Hazrat Muhammad ﷺ Aur Jadugarni Ka Aik Hairat Angaiz Muqabla!"
Is video mein hum aik bohot hi dilchasp aur hairat angaz waqia ka zikar karte hain jo Seerat-e-Nabvi ﷺ se juda hai. Yeh waqia ek jadugarni ke baare mein hai jo apne jaadu ke zariye logo ko dhoka dene ki koshish karti thi. Lekin jab uska muqabla Nabi Kareem ﷺ se hota hai to sab kuch badal jata hai.
Yeh waqia sirf ek rohani asar nahi balki Nabi ﷺ ke sabr, aqalmandi aur Allah par bharose ka behtareen misaal bhi hai. Is video mein hum dekhenge ke kaise Nabi ﷺ ne apni hikmat aur imaan ki roshni se is jadugarni ka asar zail kiya aur logon ko haqq aur batil ke farq ka dars diya.
Is kahani mein aap ko milega ilm, rohani asar, aur woh jazba jo imaan ko aur bhi mazboot banata hai. Dekhiye aur samjhiye Seerat-e-Nabvi ﷺ ke is anmol waqia ko, jo aapke dil aur zehan dono par gehra asar chhodega.
#SeeratENabvi #HazratMuhammadSAW #NoorTV
#IslamicHistory #JadugarniKaMuqabla #ImaanAfrozKahani #IslamicStories #ProphetMuhammadSAW #TareekhEIslam #HaqAurBatil #SpiritualAwakening
Is video mein hum aik bohot hi dilchasp aur hairat angaz waqia ka zikar karte hain jo Seerat-e-Nabvi ﷺ se juda hai. Yeh waqia ek jadugarni ke baare mein hai jo apne jaadu ke zariye logo ko dhoka dene ki koshish karti thi. Lekin jab uska muqabla Nabi Kareem ﷺ se hota hai to sab kuch badal jata hai.
Yeh waqia sirf ek rohani asar nahi balki Nabi ﷺ ke sabr, aqalmandi aur Allah par bharose ka behtareen misaal bhi hai. Is video mein hum dekhenge ke kaise Nabi ﷺ ne apni hikmat aur imaan ki roshni se is jadugarni ka asar zail kiya aur logon ko haqq aur batil ke farq ka dars diya.
Is kahani mein aap ko milega ilm, rohani asar, aur woh jazba jo imaan ko aur bhi mazboot banata hai. Dekhiye aur samjhiye Seerat-e-Nabvi ﷺ ke is anmol waqia ko, jo aapke dil aur zehan dono par gehra asar chhodega.
#SeeratENabvi #HazratMuhammadSAW #NoorTV
#IslamicHistory #JadugarniKaMuqabla #ImaanAfrozKahani #IslamicStories #ProphetMuhammadSAW #TareekhEIslam #HaqAurBatil #SpiritualAwakening
Category
📚
LearningTranscript
00:28Arab
00:54ان کی روایات
00:56اور اسلام کے غلبے کے بارے میں بھی آپ کو بتائیں گے
00:58وہ لوگ جو اسلام دشمن تھے
01:00اور چراغِ ہدایت کو پھونکوں سے بجھانے کی کوشش کر رہے تھے
01:03ان کے ظلم کے قصے اور نبی کی استقامت کے بارے میں بتائیں گے
01:06کیا آپ جانتے ہیں کہ اسلام سے پہلے
01:08رومی، ایرانی، سمیری اور ہندو تہذیبوں کی کیا حالت تھی؟
01:13کیا آپ نبی پاک اور جادوگرنی کے واقعے کے بارے میں جانتے ہیں؟
01:17کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کو
01:20شہادت کیوں کہا گیا؟
01:22امید ہے کہ آپ کو یہ ویڈیو پسند آئے گی
01:24آپ سے گزارش ہے کہ ویڈیو کو اینڈ تک ضرور دیکھئے گا
01:27ناظرین یہ عرب کی سرزمین کی کہانی ہے
01:29جس کی نہ کوئی تہذیب تھی نہ تمدن تھا
01:32بلکہ یہ خطہ پوری دنیا سے الگ تھلگ ہو چکا تھا
01:35دعوتِ الاللہ انبیاء علیہ السلام کا ولین فریضہ ہے
01:39اور اللہ تعالیٰ انبیاء علیہ السلام کو
01:42دنیا میں توحیدِ خالص کے قیام کے لئے مبوز کرتا ہے
01:45دنیا میں جس قدر بھی انبیاء آتے ہیں
01:47سب نے اپنی قوم اور لوگوں کو ان کے خالق کی طرف بلایا
01:50کہ تمہارا معبود حقیقی خدا تعالی ہے
01:52صرف اسی کی عبادت کرو
01:54اسی کی تمام ترصفات کے ساتھ اس پر ایمان لاؤ
01:57آپ علیہ السلام کا دنیا میں آنا
01:59اور خاص طور پر عرب کی سرزمین پر آنا
02:01جس سے روشنیوں کی نویت تھی
02:03جو انقلابِ عظیم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
02:08نے دنیا میں برپا کیا
02:09وہ اس سے قبل نہ کبھی کسی آنکھ نے دیکھا
02:12اور نہ کبھی کسی آنکھ نے سنا
02:13کہانی شروع ہوتی ہے جب سرزمین عرب میں
02:16ہر طرف ظلم و ستم
02:17جبر و تشدد
02:18اور بحشت و بربریت نے
02:19ڈیرے ڈال رکھے تھے
02:20کفر و الہاد
02:22اور ظلم و جہالت کی تاریخی نے
02:24عالم انسانیت کو
02:25چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا
02:27عرب کی حالت دنیا کے دوسرے خطوں سے
02:29زیادہ دگرگوں تھی
02:30جہالت اور نفس پرستی کی وجہ سے
02:32ان کی اخلاقی حالت
02:33نہائیت ناگفتہ بے تھی
02:35شراب نوشی
02:36عورتوں کا اوریاں رخص
02:37لڑکیوں کو زندہ دفن کر دینا
02:39لا تعداد بیویاں رکھنا
02:40اور والد کے مرنے کے بعد
02:42دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ
02:43اپنی ماں کو بھی
02:44آپس میں بانٹ لینا
02:45اور بیویاں بنا کر رکھنا
02:47یا فروخت کر دینا عام تھا
02:48بعض قبیلوں کا پیشہ ہی چوری
02:50لوٹ مار اور قتل و غارت گری تھا
02:51جو عورت بیوہ ہو جاتی
02:53اسے ایک سال کی عدد گزارنا پڑتی
02:55اور اسے نہایت منہو سمجھا جاتا
02:57ایک سال تک اسے غسل اور مو
02:59ہاتھ دھونے کے لیے پانی تک نہ دیا جاتا
03:01اور نہ پہننے کے لیے لباسی فراہم کیا جاتا
03:04جب کسی عورت کا خابند مر جاتا
03:06تو وہ ایک کوٹری میں داخل ہو جاتی
03:07خراب کپڑے پہن لیتی
03:09اور خوشبو کو ہاتھ تک نہ لگاتی
03:10بے ہیائی اس حد تک عام ہو چکی تھی
03:13کہ حج کے موقع پر ہزاروں لوگ جمع ہوتے
03:15لیکن قریش کے سوا سب مرد اور عورتیں
03:17برہنہ حالت میں تواف کرتے
03:19حشرات الارد یعنی چھپکلی
03:21بچھو چھچندر چوہے اور سام تک کھا جاتے
03:24یتیموں کا مال کھانا
03:25اور غریبوں کو ستانہ عام تھا
03:27معاشی زندگی میں سود کا نظام رائش تھا
03:29عورت اور بچوں تک کو گروی رکھ دیا جاتا
03:32جیسا کہ ارشاد ہے
03:33لوگ بچوں کو زندہ درگور کر دیتے
03:35ان تمام برائیوں کے باوجود
03:37اہل عرب میں کچھ ایسی خصوصیات بھی تھی
03:39جو آج کے محذب اور ترقی آفتہ دور میں بھی
03:42ہمیں نظر آتی
03:43مثلا ایفہ اہد حجاز کا عرب
03:45نہ کسی کا محکوم تھا
03:47اور نہ ہوا سے ملگیری رکھتا تھا
03:49شروع سے لے کر اس وقت تک کسی غیر نے
03:51ان پر حکومت نہیں کی تھی
03:53اہل عرب کی مہمان نوازی اپنے
03:55اور بیگانوں سب کے لیے عام تھی
03:56لیکن ان سب خوبیوں کو ان کی بدکاری
03:59ظلم اور یاشی نے
04:00اپنے ناپاک دامن میں چھپا رکھا تھا
04:02کیونکہ بے شمار برائیوں میں
04:04چند خوبیاں دب کر رہ جاتی ہیں
04:06مزید یہ کہ ان کے نزدیک
04:07اچھائی اور برائی میں کوئی فرق نہیں تھا
04:09وہ ہر کام عادتاً کرتے تھے
04:11یہی کیفیت ان کی مذہبی دنیا میں بھی تھی
04:14مذہبی ذوق کی تسکین کے لیے
04:15انہوں نے بدھ تراش رکھے تھے
04:16مگر پرستیش کے باوجود
04:18اپنے معبودوں کے تابع نہیں تھے
04:19جو من میں آتا کر ڈالتے
04:21نسلی تفاقر اپنی آخری حدوں کو چھو رہا تھا
04:24وہ ہر غیر عرب کو عجم
04:26یعنی گونگا کہا کرتے تھے
04:27الگرز اس وقت پورا عرب
04:29ظلم و جہالت
04:30اور اندھیر نگری کا نقشہ پیش کر رہا تھا
04:32جس وقت اسلام دنیا میں آیا
04:34مشرق و مغرب دونوں جہانوں پر
04:36جہالت کی تاریخی چھائی ہوئی تھی
04:38آج ان ممالک میں بسنے والی قومیں
04:40اپنے اپنے ثقافتی
04:41ماضی کی عظمت کے بارے میں
04:43جو کچھ بھی کہیں
04:44لیکن واقعہ یہ ہے
04:45کہ ظہور اسلام سے بہت پہلے
04:47ان اقوام کی علمی و ثقافتی سرگرمی
04:49ختم ہو چکی تھی
04:50اور وہ ظلالت کی زندگی بسر کر رہے تھے
04:52انسانیت
04:53عاملیت اور شہنشائیت کے ظلم کا شکار تھی
04:55شرف انسانی کی ہر قدر پامال ہو چکی تھی
04:58جزیرہ نمائے عرب میں ہی نہیں
05:00پوری دنیا
05:00ظلم و جبر کا منظر پیش کر رہی تھی
05:03انسانی حقوق کا
05:04تصور حکمرانوں کی انہا کی گرد میں
05:06گم ہو چکا تھا
05:07قبل از بیست محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
05:11روم اور ایران اپنے وقت کے
05:13عالمی طاقت سوپر پاور کی حیثت رکھتے تھے
05:15اس وقت یہ سوپر پاورز
05:17تہذیب نسل انسانی کے ارتقاء کے بجائے
05:19چھوٹے کمزور ممالک پر غلامی کی
05:21سیاہ رات مسلط کر کے
05:23اے غیر فطری حساس برطری کے
05:24لا علاج مرض میں مبتلا تھی
05:26طبقاتی کشم کش
05:28تمام ترقباہتوں کے ساتھ
05:30ابن آدم کا مقدر بنی ہوئی تھی
05:31سماجی برائیوں کا چنگل
05:33ذہن انسانی تک محیط ہو چکا تھا
05:35تاریخ کا سفر جاری رہا
05:37اور سیاسی سماجی روحانی
05:38اور اقتصادی زنجیروں کی گرفت سے بچنے کی
05:40ہر کوشش ناکام ہونے لگی
05:42ایرانی اور رومیوں کے حکمران تک پر
05:45پورا سائش زندگی گزار رہے تھے
05:46حکمرانوں کے گرد خوش آمدیوں کا
05:48ٹولہ جمع ہو چکا تھا
05:49علاوہ زی اہل ہنر بھی
05:51ان حکمرانوں کی دہلیز پر
05:52کھنچے چلے آ رہے تھے
05:53یہ اہل کمال بھی اپنا کمال
05:55ان حکمرانوں کی پورا سائش زندگیوں کو
05:57مزید پورا سائش بنانے کے لیے استعمال کرتے
06:00شاہی خزانے سے نام پاتے
06:01اور حکمران عوام کے خون پسینے کی کمائی سے
06:04اپنے عشرت قدے سجا دے
06:06عوام کے ساتھ جانور اس سے بھی
06:07بتر سلوک ہوتا
06:08حکمران اور محکوم طبقوں کے درمیان
06:11نفرت کے ایک وسی خلیج حائل تھی
06:12ظلم کا بازار گرم تھا
06:14اور سلطانی جمہور کے کہیں بھی
06:16آسار نظر نہ آتے تھے
06:18عیسائی دنیا بھی عجیب فکری اور نظری
06:20تضاق کا شکار تھی
06:21آسمانی ہدایت میں رد و بدل کے بعد
06:24اس کی صورتحال بھی بدل چکی تھی
06:26چوتی صدی عیسی میں نصرانی
06:28حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات سے
06:29بہت دور ہو چکے تھے
06:30یونانی خرافات سے لے کر
06:32رومی بدپرستی تک
06:33ہر برائی کو عیسائی دنیا نے
06:35اپنے گلے سے لگا رکھا تھا
06:37عیسائی مذہب چند بے جان عقائد
06:39اور بے کیف مراسم تک محدود ہو کر رہ گیا تھا
06:42روم کے مشرقی ریاست میں
06:44اجتماعی بدنظمی
06:45اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی
06:47مجبور اور بے بس عوام کے صبر کا پیمانہ
06:49لبریز ہو چکا تھا
06:50اور بڑے پیمانے پر فساد شروع ہو چکے تھے
06:53اخلاق و کردار کی باتیں
06:54قصہ پاری نہ بن چکی تھی
06:56ہر چیز پر شیطانیت غالب آ چکی تھی
06:58غلامی کے ادارے کو عمرہ نے اپنی ضرورت بنا لیا تھا
07:01رومیوں کے آلہ طبقات نے
07:03زمینوں پر قبضہ جمع کر
07:04غلاموں کی کثیر تعداد کو
07:06کھیتی باڑی پر لگا رکھا تھا
07:08ان غلاموں کے اولاد بھی خون پسینہ ایک کر کے
07:10ان غلاموں کے اولاد بھی خون پسینہ ایک کر کے
07:13زمین کا رزق بنتی رہی
07:14رومی غلاموں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کرتے
07:17پہلی صدی عیسوی میں
07:18رومیوں کی فتوحات کا سلسلہ ختم ہوا
07:20تو غلاموں کے آبادی میں بھی کمی واقع ہونے لگی
07:23جس کے نتیجے میں محنت کش افراد کی نفری بھی کم ہو گئی
07:26بہت سے جاگردار جزوی طور پر
07:28اپنی زمینیں مزاروں میں تقسیم کرنے پر مجبور ہو گئے
07:31حقیقت یہ ہے کہ رومی معاشرہ
07:32بحشت، درندگی اور بربریت
07:34کی علامت بن چکا تھا
07:35حاکم اور محکوم کے دو طبقے وجود پر آ چکے تھے
07:38ایک طبقہ عمرہ کا تھا
07:40جس کا مقصد عوام پر حکومت کرنا تھا
07:42اور دوسرا عوام کا محکوم طبقہ تھا
07:44جو نسل در نسل حکمران طبقے کی خدمت بجھالا رہا تھا
07:48یورپ میں ابھی تک تحجیب و تمدن
07:50اور علم اخلاق کے صبح و نمودار نہیں ہوئی تھی
07:52یہ قوم جہالت و ناخاندگی
07:54اور جنگ و جدل میں ڈوبی ہوئی تھی
07:56اور ظلم و جہالت کی تاریخی میں ہاتھ پاؤں مار رہی تھی
07:58مگر بار بار مسائب و مشکلات میں
08:00گھرنے کے باوجود بھی
08:01یہ اقل کے ناخن نہیں لے رہی تھی
08:03دوسری طرف یہ قومیں محذب اور
08:05متمدن معاشرے سے بلکل الگ تھلگ
08:07گھٹا ٹوپ اندھیروں میں
08:09ٹامک ٹوئیاں مار رہی تھی
08:10اور ترقی آفتہ تمام قومیں
08:12ان سے تقریباً ناشنا تھی
08:13مشکل مغرب کے ممالک میں جو انقلاب انگیز واقعات سے
08:16تغیرات پیش آ رہے تھے
08:18ان سے ان قوموں کا دور کبھی واسطہ نہیں تھا
08:20نہ دینی حوالے سے ان کے پاس کوئی طریق تھا
08:22اور نہ سیاسی دنیا میں ان کا کوئی مقام
08:24رابرٹ بریفارٹ لکھتا ہے
08:26پانچویں صدی سے لے کر دسویں صدی تک
08:28یورپ پر گہری کی تاریخی چھائی ہوئی تھی
08:30اور یہ تاریخی تدریجن گہری اور بھیانک ہوتی جا رہی تھی
08:33اس دور کی بہشت و بربریت
08:35زمانے قدیم کی بہشت و بربریت سے
08:37کئی درجہ زیادہ بڑھی ہوئی تھی
08:39اس تمدن کے نشانات مٹ رہے تھے
08:41اور اس پر زوال کی مہور لگ چکی تھی
08:42وہ ممالک جہاں یہ تمدن
08:45بہار لایا اور گزشتہ زمانے میں
08:47اپنی انتہائی ترقی کو پہنچ گیا تھا
08:49جیسے اٹلی فرانس وغیرہ میں بھی
08:50تباہی تباہی فلملوکی
08:52اور ویرانی کا دور دورہ تھا
08:54برعظم ایشیا یورپ اور افریقہ
08:57میں بسنے والے یہودی دنیا کی
08:59دیگر تمام اقوام سے اس لحاظ سے
09:01ممتاز تھے کہ ان کے پاس آسمانی دین
09:03کا بہت زیادہ علم تھا لیکن یہ
09:04یہودی دیگر وجوہات کی بنا پر
09:06مذہب و سیاست اور تہذیب و تمدن
09:09میں وہ مقام نہیں رکھتے تھے
09:10کہ دوسروں پر زیادہ سرانداز ہو سکیں
09:12دولت کی حوص غرور تکبر
09:15حوص پرستی نصبی تکبر
09:17اور قومی غرور کی وجہ سے
09:19ان کے اندر مخصوص ذہنیت پیدا ہو گئی تھی
09:21جو انہیں عوامی سطح پر آنے سے
09:23روکتی تھی راہ حق سے
09:24لوگوں کو منع کرنا ان کی فطرت سانیہ
09:27تھی قرآن نے ان کے اخلاقی پستی
09:29مسک شدہ ذہنیت اور
09:31اجتماعی فساد کی بڑی احسن انداز
09:33میں نقشہ کشی کی ہے یہودی اور
09:35عیسائیوں کی باہمی رقابت چھٹی صدی
09:37عیسویں کے آخر میں اپنی آخری حدوں کو
09:39چھو رہی تھی ایک دوسرے کو
09:40ظلیل و رسوہ کرنے قون بہانے اور
09:42مفتو اقوام کے ساتھ غیر انسانی سلوک
09:45روا رکھتے اس صفحہ کی
09:46جبر و تشدد اور وحشت و بربریت
09:49کے اس ماحول میں جس کا مظاہرہ
09:51یہ دونوں مذاہب وقتن فوقتن
09:53کرتے رہتے تھے ان سے کیا توقع کی جا
09:55سکتی تھی کہ وہ اپنے دور حکومت میں
09:57انسانیت کے پاسبا ہوں گے
09:58اور حق و انصاف اور عدل و مسابات کی
10:00اقدار کی پاسداری کریں گے
10:03ناظرین اسلام کی آمد سے قبل
10:05درگیا میں بے شمار تحضیب اروج و
10:06زوال سے دو چار ہوئیں لیکن آج چند
10:09ایک کے سوا سب اپنا تشخص کھوچ
10:11چکی ہیں جن میں سے چند تحضیبوں کے
10:12بارے میں آپ کو بتاتے ہیں جنوبی عراق
10:15میں شمال کی طرف سے ایک نئی قوم کے لوگ
10:16آ کر آباد ہوئے یہ لوگ اپنے ساتھ
10:18دھات کے استعمال کی ترقی آفتہ سند
10:20اور کمہار کے چاک کی ایجاد
10:23لے کر آئے تھے تین ہزار قبل
10:24بسی سے کچھ عرصہ قبل جنوبی عراق
10:26پر اس اجنبی قوم کا قبضہ ہو گیا
10:28جو ایک متمدن قوم تھی اور یوں
10:30سمیری تحضیب وجود میں آئی
10:32اہل مصر بھی شاندار تحضیبی روایات کے
10:34حامل تھے سمیری تحضیب
10:36مصری تحضیب سے قدیم تھی
10:38اہل مصر ایک ترقی آفتہ قوم تھے
10:40ان کا کلچر سمیری کلچر سے مختلف تھا
10:42اور انفرادیت کا حامل تھا
10:44مصری قوم میں لیبیا مغربی
10:46ایشیا سامی سودانی
10:48اور توبیائی لوگ بھی شامل تھے
10:50اور یوں ایک مخلوط تحضیب وجود میں آئی
10:52جو ثقافتی اعتبار سے بھی
10:53توانار روایات کی حامل تھی
10:55حکمران فیرون کہلاتے اور ملک
10:58سیاہ سفیت کے مالک ہوتے
10:59عوام سے بے گار لی جاتی
11:01اور ان کے خون کا آخری قطرہ تک
11:02نچوڑ لیا جاتا
11:03عوام حکمرانوں کے لیے
11:05عالی شان امارتیں تعمیر کرنے
11:07اور ان کے حوث ملک گیری کے لیے
11:09اور ان کے حوث ملک گیری کے لیے
11:11اپنی جانے تک قربان کر دیتے
11:12ہتی آریا نسل سے تعلق رکھنے والے
11:15مختلف قبائل کو کہتے ہیں
11:16یہ لوگ تین ہزار قبل مسیح کے وسط تک
11:18اپنے اصل وطن
11:19بحیرہ کیپسین میں آباد تھے
11:21بابجھو یہ قبائل شام سے ہوتے ہوئے
11:24آناتولیا جہاں پہنچے
11:25بہاں انہوں نے مقامی لوگوں سے
11:27ابتدائی اصول و زوابط سیکھے
11:28اور پھر شہرہ ترقی پر گامزن ہو کر
11:30سولہ سو قبل مسیح
11:32انہوں نے ایشیا کوچک میں
11:33ایک منظم اور طاقتور حکومت قائم کی
11:36حتہ تہذیب سمیری اور مصری تہذیب
11:39کے بعد وجود میں آئی
11:40اس لیے ان دو بڑی تہذیبوں سے
11:42اس نے بھرپور استفادہ کیا
11:44پونقی فونقی
11:46دراصل سامی النسل تھے
11:47ان کے اباؤ اجداد
11:48دو ہزار آٹھ سو قبل مسیح کے قریب
11:50خلیج فارس کے علاقے میں
11:52ساحل شام کے علاقے میں منتقل ہوئے
11:54یہاں انہوں نے شہر آباد کیے
11:56جو مختلف دستکاریوں کے مراکش تھے
11:57تجارت ان کا واحد ذریعہ معاش تھا
11:59یہی تجارت ان کی منفرد تہذیب کی بنیاد بنی
12:02انہوں نے لسانی اعتبار سے بھی کمال ترقی کی
12:05ان کا کارنامہ یہ ہے
12:06کہ انہوں نے اپنی زبان کی تمام آوازوں کو
12:08بائیس حرف تہجی میں لکھنے کا آغاز کیا
12:11ان کا دوسرا کارنامہ یہ ہے
12:12کہ انہوں نے اسپین کے ساحلوں تک
12:14رسائی حاصل کی
12:15اور رکھتا رکھتا وہاں
12:16اپنی نو آبادیاں قائم کر لیں
12:18یونان
12:19سولہ سو قبل مسیح
12:20ایک نیم وحشی ملک تھا
12:22دوہزار قبل مسیح آریا نسل کے جو لوگ
12:24یونان میں آئے تھے
12:25وہ تہذیب سے اتنے نابلت تھے
12:27جتنے مقامی لوگ
12:28آٹھمی صدی کے وسط میں
12:29یونانی قوم میں بیداری کے لہر پیدا ہوئی
12:31اور ترقی کے اثار نظر آنے لگے
12:33سابقہ چار صدیوں کے دور کے
12:35یونانی لوگ
12:36مشترکہ تہذیب و تمدن کی
12:38باعث مقصوص اور منفرد خصوصیات
12:40قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے
12:42شہری ریاست اگرچہ
12:43یونان سے قبل سمیری تہذیب
12:45مارز وجود میں آ چکی تھی
12:46لیکن جتنا انہماک اور شوق
12:48یونانیوں نے ظاہر کیا
12:50اور شہری ریاستوں کے تصور کو
12:51اپنی تہذیب کا حصہ بنا لیا
12:53اتنا جوش و خروش خود
12:55سمیری تہذیب میں بھی نہیں پایا جاتا تھا
12:57یونانی تہذیب و تمدن کے دو بنیادی رجحان
12:59فلسفہ اور سائنس تھے
13:01جو بعد میں یورپی اقوام کی
13:03ماددی ترقی کا باعث بنے
13:04تہذیب و تمدن کے ابتدائی مراکز میں سے
13:07جنوب مغربی ایران کا علاقہ
13:08خاص اہمیت کا حامل تھا
13:10خلیج فارس سے ملا ہوا یہ علاقہ
13:12قدیم زمانے میں
13:13علام کے نام سے مشہور تھا
13:15آثار قدیمہ کے دریافتوں سے
13:16یہ چیز ثابت ہو چکی ہے
13:18کہ سمیری تہذیب کے ابتدائی زمانے سے
13:20علام کے مرکزی شہر سوسا میں
13:22ایک ترقی آفتہ تمدن موجود تھا
13:25ظہور اسلام کے وقت
13:26ایران ایک طاقتور ملک گردانا جاتا تھا
13:29عسکری حوالے سے بھی
13:30اور تہذیب حوالے سے بھی
13:32اس لیے ایران کو
13:33اس اہد کی سوپر پاور سے تعبیر کیا جاتا ہے
13:36مگر ظہور اسلام سے کچھ پہلے
13:38جہالت کی جو آنگیاں دنیا میں چل رہی تھیں
13:40ایران بھی اس سے محفوظ نہ رہ سکا
13:42بحرام نے جو چھٹی صدی عیسوی میں
13:44ایران کا حکمران تھا
13:45اپنی بہن سے ازدواجی تعلق قائم کر رکھے تھے
13:48چنانچہ ابن جریر تبری رقم تراز ہیں
13:50شاہ بحرام کی کردیا نامی ایک بہن تھی
13:53جو تمام عورتوں سے بڑھ کر
13:54نہایت خوبصورت اور کامل تلین تھی
13:56اس نے اس کے ساتھ ازدواجی تعلقات قائم کر رکھے تھے
13:59ابن جریر تبری ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں
14:01یہاں تک کہ وہ کسی بھی آدمی کے گھر میں گھوچ جاتے تھے
14:04اور مال و زن پر قبضہ کر لیتے
14:06اور صاحب مکان ان کے خلاف کچھ بھی نہ کر سکتا
14:09اسی طرح ہندوستان بھی عالمی منظر نامے میں
14:11ثقافتی اور تہذیبی سطح پر زبال کا شکار تھا
14:14ہندوستان میں ہندو مت نے
14:15بودھ مت کو اپنے اندر زم کر لیا
14:17اور اپنی جنم بھومی سے
14:19بودھ مت کا نام و نشان مٹ گیا
14:21بودھ مت پر ہندو مت اس حد تک غالب آ چکا تھا
14:24کہ بودھ کے ملک کی صورتحال بھی
14:25قابل رشک نہ تھی
14:27مغل ترک اور جاپانی
14:28مشرق اور وسط ایشیا میں آباد تھے
14:31یہ اقوام اپنی عبوری دور میں سے گزر رہی تھیں
14:33ان کے پاس نہ کوئی سیاسی نظام تھا
14:35نہ کوئی علمی روایت
14:36یہ لوگ بودھ پرستی کے طرف مائل تھے
14:38ہندوستان میں اس وقت اگرچہ ایک سیاسی وحدت نہیں تھا
14:41بلکہ انگنت سیاسی قائیوں میں تقسیم تھا
14:44تاہم ہندو مت اپنے ایک ثقافتی پسے منظر رکھتا تھا
14:47اسی ثقافتی توانائی کی بدولت
14:48اس نے بودھ مت اور جین مت کو
14:51اپنے اندر زم کر لیا
14:52ہندوستان ذات پات کی حد بندیوں میں جھکڑا ہوا تھا
14:54غیر انسانی بنیادوں پر انسانوں کو
14:56چار طبقات میں تقسیم کر دیا گیا
14:58برہمن کی حاکمیت قائم کرنے کے لیے
15:01ہر ناجائز فیل کو جائز قرار دیا گیا تھا
15:03اور برہمنی سامراج کی گرفت
15:05سماج پر اتنی مضبوط تھی
15:07کہ برہمنوں کی مرضی کے بغیر
15:09حکمران بھی کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے تھے
15:11جنسی خواہشات اور شہوانی جذبات
15:13کو بھارنے والے اناثر
15:15جس قدر ہندوستان کی قدیم تہذیب و تمدن میں تھے
15:17کسی دوسرے ملک میں نہیں پائے جاتے تھے
15:19منوشاستر کے مطابق
15:21کتے، بلی، مینڈک، کووے، اللو
15:24اور شودر کو ماننے کا
15:26کفارہ قرار دیا گیا
15:27برہمنی سامراج میں عورت انتہائی قسم پرسی کے
15:30دن بسر کر رہی تھی
15:31مرنے والے شہر کے ساتھ اسے بھی جل کر مرنا ہوتا
15:34یا ساری عمر بیوگی کی زندگی بسر کرتی
15:37اور اسے سماج کے تانوں کا حدف بننا پڑتا
15:39سرزمین ہند غیر انسانی روایات کی آماجگہ بن چکی تھی
15:42جہالت و توہم پرسی نے
15:44ذہن انسانی کو اپنی گرفت میں لے رکھا تھا
15:47ناظرین ہندوستان کا علمی و ثقافتی ماضی
15:49کتنا ہی تابنا کیوں نہ رہا ہو
15:51مگر ظہور اسلام کے زمانے میں
15:53جب بدمت کے مقابلے میں
15:54برہمنیت کو اروج ہوا
15:56تو اس کے تاثب و تنگ نظری نے
15:58اپنے حریفوں کی بیخ کنی کے ساتھ ساتھ
16:00ان کی علمی سرگرمیوں کو بھی مٹا ڈالا
16:02چنانچہ اگر ان کے علمی و حکومی
16:04کارنامے کچھ محفوظ ہیں
16:06تو صرف غیر ملکی
16:07مثلا چینی، طبطی یا عرب مسنفین کے یہاں ملتے ہیں
16:11شروع میں ان کی طب
16:12اور حیت کی طرف مسلمانوں نے توجہ کی
16:15مگر جلد ہی انہیں
16:16اس کی محدودیت کا اندازہ ہو گیا
16:18چنانچہ البیرونی نے جو ہندووں کے قدیم علم
16:20کو زندہ رکھنے کے لئے مشہور ہے
16:21جو ہندووں کا عظیم کارنامہ ہے
16:23ایک مستقل لکھی اور یہ ثابت کیا کہ
16:26علم الحساب میں بھی عرب فائق ہیں
16:28رومی سلطنت اپنے زمانے کی دوسری سپر پاور تھی
16:31یہ اپنے وقت میں دنیا کی سب سے بڑی حکومت تھی
16:33جو بہیرہ روم کے چاروں طرف
16:35تین برعظموں پر پھیلی ہوئی تھی
16:36رومی ایک جاندار اور شاندار تہذیب کے وارث تھے
16:39سنت و حرفت میں بھی
16:41رومی اپنی مثال آپ تھے
16:42اور صحیح معنوں میں ایک سپر پاور تھے
16:44رومی تہذیب یونانی کلچر سے متاثر تھی
16:46رومیوں نے مقامی تہذیبوں کے
16:48ملاب سے ایک نئے تمدن کے بنیاد رکھی
16:51مگر اقلاقی اور قومی سطح پر
16:52رومی تہذیب بتدریج زبال کا شکار تھی
16:55گو جزیرہ نمائے عرب کو
16:57رومی کسی خاطر میں نہیں لاتے تھے
16:59لیکن حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
17:02کے مکی دور کے بعد
17:03جب ریاست مدینہ کی داغبیل پڑی
17:12پر غلبہ نصیب ہوا
17:14ناظرین اسلام ایک مکمل دین اور طریقہ
17:16زندگی ہے
17:17اس کا پیش کردہ نظام فکر و عمل
17:19ہر دور کے انسان کی انفرادی
17:21اور اجتماعی زندگی کے ہر پہلو کے لیے
17:24قابل عمل ہے
17:24اسلام کا پیروکار اس بات کا پابند ہے کہ
17:27اپنی خواہشات کو اللہ کے دین کے تابع کر دے
17:30اور کسی بھی خواہش کی تکمیل و تسکین
17:32کے لیے صرف وہی راستہ
17:33اور طریقہ کار اپنائے جس کا تائین
17:35دین میں کیا گیا ہے
17:36اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
17:38اے لوگو جو ایمان لائے ہو
17:40دائرہ اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ
17:42اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
17:45تم میں سے کوئی بھی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا
17:47جب تک اس کی خواہشات میری لائے ہوئی تعلیمات کے تابع نہ ہو جائیں
17:51اس آیت اور حدیث سے ثابت ہے کہ
17:53اسلامی تعلیمات کا دائرہ
17:54انسان کے پوری زندگی پر محیط ہے
17:56یہ تعلیمات انسانی زندگی کے ہر فکری اور عملی
17:59پہلو کے لیے رہنما اصول فراہم کرتی ہیں
18:01جن کے پشت پر
18:02رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا
18:05نمونہ عمل
18:06اصوائے حسنہ موجود ہے
18:08اسلامی تحذیب میں اقوام عالم کی تحذیبوں کی قیادت
18:11اور اصلاح کی بھرپور صلاحیت پائی جاتی ہے
18:13کسی بھی قوم کی تحذیب میں پائی جانے والی
18:16کوئی بھی خوبی درحقیقت
18:17اسلامی تحذیب سے معاقوز ہے
18:19ڈاکٹر بی کے نریان لکھتے ہیں
18:21اسلام دنیا میں اس وقت ظہور پذیر ہوا
18:24جب قدیم تحذیبیں مثلاً
18:25بازنتینی، ایرانی اور ہندوستانی تحذیبیں
18:28خوشک ہو چکی تھی
18:28اور ہر جگہ لوگ جابر طبقے اور
18:31ظالمانہ نظاموں سے نجات کے منتظر تھے
18:33جو کہ قدیم تحذیبوں کی مسترکے
18:35خصوصی تھی
18:36ڈاکٹر آغا افتخار حسن تاریخی جائزہ لیتے ہوئے
18:39اسلامی تحذیب کی ذرخیزی، انقلاب
18:41اور دنیا کی تحذیبوں کی رہنمائی
18:43کی خوبیوں پر یوں روشنی ڈالتے ہیں
18:44انسان کی تحذیبی تاریخ میں اسلام کی حیثیت
18:47ایک دین فطرت کی ہی نہیں
18:48بلکہ ایک عظیم ذہنی اور معاشرتی انقلاب کی بھی ہے
18:51اسلام کے ظہور کے وقت
18:53دنیا شدید تحذیبی اہنتات سے دو چار تھی
18:55آج کا تحذیبی آفتہ یورپ
18:57قرون وستہ کی تاریخیوں میں ڈوبا ہوا تھا
19:00وادی نیل، وادی دجلہ افرات
19:02اور وادی سندھ کے قدیم تحذیبیں
19:04اروش پر پہنچ کر زبال کا شکار ہو چکی تھی
19:06یونانی افکار کا اس سنہری دور بھی
19:08ختم ہو چکا تھا
19:09اس عرصے میں یورپ میں مملکت روما
19:11تحذیب کی ایک نئی نوید لے کر عبری تھی
19:13لیکن یہ عظیم مملکت
19:15یعنی تحذیب بھی زبال پذیر ہو گئی
19:17اس طرح مشرق و مغرب میں تحذیب
19:19کئے خلا پیدا ہو گیا
19:20اس خلا کو اسلام نے نہایت کامیابی سے پور کیا
19:23چنانچہ عصر حاضر کے ایک مغربی دانشور
19:25ایسپری ہنگ ٹینکٹن کا کہنا ہے
19:27یورپی ثقافت نے مغرب کے مقصوص حالات
19:30اور مفادات کے تحت
19:31گیارویں اور تیرویں عیسمی صدی کے دوران
19:33عالی اسلامی اور بازن تینی تحذیبوں سے
19:36قابل لحاظ تناسب میں
19:37موضوع ناصر اخص کرتے ہوئے ترقیق آغاز کیا
19:40یورپ کی جہالہ تو تحذیب سے ناشنائی
19:42ایک تاریخی ریکارڈ ہے
19:43اور یہ بھی کہ یورپ کی تاریخ راہیں
19:45اسلام علم و دانش اور تحذیب و تمدن
19:47کے چراغوں سے روشن ہوئی
19:48امجد حیات ملک لکھتے ہیں
19:50یورپ کی صدیوں پرانی اخلاقی
19:53اور علمی ویرانی کے دور میں
19:55اسلام نے ترقیقے ہراول دستے کی قیادت کی
19:58عیسائیت نے اپنے آپ کو
20:00قیسر روم کے تخت پر تو
20:01متمکن کر لیا لیکن
20:03اقوام عالم کی ہدایت اور رہنمائی میں
20:06ناکام رہی
20:06چوتھی صدی سے بارمی صدی عیسمی تک
20:08یورپ پر چھائی ہوئی
20:10ظلمتوں کے پردے
20:11دبیز سے دبیز تر ہوتے چلے گئے
20:13کلیسہ نے وہ تمام راہیں
20:15جن سے علم انسانیت اور تحذیب
20:17کا دور شروع ہو سکے
20:18مزدود کر دیں
20:19لیکن پھر بھی وقت کے ساتھ
20:21اسلام کے بابرکت اثرات
20:23عیسائی دنیا میں پہنچ کر
20:24محسوس ہونے لگے
20:25احمد عبداللہ
20:26زرتشت
20:27اور ہندومت کے پیروکاروں
20:29نیز تہتاریوں اور منگولوں پر
20:31اسلامی تحذیب کے اثرات
20:32بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں
20:33زرتشتوں نے
20:34حلقہ اسلام میں
20:35اس لئے شمولت اختیار کی
20:37کیونکہ پادری اپنی طاقتور
20:38حیثیت سے بلا جواز فائدے
20:40اٹھا رہے تھے
20:41اس کے نتیجے میں
20:42ان کے اقدار کی تباہی کے ساتھ
20:43ابتری پیدا ہوئی
20:45ہندومت نے
20:45اسلام کے سائے آتفت میں آنے کی وجہ
20:48ذات پات کے امتیازات
20:50ذات پات کے امتیازات تھے
20:52جو معاشرے کے ایک طبقے کے ساتھ
20:54انتہائی بے انصافی کے ذمہ دار تھے
20:55منگولوں اور تاتاریوں نے
20:57اپنے اہد کے
20:57مسلمانوں کے ترقی
20:59آفتہ تمدن
21:00اور تعلیم و سائنسی
21:01کارناموں سے متاثر ہو کر
21:02اسلام کو بھول کیا
21:03ناظر اسلام نے
21:04دنیا کو بدلا
21:05تو صرف اور صرف
21:07سیرت النبی کی وجہ سے ہی
21:08ممکن ہوا
21:09سیرت کے لغوی معنی خواہ کچھ بھی ہوں
21:11لیکن عام طور پر
21:13لوگ اس سے مراد
21:14سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
21:16ہی لیتے ہیں
21:17حضور رحمتِ عالم
21:18صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
21:19کی بلادتِ با سعادت سے
21:21وفات تک کے
21:22تمام مراحلِ حیات
21:24آپ علیہ السلام کی
21:25ذات و صفات
21:26اور تمام وہ چیزیں
21:28جن کا آپ
21:29علیہ السلام کی ذات سے
21:30تعلق ہو
21:31سیرت میں شامل ہیں
21:32چنانچہ اعلانِ نبوت سے پہلے
21:34اور بعد کے تمام واقعات
21:36کاشانہِ نبوت سے
21:37غارہ ہرہ اور غارہ سور تک
21:39حرمِ کعبہ سے
21:40طائف کے بازار تک
21:41مکہ کی چراغاہوں سے
21:43شام کی تجارت گاہوں تک
21:44اور خلوت گاہوں سے
21:46غزوات کی
21:46ذرگام گاہوں تک
21:48آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
21:50حیاتِ مقدسہ کے
21:51ہر ہر لمحے کو
21:53سیرت کہتے ہیں
21:54آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
21:56زندگی میں
21:56ہر شعبے سے
21:57وابستہ افراد کے لیے
21:58رہنمائی ہے
21:59آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
22:01دائی تھے
22:02اور مربی بھی
22:03قاضی تھے اور زاہد بھی
22:05سیاستدان تھے
22:11آپ دائی ہیں
22:12تو سیرت النبی
22:13صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
22:15کے متعالے سے
22:15دعوت کے کئی اسلوب ملیں گے
22:17معلوم ہوا کہ
22:19کلمہ توحید کی
22:19سربلندی کی خاطر
22:20تکالیف اور آزمائش کے
22:22موقع پر
22:23ایک دائی کا صحیح کردار
22:24کیا ہونا چاہیے
22:25اگر آپ خاندان
22:27قبیلے
22:27یا فوج کی قیادت کر رہے ہیں
22:29یا زمانے
22:30یا زمانے حکومت
22:31سمحالے ہوئے ہیں
22:32تو متعالے سیرت سے
22:33ایک مضبوط نظام
22:35اور مستحقم
22:36اسلوب ملے گا
22:37اور مستحقم
22:38اسلوب ملے گا
22:39رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
22:41نے اپنے عمر کے
22:42پندر میں سال ہی
22:43امن کے ایک
22:44مہایدے میں شرکت کی
22:45امیر غریب
22:46سردار اور غلام کے لیے
22:47ایک ہی قانون وضا کیا
22:49رفاعی خدمات
22:50پیش پیش رہے
22:51ایک مکمل
22:52معاشی نظام پیش کیا
22:53جس کے مطابق
22:54تجارت کر کے
22:55مسلمانوں نے
22:55زمانے تجارت
22:56جس پر عرصے سے
22:58یہودی قابس تھے
22:59اپنے ہاتھ میں لے لی
23:00مختصر یہ کہ
23:01رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
23:03کی ان کوششوں کے نتیجے میں
23:04جزیرت العرب
23:05جو کہ گویا ایک میدان جنگ تھا
23:07امن کا گہوارہ بن گیا
23:08جہاں بھائی بھائی کا دشمن تھا
23:10وہاں پورا معاشرہ
23:11باہی میں
23:11شیر و شکر ہو گیا
23:13معاشرے میں
23:13یہ سب تبدیلیاں کیسے آئیں
23:15یہ جاننے کے لیے بھی
23:16مطالعہ سیرت
23:17انتہائے ضروری ہے
23:18حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
23:20کے عمر مبارک کے
23:21بیس میں سال ایک واقعہ ہے
23:22عربوں کی ساری خرابیوں کے باوجود
23:24ان کے اندر ابھی تک
23:25اخلاق حسنہ کی
23:26بعض باقیات موجود تھیں
23:27ظلم کے خلاف کبھی کبار
23:29ان کے رگے ہمیت جاگ اٹھتی تھی
23:31اور وہ ظلم سے
23:32مظلوم کا حق دلانے کے لیے
23:33سینہ سپر ہو جاتے تھے
23:35قبیلہ بن عزید کا ایک شخص
23:36کچھ مال تجارت لے کر مکہ آیا
23:38اس کی بیٹی بھی اس کے ساتھ تھی
23:40اس تاجر سے
23:41اس کا سامان مکہ کے مشہور
23:42اور مالدار سردار
23:44آس بن وائل نے خرید لیا
23:45لیکن اس نے سینہ زوری کرتے ہوئے
23:47اس زبیدی تاجر کی بیٹی
23:49کو بھی اپنے قبضے میں لے لیا
23:50وہ اجنے بھی شخص خانے کعبہ میں آیا
23:52اور خانے کعبہ کے غلاف پکڑ کر
23:53بلند آواز سے روتے پیٹتے ہوئے
23:55فریاد کرنے لگا
23:56اے شہر مکہ کے شرفہ
23:57تمہارے باثر آدمی آس بن وائل
23:59نے مجھ سے زبردستی میری بیٹی چھین لی ہے
24:01میں مسافر اور مظلوم ہوں
24:04تمہاری خدمت میں درخواست گزار ہوں
24:06کہ میری داد رسی کرو
24:07اور میری بیٹی مجھے واپس دلاؤ
24:09قرآش کے کچھ نوجوانوں نے
24:11اس مظلوم کی آہو پکار سنی
24:13تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں
24:15یہ بات ڈال دی کہ
24:16مردانگی کا تقاضہ ہے
24:17کہ اس مسافر کی داد رسی کی جائے
24:19جب تاریخ میں ہم اس واقعے کا
24:21مطالعہ کرتے ہیں
24:21تو دل سے یہ بات اٹھتی ہے
24:23کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کے اندر
24:25ایک مظلوم کی داد رسی کو
24:26شرف قبولیت بخشتے ہوئے
24:28ان لوگوں کے دل خیر کی جانب آمادہ کر دیئے
24:31غالب گمان یہ ہے
24:32کہ یہ لوگ درجن بھر کے لگ بھگ ہوں گے
24:34نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
24:36ان میں پیش پیش تھے
24:37یہ سب لوگ اس زبیدی کو
24:39اپنے ساتھ لے کر
24:39آس بن وائل کے دروازے پر پہنچے
24:41اسے باہر بلائے گئے
24:43اور سب نے یک زبان کہا
24:44کہ اس مظلوم پر تم نے کیوں ظلم ڈھایا
24:46اس ظالم نے کہا
24:47کہ میں نے کوئی ظلم نہیں کیا
24:48وہ لڑکی کنیز ہے
24:49جب مال کا سعودہ کیا تھا
24:51تو یہ لڑکی بھی اس نے
24:51تو یہ لڑکی بھی میں نے اس شخص سے خرید لی تھی
24:54آس بل وائل کا جواب سن کر
24:55وقت کے لوگوں نے زبیدی سے وضاحت مانگی
24:57تو اس نے کہا
24:58خانہ کعبہ کی عظمت و تقدیز کی قسم
25:00میں نے اپنی لڑکی بیچی نہیں ہے
25:02اور نہ ہی وہ کنیز ہے
25:03وہ میری بیٹی ہے
25:04اور اس شخص نے اپنی قوت کے بلبوتے پر
25:06اور اس شخص نے اپنی قوت کے بلبوتے پر
25:08زبردستی سے اغوا کر کے
25:09اپنے گھر میں ڈال لیا ہے
25:10اس پر وقت کے لوگوں نے سختی کے ساتھ
25:12آس بن وائل سے بات کی
25:14تو اس بدبخت نے اپنے جرم کا اطراف کر لیا
25:16اور زبیدی کی لڑکی اسے واپس دینا پڑی
25:19لڑکی واپس کرنے کے وقت
25:20بدبخت آس نے ارکان وفد سے کہا
25:22کہ میں کل صبحو لڑکی واپس کروں گا
25:24ایک رات مجھے اس کے ساتھ گزار لینے دو
25:26وفد کے تمام غیرت بن ارکان نے
25:28اسے سختی کے ساتھ
25:29اس ارادیہ بد پر شرم دلائی
25:31اور کہا کہ یہ ہرگز ممکن نہیں
25:32جنانچہ اسے اپنے شیطانی ارادے پر
25:35عمل کا موقع نہ ملا
25:36زبیدی کی بیٹی اسے واپس دلا دی گئی
25:38اب اس نے اپنی بیٹی کو ساتھ لیا
25:40اور اپنے علاقے کی طرف روانہ ہو گیا
25:42ناظرین اللہ سبحانہ تعالی نے
25:44نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو
25:46چالیس سال کے عمر میں
25:47نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا
25:49نبوت سے نواز جانے کے بعد
25:51آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
25:53تیرہ سال تک مکہ مکرمہ میں رہے
25:55یہ زمانہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
25:57مکی زندگی کہلاتا ہے
25:59آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
26:01مکی زندگی میں تین سال تک
26:02خفیہ طور پر اپنے قریبی لوگوں کے سامنے اسلام پیش کیا
26:05پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
26:07دس سال تک کھل لم کھلا
26:09اشعات اسلام کا کام کیا
26:11اس کے بعد آپ یہ اسرب حجرت کر گئے
26:13اشعات اسلام کی وجہ سے کفار مکہ
26:15آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانی دشمن ہو گئے
26:18جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
26:21نے اپنی نبوت اور رسالت کا اعلان نہیں کیا تھا
26:23اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
26:25مکہ میں ایک اقلمند دانشور
26:27امین و صادق اور اچھے انسانوں میں جانے جاتے تھے
26:29جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
26:31نے اپنی نبوت کا اعلان کیا
26:32تو لوگوں نے آپ کو جادوگر و کاہن
26:34و ساہر جیسے مایوب لقب سے
26:36مشہور کرنے کی کوشش کی
26:38تاکہ لوگ آپ علیہ السلام کے قریب نہ آئیں
26:40اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باتیں نہ سنیں
26:43تاریخ بن عبداللہ المحاربی
26:45رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
26:46میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
26:48کو بازار زل مجاز میں دیکھا
26:50جبکہ میں خرید و فروخت میں مشغول تھا
26:53آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
26:54سرخ جبہ زیب تن کی ہوئے تھے
26:56اور بلند آواز سے یہ فرماتے جاتے تھے
26:59اے لوگو لا الہ الا اللہ کہو
27:01فلاح پاؤگے
27:02ایک شخص آپ کے پیچھے پیچھے پتھر مارتا جاتا
27:05جس سے آپ کی پندلی اور ایڑی خون
27:07نالود ہو گئے
27:08وہ شخص ساتھ ساتھ یہ بھی کہتا جاتا
27:10اے لوگو اس کی بات نہ سننا یہ جھوٹا ہے
27:12مہار بھی فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا
27:14کہ یہ شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کون ہے
27:16لوگوں نے جواب دیا یہ لڑکا بنی عبد المطلب سے ہے
27:19پھر میں نے پوچھا وہ شخص کون ہے
27:20جو اس کا پیچھا کر رہا تھا
27:21اور پتھر مار رہا تھا
27:22لوگوں نے جواب دیا یہ آپ کا چچھا
27:25عبدالعزہ یعنی ابو لحب ہے
27:27بازار زلمجاز میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر
27:30ابو جہل کا مٹی پھینکنا
27:32بنو مالک بن کنانا کے ایک شیخ کہتا ہے
27:34کہ میں نے اللہ کے رسول کو بازار زلمجاز میں دیکھا
27:37کہ یہ فرماتے تھے
27:38اے لوگو لا الہ الا اللہ کہو فلاح پاؤگے
27:41راوی فرماتے کہ ابو جہل آپ پر مٹی پھینکتا تھا
27:43اور یہ کہتا تھا
27:44اے لوگو خیال رکھنا یہ شخص تم کو
27:46تمہارے دین کے حوالے سے دھوکہ نہ دے دے
27:48کیونکہ اس کا
27:49کیونکہ اس کا ارادہ ہے
27:50کہ تم لا تو عزا کو چھوڑ دو
27:52جب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
27:54اس کی طرف ذرہ برابر بھی
27:56التفات نہیں فرماتے
27:57جبکہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
27:59اس کی طرف ذرہ برابر بھی
28:01التفات نہیں فرماتے تھے
28:02ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
28:04کعبہ شریف کے پاس نماز عدہ کر رہے تھے
28:07ابو جہل اور اس کے ساتھی وہاں بیٹے تھے
28:09ان میں سے بعض نے بعض سے کہا
28:10کہ تم میں سے کون ہے جو فلا قبیلے کی
28:12اونٹنی کے اوجڑی لائے اور جب محمد
28:14سجدے میں جائیں تو وہ اسے
28:16اس کی پشت پر رکھتے
28:17اقبہ بن ابی معید جو نہائید بدبخت
28:20شکل قلب اور ملون تھا
28:22وہاں سے اٹھا اور اوجڑی لے کر آیا
28:23پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
28:25سجدے کا انتظار کرنے لگے جب آپ
28:27صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے کے لئے
28:30اپنے چہر مبارک کو زمین بوش کیا
28:31تو اس نالائک نے اس اوجڑی کو
28:33آپ علیہ السلام کی پیٹ پر
28:35کاندھوں کے درمیان رکھ دیا
28:37آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بوجھ کی وجہ سے
28:39اٹھا نہیں پا رہے تھے
28:40سجدے کی حالت میں پریشان تھے
28:42دوسری طرف ابو جہل اور اس کے بے غرض ساتھی
28:44سب کے سب ہنسنے اور ٹھٹا مارنے لگے
28:47حیط عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ
28:48یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے
28:50مگر اپنی کمزوری زوف اور ان ظالموں کے خوف سے
28:52رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
28:55کا دفاع کرنے سے آجز تھے
28:56پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لخت جگر
28:58حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ
29:00آئی اور اوجڑی کو آپ کی پشت مبارک سے ہٹایا
29:04ناظرین ایک یہودی جس کا نام
29:06لبید بن آسم تھا
29:07اس نے حضور اقدر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
29:10پر جادو کر دیا تھا
29:11بعض روایات میں آتا ہے کہ لبید بن آسم
29:13یہودی جس نے نبی کریم
29:15سرورد عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
29:18پر جادو کیا تھا
29:19اس نے اپنی لڑکیوں کو جادو سکھایا تھا
29:21اور ان لڑکیوں نے تانت کے دھاگے کو لے کر
29:23اس میں گرہیں باندھی تھی
29:27اور اس تانت کے دھاگے کو کنگے کے اندر لگا دیا گیا تھا
29:30اس جادو کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
29:33کی طبیعت کچھ ناساز ہو گئی
29:34اور ناساز اس طرح ہوئی کہ
29:36بعض اوقات وہی کے علاوہ دیگر امور میں
29:38آپ علیہ السلام ایک کام کر لیتے
29:41مگر خیال ہوتا تھا کہ نہیں کیا
29:42اس طرح کی کیفیت
29:44اور اس کی وجہ سے ایک انقباض
29:47اس کی وجہ سے ایک طرح کا انقباض کی کیفیت تاریر تھی
29:51آپ کو یہ تکالیف کئی دن تک جاری رہیں
29:53ایک دن آپ نے تائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما سے فرمایا
29:57کہ مجھے جو تکلیف چل رہی ہے
29:58اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مجھے خواب میں
30:00اس کا اصل سبب بتا دیا ہے
30:02میں نے خواب دیکھا کہ دو فرشتی آر میرے پاس آ کر بیٹھ گئے
30:05اور انہوں نے آپس میں گفتگو کرنا شروع کی
30:08اور ان صاحب کو کیا ہوا ہے
30:10ان کو کیا تکلیف ہے
30:11دوسرے فرشتے نے جواب دیا
30:12ان پر کسی نے جادو کر دیا ہے
30:14پہلے فرشتے نے پوچھا کہ کس نے جادو کیا ہے
30:17دوسرے نے جواب دیا
30:18لبید بن آس
30:20لبید بن آسیم کے نام سے ایک یہودی ہے
30:22اس نے جادو کیا ہے
30:23پھر پہلے نے سوال کیا
30:25کس چیز میں جادو کیا ہے
30:41یہ ساری تفصیل
30:42نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
30:45کو ان فرشتوں کے ذریعے بتا دی گئی
30:47حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما سے
30:49آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
30:51کہ اللہ تعالی نے میری اس تکلیف کے بارے
30:53مجھے ساری تفصیل اس طرح بتا دی ہے
30:55چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
30:57خود اس کوئے کے پاس ترشیف لے گئے
30:59اور وہاں جا کر آپ نے دیکھا
31:00کہ اس کا پانے بلکل پیلا پڑا ہوا تھا
31:02وہاں سے ایک کنگہ بھی برامد ہوا
31:04کنگے کے اندر جو بال تھے وہ بھی برامد ہوئے
31:06مدینہ منورہ میں
31:08مدینہ منورہ میں ایک یہودی عورت رہتی تھی
31:10اس کا نام لبیتل حمرہ تھا
31:13اس کا نام لبیتل حمرہ تھا
31:17وہ ایک بہت ہی خبیص اور بدزات عورت تھی
31:19وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے
31:21بہت زیادہ جلتی تھی
31:22وہ چاہتی تھی کہ حضور علیہ السلام مر جائیں
31:25ایک دن لبیتل حمرہ نے ایک جادوگر کے پاس جا کر کہا
31:28کہ وہ حضور پر ایسا جادو کرے
31:30کہ وہ بیمار ہو جائیں اور مر جائیں
31:32جادوگر نے لبیتل حمرہ کو ایک تعویز دیا
31:34اور اس حکم دیا
31:36کہ وہ اس تعویز کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں چھپا دے
31:41لبیتل حمرہ نے جادوگر کی بات پر عمل کیا
31:43اور تعویز کو حضور علیہ السلام کے گھر میں
31:46کسی جگہ چھپا دیا
31:47तावीच के अजर से अज़ूर स्ञालाई वाले वाले वसलम बिमार हो गए
31:50आपको बुखार और सरदर्द होने लगा
31:52आपको नेंद भी नहीं आ रही थी
31:54आपकी तब्याद बहुत खराब थी
31:55हुजूर रही सलात वासलाम के सहाबा इस बात से बहुत परेशान थे
31:58उन्हें हुजूर सलाई वाले वाले की सहत के लिए दूआएं की
32:02को एक गर को त्लाश करें
32:19حضورﷺ Snoophold's
32:46Jادو گرنی کو معلوم ہوا کہ حضور کی سیٹھ ٹھیک ہو گئی ہے
32:49آپ نے حضور علیہ السلام سے معافی مانگی
32:51اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے معاف کر دیا
32:57لیکن اسے سخت سزا دی گئی
32:59اسے مدینہ منورہ سے نکال دیا
33:00اور اسے یہودیوں کے علاقے میں بھیج دیا
33:02فتح خیبر کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
33:05کچھ دنوں تک زرعی زمینوں اور باغوں کے انتظامات
33:07اور غنائم کی تقسیم کے کاموں میں مصروف رہے
33:09ظاہر انکاموں کے لئے قیام وہی ضروری تھا
33:12اسی دوران ایک عورت نے جس کا نام زینب بنتِ الحارس تھا
33:15جو سلام بن مشکم کی بیوی تھی
33:17رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زہر دے کر
33:20نعوذو بللہ حلاق کرنے کی سازش کی
33:22اس نے پرگرام بنایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو
33:25بکری کا بھناوہ گوشت پیش کیا جائے
33:27اور اس میں زہر ملا دیا جائے
33:28پہلے اس نے صحابہ سے معلوم کیا
33:30کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو
33:32بکری کا کون سا حسم مرغوب ہے
33:33لوگوں نے بتایا کہ آپ بکری کی ران شوق سے نوش فرماتے ہیں
33:37اس منحوس عورت نے بکری زبا کی
33:39اور اس کا گوشت زہر آلود کر دیا
33:41خاص طور پر بکری کی ران پر زیادہ زہر لگا دیا
33:43آپ علیہ السلام کے خیمے میں لے کر آئی
33:46آپ مغرب کے نماز عدا کر کے خیمے میں تشریف لائے
33:48دیکھا تو ایک عورت خیمے کے باہر آپ کا انتظار کر رہی تھی
33:51آپ نے اس سے آنے کا سبب پوچھا
33:53عورت نے کہا کہ اے عبو القاسم
33:54میں آپ کے لئے بکری کا بھنوہ گوشت
33:56حدیعے کے طور پر لائی ہوں
33:57اسے معلوم تھا
33:58کہ آپ حدیعہ قبول فرما لیتے ہیں
34:00صدقہ قبول نہیں فرماتے
34:01آپ نے صحابہ سے فرمایا
34:03اسے کھانا لے لو
34:04اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
34:06نے صحابہ سے اس وقت جو وہاں موجود تھے
34:08کھانے کے لئے فرمایا
34:09آپ نے بکری کا بازو لیا
34:11اور اسے موں میں رکھ لیا
34:12حد بشر بن برہ بن معور نے
34:14بھی گوشت کا ایک ٹکڑا موں میں رکھ لیا
34:15ابھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
34:18نے بازو موں سے لگائے ہی تھا
34:19کہ اس نے خبر دی
34:20کہ مجھے زہر علوت کیا گیا ہے
34:22رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
34:24نے فوراں تھوک دیا
34:25اگرچہ
34:26اس کا تھوڑا بہت اثر زبان پر رہ گیا
34:28دوسری طرف
34:29حد بشرہ بن برہ
34:30آپ کے عدب و لحاظ کے سبب
34:31کھانا نہ تھوک پائے
34:33حالانکہ آپ نے فرمایا تھا
34:34کہ کوئی شخص کی کھانا نہ کھائے
34:36اس میں زہر ملا ہوا ہے
34:38زینب بن تلہار اس کو طلب کیا گیا
34:40آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
34:42نے اسے دریاب فرمایا
34:43کہ اس کھانے میں
34:43تو نے زہر ملا دیا ہے
34:44اس نے عرض کیا
34:45جی میں نے ملایا تھا
34:47آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
34:48کو کیسے پتا چلا
34:49فرمایا
34:50مجھے اس ہڈی نے بتلا دیا تھا
34:51کہ میں زہر آلود ہوں
34:52آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
34:54نے فرمایا
34:54تو نے ایسا کیوں کیا
34:56اس نے کہا
34:56کہ میرے باپ چچا اور شہر قتل ہو گئے
34:58میری قوم بھی تباہ و برباد ہو گئی
35:00میں نے سوچا
35:01اگر آپ نبی ہوئے
35:01تو یہ زہر آپ پر اثر نہیں کرے گا
35:03اور آپ بچ جائیں گے
35:04اور اگر بادشاہ ہوں گے
35:05تو ہمیں آپ سے نجات مل جائے گی
35:06آپ نے اسے کچھ نہیں کہا
35:08جانے دیا
35:09صحابہ نے بھی ارس کیا
35:10کہ اس کو سزا ملنی چاہیے
35:12مگر آپ نے درگزر سے کام لیا
35:13انبیاء کی یہی شان ہوتی ہے
35:15اور ہمارے حضور تعفو درگزر میں
35:17سب سے بڑھ کر تھے
35:18جن صحابہ نے گوشت مو میں رکھ کر
35:19تھوک دیا تھا
35:20ان پر زہر کا اثر کم تھا
35:22آپ نے ان سے فرمایا کہ سر میں
35:24آپ نے ان سے فرمایا کہ سر میں
35:25پچھنے لگوائیں
35:26یعنی فاسد خون نکلوائیں
35:28صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایسا ہی کیا
35:30البتہ حضرت بشر بن برہ
35:32زہر کے اثر سے وفات پا گئے
35:34رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
35:37اس واقعے کے بعد تین برس تک حیات رہے
35:39لیکن اس زہر کا اثر
35:40محسوس فرماتے رہے
35:41یہاں تک کہ مرض وفات میں
35:44اس کا اثر کو زیادہ ہی محسوس فرمایا
35:46ایک روز حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا
35:49عائشہ میں نے خبر میں جو کھانا کھا لیا
35:51آج تک محسوس کر رہا ہوں
35:53اس لئے علماء فرماتے ہیں
35:54کہ حضور علیہ السلام نے شہدت
35:56دوستو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
35:58کی صیرت تیبہ ایسی تھی
35:59کہ آپ نے کبھی اپنی ذات کے لئے
36:01کسی سے بدلہ نہیں دیا
36:02اور نہ ہی کسی ذاتی وجہ سے
36:04کسی کو سزا دی
36:05یا کسی سے دعوت رکھی
36:06آپ نے دنیا کو
36:07اس وائے حسنہ کا ایسا نمونہ دیا
36:09جو قیامت تک آنے والے لوگوں کے لئے
36:11قابل عمل مثال ہے
36:12اللہ تعالیٰ سے دعا ہے
36:14کہ مسلمانوں کو
36:14سیرت النبی کی پیروی کرنے کی
36:16توفیق عطا فرمائے
36:17آمین
36:18سبح آمین
36:19ناظرین یہ تھی ہماری آج کی ویڈیو
36:20امید ہے کہ آپ کو
36:21ہماری آج کی یہ ویڈیو پسند آئی ہوگی
36:23اگر ویڈیو پسند آئی ہے
36:24تو اسے لائک کریں
36:25اور اپنے پیاروں اور دوستوں کے ساتھ
36:26بھی ضرور شیئر کریں
36:27کمنٹس میں آپ ہمیں بتائیں
36:28کہ آپ اور کن موضوعات پر
36:30ویڈیو دیکھنا چاہتے ہیں
36:31اس کے ساتھ ساتھ
36:32آپ کمنٹس میں
36:32ہم سے سوالات بھی پوچھ سکتے ہیں
36:34لیکن یہ سب کرنے سے پہلے
36:35ہمارے چینل کو سبسکرائب کرنے
36:36اور بیل کے بٹن کو بھی پریس کرنے
36:38تاکہ ہماری آنے والی
36:39مزید معلوماتی ویڈیوز کا
36:41نوٹفیکشن
36:41آپ کو بروقت مل سکے
36:43اور آپ علم کے اس خزانے سے
36:44مستفید ہو سکیں
36:45اب ملاقات ہوگی آنے والی ویڈیو میں
36:47تب تک کے لئے
36:47خدا آپ کا حامی و ناصر ہو
36:48في امان اللہ
Comments