Skip to playerSkip to main content
Har waqt bolna zaroori nahi hota — kabhi kabhi khamoshi bhi ibadat hoti hai. Is gehre aur hikmat bhare bayan mein Muhammad Raza Saqib Mustafai sabr, khamoshi aur apne alfaaz par control rakhne ki ahmiyat ko bohat hi khoobsurat andaaz mein bayan karte hain.

Yeh iman afroz bayan humein sikhata hai ke kam bolna, ghussa control karna aur sabr se kaam lena insaan ko sukoon aur kamyabi deta hai. Agar aap apni zindagi mein sukoon aur behtari lana chahte hain to is bayan ko zaroor sunein aur dusron tak share karein.

#Sabr #Khamoshi #MuhammadRazaSaqib #IslamicBayan #IslamicReminder #DeenKiBatein #MotivationalBayan #UrduBayan #LifeLessons

Category

📚
Learning
Transcript
00:00Allah تعالیٰ بندوں کو آزماتا ہے
00:02پرخ کرتا ہے
00:03امتحان لیتا ہے
00:04ترہ ترہ کی نمتوں سے
00:05اسے مالا مال کرتا ہے
00:07کاروبار وسیع ہو جاتا ہے
00:08اس کے لئے دولت کے امبار لگ جاتے ہیں
00:10دنیاوی مال و اسباب
00:12اس کے لئے جمع ہو جاتا ہے
00:14منصب ملتا ہے
00:15احدہ ملتا ہے
00:16اقتدار ملتا ہے
00:17شان و شوقت ملتی ہے
00:19لوگوں کے دلوں میں اس کا گھر بنتا ہے
00:21تو اس کے ذہن میں یہ بات آتی ہے
00:24کہ میرے رب نے
00:24مجھے جو عزت دی ہے
00:26میں اس کا استحقاق رکھتا تھا
00:29اور میں اگر اس لائق نہ ہوتا
00:31تو مجھے کیوں نوازا جاتا
00:33تو گویا میرا رب میرے اوپر راضی ہے
00:36اور پھر جب محفل نات میں
00:37مہمانی خصوصی بھی بن گئے
00:39تو پھر تو ان کے نفس کو اور تسکین مل گئی
00:42جب پیر صاحب نے بھی ان کو ہی اہمیت دی
00:45تو پھر انہیں لگا کہ واقعہ ہی
00:47ہمارا رب ہم پر راضی ہی ہے
00:49تبی تو ہمیں مذہبی طبقوں کے اندر بھی
00:52اہمیت مل رہی ہے حالانکہ وہ جانتے ہیں
00:55کہ ہم نے یہ دولت کیسے حاصل کیے
00:56وہ جانتے ہیں کہ میں سجدے کی توفیق نصیب نہیں ہے
00:59وہ جانتے ہیں کہ آج اس محفل میں
01:02مہمانی خصوصی سے تو کل ہم شراب خانے میں تھے
01:04انہیں پتا ہے لیکن اس کی طرف توجہ نہیں جاتی
01:07سوچتے نہیں ہیں بلکہ وہ یہ سمجھتے ہیں
01:10کہ ہمیں یہ جو عزت مل رہی ہے
01:12یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے
01:14ہماری کسی قبولیت کی وجہ سے یہ عزت
01:17حالانکہ یہ ان کی آزمائش تھی
01:19ان کا امتحان تھا دوسری بات
01:21وَأَمَّا اِذَا مَبْتَلَا ہو
01:23اور جب اللہ اس کو آزماتا ہے
01:25فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَ
01:27اور اس کے رزق کو تنگ کرتا ہے
01:30اس کو آزمائش کی بھٹی میں ڈالتا ہے
01:33فَيَقُولُ رَبِّي أَحَانَا
01:35تو پھر وہ چیخ اٹھتا ہے
01:36میرے رب نے تو مجھے زلیل کر کے رکھتا ہے
01:39بیماری آجائے
01:40ابتلا میں مبتلا ہو
01:42تو وہ کہتا ہے کہ
01:43میرے رب مجھ سے ناراض ہو گیا
01:45تو یہ انسان کی قج فکری ایسا نہیں ہے
01:48کسی شخص کو دولت کا دیا جانا
01:51یہ اللہ کی رزا کی دلیل نہیں ہے
01:54اور کسی شخص کو غربت کے امتحان میں ڈالا جانا
01:58یہ اللہ کی ناراضگی کی دلیل نہیں ہے
02:00حضرت امام راضی نے لکھا ہے
02:02کہ مکہ سے لے کر
02:03طائف تک ستر ایسے نبیوں کی قبریں ہیں
02:06جن کی وفات صرف بھوک کی وجہ سے
02:10تکلیفوں میں
02:10آزماشوں میں
02:11امتحانوں میں
02:12ابتلاوں میں
02:13اس کے بندے رہے ہیں
02:14میرے اور آپ کے آقا و مولا حضور ختمی المرتبت کے گھر میں
02:18کبھی برابر تھا
02:19چولہ نہیں جلتا
02:20کبھی کھانے کے لیے کچھ میسر نہیں ہوتا تھا
02:22پانی پی کے
02:23اور خجور کھا کے گزارا ہوتا تھا
02:26تو یہ تو کوئی دلیل نہیں ہے
02:27اللہ کی رضا کی دلیل کیا ہے
02:30نیکی کی توفیق
02:31اور اللہ کی ناراضگی کی دلیل کیا ہے
02:33کسی شخص کا گناہ پر دلیل ہو جائے
02:36کوئی بندہ گناہ پر دلیل ہے
02:38اور معصیت
02:40نافرمانیاں
02:41اللہ کے حکموں کو توڑنا
02:42اس کا مزاج ہے
02:43تو سمجھو اللہ اس پر ناراض ہے
02:44اور اگر کسی کو
02:46اللہ نے سجدے کی توفیق دی ہے
02:48کسی کو
02:49اللہ میں اپنے راستے میں
02:50خلوص کے ساتھ
02:51خرچ کرنے کی توفیقات
02:53عطا کی ہیں
02:54حلال حرام کی تمیز
02:55اس کو عطا کر دی گئی ہے
02:57تو پھر سمجھ لو
02:57کہ اللہ اس پر راضی ہے
02:58باقی رہی بات
03:00کہ کسی کو دولت
03:01کا زیادہ دیا جانا
03:03کسی کو کم دیا جانا
03:04تو یہ آزمائش ہے
03:06اب جو اہل ایمان ہیں
03:07اللہ کے بندیاں وہ کیا کرتے ہیں
03:09جب دولت زیادہ ملتی ہے
03:11اقتدار ملتا ہے
03:12منصب ملتا ہے
03:13تو برفش
03:14اللہ کے شکر کے دائرے میں آ جاتے ہیں
03:16اور جب مصیبت آتی ہے
03:18تکلیف آتی ہے
03:19عذیتوں میں مبتلا ہوتے ہیں
03:20تو پھر
03:21وہ یہ نہیں کہتے ہیں
03:22کہ ہمارے رب نے ہمیں ظلیل کر دیا
03:24بلکہ
03:25وہ اس پر صبر کرتے ہیں
03:27اور اللہ کے حضور دعائیں کرتے ہیں
03:29التجائیں کرتے ہیں
03:30کہ مالک تُو نے جو
03:31جس آزمائش میں ہمیں ڈالا
03:32ہمیں پورا اترنے کی توفیق
03:35نصیب فرما
03:35ہماری اس فید پوشی کا بھرم نہ ٹوٹے
03:37اور ہمیں
03:39اس مشکل وقت سے
03:40بچانا
03:41کہ جب
03:42ہماری یہ غربت
03:43ہمیں کفر تک لے جائے
03:44اور جب ان کو دولت مندی دی جاتی ہے
03:47تو وہ ڈرتے ہیں
03:47کہ اللہ احسان ہو
03:48کہ یہ دولت ہمیں فیرون بنا دے
03:50یہ دولت ہمیں نمرود بنا دے
03:51ہمارے اندر بخل پیدا ہو
03:53تقبر پیدا ہو
03:54ہمارے اندر غرور پیدا ہو
03:55تو وہ
03:56اس حالت کے اندر
03:58اللہ تعالیٰ کا شکر
03:59یا دوسری حالت میں
04:00اللہ کے حضور صبر کی توفیق مانگتے ہیں
04:02اور صبر کے ساتھ
04:04اپنی زندگی گزار دائیں
04:05راکہ کریم علیہ السلام نے
04:06ارشاد فرمایا کہ
04:07کون ہے
04:08جو مجھ سے
04:10یہ کلمات لے
04:12اور ان پر خود عمل کرے
04:14اور پھر آگے ان لوگوں تک پہنچائے
04:16جو ان چیزوں پر عمل کرے
04:19تو بہت سارے لوگ
04:21جھولیاں پھیلا کے آگے بھڑ جاتے
04:23لیکن علم کے لیے
04:24جو حص حضرت ابو حریرہ کے سینے میں تھی
04:27اس وجہ سے انہوں نے پہل کی
04:29اور آگے بھڑ کے عرض کی
04:31حضور یہ خیرات میری چھولی میں ڈال دیجئے
04:33میں خود بھی عمل کروں گا
04:35اور ایسے لوگوں تک پہنچا ہوا بھی
04:37جو ان پر عمل پہ رہا ہوں
04:39تو کہتے ہیں حضور نے میرا ہاتھ پکڑ لیا
04:41اور پانچ چیزیں گنوائیں
04:43پہلی بات میرے حضور نے اشار فرمائی
04:49اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے بچ جاؤ
04:52تم لوگوں میں سب سے بڑے عبادت گزار بن جاؤ گے
04:56نیکی کرنا بہت اہم ہے
04:58لیکن یہاں جو تعلیم دی گئی
05:01وہ گناہ سے بچنے کی ہے
05:03ایک شخص رات کو سو نفل پڑ لیتا ہے
05:06لیکن صبح اٹھ کے کسی کا حق غصب کرتا ہے
05:09کسی کو گالی دیتا ہے
05:10جھوٹ گولتا ہے
05:12کم تولتا ہے
05:13کم نابتا ہے
05:14اللہ کے حقام کو توڑتا ہے
05:17اور دوسرا شخص ساری رات
05:20اشار کی نماز کے بعد سویا رہا
05:22اور دن کو فجر کے بعد
05:24اس نے جھوٹ نہیں بولا
05:26کسی کو تنگ نہیں کیا
05:28اللہ کی مخلوق کو ضرر نہیں پہنچایا
05:30تو شریعت
05:33ایسے شخص کو پسند کرتی ہے
05:35جو اللہ کی حرام کرتا چیزوں سے بچ جائے
05:39نیکی کی توفیق مل جائے
05:41نفلی عبادات میسر آ جائیں
05:44تو بڑی بات ہے
05:45لیکن اس سے بڑی بات یہ ہے
05:48کہ اللہ کی حرام کرتا چیزوں سے بچا جائے
05:51دوسری بات اشارت کی
05:59اللہ کی تقسیم پہ راضی ہو جائے
06:03لوگوں میں سب سے بڑا غنی تو ہوگا
06:06دولت کی کسرت سے بندہ غنی نہیں بنتا
06:11کتنے دولت مند ہیں
06:13نفس کی کمینگی ہی ختم نہیں ہوتی
06:16تو غنی اس وقت بندہ بنے گا
06:19جب اللہ کی تقسیم پہ راضی ہوگا
06:22اللہ نے جس حالت پہ رکھا
06:24اس حالت پہ خوش ہے
06:25کہ میرے مالک نے مجھے جو دے دیا
06:28یہ میرے لئے اس نے مناسب جانا
06:30تو بس میں اس پہ راضی ہوں
06:33میں اس پہ خوش ہوں
06:34اور اگر انسان
06:35یہ نہیں چاہتا اور نہیں کرتا
06:39تو جہاں بھی ہوگا وہ مطمئن
06:41نہیں ہوگا
06:42پھر ارشاد فرمایا
06:53وَأَحْسِنْ اِلَا جَعْرِكَ
07:13تو آپ کے ایمان کی قسوٹی یہ ہے
07:17آپ کے مومن ہونے کا مایار یہ قرار دیا گیا
07:21کہ آپ اپنے ہمسائیوں کے ساتھ کیسے ہو
07:24چوتھی چیز
07:25وَأَحِبَّ لِلنَّاسْ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَا تَكُنْ مُسْلِمَا
07:30اگر تم کامل مسلمان بننا چاہتے ہو
07:34تو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو
07:38تمام مخلوق کے لئے وہ پسند کرو
07:40اب کوئی شخص
07:41یہ مزاج اپنی طبع میں راسک کر لے
07:45تو معاشرے کے اندر
07:48شر
07:49فساد
07:50بدمنی
07:51کسی کے حقوق کو غسب کرنا
07:54کسی سے زیادتی کرنا
07:55کسی کا برا چاہنا
07:56سب کوئی ختم ہو جائے گا
07:57اور یہ معاشرہ جنت نظیر بن جائے گا
07:59کہ جو ہم اپنے لئے پسند کرتے ہیں
08:02وہ ہم اپنے دوست کے لئے
08:04بھائی کے لئے
08:05ہمسائے کے لئے
08:06عزیز کے لئے
08:07رشتہ دار کے لئے پسند کریں
08:09اور پانچویں بات
08:10وَلَا تُقْسِرِ دِحْق
08:12فَإِنَا كَسْرَتَ دِحْقِ
08:14تُمِیتُ الْقَلْبِ
08:16ابو حیرہ
08:17زیادہ حسنہ کرو
08:18زیادہ حسنے سے دل مر جاتا ہے
08:21مسکرانہ تو سنت ہے
08:22مسکرانہ حضور کی عادت تھی
08:24جس کی تسکین سے دوتے ہوئے حس پڑھیں
08:27اس تبسم کی عادت تلاک و سالان
08:30مسکرانے کے بعد
08:31اگلا مرحلہ دہق آتا ہے
08:34لیکن دہق کبھی کبھی حضور سے سادر ہوا
08:37اور کہا کہا
08:39یہ حضور علیہ السلام سے
08:41سادر نہیں ہوا
08:42تو کہا کہے سے منع کر دیا گیا
08:46دہق کبھی کبھی ہو
08:48اور تبسم آپ کی زندگی میں شامل ہو
08:51اللہ اس حدیثے پاک کا نور
08:54ہماری روحوں میں اتار دے
08:56اور ہمارے باطن میں چراغان کرے
08:58تو اس موقع سے برپور فائدہ حاصل کر کے
09:01ہمیں ذکر و فکر کی طرف آنا چاہیے
09:03قرآن مجید کی تلاوت
09:06قصرت نوافل
09:07قضا شدہ نمازوں کی ادائیگی
09:09اور دیگر امور خیر بجال آنے چاہیے
09:12اپنے ماں باپ کی صحبت میں بیٹھنا چاہیے
09:15ان کی دعائیں لینی چاہیے
09:17اپنے بچوں کے پاس بیٹھیں
09:19اور
09:20بہت سارے اور امور جو ہم
09:23اپنی مصروفیات کے باعث پورے نہیں کر پاتے
09:26تو یہ موقع ہے ان کو پورا کرنے کا
09:29لیکن اس موقع سے
09:31ناجائز فائدہ حاصل کرتے ہوئے
09:34بہت سارے لوگ
09:36اپنے مکانوں کی چھتوں پہ
09:37دھاتی تاروں کے ذریعے
09:39پتنگیں اڑانے کے شغل میں مصروف ہیں
09:41تو اس شغل سے خدارہ باز آئیے
09:44یہ موقع ایک دوسرے کی مدد کرنے کا ہے
09:48نصرت اور ایانت کرنے کا ہے
09:51نہ یہ کہ مکانوں کی چھتوں پہ کھڑے ہو کے
09:53آپ خونی
09:55کھیل کھیلیں
09:56اور دھاتی دور کے ذریعے سے
09:58لوگوں کے گلے کٹیں
09:59اور لوگوں کو نقصان ہو
10:01تو اس سے خدارہ ہمیں
10:03خود بھی باز آنا چاہیے
10:05اور اپنے بچوں کو بھی اس سے روکنا چاہیے
10:07ان کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے
10:09ویسے بھی علاوہ نے کہا
10:12کہ یہ جو پتنگ کٹتی ہے
10:13تو بچے
10:14اس کو لوٹنے کے لیے دھوڑتے ہیں
10:16اس کے پیچھے
10:18تو عمومی طور پہ ہمارے ہاں
10:20یہ کہا بھی جاتا ہے
10:21کہ میں پتنگیں لوٹ رہا ہوں
10:22یا لوٹ کے لائے ہوں
10:24تو شرعان
10:25وہ اس کی ملک نہیں تھی
10:28تو وہ
10:29کیسے اس کو اپنے پاس لکھ سکتا ہے
10:31تو یہ ایسا گناہ ہے
10:33جس کو گناہ نہیں سمجھا جاتا
10:35اور بچمن میں
10:37معصوم ذہن پر
10:38لوٹ مار کا تصور
10:40اس سے اُبرتا ہے
10:41اور آج وہ پتنگ لوٹ کے لائے ہے
10:44تو کل بڑا ہو کے
10:45بڑا لوٹیرہ بنے گا
10:46تو یہ ماں باپ کو سوچنا چاہیے
10:49کہ پتنگ لوٹنے کا عمل
10:51لوٹنے کی ایک مشک ہے
10:53اور بچہ اس کو کوئی برائی نہیں سمجھ رہا
10:56اور اس کو گناہ نہیں سمجھ رہا
10:58حالانکہ یہ مالے لکھتا ہے
11:00اور اگر کسی نے
11:01پتنگ لوٹ لی
11:03یا دور لوٹ لی
11:04تو ہمارے فقہاں نے لکھا ہے
11:06کہ چھے ماہ تک اس کا اعلان کرے
11:08مالک کے نام ملنے کی صورت کے اندر
11:10اس کو صدقہ کرے
11:11وہ خود پھر بھی نہیں رکھ سکتا ہے
11:13چونکہ یہ مالے لکھتا کے حکم کے اندر ہے
11:15تو عمومی طور پہ
11:17ہم بچے کو بھی شاباش دیتے ہیں
11:18اس کو بڑا دلیر قرار دیتے ہیں
11:20کہ اس نے اتنی پتنگیں لوٹی
11:22آج اس کا یہ کمال ہے
11:23تو میاں یہ بچوں کے
11:26نفسیات کے اندر
11:27لوٹ مار کے
11:28تصور کو راسے کرنے کا
11:29ایک ذریعہ ہے پتنگ
11:31اس نقطہ نظر کی طرف شاید
11:33کبھی کسی کی توجہ نہ گئی ہو
11:35تو اس پہ بھی غور کرنے کی ضرورت ہے
11:37میں تو یہ بات کہا کرتا ہوں
11:39کہ چلتی ہوئی
11:41ٹرالی سے
11:42یا ٹرک سے جو بچہ گنہ
11:45لوٹتا ہے
11:46تو اس کو بچے کی بہادری
11:49اور فنکاری سمجھا جاتا ہے
11:51لیکن آج جس نے گنہ لوٹا ہے
11:53تو کل
11:55وہ ملک لوٹنے لگے گا
11:57کل وہ اور کچھ بھی لوٹے گا
11:59تو یہ
12:00کیونکہ جب برائیاں شروع ہوتی ہیں
12:02تو بڑے پیمانے سے شروع نہیں ہوتی
12:04چھوٹے پیمانے سے شروع ہوتی ہیں
12:06تو پتنگ لوٹنے کا تصور
12:08لوٹ مار کی طرف لے جانے والا ہے
12:09اور دوسرا یہ قاتل دور
12:11کتنے لوگوں کی زندگی کا چراخ
12:13بجھا دیتی ہے
12:14اور کیا گزرتی ہے
12:16ان ماں باپ کے اوپر
12:18جن کا لخت جگر
12:19جن کا بیٹا
12:21ان کے ہاتھوں کے اندر
12:22دم توڑ جاتا ہے
12:23اور گلہ کٹ گیا ایک دور سے
12:25اور ایسے واقعات
12:27ہم کتنے سنتے ہیں
12:28تو میں گزارش کروں گا
12:30کہ
12:31اس خونی کھیل سے
12:32باز رہا جائے
12:34اقلاقیات بھی اجازت نہیں دیتے
12:36ہمارا ملکی قانون بھی
12:38اس کی اجازت نہیں دیتا
12:40اور پنجاب پولیس بھی
12:42اس پر ایکشن کر رہی ہے
12:43ان کے ساتھ تعاون کیجئے
12:45اور اپنے گرد و پیش کے
12:47ماحول کی انہیں خبر بھی کیجئے
12:49خود بھی بچئے
12:51اپنی اولادوں کو
12:52بچوں کو بھی اس سے
12:53محفوظ رکھئے
12:54اللہ آپ کی حفاظت کرے
12:55و السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
12:58قرآن مجید کا
12:59اسلوب بیان دیکھئے
13:01کتنا دل آویز اور خوبصورت
13:03اور مذہب اسلام کی خوبصورتی دیکھئے
13:08غریبوں کو
13:09یتیموں کو
13:10لاچاروں کو
13:11اپاہج اور کمزوروں کو
13:14بیوگان اور
13:15اراملہ اور
13:17مساکین کو
13:18مدد کرنا
13:20ان کی اعانت کرنا
13:21ان کو کھانا دینا
13:23یہ تو سارے لوگ کہتے ہیں
13:24لیکن قرآن نے کتنی خوبصورتی کے ساتھ
13:28ہمیں بتایا
13:29کہ مسئلہ کھانے کا نہیں ہے
13:31مسئلہ ان کو عزت دینے کا ہے
13:34اگر تم ان کو کھانا دیتے ہو
13:36اور تظلیل بھی کرتے ہو
13:38تو تم
13:39اللہ کی رضا کبھی نہیں پاسکتے
13:42اللہ کی رضا تمہیں
13:43تب نصیب ہوگی
13:45جب تم ان کی عزت نفس کا خیال
13:48ان کی تظلیل نہیں کرو
13:50تم ان کی تصویریں
13:52سوشل میڈیا پہ اور اخباروں پہ
13:54ڈال کر کے
13:54ان کی تظلیل کا سبب
13:56اور ذریعہ نہیں بنو گے
13:57تو پھر تمہارا رب
13:59تم سے اعراضی ہے
14:00تو بات کھانا دینے کی نہیں ہے
14:02قرآن کہتا ہے
14:03تم ان کی خدمت کرو
14:04ان کو کھانا کھلاو
14:06لیکن
14:06اس چیز کا
14:07تم میں پہلے خیال ہونا چاہیے
14:09کہ تم
14:10ان کی عزت نفس کو
14:11مجرونہ ہونے دینا
14:20میرے حضور نے فرما
14:21جس شخص میں صدقہ کیا
14:22اور اتنے مخفی انداز میں کیا
14:24کہ جو دائیں ہاتھ نے خرچ کیا
14:27وائیں ہاتھ کو
14:28اس کا پتہ ہی نہ چلا
14:29قیامت کے دن
14:30جب کوئی سایہ نہیں ہوگا
14:31اللہ ایسے شخص کو
14:33اپنے عرش کا
14:33ٹھنڈا سایہ نصیب فرمائے گا
14:35کتنی بڑی بات ہے
14:37قرآن نے
14:38ہمیں سرم و اعلانی
14:39دونوں طریقے بتائے ہیں
14:41اعلانیاں بھی خرچ کر سکتے ہو
14:43مخفی بھی خرچ کر سکتے ہو
14:45لیکن
14:47اعلانیاں خرچ تم تب کرو گے
14:48جب کسی کی
14:49عزت نفس کا مسئلہ نہیں ہوگا
14:52آپ مسجد کے لئے فرم مانگ رہے ہیں
14:54کوئی بات نہیں
14:54یہاں تو کوئی ایسا شخص نہیں ہے
14:56لیکن کسی ایک شخص کو دے رہے ہیں
14:58تو پھر آپ کو اس بات کا خیال کرنا ہوگا
15:01اس وقت پھر
15:02مخفی کرنا تمہارے لئے ضروری ہے
15:04اسی طرح
15:06اگر تم ترغیب کے لئے کر رہے ہو
15:11لیکن اس میں بھی تم یہ خیال رکھو
15:14کہ ترغیب میں بھی
15:15کسی کا دل نہ دکھنے پائے
15:17کسی کی تصویر نہ آنے پائے
15:19ترغیب دلانے کے بہت سارے طریقے ہیں
15:22لیکن ترغیب دلانے سے
15:24قبل اپنے دل سے سوال کر لو
15:26ترغیب کے پیچھے چھپی ہوئی
15:28کہیں ریاکاری تو نہیں ہے
15:29چونکہ ریاکاری جو ہے
15:31یہ کالے پتھر پر
15:33کالے رنگ کی چونٹی چلے
15:35تو اس کی چال سے بھی زیادہ باریک ہے
15:37تو یہ بڑی باریک چال ہے
15:39تو بعض کاتھ بندہ کہتا ہے
15:41میں تو ترغیب کے لئے کر رہا ہوں
15:43لیکن اس کے پیچھے
15:44اس کا نفس کھڑا ہوتا ہے
15:47اور اس کے نفس پہ یہ شاک ہوتا ہے
15:49کہ وہ بغیر
15:51تشہیر کے کرے
15:52تو وہ ترغیب کا نام لے کے
15:55اپنی اس ریاکاری کے اوپر
15:57ترغیب کا پردہ ڈالنا چاہتا ہے
15:59لیکن ہوتی ریاکاری لی ہے
16:00تو یہ اپنے آپ سے پوچھے
16:02بندے کو پتا ہوتا ہے کہ میں کہاں کھڑا ہوں
16:04عقبال نے کہا تھے کہ ملنا سے نہ پوچھ اپنے دل سے پوچھ
16:07تو بندے کو پتا ہوتا ہے کہ یہ ترغیب ہے
16:09یا اس کے پیچھے چھپی ہوئی ریاکاری ہے
16:11اور ریاکاری
16:13تھوڑی سی بھی اللہ کو قابلے کو بول نہیں ہے
16:15حضرت ابو امامہ البالی
16:17رضی اللہ تعالی نے فرماتے ہیں
16:19کہ میں نے حضور سے پوچھا
16:21کہ ایک شخص جہاد کرتا ہے
16:24اور اپنی جانوار دیتا ہے
16:26اور اس کا مقصد
16:27اللہ کے دین کو سر بلند کرنا ہے
16:29لیکن اس کے ذہن میں یہ بھی ہے
16:31کہ چلو میری بہادری کے جھنڈے بھی لگ جائیں گے
16:34تو کیا اس کو اس عمل کا صلح ملے گا
16:37تو میرے حضور نے اشار فرمایا
16:38فلا شعالہ
16:39اسے کوئی عجر نہیں ملے گا
16:40اللہ صرف اسی عمل کو قبول کرتا
16:43جو محض اس کے لئے کیا جائے
16:46تیرے عمل میں اخلاص ہو
16:47تو اس کا عجر کچھ ہو رہا ہے
16:48حور و خیام سے گزر
16:50بادہ و جام سے گزر
16:51جو محض اس کی رضا کے لئے عمل کیا جائے
16:54وہی عمل ہے
16:55حضرت معاذ بن جبل
16:56رضی اللہ تعالیٰ نے حضور کے روزہ نور کے پاس
16:59بیٹھ کے رو رہے تھے
17:00حضرت عمر گزرے
17:01تو رک گئے
17:02کہا معاذ رو رہے ہو
17:04کہا کہ صاحب مزار
17:06کا ایک فرمان یاد آیا
17:07جس نے مجھے رولا دی
17:08تو کہا وہ کیا فرمان تھا
17:10کہا ایک دن حضور نے کہا
17:12تھا تھوڑی سی ریابی شرک ہے
17:14تھوڑی سی ریابی شرک ہے
17:16تو ضرور رکیے
17:19آپ ترغیب کا نام لے رہے ہیں
17:21کہ میں ترغیب دینے کے لیے کہا رہا ہوں
17:23لیکن ذرا ایک لمحے کے لیے
17:26رکھ کے اپنے آپ سے سوال کر لیجئے
17:29ترغیب کے پردوں کے پیچھے
17:31چھپی ہوئی کہیں ریا تو نہیں ہے
17:34اگر ریا کہیں چھپی ہے
17:35تو عمل ضائع ہو گیا
17:37عمل برباد ہو گیا
17:38کیتی کتری پیکو محمد
17:40ترسکہ بڑیا زردہ
17:42سب کچھ برباد ہو گیا
17:44اس لیے محض اس کی رضا کے لیے
17:47ترغیب بھی اگر آپ کی نیت ہے تو
17:50اس سے قبل اچھی طرح اپنے آپ کو
17:52جھانچ لیں کہ ہم کھڑے کہاں ہیں
17:55اللہ اکبر
17:56تو کہا
17:57کہ
18:00تمہارا مسئلہ یہ ہے
18:01کہ تم یتین کی تقریم نہیں کرتے ہو
18:04عزت نہیں دے
18:04حضور علیہ السلام نے فرمایا
18:07کہ مومن کا معاملہ بھی بڑا عجیب ہے
18:09کہ اسے اگر تکلیف ہوتی ہے
18:12تو اس پر وہ سبر کرتا ہے
18:14یا اسے خوشی ملتی ہے
18:16تو اس پر وہ شکر کرتا ہے
18:18تو دونوں صورتوں میں
18:19اللہ اس کو عجر عطا کرتا ہے
18:21اور یہ صرف شان مومن کی ہی ہے
18:24کہ وہ
18:25مسئیبت پر سبر کرے
18:27بلکہ فرمایا کہ
18:28مومن کے پاؤں میں
18:29کانٹا بھی چپتا ہے
18:31تو اس کا بھی اس کو عجر دیا جاتا ہے
18:33اس کے درجہ بلند ہوتے ہیں
18:35اس کے گناہ معاف کر دیا جاتے ہیں
18:36اس کی خطاؤں سے درگزر کر لیا جاتا ہے
18:39لیکن یہ مشروط ہے
18:41اس تکلیف کو
18:42سبر کے ساتھ برداشت کرنے سے
18:44اگر وہ وابلہ کرتا ہے
18:46ناشکری کے کلمات کہتا ہے
18:48تو تکلیف تو ختم نہیں ہوتی
18:50لیکن عجر زائل کر دیا جاتا ہے
18:53تو اس لیے ہمیں
18:54ہر صورت کے اندر
18:55سبر کے دامن کو
18:57مضبوطی سے
18:58تھامنے کی تلقین کی گئی
19:00اور اہل ایمان کو یہ بھی
19:01سبق دیا گیا
19:02کہ جب انہیں
19:03کوئی بھی مسئیبت پہنچتی ہے
19:05تو وہ کہتے ہیں
19:06انہا للہ و انہا علیہ راجعوں
19:08کہ ہم اسی کے ہیں
19:10اور اسی کے حضور پلٹ کے جانا ہے
19:11تو یہ وہ عمر ہے
19:13کہ جو ان کی طبیعت کے اندر
19:15ٹھہراو پیدا کرتا ہے
19:17اور ان کی زندگیوں کے اندر
19:19اللہ تعالیٰ جللہ شانہو پر
19:21جو یقین ہے
19:22اس کا پتہ دیتا ہے
19:23اگر مسئیبت کو
19:25اللہ کی طرف سے
19:26سمجھ کے
19:27مان کے
19:28سبر کیا جائے
19:29اس کو مقدود سمجھا جائے
19:30اس پر وابلہ نہ کیا جائے
19:32اللہ کی نافرمانی کا
19:33کوئی کلمہ نہ بولا جائے
19:35اپنے عقیدے میں
19:36تزلزل نہ آنے دیا جائے
19:37اپنے روئیوں کی خوبصورتی
19:39کو زائل نہ ہونے دیا جائے
19:40تو اس کا مطلب ہے
19:41کہ وہ شخص مومن ہے
19:42اس کا یقین ہے
19:43کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے
19:44تو پھر اس کے یقین
19:46کے سے لے کے اندر
19:47اللہ اس کو پھر
19:48ہدایت قلب کا چراغاں
19:49نصیب کرتا ہے
19:51اور فرمایا
19:52واللہ بکل شہن علیم
19:53اور اللہ
19:55ہر شہ کو جاننے والے ہیں
19:56اسے پتہ ہے
19:58کہ کسی پر
19:59مسئیبت نازل کیوں کرنی ہے
20:01اور اس مسئیبت سے
20:03اس کا امتحان لینا مقصود ہے
20:05اس کے درجوں کو
20:06بلند کرنا مقصود ہے
20:07اس کے گناہوں کو
20:08ماف کرنا مقصود ہے
20:10اس کو کسی آزمائش میں
20:11ڈال کر کے
20:12اس کو مزید
20:13کندن بنانا مقصود ہے
20:14یا اس کا
20:16کیا مقصود ہے
20:17اس کو سزا دینا مقصود ہے
20:18یہ اسے پتہ ہے
20:19تمہارا رب
20:20تمہاری طرف آنے والی
20:22جو تکلیفیں ہیں
20:23ان کے اندر
20:24ہزار ہا پنہا
20:26حکمتوں سے واقف ہے
20:27یہاں یہ بات بھی
20:28سمجھنے کے قابل ہے
20:30کہ جو شخص
20:32مسئیبت کے آنے پر
20:34صبر
20:35اور استقامت کے ساتھ
20:37اس سے
20:38نپٹتا ہے
20:39اور
20:40اللہ پر جو اس کا یقین ہے
20:42اس میں تزلزل پیدا نہیں ہونے دیتا
20:45کل کل من عند اللہ
20:47اے محبوب فرما دیجئے
20:48جو کچھ ہے
20:49وہ تمہارے رب کی طرف سے
20:50یہ اس کا
20:51خیال اور فکر ہے
20:52کہ یہ میرے اللہ کی طرف سے
20:53تو پھر اس مسئیبت کو
20:55ٹالنے والا بھی وہی ہے
20:56تو اگر یہ اس کا
20:58عقیدہ پختہ تھا
21:00تو پھر وہ
21:00مالک کی دہلیز چھوڑ کے
21:02مالک کی چوکھٹ چھوڑ کے
21:03کسی اور دہلیز پہ نہیں جائے گا
21:05کسی اور چوکھٹ پہ نہیں جائے گا
21:08وہ
21:09اس مسئیبت کو
21:11دور کرنے والا
21:12موثر حقیقی
21:14اللہ کو ہی جانتا ہوگا
21:16اور اسی کے حضور دعائیں کرے گا
21:18التجائیں کرے گا
21:19کسی شرک کا ارتقاب
21:21نہیں کر سکتا ہے
21:22اور وہ مالک کی دہلیز سے
21:24کبھی رو گردانی نہیں کر سکتا
21:26بلکہ اس تکلیف کے آنے سے
21:28وہ اپنے رب کے ساتھ
21:29اور زیادہ جڑ جائے گا
21:31اور
21:32اگر وہ
21:34سبر کرے
21:34تو یہ اس کا ایک مرتبہ ہے
21:37کہ وہ حوصلے کے ساتھ
21:38اس تکلیف کو ورداش کرے
21:40اور دوسرا مرتبہ
21:41جو اس سے بڑھ کر ہے
21:42کہ اس پہ
21:44اللہ کی رضا کے سانچے میں
21:46اپنے آپ کو ڈھال لے
21:47کہ جے سونا میرے دکھ وچ راضی
21:49میں سکھنوں چلے ڈاما
21:51اگر وہ اس بات پہ راضی ہے
21:53تو کوئی بات نہیں ہے
21:54میں اس پہ راضی ہوں
21:55کہ میرے رب کی یہ رضا ہے
21:56تو یہ دونوں چیزوں
21:59کا مل جانا
22:00یا دونوں میں سے
22:01کسی ایک کا مل جانا
22:02یہ اللہ کی طرف سے
22:03اس کو دیا گیا
22:05انعام ہے
22:06جو اس مشکل حالات میں
22:07اس کو حاصل ہوتا ہے
22:09اب
22:09وہ کس کیفیت میں ہے
22:12اللہ تعالیٰ اس کو خوب جانتا ہے
22:14کہ وہ اس پہ سبر کر رہے ہیں
22:16یا
22:17اس کا اندر ڈھول رہا ہے
22:18اس کا عقیدہ کمزور تھا
22:20اور وہ کمزوری کے باعث
22:23جو ہے
22:24وہ تزلزل کا
22:25تزبزب کا شکار ہو گئے
22:27تو یہ تمہارا رب خوب جانتا ہے
22:29تو تمہارے سینے کے اندر
22:30چھپی ہوئی کیفیت
22:32تمہارے رب کے علم میں ہے
22:33مانگنے لگ جاتا ہے
22:34سوال کا دروازہ کھول لیتا ہے
22:36اللہ اس کے لئے
22:38محتاجی کا دروازہ کھول لیتا ہے
22:41حالات سخت بھی ہوں
22:43اگر قابل برداشت ہوں
22:45تو ان کو برداشت کرنا چاہیے
22:47تاکہ سوال کی عادت نہ پڑے
22:49انسان مخمسے کی حالت میں ہو
22:52مجبور ہو جائے
22:53تو وہ ایک الگ بات ہے
22:54مخمسے کی حالت میں سوال جائز ہو جاتا ہے
22:57لیکن اگر حالت مخمسے کی نہ ہو
23:00تو پھر سوال نہیں کرنا ہے
23:02تھوڑی سی مشکل آئی
23:03اور اناج بٹھتے ہوئے دیکھا
23:06تو خود بھی سوالی بن کے جا کے
23:09کھڑے ہو گئے
23:10جبکہ ہمارے گھر کے اندر
23:12اتنا کچھ موجود تھا
23:13کہ ہم گزر کر سکتے تھے
23:15لیکن مفت کا مال ہے
23:17لہذا کوئی حرج نہیں ہے
23:18تو پھر آستہ آستہ انسان
23:20اس کا عادی بن جاتا ہے
23:22اللہ اس وقت سے بچائے
23:23کہ ہم محتاج ہوں
23:24اور ہمیں عملاً
23:26اس جگہ پہ آنا پڑے
23:27اللہ سب کو محفوظ فرمائے
23:29لیکن
23:30اگر حالات کچھ تلخ بھی ہوں
23:33تو پھر بھی اگر دیکھیں
23:34اپنے آپ کو
23:35کہ کیا ہم ایسی جگہ پہ تو نہیں ہیں
23:37کہ ہم سوال کرنے جائیں
23:39تو باہر ایک محول دیکھ کر
23:42کہ تو لپک پڑنا
23:43تو اس سے آپ کی طبع کے اندر
23:46سوال کی عادت پیدا ہوگی
23:49تو اس لیے جو مانگنا شروع کر دیتا ہے
23:51پھر اس کے لیے محتاجی کا دروازہ
23:53بند نہیں ہوتا
23:54الا یہ کہ کوئی سخت مجبور ہو جائے
23:57تو شریعت اس کو
23:57اس کی اجازت دیتی ہے
24:00تیسری بات
24:01میرے اور آپ کے آقاو مولا نے
24:02جو قسم کر کے کہی
24:04ما ناکہ سا مال عبد من صدقہ
24:07کہ صدقے سے بندے کا مال کم نہیں
24:09ہوتا
24:10آپ کا اکاؤنٹ کہتا ہے
24:12کہ اگر اتنے پیسے
24:13اتنوں سے نکال دیئے گے
24:14تو باقی اتنے بچیں گے
24:15کیلکولیٹر کا حساب بھی یہی ہے
24:18لیکن میرے محبوب فرماتی ہیں
24:20کہ میں زمانہ دیتا ہوں
24:22کہ صدقے سے مال کم
24:23نہیں ہوتا
24:24تو اس لیے تم راہِ خدا میں خرچ کروگے
24:27تو میرا رب کہہ رہا ہے
24:28خیر اللہ انفر
24:29یہ تمہارے لیے بہتر ہے
24:30تمہیں لگتا ہے
24:31کہ اتنے کم ہو جائیں گے
24:32لیکن ایسا نہیں ہے
24:34تمہارا مال صدقے سے گھٹتا نہیں ہے
24:38صدقے سے تمہارا مال بھڑتا ہے
24:40اور اللہ تعالیٰ جللہ شانو
24:42ایک کا دس گناہ عطا کرتا ہے
24:43ستر گناہ عطا کرتا ہے
24:45سات سو گناہ عطا کرتا ہے
24:46فرمایا اللہ چاہے
24:47تو اس سے بھی زیادہ عطا کرتا ہے
24:49اور پھر فرمایا
24:55اگر تم اللہ کی رحمے کرزے ہسنا دو
24:59تو وہ دگنا کرتا ہے
25:00اچھا یہ کیسا اللہ کا انداز بیان ہے
25:03کہ خود مال دے
25:05کہ خود کہہ رہا ہے
25:06مجھے کرزا دو
25:07اور پھر خود کہتا ہے
25:08میں دگنا دوں گا
25:09دیا ہوا کس نے ہے
25:11اسی نے
25:11اور کہتا ہے
25:13کہ جو میں نے تمہیں دیا ہے
25:14اس سے مجھے دو
25:16اور میں پھر اس کو
25:18اپنے دیئے ہوئے مال سے
25:20دیئے گئے مال کو
25:21دگنا کر کے تمہیں لٹاؤں
25:23اللہ اکبر
25:24اور پھر فرمایا
25:25وَيَغْفِرْ لَكُمْ
25:26اور تمہیں بخش بھی دوں گا
25:28وَاللَّهُ شَكُورٌ حَلِيمٌ
25:30وہ شکر گزار بھی ہے
25:31اور حلم والا بھی ہے
25:33اللہ اکبر
25:34وہ بردبار بھی ہے
25:35وہ تمہارا شکر گزار بھی ہوگا
25:37تمہیں دگنا کر کے بھی دے گا
25:39تمہاری مغفرت بھی کر دے گا
25:41اور تمہارے مال میں
25:42کمی بھی نہیں آنے دے گا
25:43اور یہ بہتر بھی تمہارے لئے ہوگا
25:45یہ تمہاری آزمائش تھی
25:47تمہارا مال
25:48تمہیں دے کر
25:49تم سے مانگا
25:50اور جس کے لئے مانگا
25:52اس کو اللہ ڈائریکٹ بھی تو دے سکتا تھا
25:54لیکن کہا کہ
25:55اس کی آزمائش ہے
25:57کہ اس کو غربت کی بھٹی میں ڈالا گیا
25:59تمہاری آزمائش یہ ہے
26:00تمہیں فراوانی دی گئی
26:02اب دیکھئے
26:03کہ وہ آزمائش میں پورا نکلتا ہے
26:05تم آزمائش میں پورے نکلتے ہو
26:07دونوں آزمائش میں پورے نکلتے ہیں
26:09یا پھر تم نامراد اور ناکام ہو جاتے ہو
26:12آزمائش میں پورے نکلتے ہیں
Comments

Recommended