Skip to playerSkip to main content
Hazrat Loot (A.S) Ka Mukamil Qissa | Qaum-e-Loot Par Azaab | Islamic History

Hazrat Loot (A.S) Allah ke barguzida Nabi thay jinhein Qaum-e-Loot ki taraf bheja gaya. Yeh qaum apni sakht be-hayai, gunahon aur Allah ki na-farmani ki wajah se mashhoor thi. Hazrat Loot (A.S) ne unhein bar-bar samjhaya, tauba aur seedhi raah ki daawat di, magar unhon ne inkaar kiya.

Aakhir kaar Allah ke hukm se sakht azaab nazil hua — bastiyan ulta di gayin, aur unpar patharon ki baarish hui, jis se poori na-farmaan qaum halaak ho gayi.

Is video mein aap jaanenge:

Hazrat Loot (A.S) ka paighaam

Qaum-e-Loot ke gunah

Azaab ka waqia

Is qissay se milnay wali sakht naseehat

Yeh qissa humein yaad dilata hai ke Allah ki hudood se tajawuz tabahi ka sabab banta hai.

🎙️ Bayan: Qadir Kalhoro

#HazratLoot #LootAS #QaumELoot #IslamicStories #AnbiyaQissay #Azaab #IslamicHistory #QadirKalhoro

Category

📚
Learning
Transcript
00:00بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہو
00:04ناظرین اگرامی ہم امید کرتے ہیں کہ آپ خیریت سے ہوں گے
00:08ہماری دعا ہے کہ اللہ پاک آپ کو صدا آفیت کے سائے میں رکھے
00:12زندگی میں کبھی بھی کوئی غم کوئی تکلیف کوئی پریشانی آپ کے قریب سے بھی نہ گزرے
00:18اللہ تبارک و تعالی آپ کے اور ہمارے رزق کے حلال میں برکت نصیب فرمائے آمین
00:24ناظرین آج کی یہ مکمل ویڈیو آپ نے ضرور دیکھنی ہے
00:28کیونکہ آج ہم ذکر کریں گے حضرت لوت علیہ السلام کا
00:31تو یہ ویڈیو حضرت لوت علیہ السلام کے قصے پر منحصر ہے
00:35ناظرین حضرت لوت علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے
00:40آپ علیہ السلام کے والد کا نام حاران تھا
00:43حضرت لوت علیہ السلام ابھی کم عمر تھے کہ ان کے والد کا انتقال ہو گیا
00:49حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آپ علیہ السلام کی پرورش کی
00:53حضرت لوت علیہ السلام کے بچپن اور جوانی کا کافی عرصہ
00:57انہی کی زیر نگرانی بسر ہوا
00:59حضرت ابراہیم علیہ السلام پر سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں
01:03حضرت لوت علیہ السلام کا نام سر فیرست ہے
01:07آپ کی جائے پیدائش عراق کا قدیم شہر اور ہے
01:11یہی شہر حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مسکن بھی تھا
01:14حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے آبائی وطن سے حجرت کر کے
01:18جب حاران اور بعد الزام مصر میں سکونت پذیر ہوئے
01:22تو حضرت لوت علیہ السلام ان کے ہم راہ تھے
01:25یہیں حضرت لوت علیہ السلام کو منصب نبوت سے سرفراز کیا گیا
01:30شرق اردن اور فلسطین کے درمیان بحر مردار کے کنارے
01:35جنوبی حصے میں سرسبز اور شاداب وادیاں تھیں
01:38یہ علاقے صدوم اور امورہ کے نام سے مشہور تھے
01:42ان علاقوں میں پانی کی فراوانی کی وجہ سے زمین زرخیز تھی
01:47کھیتی باڑی خوب ہوتی تھی
01:48ہر قسم کے پھل، سبزیوں اور باغات کی کسرت تھی
01:52ان علاقوں کے باشندے خوشحال تھے
01:55اور زندگی کی آسائشیں انہیں حاصل تھیں
01:58ازلی دشمن ابلیس نے انہیں گمراہ کرنے کے لیے
02:01اس خوشحال اور آسائش کی زندگی کو استعمال کیا
02:05ان بستیوں کے مقین
02:06اللہ کی عطا کردہ ان نعمتوں کو
02:09اپنے زور بازو پر محمول کرنے لگے
02:12اور عطا خداوندی کو انہوں نے یکسر نظرانداز کر دیا
02:16قادر متلق ذات جب ان کے معئیم میں نظر نہ رہی
02:20تو وہ غرور اور تکبر سے بدمست ہو گئے
02:23دوسری بستیوں کے لوگوں کا ان سرسبز اور شاداب
02:26وادیوں میں آنا جانا رہتا تھا
02:29یہ بات اہل سدوم کو ناغوار گزرتی تھی
02:32وہ ان وادیوں کی سرسبزی اور شادابی کو
02:35اپنی ملکیت تصور کرتے تھے
02:38اور دوسرے علاقوں کے باشندوں کا
02:40ان نعمتوں سے مستفید ہونا
02:42انہیں ہرگز گوارا نہیں تھا
02:44اس آمد و رفت کو روکنے کا ایک طریقہ
02:47انہوں نے یہ نکالا
02:48کہ وہ باہر سے آنے والے لوگوں کا
02:50مال و اسباب لوٹ لیتے تھے
02:52اس طرح رہزنی کی عادت
02:54ان میں رواج پا گئی
02:55غرور تکبر اور سرکشی
02:58ابلیس کی طرز فکر کا خاصہ ہے
03:00اہل سدوم نے جب اس طرز فکر
03:02کو قبول کر لیا
03:04تو ان کے اندر ترہ ترہ کی برائیاں
03:06پیدا ہو گئیں
03:07حرز لالچ بغس اناد کینا
03:10ذرپرستی دلازاری
03:12بداخلاقی اور فسق و فجور
03:14میں وہ لوگ مبتلا ہو گئے
03:16اہل سدوم جب پوری طرح سے
03:18ابلیس کے پھیلائے ہوئے جال میں
03:20پھنس گئے
03:20تو ان کے ذینوں میں
03:22شیطانیت راسخ ہو گئی
03:24اور وہ انہی ترزوں میں سوچنے لگے
03:26جن ترزوں پر عمل پیرا ہو کر
03:28انسان مجسمہ شر
03:30اور فساد بن جاتا ہے
03:32ذاتی منفعت اور آسائش
03:34اور عشرت کے حصول میں
03:36وہ اس قدر اندھے ہو گئے
03:37کہ شرف انسانیت کی طرزیں
03:40ان کے اندر سے مادوم ہو گئیں
03:42دوسروں کو نقصان پہنچا کر
03:44دلازاری کر کے انہیں خوشی
03:46اور راحت محسوس ہوتی تھی
03:48اور ان کے لیے وہ نت نئے طریقے
03:50اختیار کیا کرتے تھے
03:52اس طرز فکر پر کاربند رہنے کی بنا پر
03:55اہلِ صدوم گمراہی
03:57اور زلط کے تاریخ گڑھے میں
03:59اترتے چلے گئے
04:00بدعتوار قوم نے
04:01بد آمالیوں اور فواہش کی فیرست میں
04:05ایک ایسے عمل کا اضافہ بھی کر دیا
04:07جو اس قوم کی بدکاری کے سبب
04:10صفحہ حستی سے نابود کیے جانے کے لیے
04:13عذابِ الہی کی بنیاد بن گیا
04:15نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لیے
04:17قدرت کا مقرر کردہ طریقہ چھوڑ کر
04:20عورتوں کے بجائے مردوں اور لڑکوں سے اختلاط رکھنا
04:24اس قوم کا دستور بن گیا
04:25شرافت اور انسانیت کا شائعبہ تک
04:28اہلِ صدوم میں باقی نہ رہا
04:30خباست اور بے حیائی کی انتہا یہ تھی
04:33کہ عوام الناس سے لے کر
04:35قوم کے سردار اور حاکم تک
04:38اس اخلاق سوز عمل کو عیب نہیں گردانتے تھے
04:41بلکہ علل اعلان فخریہ انداز سے اس کا تذکرہ کرتے تھے
04:45اور بھری محفلوں میں ناپسندیدہ حرکات دہراتے تھے
04:49قرآن کریم میں اس بستی اور اس کے باشدوں کا تذکرہ
04:53ان الفاظ میں آیا ہے
04:55بستی جہاں کے لوگ گندے کام کیا کرتے تھے
04:58وہ برے اور بد کردار لوگ تھے
05:00ناظرین حضرت لوت علیہ السلام اسی قوم کی طرف مبعوس کیے گئے تھے
05:07آپ علیہ السلام نے اہل سودوم کی بے حیائیوں اور خباستوں کی ملامت کی
05:13ان کے اندر موجود اخلاقی برائیوں کی نشاندہی کی
05:16اور ان برائیوں سے نجات پانے کے طور طریقوں کی تبلیغ کی
05:20قوم کو گمراہ اور ظلمت کے اندھیروں سے نکالنے کے لیے
05:24رب کائنات کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا کرنے
05:28اور شرافت اور پاکیزگی کے عامال اپنانے کی ترغیب دی
05:32اسلاح اور تذکیہ نفس کے لیے ہدایت و نصیحت کا
05:36یہ ترغیبی پروگرام قوم پر بہت شاق گزرا
05:39مٹی کی چپک اور مٹی سے تخلیق پانے والے مظاہر کی کشش نے
05:44ان کے حواس کو اپنی گرفت میں اس طرح سے جکڑا ہوا تھا
05:48کہ وہ اس بدمستی کی قیفیت سے نکلنا ہی نہیں چاہتے تھے
05:52وہ حضرت لوت علیہ السلام سے متنفر رہنے لگے
05:57اور ان کی نصیحت آموز باتوں کو
05:59اپنی عائش و عشرت کی زندگی کے لیے
06:02ایک رکاوٹ تصور کرنے لگے
06:04سورة العراف میں دعوت حق کے جواب میں
06:07اہل سدوم کا رد عمل بیان ہوا ہے
06:10ارشاد باری طالع ہے اور کچھ جواب نہ دیا
06:13اس کی قوم نے مگر یہی کہا
06:16نکالو ان کو اپنے شہر سے
06:18یہ لوگ ہیں ستھرائی چاہتے
06:20سدوم اور امورا کی سرزمین پر آباد نوع انسان کا
06:24یہ سرکش گروہ نافرمانی
06:27بے حیائی اور اخلاق سوز کاموں پر مسر رہا
06:30اللہ کے فرستادہ بندے
06:32حضرت لوت علیہ السلام نے انہیں
06:34ان کے ناپسندید آفکار کے باعث
06:37خدا تعالی کی ناراضگی
06:38اور آمال بد کے سبب نازل ہونے والے عذاب سے ڈر آیا
06:43قوم نے ان نصیحتوں کا کوئی بھی اثر
06:46قبول کرنے کے بجائے
06:47حضرت لوت علیہ السلام کا مزاق اڑانا شروع کر دیا
06:51اور نافرمان ناقوام کے طرز عمل کو دھوراتے ہوئے
06:54غرور اور تکبر اور سرکشی کا اظہار کیا
06:58بستی کے لوگ حضرت لوت علیہ السلام کو دیکھتے
07:01تو آوازیں کستے
07:02اے لوت ہمارے آمال سے تیرا خدا اگر ناراض ہے
07:05تو عذاب لا کر دکھا
07:07جس کا ذکر کر کے تو ہمیں بار بار ڈر آتا ہے
07:10حضرت لوت علیہ السلام کو جب یقین ہو گیا
07:13کہ یہ لوگ ہدایت کی راہ اختیار نہیں کریں گے
07:16تو انہوں نے رب العزت کی بارگاہ میں استدعا کی
07:19اے رب مجھے ان مفسد لوگوں پر غالب کر دے
07:23مفسد اور شریر لوگوں پر فتح و نصرت کی دعا قبول ہوئی
07:27بستی والوں کے آمال کے سبب بارگاہِ الہی سے حکم ہوا
07:31کہ اہلِ صدوم کو نیست و نابود کر دیا جائے
07:35بستیوں کو ان کے مکینوں سمیت الٹنے کے لیے
07:38فرشتوں کی ایک جماعیت مقرر ہوئی
07:41یہ فرشتیں انسانی روپ میں ظاہر ہوئے
07:43پہلے یہ جماعیت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس پہنچی
07:48اور ان کو حضرت اسحاق علیہ السلام کی ولادت کی خوشخبری دی
07:52اور اہلِ صدوم کی حلاکت کی اطلاع بھی دی
07:55فرشتوں کی یہ جماعیت جب حضرت لوت علیہ السلام کے پاس پہنچی
07:59تو رات کا وقت تھا
08:01انہوں نے حضرت لوت علیہ السلام کے گھر والوں سے
08:04اپنا تعارف مہمانوں کی حیثیت سے کروایا
08:07فرشتیں انسانی روپ میں تھے
08:09اور ملکوتی حسن ان میں بہت زیادہ تھا
08:12حضرت لوت علیہ السلام کی بیوی گمراہ قوم کی ہمخیال تھی
08:16اس نے مہمانوں کی آمد کی اطلاع اہلِ صدوم کو کر دی
08:21لوگ حضرت لوت علیہ السلام کے گھر کے باہر جمع ہو گئے
08:24اور مطالبہ کرنے لگے
08:26کہ یہ مہمان ہمارے حوالے کر دیے جائیں
08:28حضرت لوت علیہ السلام نے انہیں اس وقت بھی نصیحت کی
08:33اور اللہ کے عذاب سے ڈرائیا
08:35لیکن اہلِ صدوم پر جنون سوار تھا
08:37انہوں نے حضرت لوت علیہ السلام کی ایک بھی نہ سنی
08:41یہ روایت بھی بیان کی جاتی ہے
08:43کہ انہوں نے حضرت لوت علیہ السلام پر حملہ کر کے
08:46انہیں مضروب کر دیا
08:48اس وقت حضرت لوت علیہ السلام نے بارگاہِ الہی میں استضاع کی
08:52اے میرے رب مجھے اور میرے متعلقین
08:56اور ان کے کاموں سے نجات دے
08:58اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتوں نے حضرت لوت علیہ السلام کو تسلی دی
09:02کہ اے لوت ہم بھیجے ہیں تیرے رب کے
09:05ہرگز نہ پہنچ سکیں گے تجھ تک
09:08سو لے نکل اپنے گھر والوں کو کچھ رات سے
09:11اور مڑ کر نہ دیکھے
09:13تم میں سے کوئی مگر تیری عورت
09:15یوں ہی ہے کہ اس پر پڑنا ہے
09:17جو ان پر پڑے کا
09:19ان کے وعدے کا وقت ہے
09:21صبح
09:22کیا صبح نہیں نزدیک
09:24بحوالہ صورتِ حود
09:26ناظرین حضرت لوت علیہ السلام فرشتوں کی ہدایت کے مطابق
09:30اپنے متعلقین کے ہمراہ
09:32صدوم سے رات کے وقت نکلے
09:35اور اس وادی سے ایک طرف
09:37زغر نامی مقام پر پہنچ گئے
09:39صبح کے نزدیک
09:40ایک ہولناک آواز بلند ہوئی
09:42اور اہلِ صدوم کے حواس معتل ہو گئے
09:45آسمان سے ان پر کنکر
09:47اور پتھر برسائے گئے
09:49اور تمام بستیاں ان کے مکینوں
09:51سمیت اولٹ دی گئیں
09:52حضرت لوت علیہ السلام
09:54اپنے ساتھیوں کے ہمراہ جس مقام پر موجود تھے
09:57وہ عذابِ الہی سے محفوظ رہا
10:00توریت کے باب پیدائش میں
10:02اس عذاب کا تذکرہ ان الفاظ میں ملتا ہے
10:05تب خداوند نے اپنی طرف سے
10:07صدوم اور امورہ پر
10:09گندھک اور آگ آسمان سے برسائی
10:11اور اس نے ان شہروں کو
10:13اور اس ساری ترائی کو
10:15اور ان شہروں کے سب رہنے والوں کو
10:17اور سب کچھ جو زمین سے اگا تھا
10:20غارت کر دیا
10:21کہا جاتا ہے کہ بحرِ مردار
10:23جو اب سمندر نظر آتا ہے
10:25کسی زمانے میں خوشک زمین تھی
10:27اور اس پر شہر آباد تھے
10:29صدوم اور امورہ کے آبادیاں
10:32اسی مقام پر تھیں
10:33یہ مقام شروع میں سمندر نہ تھا
10:36جب اہلِ صدوم پر عذاب نازل ہوا
10:38تو شدید زلزلوں کے باعث
10:40یہ زمین چار سو میٹر
10:42ستح سمندر سے نیچے چلی گئی
10:45اور یہاں پانی اُبھر آیا
10:47قرآنِ حکیم سمیت تمام
10:49الہامی کتابوں میں مذکور یہ واقعہ
10:51نوعِ انسانی کو در سے
10:53عبرت دیتا ہے اور بتاتا ہے
10:55کہ دنیا میں ایسی کوئی مثال
10:57سامنے نہیں آئی کہ
10:58ظالم کو اس کے ظلم کا بدلہ
11:01نہ ملا ہو اس حقیقت سے
11:03انکار ممکن نہیں ہے کہ شیطنت
11:05کے پیروکاروں کو زندگی میں
11:07سکونِ قلب کی دولت حاصل
11:09نہیں ہوتی مقافاتِ عمل
11:11کا یہ قانون ہے کہ کوئی بندہ
11:13اس وقت تک رنگ و بو
11:15کی اس دنیا سے رشتہ منقطع
11:17نہیں کر سکتا جب تک وہ
11:19مقافاتِ عمل کا کفارہ
11:21ادا نہیں کر دیتا کیا کوئی
11:23بندہ یہ کہہ سکتا ہے
11:25کہ خیانت اور بددیانتی سے
11:27اس کی مصررت میں اضافہ ہوا ہو
11:29کیا کوئی آدمی متعفن
11:31اور سڑی ہوئی غزہ کھانے کے
11:33بعد بیماریوں پریشانیوں
11:35اور بیچینی سے محفوظ رہ سکتا ہے
11:37کیا سیاہ کارانہ ترز
11:39زندگی اپنا کر ارادوں میں
11:41کامیابی ممکن ہے ایسی کامیابی
11:43جس کامیابی کو حقیقی
11:45کامیابی اور مستقل
11:47کامیابی کہا جا سکے
11:48ظاہر ہے کہ ان تمام سوالات
11:50کا جواب یہ ہے کہ برے کام
11:53کا نتیجہ برا مرتب ہوتا ہے
11:55اور اچھے کام کا نتیجہ
11:57اچھا ہی ظاہر ہوتا ہے
11:58اس اصول کو لا محالہ تسلیم کرنا
12:01پڑے گا کہ فلاح خیر میں
12:03ہے اور شر کا نتیجہ
12:04ہمیشہ تباہی کی صورت میں سامنے آیا
12:07ہے یہی قانون اجتماعی
12:09زندگی کا ہے اجتماعی طور پر
12:11اگر معاشرہ منافقانہ
12:13زندگی میں مبتلا ہو جائے
12:14تو اس کا نتیجہ بھی اجتماعی
12:16تباہی مرتب ہوتا ہے
12:18تباہی کے اسباب پر اگر غور کیا جائے
12:20تو یہ بات سامنے آتی ہے
12:22کہ بساوقات ہم ایک برائی
12:24کو بہت کم تر اور معمولی
12:26سمجھتے ہیں لیکن حقیر نظر
12:28آنے والی یہی برائی جب
12:30بیج بن کر نشونما پاتی ہے
12:32اور درخت بن جاتی ہے
12:34تو اس درخت کے پتے کانٹے
12:36کریہا رنگ پھول خوشک
12:38سیاہ اور کھردرے پتے
12:40بجی بجی سی اور بے رونق
12:43شاکھیں پورے نو
12:44کو غم آشنا کر دیتی ہیں
12:46اور پھر یہ غم زمیر کی
12:48ملامت بن کر محلق بیماریوں
12:50کے ایسے کمبے کو جنم دیتا ہے
12:52جس سے آدمی بچنا بھی چاہے
12:54تو بچ نہیں سکتا اگر ہم
12:56واقعہ تن حقیقت کو سمجھنا چاہتے ہیں
12:59اور تفکر کو اپنا شعار
13:01بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں جاننا
13:02ہوگا کہ خیر و شر کے تمام
13:05مراحل ایک کمبے کے فرد
13:07کی طرح زندہ اور متحرق
13:09ہیں نیکی کا درخت
13:10رحمت اور برکت کا سایہ
13:13ہے اور بدی کا درخت خوف
13:15اور پریشانی اور رنج و ملال
13:17کی قیفیات کا نوع
13:18انسانی پر مسلط کر دیتا ہے
13:20ناظرین اسلامی روایات اور
13:22تواریخ میں جنسی انحراف
13:24کے ساتھ ساتھ قوم لود کے
13:26برے اور شرمناک آمال
13:29اور گھٹیا کردار بھی بیان
13:31کیے گئے ہیں کہ ان کی مجالس
13:33اور بیٹھکیں طرح طرح کے
13:34منکرات اور برے آمال سے
13:36آلودہ تھیں وہ آپس میں
13:38رقیق جملوں فہش کلامی
13:41اور فبتیوں کا تبادلہ کرتے
13:43تھے ایک دوسرے کی پشت پر
13:45مکے مارتے تھے قمار
13:46بازی کرتے تھے بچوں والے
13:48کھیل کھیلتے تھے گزرنے والوں
13:50کو کنکریاں مارتے تھے ترہ
13:52ترہ کے آلات موسیقی استعمال
13:55کیا کرتے تھے اور لوگوں کے
13:56سامنے برہنہ ہو جاتے تھے
13:58اور اپنی شرم گاؤں کو ننگا
14:00کر دیتے تھے واضح ہے کہ
14:02اس قسم کے گندے ماحول میں
14:04ہر روز انحراف اور بدی
14:06نئی شکل میں رونما ہوتی ہے
14:09اور وسیع سے وسیع تر
14:10ہوتی چلی جاتی ہے ایسے ماحول
14:12میں اصولی طور پر برائی کا
14:14تصور ختم ہو جاتا ہے اور لوگ
14:16اس طرح سے اس راہ پر
14:18چلتے ہیں کہ کوئی کام ان کی
14:20نظر میں برا اور قبیح نہیں
14:22رہتا ان سے زیادہ بدبخت
14:24وہ قومیں ہیں جو علم کی
14:26پیشرفت کے زمانے میں انہی
14:28راہوں پر گامزن ہیں
14:30بعض اوقات تو ان کے آمال اس قدر
14:32شرمناک اور رسوہ کن ہوتے ہیں
14:34کہ قوم لوت کے آمال
14:36بھول جاتے ہیں قرآن مجید میں
14:38ارشاد ہوتا ہے خدا نے کافروں
14:40کے لئے ایک مثال بیان کی ہے
14:42نوح علیہ السلام کی بیوی کی
14:44مثال اور لوت علیہ السلام
14:46کی بیوی کی مثال وہ دونوں
14:48ہمارے دو سالح بندوں کے
14:50ماتحد تھیں لیکن انہوں نے ان سے
14:52خیانت کی لیکن ان دو عظیم
14:54پیغمبروں سے ان کے
14:56ارتباط نے عذاب الہی
14:58کے مقابلے میں انہیں کوئی نفع
15:00نہیں دیا اور ان سے کہا گیا
15:02کہ تم بھی آگ میں داخل ہونے
15:04والے لوگوں کے ساتھ آگ
15:06میں داخل ہو جاؤ ناظرین
15:08حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی
15:10کا نام والہہ اور حضرت
15:12لوت علیہ السلام کی بیوی کا
15:14نام والعت تھا اور
15:16بعض نے اس کے برعکس لکھا ہے
15:18یعنی نوح علیہ السلام کی بیوی
15:20کا نام والعتہ اور
15:22لوت علیہ السلام کی بیوی کا نام
15:24والہہ یا واہلا
15:26برحال ان دونوں عورتوں نے ان دونوں عظیم پیغمبروں کے ساتھ خیانت کی
15:32البتہ ان کی خیانت جائد عفت سے انحراف ہرگز نہیں تھا
15:36کیونکہ کسی پیغمبر کی بیوی ہرگز بے عفتی سے آلودہ نہیں ہوتی
15:42جیسا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک حدیث میں سرحت کے ساتھ بیان ہوا
15:48کہ کسی بھی پیغمبر کی بیوی ہرگز منافی عفت عمل سے آلودہ نہیں ہوئی
15:54حضرت لوت علیہ السلام کی بیوی کی خیانت یہ تھی
15:57کہ وہ اس پیغمبر کے دشمنوں کے ساتھ تعاون کرتی تھی
16:01اور ان کے گھر کے راز انہیں بتاتی تھی
16:04اور حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی بھی ایسی ہی تھی
16:07ناظرین بعض روایات میں ہے کہ جب ملائکہ نے کہا
16:11کہ عذاب کے وعدے پر عمل درامت صبح کے وقت ہوگا
16:15تو حضرت لوت علیہ السلام کو جو اس آلودہ قوم سے سخت ناراض اور پریشان تھے
16:21وہی قوم جس نے اپنے شرمناک آمال سے ان کا دل مجروح کر رکھا تھا
16:26اور ان کی روح کو غموں سے بھر دیا تھا
16:29فرشتوں سے خواہش کی
16:30کہ اب جب کہ ان کو نابود ہی ہونا ہے
16:33تو کیا ہی اچھا ہو کہ جلدی ایسا ہو
16:35لیکن انہوں نے حضرت لوت علیہ السلام کی دل جوئی
16:38اور تسلی کے لیے کہا
16:40کہ کیا صبح نزدیک نہیں ہے
16:42آخر عذاب کا لمحہ آن پہنچا
16:45اور لوت پیغمبر علیہ السلام کے انتظار کے لمحے ختم ہوئے
16:49جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد باری طالع ہے
16:52جس وقت ہمارا فرمان آن پہنچا
16:55تو ہم نے اس زمین کو زیرو زبر کر دیا
16:58اور ان کے سروں پر مٹیلے پتھروں کی پہیم بارش برسائی
17:02پتھروں کی یہ بارش اس قدر تیز
17:04کہ پے در پے تھی
17:05کہ گویا پتھر ایک دوسرے پر سوار تھے
17:08لیکن یہ معمولی پتھر نہ تھے
17:10بلکہ تیرے پروردگار کے یہاں معین اور مخصوص تھے
17:15البتہ یہ تصور نہ کریں کہ یہ پتھر قوم لوت کے ساتھ ہی مخصوص تھے
17:20بلکہ یہ کسی ظالم قوم اور جمعیت سے دور نہیں ہیں
17:24اس بے راہ روی اور منحرف قوم نے اپنے اوپر بھی ظلم کیا
17:28اور اپنے معاشرے پر بھی وہ اپنی قوم کی تقدیر سے بھی کھیلے
17:33اور انسانی ایمان اور اخلاق کا بھی مزاق اڑایا
17:36جب ان کے ہمدرد اور رہبر نے دادو فریاد کی
17:39تو انہوں نے کان نہ دھرے اور ان کا مزاق اڑایا
17:43اور آلہ ڈھٹائی بے شرمی اور بے حیائی یہاں تک آن پہنچی
17:48کہ وہ اپنے رہبر کے مہمانوں کی حرمت اور عزت پر تجاوز کے لیے بھی اٹھ کھڑے ہو گئے
17:54یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے ہر چیز کو الٹ کر رکھ دیا
17:57ان کے شہروں کو بھی الٹ جانا چاہیے تھا
18:00فقط یہی نہیں کہ ان کے شہر تباہ و برباد ہو جاتے
18:04بلکہ ان پر پتھروں کی بارش بھی ہونا چاہیے تھی
18:07تاکہ ان کے آخری آثار حیات بھی درہم برہم ہو جائیں
18:11اور وہ ان پتھروں میں دفن ہو جائیں
18:14اس سے کہ ان کا نام و نشان اس سرزمین میں نظر نہ آئے
18:18صرف فہشتناک تباہ اور برباد بیابان
18:22خاموش قبرستان اور پتھروں میں
18:25دبے ہوئے مردوں کے علاوہ ان میں کچھ باقی نہ رہے
18:29کیا صرف قوم لوت کو یہ سزا ملنی چاہیے
18:32نہیں یقینا ہرگز نہیں
18:34بلکہ یہ منحرف گروہ اور ستم پیشہ قوم کے لیے
18:38ایسا ہی انجام انتظار میں ہے
18:40کبھی سنگریزوں کی بارش کے نیچے
18:42اور کبھی معاشرے کے لیے تباہ کن اختلافات کے تحت
18:46خلاصہ یہ کہ ہر ستمگر کو کسی نہ کسی صورت میں
18:50ایسے عذاب سے دو چار ہونا پڑے گا
18:53اللہ سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں سرات مستقیم پر چلنے کی
18:57کامل توفیق عطا فرمائے
19:00آمین
19:00دوستو ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کی نالج میں اضافہ ہوا ہوگا
19:05اور آپ کا ایمان بھی یہ ویڈیو دیکھ کر تازہ ہوا ہوگا
19:08دوسرے لوگوں کی اصلاح کے لیے یہ ویڈیو ان کے ساتھ بھی شیئر ضرور کیجئے
19:14آنے والی ویڈیو تک اپنے میزبان قادر بخش کلھوڑو کو اجازت دیجئے
19:19اللہ حافظ
Be the first to comment
Add your comment

Recommended