Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
The story of Prophet Ibrahim (AS) being thrown into the fire is one of the greatest miracles in Islamic history. In this video, discover how King Nimrod ordered a massive fire to be built, what machine (catapult/manjaniq) was used to throw Prophet Ibrahim (AS) into the flames, how Allah made the fire cool and peaceful, and what happened to the wood after the miracle.

This detailed Islamic documentary is based on Quranic verses and authentic Islamic traditions.

📖 In this video:

Why Prophet Ibrahim (AS) broke the idols
Who was King Nimrod?
What was the Manjaniq (catapult)?
How huge was the fire?
How Allah made the fire cool
What happened after the fire miracle
Quranic references and Islamic explanations

This story teaches powerful lessons about:

Faith in Allah
Patience and sacrifice
Tawheed (Oneness of Allah)
Trust in Allah during difficult times

📖 Quran References:

Surah Al-Anbiya 21:51–70
Surah As-Saffat 37:91–98
Surah Al-Ankabut 29:24

If you enjoy Islamic stories, Quran stories, Prophet stories, and Islamic history documentaries, subscribe for more inspiring content.
Transcript
00:00So it will be a long way of this journey.
00:03Today, we are going to explore a great journey of this journey.
00:08This journey may be a long way of this journey.
00:09This journey be part of a great journey.
00:12It will be the end of the journey in this journey.
00:16This journey will continue to talk about his journey of this journey.
00:21We have got a great journey for this journey,
00:28We'll see you next time.
00:58Babylon, یعنی بابل اور ایک نوجوان کی بیداری.
01:02ہمارا سفر شروع ہوتا ہے قدیم شہر بابل سے جو آج کل کے عراق میں واقع ہے.
01:08یہ اس وقت کا ایک بہت ہی عظیم اور آباد شہر تھا.
01:12لیکن اس معاشرے کی بنیاد میں ایک بہت بڑی خرابی تھی اور وہ تھی بدھ پرستی.
01:18لوگ پتھر کے مجسمیں خود تراشتے اور پھر انہی کے سامنے جھگ جاتے تھے.
01:23یہ صرف ایک عادت نہیں تھی بلکہ ایک اندھی روایت بن چکی تھی.
01:28ایک طرف پورا معاشرہ تھا جو بنا سوچے سمجھے بس اپنے آبا و اجداد کی تکلید کر رہا تھا.
01:35اور دوسری طرف صرف سولہ سال کے ایک نوجوان ابراہیم.
01:39انہوں نے اندھی تکلید نہیں کی بلکہ اپنی عقل کا استعمال کیا.
01:44انہوں نے اپنی قوم سے بلکل واضح سوال اٹھائے
01:46کہ بھائی جنہیں ہم خود بناتے ہیں جو نہ سن سکتے ہیں نہ مدد کر سکتے ہیں
01:51ہم ان کی عبادت آخر کیوں کرتے ہیں؟
01:53سوچئے آج کے دور میں بھی معاشرے کے دباؤ کے آگے کھڑے رہنا
01:57اور اپنی عقل استعمال کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے نا؟
02:00دوسرا حصہ
02:01نمرود کی آگ
02:03دیکھیں جب پہس سے لوگ نہ مانے تو عملی قدم اٹھانا پڑتا ہے.
02:08ابراہیم علیہ السلام نے تہوار کے دن تمام چھوٹے بتوں کو توڑ کر
02:11کلہاڑی سب سے بڑے بت کے کندے پر رکھ دی تاکہ ان کی بے بس حقیقت لوگوں کے سامنے آئے
02:17نتیجے میں کیا ہوا؟
02:18وقت کے سب سے طاقتور بادشاہ نمرود نے ایک عظیم آگ تیار کرنے اور انہیں زندہ جلانے کا حکم دے
02:24دیا
02:25اب یہاں آپ سے ایک چھوٹا سا سوال ہے
02:27تصور کریں زمین پر لکڑیوں کا ایک پہار ہے
02:30آسمان تک شولے جا رہے ہیں
02:31جب ابراہیم علیہ السلام کو اس آگ میں پھیکا جا رہا تھا
02:35تو ان کے آخری الفاظ کیا تھے؟
02:36تھوڑا سوچئے اس خوفناک منظر کے بارے میں
02:39جواب ہے وہ تاریخی الفاظ
02:42حسبن اللہ و نعم الوکیل
02:44یعنی ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے
02:47اور وہی بہترین کام بنانے والا ہے
02:50ان کا یقین اتنا مضبوط تھا
02:52کہ لٹرلی کائنات کے اصول بدل گئے
02:55آگ کو حکم ہوا کہ وہ تھنڈی اور سلامتی والی بن جائے
02:59اور پتا ہے اس آگ نے کچھ نہیں جلایا
03:02سوائے ان رسیوں کے جن سے ابراہیم علیہ السلام کو باندھا گیا تھا
03:06سبحان اللہ
03:08اس موجزے کے بعد نمرود نے انہیں دربار میں بلایا
03:12اور اپنی خدای کا دعویٰ کیا
03:13کہ دیکھو میں زندگی اور موت دیتا ہوں
03:16اس نے ایک قیدی کو مار دیا اور ایک کو چھوڑ دیا
03:19لیکن ابراہیم علیہ السلام نے وقت ضائع کیے بنا
03:22ایک ایسا ماسٹر سٹروک کھیلا
03:24کہ بادشاہ لا جواب ہو گیا
03:26انہوں نے فرمایا میرا رب سورج کو مشرق سے نکالتا ہے
03:29اگر تو خدا ہے تو اسے مغرب سے نکال کر دکھا
03:32یہ ایک ایسا عظیم منطقی جھٹکہ تھا
03:36جس نے ظالم حکمران کو بلکل خاموش کر دیا
03:38سچی دلیل ہمیشہ اندھی طاقت پر بھاری ہوتی ہے
03:42تیسرا حصہ
03:43قدیم زمینوں کے آر پار ہجرت
03:46اپنے اصولوں پر کھڑے رہنے کی وجہ سے
03:48انہیں اپنا وطن عراق چھوڑنا پڑا
03:51یہاں سے ایک نئے اور سخت سفر کا آغاز ہوتا ہے
03:54اگر ہم اس سفر کے نقشے کو دیکھیں
03:56تو بابل سے نکل کر وہ حران پہنچے
03:58جہاں انہوں نے ستارہ پرستوں کو سمجھایا
04:01کہ ڈھلنے والی چیزیں خدا نہیں ہو سکتی
04:03پھر وہ مصر گئے
04:04جہاں ان کی اہلیہ سیدہ سارہ کی حفاظت کا موجزہ ہوا
04:08وہاں سے ہوتے ہوئے وہ فلسطین
04:09اور آخر کار مکہ تک پہنچے
04:12ہر نیا مقام ان کے لیے ایک نئی ازمائش لیا
04:15چوتھا حصہ مکہ میں موجزہ
04:18اب آتے ہیں اس سفر کے ایک نہایت جذباتی حصے پر
04:22خدا کے حکم پر
04:23ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بیوی
04:25سیدہ حاجرہ اور دودھ پیتے بچے اسماعیل کو
04:29مکہ کی بلکل ویران اور بے آباد وادی میں چھوڑ دیا
04:33جب پانی اور خوراک ختم ہو گئی
04:35اور بچہ بھوک سے رونے لگا
04:37تو سیدہ حاجرہ صفا کی پہاڑی پر دوڑی
04:40کچھ نہ دکھا تو مروا کی طرف بھاگی
04:43انہوں نے گھبرہت میں ان دو پہاڑیوں کے درمیان
04:47سات چکر لگائے
04:48ایک ماں کی اس عظیم جسمانی اور جذباتی قربانی کو
04:52ہم آج بھی صفا اور مروا کی سائی کے ذریعے یاد کرتے ہیں
04:55آخر کار اس مشقت کا نتیجہ کیا نکلا
04:59جبریل علیہ السلام کے ذریعے
05:01بچے اسماعیل کے قدموں کے پاس سے ایک چشمہ پھوٹ پڑا
05:04جسے آج ہم آبِ زمزم کہتے ہیں
05:07یہ صرف پانی نہیں تھا دوستوں
05:09یہ ایک پوری تہذیب کی بنیاد تھا
05:12اس پانی کو دیکھ کر پرندے آئے
05:14اور انہیں دیکھ کر وہاں سے گزرنے والا
05:17جرہم قبیلہ وہاں آباد ہو گیا
05:19سیدہ حاجرہ کے سبر نے جزیرت العرب کی تاریخ
05:23اور تجارتی راستوں کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا
05:26پانچوا حصہ
05:28سب سے عظیم قربانی
05:30وقت گزرتا گیا
05:32اور جب بیٹا چلنے پھرنے کے قابل ہوا
05:34تو ایک ایسی آزمائی شائی
05:36جس نے پوری انسانیت کی تاریخ ہلا دی
05:38ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں حکم ملا
05:41کہ اپنے اکلوتے اور بہت دعاوں کے بعد
05:45مانگے گئے بیٹے کو
05:46اللہ کی راہ میں قربان کر دیں
05:48لیکن یہاں ایک پوائنٹ پر غور کریں
05:50انہوں نے بیٹے کو سوتے ہوئے قربان نہیں کیا
05:53بلکہ پہلے اپنے بیٹے سے مشورہ کیا
05:55ایسا کیوں
05:56وہ چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا
05:58اس عظیم عجر میں شریک ہو
05:59اور قربانی زبردستی کی نہیں
06:01بلکہ خود مختاری اور مکمل تسلیم اور رضا کے ساتھ ہو
06:04اور اس مثالی تربیت کا جواب سنیے
06:07اے میرے ابباجان
06:09جو حکم ہوا ہے وہ کر گزاریے
06:12انشاءاللہ آپ مجھے سبر کرنے والوں میں پائیں گے
06:15سوچنے کی بات ہے
06:18اتنی چھوٹی عمر میں ایسی گہری سمجھ
06:21انشاءاللہ کہہ کر
06:23اللہ کی مرضی کو شامل کرنا
06:25اس خاندان کے روحانی بھروسے کی ایک بہترین مثال ہے
06:29آج ہمیں بھی زندگی میں کئی فیصلے کرنے پڑتے ہیں
06:33وہ تو ایک بیٹے کی جسمانی خربانی کا وقت تھا
06:36آج ہمارے لیے اعزمائش کیا ہوتی ہے
06:38جب ہم حق اور سچ کا ساتھ دیتے ہیں
06:41تو دوستوں یا معاشرے سے
06:43الگ تھلگ ہونے کا ڈر لگتا ہے
06:45اپنے اصولوں پر قائم رہنے کے لیے
06:47آج بھی بعض اوقات بہت بڑی اور تکلیف دے
06:50خربانیاں دینی پڑتی ہیں
06:52اور پھر وہ لمحہ آیا جب باپ اور بیٹا
06:55مکمل طور پر جھگ گئے
06:56ابراہیم علیہ السلام نے چھوری چلا دی
06:58لیکن چھوری نے کٹنے سے انکار کر دیا
07:02بلکل ویسے ہی جیسے آگ نے جلانے سے انکار کیا تھا
07:05امتحان مکمل ہو چکا تھا
07:07دلوں کا ٹیسٹ پاس ہو گیا
07:09تب ہی آسمان سے ایک مینڈا بھیجا گیا
07:12اور قربانی قبول ہو گئی
07:13یہ اس کائنات کے لیے ایک واضح پیغام تھا
07:16کہ اصل قربانی دلوں کی یقین کی ہوتی ہے
07:19چھٹا حصہ
07:20مراز اور آج کے اسباق
07:22ان کڑی ازمائشوں کے بعد
07:24زندگی میں جو مقام ملا
07:25وہ اتنا ہی شاندار تھا
07:27بڑھاپے میں سعیدہ سارہ سے
07:30ایک اور بیٹے اسحاق علیہ السلام کی خوشخبری ملی
07:33پھر باپ بیٹے نے مل کر
07:35اللہ کے گھر کعبہ کی بنیادیں اٹھائیں
07:37جس پکھر پر وہ کھڑے تھے
07:39وہ نرم ہو گیا
07:40اور آج تک ہم اسے مقام ابراہیم کہتے ہیں
07:43جہاں ان کے قدم محفوظ ہیں
07:45اور آخر میں
07:46انہوں نے حج کی وہ عظیم ندا دی
07:48جس کا جواب آج بھی ہر سال
07:51کروڑوں لوگ لبائک کہہ کر دیتے ہیں
07:53انہی باتوں کی وجہ سے
07:55انہیں خلیل الرحمان
07:57یعنی اللہ کا گہرہ دوست کہا گیا
07:59ایک سو پچھتر سال
08:01یہ صرف ایک نمبر نہیں ہے
08:03ایک عظیم تاریخ ہے
08:04پیغمبر ابراہیم علیہ السلام کی پوری زندگی
08:07صرف عبادت میں نہیں گزری
08:09بلکہ بے مثال مہمان نوازی
08:11سخاوت اور ہر حال میں
08:13شکر گزاری سے بھری ہوئی تھی
08:14کہا جاتا ہے کہ وہ
08:16بغیر مہمان کے کھانا نہیں کھاتے تھے
08:18یہ ان کے عظیم اخلاق کی نشانی ہے
08:21تو آج کے اس تفصیلی جائزے کے آخر میں
08:24آئی ایک لمحے کے لیے غور کرتے ہیں
08:25جب کبھی ہم پر شدید
08:27معاشراتی دباؤ آئے
08:28یا کسی بڑے نقصان کا سامنا ہو
08:30تو ابراہیم علیہ السلام کا
08:32ناڈگمگانے والا صبر
08:33ہمارے لیے ایک مضبوط سہارا بن سکتا ہے
08:36یہ کہانی ہمیں بلکل کلیر سکھاتی ہے
08:38کہ ہمت اور سچائی پر
08:40قائم رہنا ہی تاریخ میں
08:42امر ہونے کا اصل راستہ ہے
08:43سو آپ اپنی زندگی میں
08:45اس عظیم اصول کو کیسے اپنا سکتے ہیں
08:47سوچیے گا ضرور
Comments

Recommended