوا
24:41فلوجہ موصل اور کرکو کے
24:43شہروں کو بار بار محاصرے ملے کر
24:45دشتگردوں کی تلاشی کے نام پر
24:47عام شہری تشدد اور قتل و غارت
24:49کا نشانہ بنایا گئے
24:50جون 2006 میں
24:51امریکیوں کے ہاتھوں ابو مصب
24:53زرقاوی کی شہدت کے بعد
24:55معاملہ تھوڑے ٹھنڈے ہوئے
24:56لیکن پھر شدید قسم کی
24:57شیعہ سنی جنگ کا آغاز ہو گیا
24:59سمارہ کے علاقے میں
25:00خودکش بمبار کے ہاتھوں
25:01لا تعداد شیعہ ظاہرین جاں بھاق ہوئے
25:04تو معاملہ مزید گھمبیر ہو گیا
25:06اگست 2007 میں
25:07کرد اور شیعہ لیڈران
25:08وزیراعظم نور المالکی کے حق میں
25:10اکھٹے ہو گئے
25:11لیکن یہ کسی سنی لیڈر کو
25:12ساتھ نہ ملا سکے
25:13خلیج بڑھتی گئی
25:15یہی وہ دور تھا جب
25:16عراق میں بلیک وارٹر کی
25:17موجودگی کا پتہ چلا
25:18جس نے ازراح عام لوگوں پر
25:20فائر کھول کر
25:20سترہ لوگوں کو
25:21لقمہ اجل بنا دیا تھا
25:232008 میں امریکی فوج نے
25:25حکومت سے معاہدہ کیا
25:26کہ امریکی فوج
25:272011 میں عراق سے نکل جائے
25:29دسمبر 2011 میں
25:31امریکی فوج وہاں سے نکلیں
25:32تو ستمبر 2013 میں
25:34سنی علاقوں میں بغاوش شروع ہو گئی
25:35اس ایک سال میں
25:377157 شہری دھماکوں میں
25:39ہلاک ہوئے
25:39پلوجہ رمادی کے علاقے
25:41میدان جنگ بن گئے
25:42علمبار سوبیر موصل کے علاقوں سے
25:44امرات اسلامی کے نام پر
25:45دائش کا آغاز ہوا
25:46اور اسی دریائے فراد کے کنارے
25:48انہوں نے عراق اور شام کے علاقوں میں
25:50اپنی حکومت کا اعلان کر دیا
25:52دائش کے خطرے کے بعد
25:53ستمبر 2014 میں
25:54شیعہ رہنما
25:55حیدر علیباد نے
25:57سنیوں اور کردوں کو
25:58ساتھ ملا کر حکومت قائم کی
25:59اگلی تین سال تک
26:00اسلامی امارات
26:01یعنی دائش کے خلاف
26:02جنگ کے سال تھے
26:03لیکن اس کے ساتھ ساتھ
26:04ایک اور توفان نے
26:05پورے مشرق بستہ کو گھیڑ لیا
26:07جسے عرب بہار کہتے تھے
26:09یہ آزادی جمہوریت
26:10اور حقوق کی جد جہود کے نام پر
26:12عرب ممالک پر قائم کی گئی دہائیوں کی
26:14عامریتوں کے خلاف
26:16ایک تحریک تھی
26:17جو تقریباً ہر ملک میں
26:18اچانک اٹھ کھڑی ہوئی
26:19تیونس کے علی زین العابدین کے
26:29لیکن اس کا اصل معارکہ شام کی سرزمین
26:31اور خصوصاً اسی فرات کے کنارے
26:33آج بھی برپا ہے
26:34گزشتہ آٹھ برسوں سے یہ سرزمین
26:36مسلمانوں کے خون سے رنگین ہو رہی ہے
26:39دمشق سے حلب
26:40عدلب
26:40رقع
26:41موصل
26:41بغداد
26:42فلوجہ
26:42ہر جگہ بشار الاسد کے مقابل
26:44عرب جہادی گروہوں
26:46اور ایرانی سرپرستی والی ملیشیوں کے درمیان
26:48ایک جنگ برپا ہے
26:50دریائے فرات
26:51آٹھ لاکھ مسلمانوں کے خون سے رنگین ہو چکا ہے
26:54دس لاکھ یتیم
26:55اردن
26:56اور سعودی عرب کے علاقے شام
26:57اور ترکی کے بارڈر پر موجود
26:59کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں
27:01ساٹھ لاکھ لوگ ہجرت کر کے
27:03دنیا بھر کے
27:03مختلف ممالک میں
27:05بے آرو مددگار پڑے ہیں
27:06فرانس کی مشہور سڑک
27:07شانز لیزے پر
27:08اگر آپ کو کسی کونے میں
27:10کوئی ہجاب والی عورت
27:11اپنے پیارے پیارے بچوں کے ساتھ
27:13بھیک مانگتی ملے
27:13تو جان لیں کہ وہ
27:15شام سے دربدر ہو کر
27:16یہاں پہنچی ہے
27:16جرمنی
27:17نوروے
27:18فرانس
27:18اسپین
27:19اور اٹلی کے شہروں میں
27:20سخت سردی کے عالم میں
27:21پلوں کے نیچے یہی
27:22شامی مسلمان ہیں
27:23جو قتل ہونے کی خوف سے
27:25یہاں نکلے ہیں
27:25صرف ترکی میں
27:26چالیس لاکھ مہاجرین ہیں
27:28ان سب ہجتزدوں کا
27:29علاقہ فرات کا کنارہ ہے
27:31دیروزور ہو
27:32یا حلب
27:33فلوجہ ہو یا موصل
27:34ہر جگہ صرف اور صرف
27:36قتل و غارت نظر آتی ہے
27:37لبنان کے بیروز سے لے کر
27:39ایران کے سرحد علاقے
27:40اردبیل تک یہ خطہ
27:41ایک بہت بڑی جنگ کی آگ میں
27:43جھوکا جا چکا ہے
27:44جس کا اشارہ
27:45رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
27:47نے فرمایا تھا
27:48قاسم سلمانی کی
27:49امریکیوں کے ہاتھوں شہادت
27:51بہت بڑا واقعہ ہے
27:52یہ واقعہ
27:53اس پورے خطے کو
27:54اس جنگ کی طرف لے جا چکا ہے
27:56جس کا اشارہ
27:56رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
27:58نے فرمایا تھا
27:59حضرت قاب رضی اللہ عنہ سے
28:01روایت ہے کہ
28:01آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
28:03نے فرمایا
28:03مشرقی سمندر دور ہو جائے گا
28:05اور اس میں کوئی کشتی بھی
28:07نہ چل سکے گی
28:08چنانچہ ایک بستی والے
28:09دوسری بستی میں نہ جا پائیں گے
28:11ابن ماجہ
28:11یہ اشارہ آب نائے حرمز کی طرف ہے
28:14جو تقریباً
28:14اکیس میل چوڑی ہے
28:15لیکن اس میں سے صرف
28:17دو میل چوڑائی ایسی ہے
28:18جہاں سے جہاز گزر سکتے ہیں
28:20اگر ایران ان دو میلوں کو
28:22اپنے میزائل کے نشانے پر رکھتا ہے
28:24تو کیا ہوگا
28:24عرب سے جانے والا تیل رک جائے گا
28:26لیکن امریکہ نے یہ چال
28:28سوچ سمجھ کر چلی ہے
28:29امریکہ اور یورپ
28:30اب سے یہاں تیل نہیں خرید رہے
28:32امریکہ تو ایک قطرہ بھی
28:34یہاں سے نہیں لیتا
28:34یورپ کا تیل
28:35روس اور ناروے سے آتا ہے
28:37اس بندرگاہ کو بند کرنے سے
28:38چین اور جاپان کا تیل رک جائے گا
28:40چین اور جاپان
28:41ایک دوسرا راستہ بھی اختیار کر سکتے ہیں
28:43جو یمن کی بندرگاہ
28:45ادن کے ساتھ باہرہ احمر میں ہے
28:46اور جاپان نے وہاں اپنی فوج اتار دی ہے
28:49لیکن وہاں بھی
28:50ہوسی باغیوں کی وجہ سے
28:51خطرناک صورتحال ہے
28:52ایران اس کے جواب میں
28:54لبنان، شام، یمن
28:55متحدہ عرب امارات، سعود عرب
28:57اور عراق میں
28:58امریکی آداب کو نشانہ بنا سکتا ہے
29:00ایسا کرنے سے
29:01امریکہ کا کچھ نقصان نہ ہوگا
29:02لیکن ان تمام ملکوں
29:04اور ایران کے درمیان
29:05ایک ناختم ہونے والی جنگ شروع ہو سکتی ہے
29:07یہ جنگ مسلمانوں کے گروہوں کے درمیان ہوگی
29:10اسی وجہ سے
29:11نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
29:13نے خاص طور پر
29:14دریائے فرات کے کنارے سونے کے پہاڑ کے حوالے سے
29:17امت کو خبردار کیا تھا
29:18آپ علیہ السلام نے فرمایا
29:20جلد ہی وہ وقت آئے گا
29:22جب دریائے فرات میں
29:23سونے کا پہاڑ ظاہر ہوگا
29:24پس جو شخص
29:25اس وقت وہاں موجود ہو
29:27اس خزانے میں سے کچھ نہ لے
29:28صحیح مسلم
29:29لیکن ممکن ہے کہ ہم مسلمانوں کے دو گروہوں
29:31اس بات سے باز نہ آئیں
29:32اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
29:35سب سے پہلے فارس والے ہلاک ہوں گے
29:37اور پھر ان کے پیچھے عرب والے
29:39اس آزمائش سے بچو
29:40اور اس جنگ سے الگ رہو
29:41کیونکہ یہ جنگ
29:42صرف مسلمانوں کے درمیان
29:43خون ریزی کرے گی
29:45ہم اللہ رب العزت سے دعا گو ہیں
29:46کہ وہ ہمیں اور ہمارے ایمان کو
29:48ایسی کسی بھی آزمائش سے محفوظ رکھے
29:50اور ہمیں ہدایت دے
29:52کہ ہم اپنی زندگیوں میں
29:53سیدھی راہ پر چلتے ہوئے
29:55ایمان کی حفاظت کے ساتھ
29:56اپنے رب کے سامنے پیش ہوں
29:58آمین
29:59ناظرین یہ تھی ہماری آج کی ویڈیو
30:01ہم امید کرتے ہیں
30:02کہ آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو
30:03ضرور پسند آئی ہوگی
30:04اگر آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو
30:06پسند آئی ہے
30:06تو آپ سے گزارش کرتے ہیں
30:07کہ آپ ہمارے چینل کو ضرور
30:09سبسکرائب کر لیں
30:10اور ساتھ ہی لگے
30:10بیل کے بٹن کو بھی پریس کر لیں
30:12تاکہ آپ کے پاس
30:13ہماری آنے والی
30:14مزید معلوماتی ویڈیوز
30:15کا نوٹفیکشن
30:16بروقت ملتا رہے
30:17سبسکرائب کے ساتھ
30:18ہماری ویڈیوز کو لائک بھی کریں
30:19اور اپنی قیمتی رائے کا اظہار
30:21کمنٹس میں ضرور کریں
30:22کمنٹس میں آپ اپنے سوالات بھی
30:24ہم تک پہنچا سکتے ہیں
30:25اللہ تعالیٰ آپ کو
30:26اپنے حفظ و مان میں رکھے
30:28آمین
Comments