Skip to playerSkip to main content
Hazrat Ibrahim (A.S) Ka Mukamil Qissa | But Shikni, Aag Ka Mo‘jiza Aur Qurbani | Islamic History

Hazrat Ibrahim (A.S) Allah ke azeem Nabi aur Khalilullah thay. Aap ne apni qaum ko but-parasti se nikaal kar Tauheed ki taraf daawat di. Jab qaum ne inkaar kiya to aap ko aag mein daal diya gaya, lekin Allah ke hukm se aag thandi aur salamati wali ban gayi.

Is qissay mein but shikni, aag ka mo‘jiza, Hijrat, aur Qurbani jaisay azeem imtihaan shamil hain jo humein sabr, yaqeen aur poori itaat ka dars dete hain.

Is video mein aap jaanenge:

Hazrat Ibrahim (A.S) ka paighaam aur daawat

But shikni ka waqia

Aag ka mo‘jiza

Qurbani aur Allah par poora yaqeen

Yeh qissa humein sikhata hai ke sachi imaan ke samne har imtihaan asaan ho jata hai.

🎙️ Bayan: Qadir Kalhoro

#HazratIbrahim #IbrahimAS #Khalilullah #IslamicStories #AnbiyaQissay #ButShikni #Qurbani #IslamicHistory #QadirKalhoro

Category

📚
Learning
Transcript
00:00بسم الله الرحمن الرحيم
00:01السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
00:04ناظرین آج کی ویڈیو میں ہم اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قصہ بیان کریں گے
00:11لہذا ویڈیو کو آخر تک ضرور دیکھئے گا
00:14اور اپنے دوستوں کا ایمان تازہ کرنے کے لیے یہ ویڈیو شیئر بھی ضرور کیجئے گا
00:19ناظرین حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے جلیل القدر اور مقرب ترین پیغمبروں میں سے ایک ہیں
00:26جنہیں خلیل اللہ ہے یعنی اللہ کے دوست کے خطاب سے نوازا گیا
00:31حضرت نوح علیہ السلام کے بعد آپ علیہ السلام وہ پہلے نبی ہیں
00:35جنہیں اللہ تعالیٰ نے توحید کی دعوت پھیلانے کے لیے مبعوث فرمایا
00:40حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عراق مصر شام فلسطین سے لے کر عرب کی سہرائی وادیوں تک توحید کی دعوت عام کی
00:49پھر اپنے مشن کی تکمیل کے لیے سرزمین عرب میں اپنے بڑے بیٹے حضرت اسمائل علیہ السلام
00:56شام اور فلسطین میں دوسرے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام اور مشرقی اردن میں اپنے بھتیجے حضرت لوت علیہ السلام کو مقرر فرمایا
01:07اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں انہتر مقامات پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر فرمایا ہے
01:14حضرت ابراہیم علیہ السلام کے آباؤ اجداد عرب سے ہجرت کر کے بابل میں آباد ہو گئے تھے
01:21وہیں آپ علیہ السلام کی ولادت ہوئی آپ علیہ السلام کے والد کا نام تاریخ تھا لیکن آزر کے نام سے مشہور ہوئے
01:29حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیدائش کے وقت آزر کی عمر بچہتر سال تھی
01:35حضرت ابراہیم علیہ السلام کے علاوہ آزر کے دو بیٹے اور بھی تھے
01:40ایک کا نام ناحور اور دوسرے کا حاران تھا
01:43حاران کا انتقال آزر کی زندگی میں ہو گیا تھا
01:47حاران کا ایک بیٹا تھا جس کا نام لوت علیہ السلام تھا
01:52حضرت لوت علیہ السلام نے باپ کے انتقال کے بعد
01:55اپنی زندگی کا بیشتر حصہ چچا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ گزارا
02:01یہاں تک کہ اللہ رب العزت نے حضرت لوت علیہ السلام کو بھی نبوت سے سرفراز فرمایا
02:08ان کا ذکر بھی ہم آنے والی کسی ویڈیو میں ضرور کریں گے
02:12حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد آزر کا پیشہ بدتراشی اور بدفروشی تھا
02:18بابل اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں نمرود کی بادشاہی تھی
02:23جو کہ ایک بہت طاقتور متکبر جابر اور بدپرست حکمران تھا
02:29کہتے ہیں کہ سرپر تاج سب سے پہلے نمرود ہی نے پینا تھا
02:34یہ بزور طاقت رایہ سے اپنی پرستش کرواتا تھا
02:38ایک مرتبہ اس نے عجیب و غریب خواب دیکھا
02:41کہ آسمان پر ایک بڑا روشن اور خوبصورت ستارہ نمودار ہوا ہے
02:46جس کی روشنی اتنی تیز تھی
02:48کہ اس نے آسمان پر چمکتے چاند اور لاکھوں ستاروں کی روشنی کو ماند کر دیا تھا
02:54صبح ہوئی تو نمرود نے شہر کے تمام بڑے کہانوں
02:57اور نجومیوں کو دربار میں طلب کر کے اپنا خواب سنایا اور تعبیر مانگی
03:02نجومیوں نے تعبیر بتائی کہ اس شہر میں ان قریب ایک ایسا بچہ پیدا ہونے والا ہے
03:09جو عظیم بادشاہ کے زوال کا باعث بنے گا
03:12اور ہمارے خداوں کے مقابلے میں ایک خدا اور اس کے دین کا پرچار کرے گا
03:18نجومیوں کی اس خبر نے نمرود کو سخت پریشان کر دیا تھا
03:22چنانچہ اس نے فوری حکم جاری کیا
03:25کہ جو بھی بچہ پیدا ہو اسے فوری قتل کر دیا جائے
03:29بادشاہ کے حکم پر عمل دارامد شروع کر دیا گیا
03:32اور بابل کی سرزمین نو زائدہ بچوں کے خون سے سرخ ہو گئی
03:37ابھی بادشاہ کے فرمان کو کچھ ہی وقت گزرا تھا
03:40کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ولادت کا وقت قریب آ گیا
03:45آزر اور ان کی بیوی کو اپنی اولاد کا خون کسی صورت قبول نہ تھا
03:50لہٰذا دونوں نے اسے چھپ کر پالنے کا فیصلہ کر لیا
03:54اور بچے کی پیدائش سے پہلے ہی بابل کے پہاڑوں کے درمیان ایک غار تلاش کر لیا
04:00حضرت ابراہیم علیہ السلام کی والدہ نے اس غار میں بچے کو جنم دیا
04:05اور بچے کو اللہ کے سپرد کر کے گھر واپس آ گئیں
04:09والدہ باقائدگی سے چھپتے چھپاتے غار میں جاتی
04:13اور بچے کو دودھ پلا کر واپس آ جاتی
04:16کچھ ہی عرصے کے بعد آپ بڑے ہو گئے
04:18تو والدین آپ علیہ السلام کو گھر لے آئے
04:21حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالی نے بچپن ہی سے صرات مستقیم پر رکھا تھا
04:27اور اپنا رسول منتخب کر لیا تھا
04:29قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے
04:32اور ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو پہلے ہی سے ہدایت دی تھی
04:36اور ہم ان کے حال سے واقف تھے
04:39بحوالہ سورة الانبیاء آیت نمبر 51
04:43ناظرین حضرت ابراہیم علیہ السلام نے والد کو بت تراشتے اور ان کو پوچھتے دیکھا
04:49تو ان سے سوال کیا کہ یہ کیا ہے
04:52والد نے کہا کہ یہ ہمارے خدا ہیں
04:54حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تعجب سے کہا
04:57کہ یہ کیسے خدا ہیں
04:59کہ جن کو آپ پتھر کے ٹکڑوں سے تراش رہے ہیں
05:02ایک دن والد نے انہیں ایک ٹوکرے میں بہت سے بت رکھ کر دیے
05:07کہ انہیں بازار جا کر بیچ آؤ
05:09والد کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ٹوکرہ لے کر بازار پہنچ گئے
05:14اور آواز لگائی
05:15اے لوگو آؤ اور اپنے ان خداوں کو خرید لو
05:18جو تم کو نفع پہنچا سکتے ہیں
05:21اور نہ نقصان
05:22لوگ جمع ہوتے
05:23اپنے خداوں کے بارے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی گفتگو کو تعجب سے سنتے
05:28اور آگے بڑھ جاتے
05:29بازار جانے کا یہ سلسلہ کئی دن تک جاری رہا
05:33جب ایک بت بھی نہ بکا
05:35بلکہ لوگوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شکایتوں کے امبار لگا دئیے
05:40تو آزر نے انہیں بازار بھیجنا بند کر دیا
05:44اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بچپن ہی میں رشد و ہدایت اور عقل سلیم عطا فرمائی تھی
05:51وہ جب چھوٹے تھے تو حیران ہو کر سوچتے تھے
05:54کہ اپنے ہاتھوں سے تراشتے پتھر کے ٹکڑے ہمارے معبود کیسے ہو سکتے ہیں
05:59انہیں اس معبود حقیقی کی تلاش تھی جس نے کل کائنات کو بنایا ہے
06:04دن رات اسی جستجو اور اسی فکر میں رہا کرتے تھے
06:08پھر باریتالہ نے انہیں کائنات کی کچھ اور چیزوں کا بھی مشاہدہ کروا دیا
06:13قرآن پاک میں ارشاد باریتالہ ہے
06:16اور ہم ابراہیم علیہ السلام کو آسمانوں اور زمین کے عجائبات دکھانے لگے
06:21تاکہ وہ خوب یقین کرنے والوں میں سے ہو جائیں
06:25یعنی جب رات نے ان کو پردہ تاریکی سے ڈھانپ لیا
06:29تو آسمان میں ایک ستارہ نظر آیا
06:31کہنے لگے کہ یہ میرا پروردگار ہے
06:34جب وہ غائب ہو گیا
06:35تو کہنے لگے کہ مجھے غائب ہونے والے تو پسند نہیں
06:39پھر جب چاند کو چمکتے دیکھا
06:41تو کہنے لگے کہ یہی میرا پروردگار ہے
06:43لیکن جب وہ بھی چھپ گیا
06:45تو بول اٹھے کہ اگر میرا پروردگار مجھے سیدھا راستہ نہیں دکھائے گا
06:50تو میں ان لوگوں میں سے ہو جاؤں گا جو بھٹک رہے ہیں
06:54پھر جب صبح سورج کو دیکھا
06:56کہ وہ آسمان میں جگمگا رہا ہے
06:58تو کہنے لگے کہ میرا پروردگار یہ ہے
07:01یہ سب سے بڑا ہے
07:03مگر جب وہ بھی غروب ہو گیا
07:05تو کہنے لگے کہ لوگوں
07:07جن چیزوں کو تم اللہ کا شریک بناتے ہو
07:10میں ان سے بیزار ہوں
07:11یہ ڈوبنے اور غائب ہونے والے میرا رب نہیں ہو سکتے
07:16وہ کوئی اور ہی ہستی ہے
07:17جس نے ان سب کو پیدا کیا ہے
07:19جو کل کائنات کا مالک اور خالق ہے
07:23میں نے سب سے یکسو ہو کر
07:25اپنی ذات کو اس کی طرف متوجہ کر لیا ہے
07:28جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے
07:31اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں
07:34بحوالہ صورتِ انعام
07:36ناظرین خلاتِ نبوت سے سرفراز ہونے کے بعد
07:40حضرت ابراہیم علیہ السلام نے
07:42سب سے پہلے اپنے والد کو توحید کی دعوت تھی
07:46اس سلسلے میں ان کا اپنے والد سے کیا مناظرہ ہوا
07:49اسے قرآن پاک کی سورہ مریم میں یوں بیان کیا گیا ہے
07:53اور جب ابراہیم نے اپنے والد سے کہا
07:56کہ اببہ ایسی چیزوں کو کیوں پوچھتے ہو
07:59جو سن سکتی ہیں اور نہ دیکھ سکتی ہیں
08:02اور نہ ہی آپ کے کچھ کام آ سکتی ہیں
08:04اببہ مجھے ایسا علم ملا ہے
08:07جو آپ کو نہیں ملا
08:08تو آپ میرے ساتھ ہو جائیے
08:10میں آپ کو سیدھی راہ پر چلا دوں گا
08:13اے میرے اببہ شیطان کی پوجہ نہ کیجئے
08:17بے شک شیطان اللہ کا نافرمان ہے
08:20اببہ مجھے ڈر لگتا ہے
08:22کہ آپ کو اللہ کا عذاب نہ پکڑے
08:24تو آپ شیطان کے ساتھ ہی ہو جائیں گے
08:26ناظرین حضرت ابراہیم علیہ السلام نے
08:29عدب اور احترام کے تقاضوں کو
08:31پوری طرح ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے
08:34نہایت ہی محبت اور بہت زیادہ پیار سے
08:38اپنے باپ کو توحید کے بارے میں آگاہ فرمایا
08:41لیکن مشرق باپ نے اس نرمی اور پیار کے جواب میں
08:45نہایت سختی سے بیٹے سے کہا
08:48کہ تُو اگر میرے معبودوں کی مخالفت کرنے سے باز نہ آیا
08:51تو یاد رکھ میں تجھ سے بہت سختی سے پیش آوں گا
08:55قرآن کریم فرقان حمید میں ہے
08:58آزر نے کہا
08:59کہ اے ابراہیم کیا تُو میرے معبودوں سے برگوشتا ہے
09:03اگر تُو باز نہ آیا
09:05تو میں تجھے سنگ سار کر دوں گا
09:07اور تُو ہمیشہ کے لئے مجھ سے دور ہو جا
09:10اس موقع پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے
09:13السلام علیکم کہا
09:15اور کہا
09:16کہ میں آپ کے لئے اپنے پروردگار سے بخشش طلب کروں گا
09:20بے شک وہ مجھ پر مہربان ہے
09:22سورہ مریم آیت نمبر چھالیس اور سنتالیس
09:26ناظرین حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم کا عید کا دن قریب آیا
09:31پوری قوم شہر سے باہر جا کر
09:33عید کی خوشیاں منانے کی تیاریوں میں مصروف ہو گئی
09:36لوگوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی ساتھ چلنے کی دعوت دی
09:41لیکن انہوں نے ساتھ جانے سے انکار کر دیا
09:44دراصل وہ کسی ایسے ہی موقع کی تلاش میں تھے
09:47کہ جب کوئی نہ ہو
09:48اور وہ سب سے بڑے عبادت خانے میں رکھے
09:51بتوں کو مسمار کر سکیں
09:53چنانچہ لوگوں نے عید کی صبح سب سے پہلے اپنے بتوں کو سجایا
09:58پھر حسبی روایت
09:59ان کے آگے ترہ ترہ کے کھانے سجائے
10:02ان میں رواج یہ تھا
10:04کہ میلے سے واپس آ کر
10:06اس کھانے کو بڑے احترام سکھاتے تھے
10:09اس کام سے فارغ ہو کر
10:11سب لوگ شہر سے باہر میلے میں چلے گئے
10:13تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کلھاڑا لیے
10:16بدھ خانے میں داخل ہو گئے
10:18قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے
10:21حضرت ابراہیم علیہ السلام چھپتے چھپاتے
10:24ان کے معبودوں کے پاس گئے
10:27فرمانے لگے
10:28تم کھاتے کیوں نہیں
10:29تمہیں کیا ہو گیا ہے
10:30تم بولتے کیوں نہیں
10:32پھر ان کو دائیں ہاتھ سے مارنا اور توڑنا شروع کر دیا
10:36جب تمام بدھ توڑ دیئے
10:38تو آپ علیہ السلام نے کلھاڑا
10:40سب سے بڑے بدھ کے کندھے پر لٹکا دیا
10:42اور گھر واپس آ گئے
10:44شام کو لوگ خوشی خوشی میلے سے واپس آئے
10:47اور بدھوں کے پاس پہنچے
10:49تاکہ کھانا تناول کریں
10:50لیکن وہاں کا تو منظر ہی ہے
10:52بتناک تھا
10:53سب کے ثبت اوندھے پڑے ہوئے تھے
10:56یہ منظر دیکھ کر وہ غصے سے پاگل ہو گئے
11:00ان میں سے بہت سوں کو یقین تھا
11:02کہ یہ کام
11:03ابراہیم علیہ السلام ہی نے کیا ہوگا
11:06قرآن پاک میں
11:07یوں ارشاد فرمایا گیا
11:08لوگوں نے کہا
11:09کہ ہم نے ایک نوجوان کو
11:11ان کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے
11:13اسے ابراہیم کہتے ہیں
11:15چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بلائیا گیا
11:18جب آپ علیہ السلام آئے
11:20تو مشرقوں نے کہا
11:22اے ابراہیم علیہ السلام
11:24ہمارے معبودوں کے ساتھ
11:26تم نے کیا کیا ہے
11:27ابراہیم علیہ السلام نے کہا
11:29یہ ان کے بڑے بتنے کیا ہوگا
11:32اگر وہ بولتے ہوں
11:33تو ان سے پوچھ لو
11:34انہوں نے اپنے دل میں غور کیا
11:36تو آپس میں کہنے لگے
11:38کہ بے شک ہم ہی ظالم ہیں
11:40پھر شرمندہ ہو کر
11:41سر نیچے کر لیا اور بولے
11:43تم جانتے ہو
11:44کہ یہ بولتے نہیں ہیں
11:45حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا
11:48کہ پھر تم اللہ کو چھوڑ کر
11:50کیوں ایسی چیزوں کو پوچھتے ہو
11:52جو تمہیں کچھ فائدہ دے سکیں
11:54اور نانقصان تف ہے تم پر
11:56اور جن کو تم اللہ کے سوا پوچھتے ہو
11:59ان پر کیا تم عقل نہیں رکھتے
12:02سورة الانبیاء آیت نمبر ساٹھ سے ستھ سٹھ
12:05ناظرین بتوں کو توڑنے کا عمل
12:07نمرود اور اس کی قوم کے نزدیک
12:10ناقابل معافی جرم تھا
12:12لہذا انہوں نے فیصلہ کیا
12:14کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو
12:16اتنی سخت اور عبرتناک سزا دی جائے
12:19کہ آئندہ کسی کو بتوں کی بے حرمتی کی حمت نہ ہو
12:23چنانچہ نمرود کے حکم پر خندق کھو دی گئی
12:26پھر قوم کے ہر فرد نے
12:29اس کام کو مقدس سمجھتے ہوئے
12:31اس میں لکڑیاں جمع کرنی شروع کر دیں
12:34یہاں تک کہ اگر کسی کا کوئی کام رکا ہوا تھا
12:37تو اس نے منتما کی
12:39کہ کام ہو جائے
12:40تو ابراہیم علیہ السلام کو جلانے کے لیے
12:43لکڑی کا گٹھا دوں گا
12:45خندق کے بھر جانے کے بعد
12:47اس میں آگ روشن کر دی گئی
12:49پھر ایک منجنیق بنائی گئی
12:52جس کے ذریعے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو
12:54رسیوں سے جکڑ کر آگ میں پھینک دیا گیا
12:58اس موقع پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا
13:01ہمیں اللہ ہی کافی ہے
13:02اور وہی بہترین کارساز ہے
13:05حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہو
13:08اور سعید بن جبیر رضی اللہ تعالی عنہو سے روایت ہے
13:12کہ اس وقت بارش والا فرشتہ اضطراب اور پریشانی کے عالم میں کہہ رہا تھا
13:17کہ کب مجھے حکم ملے اور بارش برساؤں
13:20لیکن اللہ کا حکم بلا واسطے کے زیادہ تیز تھا
13:24یعنی اللہ نے خود ہی آگ کو حکم فرما دیا
13:27آگ گلو گلزار بن گئی
13:29قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے
13:32ہم نے کہا
13:33اے آگ ابراہیم علیہ السلام پر تھنڈھی اور سلامتی والی ہو جا
13:38روایت ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام
13:40حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ تھے
13:43اور آپ علیہ السلام کی جبینِ اطہر
13:46یعنی پیشانی سے پسینہ پہنچ رہے تھے
13:49اور اس پسینے کے علاوہ انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچی
13:53حضرت ابو حریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے
13:56کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کے کہے ہوئے کلمات میں
14:00سب سے اچھے کلمات وہ ہیں
14:02جو اس نے اپنے بیٹے کو آگ کے اندر دیکھ کر کہے تھے
14:06کہ اے ابراہیم تیرا پروردگار بہترین پروردگار ہے
14:11حضرت منحال بن عمر رحمت اللہ علیہ سے روایت ہے
14:15کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام
14:17اس آگ میں چالیس یا پچاس دن ٹھہرے
14:20اور انہوں نے فرمایا
14:22کہ میں نے ان دنوں سے اچھی زندگی نہیں گزاری
14:25اور میری تمنا رہی
14:27کہ میری پوری زندگی اسی طرح سے ہو جائے
14:30بحوالہ قصص الانبیاء ابن کثیر
14:34حضرت ام شریک رضی اللہ تعالی عنہ سے مراوی ہے
14:37کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
14:40چکلی کے مارنے کا حکم دیا
14:42اور فرمایا کہ یہ ابراہیم علیہ السلام پر
14:45جلنے والی آگ کو پھونک مار رہی تھی
14:48بحوالہ بخاری مسلم اور ابن ماجا
14:52مسند احمد میں حضرت عائشہ سے روایت ہے
14:55کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
14:59کہ چھپکلی کو مارو
15:00کیونکہ وہ ابراہیم علیہ السلام پر آگ کو پھونک مار رہی تھی
15:04راوی کہتے ہیں کہ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی ان کو مارتی تھی
15:09تاریخی کتب میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ سے صحیح سلامت واپس آگئے
15:15تو نمرود اور اس کے لوگ بڑے حیران بھی ہوئے اور پریشان بھی
15:20اس موقع پر نمرود نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا
15:24کہ اے ابراہیم کیا تم نے اپنے اس رب کو دیکھا بھی ہے
15:28کہ وہ کون ہے اور کہاں رہتا ہے
15:31حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا
15:33میرا رب تو وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے
15:37نمرود بولا یہ کیا مشکل ہے یہ تو میں بھی کر سکتا ہوں
15:41اس نے اپنے دو غلاموں کو دربار میں بولایا
15:44ان میں سے ایک کو قتل اور دوسرے کو چھوڑ دیا
15:47پھر بولا کہ دیکھو میں نے ایک کو مار دیا اور دوسرے کو زندگی دے دی
15:52حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کی بےوقوفی کی بات سن کر فرمایا
15:57میرا اللہ تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے
16:01تم اسے مغرب سے نکال دو
16:03حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس سوال کا نمرود کے پاس کوئی جواب نہ تھا
16:08چنانچہ وہ حواس باختہ ہو کر دربار سے اٹھ کر چلا گیا
16:13ناظرین آگ میں ڈالے جانے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بابل سے حجرت کا ارادہ فرمایا
16:19اور پھر ایک دن اپنے اہل و ایال کے ساتھ حران نامی علاقے میں حجرت کر گئے
16:24حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بابل ہی میں اپنی چچہ زاد بہن حضرت سارہ علیہمہ السلام سے شادی کر لی تھی
16:32پھر اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام کو بیت المقدس جانے کا حکم فرمایا
16:37اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر پچہتر سال تھی
16:41بیت المقدس میں کچھ عرصہ قیام کے بعد آپ علیہ السلام مصر حجرت کر گئے
16:47حضرت ابراہیم علیہ السلام جس وقت مصر پہنچے تو وہاں فرعون کی حکومت تھی
16:53اور عمر بن عمرتی القیس وہاں کا فرعون یعنی بادشاہ تھا
16:58جو نہایت ہی عیاش ظالم اور جابر قسم کا بندہ تھا
17:03کسی نے بادشاہ کو بتایا کہ ہمارے شہر میں ایک پردیسی آیا ہے
17:07جس کے ساتھ ایک حسین و جمیل عورت بھی ہے
17:11فرعون نے یہ سن کر فوری طور پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دربار میں طلب کیا
17:16اور حضرت سارہ علیہ السلام کے بارے میں سوال و جواب کیے
17:20حضرت سارہ علیہ السلام اللہ تبارک و تعالی کی برگزیدہ بندی تھی
17:26اور انہیں اپنے اللہ پر بڑا یقین تھا
17:29چنانچہ وہ طلب کرنے پر بادشاہ کے پاس تشریف لے گئیں
17:33بادشاہ نے جب انہیں دیکھا تو خود پر قابو نہ رکھ سکا
17:36اور برے ارادے سے انہیں پکڑنے کے لیے آگے بڑھا
17:40حضرت سارہ علیہ السلام اس وقت اپنے رب سے دعا میں مصروف تھی
17:45جیسے ہی فرعون آگے بڑھا اس کے قدم زمین میں دھنس گئے
17:50بادشاہ بدحواس ہو گیا اور جلدی سے بولا
17:53تم میرے لئے اپنے اللہ سے دعا کرو
17:55میں تمہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچاؤں گا
17:57حضرت سارہ علیہ السلام نے دعا فرمائی
18:01کہ اے اللہ اگر یہ مر گیا تو کہا جائے گا
18:04کہ میں نے اسے قتل کیا ہے
18:06اے اللہ تو اسے آزاد کر دے
18:08اس دعا کے بعد اللہ نے اسے آزاد کر دیا
18:11لیکن وہ اپنی حرکت سے باز نہ آیا
18:14دوبارہ آگے بڑھا تو مزید اندر گھس گیا
18:17اس نے پھر دعا کے لئے کہا
18:19حضرت سارہ علیہ السلام نے دعا فرمائی
18:22وہ پھر آزاد ہو گیا
18:24راوی کہتے ہیں کہ تیسری یا چوتھی بار میں
18:27وہ پکار اٹھا اور اپنے درباریوں سے کہا
18:30کہ تم میرے پاس کسی انسان کو نہیں لائے ہو
18:33پھر اس نے حضرت سارہ علیہ السلام کو
18:36عزت اور احترام سے رخصت کیا
18:39بلکہ ایک خادمہ یعنی حضرت حاجرہ علیہ السلام بھی
18:44ان کی خدمت میں پیش کی
18:46ناظرین کئی محققین کے مطابق حضرت حاجرہ
18:49بادشاہ کی لونڈی نہیں بلکہ بیٹی تھی
18:52حضرت سارہ حضرت حاجرہ علیہ السلام کو ساتھ لے کر
18:56حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس تشریف لائیں
19:00دیکھا کہ وہ نماز میں مصروف ہیں
19:02فارغ ہو کر بیوی سے سوال کیا
19:04کہ کیا ہوا حضرت سارہ علیہ السلام نے جواب دیا
19:08کہ اللہ نے کافر کے مکر کو رد کر دیا
19:11اور فاجر کی برائی کو اس کی سینے میں دفن کر دیا
19:15اس واقعے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام دوبارہ فلسطین منتقل ہو گئے
19:20کچھ عرصہ بھی تھا
19:21تو ایک دن حضرت سارہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے فرمایا
19:25کہ میں چاہتی ہوں کہ آپ علیہ السلام حاجرہ سے نکاح کر لیں
19:30شاید اللہ آپ علیہ السلام کو اولاد کی نعمت سے نواز دے
19:34اس وقت تک آپ علیہ السلام کے اولاد نہیں ہوئی تھی
19:38اور پھر حضرت سارہ علیہ السلام نے آپ کا نکاح حضرت حاجرہ علیہ السلام سے کروا دیا
19:45اللہ تعالیٰ نے سال بھر بعد ہی حضرت حاجرہ کے بطن سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو پیدا فرمایا
19:53بعد ازاں حضرت ابراہیم علیہ السلام
19:55اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت حاجرہ اور نو مولود بیٹے کو لے کر
20:00فلسطین سے نامعلوم منزل کی جانب چل پڑے
20:04حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی زوجہ اور لخت جگر کے ساتھ
20:09سہراؤں پہاڑوں اور میدانوں کو عبور کرتے ہوئے
20:12ایک ایسی وادی میں پہنچے
20:14جہاں دور دور تک چرند پرند تھے
20:18اور نہ ہی پانی کا کوئی نام و نشان
20:20لیکن حیران کن طور پر اس وادی کے درمیان
20:23ایک بوڑھا درخت نہ جانے کب سے
20:26اپنے مکینوں کے انتظار میں تنہا کھڑا تھا
20:29حضرت ابراہیم علیہ السلام نے
20:31اپنی اہلیہ کو دودھ پیتے معصوم جانے جگر سمیت
20:36درخت کے نیچے بٹھا دیا
20:38خجور کا تھیلہ اور پانی کا مشکیزہ پاس رکھا
20:41اور کچھ کہے بغیر واپسی کے لیے پلٹے
20:45حضرت حاجرہ علیہ السلام نے جب یہ دیکھا
20:48تو لپک کر دامن پکڑا
20:50اور بولیں
20:51اے ابراہیم علیہ السلام
20:52ہمیں اس دشت بیابان میں چھوڑ کر کہاں جا رہے ہیں
20:56حضرت حاجرہ علیہ السلام کے بار بار فریاد کرنے پر بھی
21:00آپ علیہ السلام خاموش رہے
21:03انہوں نے عرض کیا
21:04کہ اے ابراہیم علیہ السلام
21:06کیا یہ اللہ کا حکم ہے
21:08آپ علیہ السلام نے فرمایا
21:10ہاں
21:11حضرت حاجرہ علیہ السلام نے سنا
21:13تو بڑے یقین اور اعتماد کے ساتھ فرمایا
21:16پھر ہمارا پروردگار ہمیں ضائع نہیں فرمائے گا
21:19حضرت ابراہیم علیہ السلام آگے بڑھ گئے
21:22لیکن الفت پدری کے تحت
21:24مجبور ہو کر ایک ٹیلے کی اونٹ میں پہنچ گئے
21:28جہاں سے حضرت حاجرہ ان کو نہ دیکھ سکتی تھی
21:32اور پھر باری تعالیٰ کے حضور دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے
21:35اور دعا کی کہ اے میرے پروردگار
21:38میں نے اپنی اولاد کو اس بیابان میں
21:40تیرے عزت والے گھر کے پاس لا بسایا ہے
21:44تاکہ یہ نماز پڑھیں
21:45تو لوگوں کے دلوں کو ایسا کر دے
21:48کہ ان کی طرف جھکے رہیں
21:50اور ان کو میووں سے روزی دے
21:52تاکہ تیرہ شکر کریں
21:54سورہ ابراہیم آیت نمبر سینتیس
21:57پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام
21:59وہاں سے واپس پلٹ گئے
22:01حضرت حاجرہ علیہ السلام پر
22:03اللہ کی رحمت سائے فگن تھی
22:06ابھی زاد راہ ختم ہی ہوا تھا
22:08کہ اللہ نے معصوم اسماعیل علیہ السلام کے قدموں تلے
22:12آب زمزم جاری کر دیا
22:14حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
22:18کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
22:22کہ اللہ پاک حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ پر رحمت فرمائے
22:27اگر وہ پانی سے چلو نہ بھرتیں
22:29اسے بہنیں دیتیں
22:31تو وہ ایک بہتے ہوئے چشمے کی صورت اختیار کر لیتا
22:35کچھ ہی عرصہ گزرا تھا
22:36کہ بنو جرحم کا قبیلہ حضرت حاجرہ کی اجازت سے
22:40وہاں آباد ہو گیا
22:42اور پھر اللہ عزو جل نے جلد ہی
22:44اس غیر آباد وادی کو شہر میں بدل دیا
22:48حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر سو سال
22:51اور حضرت سارہ کی عمر نوے سال تھی
22:54جب اللہ تعالیٰ نے انہیں فرشتوں کے ذریعے
22:57حضرت اسحاق علیہ السلام کی ولادت کی خوشخبری سنائی
23:01ارشاد باری تعالیٰ ہے
23:03ہم نے اس یعنی حضرت سارہ کو اسحاق کی
23:07اور اسحاق قباد یا عقوب کی خوشخبری دی
23:11اس نے کہا
23:12اے اے میرا بچہ ہوگا
23:14میں تو بڑیا ہوں
23:15اور میرے میاں بھی بڑے ہیں
23:17یہ تو بڑی عجیب بات ہے
23:19انہوں نے کہا کیا تم اللہ کی قدرت سے تعجب کرتی ہو
23:23اے اہلِ بیت
23:25تم پر اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہیں
23:28حضرت اسحاق علیہ السلام کی پیدائش کے وقت
23:31حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عمر
23:34تیرہ یا چودہ سال تھی
23:36حضرت ابراہیم علیہ السلام کو
23:38اللہ تعالیٰ نے اپنی عزیز ترین شئے
23:40قربان کرنے کا حکم دیا
23:42یہ خواب آپ علیہ السلام کو
23:45کئی دن تک لگاتار نظر آتا رہا
23:47آپ علیہ السلام سمجھ گئے
23:49کہ اللہ تعالیٰ بیٹے کی قربانی کا حکم دے رہا ہے
23:53حدیث مبارکہ میں ہے
23:55کہ انبیاء کے خواب بھی وحی ہوتے ہیں
23:58چنانچہ آپ علیہ السلام نے
24:00مکہ مکرمہ جانے کا قصد فرمایا
24:02اور صاحب زادے کو اپنا خواب سنایا
24:04اللہ عزوجل قرآن کریم میں فرماتا ہے
24:08اور جب وہ ان کے ساتھ دوڑنے کی عمر کو پہنچا
24:11تو ابراہیم نے کہا
24:13بیٹا میں خواب میں دیکھتا ہوں
24:16کہ گویا تم کو زباہ کر رہا ہوں
24:18تو تم سوچو
24:19کہ تمہارا کیا خیال ہے
24:21انہوں نے کہا
24:22ابباجان جو آپ کو حکم ہوا ہے
24:25وہی کیجئے
24:25اللہ نے چاہا
24:27تو آپ مجھے سابرین میں پائیں گے
24:29جب دونوں نے حکم مان لیا
24:31اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹا دیا
24:34تو ہم نے ان کو پکارا
24:36کہ اے ابراہیم
24:37تم نے خواب سچا کر دکھایا
24:40ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں
24:43بلا شبہ یہ سریح آزمائش تھی
24:46اور ہم نے ایک بڑی قربانی کو
24:48ان کا فدیہ بنا دیا
24:50اور پیچھے آنے والوں میں
24:52ابراہیم علیہ السلام کا ذکر خیر باقی چھوڑ دیا
24:55کہ ابراہیم علیہ السلام پر سلام ہو
24:59نیکوکاروں کو ہم ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں
25:02حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی
25:05بارگاہ خداوندی میں قبول ہوئی
25:07اور ان کے سعادت مند
25:09اور فرما بردار بیٹے کی جگہ
25:11جنت سے بڑی آنکھوں اور سفید رنگ کا
25:15ایک خوبصورت میڑھا زبہ ہوا
25:18اللہ نے اس عظیم قربانی کو رہتی
25:21دنیا تک کے لیے جاری فرما دیا
25:23حضرت اسماعیل علیہ السلام کو
25:25خراج تحسین پیش کرتے ہوئے
25:28علامہ اقبال نے فرمایا
25:30یہ فیضان نظر تھا
25:32یا کہ مکتب کی کرامت تھی
25:34سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزن دی
25:37ناظرین حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عمر پندرہ سال تھی
25:41کہ آپ علیہ السلام کی والدہ
25:44اور دنیا کی عظیم ترین
25:46صابر و شاکر خاتون
25:48حضرت حاجرہ علیہ السلام
25:50اس دنیا سے رخصت ہو گئیں
25:52حضرت اسماعیل علیہ السلام کو
25:54والدہ سے بچھڑنے کا بڑا غم تھا
25:57بلکہ پورا قبیلہ سوگ میں
25:59بنو جرحم کے لوگوں نے حضرت حاجرہ علیہ السلام کو
26:04آب زمزم کے چشمے کے قریب ہی دفن کر دیا
26:08اب حضرت اسماعیل علیہ السلام اکیلے رہ گئے تھے
26:12چنانچہ قبیلے کے لوگوں نے
26:13آپ علیہ السلام کی شادی
26:15امارہ نامی خاتون سے کر دی
26:18ادھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو
26:20اہلیا اور صاحب زادے کی یاد ستانے لگی
26:23تو مکت المکرمہ تشریف لے آئے
26:26صاحب زادے کے گھر کا دروازہ کھٹ کھٹایا
26:28حضرت اسماعیل علیہ السلام گھر پر موجود نہ تھے
26:32ان کی اہلیا کی سرد مہری
26:34اور نامناسب روئے کی بنا پر
26:37گھر کی چوکھٹ تبدیل کرنے کا مشورہ دے کر چلے گئے
26:41حضرت اسماعیل علیہ السلام گھر آئے
26:43اور والد کا پیغام ملا
26:45تو اہلیا کو طلاق دے دی
26:47کچھ عرصے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام
26:50پھر تشریف لائے
26:52اس مرتبہ بھی حضرت اسماعیل علیہ السلام
26:54اتفاق سے گھر پر موجود نہ تھے
26:57دروازہ کھٹ کھٹایا
26:58تو اہلیا نے دروازہ کھولا
27:00یہ بنو جرہم کے سردار
27:02مزاز بن عمر کی صاحب زادی تھی
27:06انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو
27:08نہایت عزت اور احترام کے ساتھ
27:11گھر کے اندر بلایا
27:12ان کی خاطر مدارت کی
27:14ان کے ہر سوال کے جواب میں
27:16اللہ کا شکر ادا کیا
27:18حضرت ابراہیم علیہ السلام بہت خوش ہوئے
27:21اور فرمایا
27:21اسماعیل آئے تو کہنا
27:24کہ تیرے گھر کی چوکھٹ بہت اچھی ہے
27:26اسے تبدیل نہ کرنا
27:28ناظرین اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا
27:32کہ میرے گھر کی تعمیر کرو
27:34چنانچہ ایک بار پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام
27:37مکت المکرمہ تشریف لائے
27:39حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ساتھ لیا
27:42اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کی نشاندہی
27:45اور مدد سے بیت اللہ شریف کی تعمیر شروع کر دی
27:49حضرت اسماعیل علیہ السلام پتھر اور مٹی کا گارہ دیتے جاتے تھے
27:54قرآن پاک میں ہے
27:55کہ جب ابراہیم اور اسماعیل علیہ السلام
27:58بیت اللہ کی بنیادیں اونچی کر رہے تھے
28:01تو دعا بھی کرتے جا رہے تھے
28:04کہ اے ہمارے پروردگار
28:05ہم سے یہ خدمت قبول فرما
28:08بے شک تو سننے والا اور جاننے والا ہے
28:11جب دیواریں اونچی ہو گئیں
28:13تو انہیں مزید اونچا کرنے کے لیے
28:16حضرت اسماعیل علیہ السلام
28:18حضرت جبرائیل علیہ السلام کی نشاندہی پر
28:21ایک پتھر لے آئے
28:22جس پر چڑھ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام
28:26قعبے کی دیواریں بلند کرنے لگے
28:28یہ پتھر خودکار زینے کی طرح
28:31اوپر نیچے اور دائیں بائیں حرکت کرتا تھا
28:35جنت کے اس پتھر پر حضرت ابراہیم علیہ السلام
28:38کے قدموں کے نشان آج بھی موجود ہیں
28:41پہلے یہ پتھر ملتظم اور حجرہ اسوت کے درمیان
28:44قعبہ شریف کی دیوار سے منسلک تھا
28:47پھر حضرت عمر فاروق نے
28:49اپنے دور خلافت میں اسے وہاں سے ہٹا کر
28:52موجودہ جگہ نصب فرمایا
28:55قابت اللہ کی تعبیر کے بعد
28:57حضرت جبرائیل علیہ السلام کی نشاندہی پر
29:00حضرت اسماعیل علیہ السلام
29:02جبل ابو قیس کہے
29:04جس کی آغوش میں جنت کا ایک اور یاقوت
29:08حجرہ اسود محفوظ تھا
29:10اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے
29:12قابہ شریف کے جنوبی کونے میں نصب فرما دیا
29:16ترمیزی شریف کی ایک حدیث ہے
29:18کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
29:22کہ حجرہ اسود جنت سے آیا ہوا پتھر ہے
29:25یہ دودھ سے زیادہ سفید تھا
29:27بنی آدم کے گناہوں نے اسے سیاہ کر دیا
29:30بیت اللہ شریف کی تعمیر سے فارغ ہونے کے بعد
29:33اللہ تعالیٰ نے حکم دیا
29:35کہ لوگوں میں حج کا اعلان کر دو
29:38یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے
29:40کہ مکہ کے ایک پہاڑ کی چوٹی سے بلند ہونے والی
29:45یہ صدائے دل نواز
29:46دنیا کے کونے کونے تک پہنچ گئی
29:49کررہِ عرض و سما پر
29:51ہر زی روح نے اسے سنا
29:53اللہ حضو جل نے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کو
29:57دو عظیم فرزند عطا فرمائے
30:00اور دونوں کو نبوت سے سرفراز فرمایا
30:03ایک حضرت اسماعیل علیہ السلام
30:06جو حضرت حاجرہ علیہ السلام کے بطن سے پیدا ہوئے
30:09اور دوسرے حضرت اسحاق علیہ السلام
30:13جو حضرت سارہ کے بطن سے پیدا ہوئے
30:16حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے
30:18عرب کے تمام قبائل وجود میں آئے
30:21آپ علیہ السلام کی اولاد میں سے
30:23امام الانبیاء
30:25آقا دو جہاں
30:26خاتم النبیین
30:27حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
30:32دنیا میں رونق فروز ہوئے
30:34جبکہ حضرت اسحاق علیہ السلام سے
30:37حضرت یعقوب علیہ السلام پیدا ہوئے
30:40جنہیں اسرائیل بھی کہا جاتا ہے
30:42اور اسی لئے ان کی نسل کو
30:44بنی اسرائیل کہتے ہیں
30:46بنی اسرائیل میں سے جو انبیاء دنیا میں مبعوث ہوئے
30:50ان کی تعداد بہت زیادہ ہے
30:52تام بنی اسرائیل میں نبوت کا سلسلہ
30:54حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ختم ہوا
30:58حضرت ابراہیم علیہ السلام
30:59کائنات کی تخلیق پر غور و فکر کرتے
31:03اور اس کی اصلیت معلوم کرنے کی جستجو میں رہا کرتے تھے
31:07ایک دن اللہ تعالی سے عرض کیا
31:09کہ اے معبود حقیقی
31:11میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں
31:13کہ تو مردوں کو کس طرح سے زندہ کرے گا
31:16قرآن پاک میں اس واقعے کا یوں ذکر کیا گیا ہے
31:19اور جب ابراہیم نے اللہ سے کہا
31:22اے میرے پروردکار
31:23مجھے دکھا
31:25کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا
31:27اللہ تعالی نے فرمایا
31:29کیا تم نے اس بات کو باور نہیں کیا
31:31انہوں نے کہا کہ کیوں نہیں
31:33لیکن میں دیکھنا اس لیے چاہتا ہوں
31:36کہ میرا دل اتمینان کامل حاصل کرے
31:39اللہ نے فرمایا
31:40چار پرندے پکڑ کر
31:42اپنے پاس منگوالو
31:44اور ٹکڑے ٹکڑے کر دو
31:46پھر ان کا ایک ایک ٹکڑا
31:48ہر ایک پہاڑی پر رکھ دو
31:50پھر ان کو بلاؤ
31:51تو وہ تمہارے پاس دوڑتے چلے آئیں گے
31:54اور جان رکھو
31:55کہ اللہ غالب صاحب حکمت ہے
31:58چنانچہ اللہ تعالی کی حکم سے
32:00چاروں پہاڑوں پر رکھے ہوئے
32:02پرندوں کے مختلف آزا
32:04ان کی طرف آتے رہے
32:06اور جڑتے رہے
32:08یہاں تک کہ ان کے بدن کے تمام اجزاء
32:11آپس میں جڑ گئے
32:12ان پر پہلے کی طرح پر آ گئے
32:15اور وہ زندہ ہو کر اوڑ گئے
32:17ناظرین اگرامی
32:18روایت میں ہے
32:19کہ اللہ تعالی نے متقبر اور جابر نمرود
32:23اور اس کے لشکر کو تباہ و برباد کرنے کے لیے
32:26مچھروں کے ایک غول کو بھیجا
32:28زیریلے مچھروں کے ایک بڑے لشکر
32:31نے نمرود کی فوج پر حملہ کر دیا
32:33اور انہیں بے جان ہڈیوں کے دھانچوں میں تبدیل کر دیا
32:37انہی میں سے ایک مچھر
32:39بادشاہ نمرود کی ناک کے اندر گھس گیا
32:42اور اسے عذاب الہی کا مزہ چکھاتا رہا
32:45نمرود جب تکلیف کی شدت سے بہت زیادہ تڑپتا
32:49تو اس کے مغرور سر پر جوتوں کی بارش کی جاتی
32:53سر پر جوتے پڑھنے سے مچھر کچھ دیر کے لیے رکتا
32:58جس کی وجہ سے تکلیف میں وقتی طور پر کمی آتی
33:01لیکن کچھ ہی دیر کے بعد تکلیف میں پھر اضافہ ہو جاتا
33:06اور پھر ایک طویل مدت بعد
33:08وہی چھوٹا سا مچھر اس کے دنیا سے
33:11نیست و نابود ہونے کی وجہ بنا
33:14یوں دنیا کے سب سے زیادہ طاقتور اور خدائی کے دعوے دار کی موت
33:19دنیا کی انتہائی حقیر اور کمزور چیز سے کروا کر
33:24اللہ تعالی نے رہتی دنیا تک کے متکبر اور مغرور انسانوں کو سبق دے دیا
33:31کہ پروردگار کی فراہم کردہ نعمتوں پر غرور و تکبر کرنا
33:36دوسروں کو حقیر سمجھنا اللہ کو سخت ناپسند ہے
33:41ناظرین اگرامی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اہلیا
33:44حضرت سارہ کا انتقال 127 برس کی عمر میں ہوا
33:49حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کی تدفین
33:53سرزمین کنعان کی بستی حیبرون میں کی
33:56انتقال کے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر
34:00کتابوں میں 175 سال تحریر ہے
34:03اہل کتاب نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس
34:07ملک الموت کے آنے کے بعد سے قصے نکل کیے ہیں
34:11جن کی تفصیل بہت طویل ہے
34:13اور ان میں بہت زیادہ تضاد بھی ہے
34:15ایک قول کے مطابق آپ علیہ السلام کی وفات اچانک ہوئی
34:19اور آپ علیہ السلام کے دونوں پیغمبر بیٹوں
34:22حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام نے
34:27آپ علیہ السلام کو اپنی والدہ حضرت سارہ کے پہلو میں
34:31بستی حیبرون یعنی الخلیل میں دفن کیا
34:35روایت میں ہے کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام
34:39حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب علیہ السلام
34:42اللہ کے تینوں نبیوں کی قبور مبارکہ
34:46اسی امارت میں ہیں
34:47جسے حضرت سلمان بن دعود علیہ السلام نے
34:51تعمیر کروایا تھا
34:52ناظرین اگرامی یہ تھی ہماری آج کی ویڈیو
34:56حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قصہ
34:58ویسے بہت ہی طویل ہے
35:00لیکن آنے والی ویڈیوز میں
35:01ہم ان کے واقعات بھی آہستہ آہستہ بیان کرتے رہیں گے
35:06امید کرتے ہیں کہ ہماری آج کی ویڈیو
35:08آپ کو ضرور پسند آئی ہوگی
35:10اور اپنے دوستوں کے ساتھ
35:12اسے شیئر بھی کریں گے
35:14ناظرین اگرامی قصہ سلمبیاء
35:16کا یہ سلسلہ جاری ہے
35:17آنے والی ویڈیو میں پھر اسی سلسلے کو
35:20ہم آگے بڑھائیں گے
35:21اب اگلی ویڈیو تک اپنے میزبان
35:23قادر بخش کلھڑوں کو
35:25اجازت دیجئے
35:26آپ سے التماسیے
35:27کہ اپنی خصوصی دعاوں میں
35:29ضرور یاد رکھئے گا
35:31اللہ حافظ
Comments

Recommended