In this captivating video, Noor TV uncovers the mystery of the gold treasure found in the River Furat (Euphrates) and its connection to Islamic prophecies about the End Times (Qayamat). The River Furat, mentioned in authentic Hadith, holds significant eschatological importance, with Prophet Muhammad ﷺ foretelling that it would one day uncover a mountain of gold, leading to turmoil and bloodshed.
Key Highlights of the Video:
The Prophecy About Furat: Authentic Hadith about the Euphrates River revealing a mountain of gold as a sign of Qayamat.
Recent Events: Analysis of the discovery of a gold treasure in the Furat and its alignment with Islamic prophecies.
Lessons from the Prophecy: Spiritual and moral lessons to be learned from this event, emphasizing restraint, faith, and reliance on Allah.
Warnings for Believers: The dangers of greed, materialism, and its consequences as described in Islamic teachings.
Preparing for Qayamat: How to strengthen your faith and good deeds in light of these signs.
This video combines authentic references, expert analysis, and spiritual reflections, highlighting the importance of focusing on faith and moral values rather than worldly wealth.
Noor TV encourages viewers to view this event as a reminder of Allah’s power and the temporary nature of material possessions, preparing themselves for the challenges and rewards of the Hereafter.
Watch this video to understand the spiritual significance of the Furat River's gold treasure, its connection to Qayamat, and how to navigate these times with faith and wisdom.
#FuratKaKhazana #QayamatKiNishaniyan #NoorTV #IslamicTeachings #ProphecyFulfilled #RiverEuphratesGold #FaithAndGreed #EndTimesProphecies #IslamicHistory #SignsOfJudgmentDay
Key Highlights of the Video:
The Prophecy About Furat: Authentic Hadith about the Euphrates River revealing a mountain of gold as a sign of Qayamat.
Recent Events: Analysis of the discovery of a gold treasure in the Furat and its alignment with Islamic prophecies.
Lessons from the Prophecy: Spiritual and moral lessons to be learned from this event, emphasizing restraint, faith, and reliance on Allah.
Warnings for Believers: The dangers of greed, materialism, and its consequences as described in Islamic teachings.
Preparing for Qayamat: How to strengthen your faith and good deeds in light of these signs.
This video combines authentic references, expert analysis, and spiritual reflections, highlighting the importance of focusing on faith and moral values rather than worldly wealth.
Noor TV encourages viewers to view this event as a reminder of Allah’s power and the temporary nature of material possessions, preparing themselves for the challenges and rewards of the Hereafter.
Watch this video to understand the spiritual significance of the Furat River's gold treasure, its connection to Qayamat, and how to navigate these times with faith and wisdom.
#FuratKaKhazana #QayamatKiNishaniyan #NoorTV #IslamicTeachings #ProphecyFulfilled #RiverEuphratesGold #FaithAndGreed #EndTimesProphecies #IslamicHistory #SignsOfJudgmentDay
Category
📚
LearningTranscript
00:02ڈریا فرات سے سونے کا خزانہ مل گیا قیامت کی نشانی پوری بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم رحمت اللہ
00:12وبرکاتہو
00:12دنیا کے سب سے عظیم دریاؤں میں سے ایک دریاء فرات ایک ایسا راز اپنے اندر چھپائے ہوئے ہے جو
00:20ہزاروں سالوں سے انسانوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے
00:23کیا یہ واقعی وہی وقت ہے جس کی پیشگوئی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی تھی
00:29کیا سونے کا پہاڑ زمین سے نکلنے کے قریب ہے
00:32دریاء فرات کی تاریخی اہمیت اور اس کے خوشک ہونے کی حیرت انگیز داستانوں کے پسے منظر میں
00:38آج ہم آپ کو وہ حقائق بتائیں گے جو ایمان کو تازہ کر دیں گے اور وقت کی نزاکت کو
00:43اجاگر کریں گے
00:44آئیے اس راز سے پردہ اٹھائیں جو قیامت کی نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی کے طور پر ہمارے سامنے
00:51آیا ہے
00:51ناظرین آج کی ویڈیو کا موضوع ایک نہایت اہم اور تاریخی پہلو پر مبنی ہے
00:56دریاء فرات سے سونے کے پہاڑ کا ظہور
00:59اس ویڈیو میں ہم قرآن و حدیث کی روشنی میں اس پیشگوئی کے مفہوم
01:02اس کے اثرات اور قرب قیامت کی نشانیوں پر تفصیل سے بات کریں گے
01:07آپ جانیں گے کہ یہ دریاء فرات کب اور کیسے خوشک ہوگا
01:10اور اس کے ساتھ ظاہر ہونے والے سونے کے پہاڑ کے متعلق
01:14رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا ارشادات فرمائے ہیں
01:18اس کے علاوہ ہم تاریخ کے ان پہلووں کو بھی بیان کریں گے
01:22جن میں دریاء فرات کی تہذیبی اہمیت
01:24مختلف ادوار میں پیش آنے والے عظیم واقعات
01:27اور اس کے کنارے بسی تہذیبوں کا ذکر شامل ہوگا
01:30یہ ویڈیو آپ کو نہ صرف ایمان کی تجدیر کا موقع دے گی
01:34بلکہ وقت کی نزاکت کو سمجھنے کا شعور بھی فراہم کرے گی
01:38اس ویڈیو کو آخر تک دیکھیں اور اپنی قیمتی رائے کا اظہار کریں
01:41اسے اپنے دوستوں اور اہل خانہ کے ساتھ ضرور شیئر کریں
01:44تاکہ سب اس عظیم پیش گوئی اور اس کے ممکن اثرات کے بارے میں جان سکیں
01:48اگر آپ کو یہ ویڈیو پسند آئے تو ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں
01:51لائک کریں اور ہمیں اپنی دعاوں میں یاد رکھیں
01:54ناظرین اکرام
01:55دوہزار چوبیس میں ایسی خبریں اور ویڈیوز تیزی سے گردش کر رہی تھیں
02:00جن میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ دریائے فرات میں سونے کا پہاڑ ظاہر ہو گیا ہے
02:03جو قرب قیامت کی ایک نشانی ہے
02:06بہت ساری ایسی چیزیں ہیں جن کے بارے میں گمان کیا جاتا ہے
02:09کہ ان نشانیوں کے پورا ہونے سے قیامت بلکل قریب آ چکی ہے
02:12ان میں سے ایک دریائے فرات کا خوشک ہونا اور اس سے برامد ہونے والی چیزیں
02:16آج ہم آپ کو تاریخی دریائے فرات کے بارے میں تفصیلات فراہم کریں گے
02:20اس کی تاریخ اہمیت اور دریائے دجلہ سے اس کا تعلق اور فاصلہ بھی بیان کریں گے
02:26یہ ایسا دریائے ہے جس کا ذکر احادیث اور دیگر روایات میں ملتا ہے
02:29اور اس سے کئی تاریخی روایات وابستہ ہیں
02:32دریائے فرات قدیم دور کے بہت سے اہم واقعات کا چشم دید گواہ ہے
02:36خواتین و حضرات مسلم دنیا میں دریائے فرات محض ایک دریائے نہیں
02:41بلکہ اسے قرب قیامت کو ظاہر کرنے والی نشانیوں میں سے ایک سمجھ جاتا ہے
02:45ناظرین کرام دریائے فرات جسے اسلامی تاریخ میں بے پناہ اہمیت حاصل ہے
02:51کئی احادیث میں قرب قیامت کے نشانیوں کے طور پر ذکر کیا گیا ہے
02:55نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
02:59کہ قیامت کے قریب یہ دریائے خوشک ہو جائے گا
03:02اور اس میں سے سونے کا پہاڑ نمودار ہوگا
03:04یہ پیجگوئی نہ صرف مسلمانوں بلکہ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے لیے بھی دلچسپی کا مرکز رہی ہے
03:09مشرقی ترکی سے نکلنے والا یظیم دریائے
03:12ترکی شام اور عراق سے گزرتا ہوا تقریباً
03:16اٹھائیس سو کلومیٹر کا فاصلہ تیہ کر کے خلیج فارس میں جا گرتا ہے
03:20اس دریائے کی کنارے صدیوں سے انسانی تہذیبوں کی بنیاد رہی ہے
03:24جہاں کئی ریاستیں آباد ہوئیں اور زوال پذیر ہوئیں
03:27دریائے فرات اور دریائے دجلہ کا خطہ
03:29اپنی ذرخیزی اور تاریخی اہمیت کے باعث
03:32ہر دور میں انسانوں کے لیے خواب جیسا رہا ہے
03:34آج اس دریائے کے خوشک ہونے کی خبریں اور اس کے ساتھ جڑی پیجگوئیاں
03:38ایک بار پھر پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبزول کرا رہی ہے
03:42ناظرین اکرام دریائے فرات اور دریائے دجلہ
03:45انسانی تہذیب کے قدیم ترین مراکز میں سے ہیں
03:48جنہوں نے مختلف قوموں اور تہذیبوں کی بنیاد رکھی
03:51ان کے کناروں پر سمیر، بابلی، آشوری اور آقامی تہذیبیں پروان چڑھیں
03:57جو تاریخ کے عظیم شہکاروں میں شامل ہیں
03:59دریائے نیل کی طرح ان دریائوں نے بھی
04:01ذرخیزی اور تمدن کے فروغ میں نمائے کردار ادا کیا
04:05دریائے فرات کے بارے میں مشہور ہے
04:07کہ اس نے تقریباً تین ہزار سال قبل
04:09خطے کی ذریع آرازی کو سہراب کیا
04:11اور کہا جاتا ہے کہ اس کارنامے کے پیچھے
04:14آشوری بادشاہ نمرود کی قیادت تھی
04:17جس نے غلاموں کی مدد سے اس منصوبے کو حقیقت بنایا
04:20دجلہ جسے یونانی زبان میں
04:22تیگریس اور فارسی میں تغلات کہا جاتا ہے
04:25اپنی تیز رفتار روانی کی وجہ سے مشہور ہے
04:28یہ دریائے فرات کے بعد اناتولیا کا دوسرا سب سے طویل دریائے ہے
04:32روایت کے بطابق حضرت دانیہ علیہ السلام پر نازل ہونے والی وحی کے لیے
04:36یہ دریائے وسیلہ بنا
04:37اور اسی وجہ سے اسے دنیا کے مقدس ترین دریائوں میں شمار کیا جاتا ہے
04:42دریائے فرات پر قائم اتا ترک بیراج
04:44ترکی اور یورپ کا سب سے بڑا بیراج ہے
04:47جو اس دریائے کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے
04:50دریائے فرات اور دجلہ نے
04:52نہ صرف تہذیبوں کو جنم دیا
04:53بلکہ متعدد جنگوں
04:54عشقی اداستانوں
04:56اور تاریخی واقعات کی بھی شاہد ہیں
04:58ان کے کناروں پر ہونے والی دریافتوں نے
05:00نہ صرف اناتولیا
05:01بلکہ پوری انسانی تاریخ کے لیے
05:03حیرت انگیز انکشافات کی ہیں
05:05یہ مقدس دریائے آج بھی بشریق وستہ کی
05:07سیاسی اور جغرافیائی اہمیت کا محبر ہے
05:10اور ان کی داستانیں تاریخ کے صفحات میں
05:12ہمیشہ زندہ رہیں گی
05:13ناظرین کرام دریائے فرات اپنے راستے میں آنے والی
05:16تمام مشکلات کا ڈٹ کر سامنا کرتے ہوئے
05:19ہمیشہ اپنی راہ پر بہتا رہا
05:21یہ اپنی مضبوطی تاریخی اہمیت
05:23اور قدرتی خوبصورتی کے لیے مشہور ہے
05:25دوسری جانب دریائے دجلہ
05:27اپنی بل کھاتی ہوئی رفتار کے سبب منفرد ہے
05:29یہی وجہ کہ روایتی طور پر
05:31فرات کا نام لڑکوں کے لیے
05:32اور دجلہ کا نام لڑکیوں کے لیے رکھا جاتا ہے
05:35جو ان دونوں دریائوں کی خصوصیات کی اکاسی کرتا ہے
05:38دریائے فرات کی لمبائی تقریبا
05:40ستائیس سو اسی کلومیٹر
05:42ایک ہزار سات سو تیس میل ہے
05:44جو سے جنوب مغربی ایشیا کا
05:46سب سے طویل دریائے بناتی ہے
05:48یہ دو شاخوں کارا
05:49مغربی فرات اور مراد
05:51مشرقی فرات سے مل کر تشکیل پاتا ہے
05:54کارا کی ابتداء مشرقی ترکی کے
05:56ازروم کے شمال میں آرمینیہ
05:58اس سطح مرتفہ سے ہوتی ہے
05:59جبکہ مراد جھیل وان کے
06:01شمال میں کوہ ارارات کے جنوب مغرب سے نکلتا ہے
06:04یہ دونوں شاخیں مل کر
06:06دریائے فرات کو ایک وسیع اور عظیم دریائے بناتی ہیں
06:09جو کھائیوں اور گھاٹیوں سے گزرتا ہوا
06:11جنوب مشرقی شام سے عراق میں
06:13ابو کمال کے مقام پر داخل ہوتا ہے
06:15دریائے فرات ترکی سے شروع ہو کر
06:17شام اور عراق سے گزرتا ہے
06:18اور خلیج فارس میں جا گرتا ہے
06:20اس کے راستے میں متعدد معاون دریائوں
06:22جیسے شام کے سجور بلیخ
06:24اور جبور سے پانی شامل ہوتا ہے
06:26جو اس کی ذرخیزی اور اہمیت میں اضافہ کرتے ہیں
06:28اس کی مجموعی لمبائی تقریباً
06:30اٹھائیسو کلومیٹر بتائی گئی ہے
06:32جو دریائے دجلہ سے بھی زیادہ ہے
06:34یہ دریائے اپنے کناروں پر موجود تہذیبوں کی بنیاد بن چکا ہے
06:37قدیم زمانے میں اسے نیلے سونے کے نام سے پکارا جاتا تھا
06:40کیونکہ ہزاروں سالوں سے علاقے کے لوگوں کی زندگی کا ہم ذریعہ رہا ہے
06:44اس کے کنارے پر بابل، آشور اور سومیر جیسی تہذیبوں نے اپنی سلطنتیں قائم کی
06:49ان تہذیبوں کے اثار آج بھی اس دریائے کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کی گواہی دیتے ہیں
06:54دریائے فراد کا راستہ ایک بڑے بنجر علاقے سے گزرتا ہے
06:57لیکن اس کے اور دریائے دجلہ کے درمیان کے علاقے میں
07:00پانی کی وافر مقدار نے ایک ذرخیز زون تشکیل دیا ہے
07:03جسے ذرخیز ہلال یا فرٹیلائل کرسنٹ کے نام سے جانا جاتا ہے
07:07اس ذرخیز علاقے نے ذراعہ تہذیب اور معیشت کو جنم دیا
07:10اور انسانیت کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا
07:13تاہم وقت کے ساتھ ساتھ دریائے فراد کا حجم کم ہوتا جا رہا ہے
07:18ترکی اور شام میں اس کے اوپر ڈیمو کی تعمیر اور دیگر عوامل کے باعث
07:22اس دریائے کی پانی کے سطح میں کمی واقع ہو رہی ہے
07:25یہ دریائے نہ صرف ایک قدرتی وسیلہ ہے
07:27بلکہ مختلف قوموں مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان
07:30ایک علامتی حیثیت بھی رکھتا ہے
07:32یہ مسلم عیسائی کرد ترکمان اور یہودی آبادیوں کے لیے
07:35ایک اہم مقام رہا ہے
07:37دریائے فراد اور دجلہ کی یہ منفرد خصوصیات
07:40اور ان کے گرد موجود تاریخ ورسا
07:42اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ دریائے نہ صرف قدرتی وسائل کی علامت ہے
07:52بابل کی تہذیب کہا جاتا تھا
07:53یہ تہذیب دنیا کے قدیم ترین اور طاقتور ترین تہذیبوں میں شمار ہوتی تھی
07:58بابل کے ایک عظیم بادشاہ بخت نصر نبو قد نصر نے
08:02یرو شرم پر حملہ کیا اور اس شہر کو مکمل طور پر تباہ کر دیا
08:06اس کے ظلم و ستم کی داستانوں میں یہودیوں کا قتل عام
08:09اور ان کے ماہر کاریگروں کو غلام بنا کر
08:11دریائے فراد کے کنارے آباد کرنا شامل ہیں
08:14یہودی اپنی عبرانی زبان میں دریائے فراد کو پرات کہتے ہیں
08:18جبکہ عربی میں اسے الفرات کہا جاتا ہے
08:20یہ دریائے ترکی سے بہتا ہوا شام کے علاقے میں داخل ہوتا ہے
08:23جہاں ایک تاریخی شہر عرفہ واقع ہے
08:26عرفہ وہی شہر ہے جہاں حضرت عبراہیم علیہ السلام کو
08:28نمرود نے ایک بڑی غلیل کے ذریعے آگ میں پھینکنے کا حکم دیا تھا
08:33اللہ کے حکم سے وہ آگ ٹھنڈی ہو گئی
08:35اور حضرت عبراہیم علیہ السلام کیلئے سلامتی کا باعث بنی
08:37آج بھی اس واقعے کی یادگار کے طور پر
08:40وہاں دو ستون موجود ہیں
08:41جن کے بارے میں کہا جاتا ہے
08:43کہ انہی ستونوں سے حضرت عبراہیم علیہ السلام کو باندھا گیا تھا
08:45اس جگہ پر ایک خوبصور تالاب بھی موجود ہے
08:47جہاں مختلف اقسام کی مچھلیاں تیرتی نظر آتی ہیں
08:50یہ تالاب اس موجزے کی یاد دلاتا ہے
08:53جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لئے ظاہر کیا
08:55دریا فرات اور دریا دجلہ کے درمیان کا خطہ
08:58قدیم انسانی تہذیبوں کا مرکز رہا ہے
09:01جسے محسو پوٹیمیا کہا جاتا ہے
09:03یہ تہذیب تین ہزار سال قبل مسیح سے بھی پرانی ہے
09:06اور اپنی ذرخیزی، تمدن اور علمی ترقی کی وجہ سے مشہور ہے
09:10اسی خطہ ستون ابراہیم علیہ السلام نے اپنا سفر شروع کیا تھا
09:13انہوں نے مکہ مکرمہ کی وادی میں خانہ کعبہ کی بنیادوں کو دوبارہ تعمیر کیا
09:17اور اپنی بیوی سیدہ حاجرہ اور بیٹے حضرت اسمائل علیہ السلام کو
09:21اس مقدس سرزمین میں چھوڑا
09:23بعد ازاں وہ خود یروشلم تشریف لے گئے
09:25جہاں القلیل کے مقام پر آج بھی ان کا مزار موجود ہے
09:29یہ خطہ صرف مذہبی اہمیت نہیں رکھتا
09:31بلکہ تاریخی اور جنگی اعتبار سے بھی بہت اہم ہے
09:34دریا فرات اور دریا دجلہ کے درمیان واقع علاقے میں
09:37قادسیہ کی مشہور جنگ لڑی گئی
09:39اس جنگ میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں
09:42مسلمانوں نے اس وقت کی سوپر پاور فارس
09:45یعنی ایران کو ظلت آمیر شکست دی تھی
09:47یہ دریا انسانی تاریخ کا خاموش گوا رہا ہے
09:50جو تہذیبوں کے اروج و زوال
09:51بادشاہوں کے اقتدار
09:53اور لا تعداد تاریخی واقعات کا منظر پیش کرتا رہا ہے
09:56آج بھی دریا فرات اور اس کے گرد و نوہ میں ہونے والے واقعات
09:59ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ قدرت کے عظیم مظاہر کے ساتھ
10:02ہمیں اپنی تاریخ اور ثقافت کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے
10:05ناظرین اکرام گزشتہ ایک صدی سے
10:07دریا فرات کے گرد و نوہ میں کشمکش
10:09اور طاقت کی رسہ کشی کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے
10:13یہ تنازیہ اس وقت شدت اختیار کر گیا
10:15جب اس کے کناروں پر موجود میدانوں
10:17اور سہراؤں میں تیل کے وسیع زخائر دریافت ہوئے
10:20شام میں دیر و زور کے علاقے میں
10:22موجود تیل کے کنویں دریا فرات کے دونوں کناروں پر واقع ہیں
10:25جہاں سے تقریباً تین لاکھ پچاسی ہزار بیرل تیل نکالا جاتا ہے
10:29اسی طرح عراق میں موجود تیل کے کنویں بھی
10:32دریا دجلہ اور فرات کے آس پاس پھیلے ہوئے ہیں
10:35اور ان کے پاس تقریباً ایک سو چالیس ارب بیرل تیل کا زخیرہ موجود ہے
10:39یہ تیل جو گزشتہ ایک صدی سے ایک پسادیات میں
10:41مرکزی حیثیت رکھتا ہے
10:43اب صرف ایک اندھن نہیں بلکہ
10:45عالمی معیشت میں کاغذی کرنسی کی قیمت
10:47متعین کرنے کے لئے سونے کا سب سے اہم متبادل بن چکا ہے
10:50گویا آج کے دور میں تیل وہی مقام رکھتا ہے
10:53جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں
10:56سونے کو حاصل تھا
10:57رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
10:59اس عظیم دریا کے کناروں کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرمائے تھا
11:03کہ ایک وقت آئے گا جب دریا افراد خوشک ہو جائے گا
11:05اور اس میں سے ایک سونے کا پہاڑ نمودار ہوگا
11:07جب لوگ اس کی خبر سنیں گے
11:09تو اس کی طرف لپکیں گے
11:10جو لوگ پہاڑ کے قریب ہوں گے
11:12وہ کہیں گے کہ اگر ہم نے اس خزانے کو چھوڑ دیا
11:14تو دوسرے لوگ اسے لے جائیں گے
11:16آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا
11:19کہ اس خزانے کو حاصل کرنے کے لئے
11:20لوگ آپس میں جنگ کریں گے
11:22اور نتیجتاً سو افراد میں سن ننان میں قتل ہو جائیں گے
11:26یہ پیشگوئی ایک عظیم فتنے کی نشاندہ ہی کرتی ہے
11:29جو انسانوں کے حرص اور دنیاوی خواہشات کو بے نقاب کرتی ہے
11:32آج کے دور میں دریا افراد کے اردگرد پانی کی کمی
11:35خوشک سالی اور سیاسی تنازیات
11:37اس بات کی علامت ہیں
11:38کہ دنیا اس پیشگوئی کی حقیقت کے قریب پہنچ رہی ہے
11:41یہ ایک لمحہ فکریہ ہے
11:42کہ انسان اپنے آمال کا جائزہ لے
11:44اور دنیاوی لالت سے گریز کرے
11:46تاکہ ان فتنوں سے محفوظ رہ سکے
11:48جو قیامت کے قریب ظاہر ہوں گے
11:50یہ عبارت نہ صرف درستگی کے ساتھ لکھی گئی ہے
11:52بلکہ تفصیلات کو مزید وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے
11:55تاکہ قارین اس مضمون کی گہرائی اور اہمیت کا بہترین ادراک کر سکے
12:00حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
12:02کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
12:05حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
12:08کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
12:11وہ وقت قریب ہے جب عراق والوں کے پاس نغلہ آئے گا
12:14اور نہ ہی درہم و دینار پہنچے گا
12:16صحابہ اکرام نے عرص کیا
12:18یا رسول اللہ یہ کس سبب سے ہوگا
12:20آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
12:23یہ پابندی عجم یعنی غیر عرب اور ایرانی لگا دیں گے
12:27پھر کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد
12:29آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
12:31وہ وقت قریب ہے جب اہل شام پر بھی یہ پابندی آئیت کر دی جائے گی
12:34صحابہ نے پوچھا
12:35یہ پابندی کس طرف سے ہوگی
12:37آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا
12:40یہ پابندی اہل روم
12:41یعنی مغرب بالوں کی جانب سے ہوگی
12:43اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
12:46میری امت میں ایک ایسا خلیفہ ہوگا
12:48جو لوگوں کو اتنا مال دے گا
12:50کہ گودھ بھر دے گا
12:51اور مال شمار نہیں کرے گا
12:53آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قسم کھا کر فرمایا
12:56اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے
13:01اسلام اپنی پہلی حالت میں لوٹے گا
13:03جس طرح کہ اس کی ابتداء مدینہ سے ہوئی تھی
13:06یہاں یہ بات بھی احادی سے مبارکہ میں بیان کی گئی ہے
13:08کہ دریا افراد کے خوشک ہونے
13:10اور سونے کا پہاڑ ظاہر ہونے کے وقت
13:12لوگ اس خزانے کے حصول کے لئے
13:14آپس میں جنگ کریں گے
13:15اور اس جنگ میں سو میں سے ننانوے افراد قتل ہو جائیں گے
13:17تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو
13:19انیسویں اور بیسویں صدی کے اہم باقیات
13:21اس پیشگوئی سے جڑے معلوم ہوتے ہیں
13:23انیس سو بانوے میں مشرق بستہ کی علاقے میں
13:25تیل کے زخائر دریافت ہوئے
13:27اس سے پہلے خلافت عثمانیہ کے دور میں
13:29انیس سو سولہ میں برطانوی سامراج نے
13:32عراق پر حملہ کیا
13:33اور انیس سو سترہ میں بغداد پر قبضہ کر لیا
13:35انگریز انشریف مکہ حسین بن علی کے بیٹے فیصل کو
13:39دریائے فراد اور دجلہ کی سرزمین کا حکمران مقرر کیا
13:42انیس سو تیس میں عراق کو آزادی ملی
13:45لیکن صرف تین سال بعد انیس سو پیتیس میں
13:47دریائے فراد کے کنارے
13:49ایک بہت بڑی شیعہ سننی جنگ ہوئی
13:51جو تقریباً ایک سال تک جاری رہی
13:52یہ جنگ دراصل اس خطے کی داخلی تنازعات
13:55اور بیرونی طاقتوں کی مداخلت کی اکاسی کرتی ہے
13:58جو آج بھی جاری ہے
13:59یہ تمام واقعات اس حقیقت کی نشان دہی کرتے ہیں
14:02کہ قیامت کی نشانیوں میں سے
14:03ایک بڑی نشانی یعنی دریائے فراد کے کنارے
14:06سونے کا پہاڑ ظاہر ہونا
14:07وقت کے قرید تر ہوتی جارہی ہے
14:09ان نشانیوں کو سمجھنا اور ان سے سبق حاصل کرنا
14:12ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے
14:13تاکہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط رکھ سکیں
14:16اور آنے والے فتنوں سے محفوظ رہ سکیں
14:18ناظرین اکرام جب دوسری جنگ عظیم
14:20کا آغاز ہوا تو مشرق بستہ کے حالات
14:22بھی سنگین ہو گئے
14:23اس وقت عراق میں ایک قوم پرست رہنما
14:25رشید علی گیلانی نے جرمنی کی حمایت سے
14:28برطانوی حکومت کے خلاف بغاوت کی
14:30رشید علی گیلانی نے عراق پر قبضہ کر لیا
14:32اور برطانوی اثر و رسوک کو ختم کرنے کی کوشش کی
14:35تاہم برطانیہ نے فوری رد عمل دیتے ہوئے
14:48سات سال تک یعنی 26 اکتوبر
14:501947 تک عراق
14:52برطانوی تسلط میں رہا
14:53یہ خطہ اس وقت سے لے کر آج تک
14:55مختلف جنگوں اور تنازیہت کا مرکز بنا ہوا ہے
14:58اگر بیرونی قوتیں حملہ نہ بھی کرتیں
15:00تو داخلی اختلافات
15:02جیسے شیعہ اور سنی فرقہ واران تصادم
15:04یا قوم پرست گروہوں کے درمیان جھڑپیں
15:06علاقے کو بدمنی کا شکار بناتی رہیں
15:08دریائے فرات کے کنارے
15:10انسانی خون کی ندیاں بہائی گئیں
15:11اس خطے کے حالات مسلسل خراب رہے
15:13اس دوران اسرائیل کے ساتھ دو بڑی جنگیں بھی ہوئیں
15:16ایک 1948 میں اور دوسری
15:181967 میں
15:19ان دونوں جنگوں میں دریائے فرات کے قریب آباد لوگوں کو
15:22ظلت آمیش شکست کا سامنا کرنا پڑا
15:24دوسری جانب عراق
15:25جو کبھی سوویت یونین کی سیاست کا گھڑتا
15:28اپنے پڑوسی ایران کے ساتھ بھی
15:29شدی تنازیات کا شکار رہا
15:31اس وقت ایران میں امریکہ کی حمایت یافتہ
15:33رضا شاہ پہلوی کی حکومت تھی
15:35لیکن 1989 میں
15:37آیت اللہ خمینی کی قیادت میں
15:39اسلامی انقلاب آیا جس نے پورے خطے کی
15:41سیاسی بسات کو لٹ دیا
15:43ایران میں انقلاب کے بعد
15:44عراق کے صدر صدام حسین نے ایران کو کمزور سمجھا
15:47اور اس پر جنگ مسلط کر دی
15:49یہ جنگ آٹھ سال تک جاری رہی
15:51جس میں تقریباً دس لاکھ افراد حلاک ہوئے
15:53جنگ کے خاتمے کے بعد
15:55عراق میں صرف تین سال سکون رہا
15:57لیکن اس کے بعد ایک اور
15:59تباہ کن دور کا آغاز ہوا
16:00صدام حسین کو امریکہ نے اکسایا
16:02کہ وہ کوئیت پر قبضہ کرے
16:04اس اقدام کے نتیجے میں فروری 1991 میں
16:07امریکہ نے عراق پر حملہ کر دیا
16:09اور اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا
16:11جنگ میں شکرس کے بعد
16:12عراق کی شیعہ اور کرد آبادی کو
16:14صدام حسین کے خلاف اکسایا گیا
16:16جس کے نتیجے میں خانہ جنگی کی صورت پیدا ہوئی
16:19اور اس خانہ جنگی میں
16:20کیمیائی ہتیار تک استعمال کیے گئے
16:22یہ خطہ بدترین تباہی کا شکار رہا
16:25عراق کی اس تاریخ نے
16:26دریا فرات کے کنارے کو نہ صرف جنگوں
16:28بلکہ انسانی علمیوں اور
16:30سیاسی تنازیات کی ایک طویل داستان
16:32کا مرکز بنا دیا ہے
16:33اقوام متحدہ نے کردوں کے تحفظ کے لیے
16:36ایک مخصوص علاقہ قائم کیا
16:38جہاں عراقی تیاروں کی پرواز پر
16:40مکمل پابندی آئیت کر دی گئی
16:42یہ اقدام کرد عوام کو تحفظ فراہم
16:44کرنے کے لیے کیا گیا تھا
16:45لیکن اس کے ساتھ ہی عراق پر سخت اقتصادی پابندیاں
16:48بھی لگا دی گئیں
16:49ان پابندیوں نے عام عراقی شہریوں کو شدید مشکلات میں
16:52ڈال دیا یہاں تک کہ عدویات
16:54اور طبی سہولیات کی فراہمی بھی روک دی گئی
16:56جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد
16:58متاثر ہوئے ایک اندازے کے مطابق
17:00تقریباً بیس لاکھ بچے
17:01صرف عدویات کی ادم دستیابی کے باعث
17:04موت کے موں میں چلے گئے
17:06اسی دوران تیل کے بدلے خوراک نامی
17:08بدنامے زمانہ پروگرام شروع کیا گیا
17:10جس کے تحت عراقی تیل کو
17:12آنے پانے داموں خریدا گیا
17:14اور اس کے بدلے بنیادی خوراک فراہم کی گئی
17:17اس پروگرام میں عالمی سطح پر
17:18کرپشن کا مافیا سرگرم تھا
17:20جو اپنے مالی منافعے کے لیے
17:22عراق کی عوام کا استحصال کرتا رہا
17:24نومبر 2008 میں
17:26امریکی افواج اور عراقی حکومت کے درمیان
17:28ایک مہائدہ تیپایا
17:29جس کے تحت امریکی فوجیوں کو
17:31دسمبر 2011 تک عراق سے انخلا کرنا تھا
17:34بلاخر دسمبر 2011 میں
17:36امریکی افواج عراق سے نکل گئی
17:38لیکن اس کے فوراں بعد ستمبر 2013 میں
17:40سنی اکثریتی علاقوں میں
17:42سورش اور بغاوت کا آغاز ہو گیا
17:44اس دوران دہشتگردانہ حملوں
17:46اور دھماکوں میں بڑی تعداد میں شہری حلاق ہوئے
17:49اندازن 1857 شہری
17:51ان واقعات میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے
17:53فلوجہ اور رمادی کے علاقے
17:55میدان جنگ بن گئے
17:57اور انہی دنوں میں
17:58علمبار صوبے اور موصل کے علاقوں میں
18:00امارات اسلامی کے نام پر
18:02دائش کا قیام عمل میں آیا
18:03دائش نے دریائے فرات کے کنارے
18:06عراق اور شام کے کئی علاقوں پر
18:08اپنی حکومت قائم کر لی
18:09ان کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر
18:11ستمبر 2014 میں
18:13شیعہ رہنما
18:14حیدر علی بادی نے سنی
18:15اور کرد رہنماوں کو ساتھ ملا کر
18:17ایک نئی حکومت قائم کی
18:19اگلے تین سال
18:20دائش کے خلاف شریعت جنگ کے سال ثابت ہوئے
18:22اس جنگ نے پورے مشرق وستہ کو
18:24ایک توفانی بہران میں دھکیل دیا
18:26اس کے ساتھ ساتھ ایک اور تحریک نے
18:28عرب دنیا کو اپنی لپیٹ ملے لیا
18:30جسے عرب بہار کہا جاتا ہے
18:32یہ تحریک عرب ممالک میں
18:33دہائیوں سے قائم
18:34عامریتیوں کے خلاف
18:36آزادی
18:36جمہوریت
18:37اور انسانی حقوق کے نام پر شروع کی گئی تھی
18:39یہ تحریک پورے خطے میں
18:41ایک انقلابی چیلنج بن گئی
18:42جس کے اثرات آج بھی نمائی ہیں
18:44یہ آزادی جمہوریت اور حقوق کی
18:46جد جہوت کے نام پر
18:47عرب دنیا میں دہائیوں سے قائم
18:49عامریتوں کے خلاف
18:50ایک ایسی تحریک تھی
18:51جس نے تقریباً
18:52ہر عرب ملک میں اچانک سر اٹھا لیا
18:54اس تحریک جسے عرب بہار کہا جاتا ہے
18:57نئے مشرق وستہ کو
18:58سیاسی سماجی اور مذہبی طور پر
19:01ایک ایسے پیچیدہ
19:02ایک ایسے پیچیدہ بہران میں مبتلا کر دیا
19:04جو آج تک جاری ہے
19:06گزشتہ دس گیارہ برسوں کے دوران
19:08یہ سرزمین
19:08مسلسل جنگوں
19:10تصادم
19:10اور خون ریزی کا مرکز بنی ہوئی ہے
19:12دمشق
19:13حلب
19:14عدلب
19:14رقہ
19:15موصل
19:15بغداد
19:16اور فلوجہ جیسے تاریخی شہروں میں
19:18ہر طرف تباہی کے مناظر دیکھے گئے
19:20ان علاقوں میں ایک جانے بشار الاسد کی حکومت کے خلاف
19:23عرب جہادی گروہوں کی بغاوت تھی
19:25تو دوسری طرف
19:26ایرانی سرپرستی میں ملیشیا کی سرگرمیاں جاری تھی
19:29اس جنگ کے نتیجے میں تقریبا ساٹھ لاکھ لوگ
19:31اپنے گھروں سے بے گھر ہو کر
19:33دنیا کے مختلف ممالک میں پناہ گزین ہونے پر مجبور ہو گئے
19:36لبنان کے بیروت سے لے کر
19:38ایران کے سرحد علاقے
19:39اردبل تک
19:40یہ خطہ آج بھی ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں ہے
19:43اس خطے کی موجودہ صورتحال کی پیش گوئی
19:46نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کی تھی
19:48جنہوں نے ان فتنوں اور جنگوں کی طرف اشارہ کیا تھا
19:51جو قیامت سے قبل برپا ہوں گی
19:53جنرل قاسم سلمانی کی امریکی حملے میں
19:55شہادت اس خطے کی تاریخ کا ایک اہم مور ثابت ہوئی
19:59بعض حلقے انہیں شہید کا درجہ دیتے ہیں
20:01کیونکہ وہ کفر کی سب سے بڑی طاقت
20:03امریکہ کے ہاتھوں مارے گئے
20:05اس واقعے نے پورے خطے کی صورتحال کو مزید پیشیدہ کر دیا
20:08جون دوہزار بائیس میں
20:10عراق سے ایک حیران کن خبر آئی
20:12آب ہوا کی تبدیلی کے سبب
20:13دریائے دجلہ کے خوشک ہونے سے
20:15ایک قدیم بستی دریافت ہوئی
20:17جس کی تاریخ ساڑھے تین ہزار سال پرانی بتائی گئی
20:20ماہرین آسار قدیمہ کے مطابق یہ بستی
20:23بارہ سو پشتر سے چودہ سو پشتر قبل مسیح
20:26کہ درمیانی عرصے میں قائم ہوئی تھی
20:28ماہرین کا کہنا کہ یہ وہی خطہ ہے
20:30جہاں بابل کے عظیم الشان تہذیب نے جنم لیا
20:32تاریخ کے مطابق تیرہ سو پچاس قبل مسیح میں
20:35زلزلے کی وجہ سے بابل کو شدید نقصان پہنچا
20:38ممکن طور پر یہ دنیا کا پہلا میٹرپولٹن شہر تھا
20:42جو اپنے اروج کے دور میں تقریباً دو لاکھ کی آبادی کا حامل تھا
20:45بابل جب کھندر میں تبدیل ہو چکا ہے
20:48بغداد سے تقریباً تین سو کلومیٹر دریا فرات کے کنارے باقے تھا
20:52یہ عظیم شہر سلطنت بابل اور قدیم کلدانی سلطنت کا دار الحکومت تھا
20:57چار زار سال قبل مسیح کی تحریروں میں بابل کا ذکر ملتا ہے
21:01جو انسانی تاریخ کی ایک عظیم تہذیب کا گہبارہ رہا
21:04لیکن آج یہ شہر اور اس کے آس پاس کا علاقہ
21:07نہ صرف آثار قدیمہ کے دلچسپ پہلوں کا حصہ ہیں
21:10بلکہ جدید دنیا کے لیے غور و فکر کا موضوع بھی بنے ہوئے ہیں
21:14ناظرین اکرام آج ہم آپ کو ایک اہم اور حیران کون خبر سے آگاہ کرتے ہیں
21:18جو ترکی کے سونے کے زخائر سے متعلق ہے
21:21گزشتہ کچھ عرصے سے ترکی میں سونے کے بڑے بڑے زخائر کی دریافت کی خبریں سامنے آ رہی ہیں
21:26جنہوں نے عالمی توجہ حاصل کی ہے
21:2922 نومبر 2021 کو ترک نیوز ایجنسی آنادولو نے اطلاع دی
21:33کہ ترکی کے مغربی علاقے میں سونے کا ایک بڑا زخیرہ دریافت ہوا ہے
21:37مہارین کے مطابق اس زخیرے میں 99 ٹن سونے کی موجودگی کا امکان ہے
21:42جس کے مالے تقریباً 6 ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے
21:45یہ رقم کئی ممالک کے مجموعی ملک کی پیداوار جی ڈی پی سے بھی زیادہ ہے
21:50ترکی کے کمپنی گیبریڈا جو کانکنی میں مہارت رکھتی ہے
21:53اس زخیرے سے متعلق منصوبہ بندی کر رہی ہے
21:56کمپنی کے فوراں پائروز نامی منصوبے کے تحت
21:59اگلے دو سال میں زخیرے سے کانکنی کا آغاز کیا جائے گا
22:02مہارین کا خیال ہے کہ اس کانکنی سے ترک معیشت کو بڑا سہارا ملے گا
22:06اور یہ زخیرہ ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا
22:09یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے بھی
22:12ترکی نے سمندری سونے کی پیداوار کے حوالے سے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا تھا
22:17اور آنے والے پانچ سالوں کے دوران
22:18سالانہ سونی کی پیداوار سو ٹن تک بڑھانے کا حدف مقرر کیا گیا ہے
22:23یہ خبریں سامنے آنے کے بعد ایک بار پھر ان روایات اور احادیث کا تذکرہ ہونے لگا ہے
22:28جن میں دریائے فراد کے خوشک ہونے اور وہاں سے سونے کا پہاڑ ظاہر ہونے کی پیش گوئی کی ہے
22:34لوگوں میں یہ سوال جنم لینے لگا
22:36کہ آیا ترکی کو باقی دریائے فراد سے وہ سونے کا پہاڑ مل گیا ہے
22:39جس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی آہادیث مبارکہ میں کیا تھا
22:45ترکی میں سونے کے پہاڑ کے باعث دریائے کا پانی کم ہوتا جا رہا ہے
22:49سانجدانوں کے ریپورٹ کے مطابق گزشتہ سات سالوں میں
22:52دریائے فراد کے گزرگاہ کے مختلف حصوں میں پانی کا اخراج
22:55117 میٹر ایکڑ فٹ تک کم ہو چکا ہے
22:58اس خوشک سالین نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے
23:01بعض ماہرین اور حلقے یہ رائے رکھتے ہیں
23:03کہ ترکی دانستہ طور پر دریائے فراد کو خوشکر رہا ہے
23:06تاکہ ممکنہ سونے کے ذخائر تک رسائی حاصل کی جا سکے
23:10دوسری طرف ترکی کی جانب سے خوشک سالین کے اثرات کو
23:13نظرانداز کرنے کا رویہ بھی ان شکوک و شبات کو تقویہ دیتا ہے
23:17یہ معاملہ نہ صرف سائنس، معیشت اور سیاست
23:20بلکہ مذہبی نقطہ نظر سے بھی غور طلب ہے
23:22کیا یہ وہ وقت ہے جس کی پیشگوئی کی گئی تھی
23:25یہ سوال انسانوں کو دعوت فکر دیتا ہے
23:28کہ وہ دنیا کے وسائل کی حقیقت کو سمجھیں
23:30اور اپنے آمال پر غور کریں
23:32ناظرین اکرام جیسے کہ ہم نے پہلے بیان کیا
23:34دریائے فراد مشرقی ترکی سے نکلنے والا
23:37ایک عظیم دریائے جو شام اور عراق سے گزرتا ہوا
23:40دریائے دجلہ میں شامل ہوتا ہے
23:42اور آخر کار خلیج فارس میں جا گرتا ہے
23:44یہ دریائے قدرتی وسائل
23:46تاریخی اہمیت اور جغرافیہی اہمیت کی بنا پر
23:49دنیا بھر میں منفرد مقام رکھتا ہے
23:51دریائے فراد کے خوشک ہونے کو
23:53نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
23:55قرب قیامت کی ایک بڑی نشانی قرار دیا ہے
23:58آحادیث میں ذکر ہے کہ یہ دریائے خوشک ہو جائے گا
24:00اور اس میں سے سونے کا پہر ظاہر ہوگا
24:03اس پیشگوئی نے مسلمانوں سمیت
24:05دیگر مذہب کے لوگوں کو بھی
24:06متوجہ کر رکھا ہے
24:08پچھلے پندرہ سو سال سے دنیا اس لمحے کا انتظار کر رہی ہے
24:11جب یہ نشانی پوری ہوگی
24:13یہی وجہ ہے کہ ہم آج کل دیکھتے ہیں
24:15کہ اہل یہود اور نصارہ
24:16شام، عراق اور ترکی کے اردگرد
24:18مختلف صورتوں میں موجود ہیں
24:20کبھی دہشتگردی کے بہانے
24:21کبھی تجارت کے ذریعے
24:23کبھی تیل کی تلاش میں
24:24اور کبھی دوستی اور سرمایہ کاری کے لالچ کے ذریعے
24:27اس تمام صورتحال میں مسلمانوں کو خصوصی طور پر
24:29ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے
24:31تاکہ وہ ان فطروں سے محفوظ رہ سکیں
24:33جن کی پیشگوئی ہمارے نبی کریم
24:35صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی ہے
24:38ماہرین اور سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق
24:40دریا فرات کا زیادہ تر
24:42صاف پانی زائع ہو چکا ہے
24:43اور آنے والے دس سالوں میں
24:45اس کی خوشکی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے
24:47اس کے برقس دورکی اور شام میں
24:57شاید ترکی جانبوچ کا دریا کو خوش کر رہا ہے
24:59تاکہ سونے کے زخائر تلاش کیے جا سکیں
25:02احادیث میں واضح طور پر یہ نصیحت کی گئی ہے
25:04کہ سونے کو حاصل کرنے کی کوشش نہ کی جائے
25:06کیونکہ یہ ایک بہت بڑا فتنہ ہوگا
25:08جس کے نتیجے میں خون رزی اور تباہی ہوگی
25:11رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
25:14کہ سونے کے اس پہاڑ کے لیے جنگ ہوگی
25:16اور اس میں سو میں سے 99 لوگ ہلاک ہو جائیں گے
25:19حالات و باقیت اس بات کی گواہی دے رہے ہیں
25:22کہ دنیا اس فتنے کی قریب تر ہوتی جا رہی ہے
25:24اللہ رب العزت کے سوا کوئی نہیں جانتا
25:27یہ فتنہ کب ظاہر ہوگا
25:28لیکن ہمیں اپنے عامال پر غور کرنا چاہیے
25:30اور ان آزمائشوں سے بچنے کے لیے
25:32اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے
25:34اگر ہم موجودہ صورتحال کا جائزہ لیں
25:36تو یہ بات ظاہر ہوتی ہے
25:38کہ شام اور ترکی نے دریا فراد پر
25:40کئی بند تعمیر کیے ہیں
25:51لہذا یہ وقت کا تقاضہ ہے
25:52کہ ہم اپنی توجہ
25:53اس فتنے سے بچنے پر مرکوز رکھیں
25:56اپنے ایمان کو مضبوط کریں
25:57اور ان آزمائشوں کے لیے تیار رہیں
25:59جو قیامت کے قریب ظاہر ہوں گی
26:01ناظرین یہ تھی ہماری آج کی ویڈیو
26:03امید کرتے ہیں کہ آپ کو یہ ویڈیو
26:05ضرور پسند آئی ہوگی
26:06اگر آپ کو یہ ویڈیو اچھی لگی ہو
26:08تو ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں
26:10کہ ہمارے چینل کو ضرور سبسکرائب کریں
26:11ساتھی گھنٹی کے نشان
26:13بیل آئیکن کو دبانا نہ بھولیں
26:14تاکہ آپ کو ہماری آنے والی
26:16مزید معلوماتی اور سبق آموز
26:18ویڈیوز کا نوٹیفکیشن
26:19بروقت ملتا رہے
26:20سبسکرائب کرنے کے ساتھ ساتھ
26:22ہماری ویڈیوز کو لائک بھی کریں
26:23اور اپنی قیمتی رائے کامنٹس میں
26:25ضرور شیئر کریں
26:25آپ کی حوصلہ افضائی
26:27ہمارے لئے بہت اہم ہے
Comments