Skip to playerSkip to main content
Buzurgon ke waqiat humein sabr, tawakkul aur Allah se sachchi mohabbat ka dars dete hain. Is roohani bayan mein Saqib Raza Mustafai Hazrat Nizamuddin Auliya ka dil ko choo lene wala waqia bayan karte hain jo imaan ko mazboot aur rooh ko roshan kar deta hai.

Yeh iman afroz waqia humein Allah par bharosa rakhne, duniya ki mushkilaat ka sabr se muqabla karne aur buzurgon ki zindagi se sabaq hasil karne ki taraf rehnumai karta hai. Is bayan ko zaroor sunein aur dusron tak share karein taa ke zyada log faida hasil kar saken.

#NizamuddinAuliya #SaqibRazaMustafai #IslamicBayan #SufiStories #Waqia #IslamicReminder #DeenKiBatein #MotivationalBayan #UrduBayan

Category

📚
Learning
Transcript
00:00Allahuddin Khilji
00:01حضرتِ نظام الدین
00:02علیہ علیہ الرحمنہ کی
00:03بارگاہ میں
00:04حاضر ہونے کے لئے
00:05ترستا تھا
00:06کہ مجھے حضرتِ
00:07نظام الدین
00:08علیہ کے
00:08حضور حاضر
00:09ہونا نصیب ہو
00:10لیکن آپ
00:12اس کو کہتے تھے
00:12فقیر کی خانکہ
00:13کے دو دروازے ہیں
00:15اگر تُو
00:16ایک دروازے سے آیا
00:17تو میں دوسرے سے
00:17باہر نکل جاؤں گا
00:19اور اگر تُو نے
00:20زیادہ تنگ کیا
00:21تو میں تیرا
00:21شہر چھوڑ جاؤں گا
00:30اچانک پہنچ کے
00:31آپ کی خانکہ
00:32کے اندر جانا چاہا
00:34تو آپ نے
00:35خادموں سے کہا
00:36دروازے بند کر
00:37تو دروازے بند کر دی گئے
00:38بادشاہ سمجھا
00:39کہ یہ اتنے
00:41پکے لوگ ہیں
00:41فقیر
00:42کہ مر جائیں گے
00:43دروازے نہیں کھولیں گے
00:44تو کچھ تو خون ہوگا
00:46اس نے کاغذ
00:48کے ایک ٹکڑے پہ لکھا
00:49اور خادم کے ذریعے
00:51حضرت کو پہنچایا
00:52لکھا یہ کہ
00:53یہ کیا بات ہوئی
00:55کہ بادشاہوں کی
00:56چوکھٹ پہ بھی
00:57ببواب چوکی دار
00:58اور فقیروں کے
00:59دروازوں پر بھی
01:00ببواب
01:01فرق کیا ہوا
01:02شاہی میں اور فقیری میں
01:03تو حضرت نے
01:04کاغذ کے ٹکڑے کی
01:06پشت پر لکھا
01:07فرق یہ ہے
01:07کہ بادشاہوں کے
01:09دروازوں پر
01:10جو ببواب ہوتے ہیں
01:11وہ فقیروں اور
01:12سائلوں کو
01:13روکنے کے لئے ہوتے ہیں
01:14اور فقیروں کی
01:16چوکھٹ پہ جو
01:16ببواب ہوتے ہیں
01:17یہ وہ بادشاہوں
01:18पितने हैं को रोकने के लिए होते हैं
01:20उसने का अगर आप अज़क अजयाजब दें
01:22तो मैं आपकी खान का की जारत कर सकता हूँ
01:25आपने का जाओ कर लो
01:26वो गया खान का देखी
01:28तो लंगर खाना देखा
01:30मुखतलिफ जगें देखी
01:31जब अस्तबल में पहुंचा
01:33It's very strong.
01:35My love of Deanzirah can be too.
01:37When he came in this museum,
01:39they said that he had been left for the sake of God of God.
01:42That's the same way.
01:42This is the same way.
01:44And the king of God of God of God of God of God of God of God of God of
01:47God
01:47has been left for the dead of theاء of God of God of God.
01:53This is the same way of the dead of God of God of God.
01:57He said,
02:27اگر کسی کو وہ بہار چین پہ بٹھا
02:29دیتے تو وہ ساری زندگی
02:31ناز کرتا کہ میں بہار چین پہ بیٹھا
02:33ہوا ہوں تو حضرت عمر کے
02:35زمانے میں جب ایران فتح ہوا
02:37تو وہ بہار چین قیمتی
02:38جو کالین تھا وہ اونٹوں پہ
02:41لہت کے مدینے بھیجا گیا اور جب
02:43وہ مالِ غنیمت اترا
02:45اور اس میں بہار چین بھی تھا
02:47تو لوگوں نے پوچھا کہ کیا کیا جائے
02:49کسی نے کہا مسجد نبوی میں بچھا دیا جائے
02:51So.
02:51And.
02:52When.
02:52that was sent.
02:54After that.
03:09This Islam.
03:10This is one of the most amazing.
03:37ma'am ko ma'am ko ma'am ko ma'am ko na poochhau
03:41اللہ اکبر
03:42ان لوگوں کی ma'یں بھی تو صحابہ آل ہوا کرتی تھی
03:45تو کہا کہ اگر اجازت ہو
03:47تو اپنی ma'am ko na poochhau
03:48کہ محب بننا یا معبوب بننا
03:51کہا جاؤ تمہیں اجازت ہے
03:53تو
03:54گھر کی طرف روانہ ہوئے
03:57ایک دن کا سفر کیا
03:58راستے میں ایک فقیر تھا
04:00مجذوب
04:01جو راستے میں بیٹھا تھا حالت اس کی عجیب سی تھی
04:05تو یہ سلام کر کے
04:07گزرنے لگے تو وہ مسکرا کے
04:08بولا محب بنو گئے یا معبوب
04:11تو حیرت زدہ ہو گئے
04:13کہ
04:15اسے کیسے پتا چل گیا
04:16یہ تو میرے شیخ کا اور میرا راز ہے
04:19تو رک گئے
04:20کہا کہ حضرت اگر آپ بتا دیں
04:22تو بہت اچھا ہو
04:23نہیں نہیں ماں سے پوچھو جو وہ بتائے گی
04:26وہی بن جانا
04:27اور اگر ماں نے نہ بتایا تو کل آ جانا
04:30اسی وقت یہاں ملاقات ہوگی
04:33پھر میں بتا دوں گا
04:35خیر چلے
04:36رات کو پہنچے والدہ کی خدمت پر
04:38سلام پیش کیا پاؤں دبائے
04:40اور کہا کہ شیخ
04:42موج میں آگئی اور کہا
04:44محب بنو گے محبوب بنو گے
04:46تو میں نے کہا ماں سے پوچھ لوں
04:48تو میں ماں جی آپ سے پوچھنے آیا ہوں
04:51راستے میں یہ واقعہ بھی ہوا
04:53تو ماں نے کہا کہ بیٹے
04:55تم سبو ناشتہ کر کے پلٹ جانا
04:58اور وہ جو راستے میں
05:00تیرے دل کی بات پوچھ گیا
05:01وہ کوئی صحابحال تھا
05:03وہ تمہیں صحیح بتا سکے گا
05:05کہ محب بننا کہ محبوب بننا
05:08خیر یہ سبو ناشتہ کر کے
05:09ماں کے پاؤں پکڑے
05:11اجازت طلب کی اور واپس نکلے
05:14اور وہاں جا کے دیکھا
05:15تو کوئی فقیر نہیں ہے
05:17بڑے حیرزدہ ہوئے دائیں بائیں سے پوچھا
05:19کہ یہاں کال ایک بابا بیٹھا تھا
05:21کہا وہ تو کل کئی فوت ہو گیا
05:23تو کہا اس کی قبر کہاں ہے
05:24کہاں قبر کس نے بنانی تس کی
05:26وہ گندگی کے ڈھیر پہ لوگوں نے پھینک دیا
05:30دل میں بڑے حیرزدہ ہوئے
05:31اتنا باک کمال تھا
05:33لیکن اپنی حالت یہ خیر وہاں چلے گئے
05:36اور جا کے کھڑے ہو کے پوچھنے لگے
05:38بندہِ خدا
05:39دل کی باتیں ووجتا تھا
05:41اور میرے ساتھ وعدہ کیا تھا
05:43کہ اگر ماں نے نہ بتایا تو کل آنا
05:45اور اپنا پتہ ہی نہیں تھا
05:47کہ کیا ہونے والا ہے
05:48یہ بات کہی تو بابا اٹھ کے بیٹھ گیا
05:51عرش فرشتے بانگا ملیاں
05:53تے مکے پہ گیا شور
05:55بلے شاہ سا مرنا نہ ہی
05:57تے گور پہا کوئی ہور
05:58ہاں ہاں اٹھ کے بیٹھ گیا
06:00اور کہا کہ نظام الدین
06:02محبوب بننا
06:06محبوبوں کا یہ حال ہوتا ہے
06:07نہ کفن ملتا ہے نہ دفن ملتا ہے
06:09محبوب بنوگے تمہاری قبر پہ بھی ملے لگے گئے
06:16اگر حضور کی اطاعت کروگے
06:18حضور کی فرما برداری کروگے
06:19تو تم محبوب بن جاؤگے
06:22تو حضور کی محبت
06:23خدا کی محبوبیت کا ذریعہ ہے
06:26اس لیے ہمیں حضور کا پیار
06:29اپنی روحوں میں موجزن کرنا ہے
06:31حضور کی محبت
06:33اپنی روحوں میں اتارنی ہے
06:35اور محبت
06:36اپنے تمام تل تقاضوں کے ساتھ
06:39جب روح پذیر ہوگی
06:40تو پھر ہمارا انداز زندگی بھی سبر جائے گا
06:44ہماری آخرت بھی سبر جائے گی
06:46محبت کے منچملہ تقاضوں میں سے
06:49سب سے بڑا تقاضہ
06:51محبوب کی اطاعت ہے
06:52کہ بندہ جس سے پیار کرتا ہے
06:55اس کی بات مانتا ہے
06:57یہ ہے دعوی محبت
06:59کا ثبوت
07:00اس کی دلیل
07:01اور حضور کے صحابہ کی زندگیاں دیکھئے
07:04ہمارے بدن پر اتنے بال نہیں ہیں
07:07جتنے رسول اللہ کے احسانات
07:09ہمارا ایک ایک بال کرز رسالت میں جکڑا ہوا تھا
07:13خدا شناسی تو بڑی دور کی بات ہے
07:16ہم خود شناس بھی نہیں تھے
07:18ہمیں تو اپنے آپ کا بھی نہیں پتا تھا
07:20کہ ہم کون ہوں اور مجھے بتاؤ جس کو یہ بھی نہ خبر ہو
07:24کہ میں کون ہوں
07:25اس کے پلے ہوتا کیا
07:27اقبال نے کہا تھا نا
07:28اپنے من میں ڈوب کر
07:29پاجہ سراغ زندگی
07:31میرا نہیں بنتا تو نہ بن
07:34اپنا تو بن
07:34اور یہ اپنا بھی نہیں تھا
07:36اسے پتہ ہی نہیں تھا
07:38اسے شعورِ ذات ہی نہیں تھا
07:39اسے خود آگئی کا دور ہی نظیم نہیں ہوا تھا
07:42تب ہی تو انسان ہو کے
07:44اشرف المخلوقات ہو کے
07:46درختوں کو
07:46پتھروں کو
07:47حشرات الارض کو
07:49چوپائیوں کو
07:50اپنا معبود سمجھتا تھا
07:52انسان کی پیشانی
07:53کہاں کہاں رسوا نہیں
07:56درختوں کی جڑوں کو
07:57اس نے سجدہ کیا
07:58یہ گیچوانی ہوتا
08:00مچھلی پکڑنے کے لیے
08:01جس کو کانٹے سے لگاتے ہیں
08:02کسی زمانے میں
08:03یہ بھی انسان کا معبود ہوتا ہے
08:06پتھروں کو
08:07اس نے معبود سمجھا
08:08بہائم کو
08:10چوپائیوں کو
08:11لٹکتے پھلوں کو
08:12برستی بارش کے
08:14کتھروں کو
08:14معبود سمجھتا رہا
08:15بادل کو
08:17معبود سمجھتا رہا
08:18فنکوں کو
08:19حشرات الارض کو
08:20بہتے پانیوں کو
08:22جلتی آگ کو
08:23اور جلتی ہواوں کو
08:24اپنا معبود سمجھتا رہا
08:26اسے یہ نہیں پتا
08:27کہ میں ہوں کون
08:28اے تماشا
08:30گاہِ آلم
08:31روئے تو
08:31تو کجا بہرے
08:32تماشا میرمی
08:33دنیا تجھے
08:35ڈھونڈنے نکلی ہے
08:36تو کس کی تلاش میں ہے
08:37یہ اشرف المخلوقات
08:40ہو کے
08:40مقصود کائنات ہو کے
08:41اے یہ اس کائنات کا
08:44دل اور کلیجہ ہو کے
08:46حشرات الارض کو
08:47سامپوں کو
08:48بچیوں کو
08:49اپنا معبود سمجھ رہا
08:51یہ تو میرے حضور نے بتایا
08:53یہ تیرے معبود نہیں ہیں
08:54تیری تحلیز کے نوکر ہیں
08:57ان درختوں کو پوچھتا ہے
08:59یہ تو تجھے چھاؤں فراہم کرنے کے لیے
09:01آکسیجن دینے کے لیے
09:03تیرے ایندن کے کام آنے کے لیے
09:05تیرے ذوک نظر کی تسکین کے لیے
09:07تجھے پھل فراہم کرنے کے لیے
09:10پیدا کیے گئے ہیں
09:11ان جانوروں کو پوچھتا ہے
09:13یہ تو تیری سواری کے لیے
09:14بار برداری کے لیے
09:15تجھے دودھ اور گوشت کی
09:17ضروریات فراہم کرنے کے لیے
09:18پیدا کیے گئے ہیں
09:21یہ چاند سورج ستارے
09:22اجرام فلکیا
09:23یہ تیرے معبود کیسے ہو سجتے ہیں
09:25یہ تو تیری راہوں میں
09:27روشنی اجالنے کے لیے
09:28پیدا کیے گئے ہیں
09:29نہیں تو دیکھ
09:30یہ اگلی اٹھتی ہے
09:31اور چاند ٹکڑے ہو کے
09:32قدموں میں آتا ہے
Comments

Recommended