00:00شادی کی پہلی رات میاں بیوی نے ایک معایدہ کیا کہ وہ کمرے میں جانے کے بعد دروازہ نہیں کھولیں
00:05گے چاہے باہر کوئی بھی دستک دے دے ابھی کچھ ہی وقت گزرا تھا کہ دولہ کے ماں باپ وہاں
00:11آئے تاکہ نئے جوڑے کو اپنی دعائیں دے سکیں دستک سن کر دولہ کا جی تو چاہا کہ دروازہ کھول
00:17دے لیکن اپنے فیصلے کی وجہ سے وہ خاموش رہا اور والدین واپس چلے گئے کچھ دیر بعد دلہن کے
00:23والدین بھی وہاں پہنچے تاکہ بیٹی اور د
00:26کامات کو اپنی نیک تمنائیں دے سکیں ایک بار پھر دستک ہوئی دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور اپنا
00:33اہد یاد کیا لیکن دلہن کی آنکھوں میں آنسوں آ گئے اور اس نے دھیمی آواز میں کہا میں اپنے
00:39والدین کو اس طرح واپس نہیں بھیج سکتی اور اس نے بڑھ کر دروازہ کھول دیا شوہر نے یہ دیکھا
00:45تو سہی پر اس وقت کچھ نہ کہا برسوں بعد ان کے گھر چار بیٹوں کی ولادت ہوئی اور پھر
00:51پانچویں بار ایک بیٹی نے جنم لیا
00:53شوہر نے بیٹی کی پیدائش پر ایک عظیم الشان تقریب کا انعقاد کیا اور تمام دوست احباب کو مدعو کیا
01:01رات کو بیوی نے حیرت سے پوچھا کہ اتنی بڑی خوشی کی کیا وجہ ہے آپ نے تو بیٹوں کی
01:06باری پر ایسا کچھ نہیں کیا تھا شوہر نے مسکرا کر جواب دیا یہ وہ ہے جو بڑھا پے میں
01:12میرے لیے دروازہ کھولے گی
Comments