Skip to playerSkip to main content
Dars-e-Bukhari Shareef - Speaker: Mufti Muhammad Akmal

Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D

#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation

Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00Allah sallallahu alaikum wa ala alihi wa sahbihi wa sallim
00:16Bismillahirrahmanirrahim
00:16Allah tb. wa ta'ala کے پاکیزہ نام سے آغاز کرتے ہیں
00:19جو بہت مہربان نہایت رحم والا ہے
00:22درسی بخاری کا سلسلہ کتاب الصلاح تک پہنچا تھا
00:26صلاح کا مطلب ہوتا ہے دو افراد میں اس طرح کی ڈیل کروا دینا
00:30معاہدہ کروانا ایگریمنٹ کروانا
00:32کہ درمیان سے جھگڑا اختلاف نظاع وغیرہ اٹھ جائے
00:37یہ شریعت کو بہت زیادہ مطلوب و محبوب ہے
00:40وہ چاہے دو افراد میں ہم صلاح کروائیں
00:43دو خاندانوں میں کروائیں
00:44ہزبن وائف میں کروائیں
00:46دو دوستوں میں کروائیں
00:48بعض اوقات ماں باپ اولاد میں جھگڑے ہو جاتے ہیں
00:50جب ہم درمیان سے جھگڑا ختم کر دیتے ہیں
00:53اور فریق آپس میں پیار محبت سے مل جاتے ہیں
00:56تو اس کو صلاح کہتے ہیں
00:57اور یہ بہت اچھی چیز ہے
01:00اس کے برعکس جو لوگ صلاح سے بھاگتے ہیں
01:03یعنی صلاح قبول نہیں کرتے
01:04یہ غلط ہوتا ہے
01:05اور اس طرح بعض افراد ایسے ہوتے ہیں
01:08جو صلاح ہونے نہیں دیتے ہیں
01:11یا نہیں چاہتے ہیں کہ صلاح ہو
01:13وہ لوگوں کو جھگڑے میں مبتلا دیکھنا ہی پسند کرتے ہیں
01:18ایسے لوگ خاندانوں میں بھی ہوتے ہیں
01:20اور آفیسز میں ہوتے ہیں
01:22فیکٹریز میں ہوتے ہیں
01:23کہ دو افراد کے درمیان جھگڑے کو طول دیتے ہیں
01:27ایک دوسرے کے ذہن میں غلط قسم کی باتیں ڈالتے ہیں
01:30تاکہ نفرت میں اضافہ ہو
01:32اور اختلاف گھٹے نہیں بلکہ بڑھے
01:34تو یاد رکھیں
01:35مادرت کے ساتھ یہ لفظ میں استعمال کر رہا ہوں
01:38کہ یہ کام پھر مسلمانوں کا نہیں ہوتا
01:40بلکہ شیطان کا کام ہوتا ہے
01:42شیطان جھگڑا پیدا کرتا ہے
01:44شیطانی لڑواتا ہے
01:45لہذا صلح کروانا بہت اچھا ہے
01:48اور یہ کس قدر شریعت کی نگاہوں میں
01:51مطلوب و محبوب ہے
01:52اس کا اندازہ
01:53اس حدیث سے لگائیں
01:55پہلے باپ دیکھیں
01:56کہ بابن لائسل قاذب اللذی
01:58یسلح بین الناس
01:59جو شخص لوگوں کے درمیان صلح کروائے
02:03وہ جھوٹا نہیں ہے
02:04حدیث نمبر ہے
02:06دو ہزار چھے سو بانوے
02:07اور حضرت حمید بن عبد الرحمن
02:11کو ان کی والدہ
02:14حضرت ام قلصوم
02:15بنت عقبہ نے خبر دی
02:17کہ انہوں نے نبی کریم
02:19صلی اللہ علیہ وسلم
02:20کو یہ فرماتے ہوئے سنا
02:22کہ وہ شخص بہت جھوٹا نہیں
02:24جو لوگوں کے درمیان
02:26صلح کروائے
02:27پس وہ خیر کے قصد سے چغلی کھائے
02:31یا اپنی بات سے خیر کا
02:33قصد کرے ارادہ کرے
02:36دونوں صورتیں ٹھیک ہیں
02:38اس کا مطلب یہ ہوا
02:39کہ دو فریقین میں
02:41اگر آپ چاہتے ہیں
02:43کہ صلح کروائیں
02:44تو تھوڑا بہت
02:45ہم ایسے الفاظ استعمال کر کے
02:47کہ وہ ایک دوسرے سے
02:49حسن دن قائم کرنے لگے
02:50اور پہلے سے پیدہ شدہ
02:52نفرت و کراہت و دور ہو جائے
02:55اس کی گنجائش ہے
02:56گویا کہ
02:58صلح کروانے کے اندر
03:00تھوڑا مبالغہ کرنا
03:01تھوڑا بہت جھوٹ کی
03:03آمیدش کرنا بھی شرن
03:04جائز ہوگا
03:06درہا ایک روایت دیکھیں
03:09یہ سنن ابو دعوت کی ہے
03:11جو علماء نے لکھی ہے
03:13تعاید میں اس کے
03:14اور تھوڑا اس میں اضافہ ہے
03:15حضرت امی قلسوم بنت اقبار
03:17رضی اللہ تعالی عنہ
03:19بیان کرتی ہیں
03:20کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے
03:23صرف تین چیزوں میں
03:25جھوٹ کی رخصت کے
03:27متعلق سنا ہے
03:28یعنی خود نبی کریم نے فرمایا
03:31کہ ان تین باتوں میں
03:32تھوڑا بہت اگر انسان جھوٹ بول لے
03:34تو اس کی گنجائش ہوگی
03:36چنانچہ کہتی ہے
03:37کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
03:38کہ میں ان کو جھوٹ شمار نہیں کرتا
03:41ایک تو ایک شخص
03:42لوگوں کے درمیان
03:43صلح کرائے
03:44اور کوئی ایسی بات کہے
03:46جس سے
03:47نیکی کا ارادہ کرے
03:49تو جھوٹ ہو سکتا ہے
03:50یعنی مثال کے طور پر
03:52جیسے دو خاندان والے ہیں
03:53لڑ بیٹھے ہیں
03:54تو ایک کے پاس جا کے
03:55اس طرح جھوٹ بول دے
03:56کہ وہ تو تمہاری بڑی تعریف کر رہے ہیں
03:58وہ بچارے صلح بھی چاہتے ہیں
03:59اور وہ درگزر کرنا چاہتے ہیں
04:01تو ان کے دل میں نرمی پیدا ہو
04:03یہی بات ہے
04:04سیدھر آ کر کہے
04:05تو دونوں کے درمیان
04:06پھر صلح کروا دے
04:07تو یہ تھوڑا بہت
04:08اس طرح کے غلط بیانی کرنا
04:10کہ جس سے دل مل جائیں
04:12اس کی شریعت نے اجازت دی
04:13اور نبی کریم فرماتے ہیں
04:15کہ میں اس کو جھوٹ شمار
04:16نہیں کرتا ہوں
04:17دوسرا سرکاہ نے فرمایا
04:19کہ ایک شخص اپنی زوجہ سے بات کرے
04:21اور ایک عورت
04:22اپنے شہر سے بات کرے
04:24یعنی مراد یہ
04:25کہ ایسی صورت میں
04:26کہ کوئی گری
04:27میہ بی بی میں جھگڑا ہو گیا
04:29تو عورت کے پاس جا کر
04:30شہر کے بارے میں بتائے
04:32کہ بی بی وہ تو
04:32تم سے بہت پیار کرتا ہے
04:33تمہارا اچھے الفاظ میں ذکر کر رہا تھا
04:35اپنی غلطی پر
04:37تھوڑا بہت نادیم بھی ہے
04:38اور وہ تو چاہتا ہے
04:39کہ صلح ہو جائے
04:41لیکن وہ تمہاری طرح سے
04:43ڈر رہا ہے
04:43کہ شاید تم لوگ منہ کر دو
04:45ایسی یہاں پر
04:46اس کی باتیں
04:47وہاں جا کر
04:48اسی طرح کہہ دے
04:49تو دونوں ایک دوسرے سے درہ
04:51ایک طرح دل مائل ہوں
04:53تو یہ بھی جھوٹ شرن جائز ہے
04:54اور تیسرا فرمایا ہے
04:56کہ ایک شخص جنگ میں
04:57کوئی بات کرے
04:58یعنی حالت جنگ میں
05:00تھوڑا بہت جھوٹ بولنا
05:01جیسے
05:02کفار ہیں سامنے
05:04تو کہہ دیا جائے
05:05کہ یہ بہت بڑا
05:06ہمارا لشکر آ رہا ہے
05:07ہمارے پاس جنگی تیاریاں
05:08بہت زیادہ ہیں
05:09تاکہ سامنے والے پر
05:10روپ قائم ہو
05:11اس طریقے کے جھوٹ بھی
05:12شرن جائز ہوتے ہیں
05:14لیکن ہم نے پہلے بھی
05:15آپ کو اشارہ کیا تھا
05:17کہ جب آپ فریقین میں
05:18صلح کروائیں
05:18تو اتنا زیادہ
05:20مبالغہ آرائی نہ کر دیں
05:21اتنے موں بھر بھر کے
05:22جھوٹ نہ بھول دیں
05:23کہ کبھی وہ آپس میں ملیں
05:25تو آپ کا جھوٹا ہونا
05:27ظاہر ہو جائے
05:28اور وہ آپ سے ہی
05:29نفرت کرنے لگیں
05:31کیونکہ یہ عموماً ہوتا ہے
05:33کہ میرے بی بی میں
05:34اگر آپ نے صلح کروانے کے لیے
05:36اس طرح کے الفاظ کہے
05:37اور وہ آباد میں ملے
05:38تو یہ مرد بھی کم نہیں ہوتے خیر
05:41لیکن عورتوں میں زیادہ
05:42تانہ زنی کی عادت ہوتی ہے
05:44تو کوئی بات ہوئی
05:45تو عورت نے جتا دیا
05:47کہ میں تو نہ آتی
05:48اگر تم مر نہ رہے ہوتے
05:49تم اگر تڑپ نہ رہے ہوتے
05:55نہ آتی
05:56اب جواب میں اس نے کہا
05:57میرے تو کچھ بھی ایسا نہیں ہوا تھا
05:58کہہ لیں گے نہیں
05:59فلن نے تو تمہارے بارے میں
06:00ہی بتایا تھا
06:01تو شوہر نے الٹا کہہ دیا
06:02کہ وہ تو تم تھی
06:03جو تمہاری وجہ سے
06:04میں نے صلح کر لی
06:06تم مر رہی تھی آنے کے لیے
06:08فلان فلان
06:08اب پتہ سارجی پھڑا ہو گیا
06:10اور معلوم ہوا کہ
06:11جو بیچ میں تھا بیچارہ دونوں نے
06:13اس کو پکڑ لیا
06:13کہ تنہیں جھوٹ کیوں بولا
06:15تو یوں بعض وقت
06:16جو صلح کروانا چاہتا ہے
06:18اور سامنے والوں کو
06:20مسائل معلوم نہیں ہوتے
06:21تو وہ فس جاتا ہے
06:22تو ذرا احتیاط کے ساتھ
06:24علماء نے فرمایا
06:25کہ ایسے موقعوں پر
06:26سریح جھوٹ بولنے کے بجائے
06:28اس طرح کے جملے بولیں
06:30جو زو معنی ہوتے ہیں
06:31جس کے دو مفہوم نکلتے ہیں
06:33تاکہ بعد میں اپنی جان
06:34چھوڑانے میں آسانی رہے
06:37چنانچہ
06:38صلح بہرحال افضل ہے
06:40ضروری نہیں ہے
06:41کہ جھوٹ بولا جائے
06:42یہ تو آخری منزل ہوتی ہے
06:43اگر آدمی سمجھتا ہے
06:45کہ میں اور کوئی
06:46اچھی باتیں کہہ کر
06:47کسی کا احسان یاد دلا کے
06:48جیسے قریب کر لینا
06:49کہ دیکھو یارب جگڑا ہو گیا
06:51تو ختم کر دو
06:51انہوں نے کتنے احسان کیے تھے
06:53تمہارے اوپر
06:53فلا وقت میں
06:54فلا وقت میں
06:55فلا وقت میں
06:56اسی طرح ان کے کوئی ایسی چیز ہے
06:58تو بیان کر کے
06:58محبت پیدا کرنا اچھا ہوتا ہے
07:02اگلا باب ہے
07:07سردار اپنے ساتھوں سے کہے
07:08کہ ہمیں صلح کرانے کے لیے
07:10لے چلو
07:11حدیث نمبر ہے
07:12دو ہزار چھ سو تیرانوے
07:14اور حضرت سحل بن سعد
07:16رضی اللہ تعالیٰ نے
07:18بیان کرتے ہیں
07:19کہ اہل قبع
07:20آپس میں لڑ پڑے
07:22کوئی مسائل ہو گئے
07:23ان کے اندر کوئی نزہ پیدا ہوا
07:26انہوں نے ایک دوسرے کو
07:27پتھر مارے
07:28تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
07:30کو اس کی خبر دی گئی
07:32تو آپ نے فرمایا
07:32کہ چلو
07:33ہم ان کے درمیان
07:34صلح کروائیں
07:37تو یہ سربرہ
07:38یا امام
07:39جو بھی قوم کا لیڈر ہو
07:40وہ قوم کو ملائے
07:41یہ اس کی ذمہ داری ہوتی ہے
07:43کیونکہ جب تک
07:44مسلمان مضبوط رہیں گے
07:46اتفاق اور اتحاد سے رہیں گے
07:48ان کے مابین
07:49اختلاف ظاہر نہیں ہوگا
07:51تو طاقت قائم رہے گی
07:53اور یہ طاقت
07:54اتحاد و اتفاق کی سامنے والوں پر
07:56روب قائم کرتی ہے
07:57آپ نے دیکھا ہوگا
07:59کہ اگر ایک خاندان کے بیٹے
08:01آپس میں لڑ پڑیں
08:02ایک باپ کے دو تین بیٹے ہیں
08:04لڑ پڑیں
08:05تو بعض وقت پورا خاندان جو ہوتا ہے
08:07جو جیلس لوگ ہوتے ہیں
08:09جو شرارتی قسم کے ہوتے ہیں
08:11ایک کو اپنے ساتھ ملائے لیں گے
08:12دوسرا دوسرے کو ملائے لے گا
08:14تیسرا تیسرے کو ملائے لے گا
08:15اور ایک دوسرے کے خلاف
08:17زہر ڈالنا شروع کریں گے
08:18اور ان کی طاقت جاتی رہے گی
08:20ہم نے اپنے آنکھوں سے دیکھا ہے
08:22کہ چلتا ہوا کاروبار ہے
08:24والد صاحب بیٹے سب مل کر کر رہے ہیں
08:26تو ماشاءاللہ ترقییں ترقییں ہیں
08:28لیکن اس کے بعد ایک کا اختلاف ہوا
08:30دو کا تین کا تو مطالبے شروع ہو گئے
08:31کہ جی کاروبار ڈیوائیڈ کریں
08:33اور جب کاروبار ڈیوائیڈ کیا
08:35تو سب کی طاقت ختم ہو گئی
08:36کیونکہ وہ تھوڑے تھوڑے حصوں میں تقسیم ہو گیا
08:38اور وہ نیچے آ گئے
08:40اور دوسرے لوگ اوپر آ گئے
08:42تو یہ سمجھنا چاہئے
08:44اپنے بچوں کو خصوصاً یہ تعلیم دیں
08:46کہ بیٹا اختلاف میں
08:48جھگڑے میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا
08:50دوسرے ہماری کمزوریوں سے فائدہ اٹھائیں گے
08:54ایسے آپ نے دیکھا ہوگا
08:55کہ اگر کسی کے کچھ بیٹے ہیں
08:57یا خاندان کے افراد مل کر رہتے ہیں
08:59برادری سسٹم بہت اچھا ہے
09:01تو دوسرے ان کے قریب آتے ہوئے
09:03جھگڑا کرتے ہوئے
09:04نائنصافی کرتے ہوئے ڈھڑتے ہیں
09:06کہ یہ سب میں ایکہ ہے
09:08سارے نکل آئیں گے
09:09لیکن جب آپس میں جھگڑا خود ہو جائے
09:11تو پھر وہ چن چن کے مارا جاتا ہے
09:14اور انتقام لیا جاتا ہے
09:16یا طاقت کی کمزوری کی بنا پر
09:18مسائل پیدا ہوتے ہیں
09:19اس لئے چاہے دینی حلقہ ہو
09:22چاہے دنیاوی حلقے ہو
09:23چاہے کاروبار ہو
09:24چاہے اور کوئی معاملہ ہو
09:26دوستیاں ہو رشتہ داریاں ہو
09:28اگر طاقت کو مشتمعیں رکھنا ہے
09:31تو صلح کر کے رکھنی ہوگی
09:33اتحاد و اتفاق رکھنا ہوگا
09:35ورنہ گھر ٹوٹ پوڑ جاتا ہے
09:37کیونکہ جب ہم نہ اتفاقی میں آتے ہیں
09:39تو نہ صرف دل دور ہو جاتے ہیں
09:41ہم منافق بن جاتے ہیں بعض اوقات
09:44سامنے سے مٹھے مٹھے الفاظ کہہ رہے ہیں
09:46دل کے اندر نفرتیں بھری ہوئی ہیں
09:47اور ہم انتقام بھی لے لیتے ہیں
09:50جوائنٹ فیملی سسٹم کے اندر
09:51بہت ایسا دیکھا گیا ہے
09:53اور اس کے بعد پھر ایک دوسرے کی
09:55مدد نہ کرنا
09:55بلکہ اگر کوئی تنزلی کا شکار ہو رہا ہے
09:59سگا بھائی کیوں نہ ہو
10:00تو کہتے ہیں اچھا ہے اس کو ذرا نیچے آنے دو
10:02جب یہ مہتاج ہو کے ہاتھ پھیلائے گا
10:04تب دیکھیں گے
10:05تو اس کی مدد نہیں کرتے ہیں
10:07اور یہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں
10:09اور برکتیں گھر کی ختم ہو جاتی ہیں
10:12بعض وقت بھائی سب مل کر صحیح چل رہے ہوتے ہیں
10:14ہر جگہ ایسا نہیں ہوتا
10:16ماذا اللہ
10:16میں کسی پہ الزام نہیں لگا رہا ہوں
10:18لیکن یہ ہوتا ہے
10:19کہ باہر کی جب خواتین آتی ہیں
10:21سب کی شادیاں ہو گئیں
10:22ہر ایک اپنے شہر کا ذہن
10:24دوسرے سے بدزن کرے گی
10:25خراب کرے گی
10:27کہ تم خاری محنت کر رہے ہو
10:28کاروبار تم لے کے چل رہے ہو
10:30تمہارے بھائی تو بیٹھ کے کھا رہے ہیں
10:31اور فلان فلان
10:32حالانکہ ان کا بھی کوئی نہ کوئی کردار
10:34ضرور ہوتا ہے
10:35حتی کہ بڑا بھائی اعلان کر دیتا ہے
10:37کہ بھئی تم لوگ تو ٹائم زیادہ نہیں دیتے
10:38سارا دماغ میں خرچ کرتا ہوں
10:40تم یہ لے کر علیدہ ہو جاؤں
10:42چلیں علیدہ ہو گئے
10:43آپ تو ترقی کر گئے
10:45ان دو بھائیوں کا کیا ہوگا
10:47جن کو اتنا تجریبہ نہیں ہے
10:48آپ نے ان کو بالکل فٹ پات سے لگا دیا
10:50کیا فائدہ ہوا
10:51تو یہ بھی بڑی خرابی ہوتی ہے
10:53کہ ہم بعضوں کو اپنا سمجھ کر
10:55ان کے مشورے قبول کر لیتے ہیں
10:57حالانکہ وہ قبول کرنے کے قابل نہیں ہوتے ہیں
11:00مشورہ ضرور لیں
11:01خواتین سے بھی لیں
11:03یہ بات بھی غلط ہے
11:04کہ جو عورت سے کبھی مشورہ نہ لو
11:05بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں
11:07جو مردوں کے ذہن میں نہیں آتی
11:09الہامات
11:10مشورہ الہام کرنا
11:12یہ اللہ تبارک و تعالی کی طرف سے بھی ہوتا ہے
11:14تو ضروری نہیں ہے
11:15کہ مرد کو ہی اچھا مشورہ الہام فرمائے گا
11:18عورت کو بھی الہام فرما دیتا ہے
11:20لیکن غور تفکر کرنا مرد کا کام ہے
11:23اسے سوچنا چاہیے
11:24کہ یا شیخ اپنے اپنی دیکھ نہ کریں
11:26اگر آپ کسی کے محتاج نہیں ہے
11:28اور کوئی آپ کا محتاج ہے
11:30تو محتاج کو سہارہ دے دو
11:31نہ کہ اس کو دھکا دے کے
11:33اپنے پاس سے جدہ کر کے
11:34اس کی زندگی کو
11:36انتہائی تنگی میں مبتلا کر دو
11:38کہ اب آپ تو بیٹھ کے سکون سے
11:40کھا رہے ہیں پی رہے ہیں
11:41تو آپ کے بچے اچھے سکولوں میں جا رہے ہیں
11:44کاروبار بھی اچھا چل رہا ہے
11:45لیکن دوسرا بیچارہ تباہ ہو گیا
11:47حالانکہ آپ ملا کر رکھتے ہیں
11:49آپ کو بھی کوئی بینیفٹس ہوتے ہیں
11:51اس کے
11:51لیکن آپ نے اس کو خراب کر دیا
11:53اور مشورہ کس نے دیا تھا
11:54قریب ترین ہستین ہے آپ کی زوجہ نے
11:56یا آپ کو اور رشتہ دار
11:58یا قریب دوست
11:59ایسے کوئی مشورے قبول نہ کریں
12:01ہاں کریں تو پھر اچھی طرح پہلے
12:03غور تفکر کریں
12:04اگر واقعی وہ کوئی ویلڈ ریزنز ہیں
12:06تو پھر الگ باتیں
12:07ورنہ اشتناب کرنا چاہیے
12:10دوسری بات یہ ہے
12:11کہ جو لیڈر ہوتا ہے
12:12اس کا کام ہوتا ہے
12:13اپنے متبعین کو جمع رکھنا
12:16ان کو درمیان صلاح کرانا
12:18لہذا ٹیچرز اگر دیکھیں
12:19کلاس میں بچے آپس میں لڑ پڑے ہیں
12:22وہ صلاح کروائیں
12:23اگر پیر صاحب دیکھتے ہیں
12:24کہ مردین میں جھگڑا ہو گیا
12:26وہ صلاح کروائیں
12:27کوئی عالم دین
12:28مفتی صاحب ہیں
12:30ان کے متبعین ہیں
12:31جیسے آتے ہیں
12:32صحبت میں بیٹھتے ہیں
12:33درس میں بیٹھتے ہیں
12:34جھگڑا ہو گیا
12:34ان کو اپنا کردار
12:36ادا کرنا چاہیے
12:37اور سنت کی نیت سے کرنا چاہیے
12:39کہ ہمارے پیارے آقا
12:41صلی اللہ علیہ وسلم کی
12:42سنت کریمہ ہے
12:44اگلے حدیث کی طرف آتے ہیں
12:46دو ہزار چیسو چورانوے حدیث پانک
12:48سیدہ عائشہ صدیقہ
12:50رضی اللہ تعالی عنہ
12:51نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا
12:55آیت یہ ہے
12:56کہ اگر کسی عورت کو
12:57اپنے خاون سے
12:59زیادتی
13:00یا بے رغبتی کا خدشہ ہو
13:02سورہ نساء آیت نمبر ایک سو اٹھائیس
13:06تو یہ خدشہ ہو تو کیا کرے
13:08یعنی وہ
13:08صلح کی طرف آ جائے
13:10اپنے کچھ حقوق چھوڑ دے
13:11یہ آیت کا مفہوم ہے
13:13تو سیدہ عائشہ بتاتی ہے
13:14کہ اس آیت میں
13:15ایسا مرد مراد ہے
13:17جو اپنی بیوی میں
13:19ایسا وصف دیکھے
13:20جو اسے پسند نہ ہو
13:22مثلا بڑھاپا
13:23یا کوئی اور وصف
13:25اور وصف سے مراد جیسے
13:27زوجہ کا بانج ہونا
13:29کہ ان کے بچہ نہیں ہو سکتا
13:31اسے ایسا ہوتا ہے بعض اوقات
13:32اور وہ اس سے
13:33الگ ہونے کا ارادہ کرے
13:35تو عورت اس سے کہے
13:36کہ مجھے اپنے نکاح میں رکھو
13:38اور مجھے جو چاہے دیتے رہو
13:40سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ نہ فرماتی ہے
13:43کہ جب وہ دونوں اس پر راضی ہو جائیں
13:46تو کوئی حرج نہیں ہے
13:49تو یہ بھی ایک صلح کی صورت ہوتی ہے
13:51کہ بعض اوقات
13:53میہ بیوی میں کوئی ایسے مسائل ہو جاتے ہیں
13:55کہ مثلا شوہر بیوی سے
13:58بے رغبتی محسوس کر رہا ہے
13:59اس کا مایلان کسی اور طرف ہے
14:01یا اس کی دو بیویاں ہیں
14:02ایک کی طرف زیادہ ہے
14:04دوسری کی طرف بہت ہی کم ہے
14:05اور وہ چاہتا ہے
14:07کہ میں بے انصافی
14:09یا عدل کے خلاف زندگی نہ گزاروں
14:11تو میں اس کو طلاق دے دوں
14:13تو اب یہ عورت
14:14چاہے تو صلح کر سکتی ہے
14:16اور صلح کرنے کے اندر
14:17اس کو اپنے کچھ حقوق چھوڑ دیں
14:20پڑھیں تو چھوڑ دیں
14:21کہ مثال کے طور پر چلیں
14:23آپ مجھے طلاق نہ دیں
14:25مثلا اس کے بچے نہیں ہو رہے تھے
14:26اس نے دوسری شادی کی اس سے اولاد ہو گئی
14:28اب یہ چاہتا ہے
14:29میں اس کو چھوڑ دوں
14:30تو یہ منع کریں
14:31کہ مجھے چھوڑیں نہیں
14:31آپ مجھے گھر میں رکھیں
14:33جو کھانا پینہ دیتے رہیں
14:34دیتے رہیں
14:35آپ میرا حق ادا نہ کریں
14:36میں اپنے حق معاف کر دیتی ہوں
14:38حقوق زوجیت
14:39اور اسی طریقے سے
14:41میں اپنی باری چھوڑ دیتی ہوں
14:43آپ میرے پاس کم رہیں
14:45اپنے دوسرے زوجہ کے پاس زیادہ رہیں
14:46یعنی اس طرح صلح کی جا سکتی ہے
14:50اور اس میں اگر عورت راضی ہو جائے
14:52تو اب شہر پر کوئی وبال نہیں ہے
14:56ورنہ اگر عورت راضی نہیں تھی
14:58تو پھر تو ایسا نہیں کر سکتا
14:59کہ دو بیویاں ہیں
15:00تو ایک کے پاس پڑا رہے
15:02اور دوسری کے پاس بہت ہی کم جائے
15:03یہ نائنصافی ہے
15:04لیکن خود عورت اگر اپنے حق معاف کر دے
15:07تو بالکل کرنے کا حق رکھتی ہے
15:11تو علماء نے کچھ باتیں بیان فرمائی ہیں
15:13جو میں آپ کو عرض کرتا ہوں
15:14شروعات کے اندر ہیں
15:16انہوں نے ایک آیت بیان کی
15:18جس کی جو یہ تو تھی
15:19میں نے تھوڑا سا حصہ ذکر کیا
15:21آیت پوری یہ ہے
15:22اگر کسی عورت کو اپنے خاون سے زیادتی
15:25یا بے رغبتی کا خدشہ ہو
15:26تو ان دونوں پر کوئی مزائقہ نہیں
15:28کہ وہ آپس میں صلح کر لیں
15:31اور صلح کرنا بہتر ہے
15:33اور دلوں میں مال کی حرص رکھی گئی ہے
15:36اور اگر تم نیک کام کرو
15:38اور اللہ سے ڈرتے رہو
15:39تو بے شک اللہ تمہارے کاموں کی
15:41خبر رکھنے والا ہے
15:42یہ پوری آیت سورہ نساء ایک سوٹھائیس
15:45اس کے بارے میں علماء نے فرمایا
15:47کہ اس آیت کا معنی یہ ہے
15:48کہ اگر عورت کو متعدد قرائن سے
15:51معلوم ہو جائے
15:52کہ اس کا شہر اس کی طرف رغبت نہیں کرتا
15:55مثلا وہ اس کے ساتھ
15:57محبت آمیس سلوک نہ کرے
15:58اس کی ضروریات کا خیال نہ رکھے
16:01اس سے باتچیت کم کر دے
16:03یا بالکل نہ کرے
16:04یا اس کے ساتھ عمل زوجیت نہ کرے
16:07خواہ اس کی وجہ
16:08اس کی قبول صورتی ہو
16:10کہ زیادہ خوبصورت نہیں ہے
16:11یا وہ زیادہ عمر کی ہے
16:13یا اس کے مزاج میں شہر کے ساتھ
16:16ہم آہنگی نہ ہو
16:17یا وہ مالی اعتبار سے شہر کی
16:20مایار کی نہ ہو
16:21یا جہیز کم لائی ہو
16:23اور اب عورت کو یہ خطرہ ہو
16:25کہ اگر یہی ضرورت حال رہی
16:26تو شہر اس کو طلاق دے کر
16:29الگ کر دے گا
16:30اور عورت یہ چاہتی ہو
16:32کہ نکاح کا بندھن قائم رہے
16:34تو اس میں کوئی مزائقہ نہیں
16:37کہ عورت اپنے بعض حقوق کو
16:39ساقط کر دے
16:40یعنی گرا دے
16:41اور شہر کو طلاق دینے سے منع کرے
16:44مثلا وہ اس کو دوسری شادی کی اجازت دے دے
16:46اور اگر اس کی دوسری بیوی ہو
16:48جس سے شہر کو زیادہ دلچسپی ہو
16:50تو یہ عورت اپنی باری کو ساقط کر دے
16:53یا اس کا جو خرچ شہر کے ذمہ ہے
16:56نانفقہ
16:57کہتوں چلو تم مجھے خرچہ بھی نہ دو
16:59میں اپنی جوب خود کرلوں گی
17:01اسے ساقط کر دے
17:02اور اس طرح شہر کے ساتھ صلاح کریں
17:04یوں شہر اپنی پسند کی بیوی کے ساتھ
17:07وقت گزارے گا
17:08اور یہ عورت متلقہ ہونے سے
17:10بج جائے گی
17:12کہتے ہیں کہ اس کی تائید میں
17:14حضیل حدیث بھی ہے
17:16حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما
17:19اس کے راوی ہیں وہ کہتے ہیں
17:21کہ حضرت ام المملین
17:22سعودہ بنت زمعہ
17:24رضی اللہ تعالی عنہا کو
17:26جب یہ خطرہ محسوس ہوا
17:28کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
17:30ان کو طلاق دے دیں گے
17:31کیونکہ آپ ذرا عمر رسیدہ بھی تھی
17:34اور دیگر مسائل تھے
17:35تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے
17:38ارز کیا کہ آپ مجھے
17:39طلاق نہ دیں
17:41اور مجھے نکاح میں برقرار رکھیں
17:43اور میری باری حضرت عائشہ کو دے دیں
17:47جب سرکار نے مان لیا اور ایسے ہی کیا
17:49تب ہی آیت نازل ہوئی
17:50تو اس کا مطلب ہے کہ عورت اپنے کچھ حقوق
17:52چھوڑ کر صلاح کر سکتی ہے
17:54اللہ تعالی ہمیں سمجھنے کی توفیق
17:56عطا فرمائیں آمین
17:57وآخر دعوانا
17:58ان الحمدللہ
18:00اب العالمین
18:00اللہ حمد صلی اللہ محمد والا آنہی و صحبہی و صلی اللہ
Comments

Recommended