Skip to playerSkip to main content
Beti Bemar Hai Sahib - EK MajbooriBaap Ki Dastan
Voiced By: Qadir Kalhoro
#motivationalvideo #motivational #story #storytime #storytelling #storyteller #qadirkalhoro

Category

📚
Learning
Transcript
00:00شهرے کی رنگت اوڑی ہوئی، آنکھوں کے گرد دکھوں کے پہرے، الجھے ہوئے بال اور کپ کپاتا لہجا، وہ روزانہ
00:07صبح میری دکان کی دہلیز پر آگ کھڑا ہوتا، اس کی آنکھوں میں ایک ایسی شکست تھی جو صرف وہ
00:13باپ محسوس کر سکتا ہے جس کی کل کائنات دعو پر لگی ہو، وہ ہاتھ جوڑ کر بس ایک ہی
00:19التجا کرتا، صاحب میری بیٹی بیمار ہے، اس کا آپرشن ہونا ہے، خدا کے لیے میری مدد کر دیں، اللہ
00:27آپ کو اس کا عجر دے گا
00:28میں جو اپنے کاروبار کے حساب کتاب میں مگن کلکیولیٹر پر انگلیاں چلاتا رہتا، اسے حکارت بھری نظروں سے دیکھتا
00:36اور کاٹ دار لہجے میں کہتا، اچھا اب یہ نیا طریقہ نکالا ہے تم لوگوں نے، کبھی ماں بیمار، کبھی
00:43بیوی، کبھی بیٹی، بھلے جنگے ہو، کوئی کام کیوں نہیں کرتے، وہ نظریں جھکا کر ہولے سے کہتا، صاحب کام
00:50کرتا ہوں، مگر تین سو کی دہاڑی میں تو بمشکل گھر کا چولا جلتا ہے، بیٹی کا علاج کہاں
00:57اسے کروا ہوں، آپ اللہ کے نام پر کچھ دے دیں، میں عمر بھر آپ کا احسان مند رہوں گا،
01:02میں بڑھ بڑھاتے ہوئے گویا اپنی زندگی کی تمام جمع پونجی لٹا رہا ہوں، دس روپے کا نوٹ اس کی
01:08طرف اچھال دیا اور ساتھ میں سو باتیں بھی سنا دیں، وہ خاموشی سے نوٹ اٹھاتا، دھیروں دعائیں دیتا اور
01:16رخصت ہو جاتا، یہ روز کا معمول بن گیا تھا، ایک دن والد صاحب نے پانچ سو روپے دیئے کہ
01:22کسی مستحق کو دے دینا، میں دکان پر ب
01:24اٹھا ہی تھا کہ وہی شخص دوبارہ نمودار ہوا، حسب معمول میں نے پہلے اسے خوب لتارا، غصے سے پانچ
01:32سو کا نوٹ اس کی طرف بڑھایا اور دھمکایا کہ یہ پکڑو یہ تمہارے اگلے چھے ماہ کی خیرات ہے،
01:38اب چھے مہینے تک یا نظر نہ آنا، ورنہ خیر نہیں تمہاری، وہ ہمیشہ کی طرح سر جھکائے، دعائیں دیتا
01:44ہوا، نظروں سے اوجھل ہو گیا، اس بات کو دو ہفتے گزر گئے، ایک دن میں اپنے اسسٹنٹ کے ساتھ
01:51ہنسی مزاق میں
01:52مصروف تھا کہ اچانک وہ سامنے آ کھڑا ہوا، اسے دیکھتے ہی میرا پارا چڑھ گیا، پھر آ گئے تم،
01:58حیاء نہیں آتی، میں نے کیا کہا تھا تم سے، وہ چپ چاپ کھڑا رہا، پھر دھیرے سے اپنی مٹھی
02:03میرے کاؤنٹر پر کھول دی، اس میں کچھ پیسے تھے، میں نے حیرت سے پوچھا یہ کیا ہے، اس نے
02:09بھرائی ہوئی آواز میں جواب دیا، صاحب آپ نے جو پیسے دیئے تھے، ان میں سے یہ کچھ بچ گئے
02:15ہیں، وہ واپس کرنے آیا ہوں، میں نے پوچھا کی
02:18کہنے لگا کیونکہ میری بیٹی کا پچھلے ہفتے انتقال ہو گیا ہے، اب مجھے ان پیسوں کی ضرورت نہیں رہی،
02:25میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی، وہ بولتا رہا، صاحب میں مجبور تھا، پیشاور فقیر نہیں تھا، آپ کا
02:32بہت شکریہ جو آپ نے میرے مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا، اللہ آپ کو کبھی کسی چیز کی کمی
02:38نہ دے، وہ شکریہ ادا کر کے مڑا اور اپنی سسکیاں چھپاتا ہوا بھیڑ میں کہیں گم ہو گیا، میں
02:45ساکت اپنی کرسی پر بیٹھ
02:47وہ مٹھی بھر پیسے کاؤنٹر پر نہیں جیسے میرے زمیر پر پڑے تھے، مجھے ایسا لگا جیسے زمین پھٹ جائے
02:54اور میں اس میں کہیں دفن ہو جاؤں، میرے حلق میں دکھ کا ایک ایسا گولہ اٹک گیا جسے نہ
03:01نگلا جا سکتا تھا، نہ تھوکا جا سکتا تھا، دوستو ہم انسان بھی کتنے عجیب ہیں نا، کسی مجبور کی
03:07مدد کرتے ہوئے اسے اس کی غریبی کا احساس دلا کر اپنی نیکی کو گناہ میں بدل دیتے ہیں، اللہ
03:14نے ہمیں اتنی ن
03:15قیمتیں بن مانگے دی ہیں، مگر ہم اس کے بندوں کو دیتے وقت حساب کرتے ہیں اور شک کی نگاہ
03:22سے انہیں دیکھتے ہیں، یاد رکھئے کہ ہمیشہ مدد صدق دل اور احترام کے ساتھ کرنی چاہیے، نیکی وہی ہے
03:29جو دوسروں کا بھرم رکھ کر کی جائے، اللہ ہمیں سچے دل سے عمل کرنے اور انسانیت کا احترام کرنے
03:37کی توفیق عطا فرمائے، آمین
Comments

Recommended