00:00چلیں آج ایک بہت پرانی لیکن زبردست کہانی سنتے ہیں حضرت نوح اور ان کی قوم کا قصہ
00:06ایک بڑا سوال کیا کوئی عظیم رہنماں کسی ایسے شخص کو بچا سکتا ہے جو بات ہی نہ سنے
00:13بہت پہلے لوگوں نے سچے خالق کو بھلا کر پتھر کے بطوں کی پوجہ شروع کر دی تھی
00:18حضرت نوح نے پورے ساڑھے نو سو سال جی ہاں اتنے لمبے عرصے تک سبر سے پیغام پہنچایا
00:26انہوں نے پیار سے سمجھایا کہ اگر مان جاؤگے تو خدا کی مافی اور بہتنین بارشیں ملیں گی
00:33اب یہاں سے کہانی دو بلکل الگ راستوں میں بڑھ جاتی ہے دیکھتے ہیں لوگوں نے کیا چنا
00:37ایک طرف غریب لیکن سچے لوگ تھے اور دوسری طرف وہ مغرور لوگ جو مزاک اڑا رہے تھے
00:44ان مغرور لوگوں نے صاف انکار کر دیا کانوں میں املیاں دیلی اور حضرت نوح کو جھوٹا کہا
00:50امیروں کی دھمکیوں کے باوجود حضرت نوح نے اپنے غریب ساتھیوں کو چھوڑنے سے بلکل انکار کر دیا
00:56پھر کیا ہوا خدا کے حکم پر ایک بہت ہی بڑی اور شاندار کشتی بنانے کا کام شروع ہو گیا
01:02شہر کے وہ مغرور سردار حضرت نوح کو کشتی بناتے دیکھ کر زور زور سے ہسنے اور تنز کرنے لگے
01:10حضرت نوح نے خبردار کیا آج تم ہس رہے ہو کل عذاب کے وقت تمہارا مزاک اڑایا جائے گا
01:16اب آتا ہے اس پوری کہانی کا سب سے خوفناک حصہ
01:20وہ عظیم طوفان جس کا وعدہ کیا گیا تھا
01:24اچانک زمین سے پانیوں بلنے لگا اور آسمان سے شدید ترین بارش ہونے لگی
01:29تباہی شروع ہو چکی تھی
01:30لیکن جو لوگ سچے تھے وہ خدا کا نام لے کر بخیریت اس بڑی کشتی میں سوار ہو گئے
01:36یہاں ایک بڑا دکھ ہے
01:38حضرت نوح کے سگے بیٹے نے خدا کے بجائے ایک پہاڑ پر بھروسہ کیا
01:42اچانک باپ بیٹے کے درمیان ایک بہت بڑی لہر اٹھی
01:46اور اس نافرمان بیٹے کو ہمیشہ کے لیے ڈبو دیا
01:50آخر کار طوفان تھمہ
01:52زمین نے پانی نگل لیا اور وہ کشتی کوہ جودی پر جا کر رک گئی
01:56اب سب سے ضروری بات
01:58اس ساری کہانی کا اصل سبق کیا ہے
02:01چلیں اسے مل کر سمجھتے ہیں
02:02حضرت نوح نے خدا سے پوچھا
02:04کہ ان کا اپنا بیٹا باقی خاندان کے ساتھ کیوں نہیں بچایا گیا
02:08خدا نے صاف بتایا
02:10کہ اس کے برے عامال کی وجہ سے وہ اب تمہارے خاندان کا حصہ نہیں رہا
02:14یعنی ہر انسان اپنے عامال کا خود ذمہ دار ہے
02:17کسی بڑے خاندان میں پیدا ہونا بلکل کافی نہیں ہوتا
02:20یاد رکھیں
02:21ذرے کے برابر بھی کوئی نیکی یا برائی کی ہو
02:24اس کا حساب ضرور ہونا ہے
02:27ذرا سوچئے ہمارے اپنے روزمرہ کے عامال اور فیصلے
02:30آج ہماری کیا پہچان بنا رہے ہیں
02:32موسیقی
Comments