00:00آج ہم تاریخ کے ایک ایسے باپ پر بات کرنے والے ہیں جو واقعی رونگٹے کھڑے کر دینے والا ہے
00:04ہم سیدھا چار ہزار سال پیچھے جا رہے ہیں قدیم میسوپٹیمیا کے دور میں
00:09یہ صرف ایک کہانی نہیں ہے بلکہ یہ مطلق الانان طاقت یعنی مکمل بادشاہت اور ایک بالکل سادہ
00:15لیکن ایسے مضبوط ایمان کے درمیان حتمی تصادم ہے جسے کوئی توڑ نہیں سکتا
00:20ہم حضرت ابراہیم کے اس سفر کو سمجھیں گے جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا
00:24تو چلیے شروع کرتے ہیں
00:25آج کی اس گفتگو میں ہم اس پورے سفر کو چھے خاص حصوں میں بانٹ کر سمجھیں گے
00:31پہلے بابل کے معبود اور بادشاہ کا ذکر ہوگا
00:34پھر سچائی کی تلاش پتھر کے بتوں کو توڑنے کا واقعہ
00:38بادشاہ نمرود سے سامنا آگ کا وہ عظیم موجزہ اور آخر میں سہرا کی طرف سفر
00:43پہلا حصہ بابل کے معبود اور بادشاہ
00:47بابل کی وہ دنیا جو دولت اور خوف سے چلتی تھی
00:51ذرا اس وقت کے بابل کا تصور کریں
00:53یہ ایک ایسا معاشرہ تھا جو دو بلکل مخالف چیزوں پر کھڑا تھا
00:58دولت کی فراوانی اور شدید خوف
01:00ایک طرف مندروں کی معاشرت تھی
01:03جیسے ہی موسم بہار آتا
01:04لوگ اپنے دیوتا مردوک کے لیے بکرے اور گندم کا نظرانہ لے کر آتے
01:08یعنی بت پرستی صرف ایک عقیدہ نہیں
01:11بلکہ ایک پوری معاشی انڈسٹری تھی
01:14اور دوسری طرف بادشاہ نمروت کا خوف
01:17ایک ایسا بادشاہ جو لوگوں کی فصلیں ہڑپ کر لیتا
01:20اور ایک پیشین گوئی سے ڈر کر
01:22معصوم بچوں کے قتل کا حکم دیتا تھا
01:24سوچی ایک کیسی غٹن بھری فضا تھی وہاں کی
01:26اور اس سب کے بیچوں بیچ کھڑا تھا زکر راہ
01:30یہ صرف ایک مندر نہیں تھا
01:32بلکہ طاقت کی ایک بہت بڑی احرام نمہ علامت تھی
01:37جیسے آج کل کے دور میں ہماری عظیم الشان فلک بوس امارتیں ہوتی ہیں
01:41اس وقت یہ پتھر کا بھاری بھرکم ڈھانچا بنایا گیا تھا
01:45تاکہ عام انسان اس کی حیبت سے دب جائے
01:48اس کے اندر رکھے گئے انگنت پتھر کے بتوں
01:50اور اس کے بوجلپن کا حقیقی روحانیت اور سادگی سے
01:54ایک بہت بڑا اور واضح تزاد تھا
01:56دوسرا حصہ
01:58سچائی کی تلاش
01:59ایک اکیلے انسان کا فکری سفر
02:01اب ایسی بھیڑ بھاڑ اور بتوں سے بھری دنیا میں
02:04ابراہیم نے خود کو بالکل اکیلہ پایا
02:06اور یہی سے ان کا وہ منتقی سفر شروع ہوتا ہے
02:09رات کا وقت ہے وہ آسمان کی طرف دیکھتے ہیں
02:11پہلے چمکتا ہوا زہرہ یعنی وینس نکلتا ہے
02:14پھر ڈوب جاتا ہے
02:15پھر چاندی جیسا چاند اُبھرتا ہے
02:17اور وہ بھی رات کے اندھیرے میں ڈھل جاتا ہے
02:19آخر میں روشنی باتنے والا بڑا سورج نکلتا ہے
02:22لیکن شام تک وہ بھی غائب ہو جاتا ہے
02:24انہوں نے بہت سادہ اور واضح نتیجہ نکالا
02:27جو چیز غروب ہو جائے
02:28مٹ جائے وہ خدا نہیں ہو سکتی
02:30سچا خدا تو وہ ہے جو ان سب کا بنانے والا ہے
02:33لیکن یہ سفر آسان نہیں تھا
02:36اس میں ایک بہت بڑا جذباتی امتحان بھی تھا
02:39ان کے اپنے والد آزر
02:41جو خود ان بتوں کو تراشتے تھے
02:43اس نئے نظریے پر شدید برم ہوئے
02:46انہوں نے ابراہیم کو دھمکی دی
02:48لیکن اس شدید مخالفت کے باوجود
02:51ابراہیم کا جواب سنیں
02:52وہ کہتے ہیں آپ پر سلامتی ہو
02:55میں اپنے رب سے آپ کی مغفرت کی دعا کروں گا
02:58کتنی عجیب بات ہے نا
03:00غصے کا جواب اتنی انتہائی نرمی اور شرافت سے
03:03تیسرا حصہ
03:04پتھر کے بتوں کو توڑنا
03:06جب سچائی کو عملی طور پر ثابت کرنے کا وقت آیا
03:09ایک دن پورا شہر موسمِ بہار کا جشن منانے بہار گیا ہوا تھا
03:14بابل کا وہ عظیم مندر بلکل سنسان تھا
03:17وہاں صرف گوشٹ کے نظرانوں کی بدبو تھی
03:19اور وہ بے جان خاموش پتھر کے مجسمے
03:22ابراہیم اکیلے اس مندر میں داخل ہوتے ہیں
03:24وہ اپنے ہاتھ میں ایک الہاری لیتے ہیں
03:27اور ان تمام بے بس بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے ہیں
03:30لیکن ایک سب سے بڑے بت کو وہ چھوڑ دیتے ہیں
03:32کیوں؟
03:33تاکہ جب لوگ واپس آئیں
03:35تو انہیں ایک بہت واضح چوبنے والا پیغام مل سکے
03:38جب لوگ اپنا جشن منا کر مندر واپس لوٹتے ہیں
03:42تو منظر دیکھ کر ان کے ہوش اڑ جاتے ہیں
03:45ہر طرف افرا تفری
03:46ان کے موں سے نکلا
03:47ہمارے مقدس معبودوں کو کس نے تباہ کیا ہے
03:50ان کی پوری معیشت
03:52ان کے صدیوں کے عقائد
03:53سب کچھ تباہ ہو چکا تھا
03:55ان کے اندر ایک ڈر اور شدید خصہ تھا
03:58اور انہیں اندازہ تھا
03:59کہ یہ کس کا کام ہو سکتا ہے
04:01چوتھا حصہ بادشاہ نمرود سے محاذ آرائی
04:05ایک پرہجوم دربار میں عقائد کا ٹکراؤ
04:08اب کہانی مندر کے سناٹوں سے نکل کر
04:11بادشاہ نمرود کے شور و غل سے بھرے دربار میں آتی ہے
04:14نمرود اپنے گھمنڈ میں چور تھا
04:17اس نے دعویٰ کیا
04:18کہ وہ زندگی اور موت دونوں پر اختیار رکھتا ہے
04:21اس نے وہاں موجود ایک قیدی کو قتل کروا دیا
04:24اور دوسرے کو آزاد کر کے
04:26اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا
04:28لیکن ابراہیم اپنی جگہ اٹل رہے
04:30انہوں نے جھکنے سے صاف انکار کر دیا
04:32انہوں نے ایک ایسا چیلنج دیا
04:34جس نے نمرود کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا
04:36میرا رب سورج کو مشرق سے نکالتا ہے
04:39اگر تُو خدا ہے
04:40تو اسے مغرب سے نکال کر دکھا
04:42نمرود
04:43وہ مقمل طور پر بے زبان ہو گیا
04:46اس کا گھمنڈ
04:47اس سادی سی منطق کے سامنے چکنا چور ہو گیا
04:50پانچوہ حصہ
04:52آگ کا عظیم موجزہ
04:53دنیا کا سب سے بڑا اور خوفناک امتحان
04:57ان عظیم آزمائشوں کا سامنا کرنے سے پہلے
05:00اللہ نے ابراہیم کو ایک نشانی دکھائی
05:02تاکہ ان کا یقین مزید پختہ ہو جائے
05:04انہوں نے چار پرندوں کو زبا کیا
05:06ان کے حصے الگ الگ پہاڑوں پر رکھ دیئے
05:09پھر جب انہیں اللہ کے حکم سے پکارا
05:11تو وہ چاروں پرندے اپنی اصل حالت میں واپس
05:14ان کے پاس اڑتے ہوئے آگئے
05:16یہ دیکھ کر ابراہیم کو بلکل یقینیں کامل ہو گیا
05:19کہ واقعی زندگی اور موت صرف اور صرف ایک طاقتور خالق کے ہاتھ میں ہے
05:22اور انہیں اس یقین کی بہت ضرورت بھی تھی
05:25کیونکہ آگے جو ہونے والا تھا
05:26وہ کسی نے نہیں سوچا تھا
05:28نمرود اور بابل کے لوگوں نے فیصلہ کیا
05:31کہ ابراہیم کو ایسی سزا دی جائے
05:33جو ہمیشہ کے لیے عبرت بن جائے
05:35انہوں نے ایک آگ تیار کی
05:36لیکن یہ کوئی عام آگ نہیں تھی
05:38سوچ کر دیکھئے
05:40پورے ایک مہینے تک لوگ
05:42صرف لکڑیاں جمع کرتے رہے
05:43اس بھڑکتے ہوئے آلاو پر
05:45بے شمار تیل تارکول اور گندھک
05:48ڈالی گئی آگ کے شولے اتنے
05:50اونچے تھے کہ آسمان کو چھو رہے تھے
05:52اس کی گرمی کا یہ آلم تھا
05:54کہ دور دور تک کھڑا ہونا ناممکن تھا
05:57اب مسئلہ یہ تھا
05:58کہ ابراہیم کو اس آگ میں پھیکا کیسے جائے
06:00گرمی اتنی تھی کہ کوئی اس کے قریب
06:02نہیں جا سکتا تھا
06:03تو شہر کے نجومیوں نے ایک نئی مشین اجات کی
06:06ایک بہت بڑی غلیل
06:08جسے کیٹاپلٹ کہتے ہیں
06:09ابراہیم کو اس غلیل میں باندھ کر
06:12دور سے اس دہکتی آگ کی طرف اچھال دیا گیا
06:14ذرا اس سین کو اپنے ذہن میں لائیں
06:17وہ چم لمحے جب وہ ہوا میں مولک تھے
06:19کتنا سنسنی خیز اور خوفناک منظر ہوگا وہ
06:22لیکن انہی لمحات میں
06:24جب وہ موت کے بلکل موں میں جا رہے تھے
06:26ایک فرشتہ مدد کے لیے آتا ہے
06:28لیکن ابراہیم کا یقین دیکھیں
06:30انہوں نے مدد لینے سے بلکل انکار کر دیا
06:32اور فرمایا مجھے اللہ کے سوا کسی کی ضرورت نہیں
06:35میں اس کے سوا کسی سے مدد نہیں مانگوں گا
06:37یہ واقعی کسی بھی انسانی تصور سے بڑی بات ہے
06:40اور پھر ایک ایسا موجزہ ہوا
06:43جس نے پورے بابل کی چیخیں نکال دیں
06:45اللہ کا حکم ہوا
06:46اور وہ بھیانک آگ
06:47وہ آگ جس کو ایک مہینے تک جلایا گیا تھا
06:50اچانک ایک تھنڈے اور پرسکون باغ میں تبدیل ہو گئی
06:53یہ ایک ایسا منظر تھا جس پر یقین کرنا مشکل تھا
06:56ایک طرف لوگوں کا انتقام تھا
06:58اور دوسری طرف الہی تحفظ کا ایک خوبصورت باغ
07:01چھٹا اور آخری حصہ
07:03سہرہ کا سفر
07:04ایک نئے آغاز کی طرف
07:06جب یہ ثابت ہو گیا
07:08کہ طاقت کا کوئی بھی بڑا دھانچہ
07:10سچائی کو نہیں دبا سکتا
07:11تو ابراہیم نے ایک فیصلہ کیا
07:13اور یہاں سے بلکل ایک نئے دور کا
07:16ایک نئی دنیا کا آغاز ہوتا ہے
07:18انہوں نے اس پرحجوم
07:20شور شرابے سے بھری
07:21بابل کی سلطنت کو چھوڑ دیا
07:23وہ شہر جو تراشے ہوئے پتھروں
07:25عظیم مندروں اور بد پرستی پر
07:28چلنے والی معشت کا مرکز تھا
07:29اور وہ نکل پڑے سہرہ حجاز
07:32کے خاموش ویران مناظر کی طرف
07:34یہ سفر
07:35اصل میں معاشرے کی بھیڑ بھار سے نکل کر
07:38توحید کی خالص اور
07:40مکمل سادگی کی طرف ایک روحانی سفر تھا
07:42اپنا گھر اپنا شہر
07:44اور اپنے آباؤ اجداد
07:46کا معاشرہ چھوڑنا کبھی آسان نہیں ہوتا
07:48لیکن انہوں نے پراسائش
07:50اور آباد دنیا کے بجائے
07:52ایمان کی سچائی کا راستہ چنا
07:54اور یہی وہ بے مثال قربانی ہے
07:56جس نے آنے والے کئی ہزار سالوں کی تاریخ
07:59اور ہمارے عقائد کی بنیاد رکھی
08:01اس پوری داستان کو
08:02اگر ہم سمیٹنا چاہیں
08:04تو ان کا یہ آخری جملہ سب کچھ بیان کر دیتا ہے
08:06میں اپنے رب کے پاس جا رہا ہوں
08:09جو میری رہنمائی کرے گا
08:10یہ جملہ ہمیں بلکل جھن جھوڑ کر رکھ دیتا ہے
08:13ذرا سوچئے
08:15اپنا سب کچھ پیشے چھوڑ کر
08:16ایک انجان راستے پر
08:18صرف اس بھروسے کے ساتھ چل پڑنا
08:20کہ خدا ساتھ ہے
08:21اس کے لیے کتنی حمد چاہیے ہوگی
08:23اور آج ہم خود سے سوال کر سکتے ہیں
08:25کہ حق اور سچائی کے لیے
08:27ہم کیا کچھ قربان کرنے کو تیار ہیں
08:35موسیقی
Comments