- 2 months ago
- #adabnama
- #sehar
- #poet
- #moienshadab
نیشنل ہیرالڈ، نوجیون اور قومی آواز کی اس قسط میں کنور مہندر سنگھ بیدی سحر کی شاعری، شخصیت اور برصغیر کی مشترکہ تہذیب سے ان کے گہرے رشتے پر گفتگو کی گئی ہے۔
مہمانِ خصوصی معین شاداب نے سحر صاحب کے ادبی پس منظر، ان کے مخصوص تہذیبی لہجے، انسان دوستی کے پیغام، اور مشاعروں میں ان کی بے مثال پیشکش پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے واضح کیا کہ سحر کی شاعری کیسے ہندی-اردو تہذیب کے سنگم کی نمائندگی کرتی ہے اور آج کے نوجوان قاری کے لیے کیوں اہم ہے۔
#adabnama #KunwarMohinderSinghBediSehar #Sehar #poet #MoienShadab
مہمانِ خصوصی معین شاداب نے سحر صاحب کے ادبی پس منظر، ان کے مخصوص تہذیبی لہجے، انسان دوستی کے پیغام، اور مشاعروں میں ان کی بے مثال پیشکش پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے واضح کیا کہ سحر کی شاعری کیسے ہندی-اردو تہذیب کے سنگم کی نمائندگی کرتی ہے اور آج کے نوجوان قاری کے لیے کیوں اہم ہے۔
#adabnama #KunwarMohinderSinghBediSehar #Sehar #poet #MoienShadab
Category
✨
PeopleTranscript
00:00نیشنل ہیرارڈ نف جی ون اور قومی آواز کے مشترکہ عدوی پروگرام عدب نامہ میں آپ کا تہہ دل سے استقبال ہے
00:18میں ہوں عمران ایم خان اور آج کی نششت میں ہم ذکر کریں گے اس شائر کا جس نے محس لفظوں سے نہیں اپنی شخصیت تہذیب اور محبت سے عردو عدب پر ایسا رنگ چھوڑا جسے مٹایا نہیں جا سکتا
00:34ہم بات کر رہے ہیں کمر مہندر سنگھ بیدی سہر کی وہ شائر جنہوں نے دلی پنجاب اور برے سغیر کی مشترکہ فضا کو اپنی شائری کے لہجے میں ایسا سمویا
00:45کہ ان کا نام اردو کے دبستان میں احترام سے لیا جاتا ہے ان کی غزلوں میں رس ان کی نظموں میں زندگی اور ان کی زبان میں وہ محبت ہے جو مشترکہ تہذیب کی سب سے روشن علامت ہے
00:59آج کی نششت میں بھی ہمارے ساتھ موجود ہیں اردو تنقید لسانی متعالے اور برے سغیر کی شائری روایت کے ایک محتبر باریک بین اور سنجیدہ قاری جناب موہند شاداب صاحب
01:12شاداب صاحب عدب نامہ میں گفتگو کے لیے آپ کی موجودگی ہمارے لیے باعث مسررت ہے خوش آمدید
01:19ہم گفتگو کا آگاز یہاں سے کرنا چاہیں گے کہ مہندر سنگھ بیدی سہر کی شخصیت ان کے گھرانے ان کی تعلیم اور ان کے تہذیبی ماحول نے ان کے شیری مجاز کو کس طرح تشکیل دیا
01:32مہندر سنگھ بیدی سہر کی جو شخصیت ہے اس کا جو پورا پس منظر ہے جس کے جانب آپ نے سوال کیا ہے وہ جو برے صغیر تھا
01:43تو برے صغیر کا جو ایک پورا تہذیبی پس منظر ہے جو وہاں کی ہمہانگی ہے اس کا ایک طرح سے پورا وجود جو ہے ان کی شخصیت میں ہمیں نظر آتا ہے
01:53اور اگر ہم ان کی بات کریں کہ وہ ساہیوال میں پیدا ہوئے اور یہ ساہیوال وہ ہے کہ جو غیر منقصیم ہندوستان سے پہلے کا منظر نامہ تھا
02:02یعنی تقسیم سے پہلے کا جو ہندوستان تھا جس کو برے صغیر کہتے ہیں وہاں انہوں نے جنم لیا لاہور میں تعلیم حاصل کی اور گریجویشن آپ نے فارسی اور تاریخ بھی کیا تھا
02:15دوسری بات جو اس وقت کا ماہور تھا آپ اس کو سمجھ سکتے ہیں کہ غیر منقصیم ہندوستان کے جو اس وقت مذہبی اور لسانی ہمہانگی کے فضہ تھی
02:26وہ اس کا ایک الگ نقشہ تھا جو ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مذہبی ہمہانگی روحانی نرمی اور لسانی شائستگی جو ہے وہ ان کے وجود کا حصہ بن گئی ہے
02:39اس کو ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ ان کا خاندان جو تھا وہ گردواری کی گھنٹیوں کی صداوں کے بیچ جو ہے ایک پروان چڑھ رہا تھا
02:49اور صوفیانہ محفلوں کے سرون کے آس پاس تھے تو پنجابی اور اردو تہذیب کی جو گہرائی ہو سکتی ہے
02:55وہ ان کی شخصیت یا ان کے خبیر میں کہیں نہ کہیں شامل ہوئی تھی
03:01پھر وہ تعلیم کا ذکر ہوا کہ لاہور میں تعلیم حاصل کی تاریخ پڑھی انہوں نے اور فارسی کی تعلیم حاصل کی
03:09تو تعلیم کے اس میدان سے ان کے ذہر میں جو غصت پیدا ہوئی
03:13اس سے ان کی شخصیت میں ایک مزید جو ہے اس کی تہیں اور اس کی جہتے جو ہیں اس میں اضافہ ہوتا چلا گیا
03:22تو اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ لسانی ہم آنگی
03:24مذہبی اور روحانی جو اتفاق و اتحاد کی ایک لہر ہو سکتی ہے جو اس وقت کے ہمجستان میں تھی
03:30وہ اور زبانوں کا مل اور اس وقت کے انسانوں کا جو دکھ سک تھا
03:36جو دکھ سک میں وہ ایک دوسرے کے ساتھ شامل ہو رہے تھے وہ اس کا حصہ تھے
03:40اردو اور فارسی آپ کی زبانیں تھی اور پھر جب ان کی شیری شخصیت کی تکمیل ہوتی ہے
03:47جب وہ مناسمت میں آتے ہیں ادھر کا رخ کرتے ہیں آزادی کے بعد جو دیلی کا رخ کرتے ہیں
03:56یا ادھر جو ہمارا مغربی حصہ ہے دیلی کے اس پاس کا پنجاب ہے
04:00پنجاب میں بھی ہو رہے امنیسر میں
04:02تو وہاں سائل دہلوی تھے اس وقت بے خود دہلوی صاحب تھے
04:06امانہ ساہر صاحب تھے اور جوش اس وقت تھے ان کے معاصلی میں شامل تھے
04:11حریچند اختر صاحب تھے اور جگر مردہ واندی جیسا جو ایک ناوکہ روزگار شخص کو کہہ سکتے ہیں
04:16وہ اس وقت کے منظر نامے کا حصہ تھے
04:19تو یہ کہیں کہیں نہ کہ یہ تمام شورہ یہ تمام عدیب جو ہے
04:22ان کی شخصیت کے خمیر کو کہیں نہ کہیں
04:26اس کی وسط پیدا اس میں کر رہے تھے
04:30اور اس میں نئی جہتے پیدا کر رہے تھے
04:32تو یہ ان کے پوری شخصیت کا منظر ناما ہے
04:34شاداب صاحب آپ نے سہر کی تہذیبی پسے منظر کو جس وضاحت سے بیان کیا
04:39وہ ان کی شخصیت کی نئی پرتے کھول دیتا ہے
04:42بہت خوب
04:43سہر کی غزل میں جو نرمی روانی اور محبت کا لہجہ دکھائی دیتا ہے
04:48وہ ان کے ذاتی تجربات کا عقص تھا
04:51یا برے سغیر کی مشترکہ فضا نے ان کے کلام کو یہ رنگ دیا
04:57بلکہ صحیح کہ آپ نے کہ وہ ان کی ذاتی شخصیت کا بھی پرتو تھا
05:01اور جس طرح ان کا ذکر ہوا ہوا
05:03ان کے خاندانی پس منظر کا ذکر ہوا
05:05تو وہ ان کا حصہ تھا ان کے ذات کا حصہ تھا
05:08تو ان کے اپنے ذات کی جو نرمی تھی
05:10اور جس طرح سے انہوں نے تعلیم حاصل کی جس نے شورہ میں ہو رہے
05:14تو ان کے اندرون کی نرمی بھی اس میں شامل تھی
05:16اور اس کے ان کے آفات کا جو ماہول تھا
05:19اس کی جو شائستگی تھی
05:21اس کی جو تہذیب تھی
05:22وہ بھی ان کی شخصیت کو کہیں نہ کہیں
05:25اسی محبت کی جو خوشبو ان کے ہاتھ تھی
05:29جو نرمی تھی اور بے سافتگی تھی
05:30اس میں اضافہ کر رہی تھی
05:32تو کھل ملا کر ان کے اپنی ذات کا جو اندرونی حصہ ہے
05:35جو داخلیت کہہ سکتے ہیں
05:36اور جو خارجی حصہ ہے
05:38یعنی جو ان کے ذات کے باہر کا حصہ تھا
05:40جو درون ذات تھا
05:42وہ تمام چیزیں مل کر
05:43ان کی شخصیت کو نرمی خوشبو
05:46اور ایک نئی طرح کی
05:48جو بہک ہو سکتی ہے
05:50اس سے ہم آن کر رہی تھی
05:52وہی ان کی شائری میں
05:54اور ان کی تحریروں میں شامل ہوتا چلا گیا
05:56ان کی شخصیت کے ساتھ ساتھ
05:57آپ نے جس توازن کے نشاندہ ہی کی
06:00وہی دراصل سہر کی غزل کا
06:03اصل حسن ہے
06:04سہر کی نظموں میں ایک سادہ مگر
06:07گہرا لسانی پیغام ملتا ہے
06:09ہم جاننا چاہیں گے کہ ان کا
06:11اصل اظہار نظم میں
06:13زیادہ نمائی ہوتا ہے
06:15یا غزل ہی ان کا مرکزی وسیلہ تخلیق
06:17ان کا غزل میں بھی ایک خاص مقام ہے
06:21اور ان کی نظموں کا بھی ایک خاص سلسلہ ہے
06:23اور غزل جو ہے اگر ہم دیکھ ہیں
06:26تو ان کے ہاں غزل میں جو ہے
06:27وہ جو محبت کے جذبات ہو سکتے ہیں
06:32جو اس وقت روایتی غزل
06:33چل رہی تھی
06:34جس طرح میں نے جنگر کا ذکر کیا
06:37ایک روایت تھی
06:38اور بڑی کلاسی کی غزل کا وہ دور تھا
06:40تو ان کی غزل
06:41انہی رویوں سے پروان چڑھ رہی تھی
06:44انہی رجانات کے
06:45زیر اثر جو ہے ان کی
06:47شائری کی جو ہے وہ کام کر رہی تھی
06:50لیکن جب وہ نظم کہتے ہیں
06:51ان کی نظموں میں
06:53بنیادی طور پر انسانیت کا پیغام تھا
06:55مذہبی ہمہہنگی تھی
06:58لسانی ہمہہہنگی تھی
07:00یعنی جو مذہبی
07:02کی رواداری ہم کہہ سکتے ہیں
07:03کہ انہوں نے صرف نظمیں عام موضوعات پر نہیں کہیں
07:07جو انسانی مسائل تھے
07:08بلکہ انہوں نے نظمیں
07:10جو مقدس اصناف ہو سکتے ہیں
07:12یعنی انہوں نے ناظر بھی کہی
07:15اور جو
07:17یہ ایک طرح سے جو اہل بیعت ہے
07:20ان کی شانمیں بھی انہوں نے کلام کہا
07:22سلام کہے
07:24تو یہ جو
07:25نظمیں ہیں ان کی اس کا کین بسرا وسیع ہو جاتا ہے
07:29اور ایک نظم تو بہت
07:30مشہور ہے ان کی وہ باج میں میں
07:32خیر پورا بند بھی سناوں گا لیکن
07:33آپ نے ضرور سنا ہو جائے گا کہ عشق ہو جائے
07:35کسی سے کوئی چارہ تو نہیں
07:37صرف مسلم کا محمد نے اجارہ تو نہیں
07:39یہ وہ شیر ہے
07:41کہ
07:43ان کی پہچان بنائے شیر
07:45جب ہم آج بھی
07:46کوہر مہندر سنگھ بیدی کا ذکر کرتے ہیں
07:49تو عشق ضرور کوٹ کرتے ہیں
07:50کش ہو جائے
07:51کسی سے کوئی چارہ تو نہیں
07:53صرف مسلم کا محمد پہ اجارہ تو نہیں
07:55تو ایک طرح سے
07:56جو یہ پورا ایک ماہول تھا
07:59جو غزل سے ہٹ کر ایک ماہول ہو سکتا ہے
08:01جو ایک نظم کا ایک گمبھیل اور سنجیدہ
08:04موضوعات ہو سکتے ہیں
08:05وہ ان کی نظموں کا حصہ تھے
08:07اور بنیادی پیغام ان کا
08:09جو تھا
08:10انسانیت تھا
08:13انسان دوستی تھا
08:15اور محبت تھا
08:16یہ ان کا بنیادی پیغام تھا
08:18اور زندگی کے بہت سے بنیادی سوالات
08:20انہوں نے
08:20اپنی نظموں کو اٹھائے
08:23نظموں کی فضاء ان کی غزل کی طرح سادہ تھی
08:26لیکن یہ سادگی
08:28فلکل ستھی نہیں تھی
08:31بلکہ اس سادگی میں ایک گہرائی تھی
08:33اور یہ گہرائی ہی جو ہے وہ
08:35کمر صاحب کی ایک پہچانت تھی
08:37ان کی شخصیت اور ان کی شائر کا حصہ
08:40تھی جو اس سادگی کی اس پر مگہرائی گیا سکتے ہیں
08:42کیا خوب بات کہی
08:44آپ نے نظم اور غزل دونوں میں
08:46سہر کے تخلیقی مجاز کو
08:48انتہائی خوبصورتی سے واضح کیا
08:50سہر مشاعروں کی دنیا میں بھی
08:53ایک منفرد پہچان مکتے تھے
08:54ہم یہ جاننا چاہیں گے کہ
08:56مشاعرے کی روایت کو انہوں نے کیا دیا
08:58اور ان کی آواز
09:00ادائیگی یا پیشکش میں
09:02وہ کون سے اناثر تھے
09:04جو انہیں سب سے الگ کرتے تھے
09:06لیکن تقریبا ساٹھ برس تک
09:08انہوں نے شائر کی اور کامو بیش کی تھی برس تک
09:11انہوں نے مشاعرے بھی پڑے ہوئے
09:12اور مشاعروں کا
09:15بڑا اٹھونٹ حصہ تھے
09:16یعنی انیس سو بانوے میں
09:18غالبا انہوں نے انتقال ہوا تو اس سے پہلے
09:21جب تک وہ سیت مند رہے
09:22یعنی اسی کی دہائی تک
09:24وہ مشاعروں کا
09:27ایک ایسا لازمی جزت ہے
09:28کہ جن کے بغیر کسی مشاعرے کا تصفر
09:31ہی نہیں کیا جا سکتا تھا
09:32یعنی اگر کوئی مشاعرہ ہے وہ کمر صاحب کے بغیر نہیں سکتا تھا
09:36اور اس کی وجہ یہ تھی
09:37کہ ان کا جو جس طرح آپ نے ذکر کیا
09:39کہ ان کا جو انداز تھا
09:40ان کے جو پیشکش تھی
09:41یہ بہت اہم تھا
09:44یہ پیشکش اور یہ جو انداز تھا
09:48یہ ان کا ایک طرح سے
09:49ان کو بہت ہی لوگ پسند کرتے تھے
09:52ایک پہلوں کو اور تھا ان کا
09:53اس پہلے ہم بات کر لیں شاعری اور ان کی
09:55مشاعر اجاتی زندگی کا جب ہم ذکر کر رہے ہیں
09:58کہ وہ نازم بھی تھے
09:59مشاعروں کی نظامت بہت اچھی کیا کرتے تھے
10:02اور جب وہ تھے
10:04تو ان کے زمانے میں
10:06نظامت کے میدان میں کسی کا سکر نہیں چلا کرتا تھا
10:08اور ایک خاص لہجہ تھا ان کا
10:10ایک خاص عدہ تھی
10:12تو یہ جو نظامت کو
10:15انہوں نے ایک نیا
10:16ڈیمنشن دیا
10:17جس طرح وہ شاعری پڑھتے تھے
10:20اسی طرح نظامت کرتے تھے
10:22تو ان کو یہ کہا جا سکتا ہے
10:25کہ وہ صرف شاعری نہیں کرتے تھے
10:27صرف مشاعریں نہیں پڑھتے تھے
10:29بلکہ جب نظامت کا مائک ان کے ہاتھ میں ہوتا تھا
10:31تو مشاعروں کو سنبھال لیا کرتے تھے
10:33یعنی کیسا ہے بے ہنگم مجمع ہو
10:35کسی بھی طرح کا کراؤڈ ہو
10:38لیکن جب مائک موان صاحب کے ہاتھ میں آ جاتا تھا
10:40تو لوگ دم بخود ہو کر ان کو
10:42سنا کرتے تھے
10:43اس کی وجہ تھی
10:44ان کی شائز تاگفتبو
10:46اور ان کی زبان کا وخار
10:49ان کی شخصیت کا ایک خاص
10:51بسم کا ایک روپ تھا
10:52بڑا نفاست پسند
10:53اور بہت حاضر جواب تھے
10:59حضی مارکر کا تھا
11:00اور ان کی تو جو لطیفے آتے ہیں
11:04شورا کے یا حاضر جوابی آتی ہیں
11:06ان میں ان کا ذکر ہوتا ہے
11:08ایک کتاب جو
11:10کیل سافی نارنگ صاحب ہیں
11:13وہ ان کی
11:14یاد میں کنجمن بھی چلاتے ہیں
11:16دلی میں مقیم ہیں
11:17انہوں نے باقی تک کتابیں لکھی ہیں
11:18ان کی جہاں تک شائری کا انتخاب کیا
11:21ان کے زندگی کا ذکر کیا
11:23تو انہوں نے کچھ لطیفے بھی لکھے ہیں
11:26اور ان کی حاضر جوابیاں لکھے ہیں
11:28جو وہ مشاعروں کے دوران
11:30نظامت کے دوران کیا کرتے تھے
11:31خوبی ان کی یہ تھی
11:33جو کلام پڑھتے ہیں
11:34کہ نہ وہ خطیب لگتے تھے
11:35نہ کوئی سیاست دھاں لگتے تھے
11:38یعنی نہ کوئی واس تھا
11:39نہ کوئی نصیت تھی
11:40نہ کوئی نارے واضی تھی
11:42بلکہ خوش آہنگی کے ساتھ کے
11:44مصرہ ادھر زبان سے نکلا
11:45ادھر سمادوں کے راستے سیدھے
11:47سامین کے دلوں تک پہنچ جاتا تھا
11:50اور ایک اور خاص بات ان کی یہ تھی
11:51کبھی آپ ان کی ویڈیوز دیکھیں
11:53کہ جب وہ پڑھتے تھے
11:54تو اس کے پیچھ جو وقت میں ہوتے تھے
11:56جو سائلنسز ہوتے تھے
11:58جو سکوت ہوتے تھے
11:59جو کومہ
12:00اور کہاں رکھنا ہے
12:01کتنا پوز دینا ہے
12:03تو یہ جو پنکچویشن تھا
12:04ان کی آواز کا
12:05یہ ان کی ایک خاص عدہ تھی
12:08اور اس سے ان کی شائری
12:09مزید پورا اثر ہو جاتی تھی
12:11اور ان کی موجودگی
12:12اور ان کا کلام جو ہے
12:13مشاعرے کو چار چان لگا دیا کرتا تھا
12:16ایک وقت تو ہو جائے گا
12:17ایک چھوٹا سا حالی جوابی
12:18کو ان کا ایک واقعہ سناتا ہوں
12:20کہ ایک مرتبہ
12:21ایک مشاعرہ ہوا
12:24جس طرح تزمین کہی جاتی ہیں
12:26تمثیلے اور یہ شائری
12:29تو پیروڈی کا ایک مشاعرہ تھا
12:31پیروڈی ظاہر ہے
12:32کہ وہ کسی کی نقل ہوتی ہے
12:33فرما مزاہی انداز میں ہوتی ہے
12:35تو اس میں صدارت کا جب ذکر آیا
12:38تو گلزار دہلیوی کے بارے میں کہا گیا
12:40کہ جناب گلزار دہلیوی صاحب
12:43آپ صدارت خبول کرنے
12:44اس پروگرام کی جو پیروڈی کا مشاعرہ ہے
12:46تو گلزار صاحب نے تکلفا
12:49اور بہت انکساری کے ساتھ کہا
12:52کہا رہے جناب میں
12:53اس علاقہ کہا ہوں
12:54کہ میں مشاعرے کی صدارت کروں
12:57یا اس مسند پر میں بیٹھوں
13:00تو کور صاحب نے بہت برجستہ کہا
13:02کہ جناب اپنی صدارت کو بھی پیروڈی سمجھ لی تھی
13:06تو یہ ان کی ایک جو حصہ مزاہ تھی
13:09جو ان کا ایک لطیف سپرنز ہوا کرتا تھا
13:11یہ ان کی فضاء
13:12ان کی جو شخصیت کی فضاء تھی
13:15اس کو بڑا اہم بنا دیا کرتی
13:17جی کمال آپ نے اس فضاء کو زندہ کر دیا
13:20جس میں سہر اپنا شیر پڑھتے تھے
13:22واقعی ان کی پیشکش اپنی مثال آپ تھی
13:25اور اب ہم ہمیشہ کی طرح
13:27جس کا ناظرین کو انتظار رہتا ہے
13:29وہ موقع آیا ہے
13:30شاداب صاحب ہم چاہیں گے
13:32کہ آپ سہر کے چند منتخب اشعار
13:34اپنی آواز میں پیش کریں
13:35اور یہ بھی بتائیں
13:36کہ ان کے لہجے میں وہ کشش کہاں تھی
13:38جو سامے کو فوراً اپنی طرف کھینچ لیتی تھی
13:41جی جی جی
13:44یہ کچھ اشعار پہلے میں پڑھ دیتا ہوں
13:46اور پہلے ہی عزت کر دیتا ہوں
13:48ان کی جو لہجے میں کشش تھی
13:50تو وہ اس لیے تھی کہ وہ عام باتیں
13:52وہ سادہ انداز میں کرتے تھے
13:54اور کسی بھی معمولی بات کو
13:56وہ اپنے انداز سے جو ہے وہ
13:58غیر معمولی بنا دیا کرتے تھے
14:00تو کچھ شیر دیکھیں
14:01میں سناتا ہوں ان کے جو
14:03آج یقیناً اچھے لگیں گے
14:04جو پہلے تو ہم غزل کے کچھ شیر سن لیں
14:06کہ غمِ سودو زیاں سے
14:08بے نیازانہ نکلتا ہے
14:11غمِ سودو زیاں سے
14:14بے نیازانہ نکلتا ہے
14:15بڑی فرزانگی سے
14:17تیرا دیوانہ نکلتا ہے
14:19بڑی فرزانگی سے
14:22تیرا دیوانہ نکلتا ہے
14:23دیوانے کا بڑا فرزانگی کے ساتھ نکلنا
14:25یہ جو ریایت ہے یہ بڑا دوستی رہی ہے
14:28ان شوخ حسینوں کے نرالی ہے
14:30ادا دھی
14:30جو ان کا بڑا عدل کا مشہور شیر ہے
14:32ان شوخ حسینوں کی نرالی ہے عدا بھی
14:35بدھ ہو کے سمجھتے ہیں کہ جیسے ہوں خدا
14:38یہ بھی ان کا شیر ہے
14:40زندگی سوز بنے احساس نہ ہونے پائے
14:44دل تو ٹوٹے مگر آواز نہ ہونے پائے
14:47کیا اچھا شیر ہے
14:49میرے پہلو سے اٹھے
14:50غیر کے پہلو میں جا بیٹھے
14:53جو تم اٹھے تو کیا اٹھے
14:55جو تم بیٹھے تو کیا بیٹھے
14:57یہ زبان کا شیر ہے بالکل
14:59کلکل کلکل ایک مقالمے والی فضا
15:01اور دیکھیں فلسفہ دیکھیں صاحب
15:04امران صاحب فلسفہ دیکھیں
15:05زندگی کا کہ آدمی
15:07موت سے نہیں ڈرتا
15:08آدمی موت سے نہیں ڈرتا
15:11آدمی آدمی سے ڈرتا ہے
15:14تو یہ اس طرح کی جو ایک سیادہ فضا تھی
15:16اب میں وہ سیادہوں کے آخری میں
15:18وہ شیر ضرور سنا دوں
15:20جو بہت مشہور ہے پورا بند ہے یہ
15:21وہ نظم میں کہتے کہ ہم کسی دین سے
15:24ہم کسی دین سے ہوں
15:26قائل کردار تو ہیں
15:28ہم سنا خوانِ شہِ حیدرِ کررار
15:32تو ہیں
15:32نام لیوہ ہے محمد کے پرستار تو ہیں
15:36یعنی مجبور
15:38پئے احمدِ مختار تو ہیں
15:39عشق ہو جائے
15:41کسی سے کوئی چارہ تو نہیں
15:43صرف مسلم کا محمد پہ جارہ
15:46تو نہیں
15:46صرف مسلم کا محمد پہ جارہ تو نہیں
15:49تو یہ ان کے شاعری تھی
15:51اس میں دو سرچشمیں آپ نے محسوس کی
15:53ایک ذاتی تجربات ہیں
15:54رشتے ہیں دکھ سکھ ہیں ان کے اندر کا سفر ہے
15:57اور دوسری طرف جو ہے
15:59برے صدر کی جو مشترکہ تیزیب ہے جو زبان ہے
16:02یہ ان کے ہاں خاص طور پر ملتی ہے
16:05اور ان دونوں کو ذاتی اور استماعی دونوں نظریوں سے پیش کر دیتے ہیں
16:09بہت ہی خوب
16:11آپ نے نہ صرف شیر پڑھے بلکہ سہر کے لہجے کی پوری فضا بھی بنا دی
16:15بہت شکریہ
16:16آخری سوال یہ کہ آج کے نوجوان قاری کے لیے مہندر سنگھ بیدی سہر کا متعلق کیوں ضروری ہے
16:22ان کے کلام میں کون سے اناصر آج بھی تازگی اور معنویت رکھتے ہیں
16:26دیکھیں یہ زمانہ جو ہے
16:30اس لیے ان کی شاعری اہم ہو جاتی ہے
16:32کہ یہ زمانہ افتلاف کا زمانہ ہے نفرتوں کا زمانہ ہے
16:36جب کون مہندر سنگھ شاعری کرے تھے
16:39وہ زمانہ افتلاف کا تو تھا
16:40لیکن نفرتوں کا نہیں تھا
16:42وہ زمانہ جدائے کا تو تھا
16:45لیکن ایک طرح سے فاصلوں کا زمانہ نہیں تھا
16:49تو اس اہد میں کہ جب ہم جدہ بھی ہیں
16:53اور ہم آہانگی بھی نہیں ہے
16:54جب اختلافات بھی ہیں اور نفرتیں بھی ہیں
16:57تو ہمیں کون مہندر سنگھ کی شاعری پڑھ کر
17:00اس فضا میں پہنچنے کا شہر موقع مل جائے
17:03جو زمانے کی فضا تھی
17:05جو ایک لسانی تحذیب تھی
17:07جو ایک مشتر کا تحذیب تھی
17:09جو ایک مشتر کا روایت تھی
17:11دوسری بات جو ان کا لہجہ تھا
17:13بڑا تھی میدھی میں پڑھنا
17:15پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے
17:18ہیرے کا جگر
17:19مرد نادہ پر کلام نرم نازک بے اثر
17:21تو پھول کی پتی سے ہیرے کا جگر کٹنے کا جو سلیخہ تھا
17:25وہ ان سے سیکھایا سکتا ہے
17:27اس وقت شور ہے
17:28بہت تیزی ہے
17:30تو اس شور میں اور اس تیزی میں
17:33اس بھاگتی طورتی زندگی میں
17:35اگر ہم چند لگے میں ٹھہرتے ہیں
17:36تو ظاہر ہے کہ ہمیں ایک سکون ملے گا
17:39ایک امان ملے گی ایک پنہ ملے گی
17:41اور انسان دوستی کا پیغام
17:43جو ان کا سب سے بڑا پیغام تھا
17:44وہ جو ہے ہمیں عام کرنے کی ضرورت ہے
17:47یہی ان کا نوجوانوں کے لئے پیغام
17:49بہت خوب شاداب صاحب
17:51ہم آپ کے بہت شکر گزار ہیں
17:54کہ آپ نے سہر جیسے تہذیبی شاعر پر
17:57اتنی خوبصورت اور جامع گفتگو کی
18:00ناظرین اگر آپ کو یہ قصد پسند آئے
18:02تو ویڈیو کو لائک کریں
18:04چینل کو سبسکرائب کریں
18:05اور بیل آئیکن ضرور دبائیں
18:08تاکہ آپ کو اگلی کشتیں حاصل ہو سکیں
18:11اپنی رائے کمنٹس میں ضرور لکھیں
18:13آپ کی رائے ہی ہماری رہنمائی ہے
18:15اگلی نششت میں ایک نئے شاعر
18:17اور ایک نئی گفتگو کے ساتھ دوبارہ حاضر ہوں گے
18:20اپنا خیال رکھئے گا
18:21پھر ملاقات ہوگی
18:23موسیقی
Comments