00:00So it will be a long way of this journey.
00:03Today, we are going to explore a great journey of this journey.
00:08This journey may be a long way of this journey.
00:09This journey be part of a great journey.
00:12It will be the end of the journey in this journey.
00:16This journey will continue to talk about his journey of this journey.
00:21We have got a great journey for this journey,
00:28We'll see you next time.
00:58Babylon, یعنی بابل اور ایک نوجوان کی بیداری.
01:02ہمارا سفر شروع ہوتا ہے قدیم شہر بابل سے جو آج کل کے عراق میں واقع ہے.
01:08یہ اس وقت کا ایک بہت ہی عظیم اور آباد شہر تھا.
01:12لیکن اس معاشرے کی بنیاد میں ایک بہت بڑی خرابی تھی اور وہ تھی بدھ پرستی.
01:18لوگ پتھر کے مجسمیں خود تراشتے اور پھر انہی کے سامنے جھگ جاتے تھے.
01:23یہ صرف ایک عادت نہیں تھی بلکہ ایک اندھی روایت بن چکی تھی.
01:28ایک طرف پورا معاشرہ تھا جو بنا سوچے سمجھے بس اپنے آبا و اجداد کی تکلید کر رہا تھا.
01:35اور دوسری طرف صرف سولہ سال کے ایک نوجوان ابراہیم.
01:39انہوں نے اندھی تکلید نہیں کی بلکہ اپنی عقل کا استعمال کیا.
01:44انہوں نے اپنی قوم سے بلکل واضح سوال اٹھائے
01:46کہ بھائی جنہیں ہم خود بناتے ہیں جو نہ سن سکتے ہیں نہ مدد کر سکتے ہیں
01:51ہم ان کی عبادت آخر کیوں کرتے ہیں؟
01:53سوچئے آج کے دور میں بھی معاشرے کے دباؤ کے آگے کھڑے رہنا
01:57اور اپنی عقل استعمال کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے نا؟
02:00دوسرا حصہ
02:01نمرود کی آگ
02:03دیکھیں جب پہس سے لوگ نہ مانے تو عملی قدم اٹھانا پڑتا ہے.
02:08ابراہیم علیہ السلام نے تہوار کے دن تمام چھوٹے بتوں کو توڑ کر
02:11کلہاڑی سب سے بڑے بت کے کندے پر رکھ دی تاکہ ان کی بے بس حقیقت لوگوں کے سامنے آئے
02:17نتیجے میں کیا ہوا؟
02:18وقت کے سب سے طاقتور بادشاہ نمرود نے ایک عظیم آگ تیار کرنے اور انہیں زندہ جلانے کا حکم دے
02:24دیا
02:25اب یہاں آپ سے ایک چھوٹا سا سوال ہے
02:27تصور کریں زمین پر لکڑیوں کا ایک پہار ہے
02:30آسمان تک شولے جا رہے ہیں
02:31جب ابراہیم علیہ السلام کو اس آگ میں پھیکا جا رہا تھا
02:35تو ان کے آخری الفاظ کیا تھے؟
02:36تھوڑا سوچئے اس خوفناک منظر کے بارے میں
02:39جواب ہے وہ تاریخی الفاظ
02:42حسبن اللہ و نعم الوکیل
02:44یعنی ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے
02:47اور وہی بہترین کام بنانے والا ہے
02:50ان کا یقین اتنا مضبوط تھا
02:52کہ لٹرلی کائنات کے اصول بدل گئے
02:55آگ کو حکم ہوا کہ وہ تھنڈی اور سلامتی والی بن جائے
02:59اور پتا ہے اس آگ نے کچھ نہیں جلایا
03:02سوائے ان رسیوں کے جن سے ابراہیم علیہ السلام کو باندھا گیا تھا
03:06سبحان اللہ
03:08اس موجزے کے بعد نمرود نے انہیں دربار میں بلایا
03:12اور اپنی خدای کا دعویٰ کیا
03:13کہ دیکھو میں زندگی اور موت دیتا ہوں
03:16اس نے ایک قیدی کو مار دیا اور ایک کو چھوڑ دیا
03:19لیکن ابراہیم علیہ السلام نے وقت ضائع کیے بنا
03:22ایک ایسا ماسٹر سٹروک کھیلا
03:24کہ بادشاہ لا جواب ہو گیا
03:26انہوں نے فرمایا میرا رب سورج کو مشرق سے نکالتا ہے
03:29اگر تو خدا ہے تو اسے مغرب سے نکال کر دکھا
03:32یہ ایک ایسا عظیم منطقی جھٹکہ تھا
03:36جس نے ظالم حکمران کو بلکل خاموش کر دیا
03:38سچی دلیل ہمیشہ اندھی طاقت پر بھاری ہوتی ہے
03:42تیسرا حصہ
03:43قدیم زمینوں کے آر پار ہجرت
03:46اپنے اصولوں پر کھڑے رہنے کی وجہ سے
03:48انہیں اپنا وطن عراق چھوڑنا پڑا
03:51یہاں سے ایک نئے اور سخت سفر کا آغاز ہوتا ہے
03:54اگر ہم اس سفر کے نقشے کو دیکھیں
03:56تو بابل سے نکل کر وہ حران پہنچے
03:58جہاں انہوں نے ستارہ پرستوں کو سمجھایا
04:01کہ ڈھلنے والی چیزیں خدا نہیں ہو سکتی
04:03پھر وہ مصر گئے
04:04جہاں ان کی اہلیہ سیدہ سارہ کی حفاظت کا موجزہ ہوا
04:08وہاں سے ہوتے ہوئے وہ فلسطین
04:09اور آخر کار مکہ تک پہنچے
04:12ہر نیا مقام ان کے لیے ایک نئی ازمائش لیا
04:15چوتھا حصہ مکہ میں موجزہ
04:18اب آتے ہیں اس سفر کے ایک نہایت جذباتی حصے پر
04:22خدا کے حکم پر
04:23ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بیوی
04:25سیدہ حاجرہ اور دودھ پیتے بچے اسماعیل کو
04:29مکہ کی بلکل ویران اور بے آباد وادی میں چھوڑ دیا
04:33جب پانی اور خوراک ختم ہو گئی
04:35اور بچہ بھوک سے رونے لگا
04:37تو سیدہ حاجرہ صفا کی پہاڑی پر دوڑی
04:40کچھ نہ دکھا تو مروا کی طرف بھاگی
04:43انہوں نے گھبرہت میں ان دو پہاڑیوں کے درمیان
04:47سات چکر لگائے
04:48ایک ماں کی اس عظیم جسمانی اور جذباتی قربانی کو
04:52ہم آج بھی صفا اور مروا کی سائی کے ذریعے یاد کرتے ہیں
04:55آخر کار اس مشقت کا نتیجہ کیا نکلا
04:59جبریل علیہ السلام کے ذریعے
05:01بچے اسماعیل کے قدموں کے پاس سے ایک چشمہ پھوٹ پڑا
05:04جسے آج ہم آبِ زمزم کہتے ہیں
05:07یہ صرف پانی نہیں تھا دوستوں
05:09یہ ایک پوری تہذیب کی بنیاد تھا
05:12اس پانی کو دیکھ کر پرندے آئے
05:14اور انہیں دیکھ کر وہاں سے گزرنے والا
05:17جرہم قبیلہ وہاں آباد ہو گیا
05:19سیدہ حاجرہ کے سبر نے جزیرت العرب کی تاریخ
05:23اور تجارتی راستوں کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا
05:26پانچوا حصہ
05:28سب سے عظیم قربانی
05:30وقت گزرتا گیا
05:32اور جب بیٹا چلنے پھرنے کے قابل ہوا
05:34تو ایک ایسی آزمائی شائی
05:36جس نے پوری انسانیت کی تاریخ ہلا دی
05:38ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں حکم ملا
05:41کہ اپنے اکلوتے اور بہت دعاوں کے بعد
05:45مانگے گئے بیٹے کو
05:46اللہ کی راہ میں قربان کر دیں
05:48لیکن یہاں ایک پوائنٹ پر غور کریں
05:50انہوں نے بیٹے کو سوتے ہوئے قربان نہیں کیا
05:53بلکہ پہلے اپنے بیٹے سے مشورہ کیا
05:55ایسا کیوں
05:56وہ چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا
05:58اس عظیم عجر میں شریک ہو
05:59اور قربانی زبردستی کی نہیں
06:01بلکہ خود مختاری اور مکمل تسلیم اور رضا کے ساتھ ہو
06:04اور اس مثالی تربیت کا جواب سنیے
06:07اے میرے ابباجان
06:09جو حکم ہوا ہے وہ کر گزاریے
06:12انشاءاللہ آپ مجھے سبر کرنے والوں میں پائیں گے
06:15سوچنے کی بات ہے
06:18اتنی چھوٹی عمر میں ایسی گہری سمجھ
06:21انشاءاللہ کہہ کر
06:23اللہ کی مرضی کو شامل کرنا
06:25اس خاندان کے روحانی بھروسے کی ایک بہترین مثال ہے
06:29آج ہمیں بھی زندگی میں کئی فیصلے کرنے پڑتے ہیں
06:33وہ تو ایک بیٹے کی جسمانی خربانی کا وقت تھا
06:36آج ہمارے لیے اعزمائش کیا ہوتی ہے
06:38جب ہم حق اور سچ کا ساتھ دیتے ہیں
06:41تو دوستوں یا معاشرے سے
06:43الگ تھلگ ہونے کا ڈر لگتا ہے
06:45اپنے اصولوں پر قائم رہنے کے لیے
06:47آج بھی بعض اوقات بہت بڑی اور تکلیف دے
06:50خربانیاں دینی پڑتی ہیں
06:52اور پھر وہ لمحہ آیا جب باپ اور بیٹا
06:55مکمل طور پر جھگ گئے
06:56ابراہیم علیہ السلام نے چھوری چلا دی
06:58لیکن چھوری نے کٹنے سے انکار کر دیا
07:02بلکل ویسے ہی جیسے آگ نے جلانے سے انکار کیا تھا
07:05امتحان مکمل ہو چکا تھا
07:07دلوں کا ٹیسٹ پاس ہو گیا
07:09تب ہی آسمان سے ایک مینڈا بھیجا گیا
07:12اور قربانی قبول ہو گئی
07:13یہ اس کائنات کے لیے ایک واضح پیغام تھا
07:16کہ اصل قربانی دلوں کی یقین کی ہوتی ہے
07:19چھٹا حصہ
07:20مراز اور آج کے اسباق
07:22ان کڑی ازمائشوں کے بعد
07:24زندگی میں جو مقام ملا
07:25وہ اتنا ہی شاندار تھا
07:27بڑھاپے میں سعیدہ سارہ سے
07:30ایک اور بیٹے اسحاق علیہ السلام کی خوشخبری ملی
07:33پھر باپ بیٹے نے مل کر
07:35اللہ کے گھر کعبہ کی بنیادیں اٹھائیں
07:37جس پکھر پر وہ کھڑے تھے
07:39وہ نرم ہو گیا
07:40اور آج تک ہم اسے مقام ابراہیم کہتے ہیں
07:43جہاں ان کے قدم محفوظ ہیں
07:45اور آخر میں
07:46انہوں نے حج کی وہ عظیم ندا دی
07:48جس کا جواب آج بھی ہر سال
07:51کروڑوں لوگ لبائک کہہ کر دیتے ہیں
07:53انہی باتوں کی وجہ سے
07:55انہیں خلیل الرحمان
07:57یعنی اللہ کا گہرہ دوست کہا گیا
07:59ایک سو پچھتر سال
08:01یہ صرف ایک نمبر نہیں ہے
08:03ایک عظیم تاریخ ہے
08:04پیغمبر ابراہیم علیہ السلام کی پوری زندگی
08:07صرف عبادت میں نہیں گزری
08:09بلکہ بے مثال مہمان نوازی
08:11سخاوت اور ہر حال میں
08:13شکر گزاری سے بھری ہوئی تھی
08:14کہا جاتا ہے کہ وہ
08:16بغیر مہمان کے کھانا نہیں کھاتے تھے
08:18یہ ان کے عظیم اخلاق کی نشانی ہے
08:21تو آج کے اس تفصیلی جائزے کے آخر میں
08:24آئی ایک لمحے کے لیے غور کرتے ہیں
08:25جب کبھی ہم پر شدید
08:27معاشراتی دباؤ آئے
08:28یا کسی بڑے نقصان کا سامنا ہو
08:30تو ابراہیم علیہ السلام کا
08:32ناڈگمگانے والا صبر
08:33ہمارے لیے ایک مضبوط سہارا بن سکتا ہے
08:36یہ کہانی ہمیں بلکل کلیر سکھاتی ہے
08:38کہ ہمت اور سچائی پر
08:40قائم رہنا ہی تاریخ میں
08:42امر ہونے کا اصل راستہ ہے
08:43سو آپ اپنی زندگی میں
08:45اس عظیم اصول کو کیسے اپنا سکتے ہیں
08:47سوچیے گا ضرور
Comments