- 2 weeks ago
- #krishnabiharinoor
- #urdupoetry
- #ghazal
ادب نامہ : کرشن بہاری نورؔ | Krishna Bihari Noor: Adab Nama
ادب نامہ کی اس خصوصی قسط میں ہم اردو کے ایک اہم اور معتبر شاعر کرشن بہاری نورؔ پر گفتگو کر رہے ہیں۔ نورؔ کی شاعری سادگی، سماجی سچائی اور بناوٹ سے پاک اظہار کی پہچان ہے۔ ان کے اشعار نہ شور کرتے ہیں اور نہ نعرہ بنتے ہیں، بلکہ خاموشی کے ساتھ اپنے عہد کی حقیقت بیان کرتے ہیں۔
اس قسط میں اردو شاعری کے سنجیدہ قاری معین شاداب نورؔ کی شاعری، ان کے فکری رویّے اور ان کے عہد سے تعلق پر گفتگو کرتے ہیں۔ بات اس سوال پر مرکوز ہے کہ نورؔ کی شاعری آج بھی کیوں معتبر محسوس ہوتی ہے، اور ان کا سادہ لہجہ کس طرح گہرے اثر کے ساتھ قاری اور سامع تک پہنچتا ہے۔
یہ قسط کرشن بہاری نورؔ کو محض مقبولیت کے بجائے فہم اور معنی کے زاویے سے دیکھنے کی ایک کوشش ہے، جہاں سچ اپنی پوری سادگی کے ساتھ سامنے آتا ہے۔
A special episode of Adab Nama exploring the poetry and thought of Krishna Bihari Noor.
A concise conversation with Moien Shadab on simplicity, honesty, and the enduring relevance of Noor’s work.
AdabNama #KrishnaBihariNoor #UrduPoetry #Ghazal #UrduLiterature#
ادب نامہ کی اس خصوصی قسط میں ہم اردو کے ایک اہم اور معتبر شاعر کرشن بہاری نورؔ پر گفتگو کر رہے ہیں۔ نورؔ کی شاعری سادگی، سماجی سچائی اور بناوٹ سے پاک اظہار کی پہچان ہے۔ ان کے اشعار نہ شور کرتے ہیں اور نہ نعرہ بنتے ہیں، بلکہ خاموشی کے ساتھ اپنے عہد کی حقیقت بیان کرتے ہیں۔
اس قسط میں اردو شاعری کے سنجیدہ قاری معین شاداب نورؔ کی شاعری، ان کے فکری رویّے اور ان کے عہد سے تعلق پر گفتگو کرتے ہیں۔ بات اس سوال پر مرکوز ہے کہ نورؔ کی شاعری آج بھی کیوں معتبر محسوس ہوتی ہے، اور ان کا سادہ لہجہ کس طرح گہرے اثر کے ساتھ قاری اور سامع تک پہنچتا ہے۔
یہ قسط کرشن بہاری نورؔ کو محض مقبولیت کے بجائے فہم اور معنی کے زاویے سے دیکھنے کی ایک کوشش ہے، جہاں سچ اپنی پوری سادگی کے ساتھ سامنے آتا ہے۔
A special episode of Adab Nama exploring the poetry and thought of Krishna Bihari Noor.
A concise conversation with Moien Shadab on simplicity, honesty, and the enduring relevance of Noor’s work.
AdabNama #KrishnaBihariNoor #UrduPoetry #Ghazal #UrduLiterature#
Category
✨
PeopleTranscript
00:00نیشنل حیراد نو جیون اور قومی آواز کے مشترکہ عدوی پروگرام عدب نامہ میں آپ کا تہہ دل سے استقبال ہے
00:14میں ہوں عمران ایم خان اور آج کی نششت میں ہم بات کر رہے ہیں ایک ایسے شائر کی جن کا نام لکھنو کی زبان اور اس کی تہذیب کے ساتھ خدرتی طور پر جڑا ہوا ہے
00:27جن کی شائری میں زندگی کے عام تجربے سماج کے سوال اور دل کی سچائی سادہ لفظوں میں سامنے آتی ہے
00:36وہ کہتے ہیں ایک طرف قانون ہے اور ایک طرف انسان ہے ختم ہوتا ہی نہیں جرم و سزا کا سلسلہ اور پھر اپنی کیفیت کو یوں بیان کرتے ہیں
00:48اتنے حصوں میں بٹ گیا ہوں میں میرے حصے میں کچھ بچا ہی نہیں ہم بات کر رہے ہیں کرشن بہاری نور کی
00:56نور نے شائری کو محض اظہار کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اسے اپنے اہد کی بات کہنے کا وسیلہ بنایا
01:04ان کے یہاں سادگی ہے مگر ستہیت نہیں اور سوال ہے مگر شور نہیں
01:10آج کی نششت میں بھی ہمیشہ کی طرح ہمارے ساتھ موجود ہیں
01:13اردو شائری اور عدی مطالعہ کے ایک سنجیدہ اور باریک بین قاری موئین شاداب شاداب صاحب شائری کو محض
01:22لوگ کا معاملہ نہیں سمجھتے بلکہ اسے اپنے اہد کو سمجھنے کا ایک ذریعہ مانتے ہیں ان کی گفتگو میں مطالعہ بھی ہوتا ہے
01:30اور ٹھہراؤ بھی جو بات کو معنی تک لے جاتا ہے شاداب صاحب عدب نامہ میں آپ کا خیر مقدم ہے
01:36ہم گفتگو کا آگاز یہاں سے کرنا چاہیں گے کہ کرشن بہاری نور کی شائری میں جو سادگی
01:44عوامی فہم اور سماجی سچائی نظر آتی ہے کیا یہ ان کے ذاتی مشاہدے کا حاصل ہے
01:51یا اپنے اہد کے دباؤ کا فطری رد عمل
01:54شکریہ امران صاحب
01:58بلکل ذاتی مشاہدہ اس میں زیادہ کار فرما ہے
02:05یہ محض اپنے اہد کے دباؤ نہیں ہے
02:09اس لیے کہ انہوں نے زندگی کو بہت قریب سے دیکھا ہے
02:13ان کی پوری شائریہ آپ پڑھیں گے تو اس سے اندازہ ہوگا
02:16کہ وہاں ایک دھیان اور گیان کی فضا ہم کو ملتی ہے
02:19یعنی جب دھیان اور گیان کی فضا آتی ہے
02:22تو اس میں ایک جوگی کا بیراگ بھی ہمیں نظر آتا ہے
02:25ایک صوفی کا عرفان بھی ہمیں نظر آتا ہے
02:28اور یہ جو جوگی کا بیراگ اور صوفی کا عرفان ہے
02:31کہ دراصل عرفان ذات ہی نہیں ہوتا
02:34بلکہ زمانے کو پہچاننے
02:37اور لوگوں کے دکھ سکھ کو سمجھنے کا بھی ایک بڑا وسیلہ ہوتا ہے
02:40تو ذاتی مشاہدہ اس حد تک
02:45کہ نہ صرف ان کے اپنے ذاتی معاملات
02:47بلکہ جو زمانے کا دکھ تھا
02:50اب ان کا دیکھیں جو پہلا شئریہ مجموعہ تھا
02:52اس کا نام ہی دکھ سکھ تھا
02:54اس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے
02:56کہ انہوں نے اپنا دکھ زمانے کا دکھ
02:59یا سکھ یعنی خوشگوار اور ناخوشگوار
03:03پہلو دونوں کو بہت باریک کے ساتھ دیکھا تھا
03:06تو یہ عام آدمی کا دکھ ہے
03:08یا ان کا اپنا دکھ ہے
03:10کہ جو کہیں نہ کہیں سننے والا
03:13یا اس کو پڑھنے والا
03:15اپنا تجربہ اس کو سمجھتا ہے
03:17اور اس میں وہ ڈوب جاتا ہے
03:19اور دوسری بات ہے کہ ان کے ہاں بناوت نہیں تھی
03:22کسی قسم کی
03:23یعنی اگر انہوں نے زمانے کا سج بیان کیا
03:25تو اس میں بناوت نہیں تھی
03:26کوئی تسنن نہیں تھا
03:29بلکہ جو کچھ سچ تھا
03:30اس کو سیدھا سیدھا انہوں نے
03:32اپنی شائری کے ذریعے بیان کر دیا
03:35ان کو ایک شیر بھی ہے
03:35اور بڑا کوٹ کیا جاتا ہے
03:38کہ سچ بڑھے
03:39یا گھٹے تو سچ نہ رہے
03:41جھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں
03:44تو یہ انہوں نے
03:45کسی بھی سچ کو
03:47بے کموکاست
03:48اپنی شائری کے ذریعے پیش کر دیا
03:50ایک اور خاص بات یہ تھی
03:52کہ ان کے ہاں کوئی نعرے واضی نہیں تھی
03:54کوئی خطاب نہیں تھا
03:56بلکہ ایک مقالمی کی فضا تھی
03:58کہ جیسے کوئی اپنی دھن میں
04:00کوئی شخص جو ہے
04:02بہت والے ہنانداز کے ساتھ
04:04شائری کر رہا ہے
04:05شائری کو جی رہا ہے
04:07شائری صدا رہا ہے
04:08تو اس طرح سے اس میں
04:10گہرہ ذاتی مشہدہ زیادہ کار فرما ہے
04:13اور حالات کا دباؤ بھی تھا
04:15کسی نہ کسی حد تک
04:16وہ اس لیے کہ
04:17جب حالات کا دباؤ ہوتا ہے
04:19تو تبھی کسی انسان
04:20یہ دکھ سکھ کا اندازہ آپ کر سکتے ہیں
04:23بہت شاندار
04:26نور کی غزلیں
04:27مشاعروں میں غیر معمولی طور پر
04:29مقبول رہی
04:30لیکن اس مقبولیت کے باوجود
04:32انہوں نے صدقی پن کو
04:33کبھی قبول نہیں کیا
04:34آپ کے نزدیک یہ توازن
04:36کس طرح قائم رہا
04:38دیکھیں دلازل اس کی
04:40بہت بڑی وجہ
04:41جو ہے وہ فکری دیانت ہے
04:42جو ایک
04:43سوچ کی امانداری ہو سکتی ہے
04:45یہ
04:46صرف اسی کی بنیاد پر
04:49کوئی شخص یا کوئی شاعر یہ کر سکتا ہے
04:51اس لیے وہ جانتے تھے
04:53کہ مشاعرہ
04:54ایک مقبولیت کا ذریعہ تو ہو سکتا ہے
04:56لیکن ان کے اشاعر کو دائمی
04:59کوئی زندگی عطا نہیں کر سکتا ہے
05:01اگر محض تالیاں بٹورنا ہی
05:04مشاعرے کا مقصد ہو
05:05یا داد حاصل کرنا ہی
05:08مشاعرے کا مقصد رہ جائے
05:09تو ظاہر ہے کہ اس کے لیے
05:11بہت زیادہ
05:13محنت کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے
05:15بہت ستھی طور پر
05:17آپ بھی سب کام کر سکتے ہیں
05:19لیکن وہ شعر کے جو زندہ رہے
05:21جو آپ کو اکیلے میں بھی
05:23جنجھوڑے ہیں
05:24مجمع کے ساتھ ساتھ
05:25اس کے لیے
05:26بہت ہی گہرے خیال کی ضرورت ہوتی ہے
05:29لیکن ان کے شاعرے جو عام فہم تھی
05:32جو مشاعروں میں
05:33وہ توجہ سے سنی جاتی تھی
05:34اور وہ
05:35ظاہر ہے کہ لوگوں کو اپنے
05:37قریب محسوس ہوتی تھی
05:38اس کی وجہ یہ تھی
05:40کہ اس میں ساتھگی تو تھی
05:41لیکن انہوں نے کبھی خیال کے ساتھ
05:44سمجھوتا نہیں کیا
05:45کہ اگر سادہ زبان میں
05:46یا سادہ الفاظ میں
05:47انہوں نے کوئی شعر پیش کیا ہے
05:49یا کوئی مفہوم بانا ہے
05:51لیکن
05:52وہ خیال بڑا گہرا تھا
05:54وہ فکر بہت وسط لیے ہوئی تھی
05:56صرف انداز بیان ان کا سادہ تھا
05:59تو یہی وجہ ہے
06:00کہ ان کی شاعری
06:01نہ صرف
06:02مشاعروں کے سٹیج پر
06:04بلکہ جب وہ کاغذ پر آتی تھی
06:06یا کوئی انسان اس کو
06:07اگلے میں محسوس کرتا تھا
06:08کوئی بھی شعر
06:09تو اس کا ایک الک لطف ہوتا تھا
06:12اور یہی وجہ تھی
06:13کہ جنہوں نے
06:14انہیں مشاعرے میں
06:16اور عدب میں
06:17ایک توازن پر قرار رکھنے میں
06:19کافی مدد دیتی ہے
06:21مصر آسان تھے
06:23لیکن اس کا پیغام بہت دور تک جانے والا تھا
06:26اور بظاہر آسان لگنے والی لفظ
06:29اگر اس کے پیچھے چھپے پیغام کی
06:31وسط کا آب اندازہ کریں
06:33تو ظاہر ہے کہ وہ
06:35وہی شعر بڑا ہوتا ہے
06:37جس کی وسط جو ہے
06:38بہت دور تک جاتی ہے
06:41جس کا پیغام دور تک جاتا ہے
06:43تو ایک طرح سے مشاعرہ اور کتاب
06:45یہ انہوں نے
06:47صرف اپنی سادگی سے
06:48اور خیال کی گہرائی سے
06:51ایک توازن انہوں نے قائم کیا
06:53بجا فرمایا آپ نے
06:55شاداب صاحب ہم خاص طور پر چاہیں گے
06:57کہ آپ کرشن بہاری نور کی زندگی
07:00یا عدبی سفر سے
07:01کوئی ایسا واقعہ یا تجربہ
07:03بیان کریں جو عام طور پر
07:05قارئین یا ناظرین کے علم میں
07:07نہیں ہے اور جو ان کی شخصیت
07:09کو ایک نیا زاویہ دے
07:11یہ بڑا مسخ وسم کے آدمی تھے
07:14اپنی دنیا میں گھوم رہنے والے
07:16اور اگر ہم ان کا جو بیک گراؤنڈ ہے
07:19عدبی اس پر نظر ڈالے تو جو لکھنو
07:20ایک عمومی عدبی
07:23ماحول تھا جس کی
07:25دھوم پورے زمانے میں تھی اور لکھنو
07:27جس تہذیب پہ لیے اور جس شیری روایت
07:29کے جانا جاتا ہے اس میں انہوں نے
07:31آنکھیں کھولی اور اسی میں انہوں نے پر بیش
07:33بھی پائی ان کا
07:35جو خانوادہ تھا خاطر سے
07:37جو نانیحال کا
07:38ان کا ایک سلسلہ ہے وہ بڑا
07:40عدبی تھا یعنی ان کے
07:43جو مامو تھے
07:45گوکرن
07:45لکھنوی صاحب
07:48گوکرن پرشاد کرن لکھنوی
07:50وہ شیری شغف رکھ دے تھے
07:52اس طرح جو ان کے خالہ تھی
07:54وہ خود بہت اچھی شائر
07:57تھی تو جس
07:59نانیحال میں انہوں نے پرورش پائی جس
08:02نانیحال میں انہوں نے اپنی زندگی کا پیشتر
08:04حصہ گزارا وہ چاراتوں سے عدبی
08:06خسم کا ماہ ہوتا ہے دوسری
08:08بات میں یہاں یہ بھی عرض کروں گا کہ جیسے
08:10پہلے وہ بیدار لکھنی صاحب سے
08:12اصلاح لیا کرتے تھے بعد میں
08:14فضل نقبی فضل نقبی
08:16کے ایسا نام تھا لکھنو میں
08:18اس وقت جو استادی شاگردی
08:21کی روایت کا ایک
08:22بڑا ہی روشن ستارہ تھا
08:24ان کی شاگردی اپنی اختیار کی
08:27اور
08:28کابل ذکر بھی کیا انہوں نے اپنی کتابوں میں
08:30کرشن بیہاری نور صاحب نے
08:32کہ اسازہ کی کیا خوبیہ ہو سکتی ہیں
08:35اپنے
08:36شاگردوں سے وہ کس طرح سے
08:38پیش آتے ہیں کس طرح سے
08:40اپنی شفقتوں کا اظہار کرتے ہیں
08:42وہ تمام چیزیں تھی
08:43تو فضل نقبی جیسے بڑے شاعر کا
08:47اور قادر القلام شاعر کا
08:49جو
08:50نہ صرف غزلوں کے حوالے سے بلکہ
08:52وہ فصیدہ بھی کہتے تھے مرسیہ بھی کہتے تھے
08:54سلام بھی کہتے تھے
08:56اور صحافی تھے
08:58انہیں نظارہ کے آپ ایڈیٹر تھے
08:59اور نظارہ بڑا مشہور حفظ روزہ تھا
09:01اس زمانے کا
09:02تو ایک ایسی ورسٹائل شخصیت سے
09:05انہوں نے یہ فن حاصل کیا
09:07ان کی زندگی کے بہت سے واقعات ہیں
09:09بہت سے تو لکھے ہوئے ہیں
09:10لیکن جہاں تک اوثنٹیسٹی کا سوال ہے
09:13ایک واقعہ مجھے سنایا تھا
09:15انہوں کے بہت سے اچھے شاگرد آج بھی
09:17موجود ہیں
09:18جیسے ہمارے دوست ہیں
09:20کرشن کمار ناز
09:21ڈاکٹر کرشن کمار ناز
09:23جو مرادوان میں رہتے ہیں
09:26اور انہوں نے کرشن کمار
09:27کرشن بیہاری نور کی
09:30غزلوں پر پی ایڈی کی ڈگری حاصل کی ہے
09:33تو ایک پر طب بتا رہے تھے
09:35کہ کرشن بیہاری نور لکھناؤں کے بازار میں
09:37اپنے کسی دوست کے ہمراہ نکلے ہوئے تھے
09:40انہیں کوئی کپڑا خریدنا تھا
09:43جو انہیں پسند آیا
09:45انہوں نے کہا کہ اس کے کیا دام ہوں گے
09:47تو وہ دکاندان نے جو دام بتا ہے
09:50انہوں نے فوراں عدا کر دی
09:51اور وہ کپڑا لے کر واپس آ گئے
09:53راستے میں ان کے دوست نے کہا
09:56جو ان کے ساتھ کہے تھے
09:57کہ نور صاحب باپ بھی کمال کرتے ہیں
09:59یہ کپڑا میں آپ کو اتنے کم ریٹ پر دلوا سکتا تھا
10:02اور شاید آپ بارگیننگ کرتے
10:05کوئی مول بھاو کرتے
10:08تو شاید یہ کب وہ خود آپ کو بھی
10:10وہ پیسے کم کر سکتا تھا
10:12تو نور صاحب نے بڑا پیارا جواب دیا
10:14انہوں نے کہا کہ دیکھئے
10:16جو چیز پسند آ جائے
10:17جو چیز دل کو بھا جائے
10:19اس کا مول بھاو نہیں کیا جاتا ہے
10:21تو یہ اس طرح کے واقعات
10:24ان کی زندگی کے بہت سے ایسے پہلو
10:26کو نمائے کرتے ہیں
10:27جس میں ایک فلسفی بھی ہے
10:28اور جس میں ایک طرح سے
10:31ایک پسندیدگی
10:33یا پسند کی چیز کی آمیت ہو سکتی ہے
10:36یہ بھی ہے اس کا وقار کیا ہو سکتا ہے
10:39انہوں نے ایک دوسرا واقعہ سنایا تھا
10:41کہ وہ ناس صاحب نے
10:43ایم اے کیا تھا
10:44مردباد کے ایم ایچ کالیج سے
10:46مہارا جاہریشن کالیج سے ایم اے کیا
10:49مہین سے انہوں نے پی ایج ڈی کی
10:50صاحبیل سنبھلی صاحب اس وقت
10:51صوبے کیونکہ صدر تھے
10:53وہی بہت اچھے شاعر ہیں
10:54تو جو ان کا وائیوہ ہوا ایم اے کا
10:56تو جو علیگر سے
10:59وائیوہ نے آئے تھے
11:00ایکسٹرنل ایکزامینر
11:02ان سے انہوں نے ان کا تعریف کرایا
11:04کہ بھئی یہ کرشکوان ناس صاحب ہیں
11:06ہمارے یہاں سے
11:09یہ کر رہی ہیں
11:10تو جب وہ وائیوہ چل رہا تھا
11:13یا شروع ہونے والا تھا
11:15تو انہوں نے کہا کہ کچھ شیر
11:16سنائیے اپنی پسند کے
11:18تو انہوں نے کہا کہ میں خود اپنے شیر
11:20سنا دوں ناس صاحب شہر بھی
11:22نور صاحب پر شاگرد ہے
11:24تو انہوں نے کہا کہ میں اپنے شیر سنا دوں
11:26تو انہوں نے کہا بالکل سنا دیجئے
11:28تو انہوں نے شیر سنائے اپنے
11:30وہ شیر بہت پسند آئے انہوں کو
11:32ایکسٹرنل صاحب کو
11:33تو انہوں نے
11:35باتوں باتوں میں پوچھا کہ آپ کے
11:38اشارتوں بہت اچھے ہیں آپ
11:39کس سے رجوع کرتے ہیں کس سے اسنا لیتے ہیں
11:41تو انہوں نے کہا کہ میں کرشک بہاری نور صاحب کا شاگرد ہوں
11:45نور صاحب کا نام سننا تھا
11:47کہ وہ ایکسٹرنل جو بہت بڑے
11:50ناکت تھے پروفیسر تھے
11:52وہ کھڑے ہو گئے
11:53اور کہنے لگے کہ آپ نے اتنا محترم نام لے لیا ہے
11:57اور واقعی یہ آپ کی کامیابی کی زمانہ تھے
11:59کہ آپ ایک بڑے اور ایک اچھے
12:02نہ صرف استاد بلکہ ایک اچھے انسان سے آپ منزلی ہیں
12:06تو ان واقعات سے ان کی جو
12:09ایک طرح سے جو ان کا کردار تھا
12:13جو ان کی سوچ کا میار تھا
12:16اس کا اندازہ ہوتا ہے
12:17ان کی شخصیت اتنی محترم تھی
12:19اس بات کا ہی پتہ لگتا ہے
12:21جی واقعی آپ نے نور صاحب کی زندگی پر جو روشنی ڈالی
12:25وہ قابل تحسین ہے
12:26اگلا سوال یہ کہ
12:28نور کے اشعار میں تنز بھی ہے
12:30درد بھی
12:31اور کہیں کہیں ہلکی سی مسکراہت بھی
12:33یہ امتزاج ان کی شائری کو
12:35کس طرح دیر پا بناتا ہے
12:38دیکھیں جیس مسکراہت کا آپ نے ذکر کیا
12:41یہ درستل ایک طرح کی شوخی ہوتی
12:43جو ہمارے اسازہ کے یہاں بھی پائی جاتی تھی
12:46غالب کیا بہت سی شوخی آپ نے ان کے اشعار پڑھیں گے
12:48بلکل لگتا کہ مزاہ ہے
12:51لیکن وہ شوخی
12:53اور شگفتگی
12:55ہماری شائری کی خوبی ہے
12:57بڑی خوبی ہے
12:58لیکن اس میں کمال یہ ہے
13:00کہ دیکھیں جس طرح تنز میں مزاہ کے شورہ کو
13:03خیال لگنا ہوتا ہے
13:04کہ اگر وہ بہت زیادہ پر تکلف ہو جاتے ہیں
13:07تو
13:07کلام جو ہے پھکڑپن تک موج جاتا ہے
13:10اور اگر بہت زیادہ تکلف سے کام لیتے ہیں
13:13تو کلام جو ہے وہ گوری ہو جاتا ہے
13:16یہ تو بات سوی تنز و مزاہ کے شورہ کی
13:18لیکن جب غزل میں
13:19آپ کوئی حصہ مزاہ کا استعمال کریں گے
13:22غزل میں کسی شگفتگی کا
13:24آپ انصر لائیں گے
13:26یا ایک شوخی پیدا کریں گے
13:28تو وہاں مزید خیال لگنا پڑے
13:30تو یہ شوخی
13:32جو مسکراہت تک ہم کو لے جاتی ہے
13:34کہ ہمارے لبوں پر ایک مسکراہت پھیل جاتی ہے
13:37کچھ اشار سن کر
13:38تو یہ دراصل ایک شعوری
13:41یا لا شعوری کوشش تو ہے ہی
13:43لیکن یہ غزل کا بڑا خوبصورت حصہ ہے
13:46دوسری بات یہ ہے
13:48کہ عموماً تنزی آشار بہت پسند کیا جاتے ہیں
13:50خاص طور سے مشاعر
13:51بنسبت ان شعروں کے جس میں فلوسفی ہو
13:54یا بڑا گہرا خیال ہو
13:56وہ سوچنے کے لیے مجبور کرتے ہیں
13:59لیکن جو تنز ہوتا ہے
14:00اس لیے کہ انسان گزر رہا ہوتا ہے
14:03ان تمام چیزوں سے جس پر تنز کر رہا ہے شاعر
14:06تو وہ اس کا اپنا تجربہ بن جاتا ہے
14:09لیکن تنز جو ہے وہ کارڈ دار تو ہونا چاہیے
14:12تلخ نہیں ہونا چاہیے
14:13اگر تنز تلخ ہو جائے گا
14:15تو پھر وہی ایک کا اس میں نیگٹیوٹی پیدا ہو جائے گی
14:18تو جب تنز جو ہے کسی شریع میں
14:20اور فاتح اسے غزل کے شعوروں میں
14:22کارڈ دار تو ہوتا ہے
14:24لیکن بڑا
14:25ایسا ہوتا ہے کہ اس میں
14:27ایک گہرائی ہوتی ہے
14:29اس میں خاموشی ہوتی ہے
14:31اس میں کوئی چیخ نہیں ہوتی ہے
14:32تو وہ تنز جو ہے
14:34پھر وہی مسکراہت سے کہیں نہ کہیں ہم آنگ ہو جاتا ہے
14:37جس چیز کی طرف آپ نے اشارہ کیا
14:39کہ تنز درد اور ہلکی سی مسکراہت
14:41جو انتزاج ہے
14:43وہ کس طرح سے ان کے تجربے
14:45کو دائمی سطح تک لے جاتا ہے
14:47تو یہی وہ تجربہ ہے
14:48کہ جہاں شوخی ہو شگفتگی ہو
14:51کسی تلخ مضمون کو آپ
14:52بہت مٹھاز کے ساتھ پیش کر دیں
14:56کہ وہ بار بھی نہ بنیں
14:58اور اس میں
14:59کچھ لوگ چھوڑی بہت دیر کے لیے
15:01ہلکی سی مسکراہت
15:02کے شگفتگی ان کے لبوں پر پھیل جائے
15:04تو یہی درسلے کے ایسا تجربہ ہے
15:06جو کچھ شہر کو دائمی سطح تک لے جاتا ہے
15:09وہ مرحلہ جس کا ناظرین کو انتظار رہتا ہے
15:12شاداب صاحب ہم چاہیں گے
15:14کہ آپ کرشن بہاری نور کے چند منتخب
15:16اشعار اپنی آواز میں پیش کریں
15:18اور یہ بھی بتائیں
15:19کہ سادہ زبان کس طرح گہرہ اثر پیدا کرتی ہے
15:22دیکھیں سادگی تو ہمیشہ جو ہے
15:26بڑی ظالم رہتی ہے
15:27سادگی میں بھی قیامت کی عضا ہوتی ہے
15:28اگر سادگی سے کوئی شخص
15:31کوئی شعر
15:32اپنی بات کہنے میں کامیاب ہو گیا ہو
15:35تو سادگی سے بڑا تو کوئی غزن ہے نہیں شاہر
15:37پہلے میں چند وہ شعر ان کے سناتا ہوں
15:40جو بہت مشہور ہوئے
15:42جن کے وحیاتے نور صاحب پہچانے جاتے ہیں
15:44اور بہت ان کو
15:46حوالہ کیا جاتا ہے
15:47مثلا مشاعروں کی نظامت کے دوران
15:49یا کسی شعر کی جو کیفیت ہوتی ہے خاص
15:56میں تو غزن سنا کے اکیلا کھڑا رہا
15:58میں تو غزن سنا کے اکیلا کھڑا رہا
16:02سب اپنے اپنے چاہنے والوں میں پھو گئے
16:07سب اپنے اپنے چاہنے والوں میں پھو گئے
16:11کیا عجیب و غریب شعر ہے
16:13کہ جب کوئی شعر سنتا ہے
16:14تو آدمی اپنے تجربے میں گم ہو جاتا ہے
16:16اور شعر ایک کرم محسوس کر رہا ہے
16:19کہ میں تو اکیلا پڑ گیا
16:20لیکن سب لوگ کو اپنا تجربہ محسوس ہوا
16:22سب اپنے اپنے چاہنے والوں میں کھو گئے
16:24ایک شعر وہ بہت اچھا انکر
16:26میں جس کے ہاتھوں میں ایک پھول دے کے آیا تھا
16:32میں جس کے ہاتھوں میں ایک پھول دے کے آیا تھا
16:36اسی کے ہاتھ کا پتھر میری تلاش میں ہے
16:38اسی کے ہاتھ کا پتھر میری تلاش میں ہے
16:41یہ زمانے کا ایک بہت بڑا سج بھی ہے
16:44جو اس شعر کو انہوں نے بیان کیا ہے
16:45اور یہ جو ان کی غزل ہے
16:50میں ایک غزل ہی سنا دیتا
16:52اس میں کئی اشار بہت کام کے ہیں جو ان کی بہت مشہور ہوئی تھی غزل
16:57یہ ہے کہ زندگی سے بڑی سزا ہی نہیں زندگی سے بڑی سزا ہی نہیں
17:04اور کیا جرم ہے پتہ ہی نہیں اور کیا جرم ہے پتہ ہی نہیں
17:11سج گھٹے یا بڑھے تو سچ نہ رہے ابھی میں نے اس کا ذکر بھی گیا تھا
17:17سج بڑھے یا گھٹے تو سچ نہ رہے جھوٹ کی کوئی انتحہ ہی نہیں
17:29اگر کی کوئی انتہہ ہی نہیں بڑھ گیا اللہ اے ایتنے ایسے ﷺ بڑھ گیا ہوں میں
17:38میرے حصے میں کچھ بچا ہی نہیں
17:41میرے حصے میں کچھ بچا ہی نہیں
17:45زندگی موت تیری منزل ہے
17:49زندگی موت تیری منزل ہے
17:52دوسرا کوئی راستہ ہی نہیں
17:55دوسرا کوئی راستہ ہی نہیں
17:57یہ زندگی کا فلسفہ ہے
17:59موت کا فلسفہ بھی ہے
18:00جس کو بیان کیا گیا
18:01جس کے قارن فساد ہوتے ہیں
18:03جس کے قارن فساد ہوتے ہیں
18:07اس کا کوئی عطا پتہ ہی نہیں
18:09وہ کون سی طاقتیں ہیں جو سازشے کرتی ہیں
18:13جو پسے پردہ کام کرتی ہیں
18:14ان کی جانے بشارہ ہے
18:16جس کے قارن فساد ہوتے ہیں
18:17اس کا کوئی عطا پتہ ہی نہیں
18:19اپنی رچناوں میں وہ زندہ ہے
18:21اپنی رچناوں میں وہ زندہ ہے
18:24نور سنسار سے گیا ہی نہیں
18:27یہ نور صاحب کے حوالے سے پیش بھی کیا جا سکتا ہے
18:31کہ نور صاحب نہیں رہے
18:32لیکن ان کے شاعری ہمیشہ زندہ رہے گی
18:35ایک غزل کے چنشیر اور سن لیں
18:37یہ بھی بہت مشہور کی غزل ہے
18:39اور بہت پڑھتے تھے وہ
18:39بڑا لہک لہک کے پڑھتے تھے
18:41بہت والی آنالاز میں جھوم جھوم کر
18:43ان کو صرف پڑھنا
18:46کس طرح پڑھتے تھے
18:47یہ دیکھنے کے لیے لوگ مشاعر ہوا جاتے تھے
18:49وہ لب کے جیسے ساغر و سہبہ دکھائی تھے
18:53وہ لب کے جیسے ساغر و سہبہ دکھائی تھے
18:57جنبش جو ہوتو جام چھلکتا دکھائی تھے
19:02جنبش جو ہوتو جام چھلکتا دکھائی تھے
19:06دریا میں یوں تو ہوتے ہیں
19:09قطرے ہی قطرے سب
19:10دریا میں یوں تو ہوتے ہیں
19:14قطرے ہی قطرے سب
19:16قطرہ وہی ہے جس میں کے دریا دکھائی تھے
19:19قطرہ وہی ہے جس میں کے دریا دکھائی تھے
19:23کیا عجیب و غریب شعر ہے
19:25کیوں آئی نہ کہیں اسے پتھر نہ کیوں کہیں
19:28کیوں آئینہ کہیں اسے پتھر نہ کیوں کہے جس آئینے میں اکس نہ اس کا دکھائی دے
19:34جس آئینے میں اکس نہ اس کا دکھائی دے یہ عرفان ہے یہ صرف عشق مجانزی نہیں ہے
19:44عشق حقیقت تک شیرن کو لے جاتا ہے کیوں آئینہ کہیں اسے پتھر نہ کیوں کہیں
19:49جس آئینے میں اکس نہ اس کا دکھائی دے یہ بہت خوبصورت شیرن ہے
19:54اس تشنا لب کی نیند نہ ٹوٹے دعا کرو
19:57جس تشنا لب کو خواب میں دریا دکھائی دے
20:11کیسی عجیب شرط ہے دیدار کے لیے
20:15آنکھیں جو بند ہو تو وہ جلوہ دکھائی دے
20:22آنکھیں جو بند ہو تو وہ جلوہ دکھائی دے
20:26کیا حسن ہے جمال ہے کیا رنگ روپ ہے
20:30بہت خوبصورت شیئر بیوٹیفل شیئر
20:32کیا حسن ہے جمال ہے کیا رنگ روپ ہے
20:37وہ بھیڑ میں بھی جائے تو تنہا دکھائی دے
20:40یہ ان کے ایسے سرشار تھے جو وہ مقبول تھے
20:47اور بڑی اس میں سادگی تھی
20:50اور اس غزل کا ایک شیئر رہ گیا
20:53کہ چاہے سونے کے فریم میں جڑ دو
20:57چاہے سونے کے فریم میں جڑ دو
21:01آئینہ جھوٹ بولتا ہی نہیں
21:02یہ میں بھول گیا تھا اس غزل کا شیئر
21:06جو میں نے بھی آپ کو سائے تھے
21:06آئینہ جھوٹ بولتا ہی نہیں
21:08تو یہ تمام اشاعر تو اس میں ایک چیز ہے
21:10کہ عام پہم اشاعر ہیں
21:12سادہ اشاعر ہیں جس کو سہلے منتنا کہا جاتا ہے
21:16سہلے منتنا کی اگر کوئی مثال دینی ہو
21:18تو کرشن بہاری نور کے اشاعر بھی پیش کر آ سکتے ہیں
21:20اور میں نے ایک چیزیاں اور بتا دوں
21:23کہ ان کا جو شیری نظریہ ہے
21:26وہ ان کے تمام جو مضامین ہیں
21:28ان کی کتابوں میں
21:29اس سے واضح ہوتا ہے
21:30بلکل بجا فرمایا آپ نے
21:32شاداب صاحب ہم آپ کے بیر شکر گزار ہیں
21:35کہ آپ نے کرشن بہاری نور جیسے اہم شاعر پر
21:38اتنی سنجیدہ اور بامانی گفتگو کی
21:41ناظرین اگر آپ کو عدب نامہ کی یہ قصد پسند آئی ہو
21:45تو ویڈیو کو لائک کریں
21:46چینل کو سبسکرائب کریں
21:48اور نئی قصدوں کے لئے بیل آئیکن دبائیں
21:50اپنی رائے اور تجاویز کمنٹس میں ضرور لکھیں
21:53اگلی نششت میں کسی اور شاعر
21:56اور ایک نئی گفتگو کے ساتھ دوبارہ حاضر ہوں گے
21:58اپنا خیال رکھئے گا
22:00پھر ملاقات ہوگی
Be the first to comment