History Of Taboot E Sakina - Taboot e Sakina Kahan Hai - Solomons Temple - Noor TV
In this fascinating video, Muslim Matters TV explores the history and mystery of Taboot-e-Sakina (The Ark of the Covenant), a sacred relic revered in Islamic, Jewish, and Christian traditions. Known as the chest of divine blessings, Taboot-e-Sakina holds significant importance in religious history, especially during the times of Prophet Musa (A.S.) and Prophet Suleiman (A.S.).
Key Highlights of the Video:
What is Taboot-e-Sakina?: Understanding its significance, sacred contents, and spiritual power.
Quranic and Historical References: How Taboot-e-Sakina is mentioned in the Quran and its role during the time of Bani Israel.
Connection to Solomon’s Temple: The historical link between Taboot-e-Sakina and the Temple of Solomon, including theories about its location.
Mystery of Its Whereabouts: Speculations about the current location of Taboot-e-Sakina and the ongoing search by historians and archaeologists.
Spiritual and Historical Lessons: The enduring legacy of Taboot-e-Sakina and what it symbolizes for believers.
This video provides authentic references from Islamic teachings and historical accounts, unraveling the mysteries surrounding this sacred artifact.
Muslim Matters TV encourages viewers to reflect on the spiritual significance of Taboot-e-Sakina, emphasizing its connection to faith, divine blessings, and humanity’s responsibility to honor Allah’s signs.
Watch this video to uncover the true story of Taboot-e-Sakina, its historical importance, and its mysterious connection to Solomon’s Temple.
#TabootESakina #ArkOfTheCovenant #MuslimMattersTV #IslamicHistory #SolomonsTemple #SacredRelics #ProphetMusa #DivineBlessings #QuranicStories #ReligiousHistory
In this fascinating video, Muslim Matters TV explores the history and mystery of Taboot-e-Sakina (The Ark of the Covenant), a sacred relic revered in Islamic, Jewish, and Christian traditions. Known as the chest of divine blessings, Taboot-e-Sakina holds significant importance in religious history, especially during the times of Prophet Musa (A.S.) and Prophet Suleiman (A.S.).
Key Highlights of the Video:
What is Taboot-e-Sakina?: Understanding its significance, sacred contents, and spiritual power.
Quranic and Historical References: How Taboot-e-Sakina is mentioned in the Quran and its role during the time of Bani Israel.
Connection to Solomon’s Temple: The historical link between Taboot-e-Sakina and the Temple of Solomon, including theories about its location.
Mystery of Its Whereabouts: Speculations about the current location of Taboot-e-Sakina and the ongoing search by historians and archaeologists.
Spiritual and Historical Lessons: The enduring legacy of Taboot-e-Sakina and what it symbolizes for believers.
This video provides authentic references from Islamic teachings and historical accounts, unraveling the mysteries surrounding this sacred artifact.
Muslim Matters TV encourages viewers to reflect on the spiritual significance of Taboot-e-Sakina, emphasizing its connection to faith, divine blessings, and humanity’s responsibility to honor Allah’s signs.
Watch this video to uncover the true story of Taboot-e-Sakina, its historical importance, and its mysterious connection to Solomon’s Temple.
#TabootESakina #ArkOfTheCovenant #MuslimMattersTV #IslamicHistory #SolomonsTemple #SacredRelics #ProphetMusa #DivineBlessings #QuranicStories #ReligiousHistory
Category
📚
LearningTranscript
00:02Real History of Taboot-e-Sakina
00:41Real History of Taboot-e-Sakina
01:00Real History of Taboot-e-Sakina
01:45Real History of Taboot-e-Sakina
02:00If you enjoyed our channel, don't forget to subscribe to our channel.
02:10We will see you soon.
02:11If you like this one, if you like this one, if we can see it, then the future will not
02:17be good.
02:18We will be looking forward to this channel.
02:19It's about its replacing buna.
02:19한대 jaanamka peeche juh maharikata kaar faarmaa hen
02:21on'ma ek bade buja
02:23inka apna nageayz wajud ko islami dunia se
02:26taslim karewaane ki kooshis hay
02:28is taslim ke zariyye wu nas saf muslimaan ose
02:30moashe fawait hhasil karna chaotate hain
02:32belkhe ane vale wakht ke liye
02:34apne taagat ko mazjid mazbubuot karne ke
02:37hikmete amal i porki paarein
02:39koran i kaçid aur taurat ame
02:40انki in kooshisho ka zikr paya jata hay
02:42un'ke khufia azayim me taabut sqeena ki
02:45tutash ko bhi e khas mqam haasil hay
02:47because they had a suitable for their own
02:50and their internal power to make disciples
02:54in their way,
02:55these kinds of people could make them
02:58in order to make them
02:59because they have built their own
02:59to make a big deal
03:00as a result of this.
03:02is, that is the word of Muslims, which is not道 of religion, which is our
03:06own country.
03:07The church has made it in the past, and the church has made it in its own country.
03:16The church has made it in the past, and in the past, the church has made it in the
03:32اور یہ عقیدہ موجود ہے کہ قیامت سے قبل یہ دوبارہ ظاہر ہوگا
03:36اور ایک بڑی تبدیلی کا پیشخیمہ بنے گا
03:38اس ثابت میں کیا چیزیں رکھی گئیں تھیں
03:40اس پر بھی مختلف حارہ پائی جاتی ہیں
03:42بعض روایات کے مطابق اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے
03:51دوستو یہ بھی یاد رکھیں کہ تابوت اس اقینہ کے بارے میں
03:54مسلمانوں یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان کئی اختلافات ہیں
03:57مگر ایک بات جس پر یہ تینوں مذاہب متفق ہیں
04:00He has a good risk of equality and importance of equality.
04:04He will take to relevant
04:07in order to become more important and alternative
04:18and
04:19ڈسکینہ کہا جاتا ہے تاریخی اور دینی طور پر اس تابوت کی اہمیت کو سمجھنا اور اس کے پیغام کو
04:25آگے بڑھانا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کیونکہ یہ نہ صرف ماضی کا ایک اہم حصہ ہے بلکہ مستقبل
04:30کے اہم ترین واقعہ سے بھی جڑا ہوا ہے ناظرین اکرام اس صندوق کو تابوت سکینہ اس لیے کہا جاتا
04:36ہے کیونکہ اس کے ذریعے لوگوں کے دلوں کو تسلی اتمنان اور سکون ملتا تھا اسے تابوت اس لیے کہا
04:42جاتا ہے کہ جو چیز اس میں رکھی جاتی تھی وہ مح
04:49صندوق بہت متبرک تھا اور فتح و نصرت کی علامت سمجھا جاتا تھا جب یہ صندوق ان کے ہاتھ سے
04:54نکل گیا تو پوری قوم غم و مایوسی کا شکار ہو گئی اور ہر کوئی یہ سمجھنے لگا کہ خدا
05:00کی رحمت ہم سے دور ہو گئی ہے اور ہمارے برے دن شروع ہو گئے ہیں یہودیوں اور مسیحیوں کے
05:06نظریے کے مطابق تابوت سکینہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے تیار کیا تھا اس میں وہ
05:12پتھر کی تختیاں رکھی گئی تھیں جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو
05:16کوہ سینہ پر عطا کی تھی اور جن میں یہودی شریعت کی تعلیمات لکھی ہوئی تھی مزید یہ بھی کہا
05:22جاتا ہے کہ اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا آسا اور من و سلوہ بھی رکھا گیا تھا جو
05:26اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لیے آسمان سے نازل کیا تھا یہ مقدس تابوت ہمیشہ مذہبی رہنماوں کے پاس
05:32رہتا تھا اور اس کی حفاظت کے لیے ایک فوجی دستہ بھی تائینات رہتا تھا بنی اسرائیل کی نزدیک یہ
05:37فتح اور برکت کی نشانی تھا اور جنگوں میں اسے لش
05:40کر کے آگے رکھا جاتا تھا تاکہ اس کی برکت سے فتح حاصل ہو لیکن جب بنی اسرائیل اللہ کے
05:45حکمات کی نافرمانی کرنے لگے اور کھلنم کھلہ وہ کام کرنے لگے جن سے اللہ نے انہیں روکا تھا تو
05:51یہ تابوت ان سے ایک جنگ کے دوران چھین لیا گیا اور انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا یہ تابوت
05:57بنی اسرائیل سے ایک جنگ کے دوران کھو گیا جس کے نتیجے میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا بعد
06:02ازا یہ تابوت حضرت تعلوت کے زمانے میں دوبارہ ان کو واپس مل گ
06:05اسی بارے میں قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے کہ ان کے نبی نے ان سے کہا تعلوت کی بادشاہی
06:11کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق واپس آ جائے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے
06:16سکون قلب کا سامان ہوگا اور وہ اشیاء بھی ہوں گی جو حضرت موسیٰ اور حضرت حارون نے چھوڑی تھی
06:21ان کو فرشتے اٹھا کر لائیں گے یقیناً اس میں تمہارے لیے ایک بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے
06:28ہو یہ تابوت جب تک مشرقین کے پاس رہا ان پر مشکلات اور بلائیں ن
06:35بیل گاڑی پر رکھا اور اپنے علاقے سے باہر نکال دیا فرشتوں نے اس بیل گاڑی کو ہاک کر دوبارہ
06:40بنی اسرائیل تک پہنچا دیا غالباً قرآن مجید میں بھی اسی واقعے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے حضرت دعوت
06:46علیہ السلام کے زمانے تک اس تابوت کیلئے کوئی خاص انتظام نہیں تھا اور اسے ایک الگ خیمے میں رکھا
06:50جاتا تھا بعد میں حضرت دعوت علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے اس کیلئے خدا کا گھر بنانا شروع
06:55کیا جو اس مقام پر تھا جہاں آ
06:57آج مسجد اقصہ موجود ہے یعظیم الشان گھر ان کے بیٹے حضرت سلمان علیہ السلام کے عہد میں مکمل ہوا
07:02اور اسے حیکل سلمانی کے نام سے جانا گیا اس گھر کی تعمیر کے بعد تابوت سکینہ کو پورے احترام
07:08کے ساتھ وہاں رکھ دیا گیا اور یوں یہ مقام یہودیوں کا مقدس ترین مقام بن گیا
07:14بعد کے ادوار میں ہونے والی جنگوں نے اس حیکل کو شدید نقصان پہنچایا بابل کے بادشاہ بخت نصر نے
07:20اس کو مکمل طور پر تباہ کر دیا اور اسے آگ لگا دی وہ یہاں سے مال غنیمت کے ساتھ
07:26تابوت سکینہ بھی لے گیا
07:27ناظرین کرام اس تباہی کے نتیجے میں آج اصلی حیکل کی کوئی چیز باقی نہیں ہے اور ان تمام تباہیوں
07:33کے نتیجے میں تابوت سکینہ بھی کہیں غائب ہو گیا جس کا آج تک کوئی نشان نہیں ملا
07:38بابل کے مطابق اس صندوق میں حضرت یوسف علیہ السلام کا جسد مبارک موجود تھا اور بعض روایات کے مطابق
07:45اس میں ان کی ہڈیاں اور کپڑے بھی رکھے گئے تھے
07:47جنہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام مصر سے اپنے ساتھ لائے تھے
07:50قصص الانبیاء میں یہ ذکر موجود ہے کہ اس مبارک صندوق میں تورات کا اصل نسخہ حضرت موسیٰ اور حضرت
07:57حارون کے عصہ پیرہن اور من کا مرتبان محفوظ تھے
08:01فلسطینیوں نے اس صندوق کو اسرائیلیوں سے چھین کر اپنے مندر بیت دجون میں رکھ دیا تھا
08:06قرآن مجید میں اس کے بارے میں وضاحت کی گئی ہے کہ جب یہ صندوق اسرائیلیوں کے ہاتھ سے نکل
08:12گیا
08:12تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اس کی حفاظت پر معمور کیا
08:15اس میں آل موسیٰ اور آل حارون کے چھوڑے ہوئے تبرکات شامل تھے
08:20جن میں پتھر کی وہ تختیاں بھی شامل تھیں جو اللہ تعالیٰ نے کوہ تور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام
08:25کو عطا کی تھی
08:26اس کے علاوہ اس میں تورات کا وہ اصل نسخہ موجود تھا جو حضرت موسیٰ نے لکھوا کر بنی لاوی
08:32کی حفاظت میں دیا تھا
08:33اور ایک بوتل بھی تھی جس میں من بھر کر محفوظ کیا گیا تھا
08:36تاکہ آنے والی نسلیں اللہ کے اس احسان کو یاد رکھیں جو سہرہ میں ان کے آباؤ اجداد پر ہوا
08:42تھا
08:42غالباً حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اصابی اسی صندوق میں موجود تھا
08:46آج بھی بہت سے ماہر آثار قدیمہ بالخصوص یہودی مذہب سے تعلق رکھنے والے محققین
08:51اس صندوق کی تلاش میں سرگردہ ہیں
08:54تاکہ اسے ڈھونڈ کر اپنی کھوئی ہوئی روحانی طاقت اور تاریخ کو واپس حاصل کر سکیں
08:58تابوت سکینہ میں موجود جگہ کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جاتی ہیں
09:03کچھ کے نزدیک اسے افریقہ لے جائے گیا
09:05جبکہ ایک مشہور آثار قدیمہ رون وائٹ کا کہنا ہے
09:08کہ یہ مشرق وستہ میں موجود ہے
09:10بعض لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ اسے انگلینڈ کے کسی علاقے میں تلاش کیا جانا چاہیے
09:14ناظرین اکرام بہرحال کوششیں جاری ہیں
09:17لیکن تحال انہیں ناکامی کا سامنا ہے
09:19سور سبا کی تفسیر میں علماء اکرام فرماتے ہیں
09:22کہ بیت المقدس کی تعمیر حضرت دعوت علیہ السلام نے شروع کی
09:25اور پھر حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس کی تکمیل فرمائی
09:35اگر حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کا علم ہو جائے
09:38تو فوراں کام چھوڑ دیں گے
09:39اور تعمیر مکمل نہ ہو سکے گی
09:41اسی لئے حضرت سلیمان علیہ السلام نے
09:43اللہ کے حکم سے ایسا انتظام کیا
09:45کہ جب موت کا فرشتہ آیا تو
09:47وہ موت کی تیاری کے لئے اپنے محراب میں داخل ہو گئے
09:50جو شفاف شیشے سے بنی ہوئی تھی
09:51باہر سے اندر کی تمام چیزیں نظر آتی تھی
09:54وہ اپنے معمول کے مطابق عبادت کے لئے
09:56ایک اصا کا سہارہ لے کر کھڑے ہو گئے
09:58تاکہ روح پرواز کرنے کے بعد بھی
10:01ان کا جسم اسی اصا کے سہارے
10:03اپنی جگہ برقرار رہے
10:04حضرت سلیمان علیہ السلام کی روح
10:06وقت مقررہ پر قبض کر لی گئی
10:08لیکن وہ اپنے اصا کے سہارے عبادت کی حالت میں
10:11کھڑے نظر آتے رہے
10:12جنات کو یہ دیکھنے کی جورت نہ تھی
10:14کہ قریب آ کر معلوم کریں
10:15وہ انہیں زندہ سمجھ کر تعمیر و مشغول رہے
10:17یہاں تک کہ سال بھر کا عرصہ گزر گیا
10:20اور بیت المقدس کی تعمیر کا
10:21باقی کام بھی مکمل ہو گیا
10:23تب اللہ تعالیٰ نے گھن کے کیڑے
10:25جسے فارسی میں دیوک اور اردو میں دیمک کہا جاتا ہے
10:29کو اصا سلیمانی پر مسلط کر دیا
10:31قرآن کریم میں اسے دابت الارد بھی کہا گیا ہے
10:33دیمک نے اصا کی لکڑی کو اندر سے کھوکلا کر دیا
10:36جس کے نتیجے میں اصا ٹوڑ گیا
10:38اور حضرت سلیمان علیہ السلام گر پڑے
10:40اس وقت جنات کو ان کی وفات کا علم ہوا
10:43تابوت سکینہ کے بارے میں
10:44سورہ بقرہ کی آیت نمبر
10:46دو سو اٹالیس میں
10:47اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے
10:49اور ان کے نبی نے ان سے کہا
10:50تعلوت کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے
10:53کہ تمہارے پاس وہ صندوق
10:55یعنی تابوت آ جائے گا
10:56جس میں تمہارے رب کی طرف سے سکون قلب کا سامان ہے
10:59اور آل موسیٰ اور آل حارون کے چھوڑے ہوئے تبرکات ہیں
11:03جسے فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے
11:05بے شک اس میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے
11:07اگر تم ایمان رکھتے ہو
11:09یہ آیت اس حقیقت کی تحضیق کرتی ہے
11:11کہ تابوت سکینہ
11:12اللہ تعالیٰ کی جانب سے
11:14ایک عظیم نشانی اور تسلی کا ذریعہ تھا
11:16ناظرین اکرام
11:17اگر تم مومن ہو
11:18اس آیت مبارکہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے
11:21کہ وہ صندوق
11:22اللہ تعالیٰ کی طرف سے
11:23تعلوت کے بادشاہ مقرر ہونے کی نشانی تھی
11:26یہ صندوق اللہ کی جانب سے
11:28ایک تسلی اور برکت کا ذریعہ تھا
11:30جس میں موسیٰ اور حارون کی
11:31آل کے چھوڑے ہوئے تبرکات موجود تھے
11:33بے شک اس آیت میں
11:34تابوت کا کوئی مخصوص نام نہیں دیا گیا
11:36لیکن واضح الفاظ میں یہ بیان کیا گیا ہے
11:39کہ اس میں تمہارے رب کی طرف سے
11:40سکون و اتمنان ہے
11:41اسی لیے
11:42اسے تابوت سکینہ کہا جاتا ہے
11:44یہ صندوق شمشات کی لکڑی سے بنایا گیا تھا
11:47جو اندر اور باہر دونوں طرف سے
11:49سونے سے مڑھا ہوا تھا
11:50حتیٰ کہ اس کا ڈھکن بھی سونے سے ڈھکا ہوا تھا
11:52یہ تین گز لمبا اور دو گز چوڑا تھا
11:55اس کے اوپر دو پرندے بنے ہوئے تھے
11:57تابوت سکینہ
11:58یا اس مقدر صندوق کے بارے میں
12:00مختلف آرہ اور روایات موجود ہیں
12:02کچھ موتبر روایات کے مطابق
12:04یہ حضرت آدم علیہ السلام پر نازل ہوا تھا
12:05یعنی جنت سے آپ کے ساتھ زمین پر اتارا گیا
12:08اور آپ کی وفات تک آپ کے پاس رہا
12:10پھر یہ نسل در نسل
12:11وراثت کے طور پر منتقل ہوتا رہا
12:13یہاں تک کہ یہ حضرت یعقوب علیہ السلام تک پہنچا
12:16پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے
12:18حضرت یوشیٰ علیہ السلام کو ملا
12:19اور ان کے بعد بنی اسرائیل کے قبضے میں آ گیا
12:22دلچسپ بات یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام
12:24اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حوالے سے
12:28اس تابوت کی منتقلی کے
12:29تھوش شباہد یا کوئی تحریر دستاویز نہیں موجود
12:32لیکن علماء قرآن کے مطابق یہ تابوت
12:35ایک لاکھ سے زائد انبیاء کی میراس رہا
12:37جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے خاتم النبیین
12:40حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک منتقل ہوا
12:43قیامت کے قریب امام مہدی کے پاس یہ تابوت ہوگا
12:46جو دنیا کے سامنے اس کی رونمائی کریں گے
12:48تابوت سکینہ تعلوت کی بادشاہی کی نشانی بھی تھا
12:52اور یہ امامت کی گواہی دے گا
12:54جس پر تقریباً تمام مذاہب
12:55اور مکاتب فکر کے لوگوں کا اتفاق ہے
12:58ناظرین حضرت بلقیس نے
13:00حضرت سلمان علیہ السلام سے شادی کے بعد
13:02اپنے وطن سباہ
13:03یمن واپس جانے کا فیصلہ کیا
13:05وہاں آپ کے ہاں ایک خوبصورت بیٹے کی پیدائش ہوئی
13:08جس کا نام ابن حکیم رکھا گیا
13:10جب یہ بیٹا 22 سال کا ہوا
13:12تو وہ اپنے والد حضرت سلمان علیہ السلام سے
13:14ملنے کے لیے یروش علم گیا
13:15جب اس نے واپسی کا قصد کیا
13:17تو حضرت سلمان علیہ السلام نے
13:19اس کے ساتھ کچھ درباری اور تابوت سکینہ بھی روانہ کیا
13:22حضرت بلقیس کی وفات کے بعد
13:24ابن حکیم بادشاہ بنے
13:25اور تاریخ انہیں میں نے لکھ اول کے نام سے جانتی ہے
13:28وہ ایک نہایت بردبار
13:30اقل مند اور طاقت پر بادشاہ تھے
13:32آپ نے اپنی سلطنت کو خوب ترقی دی
13:34اور تقریباً دو ہزار سال تک
13:35تابوت سکینہ کے وارث رہے
13:37اس صندوق میں وہ دس احکامات موجود تھے
13:40جو اللہ تعالی نے کوہ سینہ پر
13:42حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیے تھے
13:44کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے
13:46اس صندوق پر بنے دو کرو بھی
13:48فرشتوں کے درمیان سے کلام کرتا تھا
13:50تابوت سکینہ اور حیقل سلمانی
13:52بنی اسرائیل کی طاقت اور خوبصورتی کی علامت تھے
13:54حضرت موسیٰ علیہ السلام جنگوں میں
13:56تابوت سکینہ کو آگے رکھتے تھے
13:58اس کے برکت سے بنی اسرائیل کو سکون
14:00اور فتح نصیب ہوتی تھی
14:01جب بنی اسرائیل کو کوئی مشکل پیش آتی
14:04تو وہ صندوق کو سامنے رکھ کر دعا کرتے تھے
14:06اور اللہ کی مدد حاصل ہوتی تھی
14:08اگر ان کے درمیان کوئی اختلاف ہوتا تو
14:10تابوت سکینہ کے ذریعے فیصلہ کروائے جاتا
14:12اور فیصلے کی آواز صندوق سے آتی تھی
14:14اس کی برکت سے بلائیں اور آفات دور ہو جاتی تھی
14:16اسرائیلی تابوت سکینہوں کو
14:18اپنی قومی علامت سمجھتے تھے
14:20تابوت کے تحفظ کے لئے حضرت سلمان علیہ السلام کے دور میں
14:23ایک مضبوط امارت تعمیر کی گئی
14:25جسے حیکل سلمانی کہا جاتا ہے
14:26تاہم جب بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کے نافر مانی کرنے لگے
14:29تو ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوا
14:31قوم امالکہ کے ایک بڑے لشکر نے ان پر حملہ کیا
14:34ان کی بستیاں تباہ کر ڈالیں
14:35اور تابوت سکینہ بھی اٹھا کر لے گئے
14:38یہ واقعہ کچھ اس طرح بیان کیا جاتا ہے
14:40کہ قوم امالکہ نے مقدس صندوق کو
14:42ایک ناپاک جگہ پر رکھ دیا اور اس کی بے حرمتی کی
14:44جس کے نتیجے میں وہ مختلف ایماریوں میں
14:46مبتلا ہو گئے اور ان کی پانچ بستیاں
14:48ہلاک ہو گئیں انہیں یقین ہو گیا
14:50کہ یہ سب مقدس صندوق کی بے حرمتی
14:52کا نتیجہ ہے چنانچہ انہوں نے
14:54صندوق کو ایک بیل گاڑی پر رکھ کر
14:56بنی اسرائیل کی بستیوں کی طرف چھوڑ دیا
14:58یہ صندوق چار فرشتوں کے نگرانی میں
15:00اس وقت کے نبی حضرت سیدنا
15:02شمائل علیہ السلام تک پہنچا
15:04یوں بنی اسرائیل کو دوبارہ یعظیم نعمت
15:06حاصل ہو گئی
15:07اس واقعے کے بعد بنی اسرائیل نے حیکل سلمانی کو دوبارہ تعمیر کیا
15:10بعد ازہ رومیوں نے حملہ کر کے
15:12اسے دوبارہ تباہ کر دیا
15:13بعض تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ اہل بابل
15:16اس مقدس صندوق کو اپنے ساتھ لے گئے
15:18جبکہ ایک رائے یہ بھی کہ اسے آسمانوں پر
15:20اٹھا لیا گیا
15:21ایک اور قول کے مطابق قیامت کے قریب
15:23حضرت سیدنا امام مہدی جب تشریف لائیں گے
15:25تو اس صندوق کو فلسطین کی مشہور
15:28جھیل تبریہ سے نکالیں گے
15:29جبکہ کچھ روایات کے مطابق یہ صندوق
15:32ترکی کے شہر انتاقیہ کے کسی غار سے برامت ہوگا
15:35جب حضرت عمر رضی اللہ عنہوں نے
15:36اس سرزمین کو فتح کیا
15:37تو انہوں نے رومیوں کے ایک کلیسہ سے
15:39کچھ فاصلے پر دعا فرمائی
15:41جہاں بعد میں مسجد اقصہ کی تعمیر کی گئی
15:43یہودیوں کا دعوی ہے کہ جہاں مسجد اقصہ واقع ہے
15:46وہاں ان کی مقدس عبادتگاہ
15:48یعنی حیکل سلمانی تھا
15:49مسلمان اس جگہ کو اپنے لئے مقدس مانتے ہیں
15:51جبکہ یہودیوں کا عقیدہ ہے
15:53کہ مسجد اقصہ کو شہید کر کے
15:54وہاں حیکل سلمانی کو دوبارہ تعمیر کیا جائے گا
15:57وہ حیکل کے ایک پرانی دیوار میں
15:59واقع ایک دروازے کے متعلق یہ سمجھتے ہیں
16:01ایک قیامت سے قبل ان کے بادشاہ کی واپسی کا راستہ ہوگا
16:04ان کے عقیدے کے مطابق جب ان کا بادشاہ اس دروازے سے نکلے گا
16:07تو اس کی پیشے تمام مرد زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے
16:10البتہ مسلم روایات کے مطابق
16:12یہودیوں کا بادشاہ دجال ہے
16:14بائبل کے مطابق اس میں حضرت یوسف علیہ السلام کا جسد مبارک تھا
16:17اور بائبل ہی کی بعض روایات کے مطابق اس میں
16:20ان کی ہڈیاں اور کپڑے محفوظ تھے
16:22کہا جاتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام
16:24اسے مصر سے اپنے ساتھ لائے تھے
16:25قصص الانبیاء میں ذکر ہے کہ اسی متبردک صندوق میں
16:28تورات کا اصل نسخہ ہے
16:29حضرت موسیٰ اور حضرت حارون کے لباس
16:32اور من کا مرتبان محفوظ ہے
16:34ناظرین کرام بنی اسرائیل بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں
16:38حضرت عساق علیہ السلام جو حضرت اسمائل علیہ السلام کے بھائی تھے
16:41نے بیت المقدس میں عبادتگاہ بنائی
16:43جبکہ حضرت اسمائل علیہ السلام نے خان کعبہ کی بنیاد رکھی
16:46حضرت عساق علیہ السلام کے بیٹے
16:48حضرت یعقوب علیہ السلام
16:49جنہوں نے اپنا لقب اسرائیل رکھا
16:51اپنے اہل و ایال کے ساتھ
16:52موجودہ فلسطین اور بیت المقدس کو اپنا وطن بنایا
16:55دوسری طرف حضرت اسمائل علیہ السلام کے اولاد نے خان کعبہ کو اپنا وطن بنایا
16:59خان کعبہ کو اپنا وطن بنایا
17:01حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں میں سے
17:03حضرت یوسف علیہ السلام تھے
17:05جنہیں ان کے بھائیوں نے حسد کی بنا پر
17:07کوئے میں ڈال دیا تھا
17:08بعد ازا انہیں غلام بنا کر مصر میں فروخت کیا گیا
17:10حضرت یوسف علیہ السلام بعد میں
17:12عزیز مصر کے عہدے پر فائز ہوئے
17:14اور مصر کے والی کہلائے
17:15مصر کے والی بننے کے بعد
17:17حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنی قوم
17:19یعنی بنی اسرائیل کو اپنے آبائی وطن فلسطین سے مصر بھلا لیا
17:22لیکن وقت گزرنے کے ساتھ
17:24فیرون نے انہیں غلام بنا لیا
17:26اور ان سے سخت مشقت لینے لگا
17:27بعد ازا حضرت مصر علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو
17:30فیرون کی غلامی سے نجات دلائی
17:32اور انہیں ان کے آبائی وطن یعنی بیت المقدس
17:34فلسطین واپس لے آئے
17:36برسوں بعد بنی اسرائیل پر ایک اور قوم نے قبضہ کر لیا
17:39اور انہیں دوبارہ غلام بنا لیا
17:41سینائے کے علاقے میں حضرت دعوت علیہ السلام پیدا ہوئے
17:43جنہوں نے بیت المقدس پر قابض
17:45بادشاہ کی مدد کی
17:46اور بیرونی حملہ آوروں کے خلاف جنگ کی
17:49حضرت دعوت علیہ السلام نے طاقتور
17:50ایرانی بادشاہ جالوت کو جنگ میں قتل کر دیا
17:53فلسطین کے بادشاہ
17:54سور نے اپنی بیٹی کی شادی
17:56حضرت دعوت علیہ السلام سے کر دی
17:57حضرت دعوت علیہ السلام فلسطین کے بادشاہ بنے
18:00اور بنی اسرائیل دوبارہ بیت المقدس میں آباد ہو گئے
18:03حضرت دعوت علیہ السلام کی وسال کے بعد
18:05حضرت سلمان علیہ السلام فلسطین کے بادشاہ بنے
18:08and this was the time when the Jews came into a stronghold of the army.
18:12The two of them is the king of Israel.
18:13The oldest of Israel came into the land of Gimarahii.
18:16And in the college of Kabao, the king of Kabao is not a burden of mercy.
18:21The king of Suleiman of S.A.S. has a priest of Suleiman.
18:26In this place, the king of Suleiman of S.A.S. has been
18:28the king of Israel for the two men.
18:30The one, the two, is one, twenty thousand,
18:35and the two, twenty thousand,
18:37is
18:37really important.
18:41He has told that
18:43He has called
18:43He has a
18:48powering
18:48which
18:48He has
18:48a
18:49wall
18:49which
18:49should
18:49be
18:49and
19:04be
19:04które in bia ki paidahshagabhi benyi
19:06yehan baas se in bia paidah hoy
19:07bahaar se akar abad hoy
19:09an mehyzuti yakub al-aslam
19:11hz. yusuf al-aslam
19:13hz. daud al-aslam
19:14hz. suleiman al-aslam
19:15hz. yafs.
19:17hz. musa al-aslam
19:18hz. isa al-aslam
19:20اور dhg'r abanaaz shamil hai
19:22is modus ir zemien meh beshumar
19:24ambiyah ke mazharat bhi mazharata bi moujud.
19:25yeh maqam flistiin hai
19:27joh majh kal israel ke naamse jana jata hai
19:30حضرت یعقوب علیہ السلام نے اللہ کے حکم کے مطابق
19:32محجد بیت المقدس یعنی محجد اقصہ کی بنیاد رکھی
19:36اور اسی وجہ سے یہ جگہ آباد ہوئی
19:38حضرت یعقوب علیہ السلام کو اسرائیل بھی کہا جاتا ہے
19:40اور آپ ہی کی اولاد کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے
19:44حضرت موسیٰ علیہ السلام نے برسوں سرائے سینہ میں رہنے کے بعد
19:47اپنی قوم کے لیے ایک عبادت کا خیمہ بنایا
19:50یہ خیمہ 25 فٹ لمبا 5 فٹ چوڑا اور 15 فٹ اونچا تھا
19:54اس میں عبادت قربانی اور تابوت سکینہ کی جگہ مخصوص کی گئی تھی
19:59حضرت جالود کے دور تک بنی اسرائیل اسی خیمہ کو اپنے قبلہ سمجھ کر عبادت کرتے رہے
20:04حضرت دعوت علیہ السلام کے دور حکومت جو تیس سال پر محیط تھا
20:07میں اس خیمہ کو بیت المقدس میں کوہ سیہون پر ایک جگہ مستقل نصب کر دیا گیا
20:13اس مقام کو بیت ایل یعنی اللہ کا گھر کہا جانے لگا
20:17اسی جگہ قدابند کریم حضرت دعوت علیہ السلام سے ہم کلام ہوا
20:21اور اس مقام کا نام حیبرون رکھا گیا
20:24حضرت سلمان علیہ السلام جن کا دور حکومت انتالی سال رہا
20:27انہوں نے عبادت کے خیمے کی جگہ ایک عظیم الشان عبادت تعمیر کروائی
20:32جسے حیکل کہا گیا
20:34اس عمارت کی تعمیر میں جنات کی مدد لی گئی
20:36اور قیمتی پتھروں کو تراش کر دیواروں میں لگایا گیا
20:39ان دیواروں میں یاکود، زمرد اور سونے چاندی کی تختیاں نصب کی تھی
20:43جن پر آلہ درجے کے موطی جڑے ہوئے تھے
20:45فرش فیروزے کا تھا
20:47ساتون یاکود کے تھے
20:48اور چھت جواہرات کی بنی ہوئی تھی
20:50جن کی چمک اتنی تھی کہ رات کے وقت بھی روشنی کی ضرورت نہ پڑتی تھی
20:54ایک خاص کمرہ تابوتی سکینہ کے لیے وقف کیا گیا تھا
20:57جسے قدس کا نام دیا گیا
20:59یہ عمارت 20 سال میں مکمل ہوئی
21:01ناظرین سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر
21:03اس لکڑی کے صندوق میں ایسا کیا خاص تھا
21:05جس کے لیے یہودی دیوان آواز اس کی تلاش میں مصروف ہیں
21:08یہ صندوق بنی اسرائیل کے ایک نبی سے دوسرے نبی تک منتقل ہوتا رہا
21:12اور اس میں انبیاء کی ذاتی اور کراماتی اشیاں محفوظ تھیں
21:15اس تابوت کو رکھنے کے لیے اسی سرزمین کا انتخاب کیا گیا
21:18جسے خداوند کریم نے برکت والی زمین کہا
21:21اور جو انبیاء کی زمین کہلائی
21:22جو سب سے پاک و بڑتر مقام ہے
21:24تابوت سکینہ کی اہمیت کا اندازہ لگانا
21:27سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے
21:29اس کی اہمیت لا محدود ہے
21:31اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی تین ہزار سال بعد دنیا بھر کے اقوام
21:35چاہے وہ مسلمان ہوں عیسائی ہوں یا یہودی
21:38اس کی تلاش میں سرگردہ ہیں
21:39یہ تابوت محض ایک صندوق نہیں
21:41بلکہ فتح و کامرانی کی علامت ہے
21:43تابوت سکینہ اور حیقہ علیہ السلمانی کا ذکر ہمیشہ ساتھ آتا ہے
21:47حیقہ علیہ السلمانی حضرت سلمان علیہ السلام کی تعمیر کردہ عبادتگاہ کا نام ہے
21:51جو موجودہ بیت المقدس یعنی مسجد اقصہ کے مقام پر تھی
21:55حضرت سلمان علیہ السلام اللہ کے برگزید نبی اور حضرت دعوت علیہ السلام کے بیٹے تھے
22:00وہ متحدہ اسرائیل پر 931 قبل مسیح سے 970 قبل مسیح تک حکومت کرتے رہے
22:05ان کے بعد ملک اسرائیل دو حصوں میں تقسیم ہو گیا
22:09شمالی اور جنوبی
22:10حضرت سلمان علیہ السلام کا سلسلہ نسب
22:12یہودہ اولاد یعقوب علیہ السلام کے ذریعے حضرت یعقوب علیہ السلام سے جا ملتا ہے
22:17ناظرین حضرت سلمان علیہ السلام کو قرآن پاک میں
22:20اولاد ابراہیم میں شمار کیا گیا ہے
22:22ان کی حکومت کا ایک بہت بڑا انتیاز یہ تھا
22:25کہ ان کے زیر نگین صرف انسان ہی نہیں
22:27بلکہ جننات اور ہیوانات بھی تھے
22:29یہ سب حضرت سلمان علیہ السلام کے حاکمان اقتدار کے تابع
22:33اور ان کے حکم کے پابند تھے
22:34اللہ تعالیٰ نے جننات کو ایسی مقلوق بنایا ہے
22:37جو مشکل سے مشکل اور سخت سے سخت کام انجام دے سکتی ہے
22:41حضرت سلمان علیہ السلام نے ارادہ فرمایا
22:43کہ مسجد یعنی بیت المقدس
22:45حیق علیہ السلمانی کے چاروں جانب
22:46ایک عظیم اور شاندار شہر آباد کیا جائے
22:49اور مسجد کی تعمیر بھی بہت انداز میں کی جائے
22:52ان کے خواہش تھی
22:53کہ مسجد اور شہر کو قیمتی پتھروں سے بنائے جائے
22:55اور اس کے لیے
22:56دور دراز علاقوں سے حسین اور بڑے بڑے پتھر
22:59مگمائے جائے
22:59ظاہرے کہ اس زمانے کے محدود وسائل کے ساتھ
23:02حضرت سلمان علیہ السلام کی خواہش کی تکمیل
23:04ممکن نہ تھی
23:05یہ کام صرف جنناتی انجام دے سکتے تھے
23:07لہٰذا انہوں نے جننات سے یہ خدمات لیں
23:09چنانچہ جننات دور دراز علاقوں سے خوبصورت
23:12اور قیمتی پتھر جمع کر کے لاتے
23:14اور بیت المقدس کی تعمیر کا کام انجام دیتے
23:17حیق علیہ السلمانی
23:18اور اس کی تعمیر کا ذکر تورات
23:20اور انجیل میں بھی موجود ہے
23:21تابوت سکینہ اور حیق علیہ السلمانی کی داستان
23:24ہمیں یہ سبق دیتی ہے
23:25کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل کی گئے
23:27نشانیوں اور برکتوں کی عظمت کو سمجھنا
23:30اور ان کا اعترام کرنا
23:31ہر مومن کے ذمہ داری ہے
23:33یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے
23:34کہ اللہ کی نعمتوں کے حصول کے لیے
23:36ایمان اطاعت اور قرمانی کی اہمیت کیا ہے
23:39بنی اسرائیل کی تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے
23:42کہ جب انسان اللہ کے احکامات سے روح گردانی کرتا ہے
23:45تو برکتیں چھین لی جاتی ہیں
23:46اور جب وہ رجوع کرتا ہے
23:48تو رب العالمین اپنی نعمتوں سے نوازتا ہے
23:51یہ داستان ہمیں اس بات پر بھی غور کرنے کی دعوت دیتی ہے
23:54کہ قیامت کے قریب ظاہر ہونے والی نشانیوں
23:56اور پیشگوئیوں کی تیاری کیسے کی جائے
23:59اور اپنے ایمان کو کیسے مضبوط رکھا جائے
24:01امید ہے کہ اس موضوع پر باتچیت آپ کو
24:04نہ صرف علم و آگاہی فراہم کرے گی
24:05بلکہ دین اور دنیا
24:07دونوں میں توازن رکھنے کے لیے رہنمائی بھی دے گی
24:09اللہ تعالی ہمیں ان عظیم نشانیوں سے سبق حاصل کرنے
24:12اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
24:15آمین
24:16ناظرین یہ تھی ہماری آج کی ویڈیو
24:18امید کرتے ہیں کہ آپ کو یہ ویڈیو پسند آئی ہوگی
24:21اگر آپ کو یہ ویڈیو اچھی لگی ہو
24:22تو ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں
24:24کہ آپ ہمارے چینل کو سبسکرائب ضرور کریں
24:27ساتھی گھنٹی کے نشان بیل آئیکن کو دبانا نہ بھولیں
24:29تاکہ آپ کو ہماری آنے والی مزید معلوماتی
24:32اور سبق آموز ویڈیوز کا نوٹفیکشن بروقت ملتا رہے
24:36سبسکرائب کرنے کے ساتھ ہماری ویڈیوز کو لائک کریں
24:38اور اپنی قیم ترائے کامنٹس میں ضرور شیئر کریں
24:41آپ کی حوصلہ افضائی ہمارے لیے بہت اہم ہے
Comments