Skip to playerSkip to main content
The Revolution of Karbala is a turning point in Islamic history — a stand for truth, justice, and moral integrity led by Imam Hussain (R.A), the beloved grandson of Prophet Muhammad ﷺ. This English-language Islamic documentary brings to life the events of Ashura and the Tragedy of Karbala, where courage triumphed over tyranny.

Through powerful narration and historical detail, this film explores:

The background of Imam Hussain’s stand against injustice

The events leading up to the Battle of Karbala

The sacrifices made by Hussain and his companions

The lasting lessons of courage, patience, and faith

This documentary is designed for an English-speaking audience who wish to understand the deeper meaning of Karbala and its message for the modern world.

📢 Like, Share, and Subscribe to Islamic Swipes for more authentic Islamic documentaries, history lessons, and inspirational stories.

#RevolutionOfKarbala
#Karbala
#Ashura
#ImamHussain
#IslamicDocumentary
#IslamicVideos
#BattleOfKarbala
#KarbalaStory
#IslamicHistory
#HussainRA
#KarbalaTragedy
#AhlulBayt
#Ashura2025
#SacrificeInIslam
#IslamicLessons
#ImamHussainSacrifice
#TruthAndJustice
#HussainAurYazid
#IslamicInspiration
#IslamicTeachings
#IslamicFaith
#IslamicCulture
#IslamicMartyrs
#HussainKiQurbani
#KarbalaInEnglish
#HussainAndIslam
#IslamicReminder
#IslamicMotivation
#MartyrdomInIslam
#IslamicMessage
#IslamicValues
#HussainTruth
#IslamicSpirituality
#HussainAndHaq
#IslamicLearning
#HussainAndQuran
#ProphetGrandson
#IslamicUmmah
#HussainHistory
#IslamicSacrifice
#IslamicPeace
#HussainJustice
#HussainLegacy
#AshuraLessons
#HussainCourage
#KarbalaLegacy
#IslamicTruth
#IslamicHeritage
#IslamicHope
#IslamicUnity

Category

📚
Learning
Transcript
00:00कर्बला
00:00एक ऐसा रेवल्यूशन जिसकी वजह से कई बड़ी गवर्मेंट तक उलट गई
00:10जैसा कि इरान और सीरिया
00:13लेकिन आखिर कर्बला हुई कैसे और किस तरह इमाम हुसेन की शहादत से ये रेवल्यूशन स्टार्ट हुआ
00:28तो चले जानते हैं
00:29जब यजीद को मुआविया ने इमाम हसन अलाईहिससलाम की ट्रीटी तोड़कर खलीफा बना दिया
00:41तो अपनी मौद से पहले मुआविया ने अपने बेटे यजीद को वान किया
00:45और कहा के हुसेन से होश्यार रहना अगर ये तेरे खिलाफ खड़ा हुआ तो तू नहीं बचेगा
00:50यजीद ये जान गया था कि हुसेन की बैट लेना सबसे इमपॉर्टन्ट है क्योंकि अगर हुसेन ने बैट कर ली तो बाकी भी बैट कर लेंगे
01:00यजीद एक नंबर का जालिम और शराबी था वो ये अच्छे से जानता था कि लोग इसकी बैट नहीं करेंगे
01:06तो इसने जबरदस्ती तलवार की नोक पर लोगों से बैट लेना शुरू कर दी
01:11इसने अपने सारे गवनर्स को खत भीजे और कहा कि वो इसके लिए जबरदस्ती लोगों से बैट लें
01:17تو اس کے گورنرز نے لوگوں کو مار پیٹ کے ان سے زبردستی بیعت لینا شروع کر دی
01:22تب ہی مدینہ کا گورنر ولید بن عطبہ نے
01:27امام حسین علیہ السلام کو رات کے وقت سیکرٹلی بلایا
01:32اور کہا کہ وہ یزید کی بیعت کر لیں
01:34لیکن امام حسین علیہ السلام نے کہا
01:37کہ میں کبھی بھی یزید کی بیعت نہیں کروں گا
01:40یہ کہہ کر امام حسین اسی رات اپنی فیملی کو لے کر مکہ چلے گئے
01:45جہاں وہ کئی مہینوں تک رہے
01:46جب امام حسین علیہ السلام مکہ میں تھے
01:49تو وہاں انہیں کوفے کے کئی لوگوں نے خط بھیجے
01:52اور کہا کہ ہمارا آپ کے سوائے کوئی امام نہیں
01:55آپ ہمارے پاس آئیں
01:57ہم آپ کا ساتھ دیں گے اور اس یزید کے خلاف لڑیں گے
02:01تو امام حسین علیہ السلام نے
02:03مسلم بن عقیل کو کوفہ کی سیچویشن کا جائزہ لینے کے لیے بھیجا
02:07مسلم بن عقیل کوفہ پہنچے
02:09اور وہاں کے لوگوں نے ان کا اچھے سے ویلکم کیا
02:12اور اٹھارہ ہزار سے زیادہ لوگوں نے امام حسین کے ہاتھ پر بیت کرنے کا وعدہ کیا
02:17جب یزید کو یہ پتا چلا کہ میرے خلاف لوگ فوج کھڑی کرنے والے ہیں
02:22تو اس نے فوراں کوفہ کے گورنر نومان بن بشیر کو ہٹا کر
02:26ان کی جگہ عبیداللہ بن زیاد کو گورنر بنا دیا
02:29تاکہ وہ وہاں جا کر اس مومنٹ کو ختم کر سکے
02:33تو عبیداللہ بن زیاد بڑی ہی چالاکی سے رات کے اندھیرے میں
02:37امام حسین کی طرح کے کپڑے پہن کر اور اپنا مو چھپا کر کوفہ میں انٹر ہوا
02:43جب لوگوں نے اسے دیکھا تو انہیں لگا کہ امام حسین انہیں لیڈ کرنے آئے ہیں
02:49لوگ خوشیہ منانے لگے اور اس کے ہاتھ چومنے لگے
02:52اس وقت الیکٹرسٹی تو ہوتی نہیں تھی تو رات کے وقت کسی کو پتا نہیں چلا
02:57عبیداللہ بن زیاد کوفہ کے محل میں انٹر ہو گیا
03:00اور اگلے ہی دن اس نے اپنی اصلیت لوگوں کے سامنے ظاہر کر دی
03:04اور کہا کہ جو بھی حسین کا ساتھ دے گا اس کا انجام بہت برا ہوگا
03:09اس نے مسلم بن عقیل کو بھی پکڑ لیا اور انہیں محل کی چھت سے پھینک کر شہید کر دیا
03:14اور جو بھی لوگ امام حسین کا ساتھ دینے والے تھے
03:18ان میں سے کئی لوگوں کو شہید کر دیا اور کئی لوگوں کو جیلوں میں ڈال دیا
03:22امام حسین علیہ السلام اس وقت تک کوفے کی طرف اپنی فیملی کے ساتھ نکل چکے تھے
03:29کیونکہ وہ پچھلے چار مہینوں سے مکہ میں ٹھیرے ہوئے تھے
03:32اور حج کے موقع پر کئی ہزار مسلمان آ کر انہیں فالو کرنے کا وعدہ کر رہے تھے
03:37یزید کو جب یہ پتا چلا تو اس نے اپنے کچھ بندے احرام کی حالت میں
03:42امام حسین علیہ السلام کو شہید کرنے کے لیے بھیجے
03:46جب امام حسین کو اس کا پتا چلا کہ یزید نے انہیں مارنے کے لیے جاسوس بھیجے ہیں
03:52تو انہوں نے مکہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور جانے سے پہلے خطبہ دیا
03:56اور کہا کہ جو ہمارا ساتھ دے گا وہ شہید ہوگا اور جو پیچھے رہ جائے گا
04:02وہ کبھی بھی اس عظیم کامیابی کو حاصل نہیں کر سکے گا
04:06یہ کہہ کر امام حسین علیہ السلام کوفے کی طرف روانہ ہو گئے
04:11لیکن انہیں یہ نہیں پتا تھا کہ کوفہ میں عبیداللہ بن زیاد نے قبضہ کر لیا ہے
04:16ان کے کئی ساتھیوں نے انہیں وہاں جانے سے منع بھی کیا
04:19لیکن امام حسین علیہ السلام ٹوٹل ستر سے اسی لوگوں کے ساتھ کوفہ کی طرف روانہ ہو گئے
04:26وہ کسی جنگ کے لیے نہیں جا رہے تھے
04:28بلکہ اپنی فیملی کے ساتھ کوفہ کے لوگوں سے ملنے جا رہے تھے
04:32یہ عظیم قافلہ ریگستان میں اپنے سفر پر روانہ تھا
04:36کہ تب ہی انہیں مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبر ملی
04:39جسے سن کر ان کے کئی ساتھیوں کا مرال ٹوٹ گیا
04:43اور کچھ لوگوں نے واپس جانے کا سوچا
04:45تو امام حسین علیہ السلام نے انہیں کہا
04:48کہ ہم اللہ کی طرف سے آئے ہیں
04:50اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے
04:53ہمیں یہ سفر پورا کرنا ہے اور میں واپس نہیں مڑ سکتا
04:57تو اس کے بعد ان کا قافلہ واپس سے کوفے کی طرف روانہ ہو گیا
05:01تب ہی راستے میں ایک جگہ جب قافلے نے قیام کیا
05:05تو امام حسین سو رہے تھے
05:07تب ہی انہوں نے خواب میں اپنے نانا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا
05:12آپ نے امام حسین علیہ السلام کو فرمایا
05:15اے حسین آگے بڑھو
05:17اللہ تمہیں شہید دیکھنا چاہتا ہے
05:19تو امام حسین علیہ السلام خواب سے اٹھے
05:23اور آپ نے اپنے ساتھیوں سے یہ خواب شیئر کیا
05:25اور انہیں کہا
05:27کہ جو واپس جانا چاہتے ہیں
05:28وہ چلے جائیں
05:29کیونکہ اب جو میرے ساتھ رہے گا
05:31وہ مارا جائے گا
05:32کچھ لوگ چھوڑ گئے
05:34لیکن باقی ان کے ساتھ رہے
05:35تو قافلہ پھر سے اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گیا
05:39تب ہی راستے میں انہیں ایک اور قافلہ دکھائی دیا
05:42جو کہ زہیر بن قین کا قافلہ تھا
05:44ان کی ملاقات امام حسین سے ہوئی
05:47اس ملاقات کے بعد
05:48زہیر بن قین نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی
05:51اور کہا کہ
05:52تم باقی سب کے ساتھ جاؤ
05:54کیونکہ میں اب امام حسین علیہ السلام کے ساتھ
05:57اپنی جان دوں گا
05:58وہیں دوسری طرف یزید کو یہ پتا چل چکا تھا
06:01کہ امام حسین کوفہ کی طرف روانہ ہو چکے ہیں
06:04تو اس ناپاک نے
06:05حر بن یزید کو ایک ہزار کے لشکر کے ساتھ
06:08امام حسین علیہ السلام کے قافلے کی طرف بھیجا
06:11حر بن یزید نے اپنے لشکر کے ساتھ
06:14امام حسین کے قافلے کو راستے میں ہی
06:16ایک جگہ دریائے فرات کے کنارے
06:18ریگستان میں روک لیا
06:20امام حسین نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا
06:22کہ یہ کون سی جگہ ہے
06:24تو انہوں نے بتایا کہ یہ کربلا ہے
06:26امام حسین علیہ السلام کی آنکھوں میں آسو آگئے
06:29اور آپ نے فرمایا
06:30یہی وہ جگہ ہے جہاں ہمارا خون بہایا جائے گا
06:33امام حسین علیہ السلام نے حکم دیا
06:36کہ یہی خیمے گار دو
06:41اگہ تھی جہاں سے جب امام علیہ السلام
06:44جنگ سفین سے واپسی لوٹ رہے تھے
06:46تو آپ نے یہاں رکھ کر فرمایا تھا
06:49اے حسین اس دن صبر کرنا
06:52جس دن تمہارا باپ تمہاری مدد کے لیے
06:55تمہارے پاس نہیں ہوگا
06:57تم کربلا کی زمین پر صبر کرنا
06:59کیونکہ وہاں تمہیں اکیل موت کا سامنا کرنا پڑے گا
07:03تو جبد و محرم کے دن
07:04امام حسین علیہ السلام کے ساتھیوں نے
07:07کربلا میں خیمے لگا لئے
07:09تو اسی وقت یزید نے چار ہزار کے لشکر کے ساتھ
07:12امر بن سعد کو
07:14حر بن یزید کی فوج
07:15جوائن کرنے بھیجا
07:17اس سے حر بن یزید کی فوج
07:19اور زیادہ بڑھ گئی
07:20اس کے علاوہ بھی امر بن سعد
07:22یزید سے اور زیادہ لشکر منگوانے لگا
07:25جس کے بعد اس کی فوج
07:27ایک ہزار سے تیس ہزار ہو گئی
07:29وہیں دوسری طرف امام حسین کے ساتھ
07:32ان کے صرف ستر ساتھی تھے
07:34لیکن آخر کیوں امر بن سعد
07:36اتنی زیادہ فوج منگوا رہا تھا
07:38جبکہ سامنے صرف ستر تھے
07:40اور ان میں سے بھی کئی بچے اور عورتیں تھی
07:43اس کی وجہ یہ تھی
07:44کہ ان ستر لوگوں میں
07:45ایک انسان تھا
07:47جس کا نام تھا
07:48ابباس
07:49یہ امام علی علیہ السلام کے بیٹے
07:51اور امام حسین علیہ السلام کے بھائی تھے
07:54یہ اتنے بہادر تھے
07:56کہ جب یہ جنگ میں لڑتے تھے
07:57تو لوگوں کو لگتا تھا
08:05کہ علی لڑ رہا ہے
08:06انہیں امام علی علیہ السلام نے
08:08تحجد میں اللہ سے مانگا تھا
08:10آپ نے دعا کی تھی
08:11اے اللہ مجھے ایسا بیٹا عطا فرما
08:14جو میرے بیٹے حسین کو
08:16اس کی تنہائی کے دن سہارہ دے
08:18مجھے ایسا بچہ عطا کر
08:20جو حسین کا وفادار ہو
08:22جو کربلا میں اس کے ساتھ کھڑا ہو
08:24جو اس کے لیے اپنی جان دے
08:26اور موت کے سامنے نہ جھکے
08:27تب جا کر اللہ نے انہیں
08:29عباس جیسا بیٹا دیا
08:30اسی وجہ سے
08:32عمر بن سعد لگاتار فوج منگوا رہا تھا
08:35کیونکہ سامنے عباس کھڑا تھا
08:36تو امام حسین نے
08:38کوفہ کے لوگوں کو
08:39ایک خط لکھا
08:40انہیں اپنی اس کنڈیشن کے بارے میں
08:42بتانے کے لیے
08:43لیکن وہ خط
08:44کبھی کوفہ کے لوگوں تک پہنچا ہی نہیں
08:46امام حسین اور ان کے ساتھ ہی
08:48شدید پیاس برداشت کر رہے تھے
08:50کیونکہ عمر بن سعد نے
08:52پانچ سو فوجی فرات کے کنارے
08:54کھڑے کر دیئے تھے
08:55اس وقت
08:55رگستان میں شدید گرمی تھی
08:58سورج سر پر تھا
08:59بچے رو رہے تھے
09:01اور ان کے ہونٹ سوکھے پڑے تھے
09:03یہاں تک کہ عورتیں
09:04پیاس کی شدد سے بے ہوش ہو رہی تھی
09:07پیاس کی وجہ سے
09:08امام حسین کے ساتھی کمزور ہو رہے تھے
09:10لیکن ان کا جذبہ مضبوط تھا
09:12امام حسین علیہ السلام کے
09:14ایک بیٹے امام زین العبدین
09:16علیہ السلام پہلے ہی بیمار تھے
09:19بی بی سکینہ
09:20امام حسین کے پاس آ کر
09:21بار بار پوچھ رہی تھی
09:23کہ بابا پانی کہاں ہے
09:25امام حسین علیہ السلام نے
09:27دشمنوں کو پیغام بھیجا
09:29کہ اگر تمہیں مجھ سے دشمنی ہے
09:31تو ان بچوں اور عورتوں کو
09:32تو پانی پینے دو
09:33ان کا کیا قصور ہے
09:35لیکن ان کا آگے سے جواب آیا
09:37کہ ہمیں عبیداللہ بن زیاد نے
09:39سخت آرڈر دیا ہے
09:40کہ انہیں ایک بوند بھی پانی نہیں دینا
09:43اگلے دن آٹھ محرم کو
09:45امام حسین علیہ السلام نے
09:47عمر بن سعج سے
09:48نیگوشیشنز کرنے کی کوشش کی
09:50لیکن ان کی ایک ہی ڈیمانڈ تھی
09:52کہ یزید کی بیعت کرو
09:54جو کہ امام حسین
09:55کبھی کرنے کو تیار نہیں تھے
09:57پیاس کی وجہ سے
09:58دل کی دھڑکن تیزی سے بڑھ رہی تھی
10:00خون گاڑا ہونے کی وجہ سے
10:02باڈی کو پمپ کرنے میں
10:04مشکل ہو رہی تھی
10:05برین فنکشنز کم ہو رہے تھے
10:07اور یہ سب بچوں میں
10:08اور زیادہ ہو رہا تھا
10:10نو محرم کا دن آ چکا تھا
10:12اور اسی آزمائش میں
10:13نو محرم کا دن بھی گزر گیا
10:15امام حسین علیہ السلام نے
10:17ساری رات عبادت کی
10:19اور اپنے ساتھیوں سے کہا
10:21تم اب جا سکتے ہو
10:22دشمنوں کو صرف میری جان چاہیے
10:24میں نہیں چاہتا
10:25کہ میری وجہ سے کسی کی جان جائے
10:27اس کے بعد
10:28امام حسین نے چراغ بجھا دیا
10:30اور جب تھوڑی دیر بعد
10:32چراغ جلایا
10:33تو ان کا ایک بھی ساتھی
10:34انہیں چھوڑ کر نہیں گیا
10:36حر بن یزید کو جب یہ پتا چلا
10:38کہ امر بن سعید
10:39امام حسین کے خلاف جنگ کرے گا
10:41تو انہوں نے امام حسین کی فوج جوائن کر لی
10:44کیونکہ وہ امام حسین کی عزت کرتے تھے
10:47اس کے بعد
10:48دس محرم کا سورج جڑھا
10:50امام حسین علیہ السلام یزید کی فوج کے سامنے آئے
10:53اور کہا
10:54اے لوگو
10:55غور کرو کہ میں کون ہوں
10:57کیا میں تمہارے نبی کا بیٹا نہیں ہوں
10:59کیا تم مجھے صرف اس لیے قتل کرنا چاہتے ہو
11:02کہ میں نے یزید کی بیت کرنے سے انکار کر دیا
11:05لیکن دشمن خاموش رہے
11:07تو امام حسین نے اپنی فوج کو تیار کیا
11:10اور تین حصوں میں ڈیوائیڈ کیا
11:11ایک حصہ رائٹ میں تھا
11:13ایک لیفٹ میں
11:14اور ایک حصہ سینٹر میں تھا
11:16جسے حضرت عباس لیڈ کر رہے تھے
11:18جبکہ یزید کی آرمی ان کے چاروں طرف تھی
11:21تو فجر کی نماز کے بعد جنگ شروع ہوئی
11:29امام حسین علیہ السلام کے کئی ساتھی
11:36ایک ایک کر کے شہید ہوتے رہے
11:38جب امام حسین کے ساتھی شہید ہو گئے
11:44تو امام حسین علیہ السلام کے خوبصورت بیٹے
11:48جنابِ علی اکبر
11:49جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
11:52ہم شکل تھے
11:53وہ میدان میں آئے اور پکارنے لگے
11:56میں ہوں علی، علی کے بیٹے حسین کا بیٹا
11:59ہم نبی کے گھر والے ہیں
12:01اور اللہ کی قسم ہم کبھی بھی
12:03باطل کے سامنے نہیں جھکیں گے
12:04جب یزید کی فوج نے جنابِ
12:06علی اکبر کے چہرے کو دیکھا
12:08تو وہ خاموش ہو گئے
12:10کچھ نے تو نظریں نیچی کر لی
12:11اور کچھ نے اپنے چہرے پھیر لیے
12:13کیونکہ جنابِ علی اکبر
12:15نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
12:18ہم شکل تھے
12:19ایسا لگ رہا تھا
12:20جیسے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
12:23ہی میدان میں آگئے ہوں
12:24اس کے بعد وہ آگے بڑھے
12:26اور ایک کے بعد ایک دشمن کو مارتے گئے
12:29لیکن دور سے
12:30کسی نے ان کے سینے میں نیزہ مارا
12:32جس کے بعد وہ نیچے گرے
12:36اور امام حسین کو پکارنے لگے
12:38امام حسین پوری تیزی سے ان کے پاس آئے
12:41اور انہیں اٹھا کر کہنے لگے
12:43اے اللہ
12:44تو گواہ رہنا انہوں نے اسے بھی شہید کر دیا
12:47جو صورت میں تیرے نبی سے سب سے زیادہ ملتا تھا
12:50اس کے بعد امام حسن علیہ السلام کے بیٹے
12:53جناب قاسم علیہ السلام نے
12:56امام حسین سے جنگ کی اجازت مانگی
12:58تو امام حسین علیہ السلام نے کہا
13:01اے قاسم
13:02تم ہی اکلوتے اپنے باپ کی نشانی ہو
13:05میں تمہیں کیسے جانے دے سکتا ہوں
13:07تو جناب قاسم علیہ السلام نے کہا
13:10چچا جان
13:11آپ کے لیے مجھے موت شہد سے بھی زیادہ میٹھی ہے
13:14امام حسین علیہ السلام نے انہیں گلے لگایا
13:17اور رونے لگے
13:19تو پھر جناب قاسم میدان میں آئے
13:21اور بڑی بہادری سے لڑے
13:22لیکن کچھ دیر بعد
13:24کسی نے پیچھے سے ان پر حملہ کیا
13:27اور وہ بھی شہید ہو گئے
13:28امام حسین علیہ السلام
13:30ان کے پاس گئے
13:32اور ان کے جسم کو اٹھایا
13:33اس کے بعد امام حسین کے دو بھتیجے بھی شہید ہو گئے
13:37حضرت عباس علیہ السلام بھی جنگ میں مصروف تھے
13:40جب انہیں بچوں کے رونے کی آواز آئی
13:43تو انہوں نے
13:44امام حسین علیہ السلام سے پانی لانے کی اجازت مانگی
13:48امام حسین نے انہیں اجازت دے دی
13:50اس کے بعد حضرت عباس علیہ السلام
13:53اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے
13:56اور یزید کی آرمی کو چیرتے ہوئے
13:58فرات کی طرف بڑھے
13:59وہ راستے میں آنے والے ہر ایک کو ختم کرتے گئے
14:02اور دریا پر پہنچ گئے
14:04وہاں پہنچ کر انہوں نے پینے کے لیے اپنے ہاتھوں میں کچھ پانی لیا
14:08لیکن جیسے ہی انہیں یاد آیا
14:10کہ ان کا خاندان پیاسا ہے
14:12تو انہوں نے پانی اپنے ہاتھوں سے گرا دیا
14:14اس کے بعد وہ اپنے مشکیزے میں پانی لے کر
14:17اپنے گھوڑے پر بیٹھے
14:19اور واپس خیموں کی طرف بڑھنے لگے
14:21لیکن تب ہی کچھ دشمنوں نے ان کے بازو پر حملہ کیا
14:24اور ان کا ایک بازو کاٹ دیا
14:26انہوں نے دوسرے ہاتھ میں مشکیزے کو پکڑ لیا
14:29لیکن ان کا دوسرا ہاتھ بھی کاٹ دیا گیا
14:32تو انہوں نے اپنے موہ میں مشکیزے کو پکڑ لیا
14:35لیکن اس کے بعد انہیں شہید کر دیا گیا
14:38امام حسین حضرت عباس کی طرف بڑھے
14:41تو انہوں نے کہا
14:42بھائی مجھے معاف کرنا میں آپ کے لیے پانی نہیں لا سکا
14:46اور یہ کہہ کر وہ بھی شہید ہو گئے
14:48امام حسین علیہ السلام
14:50ان کی اس شہادت سے ٹوٹ چکے تھے
14:53اس کے بعد امام حسین علیہ السلام
14:55اپنے چھ مہینے کے بیٹے علی اسغر کو ان کے سامنے لائے
14:58اور کہا
14:59میرے لیے نہ صحیح
15:01کم سے کم اس بچے کے لیے ہی پانی دے دو
15:03لیکن ایک ظالم نے
15:05جناب علی اسغر کے گلے میں تیر مار کر انہیں شہید کر دیا
15:08امام حسین علیہ السلام نے
15:10جناب علی اسغر کے خون کو اوپر اچھانا اور فرمایا
15:14اے اللہ میری اس قربانی کو یاد رکھنا
15:17اب امام حسین کے سارے ساتھی شہید ہو چکے تھے
15:22اور وہ اکیلے رہ گئے تھے
15:24ان کے جسم پر کئی زخم تھے
15:26اور وہ بھی لڑ کر تھک چکے تھے
15:28اوپر سے پیاس کی شدت سے
15:29جہاں ایک نارمل انسان کے لیے ہلنا تک ممکن نہیں ہوتا
15:33وہ دشمنوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے تھے
15:36امام حسین اپنی فیملی کے پاس گئے
15:38انہیں الودہ کہا
15:40اور کوفہ کے لوگوں کو آخری خط لکھا اور کہا
15:43تم نے مجھے خط بھیج کر بلایا تھا
15:45لیکن اب تم اپنے وعدے سے پھر چکے ہو
15:47اب انشاءاللہ قیامت کے دن ملاقات ہوگی
15:50اس کے بعد وہ اپنے گھوڑے زلجناہ پر سوار ہو کر
15:53ہاتھ میں زلفقار لیے میدان میں آئے
15:56ان کے سامنے ہزاروں کا لشکر تھا
15:58اور وہ اکیلے تھے
15:59لیکن ہار ماننے کے لیے تیار نہیں تھے
16:02ایک طرف وہ تعداد میں ڈائنو سورس تھے
16:04اور دوسری طرف ایک زخمی شیر
16:06امام حسین پوری رفتار سے فوج کی طرف بڑھے
16:14اور اپنی تلوار سے دشمنوں کو چیرنے لگے
16:17وہ دشمنوں کی صفیں چیرتے ہوئے آگے بڑھتے رہے
16:23دشمنوں کی گردنیں ہوا میں پرندوں کی طرح اڑ رہی تھی
16:28کئی فوجی شوق ہو گئے
16:30کچھ فوجیوں نے کہا
16:31ہم نے کبھی کسی انسان کو
16:33اس پیاس اور زخمی حالت میں لڑتے نہیں دیکھا
16:36یہ ایسے لڑ رہا ہے
16:41جیسے یہ اس دنیا کا نہیں ہے
16:43یزید کی فوج کے کئی کمانڈرز نے
16:51ایک ساتھ حملہ کرنے کا کہا
16:53لیکن کوئی بھی امام حسین کو فیس کرنے کے لیے تیار نہیں تھا
16:57دس فوجی ایک ساتھ امام حسین علیہ السلام سے لڑنے آتے
17:01لیکن پھر بھی وہ ان کا مقابلہ نہیں کر پا رہے تھے
17:04ایسا لگ رہا تھا
17:10جیسے علی خود ذلفکار لے کر میدان میں لڑ رہے ہوں
17:13دور کھڑے امر بن سعد نے جب یہ دیکھا
17:19تو اس نے یہ دیکھ کر اپنی فوج کو کہا
17:21چاروں طرف سے حملہ کرو
17:23اور حسین پر دور سے تیر برساؤ
17:25جب امام حسین پر ہزاروں تیر برسے
17:31تو وہ خود کو بچانا سکے
17:32اور ان کا پورا جسم تیروں سے بھر گیا
17:35امام حسین علیہ السلام
17:37اپنے گھوڑے سے گرے
17:38اور سجدے کی حالت میں چلے گئے
17:42اس کے بعد وہ شہید ہو گئے
17:44امام حسین کی شہادت کے بعد
17:46شمر امام حسین علیہ السلام کے پاس آیا
17:50اور آپ کے سینہ مبارک پر
17:52اس نے اپنا ناپاک پاؤں رکھا
17:54اور اس کے بعد
17:55امام حسین علیہ السلام کے سر کو
17:58تن سے جدا کر دیا
17:59امام حسین کے خیموں کو لوٹا گیا
18:01ان کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لیا گیا
18:05امام حسین کی شہادت کے بعد
18:09ایک ایسا ریولیوشن آیا
18:11جو کہ آج تک قائم ہے
18:13امام حسین کی شہادت کا جب کوفہ کے لوگوں کو پتا چلا
18:17تو انہوں نے امام حسین کی قبر پر آ کر قسم کھائی
18:20کہ وہ یزید کے خلاف آخری دم تک لڑیں گے
18:24ان کا امتحان ہماری دھلواری لے گی
18:27اس کے بعد انہوں نے یزید کے خلاف جنگ کی اور شہید ہو گئے
18:30اس کے بعد مکہ میں عبداللہ بن زبیر نے
18:33یزید کی بیت کرنے سے انکار کر دیا
18:36جس کے بعد مکہ کے مسلمانوں نے
18:40یزید سے جنگ کی اور ہزاروں مسلمان شہید ہوئے
18:44اس کے بعد مدینہ کے لوگوں نے بھی یزید کی بیت توڑ دی
18:50جب انہیں امام حسین علیہ السلام کی شہادت کا پتا چلا
18:59اور انہوں نے بھی یزید کے خلاف جنگ کی اور ہزاروں لوگ شہید ہو گئے
19:04ان کے کئی سالوں بعد
19:05کالے جھنڈوں کے ساتھ اباسی کھڑے ہوئے
19:08اور انہوں نے بنو امیہ کی اس ظالم حکومت کو ختم کر دیا
19:12امام حسین کے خون سے ایک ایسا ریولیوشن شروع ہو چکا تھا
19:17جو ان کی شہادت کے صدیوں بعد تک جاری رہا
19:20جیسا کہ
19:21ایران میں انقلاب آنے سے پہلے
19:25وہاں شاہ محمد رضا پہلوی کی حکومت تھی
19:28جو کہ ویسٹن کنٹریز کا غلام بنا ہوا تھا
19:30جیسا کہ اسرائیل اور امریکہ
19:33آج جہاں ایران ان کا سب سے بڑا دشمن ہے
19:36وہیں ایک ٹائم ایسا بھی تھا
19:40جب ایران کے ان کے ساتھ کافی اچھے ریولیشنز تھے
19:43اس وقت ایران میں فل ویسٹن کلچر تھا
19:51اور ریلیجیس سکولرز تک کو سپریس کیا جاتا تھا
19:54تب ہی ایک انسان کھڑا ہوا جس کا نام تھا
19:57آیت اللہ خومینی
19:58خومینی نے لوگوں کو بتانا شروع کیا
20:01کہ ہر دن آشورہ کا دن ہے
20:03اور ہر زمین کربلا کی زمین ہے
20:05یعنی کہ وہ لوگوں کو یہ کہنے لگے
20:07کہ ہمیں کربلا کی طرح
20:09اس یزید کے خلاف بھی کھڑا ہونا پڑے گا
20:11اور ایران میں ریجیم چینج لانا ہوگا
20:14خومینی نے مجلسوں میں لوگوں کو اویر کرنا شروع کیا
20:18لوگ ان کی بات سمجھنے لگے
20:20اور لبیک یا حسین کے نعرے لگانے لگے
20:22لوگ امام حسین علیہ السلام کے جھنڈے اٹھانے لگے
20:25اور یہاں تک کہ کئی ہزاروں مسلمانوں نے
20:28حکومت سے لڑنے میں اپنی جان تک دی
20:30لوگ امام حسین علیہ السلام کی سٹوری سے موٹیویٹ ہونے لگے
20:34اور اسی طرح آیت اللہ خومینی نے
20:37ایران کی حکومت پلٹ دی
20:39جس کے بعد ایران میں ویسٹن کلچر ختم کر کے
20:46اسلامی حکومت لائی گئی
20:47ایران کی اسلامی موومنٹ سے انسپائر ہو کر
20:50نیجیریا میں شیخ ابراہیم نے بھی
20:52شیعہ موومنٹ سٹارٹ کی
20:54یہ لوگ بھی امام حسین کے نعرے لگانے لگے
20:57اور پروٹیسٹ کرنے لگے
20:59جسے دیکھ کر دسمبر 2015 میں
21:02نیجیریا کی سیکیورٹی فورسز نے ان پر اٹیک کیا
21:04اور ایک ہزار سے زیادہ شیعہ مسلمان شہید ہوئے
21:08جس میں سے تین تو شیخ ابراہیم کے بیٹے تھے
21:10شیخ ابراہیم اور ان کی بیوی کو گولی ماری گئی
21:13اور بغیر کسی مقدمے کے انہیں جیلوں میں ڈال دیا گیا
21:16اسی طرح اراک کے لوگوں نے حکومت کی کرپشن
21:20غربت اور امریکہ کی فورن انٹرفیرنس سے تنگ آ کر
21:23حکومت کے خلاف پروٹیسٹ شروع کر دیئے
21:26یہ پروٹیسٹرز خود کو حسین اور حکومت کو یزیدی بولنے لگے
21:33سو سے زیادہ لوگوں نے اپنی جان دی
21:39اور ہزاروں لوگ زخمی ہوئے
21:46کئی لوگوں کو سنائپرز کے ذریعے مارا گیا
21:48اور ان پروٹیسٹرز کے کیمپس تک جلائے گئے
21:51اگزیکٹلی جس طرح امام حسین کے خیمے جلائے گئے تھے
21:54اسی سال لبنان کے لوگوں نے
21:57حکومت کی کرپشن اور سیاسی نظام سے تنگ آ کر
22:00حکومت کے خلاف پروٹیسٹ کیے
22:02لوگ خود کو حسینی کہنے لگے
22:04اور کالے جھنڈے اٹھا کر پروٹیسٹ کرنے لگے
22:07ان پروٹیسٹرز پر بھی گورنمنٹ نے ٹیر گیس چھوڑی
22:10اور کئی لوگوں کو ایریسٹ بھی کیا گیا
22:12لیکن اس پروٹیسٹ کے دو ہفتے بعد
22:15ان کے پرائم منسٹر ساد حریری نے ریزائن کر دیا
22:18اسی طرح دو ہزار گیارہ میں بہرینی پروٹیسٹ ہوئے
22:23جب بہرین میں شیعہ میجورٹی پر سننی حکومت تھی
22:27اور شیعہ کو اپریسٹ کیا جا رہا تھا
22:29تو انہوں نے بھی پروٹیسٹ شروع کر دیئے
22:31ان کے علاوہ دو ہزار بیس میں انڈین پروٹیسٹ
22:35اسی سال بلیک لائیوز میٹر پروٹیسٹ
22:37اور پاکستان میں بھی پروٹیسٹ کیے گئے ہیں
22:40جن کے پیچھے کی انسپیریشن کربلا تھی
22:43یہی وہ ریولیوشن ہے جو امام حسین نے اپنے خون سے شروع کیا
22:47جسے آج بہت سے لوگ نہیں جانتے
22:49اسلام خود ایک پولیٹیکل ریلیجن ہے
22:52نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود ایک پولیٹیشن تھے
22:56آپ نے کافروں سے ڈیل کی اور اسلام کو اسٹیبلش کیا
23:00اسی طرح پہلے خلیفہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ انہو بھی ایک پولیٹیشن تھے
23:06اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ انہو
23:08جنہوں نے رومن اور پرشن ایمپائرز کی خلاف جنگیں کی
23:12اور اس سے اسلام پوری دنیا میں پھیلا
23:14امام علی علیہ السلام بھی پولیٹیشن تھے
23:17جو کہ حضرت ابو بکر، عمر اور عثمان کے دور میں حکومت کے ساتھ رہے
23:22اور انہیں مشورے دیتے تھے اور اپنے دور میں بھی حکومت کی
23:25اسی وجہ سے اسلام ایک پولیٹیکل ریلیجن ہے
23:28اسلام کا خود کا خلافت سسٹم ہے
23:31یہ دین حکومت کرنے کے لیے ہی بنا ہے
23:33اگر مسلمانوں پر کافر حکومت کریں گے
23:36تو مسلمانوں کی نماز اور روزے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا
23:40یہ کافر ظلم کریں گے اور مسلمان کچھ نہیں کر پائیں گے
23:44جو کہ آج آپ فلسطین میں دیکھ سکتے ہو
23:46اسی وجہ سے سب سے پہلے ہمیں پولیٹیکل ایکٹیو ہونا پڑے گا
23:50اور اللہ کے حکومت قائم کرنی پڑے گی
23:53ورنہ ہماری نمازوں کا کوئی فائدہ نہیں
23:55اسی وجہ سے علامہ اقبال نے کہا تھا
23:58کہ لوگ جس دین کو مسجدوں میں تلاش کرتے ہیں
24:01وہ دین کربلا کی زمین پر پڑا ہے
24:03موسیقی
Be the first to comment
Add your comment

Recommended