Skip to playerSkip to main content
Watch the powerful and emotional story of Prophet Noah (Nuh AS), one of the greatest messengers in human history. For 950 years, he warned his people to leave idol worship and believe in One God, but only a few followed him.

This video explains the complete story of the Great Flood, the construction of the Ark in a dry land, and the rejection he faced from his own nation. Despite centuries of rejection and mockery, Prophet Noah (AS) remained patient and devoted to his mission.

The most heartbreaking moment comes when even his own son refuses to board the Ark, believing he can survive on a mountain—only to be taken by the flood.

🌊 Topics covered in this video:

Prophet Noah (Nuh AS) story in Islam
The Great Flood explanation
Why the flood came in Quran
Story of Prophet Noah and his son
Lessons of faith, patience, and obedience

👉 This is not just a story—it’s a lesson about truth, belief, and personal responsibility.
prophet noah, nuh as story, great flood story, islamic stories, quran stories, story of prophets, noah ark story, islamic history, prophet noah son, islamic reminder, faith in islam, tawheed message, islamic video english, noah flood explained, biblical islamic story, prophet nuh full story, islamic motivation, religious stories, story of noah in quran

#ProphetNoah #NuhAS #GreatFlood #IslamicStories #QuranStories #Faith #Tawheed #IslamicReminder


Category

📚
Learning
Transcript
00:00پہلے انسانوں کے کئی زمانے بعد ایک اندیکھے خالق کی یاد دھندلا گئی
00:05لوگ ایک ایسی خدای موجودگی کی تلاش میں نکلے جسے وہ براہ راز دیکھ اور چھو سکیں
00:10ایک غیر مرئی خدا کی طرف رجوع کرنے کے بجائے انہوں نے عبادت کو تقسیم کر دیا
00:16انہوں نے اپنی دعائیں آگ کی حرارت، سورج کی روشنی اور پھر زمین سے نکالے گئے پتھر اور مٹی کی
00:22طرف موڑ دی
00:23وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے معبود تراشنے لگے
00:26بے جان پتھروں سے حفاظت مانگنے لگے حالانکہ تراشی ہوئی مٹی نہ سن سکتی ہے نہ جواب دے سکتی ہے
00:32انسان نے ایک عظیم سچائی کو بے جان چیزوں کے بدلے چھوڑ دیا
00:36صرف اس لیے کہ پتھر کو چھونا آسان تھا اور اس پر قابو پانا ممکن لگتا تھا
00:41پھر حضرت نو آئے انہوں نے نہ تاج مانگا نہ کوئی ٹیکس آئید کیا
00:46وہ اپنی قوم کے سامنے ایک سادہ پیغام لے کر کھڑے ہوئے
00:50بھتوں کو چھوڑ دو ایک خدا کو پہچانو اور بدلے میں مخفرت بارشوں کی کسرت اور سرسبس فصلے حاصل کرو
00:57مگر جواب سخت انکار کی صورت میں آیا
00:59جب وہ گلیوں میں بات کرتے لوگ اپنے کانوں میں اونگلیاں ڈال لیتے تاکہ ان کی آواز نہ سن سکیں
01:05جہاں آج انسان کی عوصت عمر تقریباً اسی سال ہے
01:08حضرت نو نے نو سو پچاس سال تک یہی انکار برداشت کیا
01:12ان صدیوں میں بہت ہی کم لوگ ان کی بات مانے
01:15کیونکہ ان کے ماننے والے زیادہ تر غریب اور کمزور تھے
01:18اس لیے امیر طبقہ حضرت نو کا مزاک اڑا تھا
01:21اور کہتا کہ ان کا پیغام ان کے میار سے بہت نوچا ہے
01:24یہ استقامت ایسی تھی جسے سمجھنا مشکل ہے
01:27حضرت نو روزانہ تنہائی اور تمسخور کے ساتھ جاگتے
01:30صدیوں تک یہی سلسلہ چلتا رہا
01:33آخرکار اللہ نے حضرت نو کو ایک نیا حکم دیا
01:35تمبی کا وقت ختم ہو چکا تھا
01:37اب اس قوم میں کوئی مزید ایمان لانے والا نہیں تھا
01:40اب حکم یہ تھا کہ تبلیغ روک دیں اور ایک بہت بڑی کشتی بنانا شروع کریں
01:44اور یہ کشتی ایک خوشک اور بنجر زمین پر بنانی تھی
01:47سمندر سے بہت دور
01:48آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ لوگوں نے کیا رد عمل دیا ہوگا
01:52وہ شخص جو صدیوں سے ایک اندیکھے خدا کی بات کر رہا تھا
01:55اب خوشک زمین پر ایک بڑی کشتی بنا رہا تھا
01:58لوگ اس کا مزاق اڑاتے رہے
02:00مگر حضرت نو خاموشی سے اپنا کام کرتے رہے
02:04وہ لکڑی اور کیلوں کے کام میں مصروف رہے
02:06اور سکون سے کہتے
02:08کہ آج تم مجھ پر ہستے ہو
02:09مگر وہ وقت قریب ہے جب میں تم پر نظر ڈالوں گا
02:13ایک ایسی قوم کے لیے جو صرف ظاہری چیزوں پر یقین رکھتی ہو
02:16سچائی پر کامل یقین اکثر پاگلپن لگتا ہے
02:19پھر وہ وقت آ گیا
02:21زمین بھٹ پڑی
02:22اور اس میں سے پانی کے چشمے اُبلنے لگے
02:25جبکہ آسمان سے موسلا دھار بارش برسنے لگی
02:28اس ہنگامے کے درمیان
02:29حضرت نوح ان کے چند ماننے والے
02:32اور جانوروں کے جوڑے کشتی میں سوار ہو گئے
02:34مکمل بھروسہ اللہ کے حکم پر کرتے ہوئے
02:37جون جون پانی بڑھتا گیا
02:39شہر کی طاقت اور غرور بھی ڈوبتا گیا
02:41پتھر کے بڑھ ڈوب گئے
02:43اور امیروں کی طاقت پانی کے سامنے بے مانی ثابت ہوئی
02:46جب سب کچھ ڈوب گیا
02:47تو نہ دولت کام آئی نہ مقام
02:49صرف وہی بچے جنہوں نے سچ کو مانا تھا
02:52جب کشتی پانی پر بلند ہوئی
02:53تو ایک دردناک منظر سامنے آیا
02:55حضرت نوح نے اپنے بیٹے کو پانی میں دیکھا
02:58انہوں نے اسے آواز دی
02:59کہ آ جاؤ کشتی میں سوار ہو جاؤ
03:01بیٹے نے جواب دیا کہ وہ پہاڑ پر پناہ لے گا
03:04اور وہی اسے بچا لے گا
03:06مگر اس سے پہلے کہ حضرت نوح کچھ کہتے
03:08ایک بڑی لہر آئی
03:09اور اسے اپنے ساتھ بہا لے گئی
03:11باپ کی محبت بھی اس فاصلے کو ختم نہ کر سکی
03:14جو بیٹے کے اپنے فیصلے نے پیدا کیا تھا
03:17آخرکار بارش رک گئی
03:18پانی زمین میں جذب ہو گیا
03:20اور کشتی کوہ جودی پر ٹھہر گئی
03:22اس خاموشی میں حضرت نوح نے اللہ سے سوال کیا
03:26کہ آپ نے میرے خاندان کو بچانے کا وعدہ کیا تھا
03:29پھر میرا بیٹا کیوں نہ بچا
03:30اللہ کا جواب واضح تھا
03:32وہ تمہارے خاندان میں شامل نہیں رہا
03:34کیونکہ اس کے عامال نیک نہیں تھے
03:37صرف رشتہ کافی نہیں ہوتا
03:38حضرت نوح نے اس حقیقت کو قبول کیا
03:41اور فوراں اللہ سے موفی مانگی
03:43اگر ایک نبی اپنے بیٹے کو بھی نہیں بچا سکتا
03:46تو نجات وراثت میں نہیں ملتی
03:48ہر انسان اپنے عامال کے مطابق خود جواب دی ہے
Comments

Recommended