Skip to playerSkip to main content
Jan Nisar Akhtar: Adab Nama | ادب نامہ : جاں نثار اختر
ادب نامہ کی اس خصوصی قسط میں ہم اردو شاعری کے ایک اہم، سنجیدہ اور بے باک شاعر جاں نثار اختر پر گفتگو کر رہے ہیں۔
جاں نثار اختر کی شاعری میں محبت، سماجی شعور اور اپنے عہد کی تلخ حقیقتیں خاموش مگر گہرے انداز میں سامنے آتی ہیں۔ ان کے یہاں جذبات نعرہ نہیں بنتے اور احتجاج شور نہیں مچاتا، بلکہ شعر آہستگی سے دل اور ذہن میں اتر جاتا ہے۔
اس قسط میں اردو شاعری کے سنجیدہ قاری معین شاداب جاں نثار اختر کی شاعری، ان کے فکری پس منظر، ترقی پسند تحریک سے ان کے تعلق اور ان کے کلام کی عصری معنویت پر گفتگو کرتے ہیں۔
بات اس نکتے پر مرکوز ہے کہ جاں نثار اختر کی شاعری آج کے قاری سے کس طرح براہِ راست مکالمہ کرتی ہے، اور کیوں ان کے اشعار آج بھی سماج، فرد اور انسانی وقار کے سوالات کو زندہ رکھتے ہیں۔
یہ قسط جاں نثار اختر کو محض ایک رومانوی یا نظریاتی شاعر کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ایسے تخلیق کار کے طور پر دیکھنے کی کوشش ہے جس کے ہاں دکھ، سچ اور شعور ایک دوسرے میں گھل کر شعر بنتے ہیں۔
A special episode of Adab Nama exploring the poetry, thought, and social consciousness of Jan Nisar Akhtar.
A thoughtful conversation with Moien Shadab on progressive poetry, lived reality, and the lasting relevance of Akhtar’s work.

#AdabNama
#JanNisarAkhtar
#UrduPoetry
#UrduAdab
#ProgressivePoetry
#MoienShadab
#LiteraryDiscussion
#UrduLiterature
#IndianUrduPoets
#NationalHerald
#QaumiAwaz
#Navjivan

Category

🗞
News
Transcript
00:00foreign
00:10foreign
00:25and in Mumbai, they are very important in the current situation.
00:28They are called,
00:31and they are called,
00:37and they are called,
00:39and they are called,
00:50ایک شیر اور سلے بس آخر کے محفل پر جب نیند سی چھائی سب کے سب خاموش ہوئے
00:57محفل پر جب نیند سی چھائی سب کے سب خاموش ہوئے
01:01ہم نے تب کچھ شیر سنائے لوگوں کو بیدار کیا
01:04ہم نے تب کچھ شیر سنائے لوگوں کو بیدار کیا
01:09نیشنل هیرارٹ نبجیون اور قومی آواز کے
01:17ڈبنامہ کے مشترکہ عدبی پروگرام میں آپ کا تہے دل سے استقبال ہے
01:21میں ہوں عمران ایم خان اور آج کی اس خصوصی نششت میں ہم گفتگو کر رہے ہیں
01:27اردو شاعری کے ایک ایسے موتبر نام پر جن کی شاعری میں محبت سماجی شعور اور احد کی تل خقیقت خاموش مگر گہری آواز میں بولتی ہیں
01:39ہم بات کر رہے ہیں جان اسار اختر پر
01:42گفتگو کا آغاز خود شاعر کے اشعار سے کرتے ہیں
01:46اشعار میرے یوں تو زمانے کے لیے ہیں
01:49کچھ شعر فقط ان کو سنانے کے لیے ہیں
01:52اور پھر وہ اپنے آہد کی ایک تل خقیقت کو یوں بیان کرتے ہیں
01:58شرم آتی ہے کہ اس شہر میں ہم ہے کہ جہاں نہ ملے بھیگ تو لاکھوں کا گزارا ہی نہیں
02:05یہ شعر کوئی سوال نہیں بلکہ ایک گہرا دکھ ہے
02:10ایک ایسی سماجی سچائی جو انسان کو اپنے ہی معاشرے کے سامنے شرمندہ کر دیتی ہے
02:17جان اسار اختر کی شاعری میں بات کہنے کا انداز اونچھی آواز میں نہیں
02:22بلکہ اندر تک اتر جانے والا احساس ہے
02:25وہ احتجاج بھی کرتے ہیں تو شور کے بغیر تو آنکھیں بند کر کے نہیں
02:30آج کی اس نششت میں ہمیشہ کی طرح ہمارے ساتھ موجود ہیں
02:34شاعر ناقد اور اردو عدب کے سنجیدہ قاری مہین شاداب
02:39شبنامہ میں آپ کا خیر مقدم ہے
02:41آپ کی موجودگی ہماری گفتگو کو ہمیشہ فکری وقار عطا کرتی ہے
02:46ہم گفتگو کا آغاز جان اسار اختر کے خاندانی اور عدبی پس منظر سے کرنا چاہیں گے
02:53وہ ایک ایسے ماحول میں پرورش پاتے ہیں جہاں زبان متعدہ اور فکری روایت
02:58گھر کے اندر سانس لیتی ہے آگے چل کر اسی روایت کی توسیع اگلی نسلوں تک نظر آتی ہے
03:04آپ کے نزدیک یہ خاندانی فضا جان اسار اختر کے تخلیقی شعور
03:08اور ان کی شائری کے مزاج کو کس طرح متاثر کرتی ہے
03:11اب بہت منتہ سوال ہے اور واقعی جب کسی بڑی شخصیت کا ہم کوئی عدبی تجزیہ کرتے ہیں
03:23کوئی جازہ لیتے ہیں یا اس کے شخصیت یا اس کے کارناموں کی بات کرتے ہیں
03:26تو ظاہر ہے کہ اس کا جو پورا پس منظر ہے اس پر بھی ایک نظر
03:30ڈال لے کے ضرورت ہوتی ہے
03:32مہترہ مجتر خیرابادی صاحب کا ہی جو پورا پس منظر ہے
03:37چاہے وہ آبائی تعلق ہو تعلیم کا حصول ہو
03:41یا وہ درس و تحریص سے خود بھی وابستہ رہے
03:44یا پھر ترپی پسند تحریص سے ان کی وابستہ کی ہو
03:48یا پھر بولیوڈ ہو
03:49یہ سب اپنے آپ میں بڑی تاریخی احمدتیں رکھتا ہے
03:54اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اردو عدب کے ساتھ ساتھ
03:57ان کو فلمی دنیا کا بھی ایک ایسا شاعر تسلیم کیا جاتا ہے
04:01کہ جس نے ایک نئی پہچان دی ناغمہ نگاری کے ذریعے
04:04تو آپ گوالیر میں پیدا ہوئے
04:07مستر خیر آبادی صاحب جو آپ کے والد محترم تھے
04:12بڑے شاعر تھے پائے کے شاعر تھے
04:16لیکن صرف مستر خیر آبادی نہیں
04:19بلکہ ان کے تایا بسمیل خیر آبادی کا وزر پر ملتا ہے
04:22کہ وہ بھی بڑے محترم شاعر تھے
04:25اور بہت کامیاب شاعر تھے
04:26تو یہ ایک آبائی سلسلہ ان کا بڑا مضبوط بنتا ہے
04:31اس کے بعد وہ ظاہر گوالیر میں انہوں نے اقتدائی تعلیم حاصل کی بات میں
04:35وہاں لیگر چلے گئے تھے
04:37لیکن انہوں نے ملازمت بھی کی
04:38جو گوالیر کا وکٹوریا کولیج ہے
04:41وہاں وہ درست و تدریس سے باوستہ بھی رہے
04:43وہاں انہوں نے تعلیم دی
04:46اسٹوڈنٹس کو کلاسز میں اپنی
04:48جو انہوں نے زندگی سے حاصل کیا تھا
04:51جو علم حاصل کیا تھا
04:52وہ نئی نسلوں تک منتقل کیا
04:53اس کے بعد وہ بھوپال کے جو حمیدیہ کولیج ہے
04:57وہاں بھی انہوں نے
05:00ایک طرح سے وہاں تعلیم بھی انہوں نے حاصل کی
05:03اور تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ
05:06وہاں انہوں نے ملازمت بھی کی ہے
05:08اسی کولیج میں
05:09جو ایک بڑا اپنی ایک تاریخی پیشان لگتا
05:12حمیدیہ کولیج بھوپال
05:13علیگر میں انہوں نے تعلیم حاصل بھی کی
05:16اور وہاں درست و تدریس سے واپستہ رہے
05:18بات میں جب انہوں نے محسوس ہوا
05:20کہ وہ اپنی شخصیت کے اظہار کے لیے
05:22کچھ دامن تنگ پڑ رہا ہے
05:24کچھ اور چاہیے
05:26غصد ملے بھیان کے لیے
05:28اس زندگی میں جو کچھ کرنا چاہتے تھے
05:30جو خواب انہوں نے دیکھے تھے
05:31ان کی تعبیر تلاش کرنا چاہتے تھے
05:33تو اس کے لیے انہیں ممبئی کا روح کرنا پڑا
05:36اور ممبئی میں ان کی ملاقات
05:38جو ہے کئی اہم شخصیتوں سے ہوتی ہے
05:40ممبئی میں
05:41ملک راج آنند صاحب سے ملتے ہیں
05:44اور اسمت چختائی کے لیے
05:52تو انہوں نے فلمیں بھی لکھی
05:53ان کے فلموں کے گانے لکھے
05:54جب یہ ممبئی پہنچے تھے
05:56تو ظاہر ہے کہ
05:57کہیں نہ کہیں انسان
05:59اپنا کچھ مستقر چاہتا ہے
06:02تو یہ ان کے ساتھ بھی رہے
06:04کچھ ایسا میں نے کہیں پڑھا ہے
06:05کہ یہ اسمت چختائی کے ساتھ بھی
06:07رہنے کے موقع میں تھا
06:09سارے وہ دیدہ
06:11بھر لیڈی تھی
06:12جہاں دیدہ
06:14ایک طرح سے عدیبہ تھی
06:16انہوں نے ایک زمانے کو متاثر کیا
06:18وہاں ان کی سوسائیٹی میں رہے
06:19ان کے آس پاس رہے
06:20تو اس سے
06:21جو ان کا علمی اور عدبی
06:23اور ایک خاندانی پس منظریہ
06:24اس کا
06:26جو ایک سماجی حلقہ ہوتا ہے
06:29اس سے اس کا اندازہ ہوتا ہے
06:30تو بہرحال
06:32جس ماحول میں انہوں نے آکے کھولی
06:34جس ماحول میں تعلیم حاصل کی
06:37جس ماحول میں انہوں نے
06:39درست و تدریس کے فرائی جن جاتی ہے
06:41وہ تمام سلسلہ
06:43گوالیر سے لے کے
06:44بھوپال ہوتے ہوئے
06:45علیگر سے
06:46اور
06:46فلمی دنیا تک پہنچتے ہوئے
06:48اس کو آج کل بولی وڈ کہا جاتا ہے
06:50تو یہ سب وہ ماحول تھا
06:53عمران بھائی
06:55یہ سب وہ ماحول تھا
06:56کہ جہاں
06:57زبان
06:58محض اسحار کا وسیلہ نہیں تھی
07:00بلکہ ایک فکری روایت کا تسلسل تھی
07:02تو یہ فکری روایت کا تسلسل
07:06ان کی شخصیت کو سمجھنے میں
07:08بڑا اہم حصہ
07:10ادا کر سکتا ہے
07:11اور ترقی پسند تحریک سے
07:13وہ وابستہ ہوئے
07:14علیگر کے دوران بھی
07:15وہاں کچھ لوگ ملے
07:16بھائی میں تو باقاعدہ وہ
07:17اس تحریک سے وابستہ ہوئے
07:20فلموں کے حوالے سے بات
07:22کرنی بہت ضروری ہے
07:23کیونکہ
07:24فلم
07:24کہیں نہ کہ میں عدب کا ہی حصہ مانتا ہوں
07:27اس کو
07:27کہ عدب کی ایک آرٹ ہے
07:30اس کے اپنے تقاضی ضرور ہو سکتے ہیں
07:31کوئی فنی طور پر
07:33لیکن وہ اس کو ہم الگ نہیں کر سکتے
07:35اتنے بڑے بڑے لوگوں نے
07:37جو فلموں میں لکھا
07:38ان کو ایک نئی پہچاند
07:39فلم دنیا
07:40دیتی ہے
07:41تو اسی طرح
07:42جب جانسار افتر کے بات آتی ہے
07:44تو ہم انارکلی کی بات بھی کرتے ہیں
07:45ہم نوری فلم کی بات بھی کرتے ہیں
07:48رضیہ سلطانہ کا سکتر بھی کرنا
07:49لازمی ہوتا ہے
07:50کیونکہ یہ اپنے زمانے کی
07:51بڑی مشہور زمانہ
07:52بڑی مشہور فلمیں تھی
07:54تو یہ انہیں
07:55تمام چیزیں ہیں
07:57جو ذوق ورسے میں ملا
07:58اور ان کے مزاج کی جو پوری
08:00تشکیل ہوئی
08:02اس میں کلاسی کی شہریات
08:03یہ بڑا اہم پوائنٹ ہے
08:06کلاسی کی شہریات
08:07جس پر ان کی پوری شاعریٹ کی ہوئی ہے
08:09اور رومانی رضیانات
08:11رومانی شاعر کے طور پر مشہور ہے
08:13جانسار افتر صاحب
08:15اور اس کے بعد
08:16اشتراکی
08:17حقیقت نگاری
08:18جب وہ
08:19اس سے اشتراکی سے
08:21وابستہ ہوئے
08:22ترقی پسند تحریک سے جڑے
08:23تو ترقی پسند تحریک کے
08:25زیر اثر بھی
08:26ان کا عدب جو ہے
08:27وہ پروان چڑھا
08:28اور ان کی نظمیں
08:29اس بات کا ثبوت ہیں
08:31غزلوں کے بعض اشعار بھی
08:33اس بات کا ثبوت ہیں
08:35آپ نے جس طرح جس شعر کا ذکر کیا
08:38کہ کچھ شعر اشعار میرے ہیں
08:40تو زمانے کے لیے ہیں
08:41جسا آغاز کیا تھا آپ نے
08:42کچھ شعر فقط ان کو سنانے کے لیے ہیں
08:45تو ایک محض
08:46ایک رومانی شعر کہہ کے نہیں ڈال سکتے
08:48بلکہ یہاں کچھ ہے
08:49کہ ہم اپنی ذات کے علاوہ بھی
08:53جو کچھ ہے
08:54اس کو بھی اپنی آواز سنانا چاہتے ہیں
08:56وہاں بھی اپنی بات پہنچانا چاہتے ہیں
08:58ایک ذکر رہ گیا وہ ضروری ہے
09:00ان کی تمام تر زندگی کے حوالے سے
09:03اور جب اس کے پس منظر پر
09:05ہم بات کر رہے ہیں
09:06کہ مجاز
09:07اپنے پروگرام بھی کیا تھا
09:09مقبول شعر تھے
09:11نوجوان دلوں کی دھڑکن
09:12ان کو کہا جاتا تھا
09:13وہ بھی ترقی پسندی سے
09:15کافی وابستہ رہے
09:17تو مجاز کی جو ہمشیرہ
09:20صفیہ تھی
09:22وہ ہمارے
09:24ان کی جانسار اختر کی اہلیہ تھی
09:27تو صفیہ کا
09:28صفیہ اختر کا نام آنا
09:30اس لیے وہ ضروری ہو جاتا ہے
09:31کہ وہ خود ایک پڑھی لکھی خاتون تھی
09:34ان کے جو خطوط تھے
09:36چاہے وہ جانسار اختر کے نام ہو
09:39یا کسی اور کے نام ہو
09:40صفیہ کے خطوط کے نام سے وہ چھپے بھی ہیں
09:42تو وہ پورا ایک
09:44ادبی اور تحریکی
09:46جو اس وقت کا ماحول تھا
09:48اس کا پورا پسمنظر وہ ہے
09:49وہ خطوط بیان کرتے ہیں
09:51بعض رہا طبیل ہو رہی
09:52لیکن چونکہ پسمنظر کی بات سوئی
09:54تو یہ سب باتیں آنی بہت ضروری تھی
09:56تو اس طرح اس پورے ماحول میں
09:58ان کی شخصیت کی تعمیر و تشکیل ہوتی ہے
10:01اور پھر وہ
10:02ایک زمانیوں کو متاثر کرتے ہیں
10:04اور یہ
10:06جو پورا ماحول تھا
10:08جو ان کا خمیر تیاروں
10:09وہاں جذبوں کی تحصیف کیا
10:10آپ نے ذکر بھی کیا تھا
10:16تو ہم جذبوں کی تحصیف کہہ سکتے ہیں
10:18کہ جذبے اگر ہیں
10:19تو ضروری نہیں کہ ان کا اظہار
10:22شدت کے ساتھ ہی کیا جائے
10:23بلکہ جہاں داخلی کرب ہوتا ہے
10:26تو اس جذباتی رد عمل کو
10:29ہم محضب شکل میں بھی پیش کر سکتے ہیں
10:31اور اسی طرح وہ جذبے
10:33وہ شدتیں
10:34ایک مربوط فکری سانچے میں
10:36گھل جاتی ہیں
10:37اور یہی ان کی پوری شہری میں ملتا ہے
10:40چاہے ان کے غزلیں ہوں
10:41چاہے ان کے نظمیں ہوں
10:42نظمیں بہت کئی ہوں
10:43نظم کے شاعرے کے طور پر بھی بشکل
10:45چاہے ان کی روایات
10:46روایات بھی انہوں نے لکھی ہیں
10:49تو تمام چیزیں
10:50ہم ان کی اس شاعری میں دیکھ سکتے ہیں
10:53یا ان کی
10:54اس شاعری کے آئینے میں
10:56ہم جانیسار اختر کا چہرہ دیکھ سکتے ہیں
11:00جی
11:01آپ نے بہت ہی شاندار طریقے سے
11:04جانیسار اختر کی زندگی
11:06اور ان کی ابتدائی مرائل کو
11:08بیان کیا
11:09اب بات کرتے ہیں
11:10ان کی شاعری انسانی تعلقات
11:13اور جذباتی کشمکش کی
11:15جانیسار اختر کی شاعری میں
11:17انسانی تعلقات جذباتی کشمکش
11:19اور سماج کے اندر موجود
11:21عدم توازن بہت نمائی نظر آتا ہے
11:23آپ کے خیال میں
11:25وہ ذاتی تجربے کو
11:26اجتماعی احساس میں
11:27کس طرح ڈھالتے ہیں
11:28کہ شیر فرد کا بھی رہتا ہے
11:30اور سماج کا بھی
11:31واقعی آپ نے
11:33سچ کہا کہ انہوں نے
11:36ان کا شیر جو ہے
11:37یا ان کی فکر جو ہے
11:38وہ فرد سے شروع ہوتی ہے
11:40یا فرد سے کھلتی ہے
11:42اس کا ارتطا ہوتا ہے
11:43اور پورے سماج تک پھیل جاتی ہے
11:46پورے سماج کو
11:48اپنے دائرے میں
11:48کو لے لیتی ہے
11:50اور اس میں چاہے ان کا ذاتی
11:51کرب ہو
11:53ذاتی تجربات ہو
11:54محبت ہو
11:56رنج ہو
11:57شکست ہو
11:58جو کچھ بھی ہے
11:59وہ ایک فرد سے لے کر
12:02ایک
12:02طرح سے پورے
12:03ہمارے معاشرے تک پھیل جاتا ہے
12:06تو یہ
12:06یہ ذاتی
12:08تجربہ ہے
12:09یقیناً
12:10ذاتی تجربہ ہے
12:10لیکن یہ ذاتی تجربہ
12:13صرف اعتراف ذات
12:15اس کو نہیں کہ سکتے
12:16کہ ہم صرف اپنی ذات
12:17کا اعتراف کر رہے ہیں
12:18اس ذاتی تجربے کےżyیات پر
12:20بلکہ ہم اپنے آس پاس
12:21کا اعتراف کر رہے ہیں
12:22اپنے سماج کا اعتراف کر رہے ہیں
12:24اپنے سماج
12:25کو تسلیم کر رہے ہیں اس کے سچائیوں کو تسلیم کر رہے ہیں یہ جو ہے ان کی
12:30خوبی تھی اور یہ تمام چیزیں ان کے شاعری میں ملتی ہیں اور یہ ان کے
12:36ہاں علامتی سطح پر بھی ملتی ہیں اور جس تحضیب کی بات پیچھے ہوئی تھی
12:40کہ ایک تحضیبی ضبط ہے ان کے ہاں تو اسی طرح ایک لسانی ضبط بھی کہہ
12:44سکتے ہیں ایک linguistic discipline جس کو کہہ سکتے ہیں وہ ان کی شاعری میں
12:49دیکھنے کو ملتا ہے وہی بات جو آپ نے کہا کہ جذبوں کبھی چیخ نہیں
12:53بننے دیتے ہیں بلکہ خاموشی بھی اس شدت کو محسوس کر سکتی ہے بغیر
13:00چیخ بنے یہ وہ اپنی شاعری سے ثابت کرتے ہیں دوسری بات یا تیسری بات
13:06کہ ان کی تمام تر اس شاعری کا ایک سیاسی سماجی اور ایک تاریخی سیاق
13:12و سباق ہے جس پر ہم نے ابھی روشنی بھی ڈالی پچھلے سوال کے جواب
13:16تو یہی ان کی جب اب وہ اس طرح کی اس سے متاثر ہوتے ہیں تو اس طرح
13:22کے نظمیں لکھتے ہیں وہ اس طرح کی بات کرتے ہیں پورے سماج کا ذکر
13:26کرتے ہیں وہ شعر میں حالانکہ اس سیگمنٹ پر سنانا چاہتا تھا لیکن
13:30میں یہی سنا دیتا ہوں شعر تاکہ آپ کے سوال کا مزید جو ہے وہ جواب
13:36مل سکے کہ وہ کس طرح سے اس طرح جس طرح وہ ذاتی چیزوں کو سماجی
13:41چیزیں بنا رہے تھے بڑی اچھی ان کی غزل ہے مطلع تو مجھے اس پر
13:46یاد نہیں آ رہا اس کا شعر ہے کہ ایک ہے زمین تو سمت کیا
13:50حدود کیا یہ جو سوال کر رہا ہے اس کا جواب ہے کہ ایک ہے زمین
13:56تو سمت کیا حدود کیا روشنی جہاں بھی ہو روشنی کا ساتھ دو یہی
14:06اس طرح کی عمل تھا یہی انصاف کی آواز تھی ہر خیال و خواب ہے کل
14:11کی جنتیں لیے وہ مستقبل کا سوچ رہا ہے مستقبل کا سوچ رہا
14:16شاید ہر خیال و خواب ہے کل کی جنتیں لیے ہر خیال و خواب کی
14:23تازگی کا ساتھ دو نئی آوازوں کا کس طرح خیر مقدم کریں گے نئے
14:28خیالات کو آپ کس طرح خوش آمدید کہیں گے نئی سوچ کو کس طرح سے
14:33جگہ دیں گے یہ تمام چیزیں ہیں ایک ہے زمین تو سمت کیا حدود کیا
14:37روشنی جہاں بھی ہو روشنی کا ساتھ دو ہر خیال و خواب ہے
14:41کل کی جنتیں لیے ہر خیال و خواب کی تازگی کا ساتھ دو
14:46شیر دیکھئے صاحب کیا خوبصورت شیر ہے آج کے اہد میں سچا
14:50سچائی بیان کر رہا ہمیں اور یہ ضرورت ہے شیر کی اس کے سہد میں
14:55ہر خیال و خواب ہے کل کی جنتیں لیے ہر خیال و خواب کی تازگی کا
15:00ساتھ دو کیا بتوں کا واسطہ کیا خدا کا واسطہ کیا خدا کا واسطہ آدمی
15:09کے واسطے آدمی کا ساتھ دو
15:11yes very nice
15:13yes
15:15so this is a question
15:17that I may say to you is a question
15:19but it is your question
15:21that is why I have to answer
15:23this question
15:25I have to add a question
15:27yes
15:29I have to add a question
15:31that is your question
15:33is your question
15:35but I have to add a question
15:37that is your question
15:39do you see your question
15:41I do not have to add a question
15:43that you should have
15:45that you do not have to add
15:47certainly
15:49it is your question
15:51you will see
15:53your question
15:55that you are
15:57four the
15:59the
16:01the
16:03the
16:05shikost khurda insan ka share ben jata
16:07is a insan ka
16:09jis ka zikr onhohne aapne kuzhashita
16:11in tiyo mehne aapki khutbande
16:13pishki aashar, tien, čar
16:15aashar, usphe jis insan ka os zikr kar raha
16:17he is, wo on, us, us insan
16:19ka share johai, wo ben jata
16:21he, or onke aasie behoots se nazmhe
16:23hain, onke aak nazmhe, ah, yaha
16:25par sunana chahou ga, jis se aap
16:27ko anadazah hooga, que, kya
16:28mtlb, onhohne jo terfpi pasandhi
16:30ke rujhanaat te, onke shairi me kis tarha se
16:32bada kamiyabhi ke saat, humara ham par
16:35asar anndaz ہوتے ہیں
16:37اور unki behoots se nazmhe hai, jis me
16:38zore qalham ka, bella
16:41tzkira minta hai, logu kaitatei bada zore qalham
16:43tha, jis se unki dana'i raza
16:45ek nazmhe, jis ko log
16:47joh, pardhné والe hai, mein tu
16:49talib ilm hoon, er kaa ki, yalama-e-i-qbal ki
16:51khzr-e-raha, ah, ki jiesi
16:53nazmhe hi e, ya ibilis ki mjilis
16:55shura jiesi nazmhe hi, ya nai
16:57vohi fikr hai, eik aes se shair ki, joh
16:59رومانی شاعری کے لئے مشہور ہے جو محبت کی باتیں کرتا ہے جو
17:02محبت کو خط بھیجتا ہے لیکن وہ دانائے راز جیسی نظم کہہ کر
17:06زندگی کے راز کھول رہا ہے اور اس میں اشتراکی فکر بھی ہے اسی
17:11طرح سے وہ خود اشتراکی نظریے کو اشتراکی فکر کو نجات دہندہ
17:17کہا کرتے تھے یہ فکر وہ ہے جو انسان کو نجات دلا سکتی ہے جو
17:22انسان کے مسائل کا حل پیش کر سکتی ہے یہ کور نظم ان کے جس
17:26کا ذکر ملتا ہے اس کا انوانے پانچ تصویریں اور یہ ساقی نامہ
17:30کے اس میں جو اقبال کی نظم ہیں اس کے بڑے اثرات لوگ اس نظم میں
17:34محسوس کرتے ہیں طویل نظمیں ہیں سنانے کا کوئی موقع نہیں ہے
17:38ہم میں کچھ شیر نظم کے ان کے یہاں سنا رہا ہوں اس میں
17:41وہ کہتے ہیں کہ جو زمینوں کے ہمراہ بکتے غلام
17:46وہ اٹھتے ہوئے آدمیت کے دام
17:49وہ ذوقِ حوث ملکیت آفرین وہ ٹکڑوں میں تخصین ہوتی زمین
17:56گرام بار تپے اُگھرتے ہوئے زمین پر وہ صدمیں گزرتے ہوئے
18:03زمانے کے دامن میں پلتے تضاد وہ سوئے ہیں کروڑ بدل کے فساد
18:09یہ ہے وہ جس جانب آپ اشارہ کر رہے ہیں جو ان کی شاعری میں جس
18:15کی ہم اس کو تلاش کرنا چاہتے ہیں ان کو انہاں سے ان کی نظمیں
18:18بہت کوئی اس طرح چیزیں ان کی نظموں میں پائی جاتی ہے
18:21آپ نے اشعار اپنی آواز میں پیش کیے لیکن تشنہ کی ہمارے
18:27قارئین کے ابھی برقرار ہے ہم آپ سے گزارش کریں گے کہ چند
18:32منتخب اشعار پیش کریں تاکہ قارئین ان سے محسوس ہو سکیں
18:36بلکل بلکل بلکل ضرورت ہے وہ شعر پیش کے جائیں اور خود
18:44بخود میں ہے کہ شیشے میں بھری آوے ہے یہ وہ لے جائے اس کے
18:49لئے مشروع ہے جانے سارا خود بخود میں ہے کہ شیشے میں بھری
18:54آوے ہے کس بلا کی تمہیں جادو نظر ہی آوے ہے کس بلا کی تمہیں
19:01جادو نظر ہی آوے ہے شعر دیکھیں سارا اور بھی زخم ہوئے جاتے
19:06is
19:36foreign
19:42foreign
19:48foreign
19:54foreign
20:00ڈیو محبت جو معصومیت تھی ایک محبت کی بچپن کی جو ایک تقدس تھا وہ اس میں نظر آ رہا ہے
20:06آئے کیا کیا یاد نظر پڑتی ہے پڑتی ان دالانوں پر اس کا کاغذ سپکا دینا گھر کے روشن دانوں پر
20:15آج بھی جیسے کیا بیوٹی فل شعر ہے خوبصورت شعر آج بھی جیسے شانے پر تم ہاتھ میرے رکھ دیتی ہو
20:22چلتے چلتے روح جاتا ہوں ساڑھی کی دکانوں پر چلتے چلتے روح جاتا ہوں ساڑھی کی دکانوں پر
20:34یارو اپنے عشق قصے یوں بھی کم مشہور نہیں
20:39یارو اپنے عشق قصے یوں بھی کم مشہور نہیں
20:45। । । । । ।
21:15। । ।
21:45। । । । । । ।
22:15। । । ।
22:45। ।
23:15। ।
23:45। ।
23:47। । ।
23:49
23:51
23:53
23:55
23:57
23:59
24:01
24:03
24:05
24:07
24:09
24:11
24:13
24:15
24:17
24:19
24:21
24:23
24:25
24:27
24:29
24:31
24:33
24:35
24:37
24:39
24:40
24:41The entire story is going to be with me.
24:43The entire story is going to be very good.
24:45It has been a good time.
24:48The entire story has been talking about it.
24:50This story has been a good time.
24:52When I was thinking about this story,
24:55I had a good time for people.
24:59We have a great time.
25:01It is really a good time.
25:03I have a good time.
25:05We have seen your feelings.
25:07Thank you very much.
Comments

Recommended