00:00Allahuddin Khilji
00:01حضرتِ نظام الدین
00:02علیہ علیہ الرحمنہ کی
00:03بارگاہ میں
00:04حاضر ہونے کے لئے
00:05ترستا تھا
00:06کہ مجھے حضرتِ
00:07نظام الدین
00:08علیہ کے
00:08حضور حاضر
00:09ہونا نصیب ہو
00:10لیکن آپ
00:12اس کو کہتے تھے
00:12فقیر کی خانکہ
00:13کے دو دروازے ہیں
00:15اگر تُو
00:16ایک دروازے سے آیا
00:17تو میں دوسرے سے
00:17باہر نکل جاؤں گا
00:19اور اگر تُو نے
00:20زیادہ تنگ کیا
00:21تو میں تیرا
00:21شہر چھوڑ جاؤں گا
00:30اچانک پہنچ کے
00:31آپ کی خانکہ
00:32کے اندر جانا چاہا
00:34تو آپ نے
00:35خادموں سے کہا
00:36دروازے بند کر
00:37تو دروازے بند کر دی گئے
00:38بادشاہ سمجھا
00:39کہ یہ اتنے
00:41پکے لوگ ہیں
00:41فقیر
00:42کہ مر جائیں گے
00:43دروازے نہیں کھولیں گے
00:44تو کچھ تو خون ہوگا
00:46اس نے کاغذ
00:48کے ایک ٹکڑے پہ لکھا
00:49اور خادم کے ذریعے
00:51حضرت کو پہنچایا
00:52لکھا یہ کہ
00:53یہ کیا بات ہوئی
00:55کہ بادشاہوں کی
00:56چوکھٹ پہ بھی
00:57ببواب چوکی دار
00:58اور فقیروں کے
00:59دروازوں پر بھی
01:00ببواب
01:01فرق کیا ہوا
01:02شاہی میں اور فقیری میں
01:03تو حضرت نے
01:04کاغذ کے ٹکڑے کی
01:06پشت پر لکھا
01:07فرق یہ ہے
01:07کہ بادشاہوں کے
01:09دروازوں پر
01:10جو ببواب ہوتے ہیں
01:11وہ فقیروں اور
01:12سائلوں کو
01:13روکنے کے لئے ہوتے ہیں
01:14اور فقیروں کی
01:16چوکھٹ پہ جو
01:16ببواب ہوتے ہیں
01:17یہ وہ بادشاہوں
01:18पितने हैं को रोकने के लिए होते हैं
01:20उसने का अगर आप अज़क अजयाजब दें
01:22तो मैं आपकी खान का की जारत कर सकता हूँ
01:25आपने का जाओ कर लो
01:26वो गया खान का देखी
01:28तो लंगर खाना देखा
01:30मुखतलिफ जगें देखी
01:31जब अस्तबल में पहुंचा
01:33It's very strong.
01:35My love of Deanzirah can be too.
01:37When he came in this museum,
01:39they said that he had been left for the sake of God of God.
01:42That's the same way.
01:42This is the same way.
01:44And the king of God of God of God of God of God of God of God of God of
01:47God
01:47has been left for the dead of theاء of God of God of God.
01:53This is the same way of the dead of God of God of God.
01:57He said,
02:27اگر کسی کو وہ بہار چین پہ بٹھا
02:29دیتے تو وہ ساری زندگی
02:31ناز کرتا کہ میں بہار چین پہ بیٹھا
02:33ہوا ہوں تو حضرت عمر کے
02:35زمانے میں جب ایران فتح ہوا
02:37تو وہ بہار چین قیمتی
02:38جو کالین تھا وہ اونٹوں پہ
02:41لہت کے مدینے بھیجا گیا اور جب
02:43وہ مالِ غنیمت اترا
02:45اور اس میں بہار چین بھی تھا
02:47تو لوگوں نے پوچھا کہ کیا کیا جائے
02:49کسی نے کہا مسجد نبوی میں بچھا دیا جائے
02:51So.
02:51And.
02:52When.
02:52that was sent.
02:54After that.
03:09This Islam.
03:10This is one of the most amazing.
03:37ma'am ko ma'am ko ma'am ko ma'am ko na poochhau
03:41اللہ اکبر
03:42ان لوگوں کی ma'یں بھی تو صحابہ آل ہوا کرتی تھی
03:45تو کہا کہ اگر اجازت ہو
03:47تو اپنی ma'am ko na poochhau
03:48کہ محب بننا یا معبوب بننا
03:51کہا جاؤ تمہیں اجازت ہے
03:53تو
03:54گھر کی طرف روانہ ہوئے
03:57ایک دن کا سفر کیا
03:58راستے میں ایک فقیر تھا
04:00مجذوب
04:01جو راستے میں بیٹھا تھا حالت اس کی عجیب سی تھی
04:05تو یہ سلام کر کے
04:07گزرنے لگے تو وہ مسکرا کے
04:08بولا محب بنو گئے یا معبوب
04:11تو حیرت زدہ ہو گئے
04:13کہ
04:15اسے کیسے پتا چل گیا
04:16یہ تو میرے شیخ کا اور میرا راز ہے
04:19تو رک گئے
04:20کہا کہ حضرت اگر آپ بتا دیں
04:22تو بہت اچھا ہو
04:23نہیں نہیں ماں سے پوچھو جو وہ بتائے گی
04:26وہی بن جانا
04:27اور اگر ماں نے نہ بتایا تو کل آ جانا
04:30اسی وقت یہاں ملاقات ہوگی
04:33پھر میں بتا دوں گا
04:35خیر چلے
04:36رات کو پہنچے والدہ کی خدمت پر
04:38سلام پیش کیا پاؤں دبائے
04:40اور کہا کہ شیخ
04:42موج میں آگئی اور کہا
04:44محب بنو گے محبوب بنو گے
04:46تو میں نے کہا ماں سے پوچھ لوں
04:48تو میں ماں جی آپ سے پوچھنے آیا ہوں
04:51راستے میں یہ واقعہ بھی ہوا
04:53تو ماں نے کہا کہ بیٹے
04:55تم سبو ناشتہ کر کے پلٹ جانا
04:58اور وہ جو راستے میں
05:00تیرے دل کی بات پوچھ گیا
05:01وہ کوئی صحابحال تھا
05:03وہ تمہیں صحیح بتا سکے گا
05:05کہ محب بننا کہ محبوب بننا
05:08خیر یہ سبو ناشتہ کر کے
05:09ماں کے پاؤں پکڑے
05:11اجازت طلب کی اور واپس نکلے
05:14اور وہاں جا کے دیکھا
05:15تو کوئی فقیر نہیں ہے
05:17بڑے حیرزدہ ہوئے دائیں بائیں سے پوچھا
05:19کہ یہاں کال ایک بابا بیٹھا تھا
05:21کہا وہ تو کل کئی فوت ہو گیا
05:23تو کہا اس کی قبر کہاں ہے
05:24کہاں قبر کس نے بنانی تس کی
05:26وہ گندگی کے ڈھیر پہ لوگوں نے پھینک دیا
05:30دل میں بڑے حیرزدہ ہوئے
05:31اتنا باک کمال تھا
05:33لیکن اپنی حالت یہ خیر وہاں چلے گئے
05:36اور جا کے کھڑے ہو کے پوچھنے لگے
05:38بندہِ خدا
05:39دل کی باتیں ووجتا تھا
05:41اور میرے ساتھ وعدہ کیا تھا
05:43کہ اگر ماں نے نہ بتایا تو کل آنا
05:45اور اپنا پتہ ہی نہیں تھا
05:47کہ کیا ہونے والا ہے
05:48یہ بات کہی تو بابا اٹھ کے بیٹھ گیا
05:51عرش فرشتے بانگا ملیاں
05:53تے مکے پہ گیا شور
05:55بلے شاہ سا مرنا نہ ہی
05:57تے گور پہا کوئی ہور
05:58ہاں ہاں اٹھ کے بیٹھ گیا
06:00اور کہا کہ نظام الدین
06:02محبوب بننا
06:06محبوبوں کا یہ حال ہوتا ہے
06:07نہ کفن ملتا ہے نہ دفن ملتا ہے
06:09محبوب بنوگے تمہاری قبر پہ بھی ملے لگے گئے
06:16اگر حضور کی اطاعت کروگے
06:18حضور کی فرما برداری کروگے
06:19تو تم محبوب بن جاؤگے
06:22تو حضور کی محبت
06:23خدا کی محبوبیت کا ذریعہ ہے
06:26اس لیے ہمیں حضور کا پیار
06:29اپنی روحوں میں موجزن کرنا ہے
06:31حضور کی محبت
06:33اپنی روحوں میں اتارنی ہے
06:35اور محبت
06:36اپنے تمام تل تقاضوں کے ساتھ
06:39جب روح پذیر ہوگی
06:40تو پھر ہمارا انداز زندگی بھی سبر جائے گا
06:44ہماری آخرت بھی سبر جائے گی
06:46محبت کے منچملہ تقاضوں میں سے
06:49سب سے بڑا تقاضہ
06:51محبوب کی اطاعت ہے
06:52کہ بندہ جس سے پیار کرتا ہے
06:55اس کی بات مانتا ہے
06:57یہ ہے دعوی محبت
06:59کا ثبوت
07:00اس کی دلیل
07:01اور حضور کے صحابہ کی زندگیاں دیکھئے
07:04ہمارے بدن پر اتنے بال نہیں ہیں
07:07جتنے رسول اللہ کے احسانات
07:09ہمارا ایک ایک بال کرز رسالت میں جکڑا ہوا تھا
07:13خدا شناسی تو بڑی دور کی بات ہے
07:16ہم خود شناس بھی نہیں تھے
07:18ہمیں تو اپنے آپ کا بھی نہیں پتا تھا
07:20کہ ہم کون ہوں اور مجھے بتاؤ جس کو یہ بھی نہ خبر ہو
07:24کہ میں کون ہوں
07:25اس کے پلے ہوتا کیا
07:27اقبال نے کہا تھا نا
07:28اپنے من میں ڈوب کر
07:29پاجہ سراغ زندگی
07:31میرا نہیں بنتا تو نہ بن
07:34اپنا تو بن
07:34اور یہ اپنا بھی نہیں تھا
07:36اسے پتہ ہی نہیں تھا
07:38اسے شعورِ ذات ہی نہیں تھا
07:39اسے خود آگئی کا دور ہی نظیم نہیں ہوا تھا
07:42تب ہی تو انسان ہو کے
07:44اشرف المخلوقات ہو کے
07:46درختوں کو
07:46پتھروں کو
07:47حشرات الارض کو
07:49چوپائیوں کو
07:50اپنا معبود سمجھتا تھا
07:52انسان کی پیشانی
07:53کہاں کہاں رسوا نہیں
07:56درختوں کی جڑوں کو
07:57اس نے سجدہ کیا
07:58یہ گیچوانی ہوتا
08:00مچھلی پکڑنے کے لیے
08:01جس کو کانٹے سے لگاتے ہیں
08:02کسی زمانے میں
08:03یہ بھی انسان کا معبود ہوتا ہے
08:06پتھروں کو
08:07اس نے معبود سمجھا
08:08بہائم کو
08:10چوپائیوں کو
08:11لٹکتے پھلوں کو
08:12برستی بارش کے
08:14کتھروں کو
08:14معبود سمجھتا رہا
08:15بادل کو
08:17معبود سمجھتا رہا
08:18فنکوں کو
08:19حشرات الارض کو
08:20بہتے پانیوں کو
08:22جلتی آگ کو
08:23اور جلتی ہواوں کو
08:24اپنا معبود سمجھتا رہا
08:26اسے یہ نہیں پتا
08:27کہ میں ہوں کون
08:28اے تماشا
08:30گاہِ آلم
08:31روئے تو
08:31تو کجا بہرے
08:32تماشا میرمی
08:33دنیا تجھے
08:35ڈھونڈنے نکلی ہے
08:36تو کس کی تلاش میں ہے
08:37یہ اشرف المخلوقات
08:40ہو کے
08:40مقصود کائنات ہو کے
08:41اے یہ اس کائنات کا
08:44دل اور کلیجہ ہو کے
08:46حشرات الارض کو
08:47سامپوں کو
08:48بچیوں کو
08:49اپنا معبود سمجھ رہا
08:51یہ تو میرے حضور نے بتایا
08:53یہ تیرے معبود نہیں ہیں
08:54تیری تحلیز کے نوکر ہیں
08:57ان درختوں کو پوچھتا ہے
08:59یہ تو تجھے چھاؤں فراہم کرنے کے لیے
09:01آکسیجن دینے کے لیے
09:03تیرے ایندن کے کام آنے کے لیے
09:05تیرے ذوک نظر کی تسکین کے لیے
09:07تجھے پھل فراہم کرنے کے لیے
09:10پیدا کیے گئے ہیں
09:11ان جانوروں کو پوچھتا ہے
09:13یہ تو تیری سواری کے لیے
09:14بار برداری کے لیے
09:15تجھے دودھ اور گوشت کی
09:17ضروریات فراہم کرنے کے لیے
09:18پیدا کیے گئے ہیں
09:21یہ چاند سورج ستارے
09:22اجرام فلکیا
09:23یہ تیرے معبود کیسے ہو سجتے ہیں
09:25یہ تو تیری راہوں میں
09:27روشنی اجالنے کے لیے
09:28پیدا کیے گئے ہیں
09:29نہیں تو دیکھ
09:30یہ اگلی اٹھتی ہے
09:31اور چاند ٹکڑے ہو کے
09:32قدموں میں آتا ہے
Comments