Skip to playerSkip to main content
ادب نامہ قسط 7: مجازؔ لکھنوی | Adab Nama: Majaz Lakhnawi
نیشنل ہیرالڈ، نو جیون اور قومی آواز کی اس قسط میں اردو شاعری کے ایک منفرد، حساس اور فکری طور پر بے باک شاعر مجاز لکھنوی کی شاعری، فکری اضطراب، عہد سے مکالمے اور تہذیبی معنویت پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس نشست میں مجازؔ لکھنوی کے اس منفرد تخلیقی اسلوب کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے جس میں رومان محض ذاتی جذبہ نہیں رہتا بلکہ تہذیبی زوال، شہری تنہائی اور اجتماعی سوالات سے جڑ کر ایک پورے عہد کی آواز بن جاتا ہے۔ مہمانِ خصوصی معین شاداب نے مجازؔ لکھنوی کے خطیبانہ لہجے، غزل اور نظم میں ان کے بیانیہ اسلوب، ترقی پسند فکری پس منظر اور نوجوان نسل پر ان کی شاعری کے اثرات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے واضح کیا کہ مجازؔ نے کس طرح شاعری کو محض جمالیاتی تجربہ بنائے رکھنے کے بجائے انسانی اضطراب، سماجی بے چینی اور آزادی کے عہد کی جدوجہد سے جوڑ دیا، اور آج کے قاری اور نئے لکھنے والوں کے لیے ان کا مطالعہ کیوں ناگزیر ہے۔
#Adabnama #MajazLakhnawi #UrduPoetry

Category

🗞
News
Transcript
00:00نیشنل ہیرارڈ نفجیون اور قومی آواز کے مشترکہ عدبی پروگرام عدب نامہ میں آپ کا تہہ دل سے استقبال ہے
00:15میں ہوں عمران ایم خان اور آج کی نششت میں ہم ذکر کریں گے
00:19اردو شاعری کے ایسے منفرد اور بیچین تقلیقی وجود کا
00:24جس نے غزل کو رومان سے نکال کر اہد کی دھڑکن بنا دیا
00:28ہم بات کر رہے ہیں مجاز لکنوی کی
00:31وہ شاعر جس کے یہاں محبت صرف جذبہ نہیں بلکہ احتجاج بھی ہے
00:36اور خواب صرف ذاتی نہیں بلکہ اجتماعی معنی رکھتے ہیں
00:40مجاز کی شاعری میں ایک طرف نرمی اور جمال ہے
00:43تو دوسری طرف انکار بے قراری اور سماجی سوال کی گونج بھی سنائی دیتی ہے
00:49وہ عشق کو بھی اہد کے قرب سے الگ نہیں کرتے
00:53اور انقلاب کو بھی انسانی لمس کے بغیر قبول نہیں کرتے
00:58مجاز کے اسی داخلی قرب اور تخلیقی استعراب کو
01:02ان کے اشکار بہت گہرے طور پر سمیٹ لیتے ہیں
01:05مجاز لکنوی ترقی پسند تحریک سے بابستہ ہونے کے باوجود
01:10محض نارا گو شاعر نہیں تھے
01:12ان کے یہاں رومان سیاست اور ذاتی تنہائی ایک دوسرے میں
01:16اس طرح مدغم ہیں کہ شیر محض بیان نہیں تجربہ بن جاتا ہے
01:21آج کی اش نسست میں بھی ہمارے ساتھ موجود ہیں
01:24اردو شائری فکری تنقید اور تہذیبی متعلق کے
01:28ایک معتبر اور حساس خاری مہین شاداب بر
01:31شاداب صاحب عدب نامہ میں ایک بار پھر آپ کا خیر مقتم ہے
01:35آپ کی خیرات اور تنقیدی بصیرت
01:37ہمیشہ گفتگو کو گہرائی عطا کرتی ہے
01:40ہم گفتگو کا آغاز یہاں سے کرنا چاہیں گے
01:43کہ مجاز لکنوی کی شخصیت
01:45ان کی ذاتی تنہائی
01:47نفسیاتی کشمکش
01:48اور ان کا باغی مزاج
01:50کس طرح ان کی شائری میں
01:52علامت استعارے اور لہجے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے
01:56دیکھئے
01:58عبران صاحب
02:00آپ نے بہت سے جواب
02:02اپنے سوال میں ہی دے دیے ہیں
02:04کہ جس طرح سے انہوں نے
02:06رومان کو حقیقت سے
02:07ہم آہنگ کیا
02:10تو دراصل
02:11مجاز کی جو شائری ہے
02:15دراصل وہ ان کی داخلی زندگی کا آئینہ ہے
02:18لیکن کمال یہ ہے
02:21کہ جو ان کی داخلی زندگی ہے
02:24جس میں تنہائی ہے
02:25تو یہ تنہائی
02:27محض ان کی تنہائی نہیں رہ جاتی ہے
02:30جب وہ شائری کرتے ہیں
02:31جب وہ حضل کہتے ہیں
02:33جب وہ نظمہ کہتے ہیں
02:35بلکہ یہ تنہائی
02:36کہیں نہ کہیں
02:37ایک سماجی تنہائی کا حصہ بن جاتی ہے
02:40ایک فکری تنہائی کا حصہ بن جاتی ہے اور جو پورا ایک ادبی محول تھا اس میں جو تنہائی کی مختلف قیفیات ہو سکتی ہیں اس کا حصہ بن جاتی ہے
02:51تو اس طرح بہت سی علامتیں جو ان کی داخلی زندگی اور سماجی زندگی کی تنہائی کو پیش کرتی ہیں اور جس میں ایک رومانی تصور بھی ہے
03:00اور وہ بات بھی ہے جس کا آپ نے ذکر کیا کہ وہ اس کو انقلاب سے جوڑتی ہے یا اتجاز سے جوڑتی ہے
03:06اس رات ہے شہر ہے سناٹا ہے اندھیرہ ہے چراغ ہے تو یہ لفظیات بار بار مجاز لکنوی کی شائنی میں آتے ہیں
03:18اور کبھی اس تارے کے صورت میں آتے ہیں کبھی تشبیح کی صورت میں آتے ہیں کبھی اس صورت علائم کی شکل میں آتے ہیں
03:26اور یہ اس تارے محض جمالیاتی نہیں ہے آپ غور کیجئے کہ جن لفظوں کا میں نے ذکر کہہ چاہے وہ رات ہو شہر ہو ترہائی ہو سناٹا ہو اندھیرہ ہو
03:35یہ سب کہیں نہ کہیں رومانی اس تارے ہم کو لگتے ہیں جمالیاتی اس تارے لگتے ہیں لیکن یہ محض جمالیاتی اس تارے نہیں رہ جاتے ہیں
03:45بلکہ یہ سوال اٹھاتے ہیں اور ایسے سوالات اٹھاتے ہیں ایسے سوال قائم کرتے ہیں کہ قاری چون پڑتا ہے
03:53اور یہی مجاز کی سب سے بڑی خوبی ہے جس نفسیاتی کشمکش کا آپ نے ذکر کیا
03:59یہ نفسیاتی کشمکش مجاز لکنبی کو ایک بیچینی سے یا ایک استراف سے جوڑ دیتی ہے
04:07یا اس نفسیاتی کشمکش سے انہیں کہ استراف کی کیفت پیدا ہوتی ہے
04:12ایک بیچینی کی فضا پیدا ہوتی ہے
04:15لیکن جو ان کا باغی مزاج ہے
04:17مزاج ان کا باغیانہ تھا
04:19اس کے ان کے نظموں میں ظاہر ہے
04:21ان کے غزلوں میں بھی پوری زندگی سے ان کے ظاہر ہوتا ہے
04:24تو اس باغیانہ مزاج نے
04:26یا ان کے مزاج کی بغاوت نے
04:28ان کے باغی مزاج نے
04:30اس استراف کو اس بیچینی کو جو ان کے داخلی بیچینی تھی
04:33اور جو کبھی کبھی سماجی اور فکری بیچینی بن جاتی ہے
04:36اس کو احتجاج کی شکل میں تبدیل کر دیا تھا
04:40مزاج کی شاعری میں
04:43رومان اور انقلاب اکثر ایک ہی سانس میں نظر آتے ہیں
04:47آپ کے نزدیک یہ امتظار شہوری تھا
04:50یا مزاج کے عہد اور حالات خود بخود استمت لے گئے
04:54دیکھتے کچھ باتوں کا ذکر پہلے بھی اس میں آیا
04:56تو یہ بہت اچھا سوال ہے
04:58کہ یہ پتری تھا یا شہوری تھا
05:02تو یہ اس میں دونوں شکلیں ملتی ہیں
05:04عمران صاحب
05:05یہ جو رومان انقلاب ہے
05:08یہ شعوری بھی تھا
05:11اور لا شعوری بھی تھا
05:12شعوری اور لا شعوری کے درمیان کی کیفیت کو
05:16آپ اس انداز سے دیکھ سکتے ہیں
05:18کہ جہاں جب مجاز کا عہد تھا
05:19جب مجاز کی فکر پروان چڑھ رہی تھی
05:22جب مجاز شیر کہہ رہے تھے
05:24ان کی فکر پر دوسرے شورہ کی چھاپ تھی
05:27اس زمانے میں
05:28فراق جیسے بڑے شہر
05:30اور اور بھی کئی اہم لوگ تھے
05:32جو اس وقت موجود تھے
05:34اور ایک بڑا ایک عجیب و غریب صورتحال تھی
05:38یہ جو عہد تھا یہ آزادی کی تحریک کا عہد تھا
05:41بنیادی طور پر
05:42اور اس وقت جب آزادی کی تحریک تھی
05:44اس کا پورا منظر نامہ آپ کے سامنے بھی ہوگا
05:47کہ جب آزادی کی تحریک تھی
05:49جو معاشی نائنصافیاں ہو رہی تھی
05:51ایک تہذیبی شکر
05:53تو ریخ سے ہمارا معاشرہ اور ہمارا ملک
05:55گزر رہا تھا
05:56تو ایسے میں صرف رومان
05:58جو ہے
05:59صرف ذاتی تجربہ نہیں رہ جارتا ہے
06:02تو مجاز نے یہ ثابت کیا
06:04کہ اس صورتحال میں
06:06کہ جب ہم ایک تہذیبی زوال کا شکار ہیں
06:08ایک انہتاد پذیر قوم کا حصہ
06:10ہم کو بنایا جا رہا ہے
06:11اور آزادی کی جنگ
06:13نوجوان لڑ رہے ہیں
06:15ہمارے اکابلین لڑ رہے ہیں
06:16تو اس وقت
06:17رومان کو صرف ہم
06:19ذاتی جذبات یا احساسات تک
06:22محدود نہیں کر سکتے ہیں
06:23اس لئے مجاز نے محبت کو
06:25فرد تک محبود محدود نہیں رکھا
06:28بلکہ اس کو سماج سے جوڑ دیا
06:29سماج کی مستقبل سے جوڑ دیا
06:32اور یہ انقلاب جو ہے
06:34جس کا ذکر ہو رہا ہے
06:36کہ رومان انقلاب کے ایک آمیز دشن
06:38ان کے آیا ہے
06:38تو یہ انقلاب جو ہے
06:40ان کے اسی رومان کا نتیجہ ہے
06:42اور اسی کا نتیجہ ہے
06:45اور یہ منطقی بھی ہو سکتا
06:46اور غیر منطقی بھی ہو سکتا ہے
06:48اور رومان جو ہے
06:50انہوں نے اس کو انقلاب کی زبان بنا دیا ہے
06:52آپ کو یہ ضرور یاد ہوگا
06:54میں یہاں پیش کرتا ہوں
06:56ان کے ترے ماتھے پر یہ آنچل بہت خوب ہے
06:57لیکن
06:58تو اس آنچل سے ایک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا
07:01یہ لہجہ کہیں نہیں ملتا ہے
07:03کہ یعنی ایک طرح سے
07:05جو ہماری خواتین تھی
07:07اور جن کو ایک خاص قسم کی
07:09پابندیوں میں رکھا جاتا تھا
07:11وہاں انہوں نے اسی آنچل کی بات کرتے ہوئے
07:14اس کو انقلاب سے جوڑا ہے
07:17اس کو بغاوہ سے جوڑا ہے
07:18تو یہ ان کی خوبی تھی
07:20کہ انہوں نے رومان اور انقلاب کو جو ہے
07:21ہم آہن کر دیا تھا
07:23لیکن یہ ان کی کوشش ہے
07:24آپ کا جواب
07:25سوال کا جواب یہی کہ یہ کوشش شعوری بھی تھی
07:28اور لا شعوری بھی تھی
07:30اس وقت اس طرح کے شورہ بھی تھے
07:31جو اس طرح کی شاعری کر رہے تھے
07:33تو رومان کو
07:34حقیقت سے ہم آہن کرتا ہے
07:36یہ مجاز کے سب سے بڑی خوبی ہے
07:37اور مجاز اسی لیے پہچانے جاتے ہیں
07:39بہت دور سے
07:40اکثر کہا جاتا ہے
07:43کہ مجاز نے گزل کو ذاتی جذبات سے نکال کر
07:46اجتماعی احساس سے جوڑا
07:48یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری آج بھی
07:51نوجوانوں سے براہ راست مکالمہ کرتی ہے
07:54بلکل مجاز کی یہ بڑی کامیابی تھی
07:57یہ سب سے بڑی کامیابی مجاز کی تھی
07:59کہ انہوں نے
08:00غزل کو ذاتی جذبات سے
08:03استماعی احساس کے تبدیل کر دیا تھا
08:05یعنی اس کو آسان زبان میں
08:08یوں سمجھ سکتے ہیں کہ ان میں کو
08:09ہم میں بدل دیا تھا
08:11اور ان کا دکھ پھر ذاتی دکھ نہیں رہ جاتا ہے
08:14اور کسی بھی شاعر کا دکھ ذاتی دکھ نہیں ہوتا ہے
08:17بلکہ وہ استماعی دکھ کو بھی
08:19اپنا دکھ سمجھ لیتا ہے
08:20اپنے دکھ کو اس طرح پیش کرتا ہے
08:22کہ وہ جگدیتی بن جاتا ہے
08:24تو آج کی جو پوری نسل ہے
08:26یا اس زمانے کی جو نسل تھی
08:27وہ ان کے خواب تھے
08:30ان کے شکستگی تھی
08:32اور آج کے نوجوان کو
08:34اگر آپ دیکھیں
08:35جب مجاز شاعری کر رہے تھے
08:36وہ بھی نوجوان تھے
08:37ان کے ہر کچھ خواب تھے
08:39کچھ جذبات تھے
08:39احساسات تھے
08:40اور ان کی شکرت و ریخ کا عمل بھی جائی تھا
08:43لیکن آج بھی نوجوان
08:45اگر ہم غور کریں
08:47اس لیے خود کو مجاز کی شاعری میں پہچان رہا ہے
08:49اپنا چہرہ مجاز کی شاعری کے آئینے میں
08:52اس لیے دیکھ رہا ہے
08:53کہ وہ صورت احائی جو پل تھی
08:56وہی تقریباً آج بھی ہے
08:57وہی بے یقینی ہے
09:00وہی سوال ہیں
09:01وہی خواب ہیں
09:02وہی احتجاج ہے
09:03وہی سیاسی اور سماجی فضا
09:06کموں بیش رد و بدل کے بعد
09:08اسی قسمی کی ایک فضا بھی ہے
09:10وہی ایک تہذیبی زوال کا دور ہے
09:12وہی نوجوانوں کے مسائل ہیں
09:15تو اس لیے آج کا نوجوان
09:17آج کا نیا ذہن
09:18خود کو مجاز کے بہت قریب پاتا ہے
09:22شعب و رسول کا ایک شعر ہے
09:23انہوں نے کہا تھا کہ کچھ بھی نہیں بدلا یہاں
09:26کچھ بھی نہیں بدلا
09:27آنکھیں بھی وہی خواب پریشاں بھی وہی ہیں
09:30وہی آتے ہیں
09:32وہی خواب ہیں
09:33وہی خواب پریشاں ہیں
09:34تو اس لیے
09:35انہوں نے ان کی غزل جو ہے
09:37آج کے نوجوان کی جذباتی
09:39کے جذبات کی بھی ایک کاسی کرتی ہے
09:42اس پر ایک نئی نسل بڑی تعداد میں ہے
09:44تو آج کا چاہے نوجوان ہو
09:46چاہے بڑے ہو یا بزرگ ہو
09:47جو بھی سہد میں ساز لے رہا ہے
09:49وہ پوری طرح سے مجاز سے
09:51خود کو ہم آہنگ پتا ہے
09:53اور یہی براہ راست مقالمہ جو ہے
09:56مجاز کو وقت کی قیس سے آزاد کر دیتا ہے
10:00کہ مجاز کسی ایک اہد کے شاعر بن کر نہیں رہ جاتے
10:03بلکہ وہ ہر اہد کا شاعر بن جاتے ہیں
10:05کیا خوب نکتہ اٹھایا آپ نے مزاج کی اثری معنوبیت
10:09کو نہایت سادہ مگر گہری زبان میں بیان کیا
10:12اگلا سوال یہ کہ مجاز کا لہجہ
10:15اکثر خطیبانہ بھی محسوس ہوتا ہے
10:17اور کہیں کہیں انتہائی ذاتی اور خاموش بھی
10:20یہ تضاد ان کے شعری اسلوپ کو کیسے منفرد بناتا ہے
10:25امنان صاحب یہ تضاد جو ہے دراصل مجاز کی شخصیت کا ایک فطری اظہار تھا
10:31یہ چیز ان کی شخصیت میں تھی جو ایک ورسٹائل پرسنیلیٹی جس کو کہہ سکتے ہیں
10:36کہ جو خود کو وقت کے مطابق تبدیل کرنا جانتا تھا
10:40جو ماحول کے مطابق جو ہے اپنا سلوک کرنا جانتا تھا
10:45اسی لئے ان کے ہاں جب خطیبانہ لہجہ آتا ہے
10:47تو اس لئے آتا ہے کہ جب وہ سماس سے مخاطب ہوتے ہیں
10:51تو ان کا لہجہ خطیبانہ ہو جاتا ہے
10:53اس لئے کہ اس وقت یہ ضرورت پڑھتی ہے
10:57کہ ہم ایک مجمع سے مخاطب ہیں
10:58تو ان کی چاہے غزلیں ہو یا نظمیں ہو
11:02ان کی جو نظمیں خاص طور پر ہیں
11:03تو اس میں وہی خطیبانہ انداز ہے
11:05اور وہ اسی لئے خطیبانہ انداز ہے
11:09کہ ایک بڑے سماج کو ایک بڑے تقیب کو
11:12براہ راست مخاطب کر رہے ہوتے تھے
11:15وہ صرف اشاروں اور کنائیوں کی بات نہیں کر رہے ہوتے تھے
11:19غزل کی طرح
11:20تو غزل اور چاہے نظم ہو
11:23وہ پراہ راست ان کی غزل اور ان کی نظم خاص طور سے خطاب کرتی تھی
11:27لیکن جب وہ خود سے باتیں کرتے تھے
11:30اپنے ذاتی تضربات بیان کرتے تھے
11:32اپنے پرسنل جو ان کے سنٹیمنٹس تھے
11:35جو ان کے احساسات تھے
11:37ان کا اظہار وہ اپنی غزلوں میں کرتے تھے
11:40تو پھر وہ ایک خود کلامی کی صورت اختیار کر لیتا تھا
11:44یہ پورا مقارمہ
11:45اور اس میں ان کا لہجہ دھیمہ ہو جاتا تھا
11:48آواز دھیمی ہو جاتی تھی
11:49اس میں شائستگی ہو جاتی تھی
11:51اور یہی چیزیں ان کے کلام کو ہمارنگ بناتی ہیں
11:56یہ جو دو لہجہ تے خطبانہ
11:57اور ایک ذاتی لہجہ ان کا
12:00خود سے باتیں کرنا
12:01اپنی باتیں کرنا
12:02یہ ان کی شائری کا دوسرا لہجہ تھا
12:05تو یہ جو خوبی تھی
12:07ان کو ایک رنگی سے بچاتی ہے
12:10کہ ان کی شائری کسی ایک رنگ کی ہو کر نہیں رہ جاتی ہے
12:12بلکہ اس کے مختلف رنگ ہے
12:14مختلف روپ ہے
12:15اس کی بہت سے خوش ہوئے ہیں
12:16تو یہی ان کی ایک اور بڑی خوبی تھی
12:19کہ ان کے ہاں ہمارنگی بہت بلتے تھی
12:21آپ کی باتوں سے مجاز کی شائری کا داخلی آہنگ
12:25صاف سنائی دینے لگا
12:26اگرہ سوال بلکہ یہ مرحلہ ہے
12:29اب وہ مرحلہ جس کا ناظرین کو
12:31ہمیشہ انتظار رہتا ہے
12:32شادہ آپ صاحب ہم چاہیں گے
12:34کہ آپ مجاز لکنوی کے چند منتخب اشعار
12:37اپنی آواز میں پیش کریں
12:38اور یہ بھی بتائیں
12:39کہ ان اشعار میں
12:41کرب جواب احتجاج
12:44کس طرح ایک دوسرے میں جذب ہو جاتے ہیں
12:47بات کی پہلی بات تو میں یہ بتا دوں
12:50کہ میں نے بھی ذکر بھی کیا تھا
12:51اور فراہ کا نام لے کر میں نے بس کیا تھا
12:53کہ اس زمانے فراہ تھے
12:54جوش تھے
12:55فیض تھے
12:56مغدوم تھے
12:57جانزار اختر تھے
12:58اور یہ سردہ جاپری بڑی آوازیں تھیں
13:00چلے تھا
13:02اس وقت مجاز کے لیے
13:03لیکن مجاز نے
13:04ان تمام بڑے شورہ کے درمیان رہتے ہوئے
13:07اپنی خاص پہچان بڑھائی تھی
13:09تو اس پر شاید ان کی فکر کا بھی کمال تھا
13:12ان کے جو سماج کے تائیں
13:14ان کے جو روحیے تھے
13:15جو ان کا سنوک تھا
13:16جو ان کا احساس تھا
13:17اس کا بھی کمال تھا
13:18کچھ شیر ان کے بہت مشہور اشار ہیں
13:20میں وہیں سے پہلے آغاز کرنا چاہتا ہوں
13:23کچھ جن شیر پڑھ دیتا ہوں
13:25کچھ شیر میں نے نوٹ بھی کیا ہے آپ کے لیے
13:28کہ کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی
13:30کچھ تمہاری
13:32کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی
13:35کچھ مجھے بھی خراب ملا تھا
13:37براہ ان کا یہ بڑا عام سا
13:39بڑا سیلی ممتانہ کا شیر ہے
13:42دوسر شیر سنجی
13:43کہ دفن کر سکتا ہوں
13:44سینے میں تمہارے راز کو
13:46دفن کر سکتا ہوں
13:49سینے میں تمہارے راز کو
13:51اور تم چاہو تو افثانہ بنا سکتا ہوں
13:54اور تم چاہو تو افثانہ بنا سکتا ہوں
13:58اب دیکھیں یہ رومان بھی ہے
13:59اور یہ تجاج بھی ہے
14:01یہ انقلاب بھی ہے
14:02یہ وہی ہے جس کا ذکرح آپ نے کیا
14:04کہ کرب اور خواب کی جو
14:06علامتیں ہیں وہ سب کچھ اس میں
14:07اس شیر میں موجود ہے
14:09مجھ کو یہ عرضو وہ اٹھائیں نقاب خود
14:12مجھ کو یہ عرضو وہ اٹھائیں نقاب خود
14:16ان کو یہ انتظار
14:18تقاضہ کرے کوئی
14:19اب یہاں دیکھ یہ تقدس ہے عشق کا
14:22جو عشق کی ایک پاکزگی
14:24ہو سکتی ہے جب ڈیوائن لوگ ہو سکتا ہے
14:26جہاں
14:28کچھ خواب ہیں جن کو
14:30بے لباس نہیں کیا جا سکتا ہے
14:32جہاں کچھ حضابات ہیں
14:33تکلفات ہیں
14:34اسی کا اظہار اپنے شیر میں کر رہا ہے
14:38کہ مجھ کو یہ عرضو وہ اٹھائیں نقاب خود
14:40ایک دوسرے کا انتظار ہو رہا ہے
14:42ان کو یہ انتظار تقاضہ کرے کوئی
14:45تو یہ جو ایک تکلف کی
14:46صورتحال تھی
14:47یہ اسی استراب کا ایک طرح کا
14:50ذکر ہے اسی کرب کا ذکر ہے
14:52جس کی جانب آپ نے اشارہ کیا
14:53حسن کو بے ہجاب ہونا تھا
14:56شوق کو کامیاب ہونا تھا
15:00حسن کو بے ہجاب ہونا تھا
15:02شوق کو کامیاب ہونا تھا
15:04حجر میں کیفے
15:06اس قراب نہ پوچھ
15:08حجر میں کیفے استراب نہ پوچھ
15:11خون دل بھی شراب ہونا تھا
15:14یہ اسی
15:15کرب کا اور اس کا ذکر ہے
15:18اور یہ شیر انقلابی بھی ہے
15:19حسن کو بے ہجاب ہونا تھا
15:21شوق کو کامیاب ہونا تھا
15:22حجر میں کیفے استراب نہ پوچھ
15:24کوئی ایک استراب کی کیفے تھے
15:26خون دل بھی شراب ہونا تھا
15:30اور ان کی کچھ نظمیں بہت مشہور ہیں
15:34عبران بھائی
15:35جیسے آوارہ ان کی نظم ہیں
15:37جو ایک بڑی مشہور نظم ہے ان کی آوارہ
15:39اور یہ نظم بڑی مقبول ہوئی تھی
15:42اور ایک فلم بنی تھی
15:44ٹھوکر انیس سو تریپن میں
15:46اس میں اس نظم کو جو ہے
15:48طلت محمود کی آواز میں سنوایا گیا تھا
15:51طلت محمود نے
15:52کلام بھی شاندار تھا
15:53آواز بھی اچھی تھی طلت محمود کی
15:55جو قجیب و غریب حسن پیدا ہوا تھا
15:57اے غمی دل کیا کروں
15:59اے وحشتے دل کیا کروں
16:00یہ بڑی خوبصورت نظم ہے
16:02اس کا ایک بند سننا چاہیے ہے
16:03مقابلوں کے ساتھ ساتھ
16:05اے غمی دل کیا کروں
16:06اے وحشتے دل کیا کروں
16:09شہر کی راتوں میں
16:12ناشادو ناکارا پھروں
16:13جگ مگاتی دوڑتی
16:15سڑکوں پہ آوارا پھروں
16:17غیر کی بستی سے کب تک
16:19در بہتر مارا پھروں
16:20اے غمی دل کیا کروں
16:22اے وحشتے دل کیا کروں
16:24یہاں یہ بھی تذکرہ ضروری ہے
16:25بعد جب شائری کی چلی کے
16:27مجاج نے بچوں کے لیے بھی شیر گئے
16:28اور ان کے مشہور نظم
16:30ریل کے بہت سے اشار بہت مشہور ہیں
16:32اور اس وقت تو پڑھایا جاتے تھے
16:34نصابات میں اب تو
16:35اندازہ نہیں کہ پڑھایا جاتے ہیں نہیں ہیں
16:37پھر چلی ہے
16:38ریل اسٹیشن سے لہراتی ہوئی
16:40نیم شب کی خامشی میں
16:42زیر لب گاتی ہوئی
16:43جیسے موجو کا ترنم
16:45جیسے جل پریوں کی گیت
16:47اب دیکھیں جیسے موجو کا ترنم
16:48وہ حس شائری بنا رہا ہے
16:50یعنی ریل کا بھی ذکر کر رہا ہے
16:52مجاج تو اس میں ایک رومانی فضاء ہے
16:54اس میں ایک حسن ہے
16:55جو تغزل آمیز ہیں
16:57وہ نظم کے اشار ہیں
16:58کیا خوبصورت اشار ہیں
17:00کہ پھر چلی ہے
17:01ریل اسٹیشن سے لہراتی ہوئی
17:02نیم شب کی خامشی میں
17:04زیر لب گاتی ہوئی
17:05جیسے موجو کا ترنم
17:07جیسے جل پریوں کے گیت
17:08ایک لیمہ ہزاروں زمزمیں گاتی ہوئی
17:12جس طور پر منزل مقصود کی
17:14دیجوانہ وار
17:15اپنا سر دھنتی فضاء میں
17:17بال بکراتی ہوئی
17:18الغرز وہ دوڑتی جاتی ہے
17:21بے خوف و خطر
17:22شائر آتش نفس کا خون کھولاتی
17:24یہ بچوں کے لئے نظم لکھ رہے ہیں
17:26بڑی خوبصورت نظم لکھ رہے ہیں
17:28ایک نظم ان کی بہت مشہور ہے
17:31جس کا وہی شعر میں آپ کو سنایا تھا
17:33کہ تو اس آنچل سے ایک پرچم
17:34بنا لیتی تو اچھا تھا
17:36تو اس کا جو مطلع ہے
17:37کہ ہجاب فتنہ پرور
17:39اب اٹھا لیتی تو اچھا تھا
17:41خود اپنے حسن کو پردہ
17:42بنا لیتی تو اچھا تھا
17:44تیرے ماتھے پر یہ آنچل بہت ہی خوب ہے
17:46لیکن تو اس آنچل سے
17:47ایک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا
17:49ایک خدل کے چیند شعر اور پڑھ دیتا ہوں
17:52کہ میں بہت
17:53سرکش ہوں لیکن ایک تمہارے واسطے
17:55دیکھیں یہاں انقلاب آ رہا ہے
17:57یہ بغاوت اور اتجاج بولا ہے
17:59میں بہت سرکش ہوں
18:01لیکن ایک تمہارے واسطے
18:02دل بچھا سکتا ہوں میں آنکھیں بچھا سکتا ہوں
18:05یہاں رومان زمان بڑا ہے
18:07اس محفلِ کیف و مستی میں
18:10اس انجمنِ عرفانی میں
18:12سب جام بکف بیٹھے ہی رہے
18:15ہم پی بھی گئے چھلکا بھی گئے
18:17یہ غزل بھی بہت مشہور ہے ان کی
18:18اس محفلِ کیف و مستی میں
18:21اس انجمنِ عرفانی میں
18:23سب جام بکف بیٹھے ہی رہے
18:26ہم پی بھی گئے چھلکا بھی گئے
18:28تو یہ ہے ان کیا پورا ایک منظر نامہ
18:31اور خاص طور سے جو ان کی
18:33جس اس کا ذکر میں نے کیا ہے
18:35نظم کا آوارہ کا
18:37اس میں انہوں نے کچھ نئی استارے استعمال کی ہیں
18:40وقت زیادہ ہو رہا لیکن میں پھر ہی بتاؤں گا
18:42کہ انہوں نے ملہ کا عمامہ کہا ہے چاند
18:44اور بنیے کی کتاب جیسا ہم کیا استار آیا ہے
18:47مفلس کی جوانی بیوہ کا شباب
18:50تو یہ ایسی بیکار و لاحاصل چیزیں ہیں
18:54جس سے انہوں نے تشبیح دی ہے
18:55کہ بلکل لاحاصل چیزوں سے تشبیح نہیں دی جاتی
18:59لیکن انہوں نے دی ہے
19:00اور اس کا بھرپور استعمال اپنی شاعری میں کیا ہے
19:02آخری سوال
19:04مجاز لکھنوی محض ایک رومانوی شاعر نہیں
19:08آپ کے نزدیک ان کے اسلوح فکر اور بے باق صدافت سے
19:12آج کے اہد میں کیا سیکھا جا سکتا ہے
19:14بہت اچھا سوال ہے
19:17بہت اچھا سوال ہے
19:18دیکھیں سب سے پہلے مجاز کی جو پوری شاعری ہے
19:20چین کے غزلے ہو یا ان کے نظر میں
19:22یا ان کا لہجہ ہو
19:24یا ان کی شخصیت ہو
19:25ہمیں یہ پیغام دیتی ہے
19:28یہ پوری فضا کے سج بولے کے جورت
19:30انسان میں ہونی چاہیے
19:32پنکار میں ہونی چاہیے
19:34عدیب اور رائٹر میں ہونی چاہیے
19:36تو سج بولنے کی جورت
19:37چاہے وہ ذاتی سچ ہو
19:39یا استعمائی سچ ہو
19:40یہ پیغام ہمیں مجاز کی شاعری دیتی ہے
19:44مجاز کی شاعری دوسرا بڑا پیغام یہ دیتی ہے
19:46کہ شاعری صرف لفظوں کا گورک دھندہ نہیں ہے
19:49شاعری صرف ارباز کا کھیل نہیں ہے
19:51بلکہ شاعری ایک ذمہ داری ہے
19:54ذاتی ذمہ داری بھی
19:56اور سماجی ذمہ داری بھی ہے
19:58تو یہ پیغام بھی ہمیں
20:00جو مجاز کی غزلیں ہیں
20:02نظمیں ہیں وہ دیتی ہیں
20:03دوسری بات جس کا بار بار ہوا انٹریو میں
20:06آپ کے سوالات میں بھی
20:07اس کا بھرکور تذکرہ تھا
20:09کہ انہوں نے
20:10یہ ایک طرح سے تیہ کر دیا ہے
20:13کہ ہم رومان کو حقیقت سجدہ نہیں کر سکتے ہیں
20:17احتجاج کو انسانیت سے خالی نہیں ہونے دینا چاہیے
20:21اور یہی مجاز کی اثر لاسکتا ہے
20:23کہ رومان بھی
20:24حقیقت کا حصہ ہے
20:26حقیقت میں بھی رومان ہے
20:27اور احتجاج انسانیت کے لیے ہوتا ہے
20:30اور انسان احتجاج کرتا ہے
20:32اگر وہ انسان ہے
20:33تو انسانیت احتجاج کرنا سکھاتی
20:35احتجاج انسانیت کی بات کرتا ہے
20:37رومان حقیقت ہے
20:38حقیقت رومان ہے
20:39اور یہی مجاز کی شائری کی اصل براست ہے
20:43جس سے ہمیں سمال کر رکھنا چاہیے
20:45بہت خوب شاداب صاحب
20:47ہم آپ کے تہے دل سے شکر گزار ہیں
20:49کہ آپ نے مجاز لکھنوی
20:51جیسے پیچیدہ اور حساس شاہر پر
20:53اتنی سنجیدہ اور متوازن گفتگو کی ناظرین
20:57اگر آپ کو عدب نامہ کی یہ قسط پسند آئی ہو
21:00تو ویڈیو کو لائک کریں
21:02چینل کو سبسکرائب کریں
21:03اور آئندہ قسطوں کے لیے بیل آئیکن دبائیں
21:06کمنٹس میں اپنی رائے ضرور لکھیں
21:08آپ کی رائے ہی ہماری رہنمائی ہے
21:11اگلی نششت میں کسی اور شاہر
21:13اور نئی گفتگو کے تات دوبارہ حاضر ہوں گے
21:16اپنا خیال رکھئے گا
21:18پھر ملاقات ہوگی
21:19موسیقی
Be the first to comment
Add your comment

Recommended