Skip to playerSkip to main content
Ek Zinda Nabi Hazrat Ilyas (A.S) Ka Mukamil Qissa | Imaan Aur Mujahida Ki Kahani | By Qadir Kalhoro

Hazrat Ilyas (A.S) Allah ke barguzida Nabi thay jinhein baaz riwayaat ke mutabiq zinda Nabi mana jata hai. Aap ko apni qaum ki islah ke liye bheja gaya jo But Baal ki ibadat karti thi. Hazrat Ilyas (A.S) ne unhein Tauheed ki daawat di aur shirk se bachne ka hukm diya.

Aap ki zindagi sabr, mujahida aur Allah par yaqeen ki be-misaal misaal hai. Allah ne aap ki madad farmayi aur aap ka zikr Quran-e-Pak mein izzat ke sath farmaya.

Is mukamil qissay mein bayan kiya gaya hai:

Hazrat Ilyas (A.S) ka ta’aruf

Qaum ka shirk aur gumraahi

Tauheed ki daawat

Imaan aur sabr ki naseehat

Yeh qissa humein sikhata hai ke haq ki daawat kabhi zaya nahi jati.

🎙️ Bayan: Qadir Kalhoro

#HazratIlyas #IlyasAS #IslamicStories #AnbiyaQissay #Tauheed #IslamicHistory #QadirKalhoro

Category

📚
Learning
Transcript
00:00بسم الله الرحمن الرحيم
00:01السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
00:04يقیناً تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں
00:07ہم اس کی تعریف بیان کرتے ہیں
00:09اور اسی سے مدد کے طلبگار ہیں
00:12اور اپنے گناہوں کی بخشش بھی مانگتے ہیں
00:14نفسانی اور برے عامال کے شر سے اسی کی پناہ چاہتے ہیں
00:18جسے اللہ تعالیٰ ہدایت انایت کر دے
00:21اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا
00:24اور جسے وہ گمراہ کر دے
00:26اس کا کوئی بھی رہنمان نہیں بن سکتا
00:28میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں
00:33وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں
00:35اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں
00:37کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:41اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں
00:43اور اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر
00:47اور آپ کی آل پر
00:49ڈھیروں درود و سلامتی نازل فرمائے
00:52آمین
00:53اللہ سے دعا ہے
00:54کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اور ہمارے رزق حلال میں
00:58برکت نصیب فرمائے
00:59زندگی میں کبھی بھی کوئی دکھ
01:01کوئی غم یا پریشانی
01:03آپ کی زندگی کے قریب سے بھی
01:06نہ گزرے آمین
01:07سم آمین
01:09یارب العالمین
01:10دوستو آپ سے بھی التماس ہے
01:12کہ کمنٹ سیکشن میں آمین
01:14ضرور لکھ لیا کریں
01:16کیا پتا کہ کس کے آمین کہنے اور لکھنے سے
01:19اللہ تعالیٰ ہماری دعاوں کو قبول فرمائے
01:22لہٰذا آمین ضرور لکھئے
01:24دوستو آج کی اس ویڈیو میں ہم حضرت علیہ السلام کا مکمل قصہ بیان کریں گے
01:31آپ سے گزارش یہ ہے کہ ویڈیو کو آخر تک ضرور دیکھئے گا
01:35اور ہماری حوصلہ افسائی کے لیے کمنٹس بھی ضرور کیجئے گا
01:39ناظرین حضرت علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے نبی
01:43اور حضرت حارون علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے
01:47آپ علیہ السلام تقریباً نو سو قبل مسیح اردن کے شہر
01:52جل آد میں پیدا ہوئے قرآن کریم اور مستند احادیث میں
01:56حضرت علیہ السلام کی زندگی کے حالات تفصیل سے مذکور نہیں
02:02قرآن کریم میں آپ علیہ السلام کا ذکر مبارک دو مقامات پر آیا ہے
02:07ایک سورہ انعام میں کہ جہاں دیگر انبیاء علیہ السلام کے ساتھ
02:12آپ علیہ السلام کا اسم گرامی بھی مذکور ہے
02:15اور دوسرا سورہ سافات میں جہاں نہایت اختصار کے ساتھ
02:20آپ علیہ السلام کی دعوت و تبلیغ اور وعظ و نصیحت کا ذکر ہے
02:25سورہ سافات کی آیت نمبر ایک سو تئیس میں ارشاد باری تعالی ہے
02:29اور الیاس علیہ السلام بھی پیغمبروں میں سے تھے
02:33قرآن کریم میں آپ علیہ السلام کا نام الیاس
02:37جبکہ انجیل یوحنا میں آپ علیہ السلام کا ذکر
02:40ایلیہ نبی کے نام سے کیا گیا ہے
02:43علامہ ابن کسیر رحمت اللہ علیہ نے آپ علیہ السلام کا نسب ناما
02:48یوں تحریر فرمایا ہے
02:50الیاس علیہ السلام بن یاسین بن یعزاز بن حارون
02:56یا الیاس بن العاز بن علیہ السلام
03:01ناظرین قرآن و حدیث سے یہ بھی پتا نہیں چلتا
03:05کہ حضرت الیاس علیہ السلام کب اور کہاں مبعوس ہوئے
03:09لیکن تاریخی اور اسرائیلی روایات اس بات پر تقریباً متفق ہیں
03:14کہ آپ علیہ السلام حضرت حزقیل علیہ السلام کے بعد
03:18اور حضرت الیسع علیہ السلام سے پہلے بنی اسرائیل کی طرف مبعوس ہوئے
03:24یہ وہ زمانہ تھا جب بنی اسرائیل کی سلطنت دو حصوں میں بڑھ چکی تھی
03:28ایک حصہ یہودہ یا یہودیہ کہلاتا تھا
03:32اور اس کا مرکز بیت المقدس تھا
03:34اور دوسرا حصہ اسرائیل کہلاتا تھا
03:37جس کا پائے تخت سامرا موجودہ نالبس تھا
03:41اس وقت اسرائیل میں جو بادشاہ حکمران تھا
03:44اس کا نام بائبل میں اخی اب اور عربی تواریخ اور تفاصیر میں
03:49عجب یا اخب مذکور ہے
03:51اس کی بیوی ایزبل بعل نامی بدھ کی پرستار تھی
03:55اور اس نے بعل کے نام پر ایک بڑی قربان گاہ تعمیر کر کے
04:00بنی اسرائیل کو بدھ پرستی کی راہ پر لگا دیا تھا
04:03حضرت الیاس علیہ السلام کو اللہ تعالی کی طرف سے حکم ہوا
04:07کہ وہ اس خطے میں جا کر توحید کی تعلیم دیں
04:11اور اسرائیلیوں کو بدھ پرستی سے روکیں
04:13معارخین اور مفسرین اس بات پر متفق ہیں
04:17کہ حضرت الیاس علیہ السلام کو ملک شام کے یہودیوں
04:21اور اسرائیلیوں کو توحید کی دعوت دینے کے لیے بھیجا گیا تھا
04:25تاکہ کفر و شرک اور بدھ پرستی میں غرق قوم کو راہ راست پر لایا جا سکے
04:31اور یہ لوگ ایک اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئیں
04:35بعل بدھ یہودیوں اور اسرائیلیوں کا سب سے بڑا اور مشہور دیوتا تھا
04:41کہا جاتا ہے کہ وہ بدھ سونے کا تھا
04:43اس کا قد بیس گز تھا
04:45چار مو تھے اور چار سو افراد اس کی خدمت پر معمور تھے
04:50یمن اور شام کے عوام کا پسند دیدہ دیوتا یہی تھا
04:54جس کی سیکڑوں سالوں سے پوجہ کی جا رہی تھی
04:57روایت ہے کہ بعل کے پوجاری حضرت یوشہ بن نون علیہ السلام کے زمانے میں بھی تھے
05:04اور آپ علیہ السلام نے شام کی فتح کے دوران ان سے جنگ کی تھی
05:09سال کے مخصوص مہینوں میں اس دیوتا کے گرد میلے لگتے
05:13منتیں مانی جاتیں
05:14سونے چاندی کے نظرانیں چڑھائے جاتے
05:17ترہ ترہ کی خوشبوں کی دھونی دی جاتی
05:20اس کی قربانگاہ میں جانوروں کو قربان کیا جاتا
05:23اور خاص خاص مواقع پر انسانوں کی بھینٹ بھی چڑھائی جاتی تھی
05:28عبرانی اور سامی زبانوں میں بعل کے معنی آقا پروردگار مالک اور سردار کے ہیں
05:35اسی لیے عرب کی خواتین بھی اپنے شوہروں کو بعل کہتی تھی
05:39باز مورخین نے لکھا ہے کہ حجاز کا مشہور بت حبل بھی بعل ہی کی ایک شکل تھا
05:46اور آن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے اور الیاس بھی پیغمبروں میں سے تھے
05:51جب انہوں نے اپنی قوم کو کہا کہ تم ڈرتے کیوں نہیں
05:55کیا تم بال کو پکارتے اور اسے پوچھتے ہو
05:58اور سب سے بہتر پیدا کرنے والے کو چھوڑ دیتے ہو
06:02یعنی اللہ کو جو تمہارا اور ہمارے اگلے باپ دادا کا پروردگار ہے
06:08تو ان لوگوں نے ان کو جھٹلا دیا
06:10سو وہ دوزخ میں حاضر کیے جائیں گے
06:14ہاں اللہ کے خاص بندے مبتلع عذاب نہیں ہوں گے
06:17اور ہم نے بعد کے لوگوں میں الیاس کا ذکر باقی رکھا
06:22الیاسین یعنی الیاس علیہ السلام پر سلام ہو
06:26بلا شبا ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلا دیتے ہیں
06:30بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے
06:33سرہ صافات آیت نمبر 123 سے 132
06:38ناظرین حضرت الیاس علیہ السلام نے
06:40ملک شام کے سب سے مشہور شہر
06:43بعل بک کو رشد و ہدایت کا مرکز بنایا تھا
06:46اس کی بڑی وجہ یہ تھی
06:48کہ بعل دیوتا کا بد تو اسی شہر میں تھا
06:50اور بد پرستی ستارہ پرستی
06:53اور کفر و شرک کا سب سے بڑا اور قدیم مرکز تھا
06:57اس شہر کا نام بعل بک بھی
06:59اسی بت بعل کے نام سے منصوب تھا
07:03چنانچہ حضرت الیاس علیہ السلام نے
07:05اس کفرستان سے وائز و نصیحت کا آغاز کیا
07:09آج بعل بک لبنان کا قدیم ترین شہر ہے
07:12اس کے کھنڈرات آج بھی اس کی عظمت اور شان و شوقت کے مظہر ہیں
07:17ستہ سمندر سے گیارہ سو پچاس میٹر بلند یہ شہر
07:21ملکہ بلقیس کو بطور حق مہر دیا گیا تھا
07:25اور یہاں قصر سلمان بھی تھا
07:28یونانیوں نے اسے شہر آفتاب یا مدینہ الشمس کا نام دیا
07:33نیز رومی آہت میں اس شہر کی بڑی اہمیت تھی
07:37اور رومی حکمران اگسٹس نے اسے اپنی نو آبادی بنا لیا تھا
07:42گیارہ سو چورپن عیسوی میں نور الدین زنگی رحمت اللہ علیہ نے اسے فتح کیا
07:48گیارہ سو ستر عیسوی میں ایک زلزلے کی وجہ سے یہ شہر تباہ ہو گیا
07:54مگر پھر نئے سرے سے آباد ہوا
07:56یہیں حضرت علیاس علیہ السلام کا مزار بھی ہے
08:00ناظرین حضرت علیاس علیہ السلام کے حالات و واقعات اور قوم کے ساتھ
08:05ان کی کشمکش کی تفصیل تفصیر مظہری میں علامہ بغوی رحمت اللہ علیہ
08:11اور دیگر تفاصیر میں حضرت وحب بن منبع اور حضرت قاب الاحبار وغیرہ کے حوالے سے بیان کی گئی ہے
08:20جو اکثر اسرائیلی روایات سے ماخوز ہے
08:23ان تمام روایات سے خلاصے کے طور پر جو قدر مشترک نکلتی ہے
08:27اسے حضرت مولانا مفتی محمد شفی رحمت اللہ علیہ نے معارف القرآن میں تحریر فرمایا ہے
08:35وہ یہ ہے کہ حضرت علیاس علیہ السلام نے اسرائیل کے بادشاہ اخی اب اور اس کی رائعہ کو بعل نامی بدھ کی پرستش سے روکا
08:44اور انہیں توحید کی دعوت دی مگر ایک دو افراد کے سوا کسی نے آپ علیہ السلام کی بات نہیں مانی
08:51بلکہ آپ علیہ السلام کو ترہ ترہ سے پریشان کرنے لگے
08:55یہاں تک کہ اخی اب اور اس کی بیوی ایزبل نے آپ علیہ السلام کو شہید کرنے کے بھی منصوبے بنائے
09:03جس پر آپ علیہ السلام نے ایک دور افتادہ غار میں پناہ لی اور عرصہ دراز تک وہیں مقیم رہے
09:10بعد ذہا آپ علیہ السلام نے دعا فرمائی کہ اسرائیل کے لوگ قہد سالی کا شکار ہو جائیں
09:16تاکہ اس قہد کو دور کرنے کے لیے آپ علیہ السلام ان کو موجزات دکھائیں
09:21تو شاید وہ ایمان لے آئیں
09:23چنانچہ انہیں شدید قہد میں مبتلا کر دیا گیا
09:26ان کے بعد حضرت علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حکم سے اخی اب سے ملے
09:33اور اس سے کہا کہ یہ عذاب اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی وجہ سے ہے
09:38اور اگر تم اب بھی باز آ جاؤ تو یہ عذاب دور ہو سکتا ہے
09:42میری سچائی کے امتحان کا بھی یہ بہترین موقع ہے
09:46تم کہتے ہو کہ اسرائیل میں تمہارے معبود بعل کے ساڑھے چار سو نبی ہیں
09:52تم ایک دن ان سب کو میرے سامنے جمع کر لو
09:55وہ بعل کے نام پر قربانی پیش کریں
09:58اور میں اللہ کے نام پر قربانی کروں گا
10:01جس کی قربانی کو آسمانی آگ آ کر بھسم کر دے کی
10:05اس کا دین سچا ہوگا
10:07سب نے اس تجویز کو خوشی خوشی مان لیا
10:10چنانچہ کوہ کرمل کے مقام پر یہ اجتماع ہوا
10:13بعل کے جھوٹے نبیوں نے اپنی قربانی پیش کی
10:17اور صبح سے دوپہر تک بعل سے التجائیں کرتے رہے
10:21مگر کوئی جواب نہ آیا
10:23اس کے بعد حضرت علیہ السلام نے اپنی قربانی پیش کی
10:28اس پر آسمان سے آگ نازل ہوئی
10:30جس نے حضرت علیہ السلام کی قربانی کو جلا کر بھسم کر دیا
10:35یہ دیکھ کر بہت سے لوگ سجدے میں گر گئے
10:38کیونکہ ان پر حق واضح ہو گیا تھا
10:41لیکن بال کے جھوٹے نبی اب بھی نہ مانے
10:45اسی طرح بادشاہ کی بیوی ایزبل بھی حضرت علیہ السلام پر ایمان لانے کی بجائے
10:51الٹی ان کی جان کی دشمن ہو گئی
10:53حضرت علیہ السلام کو اس کے عزائم کا پتا چلا
10:57تو آپ علیہ السلام روپوش ہو گئے
10:59اور کچھ عرصے بعد بنی اسرائیل کے دوسرے ملک یہودیہ میں تبلیغ شروع کر دی
11:05کیونکہ رفتہ رفتہ بعل پرستی کی وبا وہاں بھی پھیل چکی تھی
11:10وہاں کے بادشاہ نے بھی آپ کی بات نہ سنی
11:13یہاں تک کہ حضرت علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق تباہ و برباد ہو گیا
11:19چند سال بعد آپ علیہ السلام دوبارہ اسرائیل تشریف لائے
11:23اور بادشاہ کو راہ راست پر چلنے کی کوشش کی
11:27مگر وہ بدستور اپنی بد آمالیوں میں مبتلا رہا
11:31یہاں تک کہ انہیں بیرونی حملوں اور محلق بیماریوں کا شکار بنا دیا گیا
11:36اس کے بعد اللہ تعالی نے اپنے نبی کو واپس بلا لیا
11:41بحوالہ معارف القرآن جلد نمبر سات صفہ نمبر چار سو ستر
11:46ناظرین حضرت قاب احبار رحمت اللہ علیہ سے منقول ہے
11:50کہ حضرت علیہ السلام بادشاہ کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر
11:55ایک غار میں رہنے لگے تھے
11:57اور انہوں نے تقریباً دس سال کا عرصہ روپوشی میں بسر کیا
12:02پھر اللہ تعالی نے اس بادشاہ کو ہلاک کر دیا
12:05دوسرا بادشاہ تخت نشین ہوا
12:07تو حضرت علیہ السلام اس کے پاس تشریف لے گئے
12:11اور اسے دعوت توحید دی
12:13جس پر ایک خلق عظیم ان پر ایمان لے آئی
12:17صرف دس ہزار باقی رہ گئے
12:20جنہیں قتل کر دیا گیا
12:22بحوالہ ابن کثیر
12:24ناظرین مفسرین میں سے ایک مختصر گروہ کا کہنا ہے
12:27کہ علیہ السلام حضرت عدریس علیہ السلام ہی کا دوسرا نام ہے
12:32اور ان دونوں شخصیات میں کوئی فرق نہیں
12:35بعض حضرات نے یہ بھی کہا ہے
12:37کہ حضرت علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام میں کوئی فرق نہیں
12:42بحوالہ در منشور جلد نمبر پانچ صفحہ نمبر دوسو پچاسی
12:46لیکن محققین نے ان اقوال کی تردید کی ہے
12:50قرآن کریم نے بھی حضرت عدریس علیہ السلام
12:53اور حضرت علیہ السلام کا
12:56اس طرح سے جدہ جدہ تذکرہ فرمایا ہے
12:58کہ دونوں کو ایک قرار دینے کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی
13:03اسی لئے حافظ ابن کثیر رحمت اللہ علیہ نے
13:07اپنی تاریخ میں دونوں کو الگ الگ نبی قرار دیا ہے
13:11حضرت عدریس علیہ السلام حضرت نوح علیہ السلام کے بعد
13:14اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پہلے نبوت پر سرفراز ہوئے
13:19جبکہ حضرت علیہ السلام ایک اسرائیلی نبی ہیں
13:23اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد مبعوث ہوئے
13:27یوں دونوں میں سیکڑوں سال کا فاصلہ ہے
13:30چنانچہ تبری رحمت اللہ علیہ لکھتے ہیں
13:33کہ حضرت علیہ السلام حضرت یسا علیہ السلام کے چچا زاد بھائی تھے
13:38اور ان کی بعصد حضرت حزقیل علیہ السلام کے بعد ہوئی
13:42ناظرین حضرت علیہ السلام ان انبیاء قرام علیہ السلام میں سے ہیں
13:47جنہوں نے پوری زندگی جاہو حشمت دولت و سروت سے بے نیاز ہو کر بسر کی
13:53رہنے کو مکان بنایا اور نہ کھانے پینے کی فکر رہی
13:57ملا تو کھا لیا نہ ملا تو پانی ہی پر گزارا کر لیا
14:00دن بھر درس و تبلیغ میں مصروف رہتے
14:03اور شب یادِ الہی میں گزارتے
14:06جب نیند زیادہ ستاتی تو جہاں جگہ میسر آ جاتی
14:10سفر نامہ عرضِ قرآن میں تحریر ہے
14:12کہ وادی سینہ میں واقع جبلِ طور پر مقامِ الیاس وہ جگہ ہے
14:18جہاں حضرت الیاس علیہ السلام سامرہ سے بھاگ کر روپوش ہوئے تھے
14:23حضرت الیاس علیہ السلام زندہ ہیں
14:25یا وفات پا چکے مورخین اور مفسرین کے درمیان یہ مسئلہ بھی زیر بحث آیا
14:31تفسیرِ مظہری میں علامہ بغوی رحمت اللہ علیہ کے حوالے سے
14:35جو طویل روایت بیان کی گئی ہے
14:38اس میں یہ بھی مذکور ہے
14:40کہ حضرت الیاس علیہ السلام کو ایک آتشی گھوڑے پر سوار کر کے
14:44آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا تھا
14:47اور وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح زندہ ہیں
14:51بحوالہ تفسیرِ مظہری جلد نمبر آٹھ
14:55صفحہ نمبر ایک سو اکتالیس
14:57ناظرین علامہ سیوتی رحمت اللہ علیہ نے بھی
15:00ابن عساکر رحمت اللہ علیہ
15:02اور حاکم رحمت اللہ علیہ وغیرہ کے حوالے سے
15:06کئی ایسی روایات نقل کی ہیں
15:08جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ زندہ ہیں
15:11قاب الاحبار رحمت اللہ علیہ سے منقول ہے
15:14کہ چار انبیاء علیہ السلام اب تک زندہ ہیں
15:18دو زمین پر حضرت خزر علیہ السلام
15:21اور حضرت علیہ السلام
15:23اور دو آسمان پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام
15:27اور حضرت ادریس علیہ السلام
15:29بحوالہ در منشور جلد نمبر پانچ
15:32صفحہ نمبر دو سو پچاسی
15:34یہاں تک کہ بعض افراد نے یہ بھی لکھا ہے
15:37کہ حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت علیہ السلام
15:41ہر سال رمضان کے مہینے میں بیت المقدس میں اکٹھے ہوتے ہیں
15:47اور روزے رکھتے ہیں
15:48بحوالہ تفسیر قرطبی جلد نمبر پندرہ
15:52لیکن حافظ ابن کثیر رحمت اللہ علیہ جیسے محقق علماء نے
15:56ان روایات کو صحیح قرار نہیں دیا
15:59ان جیسی روایات کے بارے میں لکھتے ہیں
16:02کہ یہ ان اسرائیلی روایات میں سے ہیں
16:05جن کی نہ تصدیق کی جاتی ہے اور نہ تقذیب
16:09بلکہ ظاہر یہ ہے کہ ان کی صحت بعید ہے
16:13بائبل میں لکھا ہے کہ اور وہ آگے چلتے
16:16اور باتیں کرتے جاتے تھے
16:19کہ دیکھو ایک آتش رت اور آتشی گھوڑوں نے
16:23ان دونوں کو جدہ کر دیا
16:24اور ایلیا بگولے میں آسمان پر چلا گیا
16:28قرآن و حدیث میں ایسی کوئی دلیل نہیں ہے
16:31جس سے حضرت علیہ السلام کی زندگی
16:34یا آپ علیہ السلام کا آسمان پر اٹھایا جانا
16:38ثابت ہوتا ہو
16:39صرف ایک روایت مستدرک حاکم رحمت اللہ علیہ میں ملتی ہے
16:43جس میں مذکور ہے کہ تبوگ کے راستے میں
16:46آن حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
16:49حضرت علیہ السلام سے ملاقات ہوئی
16:52لیکن محدثین نے اسے موضوع حدیث قرار دیا ہے
16:56بہرحال حضرت علیہ السلام کا زندہ ہونا
17:00کسی معتبر اسلامی روایات سے ثابت نہیں
17:04لہذا اس معاملے میں سلامتی کی راہ یہی ہے
17:07کہ سکوت اختیار کیا جائے
17:09اور اسرائیلی روایات کے سلسلے میں
17:12آن حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم پر
17:16عمل کیا جائے
17:17کہ نہ ان کی تصدیق کرو
17:19نہ تقذیب
17:20بحوالہ معارف القرآن
17:23ناظرین اگرامی ہم امید کرتے ہیں
17:25کہ آج کی یہ ویڈیو بھی
17:27آپ کو ضرور پسند آئی ہوگی
17:29اور آپ کی معلومات میں اضافہ ہوا ہوگا
17:32اگر آپ نے آخر تک ہماری یہ ویڈیو دیکھی ہے
17:35تو کمنٹ سیکشن میں
17:36ہماری حوصلہ آفزائی کے لیے
17:38کمپلیٹ یا مکمل کا لفظ لکھ کر
17:41ہماری حوصلہ آفزائی ضرور کی جکا
17:43اگر آپ نے ابھی تک ہمارے چینل کو
17:45سبسکرائب نہیں کیا
17:47اور یوٹیوب پیچ کو فالو نہیں کیا
17:49تو سبسکرائب اور فالو ضرور کر دیں
17:51آنے والی ویڈیو تک
17:53آپ کا اپنا میزمان قادر بخش کلھوڑو
17:56آپ سے اجازت چاہتا ہے
17:58اللہ حافظ
Be the first to comment
Add your comment

Recommended