Skip to playerSkip to main content
Hazrat Yunus A.S ka dil hila dene wala waqia jo Quran mein bayan kiya gaya hai. Is video mein aap dekhenge kaise Prophet Yunus A.S ne اپنی قوم کو Allah ka paigham diya, phir machli ke pait mein jane ka mojza aur Allah ki azeem rehmat ka zahoor hua.

🌊 3 din machli ke pait mein kya hua?
🌊 Nineveh ki qoum ne tauba kyun ki?
🌊 Allah ne azaab ko kaise taal diya?

Ye Islamic documentary har Musalman ke liye bohat bari naseehat aur iman afroz kahani hai.

📌 Like | Share | Follow
📌 Daily Islamic Stories & Quranic Waqiat

#Dailymotion #HazratYunus #IslamicStory #QuranStories #IslamicDocumentary
Transcript
00:00چلیے آج تاریخ ایک ایسے باپ کو کھولتے ہیں جو واقعی رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے
00:04آج ہم قدیم اشوری سلطنت کی اس حیرت انگیز اخلاقی تبدیلی
00:08اور حضرت یونس علیہ السلام کی آزمائشوں اور بقا کے انتہائی کٹھن سفر کا جائزہ لیں گے
00:13یہ محض کوئی پرانا قصہ نہیں ہے
00:15یہ طاقت غرور اور پھر اچانک آنے والی روحانی بیداری کا ایک ایسا گہرا مطالعہ ہے
00:20جو انسانی فطرت کو بلکل بناقاب کر کے رکھ دیتا ہے
00:23اب اس دور کو سمجھنے کے لیے ناتاریخ کے طالب علموں کو
00:27سب سے پہلے اشوری فوج کی اس خوفناک اور ظالمانہ شہرت کو جاننا ضروری ہے
00:32مطلب ان کے بادشاہ اس قدر ظالم تھے
00:35کہ دشمنوں کی خالے کھیچ کر انہیں دیواروں پر لٹکا دیا کرتے تھے
00:38بڑی بڑی قومیں ان کا نام سن کر تھر تھر کامتی تھیں
00:42خون خرابہ تو جیسے ان کے لیے ایک آدھی حق بن چکا تھا
00:46اور اس صد کا مرکز تھا نینوہ یعنی نینوہ
00:51دریائے دجلہ کے کنارے بسا یہ قدیم سوپ پاور شہر
00:54مکمل طور پر فوجی طاقت اور خون علود بنیادوں پر کھڑا تھا
00:59اس کی بلند و بالا دیواریں اور عالی شان محل
01:02یہ سب مفتوحہ علاقوں سے لوٹی گئے دولت کا نتیجہ تھے
01:06ذرا تصور کیا جائے جب یہاں کی سڑکوں پر سپاہی دوڑتے
01:10تو زمین ان کے گھوڑوں کی تھاپوں سے لرز اٹھتی تھی
01:13یہ ان کی فوجی طاقت پر مکمل انحصار کا ایک خلا ثبوت تھا
01:17یہاں پر ایک بہت دلچسپ بنیادی کشمکش سامنے آتی ہے
01:21ایک ایسی سلطنت جس کے پاس ناقابل شکست فوجی طاقت
01:24غیر معمولی مالی وسائل اور وسیع محل تو تھے
01:27لیکن اخلاقی آجزی اور روحانیت کا وہاں مکمل زوال تھا
01:31انتہائی غرور پتوں کی پوجا اور لوگوں کو غلام بنا کر
01:35ان پر کیے جانے والے مظالم ان کی شناخت بن چکے تھے
01:38ان کا گمان تھا کہ یہ جسمانی طاقت انہیں ناقابل تسکیر بناتی ہے
01:42کوئی انہیں ہرا نہیں سکتا
01:44لیکن ٹھیک اس ظالمانہ اور سخت ماحول میں
01:47ایک ایسی عظیم ہستی قدم رکھتی ہے
01:49جسے تاریخ مچھلی والے یعنی حضرت یونس علیہ السلام کے نام سے جانتی ہے
01:54انہوں نے آ کر اس مغرور قوم کو ایک سخت اخلاقی الٹی میٹم دیا
01:59اور انہیں صاف الفاظ میں ان کی بدعمالیوں اور ظرم سے باز آنے کو کہا
02:03چلیے دیکھتے ہیں کہ آگے ہوتا کیا ہے
02:05پہلے دن جب تین دن کے اندر عذاب کی پیشگوئی کی گئی
02:08تو لوگوں نے اس کا سخت مزاک اڑھایا اور
02:11یونو اپنے کانوں میں انگلیاں تھونس لیں
02:12لیکن تیسرے دن جب اچانک محولیاتی تبدیلی آئی
02:16اور ایک خوفناک کالا دھوان شہر کی دیواروں تک آن پہنچا
02:18تو ان کی ہزی خوف میں بدل گئی
02:20انہیں واقعی اپنی آنے والی تباہی کا احساس ہو گیا
02:24اور پھر آخر کار دسوی محرم کی وہ تاریخ آئی
02:28جو پوری قوم کے لیے عام موفی کا دن بنی
02:30یہاں سب سے اہم نکتہ ان کی آجزی کی مکمل انتہا ہے
02:34یہ تاریخ کا ایک بےمثال واقعہ تھا
02:37ذرا سوچئے ایک ظالم فوجی سوپر پاور
02:40عوامی سطح پر آ کر رحم کی بھیک مانگ رہی ہے
02:43لوگوں نے اپنے محل چھوڑ کر کھلے میدانوں کا رخ کیا
02:46آلی شان لباس اتار کر خردارے اور تاعت کے کپلے پہن لیے
02:50اور یہاں تک کہ ماسوم بچے اور جانور بھی
02:52اس اجتماعی اہو بکا میں شامل ہو گئے
02:55جسمانی طاقت کے مقابلے میں یہ آجزی ایک ایسی سچی توبہ تھی
02:59جس نے ان کی قسمت کو بدل کر رکھ دیا
03:01خیر دوسری طرف ایک الگ ہی واقعہ چل رہا تھا
03:04شہر سے دور ایک قریبی پہاڑی پر انتظار کرتے ہوئے
03:08حضرت یونس علیہ السلام کو جب معلوم ہوا
03:10کہ عذاب ٹل چکا ہے
03:12تو انہیں نینوہ کے سخت قانونوں کا خوف محسوس ہوا
03:15کیونکہ وہاں جھوٹ بولنے والے کو موت کی سزا دی جاتی تھی
03:18اس شدت محلال اور خوف کے باعث
03:21اسمانی حکم کا انتظار کیے بغیر
03:23اس نبی نے بہرائے روم کی طرف وہاں سے نکلنے کا ایک بے وقت فیصلہ کیا
03:28یہ حصہ ہمارے اس متعلے میں ایک بہت بڑا موڑ لاتا ہے
03:32یہاں کہانی ایک عظیم سلطنت کے بڑے بہران سے نکل کر
03:36ایک اکیلے شخص کی خاموش اندرونی اور جسمانی آزمائش کی طرف منتقل ہوتی ہے
03:42ایک ایسی آزمائش جس کا تصور ہی انسان کو لرزا دیتا ہے
03:46اور یہ ذاتی بقا کے انتہائی کٹھن سفر کو جاگر کرتا ہے
03:50ہوتا کچھ یوں ہے کہ جب ان کی کشتی اچانک بے پناہ اور ظالم لہروں کے درمیان
03:56بے جان ہو کر رک گئی
03:58نہ آگے بڑھتی نہ پیچھے
04:00تو قدیم زمانے کے ملاہوں کا یہ پختہ عقیدہ تھا
04:03کہ ان کے درمیان ضرور کوئی ایسا گنہگار موجود ہے
04:06جس نے آسمانوں کو ناراض کر دیا ہے
04:08تو سوال یہ تھا کہ آخر اس اچانک اور غیر طبعی عذاب کا ذمہ دار کون تھا
04:14جس کی سزا سب کو ملنے والی تھی
04:17یہاں کشمہ کش اپنی شدت کو پہنچ جاتی ہے
04:20کسوروار کو ڈھونڈنے کے لیے قرآن دازی کی جاتی ہے
04:23جب پہلی مرتبہ پرچی نکالی گئی تو حضرت یونس علیہ السلام کا نام آیا
04:28لوگوں کو یقین ہی نہ آیا
04:29انہوں نے دوسری بار قرآ ڈالا
04:31پھر وہی نام
04:32اور جب تیسری بار بھی بلکل وہی نتیجہ نکلا
04:35تو آسمانی فیصلہ واضح ہو چکا تھا
04:38سمندر کی بے رہم لہروں میں ڈالے جانے سے پہلے
04:41انہوں نے اپنی ذمہ داری قبول کی
04:42چلیے
04:44اب اس ناقابل تصور تنہائی کی گہرائی میں اتلتے ہیں
04:47ایک ایسی حالت جہاں نبی کو
04:49تین مختلف اور مکمل اندھیروں نے گھیر لیا تھا
04:52پہلا اندھیرہ
04:53اس کالی سیاہ رات کا تھا
04:55دوسرا سمندر کی اتھاہ اور تباہ کن گہرائیوں کا اندھیرہ
04:58جہاں سورج کی کوئی کرن نہیں پہنچ سکتی
05:01اور تیسرا
05:02ایک عظیم مچھلی کے پیٹ کا دم گھوٹنے والا اندھیرہ
05:05اب ذرا اس فرق پر غور کیا جائے
05:07ایک طرف نینوہ کے وسیع اور عالی شان محل تھے
05:10اور دوسری طرف یہ انتہائی تنگ
05:12عذیتناک جسمانی قید خانہ
05:14ایک اندازے کے مطابق انہوں نے چالیس دن اس قید میں گزارے
05:18اس دوران وہ شدید گرمی اور تیزابی ماحول سے گھرے ہوئے تھے
05:21یہ جگہ اس قدر تنگ تھی
05:23کہ بلکل ایک قبر کی ماند لگتی تھی
05:25جہاں انسان مکمل طور پر بیبس اور اکیلا ہوتا ہے
05:28اور اسے گہری تنہائی اور آزمائش کے درمیان
05:31ایک عظیم روحانی بیداری رونما ہوئی
05:34سمندر کی گہرائیوں میں کونجنے والی یہ آواز
05:37اصل میں انسانی کمزوری اور توبہ کا ایک بے مثال اقرار تھا
05:42انہوں نے پکارا
05:44لا الہ الا انت سبحانکہ انی کنتو من الظالمین
05:48یعنی تیرے سوا کوئی معبود نہیں
05:51اور بے شک میں ہی غلطی کرنے والوں میں سے تھا
05:54یہ الفاظ صرف ایک دعا نہیں
05:57بلکہ خود آگاہی اور روحانی تبدیلی کا ایک عظیم سبق تھے
06:01اس سچی توبہ کے نتیجے میں
06:03اس عظیم مچھلی نے نبی کو ایک بنجر
06:07اور دھوپ سے جھلستے ہوئے ساحل کی ریت پر اگل دیا
06:10اب اس وقت ان کی جسمانی حالت
06:13بلکل ایک نوزیدہ بچے کی طرح بے بس اور کمزور تھی
06:17جلد تیزاب سے جل چکی تھی
06:19بال گر چکے تھے
06:21اور وہ شدید تکلیف میں تھے
06:23اور بس یہیں سے قدرتی اور محولیاتی شفاق کا بہترین تصور
06:27اُبھر کر سامنے آتا ہے
06:29اس انسان جگہ پر جہاں زندگی کا کوئی نشان نہیں تھا
06:32خدا کے حکم سے وہاں
06:34یکتین کی ایک عجیب و غریب بیل اگائی
06:36یہ قدو یا تربوز جیسی بیل تھی
06:39جس کا کوئی سخت تنہ نہیں ہوتا
06:40لیکن اس کے بڑے اور نرم پتوں نے
06:42ان کی جھلسیوی جلد کو ضروری سایا
06:45تھنڈک اور آرام فرام کیا
06:47اس کے ٹھیک ساتھ ہی
06:49آسمانی حکم سے روزانہ ایک جنگلی بکری وہاں آتی
06:52اور انہیں خاموشی سے اپنا دودھ پلاتی
06:54تاکہ ان کی کھوئی ہوئی جسمانی طاقت
06:57واپس بحال ہو سکے
06:58یہ پرسکون قدرتی اور محضب غزہ
07:01آشوریوں کے اُس ظالمانہ
07:03اور خون چوسنے والے فوجی نظام کے
07:05بلکل برعکس ایک خوبصورت موازنہ
07:07پیش کرتی ہے
07:08مکمل طور پر صحتیاب ہونے کے بعد
07:10جب ان کی طاقت واپس آ گئی
07:12تو انہیں واپس اسی شہر کی طرف لوٹنے
07:15کا حکم دیا گیا جسے وہ خوف
07:16اور ڈر کے باعث چھوڑ آئے تھے
07:18انہیں خود جا کر دیکھنا تھا کہ ان کی چھوڑی
07:21ہوئی قوم کا انجام آخر ہوا کیا
07:23اور ان کی سچی توبہ نے
07:24کس طرح کا نیا معاشرہ تشکیل دیا ہے
07:26تو دیکھتے ہیں کہ یہ سب آخر میں
07:28کس حیرت انگیز تجدید پر منتج ہوتا ہے
07:31نبی کو توقع تھی کہ وہاں دشمنی ہوگی
07:33لوگ مزاک اڑائیں گے
07:35اور شاید انہیں جھوٹا ٹہرائیں گے
07:36لیکن اس کے بلکل برعکس
07:38پورا شہر ایمان اور عقیدت کی آوازوں سے
07:41گونج رہا تھا
07:41لوگوں نے اپنے نبی کا تاریخی استقبال کیا
07:44ایک ایسی پوری تہزیب جو کبھی خون خرابے پر مبنی تھی
07:47اب اس نے امن اور روحانی ترقی کو گلے لگا لیا تھا
07:50اور ایسے ایک لاکھ سے زیادہ افراد نے
07:53نئے امن کے ساتھ لمبی زندگی بسر کی
07:56تو اس سب کے بعد
07:57یہاں سب سے اہم اور سوچنے والا نکتہ یہ ہے
08:01کیا اس معاشرے کی یہ عظیم روحانی تبدیلی
08:05واقعی ہمیشہ قائم رہی
08:07یا پھر بادشاہیت اور دنیا کی طاقت کے نشے نے
08:10آخر کار نینوہ کو اپنی پرانی خوفناک
08:13اور ظالمانہ روشک اور واپس لا کھڑا کیا
08:16جس کی وجہ سے یہ عظیم شہر
08:18تاریخ کے صفوں سے ہمیشہ کیلئے مٹ گیا
08:20یہ تاریخ کا ایک ایسا سبق ہے
08:23جو انسانی فطرت اور طاقت کے نشے پر
08:26ہمیشہ ایک نشان سوال رہے گا
Comments

Recommended