00:00حضرت نو علیہ السلام جب جوانی کی عمر کو پہنچے
00:02تو وہ اپنے معاشرے کے حالات کو گہری نظر سے دیکھنے لگے
00:06لوگ دنیاوی آسائشوں میں کھو چکے تھے اور سچائی سے دور ہو گئے تھے
00:10بت پرستی عام تھی
00:11ظلم اور نائنصافی بڑھ چکی تھی
00:13اور کوئی حق بات سننے کو تیار نہیں تھا
00:16ایسے ماحول میں حضرت نو علیہ السلام کا دل بیچین رہتا تھا
00:19وہ تنہائی میں غور و فکر کرتے اور سچ کی تلاش میں رہتے
00:23اطالع نے انہیں نبوت عطا کی اور حق کا پیغام لوگوں تک پہنچانے کی ذمہ داری سونپی
00:28حضرت نو علیہ السلام نے بڑی نرمی اور حکمت کے ساتھ اپنی قوم کو سمجھانا شروع کیا
00:32دن ہو یا رات وہ مسلسل لوگوں کو ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دیتے رہے
00:37لیکن اکثر لوگ ان کا مزاق اڑاتے انہیں جھٹلاتے اور ان کی بات ماننے سے انکار کر دیتے
00:42اس کے باوجود حضرت نو علیہ السلام نے حمد نہ ہاری اور صبر کے ساتھ اپنی دعوت جاری رکھی
Comments