Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
Kash Mujhy Pehly Pata Hota

Category

📚
Learning
Transcript
00:00دوستو ایک شہر میں ایک کارپنٹر رہتا تھا جو نئے مکانات کی تعمیر میں ایک ٹھیکے دار کے ساتھ 35
00:06برس سے کام کر رہا تھا
00:08وہ نہایت ماہر اور تجربے کار تھا
00:10اپنی زندگی کے 35 سال محنت کرنے کے بعد اس نے ارادہ کیا کہ اب میں مزید کام نہیں کر
00:17سکتا جتنا وقت دے دیا وہ کافی ہے
00:19اب بقیہ زندگی سکون سے اہل و آیال اور پوتے پوتیوں کے ساتھ بسر کروں گا
00:24اسی ارادے سے وہ اپنے مالک کے پاس آیا
00:27بہترین اور جفاکش ملازم ہونے کی وجہ سے مالک کے دل میں اس کی بڑی قدر تھی
00:32مالک نے اس کی خاطر توازو کی چائے منگوائی اور پھر اس کے ساتھ مہوے گفتگو ہو گیا
00:39بات چیت کے دوران ہی وہ کارپنٹر باس سے گویا ہوا کہ سر اب مجھے رخصت چاہیے اب میں مزید
00:45بوجھ نہیں اٹھا سکتا
00:47آپ کے ساتھ 35 سالہ رفاقت بہت اچھی رہی
00:50مالک بولا کہ ابھی تمہاری عمر سبکہ دوش ہونے کی تو نہیں ہے
00:54مجھے لگتا ہے کہ تم میں اب بھی کام کرنے کی بھرپور حمد موجود ہے
00:59باس نے اسے کافی قائل کرنے کی کوشش کی مگر وہ تو ذہن بنا کر آیا تھا
01:05کہ اب اس دفتر میں اس کا آخری دن ہوگا
01:08اس لیے اپنی بات پر اسرار کرتے ہوئے بولا
01:11کہ سر میں نے مزدوری میں اپنی زندگی کھپا دی
01:14مگر میں اب چاہتا ہوں کہ اپنا بچا ہوا وقت اپنے پیاروں کے ساتھ گزاروں
01:18مالک اس کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے بولا
01:21کہ ٹھیک ہے تم ریٹائرمنٹ لے سکتے ہو
01:23مگر میری خواہش ہے کہ تم ایک آخری منصوبہ ہمارے ساتھ مکمل کرو
01:27باس کی فرمائش سن کر اس نے دل میں سوچا
01:30کہ انہیں اب ہی نیا کام یاد آیا
01:33جب میں نے نوکری چھوڑنے کا کہہ دیا
01:35خیر وہ بادلے ناخواستہ مالک کی بات پر راضی ہو گیا
01:39اب اگلے روز سے وہ پروجیکٹ پر کام کرنے لگا
01:43مگر وہ لگن اور وہ جان فشانی اس کام میں نظر نہیں آ رہی تھی
01:47جو پہلے والے منصوبوں میں ہوتی تھی
01:49اسے کوئی پرواہ نہیں تھی کہ لکڑی کہاں سے آ رہی ہے
01:52اور کیسی ہے
01:53وہ بس جلد اس جلد یہ کام نمٹا کر جان چھڑانا چاہتا تھا
01:58بہت جلد ہی وہ مکان اپنے انجام کو پہنچا
02:01کارپینٹر مالک کے پاس آیا
02:02اور عرض کی کہ سر میں نے آخری کام بھی مکمل کر لیا ہے
02:06اب مجھے اجازت دے دیں
02:08مالک بولے کہ ٹھہرو
02:09اور انہوں نے میز کی دراز سے ایک چابی نکال کر
02:13اس کارپینٹر کو تھمائی اور کہا
02:15کہ تم نے پینتیس سال خوب محنت سے ہمارے لیے کام کیا
02:19میں نے سوچا کہ جاتے جاتے تمہیں ایک تحفہ دے دوں
02:23یہ گھر آج سے تمہارا ہے
02:25چابی دیکھ کر کارپینٹر ششدر رہ گیا
02:28کیونکہ یہ اسی مکان کی چابی تھی
02:30جسے اس نے غفلت اور لاپرواہی سے تیار کیا تھا
02:33کارپینٹر دل ہی دل میں پچھتانے لگا
02:36کہ کاش مجھے پہلے علم ہوتا
02:39تو میں اس گھر کی تعمیر نہایت اندہ طریقے سے کرتا
02:43دوستو ہم اسی طرح کی خطائیں اپنی زندگی میں کئی بار کرتے ہیں
02:48کہ کاش مجھے پہلے پتا ہوتا
02:50ہم اپنی زندگی کے ہر ایک لمحے میں
02:53اسی عمارت کو تعمیر کر رہے ہوتے ہیں
02:55جس میں ہمیں خود کسی دن رہنا ہے
02:58جیسے اگر ہم کوئی نیکی کرتے ہیں
03:00تو بظاہر وہ ایک معمولی کام ہوتا ہے
03:02مگر اس کے بدلے ہمارے لیے آخرت میں مقام تیار ہوتا ہے
03:06ہر کام کو کرنے سے پہلے ایک بار یہ ضرور سوچیں
03:09کہ کیا بعد میں مجھے یہ تو نہیں کہنا پڑے گا
03:13کہ کاش میں یہ بہتر طریقے سے کر چکا ہوتا
Comments

Recommended