00:00Thank you very much.
00:30Thank you very much.
01:00Thank you very much.
01:30Thank you very much.
02:00Thank you very much.
06:18which was that she had a lot of consciousness in front of me?
06:35but that's why he had a lot of consciousness in front of me
06:39which was a lot of consciousness and then the way he had everything
06:43And their studies were tried to Him and that they were killed.
06:48So they had Rotten towards the students.
06:52They had the effect of the services,
06:55the 죽 Raum,
06:58they had a new experience.
07:01They had different experiences
07:03of having them easily into the environment.
07:06foreign
07:36ظاہریں کسی دربار تک پہنچیں
07:40تو وہ جو ذاتی زندگی میں
07:42ان کے کچھ تجربات حاصل ہو رہے تھے
07:45وہ ان کے ہاتھیں
07:46زندگی کا مشاہدہ انہوں نے کیا
07:48تو یہ تمام چیزیں
07:49جو دمستان دہلی کا اثر ہے
07:51ان کی اپنی تخلیقی فکر ہے
07:53تخلیقی سوچ ہے
07:54اس وقت کی جو ایک لسانی روایت تھی
07:57زبان کی وہ موجود تھی
07:59اور ان کا اپنا زندگی کا مشاہدہ تھا
08:01ان کے ذاتی قرب تھے
08:03ذاتی مسائل تھے
08:05تو اس طرح سے انہوں نے
08:06ان تمام چیزوں کو
08:08جو روایت سے ان کو حاصل ہی تھی
08:10ان کو عوام سے انہوں نے جوڑا
08:12یہ ان کے سب سے بڑی خوبی تھی
08:13تو ایک طرح سے ہم یہی کہہ سکتے ہیں
08:15کہ ان کی انفرادیت جو تھی وہ یہی تھی
08:17کہ انہوں نے اس روایت کو
08:19عوامی فکر سے ہم آہم کیا
08:21تو دمستانی دہلی کے اثر کے ساتھ
08:23جو ان کی ذاتی کوششیں تھی
08:25اس کا اثر بہت نمیاد کہا جا سکتا ہے
08:28وہی ان کا اصل جو ہے
08:30ایک طرح سے شنات کا وسیلہ ہے
08:32جی بہت امدہ آپ نے روایت اور انفرادیت
08:35کے جس حسین امتزاج کی
08:37نشائندہی کی وہی دراصل
08:39داگ دہلوی کی سب سے بڑی پہچان ہے
08:41اگلا سوال اکثر کہا جاتا ہے
08:43کہ داگ دہلوی نے غزل
08:45کو عوامی مقبولیت بھی دی
08:47اور ساتھ ہی فنی میار
08:49اور زبان کا وقار بھی برقرار
08:51رکھا آپ کے نزدیک
08:53یہ توازن کیسے قائم ہوا
08:55دیکھیں
08:56اس میں تنبیت کے ساتھ
08:59زہارت کا بڑا تخلی ہے
09:00کیونکہ زبان تو
09:02ان کو فساحت کے معاملے میں
09:05لوگ مثال دیتے ہیں
09:07داگ کی
09:07نوار مرزا خان داگ کی مثال دی جاتی ہے
09:11جو لوگ بڑی خراب زمان
09:13آج بھی جو مقتدی شورہ
09:15استعمال کرتے ہیں
09:16تو ان کو مشکلہ دیا جاتا ہے کہ آپ داگ کو ضرور پڑھ لیے گا
09:19خود ہمارے استاد
09:21ہمارا سلسلہ بھی داگ سے ملتا ہے
09:22اگر ہم آپ کو بتائیں تو
09:24وہ طبیل سلسلہ ہے
09:26تو ہمارے استاد بھی یہی کرتے تھے
09:28کہ فساحت جو ہے جس کو
09:30روانی ہے بغیر
09:32جھٹکے کے کوئی شیر آ جاتا ہے
09:34اس میں کوئی رقاوٹ پیدا نہیں ہوتی
09:36زبان کی ساتگی ہے شائشتگی ہے
09:39شستگی ہے
09:40تو یہ وہ ضروری
09:42صاحب اور داگ اس روایت کا
09:44بڑا بضبوط نام ہے
09:46دوسری بات یہ ہے کہ وہ
09:48سمجھ گئے تھے کہ شیر
09:50عام تک تب ہی پہنچ سکتا ہے
09:52تب ہی ان کی فکر کی ترزیر
09:54ہوتی جب وہ سیدھے
09:56سننے والے کے دل سے
09:59ہم آنگ ہو جائے
10:00تو جب دل سے بات نکلتی ہے
10:02زبان اس کی اظہار کا ذریعہ
10:04بنتا ہے
10:04کان یا ہماری سمات
10:06اس کو ریسیو کرتی ہیں
10:08اس کو قبول کرتی ہیں
10:09وصول کرتی ہیں
10:10اور وصول کر کے اس کو
10:12دل تک پہنچا دیتی ہیں
10:14تو یہ جو اظہار
10:16اور جو سمات ہے
10:19اس کے درمیان کا فاصلہ
10:21اتنی جلدی ختم ہو جاتا ہے
10:22آسان زبان سے
10:23دل کی بات دل تک پہنچا دیتی ہے
10:26تو ان کے یہاں جو سادگی ہے
10:28جو اس کے یہاں
10:29خطری بہاؤ ہے
10:30پر ان کا شیر کہنے کا جو
10:33دل نشی طریقہ کار ہے
10:35اظہار ہے
10:35تو یہ چیزیں
10:36ظاہر ہیں کہ فوراں
10:39سننے والوں
10:39سننے والے پر
10:41ایک کیفیت تاریخ کر دیتی ہے
10:43اور
10:43بدنے منٹ
10:44بدنے لمحہ
10:46ایک پل میں
10:47ایک مومنٹ میں
10:48جو ہے
10:49وہ اس کو ریسیو کر لیتا ہے
10:51اور اس کا فوراں ریاکشن آتا ہے
10:52لیکن دیوانا تاکیتی دولتا
10:54لوگ مطلب
10:55وہ
10:55یا آہ کے اٹھتے ہیں
10:57یا اس کو محسوس کرتے ہیں
10:58کہ افیت
10:59دوسری پر عشقیہ جذبات جو
11:00بڑی کومنٹ شہر ہے
11:02جو ختم ہی نہیں ہو رہا ہے
11:03ابتداء سے لے کر آج تک جو عشق تھا
11:07انسانی زندگی کا حصہ
11:08وہ آج بھی چلنا ہے
11:09نئی نسل میں بھی ہے
11:10اس کے طریقے بدلتے رہتے ہیں
11:12کہ آپ اپنے عشقیہ جذبے کو
11:14کتنا صلیقہ دے سکتے ہیں
11:15کتنا اس کو وقار عطا کر سکتے ہیں
11:18تو ان کیا جو عشقیہ جذبات تھے
11:21اور عشقیہ جذبات کے ساسات
11:24جو احساسات ہوتے ہیں
11:26اس کی ترجمانی
11:27انہوں نے بڑی سادگی کے ساتھ
11:29لیکن فنی پفتگی کے ساتھ
11:31یہ بات ہمیں یہاں یاد رکھنی ہوگی
11:32کہ تمام سادگی
11:34یہ شائستگی
11:35اس وقت دیکار ہو جاتی ہے
11:36جب آپ فن سے ناواقع ہو
11:38تو فنی پفتگی
11:40جس کو فساد کہا جاتا ہے
11:42وہ داک کی بہت بڑی خوبی تھی
11:45اور وہی ان کو
11:46ان کی شائری کو مقبول بناتی تھی
11:48ان کے شیروں کو محبوب بناتی تھی
11:50آج بھی ان کے شیر
11:52جب پڑھی ہے
11:52آپ تو لگتا کہ
11:54جیسے آج کا شیر ہے
11:55تو یہ ان کی خوبی تھی
11:58خاطر سے یا لحاظ سے
11:59میں مانتو گیا
12:00چھوٹی خسم سے آپ کا ایمانتو گیا
12:03یہ غدر بہت لوگوں نے گائی
12:05تو یہ بلکہ دیکھیں
12:06سامنے کی بات ہو رہی ہے
12:07اس میں ایک محورہ بن جاتا ہے شیر
12:09تو یہی داک کی جو شیری بصیرت تھی
12:12یہ ان کی پہچانکی
12:14اور یہی ان کو مقبول بناتی تھی
12:16کیا خوب بات کہی
12:18آپ نے داک کی مقبولیت اور میعار
12:20دونوں کو ایک ساتھ سمجھانے کا
12:21پورا حق ادا کر دیا
12:23اگلا سوال یہ کہ
12:24داک دہلوی مشاعروں میں بھی
12:26غیر معمولی اثر رکھتے تھے
12:27ہم جاننا چاہیں گے
12:28کہ ان کی آواز
12:30ادائیگی
12:30یا انداز پیشکش میں
12:32وہ کون سا انصر تھا
12:34جو انہیں
12:35اپنے ہم اثروں سے
12:36ممتاز کرتا تھا
12:38دیکھیں جس طرح ذکر ہوا
12:40پچھلے سوال میں بھی
12:41تو جو کلام ان کا
12:43فوراً سمیم آ جاتا تھا
12:44یہ سب سے بڑی
12:45ضرورت ہے
12:46مشاعروں کے لئے خاص طور سے
12:48قاری کے لئے چاہے
12:49اس کی ضرورت ہو
12:50یا نہ ہو
12:51اس کے پاس وقت ہے
12:52سوچنے کا
12:53لیکن
12:54اگر کوئی مشاعرہ ہوتا ہے
12:56کوئی عدبی محفیل ہوتی ہے
12:58یا نشست ہوتی ہے
12:59تو کلام کا فوراً
13:01سمجھ میں آنا
13:01بہت ضروری ہے
13:02یعنی کہ ترسیل کا
13:03کوئی مسئلہ
13:04نہیں ہونا چاہیے
13:06اس پر پوری بحثیں
13:07ملتی ہیں
13:07ہماری گردو تنقید میں
13:09خات اور
13:10جو مغربی تنقید ہے
13:12اس میں بھی
13:12کہ ایک
13:13کمیونکیشن
13:14کے جو ہیں
13:15وہ ایشیوز ہوتے ہیں
13:16کمیونکیشن کا ایشیوز ہوتا ہے
13:18جس کو ترسیل کا
13:19مسئلہ کہا جاتا ہے
13:20تو
13:21دار کے یہاں
13:22ترسیل کا کوئی
13:23ایسا مسئلہ نہیں ہے
13:25کہ وہ
13:25علمیہ بن جائے
13:26تو یہ تو
13:27بنیادی بات ہے
13:28دوسری پاس
13:29جہان تک آپ نے
13:30ان کے انداز کا ذکر کیا
13:31ان کی آواز میں
13:32لوگ بتاتے ہیں
13:33کہ نرمی کی تھی
13:34ہم نے پڑھا بھی یہ کریں
13:35تو یہ آواز کی نرمی
13:36تو
13:37بہت
13:38معنی رکھتی ہے
13:40تو
13:41کلام نرم نازم
13:42جو ہے
13:43وہ بہت اثر کرتا ہے
13:44جس طرح پھول کی پتی سے
13:45کٹ سکتا ہے
13:46ہیرے کا جگہ
13:46تو وہ نرمی جو ہے
13:49وہ جلد متاثر کرتی ہے
13:51ان کی اجائیگی میں
13:52اعتماد تھا
13:52وہ درباری فضا تھی
13:53وہاں کے جو
13:55آداب تھے
13:56وہاں جو
13:56ذابطے تھے
13:58وہ
13:58ہم
13:58کسی بھی شاعر کے لیے
14:00جو ہے
14:00ایک اعتماد کی
14:02فضا پیدا کر دیتے ہیں
14:03جو کسی بھی
14:04مشاعرے کے لیے
14:05یا محفل کے لیے
14:06وہ ضروری ہے
14:07تلفظ میں سپائی تھی
14:09اشار میں روانی تھی
14:10اور دوسری
14:11سب سے بڑی بات یہ تھی
14:12نمران صاحب
14:13کہ وہ سامہین کے
14:15مزاج کو سمجھتے تھے
14:16آج بھی
14:17وہ اسے شورہ ایسے
14:18کہ وہ
14:19اپنے کلام کا
14:20انتخاب نہیں کر پاتے ہیں
14:21کہ ہمیں کیا پڑھنا ہے
14:22یعنی ان کے سامہین
14:24کو مزاج کو
14:24نہیں سمجھتے
14:25اس لیے ان کی بات
14:26نہیں سلی جاتی
14:27تو جب تک
14:28آپ
14:29اپنی سماعتوں کو
14:30نہیں سمجھیں گے
14:31اپنے سامہین کا
14:32مزاج نہیں سمجھیں گے
14:33اور ان کی گہراہی
14:34نہیں سمجھیں گے
14:35ان کا وقار نہیں
14:36سمجھیں گے
14:37تو ظاہر ہے کہ
14:38فوری ردعمل نہیں ہوگا
14:40تو وہ سمجھتے تھے
14:41اس لیے فوری ردعمل
14:42ہوتا تھا
14:43اور ایک
14:43قویق ریاکشن
14:44سامنے آتا تھا
14:45تو ان کی جو
14:46زبان کی دلاویزی تھی
14:48اور یہ زبان کی
14:49دلاویزی
14:50جذبے کی صداقت
14:51سے پیدا ہوتی ہے
14:52اگر شاعر بھی
14:54کوئی اگر کامیاب ہے
14:55یا کسی کے شعر میں
14:56فوراں
14:57ایک ایسی خوت
14:57نظر آتی ہے
14:58تو اس کی وجہ یہ
14:59کہ یہ جذبہ
15:00اگر صادق ہو
15:01ایسا ساد آپ کے
15:03سچے ہو
15:03تو سچی بات زیادہ
15:05جلدی
15:06اثر کرتی ہے
15:07تو اسی زبان کی
15:08دلاویزی
15:09اور ان کے جذبے کی
15:10صداقت کا
15:11نتیجہ تھا
15:11کہ ان کی شاعری
15:12ریزیو کی جاتی تھی
15:13سنی جاتی تھی
15:14قبول کی جاتی تھی
15:15کمال شاداب صاحب
15:17آپ نے اس اہد کے
15:18مشاعروں کی پوری
15:19فضا کو زندہ کر دیا
15:20اور اب وہ لمحہ
15:21جس کا ناظرین
15:22کو ہمیشہ انتظار
15:23رہتا ہے شاداب صاحب
15:24ہم چاہیں گے
15:25کہ آپ داگ دہلوی
15:26کے چند منتخب
15:27اشعار
15:28اور ساتھ
15:29اپنی آواز میں
15:30پیش کریں
15:30اور ساتھ ہی
15:31یہ بھی بتائیں
15:31کہ ان اشعار میں
15:32سادگی کس طرح
15:33اثر اور وقار
15:34میں ڈل جاتی ہے
15:35دیکھیں
15:37غزل کے لیے
15:38بہت مشہور تھے
15:39داگ
15:39اور غزل کی
15:42سبائی کے لیے
15:43روانی کے لیے
15:43لیکن انہوں نے
15:45مقدس کلام بھی
15:46کہا ہے
15:46جو ملتا ہے
15:47تو اس میں بھی
15:48ان کی وہی خوبیاں
15:50پائی جاتی تھی
15:51جو غزل کے شیر میں
15:52ہو سکتی ہے
15:52تو میں ان کے
15:54خمد کے شیر سے
15:54آغاز کرنا چاہتا ہوں
15:56آج جو ان کے اشعار
15:57اپنے قارعین کی
15:59خدمت میں پیش کر جائیں گے
16:00نوزیمان حرارڈ
16:01اور قومی آواز کے
16:02جو ہمارے ناظرین ہیں
16:04سامعین ہیں
16:05یا قارعین ہیں
16:06کیونکہ اب اس کو
16:06پرنٹ بھی کرتے ہیں
16:07تو مطلع دیکھیں
16:09انہوں نے کہا تھا
16:09کہ یہاں بھی
16:10تو وہاں بھی تو
16:13زمیں تیری فلک دیرا
16:15یہاں بھی تو
16:17وہاں بھی تو
16:19زمیں تیری فلک دیرا
16:22کہیں ہم نے پتا پایا
16:25نہ ہرگز آج تک دیرا
16:26کہیں ہم نے پتا پایا
16:29نہ ہرگز آج تک دیرا
16:31کیا خوبصورت مطلع ہے
16:33بڑی سادہ سی بات ہے
16:34لیکن بڑی سچی بات ہے
16:35صداقت ہے
16:36وہ کہتے ہیں
16:38کہ تُو جو اللہ کا
16:39محبوب وحفوب
16:40ہم یہ دہت کشے رہے
16:41تُو جو اللہ کا
16:43محبوب ہوا
16:44خوب ہوا
16:45یا نبی خوب ہوا
16:48خوب ہوا
16:49خوب ہوا
16:49اب دیکھیں جو
16:50یہاں پر تقرار ہے
16:51اس کا ایک اپنا
16:52لگ لطف ہے
16:53تُو جو اللہ کا
16:54محبوب ہوا
16:54خوب ہوا
16:55محبوب ہوا
16:56خوب ہوا
16:57یہ جو
16:58ایک طرح سے
16:59اس کو
17:00ذل القافیتین
17:01کہا جاتا تھا
17:02کہ دو قافی استعمال کریں
17:04اس میں ریدم پیدا ہو رہا ہے
17:05ایک اس میں
17:06میوزک کی کیفت پیدا ہو رہی ہے
17:08تُو جو اللہ کا
17:09mehbubhua, khubhua
17:10ya nabiy khubhua, khubhua
17:13khubhua
17:14اب unka o shayr to zarur wa sunaunga
17:16joh bhoht maşhur hai
17:17joh hemne bhoht bata ki
17:20zaban ki, saadgi ki
17:23uski khubhi ki, lekin
17:25goh zaban, joh sada
17:26haem ko lagti hai, joh zaban haem ko
17:28bhoht asan lagti hai, usko
17:30haasil karna boh muskil kama hai
17:32kaitai daag ke nai khayl
17:34ey daag, yaaru se kihdo
17:37tunao daag nabiy shayr
17:38nahi khayl ey daag
17:41nahi khayl ey daag
17:43yaaru se kihdo, ke ati hai
17:45urdu zaban, ati ati
17:47bhoht buhye, yeh pura
17:49yeh sadagi
17:51joh hai, puti, ati ati ho sakti hai
17:53ek shayr, apne bhi
17:55pahata bhoht accha ke
17:56phir kalijja raktiya, dil laktiya, sar raktiya
17:59to yeh joh
18:00unke haiak zaban ki khubhi milti hai
18:02yeh eek boda bilčasf
18:04maamla hai, unka
18:06aur, eek or shayr sunnye
18:08ke, tumhara dil
18:09mirhe dil ke berabar ho naihi sakta
18:11tumhara dil mirhe dil ke berabar ho naihi sakta
18:15wo shisha ho naihi sakta
18:18yeh puthar ho naihi sakta
18:19so yeh joh unke hai, zaban ki sato ki thi
18:21yeh unko khub bi nati thi
18:23aur, aur kus shayr sunnatao ki, budd ko budd, aur khuda ko joh khuda
18:28ke huda ko joh khuda ke huda ke hindi hai, hum bhi dhekhen
18:36to usse dhek ke kya ke
18:37ke
18:37heke ke kya ke kya ke
18:41ke kya ke
18:41ke joh bholi
18:43hai, wo bero'o ko bhi bhala
18:45ke hai, kya akhlaa ki shayr hai
18:47ke kya, eek moral values
18:49isna nazer arheen
18:49ki, joh bhali hai, wo bero'o ko bhi bhala ke
18:51ke kya ke
18:52ke joh bhali hai, wo bero'o ko bhi bhala ke
18:55ke te
18:56not bad listen to you
18:58or not bad listen to you
19:02not bad listen to you
19:04quibe ki sumt ja ke
19:05miradhyan khar gaya
19:07qui sumt ja ke
19:09miradhyan khar gaya
19:11us buddh ko dhekthi
19:13he was iman khar gaya
19:14what a shirish ke hai jazabas se
19:17labrish shir hai
19:19or isi silsile ka eke share word
19:22praktao ki hazaf kiya
19:23tiare wajah ka itawar kiya
19:26It's been a long time, it's been a long time.
19:56of this.
19:59And this is a question.
20:02This is a question.
20:07This is a question.
20:12This is a question.
20:15I don't think that this is a question.
20:20it was a woman's work which was a very good.
20:24I've heard a woman than me,
20:26they said don't listen to her.
20:27She said you know it's a thing,
20:29she's got a message.
20:30I'm so sorry to hear that,
20:33one I said she said don't listen to her.
20:37That's right, myClass No.
20:39What do you say?
20:41It's the mentality of the book that I've seen,
20:45about the meaning of the book and the book that I've seen.
20:48or
20:55a
20:57a
20:59a
21:03a
21:05a
21:07a
21:08a
21:09a
21:11a
21:12a
21:13a
21:14a
21:15a
21:16a
21:17a
21:44a
21:46Very good.
22:16Very good.
22:46Very good.
23:16Very good.
23:18Very good.
23:20Very good.
23:22Very good.
23:24Very good.
23:26Very good.
23:56Very good.
23:58Very good.
24:00Very good.
24:02Very good.
24:04Very good.
24:06Very good.
24:08Very good.
24:10Very good.
24:12Very good.
24:14Very good.
24:16Very good.
24:18Very good.
24:20Very good.
24:22Very good.
24:24Very good.
24:26Very good.
24:28Very good.
24:30Very good.
24:32Very good.
24:34Very good.
24:36Very good.
24:38Very good.
24:40Very good.
24:42Very good.
24:44Very good.
24:46Very good.
24:48Very good.
24:50Very good.
24:52Very good.
24:54Very good.
24:56Very good.
24:58Very good.
25:00Very good.
25:02Very good.
25:04Very good.
25:06Very good.
25:08Very good.
25:09Very good.
25:11Very good.
25:13Very good.
25:15Very good.
25:17ہوتے ہیں مسئلہتے ہوتی ہیں عام زندگی میں
25:20تو اس کا کیا اچھا
25:22اس کا اظہار ہے کہ افشاہ راز عشق میں
25:24وہ ذلتیں ہوئی
25:26لیکن اسے جتا تو دیا
25:28جان تو گیا
25:29بالکل بہت خوب
25:31جتنا مسئلہ اظہار کا ہوتا ہے
25:34جتنا
25:35ایک بڑی محنت ہوتی ہے
25:38ایک ثبت ہوتا ہے
25:39یا دشواری ہوتی ہے تو اتنا ہی
25:41کرب یہ ہوتا کہ کاش ہم کہہ دیتے
25:44اس سے
25:44اس کا نتیجہ کچھ بھی ہوتا
25:46رد عمل کچھ بھی ہوتا مضبط ہوتا
25:49یا منفی ہوتا لیکن دل کی جو بڑا سے
25:51وہ نکل جاتی ہے اور ہمیں یہ کبھی
25:53ملال نہیں ہوتا
25:55کوئی یہ نہیں رہتا ہماری زندگی میں
25:58کہ ہم کہہ نہیں پائے
26:00افشاہ راز عشق میں وہ
26:02ذلتیں ہوئی لیکن اسے
26:04جتا تو دیا جان تو گیا
26:05تو کیا خوب مقتہ ہے
26:07ہوش و حواس تابو تمہ
26:09تاغ جا چکے
26:11ہوش و حواس تابو تمہ
26:14تاغ جا چکے
26:15اب ہم بھی جانے والے ہیں
26:17سامانت ہو گیا
26:18سامانت ہو گیا
26:19بہت خوب
26:20بہت ہی مشہور
26:21آخر عمر ہے انسان کی
26:23اس سے بہتر کچھ نہیں ہو سکتا
26:25کہ انسان کا
26:26تمام جو آزاں ہیں
26:28اس سب کچھ جو ہے
26:29اس زوال کی طرف چلے جاتے ہیں
26:31اور پھر لگنے لگتا ہے انسان کو
26:33بس اب ہم بھی
26:34مکمل ہوا چاہتے ہیں
26:36ہمارے زندگی جو ہے
26:37وہ سلام کرنا چاہتی ہے
26:39خیرباد کہنا چاہتی ہے
26:40یہ ایک فلوسفی بھی ہے
26:43بہت خوب شاداب صاحب
26:46ہم آپ کے بہت شدر گزار ہیں
26:48کہ آپ نے داگ دیلوی جیسے بڑے شاعر پر
26:50اتنی سنجیدہ
26:51متوازن اور بامانی
26:53گفتگو کی
26:54ناظرین اگر آپ کو
26:55عدب نامہ کی یہ قسط پر آئی ہو
26:57تو ویڈیو کو لائک کریں
26:59چینل کو سبسکرائب کریں
27:00اور آئندہ قسطوں کے لیے
27:01بیل آئیکن ضرور دبائیں
27:03کمنٹس میں اپنی رائے ضرور لکھیں
27:05آپ کی رائے ہی ہماری رہنمائی ہے
27:07اگلی نششت میں
27:09کسی اور شاعر
27:10اور ایک نئی گفتگو کے ساتھ
27:11دوبارہ حضر ہوں گے
27:13اپنا خیال رکھیے گا
27:14پھر ملاقات ہوگی
Comments