Skip to playerSkip to main content
Junaid Pehlwan Se Hazrat Junaid Baghdadi (R.A) Ka Safar | Roohani Tabdeeli Ki Kahani

Yeh hairat angeiz aur dil ko chhoo lene wali kahani hai Junaid Pehlwan se Hazrat Junaid Baghdadi (R.A) banne tak ke safar ki. Duniya ki taqat aur pehlwani se le kar taqwa, zuhd aur roohaniyat tak ka yeh safar humein batata hai ke jab dil Allah ki taraf jhuk jaye to poori zindagi badal jati hai.

Is kahani mein bayan kiya gaya hai:

Junaid Pehlwan ki zindagi

Dil mein aane wali roohani bechaini

Duniya chhor kar Allah ki raah ikhtiyar karna

Hazrat Junaid Baghdadi (R.A) ka buland maqam

Yeh waqia humein sikhata hai ke sachi tauba aur ikhlaas insaan ko buland darjon tak pohancha deta hai.

🎙️ Bayan: Qadir Kalhoro

#HazratJunaidBaghdadi #JunaidPehlwan #IslamicInspiration #Sufism #RoohaniSafar #IslamicHistory #QadirKalhoro

Category

📚
Learning
Transcript
00:00دوستو کسی زمانے میں بغداد میں جنید نامی ایک پہلوان رہا کرتا تھا
00:05پورے بغداد میں اس پہلوان کے مقابلے کا کوئی بھی نہیں تھا
00:09بڑے سے بڑا پہلوان بھی اس کے سامنے زیر تھا
00:12کیا مجال کہ کوئی اس کے سامنے نظر ملا سکے
00:15یہی وجہ تھی کہ شاہی دربار میں اس کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا
00:21اور بادشاہ کی نظر میں اس کا خاص مقام تھا
00:25ایک دن جنید پہلوان بادشاہ کے دربار میں عراقی نے سلطنت کے ہمراہ بیٹھا ہوا تھا
00:30کہ شاہی محل کے صدر دروازے پر کسی نے دستک دی
00:34خادم نے آ کر بادشاہ کو بتایا کہ ایک کمزور اور ناتوان شخص دروازے پر کھڑا ہے
00:40جس کا بوسی دہ لباس ہے
00:42کمزوری کا یہ عالم ہے کہ زمین پر کھڑا ہونا مشکل ہو رہا ہے
00:47اس نے یہ پیغام بھیجا ہے کہ جنید کو میرا پیغام پہنچا دو
00:51کہ وہ کشتی میں میرا چیلنج قبول کرے
00:54بادشاہ نے حکم جاری کیا کہ اسے دربار میں پیش کرو
00:58سب عمرہ نے دیکھا کہ اجنبی ڈگ مگاتے پیروں سے دربار میں حاضر ہوا
01:03وزیر نے اجنبی سے پوچھا تم کیا چاہتے ہو
01:07اجنبی نے جواب دیا کہ میں جنید پہلوان سے کشتی لڑنا چاہتا ہوں
01:12وزیر نے کہا کہ چھوٹا موں بڑی بات نہ کرو
01:15کیا تمہیں معلوم نہیں کہ جنید کا نام سن کر بڑے بڑے پہلوانوں کو پسینہ آ جاتا ہے
01:21پورے شہر میں اس کے مقابلے کا کوئی نہیں اور تم جیسے کمزور شخص کا جنید سے کشتی لڑنا
01:27تمہاری ہلاکت کا سبب بھی ہو سکتا ہے
01:30اجنبی نے کہا کہ جنید پہلوان کی شہرت ہی مجھے کھینچ کر لائی ہے
01:34اور میں آپ پر یہ ثابت کر کے دکھاؤں گا کہ جنید کو شکست دینا ممکن ہے
01:40میں اپنا انجام جانتا ہوں آپ اس بحث میں نہ پڑیں بلکہ میرے چیلنج کو قبول کیا جائے
01:46یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ شکست کس کا مقدر ہوتی ہے
01:51جنید پہلوان بڑی حیرت سے آنے والے اجنبی کی باتیں سن رہا تھا
01:55بادشاہ نے کہا اگر سمجھانے کی باوجود یہ بزد ہے
01:59تو اپنے انجام کا یہ خود ذمہ دار ہے
02:02لہٰذا اس کا چیلنج قبول کر لیا جائے
02:05بادشاہ کا حکم ہوا اور کچھ ہی دیر کے بعد تاریخ اور جگہ کا عائلان کر دیا گیا
02:11اور پورے بغداد میں اس چیلنج کا تہل کا مچ گیا
02:15ہر شخص کی یہ خواہش تھی کہ اس مقابلے کو دیکھے
02:19تاریخ جون جون قریب آتی گئی
02:21لوگوں کا اشتیاق اور بھی بڑھتا چلا گیا
02:25ان کا اشتیاق اس وجہ سے تھا
02:27کہ آج تک انہوں نے تنکے اور پہاڑ کا مقابلہ نہیں دیکھا تھا
02:32دور دراز ملکوں سے بھی سیاہ
02:35یہ مقابلے دیکھنے کے لیے آنے لگے
02:38جونیت کے لیے یہ مقابلہ بہت پر اسرار تھا
02:41اور اس پر ایک انجانی سی حیبت تاری ہونے لگی
02:44انسانوں کا تھاٹھے مارتا ہوا سمندر شہر بغداد میں امڈ آیا تھا
02:50جونیت پہلوان کی ملک گیر شورت کسی تعارف کی محتاج نہ تھی
02:55اپنے وقت کا مانا ہوا پہلوان
02:57آج ایک کمزور اور ناتوہ انسان سے مقابلے کے لیے میدان میں اتر رہا تھا
03:02اکھاڑے کے اطراف لاکھوں انسانوں کا حجوم
03:05اس مقابلے کو دیکھنے آیا ہوا تھا
03:07بادشاہ وقت اپنے سلطنت کے عراقین کے ہمراہ
03:11اپنی کرسیوں پر بیٹھ چکے تھے
03:13جونیت پہلوان بھی بادشاہ کے ہمراہ آ گیا تھا
03:16سب لوگوں کی نگاہیں اس پورے سرار شخص پر لگی ہوئی تھیں
03:20جس نے جونیت جیسے نام اور پہلوان کو چیلنج دے کر پوری سلطنت میں تہلکہ مچا دیا تھا
03:28مجموعے کو یقین نہیں آ رہا تھا
03:30کہ اجنبی مقابلے کے لیے آئے گا
03:32پھر بھی لوگ شدت سے اس کا انتظار کرنے لگے
03:36جونیت پہلوان میدان میں اتر چکا تھا
03:38اس کے حامی لمحہ بلمحہ نارے لگا کر حوصلہ بلند کر رہے تھے
03:43کہ اچانک وہ اجنبی لوگوں کی صفوں کو چیرتا ہوا
03:47اکھاڑے میں پہنچ گیا
03:49ہر شخص اس کمزور اور ناتوان شخص کو دیکھ کر مہوے حیرت میں پڑ گیا تھا
03:55کہ جو شخص جونیت کی ایک پھونک سے اڑ جائے
03:57اس سے مقابلہ کرنا دانش مندی نہیں
04:00لیکن اس کے باوجود سارا مجموعات دھڑکتے دل کے ساتھ
04:05اس کشتی کو دیکھنے لگا
04:06کشتی کا آغاز ہوا دونوں آمنے سامنے ہوئے
04:10ہاتھوں میں آتھ ڈالے گئے
04:11پنجہ آزمائی شروع ہوئی
04:13اس سے پہلے کہ جنیت کوئی دعو لگا کر اجنبی کو زیر کرتے
04:17اجنبی نے آہستہ سے جنیت سے کہا
04:19اے جنیت ذرا اپنے کان میری طرف قریب لاؤ
04:23میں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں
04:25اجنبی کی باتیں سن کر جنیت قریب ہوا
04:28کہا کیا کہنا چاہتے ہو
04:30اجنبی بولا
04:31اے جنیت میں کوئی پہلوان نہیں ہوں
04:33زمانے کا ستایا ہوا ہوں
04:35میں آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوں
04:39سید گھرانے سے میرا تعلق ہے
04:41میرا ایک چھوٹا سا کمبہ
04:43کئی ہفتوں سے فاقوں میں مبتلا
04:45جنگل میں پڑا ہوا ہے
04:47چھوٹے چھوٹے بچے شدت بھوک سے بے جان ہو چکے ہیں
04:51خاندانی غیرت کسی سے دستہ سوال نہیں کرنے دیتی
04:55سید زادیوں کے جسم پر کپڑے پھٹے ہوئے ہیں
04:58بڑی مشکل سے یہاں تک پہنچا ہوں
05:00میں نے اس امید پر تمہیں کشتی کا چیلنج دیا ہے
05:04کہ تمہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھرانے سے عقیدت ہے
05:09آج خاندان نبوت کی لاج رکھ لیجئے
05:12میں وعدہ کرتا ہوں
05:13کہ آج اگر تم نے میری لاج رکھی
05:15تو کل میدان محشر میں
05:18اپنے نانا جان سے عرض کر کے
05:20فتح و کامرانی کا تاج تمہارے سر پر رکھواؤں گا
05:24تمہاری ملک گیر شورت
05:25اور عزاز کی ایک قربانی
05:28خاندان نبوت کے سوکھے ہوئے چہروں کی شادابی کے لیے کافی ہوگی
05:33تمہاری یہ قربانی کبھی بھی زائع نہیں ہونے دی جائے گی
05:36اجنبی شخص کے یہ چند جملے جنید پہلوان کے جگر میں اتر گئے
05:41اس کا دل گھائل اور آنکھیں اشکبار ہو گئیں
05:44سید زادے کی اس پیشکش کو فوراں قبول کر لیا
05:47اور اپنی عالم گیر شورت
05:49عزت و عظمت
05:51آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان کرنے میں
05:55ایک لمحہ بھی تاخیر نہ کی
05:57فوراں فیصلہ کر لیا
05:59کہ اس سے بڑھ کر میری عزت اور ناموس کا
06:02اور کون سا موقع ہو سکتا ہے
06:04کہ دنیا کی اس محدود عزت کو
06:07خاندانی نبوت کی اڑتی ہوئی خاک پر قربان کر دوں
06:10اگر سید گھرانے کی مرجائی ہوئی کلیوں کی شادابی کے لیے
06:14میرے جسم کا خون کام آ سکتا ہے
06:16تو جسم کا ایک ایک قطرہ تمہاری خوشحالی کے لیے دینے کے لیے تیار ہوں
06:22جنید فیصلہ دے چکا
06:24اس کے جسم کی توانائی اب سلب ہو چکی تھی
06:27اجنبی شخص نے پنجہ آزمائی کا ظاہری مظاہرہ شروع کر دیا
06:31کشتی لڑنے کا انداز جاری تھا
06:33پہنترے بدلے جا رہے تھے
06:35کہ اچانک جنید نے ایک داؤ لگایا
06:37پورا مجموعہ جنید کے حق میں نارے لگاتا رہا
06:41جوش و خروش بڑھتا گیا
06:43جنید داؤ کے جہر دکھا تھا تو مجموعہ ناروں سے گونج اٹھا
06:47دونوں باہم گھتم گھتا ہو گئے
06:50یکا یک لوگوں کی پلکیں جھتکیں
06:53دھڑکتے دل کے ساتھ آنکھیں کھلیں
06:55تو ایک ناقابل یقین منظر آنکھوں کے سامنے آ گیا
06:59جنید چاروں شانے چت پڑا ہوا تھا
07:02اور خاندان نبوت کا شہزادہ
07:04سینے پر بیٹھے فتح کا پرچم بلند کر رہا تھا
07:09پورے مجموعے پر سکتا تاری ہو چکا تھا
07:11حیرت کا تلسم ٹھوٹا
07:13اور پورے مجموعے نے سید زادے کو گود میں اٹھا لیا
07:16میدان کا فاتح لوگوں کے سروں پر سے گزرتا تھا
07:20ہر طرف انام و اکرام کی بارش ہونے لگی
07:23خاندان نبوت کا یہ شہزادہ
07:25بیش بہا قیمتی انامات لے کر
07:28اپنی پناہ گاہ کی طرف چل دیا
07:31اس شکست سے جنید کا وقار
07:33لوگوں کے دلوں سے ختم ہو چکا تھا
07:35ہر شخص انہیں حقارت سے دیکھتا گزر رہا تھا
07:38زندگی بھر لوگوں کے دلوں پر سکہ جمانے والا
07:42آج انہیں لوگوں کے تانوں کو سن رہا تھا
07:44رات ہو چکی تھی
07:46لوگ اپنے اپنے گھروں کو جا چکے تھے
07:48عشاء کی نماز سے فارغ ہو کر
07:50جنید اپنے بستر پر لیٹا
07:53اس کے کانوں میں سید زادے کے وہ الفاظ بار بار گونج رہے تھے
07:57آج میں وعدہ کرتا ہوں
07:59اگر تم نے میری لاج رکھی
08:01تو کل میدان محشر میں اپنے نانا جام سے عرض کر کے
08:05فتح و کامرانی کا تاج تمہارے سر پر رکھواؤں گا
08:08جنید سوچتا
08:10کیا واقعی ایسا ہوگا کیا
08:12مجھے یہ شرف حاصل ہوگا
08:14کہ حضور سرور کونین
08:16حضرت محمد مصطفیٰ
08:19صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھوں سے
08:22یہ تاج میں پہنوں
08:23نہیں نہیں
08:24نہیں میں اس قابل نہیں
08:26لیکن خاندان نبوت کے شہزادے نے مجھ سے وعدہ کیا ہے
08:30آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وعدہ
08:33غلط نہیں ہو سکتا
08:35یہ سوچتے سوچتے
08:37جنید نیند کی آغوش میں پہنچ چکا تھا
08:40نیند میں پہنچتے ہی
08:41دنیا کے حجابات نگاہوں کے سامنے سے اٹھ چکے تھے
08:45ایک حسین خواب نگاہوں کے سامنے تھا
08:48اور گمبد خزرہ کا
08:50سبز گمبد نگاہوں کے سامنے جلوہ گر ہوا
08:53جس سے ہر سمت روشنی بکھرنے لگی
08:56ایک نورانی ہستی جلوہ فرما ہوئی
08:59جن کے حسن و جمال سے جنید کی آنکھیں خیرہ ہو گئیں
09:03دل کیفے سرور میں ڈوب گیا
09:05در و دیوار سے آوازیں آنے لگیں
09:07السلام علیکہ یا رسول اللہ
09:11جنید سمجھ گئے
09:13یہ تو میرے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے
09:16جن کا میں ایک کلمہ پڑھتا ہوں
09:18فوراں قدموں سے لپٹ گئے
09:20حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
09:24اے جنید اٹھو
09:25قیامت سے پہلے اپنی قسمت کی سرفرازی کا نظارہ کرو
09:29نبی زادوں کے ناموس کے لیے
09:31شکست کی ذلتوں کا انعام قیامت تک
09:34قرض رکھا نہیں جائے گا
09:36سر اٹھاؤ
09:37تمہارے لیے فتحو کرامت کی دستار لے کر آیا ہوں
09:41آج سے تمہیں عرفان و تقرب کے
09:43سب سے اونچے مقام پر فائز کیا جاتا ہے
09:46تمہیں اولیاء قرام کی سروری کا عزاز مبارک ہو
09:50ان کلمات کے بعد حضور سرور کونین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنید پہلوان کو سینے سے لگایا
09:59اور اس موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حالت خواب میں جنید کو کیا کچھ عطا کیا
10:07اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے
10:10اتنا اندازہ ضرور لگایا جا سکتا ہے
10:13کہ جب جنید نیند سے بیدار ہوئے
10:15تو ساری کائنات چمکتے ہوئے آئینے کی طرح ان کی نگاہوں میں آ گئی تھی
10:21ہر ایک کے دل جنید کے قدموں پر نثار ہو چکے تھے
10:25بادشاہ وقت نے اپنا قیمتی تاج سر سے اتار کر ان کے قدموں میں رکھ دیا تھا
10:31بغداد کا یہ پہلوان آج سید الطائفہ سیدنا حضرت جنید بغدادی رحمت اللہ علیہ کے نام سے
10:38سارے عالم میں مشہور ہو چکا تھا
10:41ساری کائنات کے دل ان کے لئے جھک گئے تھے
10:45اللہ اکبر
10:47ناظرین یہ تھا قصہ حضرت جنید بغدادی رحمت اللہ علیہ کا
10:51امید کرتے ہیں کہ یہ قصہ سن کر آپ کا ایمان تازہ ہو گیا ہوگا
10:56اور اہل بیعت کی محبت آپ کے دل میں چلک رہی ہوگی
11:01اگر آپ بھی اہل بیعت سے محبت کرتے ہیں
11:04تو اس ویڈیو کو شیئر ضرور کیجئے
11:06آنے والی ویڈیو تک اپنے میزبان قادر بخش کلھوڑو کو اجازت دیجئے
11:11السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
Be the first to comment
Add your comment

Recommended