00:00چلیے آج تاریخ ایک ایسے باپ کو کھولتے ہیں جو واقعی رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے
00:04آج ہم قدیم اشوری سلطنت کی اس حیرت انگیز اخلاقی تبدیلی
00:08اور حضرت یونس علیہ السلام کی آزمائشوں اور بقا کے انتہائی کٹھن سفر کا جائزہ لیں گے
00:13یہ محض کوئی پرانا قصہ نہیں ہے
00:15یہ طاقت غرور اور پھر اچانک آنے والی روحانی بیداری کا ایک ایسا گہرا مطالعہ ہے
00:20جو انسانی فطرت کو بلکل بناقاب کر کے رکھ دیتا ہے
00:23اب اس دور کو سمجھنے کے لیے ناتاریخ کے طالب علموں کو
00:27سب سے پہلے اشوری فوج کی اس خوفناک اور ظالمانہ شہرت کو جاننا ضروری ہے
00:32مطلب ان کے بادشاہ اس قدر ظالم تھے
00:35کہ دشمنوں کی خالے کھیچ کر انہیں دیواروں پر لٹکا دیا کرتے تھے
00:38بڑی بڑی قومیں ان کا نام سن کر تھر تھر کامتی تھیں
00:42خون خرابہ تو جیسے ان کے لیے ایک آدھی حق بن چکا تھا
00:46اور اس صد کا مرکز تھا نینوہ یعنی نینوہ
00:51دریائے دجلہ کے کنارے بسا یہ قدیم سوپ پاور شہر
00:54مکمل طور پر فوجی طاقت اور خون علود بنیادوں پر کھڑا تھا
00:59اس کی بلند و بالا دیواریں اور عالی شان محل
01:02یہ سب مفتوحہ علاقوں سے لوٹی گئے دولت کا نتیجہ تھے
01:06ذرا تصور کیا جائے جب یہاں کی سڑکوں پر سپاہی دوڑتے
01:10تو زمین ان کے گھوڑوں کی تھاپوں سے لرز اٹھتی تھی
01:13یہ ان کی فوجی طاقت پر مکمل انحصار کا ایک خلا ثبوت تھا
01:17یہاں پر ایک بہت دلچسپ بنیادی کشمکش سامنے آتی ہے
01:21ایک ایسی سلطنت جس کے پاس ناقابل شکست فوجی طاقت
01:24غیر معمولی مالی وسائل اور وسیع محل تو تھے
01:27لیکن اخلاقی آجزی اور روحانیت کا وہاں مکمل زوال تھا
01:31انتہائی غرور پتوں کی پوجا اور لوگوں کو غلام بنا کر
01:35ان پر کیے جانے والے مظالم ان کی شناخت بن چکے تھے
01:38ان کا گمان تھا کہ یہ جسمانی طاقت انہیں ناقابل تسکیر بناتی ہے
01:42کوئی انہیں ہرا نہیں سکتا
01:44لیکن ٹھیک اس ظالمانہ اور سخت ماحول میں
01:47ایک ایسی عظیم ہستی قدم رکھتی ہے
01:49جسے تاریخ مچھلی والے یعنی حضرت یونس علیہ السلام کے نام سے جانتی ہے
01:54انہوں نے آ کر اس مغرور قوم کو ایک سخت اخلاقی الٹی میٹم دیا
01:59اور انہیں صاف الفاظ میں ان کی بدعمالیوں اور ظرم سے باز آنے کو کہا
02:03چلیے دیکھتے ہیں کہ آگے ہوتا کیا ہے
02:05پہلے دن جب تین دن کے اندر عذاب کی پیشگوئی کی گئی
02:08تو لوگوں نے اس کا سخت مزاک اڑھایا اور
02:11یونو اپنے کانوں میں انگلیاں تھونس لیں
02:12لیکن تیسرے دن جب اچانک محولیاتی تبدیلی آئی
02:16اور ایک خوفناک کالا دھوان شہر کی دیواروں تک آن پہنچا
02:18تو ان کی ہزی خوف میں بدل گئی
02:20انہیں واقعی اپنی آنے والی تباہی کا احساس ہو گیا
02:24اور پھر آخر کار دسوی محرم کی وہ تاریخ آئی
02:28جو پوری قوم کے لیے عام موفی کا دن بنی
02:30یہاں سب سے اہم نکتہ ان کی آجزی کی مکمل انتہا ہے
02:34یہ تاریخ کا ایک بےمثال واقعہ تھا
02:37ذرا سوچئے ایک ظالم فوجی سوپر پاور
02:40عوامی سطح پر آ کر رحم کی بھیک مانگ رہی ہے
02:43لوگوں نے اپنے محل چھوڑ کر کھلے میدانوں کا رخ کیا
02:46آلی شان لباس اتار کر خردارے اور تاعت کے کپلے پہن لیے
02:50اور یہاں تک کہ ماسوم بچے اور جانور بھی
02:52اس اجتماعی اہو بکا میں شامل ہو گئے
02:55جسمانی طاقت کے مقابلے میں یہ آجزی ایک ایسی سچی توبہ تھی
02:59جس نے ان کی قسمت کو بدل کر رکھ دیا
03:01خیر دوسری طرف ایک الگ ہی واقعہ چل رہا تھا
03:04شہر سے دور ایک قریبی پہاڑی پر انتظار کرتے ہوئے
03:08حضرت یونس علیہ السلام کو جب معلوم ہوا
03:10کہ عذاب ٹل چکا ہے
03:12تو انہیں نینوہ کے سخت قانونوں کا خوف محسوس ہوا
03:15کیونکہ وہاں جھوٹ بولنے والے کو موت کی سزا دی جاتی تھی
03:18اس شدت محلال اور خوف کے باعث
03:21اسمانی حکم کا انتظار کیے بغیر
03:23اس نبی نے بہرائے روم کی طرف وہاں سے نکلنے کا ایک بے وقت فیصلہ کیا
03:28یہ حصہ ہمارے اس متعلے میں ایک بہت بڑا موڑ لاتا ہے
03:32یہاں کہانی ایک عظیم سلطنت کے بڑے بہران سے نکل کر
03:36ایک اکیلے شخص کی خاموش اندرونی اور جسمانی آزمائش کی طرف منتقل ہوتی ہے
03:42ایک ایسی آزمائش جس کا تصور ہی انسان کو لرزا دیتا ہے
03:46اور یہ ذاتی بقا کے انتہائی کٹھن سفر کو جاگر کرتا ہے
03:50ہوتا کچھ یوں ہے کہ جب ان کی کشتی اچانک بے پناہ اور ظالم لہروں کے درمیان
03:56بے جان ہو کر رک گئی
03:58نہ آگے بڑھتی نہ پیچھے
04:00تو قدیم زمانے کے ملاہوں کا یہ پختہ عقیدہ تھا
04:03کہ ان کے درمیان ضرور کوئی ایسا گنہگار موجود ہے
04:06جس نے آسمانوں کو ناراض کر دیا ہے
04:08تو سوال یہ تھا کہ آخر اس اچانک اور غیر طبعی عذاب کا ذمہ دار کون تھا
04:14جس کی سزا سب کو ملنے والی تھی
04:17یہاں کشمہ کش اپنی شدت کو پہنچ جاتی ہے
04:20کسوروار کو ڈھونڈنے کے لیے قرآن دازی کی جاتی ہے
04:23جب پہلی مرتبہ پرچی نکالی گئی تو حضرت یونس علیہ السلام کا نام آیا
04:28لوگوں کو یقین ہی نہ آیا
04:29انہوں نے دوسری بار قرآ ڈالا
04:31پھر وہی نام
04:32اور جب تیسری بار بھی بلکل وہی نتیجہ نکلا
04:35تو آسمانی فیصلہ واضح ہو چکا تھا
04:38سمندر کی بے رہم لہروں میں ڈالے جانے سے پہلے
04:41انہوں نے اپنی ذمہ داری قبول کی
04:42چلیے
04:44اب اس ناقابل تصور تنہائی کی گہرائی میں اتلتے ہیں
04:47ایک ایسی حالت جہاں نبی کو
04:49تین مختلف اور مکمل اندھیروں نے گھیر لیا تھا
04:52پہلا اندھیرہ
04:53اس کالی سیاہ رات کا تھا
04:55دوسرا سمندر کی اتھاہ اور تباہ کن گہرائیوں کا اندھیرہ
04:58جہاں سورج کی کوئی کرن نہیں پہنچ سکتی
05:01اور تیسرا
05:02ایک عظیم مچھلی کے پیٹ کا دم گھوٹنے والا اندھیرہ
05:05اب ذرا اس فرق پر غور کیا جائے
05:07ایک طرف نینوہ کے وسیع اور عالی شان محل تھے
05:10اور دوسری طرف یہ انتہائی تنگ
05:12عذیتناک جسمانی قید خانہ
05:14ایک اندازے کے مطابق انہوں نے چالیس دن اس قید میں گزارے
05:18اس دوران وہ شدید گرمی اور تیزابی ماحول سے گھرے ہوئے تھے
05:21یہ جگہ اس قدر تنگ تھی
05:23کہ بلکل ایک قبر کی ماند لگتی تھی
05:25جہاں انسان مکمل طور پر بیبس اور اکیلا ہوتا ہے
05:28اور اسے گہری تنہائی اور آزمائش کے درمیان
05:31ایک عظیم روحانی بیداری رونما ہوئی
05:34سمندر کی گہرائیوں میں کونجنے والی یہ آواز
05:37اصل میں انسانی کمزوری اور توبہ کا ایک بے مثال اقرار تھا
05:42انہوں نے پکارا
05:44لا الہ الا انت سبحانکہ انی کنتو من الظالمین
05:48یعنی تیرے سوا کوئی معبود نہیں
05:51اور بے شک میں ہی غلطی کرنے والوں میں سے تھا
05:54یہ الفاظ صرف ایک دعا نہیں
05:57بلکہ خود آگاہی اور روحانی تبدیلی کا ایک عظیم سبق تھے
06:01اس سچی توبہ کے نتیجے میں
06:03اس عظیم مچھلی نے نبی کو ایک بنجر
06:07اور دھوپ سے جھلستے ہوئے ساحل کی ریت پر اگل دیا
06:10اب اس وقت ان کی جسمانی حالت
06:13بلکل ایک نوزیدہ بچے کی طرح بے بس اور کمزور تھی
06:17جلد تیزاب سے جل چکی تھی
06:19بال گر چکے تھے
06:21اور وہ شدید تکلیف میں تھے
06:23اور بس یہیں سے قدرتی اور محولیاتی شفاق کا بہترین تصور
06:27اُبھر کر سامنے آتا ہے
06:29اس انسان جگہ پر جہاں زندگی کا کوئی نشان نہیں تھا
06:32خدا کے حکم سے وہاں
06:34یکتین کی ایک عجیب و غریب بیل اگائی
06:36یہ قدو یا تربوز جیسی بیل تھی
06:39جس کا کوئی سخت تنہ نہیں ہوتا
06:40لیکن اس کے بڑے اور نرم پتوں نے
06:42ان کی جھلسیوی جلد کو ضروری سایا
06:45تھنڈک اور آرام فرام کیا
06:47اس کے ٹھیک ساتھ ہی
06:49آسمانی حکم سے روزانہ ایک جنگلی بکری وہاں آتی
06:52اور انہیں خاموشی سے اپنا دودھ پلاتی
06:54تاکہ ان کی کھوئی ہوئی جسمانی طاقت
06:57واپس بحال ہو سکے
06:58یہ پرسکون قدرتی اور محضب غزہ
07:01آشوریوں کے اُس ظالمانہ
07:03اور خون چوسنے والے فوجی نظام کے
07:05بلکل برعکس ایک خوبصورت موازنہ
07:07پیش کرتی ہے
07:08مکمل طور پر صحتیاب ہونے کے بعد
07:10جب ان کی طاقت واپس آ گئی
07:12تو انہیں واپس اسی شہر کی طرف لوٹنے
07:15کا حکم دیا گیا جسے وہ خوف
07:16اور ڈر کے باعث چھوڑ آئے تھے
07:18انہیں خود جا کر دیکھنا تھا کہ ان کی چھوڑی
07:21ہوئی قوم کا انجام آخر ہوا کیا
07:23اور ان کی سچی توبہ نے
07:24کس طرح کا نیا معاشرہ تشکیل دیا ہے
07:26تو دیکھتے ہیں کہ یہ سب آخر میں
07:28کس حیرت انگیز تجدید پر منتج ہوتا ہے
07:31نبی کو توقع تھی کہ وہاں دشمنی ہوگی
07:33لوگ مزاک اڑائیں گے
07:35اور شاید انہیں جھوٹا ٹہرائیں گے
07:36لیکن اس کے بلکل برعکس
07:38پورا شہر ایمان اور عقیدت کی آوازوں سے
07:41گونج رہا تھا
07:41لوگوں نے اپنے نبی کا تاریخی استقبال کیا
07:44ایک ایسی پوری تہزیب جو کبھی خون خرابے پر مبنی تھی
07:47اب اس نے امن اور روحانی ترقی کو گلے لگا لیا تھا
07:50اور ایسے ایک لاکھ سے زیادہ افراد نے
07:53نئے امن کے ساتھ لمبی زندگی بسر کی
07:56تو اس سب کے بعد
07:57یہاں سب سے اہم اور سوچنے والا نکتہ یہ ہے
08:01کیا اس معاشرے کی یہ عظیم روحانی تبدیلی
08:05واقعی ہمیشہ قائم رہی
08:07یا پھر بادشاہیت اور دنیا کی طاقت کے نشے نے
08:10آخر کار نینوہ کو اپنی پرانی خوفناک
08:13اور ظالمانہ روشک اور واپس لا کھڑا کیا
08:16جس کی وجہ سے یہ عظیم شہر
08:18تاریخ کے صفوں سے ہمیشہ کیلئے مٹ گیا
08:20یہ تاریخ کا ایک ایسا سبق ہے
08:23جو انسانی فطرت اور طاقت کے نشے پر
08:26ہمیشہ ایک نشان سوال رہے گا
Comments