00:00ہیلو اور خوش آمدید آج کے اس خاص جائزے میں آج ہم ایک بہتی دلچسپ تاریخی سفر پر نکلنے والے
00:06ہیں
00:06ہم دیکھیں گے کہ کس طرح حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق علیہم السلام کے دو عظیم نبوتی سلسلوں نے دنیا
00:13کی تاریخ کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا
00:15یہ ایک ایسے شجرے کی کہانی ہے جس کی دو شاکھوں نے پوری عالمی تہزیب اور ہماری آج کی دنیا
00:22کو شکل دیں
00:22تو چلیں شروع کرتے ہیں
00:24ٹھیک ہے تو جلدی سے دیکھ لیتے ہیں کہ آج ہم کیا کیا کور کرنے والے ہیں
00:28ہم شروعات کریں گے اس مشترکہ بنیاد سے
00:31پھر وہ عظیم قربانی دونوں بھائیوں کا ایک تقابل
00:35اور پھر دیکھیں گے کہ ان کی نسلوں نے تاریخ پر کیا اثر ڈالا
00:38اور آخر میں ان کی ایک مشترکہ اور عبدی میراس پر بات کریں گے
00:42تو آئیے اپنے پہلے حصے کی طرف چلتے ہیں
00:46یعنی وہ مشترکہ بنیاد جہاں سے یہ سب شروع ہوا
00:51ظاہر ہے اس پوری تاریخ کو سمجھنے کے لیے
00:54ہمیں سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر کرنا ہوگا
00:58آپ نے یقیناً ان کا نام تو سنا ہوگا
01:00لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ان کا ایک بہت خاص لقب تھا
01:03خلیل اللہ
01:04یعنی اللہ کا دوست
01:06یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے
01:07یہ لقب ظاہر کرتا ہے کہ ان کا اللہ کے ساتھ کتنا گہرا اور قریبی تعلق تھا
01:12اور یاد رکھئے یہی وہ عظیم گھرانہ تھا
01:14جہاں سے ہماری آج کی کہانی کی اصل بنیاد پڑتی ہے
01:17اب ذرا تصور کریں
01:19ایک طویل عرصے تک
01:20اولاد کا نا ہونا کیسا محسوس ہوتا ہوگا
01:23حضرت ابراہیم مسلسل دعا کیا کرتے تھے
01:25کہ اے میرے رب
01:26مجھے نیک اولاد عطا فرما
01:28یہ صرف ایک بچے کی خواہش نہیں تھی
01:30بلکہ ایک ایسے روحانی جانشین کی طلب تھی
01:33جو ان کے مشن کو آگے بڑھائے
01:34اور پھر جب یہ دعا قبول ہوئی
01:37اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش ہوئی
01:39تو سمجھیں
01:40ایک نئے اور شاندار نبوتی دور کا باقاعدہ آغاز ہو گیا
01:44اب ہم کہانی کے دوسرے حصے کی طرف آتے ہیں
01:47جو کہ قربانی اور صبر کے اس امتحان کے بارے میں ہے
01:50جس کی مثال تاریخ میں کہیں اور نہیں ملتی
01:52حضرت اسماعیل کی زندگی کا سفر واقعی حیرت انگیز ہے
01:56سوچئے ایک چھوٹی سی جان
01:58اور انہیں ان کی والدہ حضرت حاجرہ کے ساتھ
02:01مکہ کی ایک بلکل ویران اور خوشک وادی میں چھوڑ دیا گیا
02:04وہاں نہ کوئی انسان تھا
02:05نہ تور دور تک پانی کا نشان
02:07لیکن ان کا اللہ پر جو توقل تھا نا
02:10اس کے نتیجے میں زمزم کا وہ موجزہ ہوا
02:12جو آج بھی جاری ہے
02:13پھر اسی پانی کی وجہ سے
02:15وہاں قبیلہ جرحم آ کر آباد ہوا
02:17اور جوانی میں
02:18جوانی میں وہ تاریخ کے سب سے بڑے امتحان
02:20یعنی قربانی سے گزرے
02:21اور بعد میں انہوں نے مل کر
02:23توحید کے مرکز
02:24خانہ کعبہ کی تعمیر کی
02:26یہ سب کتنا کمال کا سلسلہ ہے
02:28اور اس عظیم قربانی کے وقت
02:30ذرا اس نوجوان بیٹے کا رویہ تو دیکھیں
02:33جب حضرت ابراہیم نے انہیں خواب کے بارے میں بتایا
02:35تو انہوں نے کہا
02:36اے میرے والد آپ وہی کریں
02:39جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے
02:40بس یہ وہ لمحہ تھا
02:42یہ الفاظ بتاتے ہیں
02:43کہ وہ کس قدر سابر تھے
02:45اور اسی مکمل اطاعت نے
02:46ان کے خاندان کو ہمیشہ کے لیے چن لیا
02:48چلیں اب آگے بڑھتے ہیں
02:50اور ایک بہت ہی دلچسپ تقابل دیکھتے ہیں
02:53کہ اسماعیل اور اسحاق علیہ السلام کے راستے کیسے الگ ہوئے
02:56یہاں آپ کے ذہن میں شاید یہ سوال آ رہا ہو
02:58کہ حضرت اسماعیل کے بھائی کون تھے
03:00تو حضرت ابراہیم کی دوسری اہلیہ
03:03حضرت سارا علیہ السلام کے ہاں بھی
03:05اللہ نے ایک بیٹا عطا کیا
03:07جن کا نام حضرت اسحاق تھا
03:09اور ان کی زندگی کا جو سفر تھا
03:11وہ حضرت اسماعیل سے بلکل مختلف ہونے والا تھا
03:14اور یہی وہ مقام ہے جہاں جگرافیا پوری تاریخ کو بدل دیتا ہے
03:18ایک طرف حضرت اسماعیل جزیرہ نمہ عرب میں ہی رہے
03:21اور وہاں عرب نسل کی بنیاد رکھی
03:23جبکہ دوسری طرف حضرت اسحاق شام اور فلسطین کے علاقوں میں مقیم رہے
03:28جہاں سے بنی اسرائیل کا عظیم سلسلہ شروع ہوا
03:30اس چارٹ پر ایک نظر ڈالیں
03:32یہ ہمیں بلکل واضح کر دیتا ہے کہ کون کہاں تھا
03:35خطہ مکہ حضرت اسماعیل کا مرکز بنا
03:38اور وہاں سے عرب قوائل آئے
03:40جبکہ شام اور فلسطین کا علاقہ حضرت اسحاق کا مرکز رہا
03:44اور وہاں سے بنی اسرائیل کے کئی انبیاء آئے
03:46یہ صرف دو خاندانوں کے الگ ہونے کی بات نہیں ہے
03:49یہ دراصل آنے والی صدیوں کی تہذیبوں کا نقشہ تیار ہو رہا تھا
03:53اور اب ہم اپنے چوتے حصے کی بات کرتے ہیں
03:56کہ کیسے ان دو نسلوں نے واقعی پوری دنیا کی تاریخ کو شیپ کیا
04:01اگر ہم حضرت اسحاق کی نسل یعنی بنی اسرائیل پر نظر ڈالیں
04:05تو یہ روحانیت کا ایک نارکنے والا سلسلہ نظر آتا ہے
04:09آپ ذرا ان ہستیوں کے ناموں پر غور کریں
04:11حضرت یعقوب، یوسف، موسیٰ، حارون، دعود، سلیمان، زکریہ، یہیہ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام
04:19ان تمام عظیم پیغمبروں نے مشرق وسطہ کی قدیم تاریخ کو روحانی طور پر مسلسل زندہ رکھا
04:26اور دوسری طرف حضرت اسماعیل کی میراس کیا تھی
04:29وہ عرب قبائل کا جدے امجد بنے
04:32ان کی نسل میں قریش اور کنانا جیسے بڑے اور طاقتور خاندان پر بانچڑے
04:36لیکن اس نسل کا سب سے بڑا اور شاندار توفہ وہ تھا
04:40جب اسی شجرے سے ہمارے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے
04:45جن کا پیغام کسی ایک علاقے کے لیے نہیں
04:48بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک عالمی ہدایت بن کر اُبھرا
04:52ویسے کہ آپ کو معلوم ہے کہ تاریخی روایات کے مطابق حضرت اسماعیل نے کتنی عمر پائی
04:57ایک سو سینتس سال
04:59جی ہاں ایک سو سینتس سال کی ایک طویل زندگی
05:02جو انہوں نے مکہ کے سہرہ میں توحید پھیلانے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط بنیاد رکھنے میں
05:08گزار دی
05:09اگر آپ کو کبھی مکہ جانے کا اتفاق ہوا ہو
05:12تو آپ نے خانہ کعبہ کے بلکل ساتھ جڑی ہوئی ایک سنگ مرمر کی نیم دائرہ نمہ دیوار ضرور دیکھی
05:17ہوگی
05:18جسے حجر اسماعیل کہتے ہیں
05:20تاریخی روایات بتاتی ہیں کہ حضرت اسماعیل اور ان کی والدہ یہی مطفون ہیں
05:25یہ مقام آج بھی ان کی اس عظیم قربانی اور روحانی جدوجہد کی ایک جیتی جاگتی یادگار ہے
05:31چلیں اب اپنے آخری اور سب سے اہم حصے کی طرف آتے ہیں
05:35وہ عبدی پیغام جس نے ان دونوں سلسلوں کو آپس میں جوڑ رکھا ہے
05:39تو سب سے اہم نکتہ جس پر میں زور دینا چاہتا ہوں
05:42وہ یہ ہے کہ یہ صرف پرانے وقتوں کی کہانیاں نہیں ہیں
05:45آج ہم جو حج اور عمرہ کرتے ہیں وہ درزل انہی آزمائشوں کی یاد ہے
05:50وہ ویران سہرام میں اللہ پر بھروسہ کرنا جس سے زمزم نکلا
05:54قربانی کے وقت وہ بے مثال صبر
05:56خانہ کعبہ کی تعمیر اور حج کی وہ پکار
05:59آج جب کروڑوں مسلمان تواف کرتے ہیں
06:01صحی کرتے ہیں یا زمزم پیتے ہیں
06:03تو وہ حقیقت میں اسی تاریخی صبر کی یاد تازہ کر رہے ہوتے ہیں
06:07اور ان کی اس مشترکہ خوبی یعنی صبر کو
06:10قرآن مجید نے کتنی خوبصورتی سے بیان کیا ہے
06:13سورة الانبیاء میں ارشاد ہوتا ہے کہ
06:15اور اسماعیل، ادریس اور ذلکفل کو یاد کرو
06:18سب صبر کرنے والوں میں سے تھے
06:20تو دیکھیں بھلے جوگرافیائی دوریاں تھی
06:22لیکن حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق
06:25دونوں کے گھرانے صبر اور اللہ پر توقع جیسی
06:28بلکل ایک جیسی روحانی صفات سے جڑے ہوئے تھے
06:31تو ہم اس نتیجے پہ پہنچتے ہیں کہ
06:33بے شک یہ دو الگ تاریخی ہجرتیں تھیں
06:36شام اور مکہ دو الگ الگ مراکز بنے
06:39لیکن ان کا پیغام صرف ایک ہی تھا
06:42اور وہ تھا الہی توحید کا پیغام
06:44ایک نسل نے دنیا کو بنی اسرائیل کے انبیاء دیئے
06:47اور دوسری نسل سے آخری نبی تشریف لائے
06:50اب سوچنے کی بات یہ ہے
06:51کہ ایمان اور صبر کی یہ متحد مراس
06:54یہ عظیم و شان تاریخ
06:56مستقبل میں ہماری عالمی تہذیبوں
06:58اور ہمارے آج کے روحانی طرز عمل کو
07:00مزید کیسے سمارتی رہے گی
07:02یہ واقعی ایک ایسا سوال ہے
07:03جس پر ہم سب کو غور کرنا چاہیے
07:05اس جائزے میں ہمارے ساتھ شامل ہونے کا بہت بہت شکریہ
07:08امید ہے آپ کو بہت کچھ نیا جاننے کو ملا ہوگا
Comments