Hazrat Ismail (A.S) Ka Mukamil Qissa | Sabr, Qurbani Aur Ita‘at Ki Azeem Misal | Islamic History
Hazrat Ismail (A.S) Allah ke barguzida Nabi aur Hazrat Ibrahim (A.S) ke betay thay. Aap ki zindagi sabr, farmaan-bardari aur qurbani ki be-misaal misaal hai. Bachpan mein Makkah ki be-aab-o-giyah wadi mein rehna, Zamzam ka zahoor, aur phir Allah ke hukm par qurbani ke liye tayyar ho jana — yeh sab imaan ki buland tareen misaalen hain.
Allah ne Hazrat Ismail (A.S) ke sabr aur itaat ko pasand farmaya aur qurbani ko azeem sunnat bana diya jo aaj bhi ummat ada karti hai.
Is video mein aap jaanenge:
Hazrat Ismail (A.S) ki paidaish aur parwarish
Zamzam ka waqia
Qurbani ka azeem imtihaan
Sabr aur itaat ki naseehat
Yeh qissa humein sikhata hai ke Allah ke hukm ke samne poori farmaan-bardari hi kamyabi ka raasta hai.
🎙️ Bayan: Qadir Kalhoro
#HazratIsmail #IsmailAS #IslamicStories #AnbiyaQissay #Qurbani #Zamzam #IslamicHistory #QadirKalhoro
Hazrat Ismail (A.S) Allah ke barguzida Nabi aur Hazrat Ibrahim (A.S) ke betay thay. Aap ki zindagi sabr, farmaan-bardari aur qurbani ki be-misaal misaal hai. Bachpan mein Makkah ki be-aab-o-giyah wadi mein rehna, Zamzam ka zahoor, aur phir Allah ke hukm par qurbani ke liye tayyar ho jana — yeh sab imaan ki buland tareen misaalen hain.
Allah ne Hazrat Ismail (A.S) ke sabr aur itaat ko pasand farmaya aur qurbani ko azeem sunnat bana diya jo aaj bhi ummat ada karti hai.
Is video mein aap jaanenge:
Hazrat Ismail (A.S) ki paidaish aur parwarish
Zamzam ka waqia
Qurbani ka azeem imtihaan
Sabr aur itaat ki naseehat
Yeh qissa humein sikhata hai ke Allah ke hukm ke samne poori farmaan-bardari hi kamyabi ka raasta hai.
🎙️ Bayan: Qadir Kalhoro
#HazratIsmail #IsmailAS #IslamicStories #AnbiyaQissay #Qurbani #Zamzam #IslamicHistory #QadirKalhoro
Category
📚
LearningTranscript
00:00بسم الله الرحمن الرحيم
00:01السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
00:04ناظرین ہم امید کرتے ہیں کہ آپ خیریت سے ہوں گے
00:08ہماری دعا ہے کہ اللہ پاک آپ کو صدا آفیت کے سائے میں رکھے
00:12زندگی میں کبھی بھی کوئی غم کوئی بھی دکھ پریشانی یا تکالیف
00:16آپ کی زندگی کے قریب سے بھی نہ گزریں
00:19اللہ تبارک و تعالی آپ تمام بھائیوں اور میری محترم بہنوں کے رزق حلال میں برکت نصیب فرمائے
00:26آمین
00:27ناظرین آج کی اس ویڈیو میں ہم حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش سے لے کر وفا تک کا قصہ بیان کریں گے
00:34لہٰذا ویڈیو کو آخر تک ضرور دیکھئے گا اور اس ویڈیو کو شیئر بھی ضرور کیجئے گا
00:40ناظرین قصص الانبیاء کا یہ سلسلہ جاری ہے
00:43اس سلسلے کی ہم پہلے بھی ویڈیوز اپلوڈ کر چکے ہیں جو ہماری پلے لسٹ میں موجود ہیں
00:48لہٰذا آپ ان ویڈیوز کو بھی ضرور دیکھئے گا
00:51اب چلتے ہیں اپنی آج کی ویڈیو کی جانب
00:54ناظرین حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پہلی شادی اپنی چچازاد حضرت سارا سے ہوئی
01:00لیکن وہ ایک عرصے تک اولاد کی نعمت سے محروم رہے
01:03ایک دن حضرت سارا نے ان سے فرمایا کہ آپ علیہ السلام حضرت حاجرہ سے نکاح کر لیں
01:09شاید اللہ تعالیٰ ان کے بطن سے اولاد عطا فرما دے
01:13دراصل یہ سب کچھ من جانب اللہ ہی تھا
01:16چنانچہ آپ علیہ السلام نے حضرت حاجرہ کو اپنی زوجیت میں لے لیا
01:21اور پھر شادی کے ایک سال کے بعد ہی انہوں نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو جنم دیا
01:27اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر مبارک چھاسی سال تھی
01:32جب حضرت حاجرہ علیہ السلام امید سے تھی
01:35تو فرشتے نے آپ علیہ السلام کو لڑکا ہونے کی نویت سنائی
01:39اور اسماعیل نام رکھنے کو کہا
01:42حضرت اسماعیل علیہ السلام 18 سو قبل مسیح میں پیدا ہوئے
01:46حضرت ابراہیم علیہ السلام دعاؤں آرزوں اور تمناوں کے بعد
01:51پیرانہ سالی میں پہلے فرزند کی پیدائش پر خوشی کا بھرپور اظہار بھی نہ کر پائے تھے
01:56کہ انہیں ایک اور آزمائش سے گزرنا پڑا
02:00وہ بحکمِ الٰہی نو مولود لختِ جگر اور فرما بردار بیوی کو
02:05ملکِ شام سے ہزاروں میل دور ایک ایسی وادی میں چھوڑ آئے
02:09کہ جہاں میلوں تک پانی نہ تھا
02:12نہ چرند پرند تھے اور نہ ہی آدم تھا
02:15نہ آدم ذات تھا
02:16وہ بے آب ہو گیا ویرانے میں وادی تھی
02:20وادی فاراں کے سنگلاغ کالے پہاڑوں کے درمیان
02:23تپتے سہرہ کے ایک بوڑے درخت کے نیچے
02:27اللہ کی ایک نیک اور برگزیدہ بندی
02:30اپنے نو مولود ماسوم بیٹے کے ساتھ
02:33چند روز سے قیام پذیر ہیں
02:35جو زادے راہ ساتھ تھا ختم ہو چکا تھا
02:38ماں بیٹا بھوک پیاس سے بے حال ہو چکے تھے
02:42ماں کو اپنی تو فکر نہیں تھی
02:44لیکن بھوک کے پیاسے بچے کی بیچینی پر
02:47ممتہ کی تڑپ یہ فطری عمر تھا
02:50لیکن اس لقو دک سہرہ میں پانی کہاں
02:53جون جون لخت جگر کی شدت پیاس میں اضافہ ہو رہا تھا
02:57ممتہ کی ماری ماں کی بے قراری بھی بڑھتی جا رہی تھی
03:01اسی حالت استراب میں قریب واقع پہاڑی
03:04صفحہ پر چڑھیں
03:05کہ شاید کسی انسان یا پانی کا کوئی نشان مل جائے
03:09لیکن بے سود تھا
03:10تڑپتے دل کے ساتھ بھاگتے ہوئے
03:13ذرا دور دوسری پہاڑی مروہ پر چڑھ گئیں
03:16لیکن بے فائدہ
03:17اس طرح دونوں پہاڑیوں کے درمیان پانی کی تلاش میں
03:21سات چکر مکمل کر لئے
03:23ادھر اللہ جل شانہو نے حضرت جبرائیل امین علیہ السلام کے ذریعے
03:28شیر خوار حضرت اسماعیل علیہ السلام کے قدموں تلے
03:32دنیا کے سب سے متبرک اور پاکی زہ پانی کا چشمہ جاری کر کے
03:37رہتی دنیا تک کے لئے یہ پیغام دے دیا
03:40کہ اللہ پر توقل کرنے والے سابر اور شاکر بندوں کو
03:45ایسے ہی بیش قیمت انامات سے نواز آ جاتا ہے
03:48حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہو سے روایت ہے
03:52کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
03:56کہ اللہ پاک حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ پر رحمت فرمائے
04:01اگر وہ پانی سے چلو نہ بھرتیں اور اسے رکنے کا نہ کہتیں
04:06تو وہ ایک بیتا ہوا چشمہ ہوتا
04:08آبِ زمزم غذا بھی ہے اور شفا بھی ہے
04:11دوا ہے اور دعا بھی ہے
04:13اللہ تعالی نے نہ صرف ماں بیٹے کے لئے بہترین غذا کا بندوبست کیا
04:18بلکہ تا قیامت مسلمانوں کے فیضیاب ہونے کا وسیلہ بنا دیا
04:23حضرت حاجرہ علیہ السلام اپنے صاحبزادے کے ساتھ وہیں رہ رہی تھی
04:28کہ ایک روز عرب کے قبیلے بنو جرحم کے کچھ لوگ پانی کی تلاش میں وہاں پہنچے
04:34اور حضرت حاجرہ علیہ السلام کی اجازت سے وہاں رہائش اختیار کر لی
04:40پھر دوسرے قبائل بھی وہاں آ آ کر آباد ہوئے
04:43اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے وہ سنسان سہرات دنیا کے سب سے مقدس اور متبرک
04:50اور عظیم شہر مکہ مکرمہ میں تبدیل ہو گیا
04:54حضرت حاجرہ نے بیٹے کی پرورش اور تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی
04:59تیرہ سال کا طویل عرصہ جیسے پلک جھپکتے گزر گیا
05:03حضرت اسماعیل علیہ السلام مکہ کی مقدس فضاؤں میں آب زمزم پی پی کر
05:10اور سبر و شکر کی پی کر عظیم ماں کی آگوش تربیت میں پروان چڑھتے ہوئے
05:16بہترین صلاحیتوں کے مالک خوبصورت نوجوان کا روپ دھار چکے تھے
05:22کہ ایک دن حضرت ابراہیم علیہ السلام تشریف لائے
05:25اور فرمایا اے بیٹے میں خواب میں دیکھتا ہوں
05:29کہ گویا تو میں زبا کر رہا ہوں
05:31تو تم سوچو تمہارا کیا خیال ہے
05:34فرما بردار بیٹے نے سر تسلیم خم کرتے ہوئے فرمایا
05:38ابباجان آپ کو جو حکم ہوا ہے وہی کیجئے
05:42اللہ نے چاہا تو آپ مجھے سابرین میں پائیں گے
05:46حضرت اسماعیل علیہ السلام کا یہ سعادت مندانہ جواب
05:50دنیا بھر کے بیٹوں کے لیے عادہ بے فرزندی کی ایک شاندار مثال ہے
05:55اطاعت و فرما برداری اور تسلیم و رضا کی اس قیفیت کو
06:00علامہ اقبال یوں بیان فرماتے ہیں
06:02کہ یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
06:06سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی
06:10ناظرین حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب بیٹے کا جواب سنا
06:14تو انہیں سینے سے لگایا اور حضرت حاجرہ علیہ السلام کے پاس لے گئے
06:19فرمایا اے حاجرہ آج ہمارے نور نظر کو آپ اپنے ہاتھوں سے تیار کر دیجئے
06:25ممتا کے مقدس شیرین اور انمول جذبوں میں ڈوبی ماں نے اپنے اکلوتے بیٹے کو
06:32نئی پوشاک پہنائی آنکھوں میں سرما سر میں تیل لگایا اور خوشبو میں رچہ بسا کر
06:38باپ کے ساتھ باہر جانے کے لیے تیار کر دیا
06:41اسی اثنا میں حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی ایک تیز دھار چھوری کا بندوبست کر چکے تھے
06:48پھر بیٹے کو ساتھ لے کر مکہ سے باہر منہ کی جانب چل دیئے
06:53شیطان نے باپ بیٹے کے درمیان ہونے والی گفتگو سن لی تھی
06:57جب اس نے صبر و استقامت اور اطاعت خداوندی کا یہ روح پرور منظر دیکھا
07:02تو مسترب ہو گیا اور اس نے باپ بیٹے کو اس قربانی سے باز رکھنے کا فیصلہ کر لیا
07:09چنانچہ جمرہ اقبہ کے مقام پر راستہ روک کر کھڑا ہو گیا
07:14حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ موجود فرشتے نے کہا
07:18یہ شیطان ہے اسے کنکریہ ماریں
07:20حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ اقبر کہہ کر اسے ساتھ کنکریہ ماریں
07:26جس سے وہ زمین میں دھنس گیا
07:28ابھی آپ علیہ السلام کچھ ہی آگے بڑھے تھے
07:31کہ زمین نے اسے چھوڑ دیا
07:33اور وہ جمرہ وستہ کے مقام پر پھر ورغ لانے کے لیے آموجود ہوا
07:38حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دوبارہ کنکریہ ماریں
07:42وہ پھر زمین میں دھنسا
07:44لیکن آپ علیہ السلام کچھ ہی آگے بڑھے تھے
07:47کہ وہ جمرہ اولہ کے مقام پر موجود تھا
07:50حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تیسری بار
07:53اللہ اقبر کہہ کر کنکریہ ماریں
07:56تو وہ زمین میں دھنس گیا
07:58اللہ تبارک وطالعہ کو
07:59ابراہیم خلیل اللہ کا شیطان کو کنکریہ مارنے کا یہ عمل
08:04اس قدر پسند آیا
08:05کہ اسے رہتی دنیا تک کے لیے حج کے واجبات میں شامل فرما دیا
08:11شیطان اپنی ناکامی پر بڑا پریشان تھا
08:14تینوں مرتبہ کی کنکریوں نے اس کے جسم کو زخموں سے چور چور کر دیا تھا
08:19اچانک اسے ایک نئی چال سوجی
08:21اور وہ عورت کا بھیس بدل کر بھاگم بھاگ
08:24حضرت حاجرہ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا
08:28اور بولا
08:28اے اسماعیل علیہ السلام کی ماں
08:31تمہیں علم ہے
08:32کہ ابراہیم علیہ السلام تمہارے لخت جگر کو کہاں لے گئے ہیں
08:36حضرت حاجرہ علیہ السلام نے فرمایا
08:39ہاں وہ باہر گئے ہیں شاید کسی دوست سے ملنے گئے ہوں
08:42شیطان نے اپنے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا
08:45وہ تیرے بیٹے کو زباہ کرنے وادی منا میں لے گئے ہیں
08:49حضرت حاجرہ علیہ السلام نے حیرت اور تعجب کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا
08:55یہ کیسے ممکن ہے
08:56کہ ایک شفیق اور مہربان باپ اپنے چہیتے اور اکلوتے بیٹے کو زباہ کر دے
09:02اس موقع پر بے ساختہ شیطان کے موں سے نکلا
09:05وہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے حکم پر کر رہے ہیں
09:08یہ سن کر صبر و شکر اور اطاعت و فرما برداری کی پیکر
09:13اللہ کی برگزیدہ بندی نے فرمایا
09:15اگر یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے
09:18تو ایک اسماعیل کیا
09:19اس کے حکم پر سو اسماعیل قربان ہیں
09:22شیطان یہاں سے نامراد ہو کر واپس منہ کی جانب پلٹا
09:26لیکن وہاں کا ایمان افروز منظر دیکھ کر
09:29اپنے سر پر خاک ڈالنے اور چہرہ پیٹنے پر مجبور ہو گیا
09:34وادی منہ کے سیاہ پہاڑ
09:37نیل شفاف آسمان پر روشن آگ برساتا سورج
09:41فلک پر موجود تسبیح و تحلیل میں
09:43مصروف ملائکہ
09:45اللہ کی راہ میں اپنی متائے عزیز کی قربانی کا
09:48محیر القول منظر دیکھنے میں مخو تھے
09:52مکہ سے آنے والی گرم ہوائیں بھی
09:54منہ کی فضاؤں میں موجود عبادت و اطاعت
09:57تسلیم و رضا اور صبر و شکر کی
10:00ایک عظیم داستان رقم ہوتے دیکھ رہی تھیں
10:03روایت میں آتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم
10:06علیہ السلام نے حضرت اسماعیل
10:08علیہ السلام کو لیٹنے کی ہدایت دی
10:10تو حضرت اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا
10:13ابباجان میں پیشانی کے بل لیٹتا ہوں
10:16تاکہ آپ کا چہرہ مجھے نظر نہ آئے
10:19اور آپ بھی اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لیں
10:22تاکہ جب آپ مجھے زبح کر رہے ہوں
10:24تو شفقت پدری کے عمر الہی پر غالب آنے کا
10:28امکان نہ رہے
10:29سبر و استقامت کے کوہ گرام والد نے گوشہ جگر کے مشورے پر عمل کیا
10:35اور جب اسماعیل علیہ السلام لیٹ گئے
10:37تو تکمیل احکام خداوندی میں تیز دھار چھری کو
10:42پوری قوت کے ساتھ لخت جگری کی گردن پر پھیر دیا
10:46باپ بیٹے کی اس عظیم قربانی پر قدرت خداوندی جوش میں آئی
10:50اور اللہ جل شانہو کے حکم سے
10:53حضرت جبرائیل علیہ السلام جنت کے باغات میں سے
10:56پلے سفید رنگ کے خوبصورت مینڈھے کو لے کر حاضر ہوئے
11:00حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے زبا سے فارغ ہو کر
11:05آنکھوں سے پٹی ہٹائی
11:07تو حیرت زدہ رہ گئے
11:08بیٹے کی جگہ ایک حسین مینڈھا زبا ہوا پڑا ہوا تھا
11:12جبکہ اسماعیل علیہ السلام قریب کھڑے مسکرا رہے تھے
11:16اسی اسنا میں غیب سے آواز آئی
11:18اے ابراہیم تم نے اپنا خواب سچا کر دکھایا
11:22بے شک ہم نیکی کرنے والوں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں
11:26حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے
11:30اس بے مثال جذبہ احسار
11:33اطاعت و فرما برداری
11:34جرت و استقامت
11:36تسلیم و رضا
11:37اور صبر و شکر پر
11:39مہر تصدیق ثبت کرتے ہوئے
11:42اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا
11:44اور ہم نے اسماعیل کی عظیم قربانی پر
11:47اس کا فدیہ دے دیا
11:49اللہ رب العزت کو اپنے دونوں برگوزی دا
11:53اور جلیل القدر بندوں کی یہ اداع اس قدر پسند آئی
11:57کہ اسے اطاعت عبادت اور قربت الہی کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے
12:02قیامت تک کے لیے جاری فرما دیا
12:05ابھی حضرت اسماعیل علیہ السلام پندرہ برس کے ہی ہوئے تھے
12:09کہ والدہ ماجدہ وفات پا گئیں
12:12والدہ کی جدائی کا آپ علیہ السلام کو بڑا صدمہ ہوا
12:16اب اکیلے رہ گئے تھے
12:17چنانچہ والد کے پاس ملک شام جانے کا ارادہ فرمایا
12:21لیکن قبیلے اور شہر کے لوگوں کو آپ علیہ السلام کی جدائی گوارانہ تھی
12:27لہذا قبیلے والوں نے آپ علیہ السلام کا نکاح
12:31امالیق قبیلے کی ایک لڑکی
12:33امارہ بنت سعد سے کر دیا
12:36ایک مرتبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ملنے کے لیے آئے
12:40تو حضرت اسماعیل علیہ السلام گھر پر موجود نہ تھے
12:43ان کی اہلیہ کا رویہ انتہائی نامناسب تھا
12:47تو وہ بیٹے کو ان خاتون سے الہدگی اختیار کرنے کا پیغام دے کر چلے گئے
12:53آپ علیہ السلام نے والد کی نصیت پر عمل کیا
12:56پھر قبیلے کے لوگوں نے آپ علیہ السلام کی شادی
12:59قبیلہ جرحم کی خاتون سیدہ بنت مزاز سے کر دی
13:04حضرت ابراہیم علیہ السلام پھیر آئے
13:06تو اس بار بھی حضرت اسماعیل علیہ السلام گھر پر موجود نہیں تھے
13:10لیکن ان کی بیوی کی سعادت مندی شکر گزاری
13:14اور فرما برداری کی بنا پر ان سے بہت خوش ہوئے
13:18حضرت اسماعیل علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی تعمیر کے دوران
13:22اپنے والد کے شانہ بشانہ کام کیا
13:25آپ علیہ السلام پتھر اور گارہ والد صاحب کو دیتے جاتے
13:29اور وہ انہیں دیوار پر چنتے رہتے
13:32روایت میں ہے کہ خانہ کعبہ کی دیواروں میں جو پتھر استعمال ہوا
13:37اسے حضرت اسماعیل علیہ السلام نے پانچ پہاڑوں سے جمع کیا تھا
13:42جن کے نام کتابوں میں کچھ اس طرح سے ہیں
13:44تور حرا، تور زیتا، تور لبنان، تور سینہ اور تور جودی
13:50حضرت اسماعیل علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نشاندہی پر
13:55جبل ابو قیس سے حجرِ اسود لے کر آئے تھے
13:59جو جنت کا یاقوت ہے
14:01سورة البقرہ آیت نمبر 127 میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے
14:06اور جب ابراہیم اور اسماعیل بیت اللہ کی بنیادیں اونچی کر رہے تھے
14:11تو دعا کیے جاتے تھے
14:13اے ہمارے پروردگار
14:15ہماری یہ خدمت قبول فرما
14:17بے شک تو سننے والا اور جاننے والا ہے
14:21ناظرین تعمیل مکمل ہونے کے بعد
14:23حضرت ابراہیم علیہ السلام نے
14:25خانہ کعبہ کی صفائی امامت
14:28اور آنے والے زائرین کی خدمت سمیت تمام کام
14:32حضرت اسماعیل علیہ السلام کے سپرد فرما دیئے
14:35اور ان کو نصیحت اور ہدایت دیتے ہوئے
14:38بیت اللہ شریف کا متولی مقرر فرمایا
14:41پھر آپ علیہ السلام خود واپس ملک شام چلے گئے
14:45حضرت اسماعیل علیہ السلام کی وفات کے بعد
14:48آپ علیہ السلام کے بیٹے نابت بن اسماعیل
14:51کعبہ کے متولی بنے
14:53اللہ تعالی نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو
14:55حجاز مقدس اور اس کے آس پاس کی تمام آبادیوں
15:00نیز قوم جرہم قوم عمالیق اور اہل یمن کی طرف
15:04نبی بنا کر بھیجا
15:05آپ علیہ السلام ہمارے پیارے نبی
15:08حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
15:11جد عالی ہیں
15:13قرآن مجید میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کے
15:16تین اوصاف نہایت سراحت کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں
15:20نمبر ایک
15:21تعمیر کعبہ کے دوران اپنے والد
15:24حضرت ابراہیم علیہ السلام کے شانہ بشانہ شریک رہے
15:28نمبر دو
15:29آپ علیہ السلام وعدے کے بڑے پکے اور سچے تھے
15:32نمبر تین
15:33آپ علیہ السلام لوگوں کو نماز اور زکوات کا حکم دیتے رہتے تھے
15:39تاکہ وہ اللہ کے عذاب سے بچ جائیں
15:41اللہ تعالی قرآن پاک میں فرماتا ہے
15:44اے نبی کتاب میں اسماعیل کا ذکر بھی کر دیجئے
15:48بے شک وہ وعدے کے سچے اور ہمارے بھیجے ہوئے نبی تھے
15:52اور وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوات کی تعلیم دیتے تھے
15:57اور وہ اپنے پروردگار کے ہاں پسندیدہ
16:00یعنی برگزیدہ تھے
16:01ناظرین حضرت اسماعیل علیہ السلام کی دوسری اہلیہ
16:05سیدہ بنت مزاز سے آپ علیہ السلام کے بارہ لڑکے ہوئے
16:10سب کے سب اپنی قوم کے سردار بنے
16:12اور ہر ایک نے الگ الگ بستیاں آباد کی
16:16ان کی اولاد اتنی کثیر تعداد میں بڑھی
16:19کہ حجاز سے نکل کر شام عراق اور یمن تک پھیل گئی
16:23محمد بن اسحاق رحمت اللہ علیہ نے
16:26حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بیٹوں کے نام
16:29یوں ذکر کیے ہیں
16:30اہل کتاب نے اسی طرح یہ نام اپنی کتابوں میں ذکر کیے ہیں
16:45حجاز مقدس یعنی مکہ مدینہ کے تمام عرب
16:49حضرت اسماعیل علیہ السلام کے دو صاحبزادوں
16:52یعنی قیدار اور نابد کی اولاد میں سے ہیں
16:55بحوالہ ابن کثیر
16:57ناظرین مورخین نے لکھا ہے
16:59کہ دنیا میں جو شخص سب سے پہلے گھوڑے پر سوار ہوا
17:03وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام تھے
17:06اس سے پہلے گھوڑا وحشی جانور تھا
17:09حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اسے سیدھا اور مانوس کیا
17:13اور پھر اس پر سواری کی
17:14حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے
17:18کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
17:22کہ گھوڑوں کو اپناو اور ان پر سواری کرو
17:25بے شک یہ تمہارے باپ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی میراس ہے
17:29ایک حدیث میں آتا ہے
17:31کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
17:34کہ پہلا شخص جس نے واضح عربی زبان کے ساتھ زبان کھولی
17:39وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام ہے
17:42اور یہ اس وقت چودہ سال کی عمر کے تھے
17:45بحوالہ ابن کثیر
17:46عربی کے علاوہ آپ علیہ السلام کو قبطی اور عبرانی زبان پر بھی عبور حاصل تھا
17:53حضرت اسماعیل علیہ السلام نے
17:55ایک سو سنتیس سال کی عمر میں وفات پائی
17:58آپ علیہ السلام کو قبط اللہ کے سحن میں
18:00میزہ بے رحمت اور حجرِ اسود کے درمیان
18:04اپنی والدہ کے پہلو میں سپردے خاک کیا گیا
18:08قرآن پاک میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ذکر
18:11بارہ مقامات پر آیا ہے
18:13سورة البقرہ کی آیت نمبر ایک سو پچیس
18:16ایک سو ستائیس
18:17ایک سو تین تیس
18:19ایک سو چھتیس
18:20اور ایک سو چالیس
18:21سورہ آل عمران کی آیت نمبر چوراسی
18:23سورة النساء کی آیت نمبر ایک سو تریسٹھ
18:27سورہ انعام کی آیت نمبر چھاسی
18:29سورہ ابراہیم کی آیت نمبر انتالیس
18:32سورہ مریم کی آیت نمبر چورپن
18:34سورة الانبیاء کی آیت پچاسی
18:37اور سورہ سعاد کی آیت نمبر اٹھتالیس میں
18:40آپ علیہ السلام کا ذکر کیا گیا ہے
18:43صحیح بخاری کی ایک روایت کے مطابق
18:45سیدنا اسماعیل علیہ السلام ماہر نشانہ باز تھے
18:49جیسا کہ سیدنا سلمان بن اقو رضی اللہ تعالی عنہو بیان کرتے ہیں
18:54کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبیل آسلم کے کچھ لوگوں کی جانب تشریف لے گئے
19:00وہ لوگ اس وقت شوق نام جگہ میں باہم تیر اندازی کا مقابلہ کر رہے تھے
19:06آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا
19:09اے اسماعیل علیہ السلام کے بیٹو نشانہ بازی جاری رکھو
19:14تمہارا باپ بھی ماہر تیر انداز تھا
19:17نشانہ لگاؤ میں بھی فریقین میں سے فلان گروہ کی طرف سے نشانہ لگانے میں شریک ہوتا ہوں
19:23صحابی بیان کرتا ہے کہ اس کے بعد دوسرے گروہ کے لوگ تیر اندازی سے رک گئے
19:29آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تیر کیوں نہیں چلاتے
19:33لوگوں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
19:39اس حال میں کہ آپ فلان گروہ کے ساتھ ہیں کیسے تیر پھینکیں
19:43آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
19:46اچھا تیر اندازی یعنی نشانہ بنائے جاری رکھو
19:50میں دونوں کے ساتھ ہوں
19:51ناظرین ہم پہلے بھی ذکر کر چکے ہیں
19:54کہ ایک روز حضرت ابراہیم علیہ السلام نے
19:56اپنی بیوی سارا سے حاجرہ کے پاس آنے کی اجازت چاہی
20:01انہوں نے اجازت دے دی لیکن یہ شرط بھی لگا دی
20:04کہ وہاں قیام نہیں کرنا حضرت ابراہیم علیہ السلام وہاں پہنچے
20:08تو حضرت حاجرہ کا انتقال ہو چکا تھا
20:11اسماعیل علیہ السلام کے گھر آئے
20:13ان کی بیوی سے ملاقات ہوئی
20:15ان سے پوچھا کہ تمہارا شوہر کہاں ہے
20:18بیوی نے جواب دیا
20:19کہ وہ یہاں نہیں ہیں
20:21بلکہ شکار کرنے گئے ہوئے ہیں
20:23حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مزید پوچھا
20:26تو بتایا کہ نہ میرے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے
20:29اور نہ کوئی شخص ہے جو لے آئے
20:31حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا
20:34کہ جب تمہارا خاوند آئے
20:35تو اس کو میرا سلام کہنا
20:37اور اس سے کہنا
20:38کہ اپنے دروازے کی چوکھٹ تبدیل کر لے
20:41حضرت ابراہیم علیہ السلام یہ کہہ کر واپس چلے گئے
20:44پھر جب حضرت اسماعیل علیہ السلام گھر واپس لوٹے
20:48تو اپنے والد کی خوشبو کو محسوس کیا
20:51آپ علیہ السلام نے اپنی بیوی سے پوچھا
20:53کہ کیا کوئی شخص یہاں آیا تھا
20:56بیوی نے کہا کہ ہاں ایک بڑا شخص
20:58جس کا خلیہ اس اس طرح کا تھا
21:00وہ آیا تھا
21:01حضرت اسماعیل علیہ السلام نے پوچھا
21:03کہ اس شخص نے کچھ کہا
21:04تو بیوی نے جواب دیا
21:06کہ اس نے مجھے کہا کہ تمہارا شہر آئے
21:08تو اس کو سلام کہنا
21:10اور کہنا کہ اپنے دروازے کی چوکھٹ کو تبدیل کر لے
21:13چنانچہ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے
21:15اس خاتون کو طلاق دے دی
21:17اور دوسری شادی کر لی
21:19کچھ عرصے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے
21:22حضرت اسارہ سے اسماعیل علیہ السلام سے ملنے کی اجازت چاہی
21:26دونوں نے اس شرط پر اجازت دے دی
21:28کہ وہاں ٹھہر نہ نہیں
21:29آپ اسماعیل علیہ السلام کے گھر آئے
21:31اور ان کی بیوی سے پوچھا
21:33کہ تمہارا شہر کہاں ہے
21:35اس نے جواب دیا
21:36کہ وہ شکار کرنے کے لیے گئے ہوئے ہیں
21:38انشاءاللہ ابھی آ جائیں گے
21:40اللہ تعالی آپ پر رحم فرمائے
21:42آپ تشریف رکھئے
21:43حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا
21:46کہ کیا تمہارے پاس کھانے پینے کو کوئی چیز ہے
21:49اس بی بی نے عرض کیا
21:50کہ ہاں ابراہیم علیہ السلام نے پوچھا
21:53کہ کیا تمہارے پاس روٹی
21:54گندم جو یا خجور میں سے کچھ ہے
21:57راوی کہتے ہیں
21:58کہ وہ دودھ اور گوشت لے کر حاضر ہوئیں
22:01تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے
22:03اس کے لیے برکت کی دعا دی
22:05اگر اس روز وہ عورت
22:07روٹی یا گندم یا جو
22:09یا خجور میں سے کچھ لے آتی
22:11تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی
22:13دعا کی برکت کی وجہ سے آج
22:16ان کی مقدار کہیں زیادہ ہوتی
22:18جو اب ہے پھر بی بی نے
22:20عرض کیا کہ آپ تشریف
22:22رکھیں تاکہ میں آپ کے سر
22:23کو دھوں لیکن آپ وہاں نہیں
22:26ٹھہرے بلکہ آپ وہاں نہیں
22:27اترے بلکہ اسے اور جگہ لے گئے
22:30وہاں آپ علیہ السلام نے
22:31اسے اپنے سر کے دائیں سیندھ
22:33میں بٹھایا اور اس دائیں طرف
22:36اپنا پاؤں رکھا جس کے
22:37اثرات وہاں پڑے پھر خاتون
22:40نے آپ کے سر کا دائیں
22:41حصہ دھویا پھر اس طرح
22:43آپ نے بائیں طرف کیا اور
22:45اس نے سر کا بائیں حصہ دھویا
22:48اس کے بعد حضرت ابراہیم
22:49علیہ السلام نے فرمایا کہ جب
22:51تمہارا شوہر آئے تو اسے میرا
22:53سلام کہنا اور کہنا
22:55کہ اپنے دروازے کی چوکھٹ کو
22:57برقرار رکھے جب حضرت
22:59اسماعیل علیہ السلام گھر تشریف
23:01لائے تو انہوں نے اپنے والد کی
23:03خوشبو کو ایک بار پھر محسوس
23:05کیا انہوں نے اپنی بیوی سے
23:07پوچھا کہ کیا کوئی شخص آیا تھا
23:10تو اس نے بتایا کہ ایک
23:11اچھی خوشبو والا ایک
23:13بوڑھا شخص یہاں آیا تھا
23:15اس نے مجھ سے یہ یہ باتیں کہیں ہیں
23:17اور میں نے اس سے یہ یہ باتیں
23:19کی میں نے اس کا سر دھویا
23:21اور یہ اس کے قدموں کے نشان ہیں
23:23حضرت اسماعیل علیہ السلام
23:25نے پوچھا کہ اس نے تمہیں کیا کہا
23:27وہ بولین کہ انہوں نے کہا
23:29کہ جب تمہارا شوہر واپس آئے
23:31تو اسے میرا سلام کہنا
23:33اور کہنا کہ اپنے دروازے کی
23:35چوکھٹ کو برقرار رکھے اس پر
23:37حضرت اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا
23:39کہ وہ میرے والد حضرت
23:41ابراہیم علیہ السلام تھے
23:43روایات میں ہے کہ اس خاتون کا نام
23:46سیدہ بنت مزاز
23:48جرہمی تھا جب ابراہیم علیہ السلام
23:50مکہ مکرمہ اپنی بیوی سے
23:52ملنے آئے تو اسی سیدہ
23:54ہی سے کہا تھا کہ اپنے
23:56شوہر کو کہنا میں تمہارے
23:58دروازے کی چوکھٹ سے خوش ہوں
24:00ناظرین حضرت اسماعیل علیہ السلام
24:02کی عمر ایک سو چونتیس سال ہوئی
24:04آپ کے بیٹے نابت
24:06اور قیدر سے عرب کی نسل
24:08پھیلی اللہ تعالی نے اسماعیل
24:10علیہ السلام کی اولاد کو خوب
24:12پھیلایا یہاں تک کہ یہ لوگ
24:14قوم عمالقہ اور یمن
24:16کی طرف بھی گئے مورخین کے
24:18مطابق جب اسماعیل علیہ السلام کی
24:20وفات کا وقت قریب آیا تو
24:22اپنے بھائی اسحاق علیہ السلام
24:24کو وسیع بنایا اور اپنی
24:26بیٹی کا نکاح اسحاق
24:28علیہ السلام کے بیٹے عیس سے کر دیا
24:30ایک اور قول کے مطابق
24:32حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عمر
24:34ایک سو تہتر سال ہوئی
24:36اور آپ کو ان کی والدہ
24:38حضرت حاجرہ علیہ السلام
24:40کے قریب دفن کیا گیا
24:42حضرت عمر بن عبدالعزیز
24:44رحمت اللہ علیہ سے روایت ہے
24:46کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے
24:48اللہ تعالی سے مکہ مکرمہ کی
24:50گرمی کی شکایت کی تو اللہ تعالی
24:52نے وحی بھیجی کہ ہم جنت
24:54کا ایک دروازہ آپ کی
24:56طرف کھول دیتے ہیں جس کی
24:58ہوائیں تا قیامت آپ
25:00علیہ السلام کو لگتی رہیں گی
25:02چنانچہ اسی جگہ
25:04آپ کو دفن کیا گیا
25:05واللہ عالم
25:07دوستو یہ تھا قصہ حضرت اسماعیل علیہ السلام
25:10کا ہم امید کرتے ہیں
25:12کہ یہ قصہ سن کر آپ کا ایمان
25:14تازہ ہو گیا ہوگا اور دوسرے
25:16لوگوں کا ایمان تازہ کرنے کے لیے
25:18یہ ویڈیو ان کے ساتھ
25:20بھی ضرور شیئر کیجئے گا
25:22اسی سلسلے کی ویڈیوز ہم پہلے
25:24بھی بنا چکے ہیں تو قصص
25:25انبیاء کی ہماری پوری پلے لسٹ میں
25:28یہ ویڈیو موجود ہیں
25:29آپ پوری پلے لسٹ ضرور دیکھئے
25:32اور اپنے کمنٹس بھی ضرور کیجئے گا
25:34آنے والی ویڈیو تک آپ کا
25:36اپنا میزبان قادر بخش
25:38کلھوڑو آپ سے اجازت
25:40چاہتا ہے اپنی خصوصی دعاوں
25:42میں یاد رکھئے گا
25:43اللہ حافظ
Be the first to comment