00:00دین محمد کا دل اس وقت خون کے آنسوں رونے لگا جب اپنے ہی گھر میں جوان بیٹے اور بہو
00:05کے تانے ان کا مقدر بن گئے
00:07ان کی سوچ ماضی کے دریچوں میں گم ہو گئی جب ان کا بیٹا سائم محض دو برس کا تھا
00:13اور اس کی ماں کا انتقال ہو گیا تھا
00:15دین محمد نے تن تنہا سائم کو ماں کی ممتہ اور باپ کا سایہ دونوں فراہم کیے
00:21بچپن کے بیجا لاد پیار نے سائم کو زدی بنا دیا تھا
00:24مگر باپ نے اپنی قلیل آمدنی کے باوجود بیٹے کی ہر ایک خواہش کو مقدم رکھا
00:30جب سائم پڑھ لے کر ایک نجی ادارے میں اچھے عوضے پر فائز ہوا
00:34تو بڑے باپ کو اب پوتے پوتیوں کی خواہش ستانے لگی
00:38وہ تھک چکے تھے خود ہی کھانا پکاتے تھے کپڑے دھوتے تھے اور استری کرتے
00:43ان کا خیال تھا کہ گھر میں بہو آئے گی تو زندگی میں کچھ سکون میسر آئے گا
00:48بلاخر سائم کی شادی امبرین سے ہو گئی
00:50ابتدائی چند ماہ تو خیریت سے گزرے لیکن پھر بہو کے تیور بدل گئے
00:55ایک دن وہ صاف کہہ اٹھی کہ بابا میں اتنا بوجھ نہیں اٹھا سکتی
00:59آپ اپنا کھانا خود بنا لیا کریں
01:01بڑے باپ نے حسرت بھری نظروں سے بیٹے کو دیکھا مگر اس نے خاموشی اختیار کر لی
01:07باپ کی آنکھوں سے گرے وہ آنسوں اولاد نے تو نہ دیکھے
01:10مگر عرش الہی پر وہ فریاد بن کر پہنچ گئے
01:14اگلی روز سائم موٹر سائیکل سے فسل کر زخمی ہوا
01:17یہ قدرت کی طرف سے پہلی تنبیہ تھی
01:20دین محمد دیوانہ وار بیٹے کی خدمت میں جٹ گئے
01:24مگر سائم کا لہجہ بیوی کے لیے شہد
01:26تو باپ کے لیے زہر بن چکا تھا
01:28وہ معمولی بات پر بھی باپ کو جھڑک دیتا
01:31باپ خاموشی سے آنسوں بہاتا رہتا
01:34اور قدرت چھوٹے چھوٹے حادثات کی صورت میں بیٹے کو وارننگ دیتی رہی
01:39مگر اس غافل انسان کو سمجھ نہ آئی
01:41گھر میں ننھے مہمان کی آمد قریب تھی
01:44دین محمد خوشی سے نہال تھے
01:46مگر بہو کا ایک نیا حکم سادر ہوا
01:49بابا میری ماں اور بہن آ رہی ہیں
01:51جگہ کی کمی ہے
01:52آپ کچھ دن کسی دوست کے ہاں
01:54یا مسجد کے حجرے میں قیام کر لیں
01:57دین محمد نے لرستے ہوئے لہجے میں کہا
01:59کہ ٹھیک ہے بیٹا میں چلا جاتا ہوں
02:01میری وجہ سے تمہیں تکلیف نہ ہو
02:03بس ایک بار جی بھر کے
02:05تجھے سینے سے لگا نہ جاتا ہوں
02:07باپ نے بیٹے کو گلے لگا کر
02:09خوب گریہ کیا مگر سائم کا دل
02:12پتھر کی طرح سخت رہا
02:14پانچ سال اس بات کو گزر گئے
02:16ایک ضعیف شخص روزانہ اسکول کے
02:18گیٹ کے باہر کھڑا ہوتا
02:20اور ایک ننھے بچے کو حسرت بھری
02:22نگاہوں سے دیکھ کر دامن سے آنسوں
02:24پونچتا ہوا رخصت ہو جاتا
02:26یہ دین محمد تھے
02:28جو اپنے پوتے کی ایک
02:30جھلک دیکھنے کے لیے تڑپتے تھے
02:32ایک دن ان کا پرانا پڑوسی
02:33ہجرے میں آیا اور لرزہ خیز
02:35خبر دی بابا تمہاری بہو
02:38دماغی توازن کھو بیٹھی ہے
02:39اور بیٹا کینسر کے آخری مرہلے پر ہے
02:42تمہارا پوتا ننیال والے لے گئے ہیں
02:44جا کر اپنے گھر کی اجاڑ
02:46بستی تو دیکھو باپ جب گھر
02:48پہنچا تو دروازہ کھلا تھا
02:49اندر ایک بوسیدہ چار پائی پر
02:52ہرڈیوں کا ڈھانچا پڑا تھا
02:53وہ سائم تھا
02:55باپ کو دیکھتے ہی بیٹے کی آنکھوں سے
02:57ندامت کے آنسوں بہن نکلے
02:58اس نے لڑ کھڑاتی آواز میں کہا
03:01بابا کیا میری خطائیں معاف ہو سکتی ہیں
03:03مجھے سکون نہیں مل رہا
03:05میری جان نہیں نکل رہی
03:07باپ نے تڑپ کر بیٹے کو سینے سے لگایا
03:09اور کہا میرے بچے
03:11میں نے کبھی تجھے بد دعا نہیں دی
03:13میں تجھ سے راضی ہوں
03:15اللہ بھی تجھ پر رحم فرمائے گا
03:17سائم کو کچھ قرار آیا
03:19اس نے آخری خواہش کی
03:20بابا کیا آج آخری بار
03:23اپنے ہاتھوں سے بنا کر مجھے کھانا کھلائیں گے
03:25دین محمد بازار گئے
03:27سامان لائے اور لرست ہاتھوں سے
03:29کھانا تیار کیا
03:30ابھی دو لکھ میں ہی کھلائے تھے
03:32کہ سائم کو کھانسی کا شدید دورہ پڑھا
03:35اس نے کلمہ پڑھا
03:36اور آخری ہچکی کے ساتھ ہی
03:39روح قبض انسری سے پرواز کر گئی
03:41دین محمد نے لرست ہاتھوں سے جوان بیٹے کی آنکھیں بند کی
03:45اور اپنے ناتوان کندھوں پر
03:47اس کا جنازہ اٹھانے کی تیاری کرنے لگے
03:50دوستو یہ دنیا فانی ہے
03:52خدارہ اپنے والدہین کی قدر کریں
03:55جو لہجہ غیروں کے لیے نرم ہے
03:57اسے ماں باپ کے لیے تلخ نہ بنائیں
03:59سائم کو تو معافی کا موقعہ مل گیا
04:02لیکن اگر ہمیں یہ مولت نہ ملی
04:04تو انجام عبرتناک ہوگا
04:06یاد رکھئے
04:07جنت ماں کے قدم تلے ہے
04:09اور باپ جنت کا دروازہ ہے
04:12اللہ پاک آپ کے والدین کو
04:14صحت مند زندگی عطا فرمائے
04:16اور آپ کو ان کا فرما بردار
04:18بنا کے رکھے
04:19جن جن کے والدین اس دنیا سے گزر چکے ہیں
04:22اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے
04:24انہیں جنت الفردوس میں
04:26عالی مقام عطا فرمائے
04:28آپ کے والدین کے صدقے
04:30میرے والدین کی بھی
04:31اللہ پاک مغفرت فرمائے
04:33آمین
Comments