00:00دوستو کسی زمانے میں بغداد میں جنید نامی ایک پہلوان رہا کرتا تھا
00:05پورے بغداد میں اس پہلوان کے مقابلے کا کوئی بھی نہیں تھا
00:09بڑے سے بڑا پہلوان بھی اس کے سامنے زیر تھا
00:12کیا مجال کہ کوئی اس کے سامنے نظر ملا سکے
00:15یہی وجہ تھی کہ شاہی دربار میں اس کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا
00:21اور بادشاہ کی نظر میں اس کا خاص مقام تھا
00:25ایک دن جنید پہلوان بادشاہ کے دربار میں عراقی نے سلطنت کے ہمراہ بیٹھا ہوا تھا
00:30کہ شاہی محل کے صدر دروازے پر کسی نے دستک دی
00:34خادم نے آ کر بادشاہ کو بتایا کہ ایک کمزور اور ناتوان شخص دروازے پر کھڑا ہے
00:40جس کا بوسی دہ لباس ہے
00:42کمزوری کا یہ عالم ہے کہ زمین پر کھڑا ہونا مشکل ہو رہا ہے
00:47اس نے یہ پیغام بھیجا ہے کہ جنید کو میرا پیغام پہنچا دو
00:51کہ وہ کشتی میں میرا چیلنج قبول کرے
00:54بادشاہ نے حکم جاری کیا کہ اسے دربار میں پیش کرو
00:58سب عمرہ نے دیکھا کہ اجنبی ڈگ مگاتے پیروں سے دربار میں حاضر ہوا
01:03وزیر نے اجنبی سے پوچھا تم کیا چاہتے ہو
01:07اجنبی نے جواب دیا کہ میں جنید پہلوان سے کشتی لڑنا چاہتا ہوں
01:12وزیر نے کہا کہ چھوٹا موں بڑی بات نہ کرو
01:15کیا تمہیں معلوم نہیں کہ جنید کا نام سن کر بڑے بڑے پہلوانوں کو پسینہ آ جاتا ہے
01:21پورے شہر میں اس کے مقابلے کا کوئی نہیں اور تم جیسے کمزور شخص کا جنید سے کشتی لڑنا
01:27تمہاری ہلاکت کا سبب بھی ہو سکتا ہے
01:30اجنبی نے کہا کہ جنید پہلوان کی شہرت ہی مجھے کھینچ کر لائی ہے
01:34اور میں آپ پر یہ ثابت کر کے دکھاؤں گا کہ جنید کو شکست دینا ممکن ہے
01:40میں اپنا انجام جانتا ہوں آپ اس بحث میں نہ پڑیں بلکہ میرے چیلنج کو قبول کیا جائے
01:46یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ شکست کس کا مقدر ہوتی ہے
01:51جنید پہلوان بڑی حیرت سے آنے والے اجنبی کی باتیں سن رہا تھا
01:55بادشاہ نے کہا اگر سمجھانے کی باوجود یہ بزد ہے
01:59تو اپنے انجام کا یہ خود ذمہ دار ہے
02:02لہٰذا اس کا چیلنج قبول کر لیا جائے
02:05بادشاہ کا حکم ہوا اور کچھ ہی دیر کے بعد تاریخ اور جگہ کا عائلان کر دیا گیا
02:11اور پورے بغداد میں اس چیلنج کا تہل کا مچ گیا
02:15ہر شخص کی یہ خواہش تھی کہ اس مقابلے کو دیکھے
02:19تاریخ جون جون قریب آتی گئی
02:21لوگوں کا اشتیاق اور بھی بڑھتا چلا گیا
02:25ان کا اشتیاق اس وجہ سے تھا
02:27کہ آج تک انہوں نے تنکے اور پہاڑ کا مقابلہ نہیں دیکھا تھا
02:32دور دراز ملکوں سے بھی سیاہ
02:35یہ مقابلے دیکھنے کے لیے آنے لگے
02:38جونیت کے لیے یہ مقابلہ بہت پر اسرار تھا
02:41اور اس پر ایک انجانی سی حیبت تاری ہونے لگی
02:44انسانوں کا تھاٹھے مارتا ہوا سمندر شہر بغداد میں امڈ آیا تھا
02:50جونیت پہلوان کی ملک گیر شورت کسی تعارف کی محتاج نہ تھی
02:55اپنے وقت کا مانا ہوا پہلوان
02:57آج ایک کمزور اور ناتوہ انسان سے مقابلے کے لیے میدان میں اتر رہا تھا
03:02اکھاڑے کے اطراف لاکھوں انسانوں کا حجوم
03:05اس مقابلے کو دیکھنے آیا ہوا تھا
03:07بادشاہ وقت اپنے سلطنت کے عراقین کے ہمراہ
03:11اپنی کرسیوں پر بیٹھ چکے تھے
03:13جونیت پہلوان بھی بادشاہ کے ہمراہ آ گیا تھا
03:16سب لوگوں کی نگاہیں اس پورے سرار شخص پر لگی ہوئی تھیں
03:20جس نے جونیت جیسے نام اور پہلوان کو چیلنج دے کر پوری سلطنت میں تہلکہ مچا دیا تھا
03:28مجموعے کو یقین نہیں آ رہا تھا
03:30کہ اجنبی مقابلے کے لیے آئے گا
03:32پھر بھی لوگ شدت سے اس کا انتظار کرنے لگے
03:36جونیت پہلوان میدان میں اتر چکا تھا
03:38اس کے حامی لمحہ بلمحہ نارے لگا کر حوصلہ بلند کر رہے تھے
03:43کہ اچانک وہ اجنبی لوگوں کی صفوں کو چیرتا ہوا
03:47اکھاڑے میں پہنچ گیا
03:49ہر شخص اس کمزور اور ناتوان شخص کو دیکھ کر مہوے حیرت میں پڑ گیا تھا
03:55کہ جو شخص جونیت کی ایک پھونک سے اڑ جائے
03:57اس سے مقابلہ کرنا دانش مندی نہیں
04:00لیکن اس کے باوجود سارا مجموعات دھڑکتے دل کے ساتھ
04:05اس کشتی کو دیکھنے لگا
04:06کشتی کا آغاز ہوا دونوں آمنے سامنے ہوئے
04:10ہاتھوں میں آتھ ڈالے گئے
04:11پنجہ آزمائی شروع ہوئی
04:13اس سے پہلے کہ جنیت کوئی دعو لگا کر اجنبی کو زیر کرتے
04:17اجنبی نے آہستہ سے جنیت سے کہا
04:19اے جنیت ذرا اپنے کان میری طرف قریب لاؤ
04:23میں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں
04:25اجنبی کی باتیں سن کر جنیت قریب ہوا
04:28کہا کیا کہنا چاہتے ہو
04:30اجنبی بولا
04:31اے جنیت میں کوئی پہلوان نہیں ہوں
04:33زمانے کا ستایا ہوا ہوں
04:35میں آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوں
04:39سید گھرانے سے میرا تعلق ہے
04:41میرا ایک چھوٹا سا کمبہ
04:43کئی ہفتوں سے فاقوں میں مبتلا
04:45جنگل میں پڑا ہوا ہے
04:47چھوٹے چھوٹے بچے شدت بھوک سے بے جان ہو چکے ہیں
04:51خاندانی غیرت کسی سے دستہ سوال نہیں کرنے دیتی
04:55سید زادیوں کے جسم پر کپڑے پھٹے ہوئے ہیں
04:58بڑی مشکل سے یہاں تک پہنچا ہوں
05:00میں نے اس امید پر تمہیں کشتی کا چیلنج دیا ہے
05:04کہ تمہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھرانے سے عقیدت ہے
05:09آج خاندان نبوت کی لاج رکھ لیجئے
05:12میں وعدہ کرتا ہوں
05:13کہ آج اگر تم نے میری لاج رکھی
05:15تو کل میدان محشر میں
05:18اپنے نانا جان سے عرض کر کے
05:20فتح و کامرانی کا تاج تمہارے سر پر رکھواؤں گا
05:24تمہاری ملک گیر شورت
05:25اور عزاز کی ایک قربانی
05:28خاندان نبوت کے سوکھے ہوئے چہروں کی شادابی کے لیے کافی ہوگی
05:33تمہاری یہ قربانی کبھی بھی زائع نہیں ہونے دی جائے گی
05:36اجنبی شخص کے یہ چند جملے جنید پہلوان کے جگر میں اتر گئے
05:41اس کا دل گھائل اور آنکھیں اشکبار ہو گئیں
05:44سید زادے کی اس پیشکش کو فوراں قبول کر لیا
05:47اور اپنی عالم گیر شورت
05:49عزت و عظمت
05:51آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان کرنے میں
05:55ایک لمحہ بھی تاخیر نہ کی
05:57فوراں فیصلہ کر لیا
05:59کہ اس سے بڑھ کر میری عزت اور ناموس کا
06:02اور کون سا موقع ہو سکتا ہے
06:04کہ دنیا کی اس محدود عزت کو
06:07خاندانی نبوت کی اڑتی ہوئی خاک پر قربان کر دوں
06:10اگر سید گھرانے کی مرجائی ہوئی کلیوں کی شادابی کے لیے
06:14میرے جسم کا خون کام آ سکتا ہے
06:16تو جسم کا ایک ایک قطرہ تمہاری خوشحالی کے لیے دینے کے لیے تیار ہوں
06:22جنید فیصلہ دے چکا
06:24اس کے جسم کی توانائی اب سلب ہو چکی تھی
06:27اجنبی شخص نے پنجہ آزمائی کا ظاہری مظاہرہ شروع کر دیا
06:31کشتی لڑنے کا انداز جاری تھا
06:33پہنترے بدلے جا رہے تھے
06:35کہ اچانک جنید نے ایک داؤ لگایا
06:37پورا مجموعہ جنید کے حق میں نارے لگاتا رہا
06:41جوش و خروش بڑھتا گیا
06:43جنید داؤ کے جہر دکھا تھا تو مجموعہ ناروں سے گونج اٹھا
06:47دونوں باہم گھتم گھتا ہو گئے
06:50یکا یک لوگوں کی پلکیں جھتکیں
06:53دھڑکتے دل کے ساتھ آنکھیں کھلیں
06:55تو ایک ناقابل یقین منظر آنکھوں کے سامنے آ گیا
06:59جنید چاروں شانے چت پڑا ہوا تھا
07:02اور خاندان نبوت کا شہزادہ
07:04سینے پر بیٹھے فتح کا پرچم بلند کر رہا تھا
07:09پورے مجموعے پر سکتا تاری ہو چکا تھا
07:11حیرت کا تلسم ٹھوٹا
07:13اور پورے مجموعے نے سید زادے کو گود میں اٹھا لیا
07:16میدان کا فاتح لوگوں کے سروں پر سے گزرتا تھا
07:20ہر طرف انام و اکرام کی بارش ہونے لگی
07:23خاندان نبوت کا یہ شہزادہ
07:25بیش بہا قیمتی انامات لے کر
07:28اپنی پناہ گاہ کی طرف چل دیا
07:31اس شکست سے جنید کا وقار
07:33لوگوں کے دلوں سے ختم ہو چکا تھا
07:35ہر شخص انہیں حقارت سے دیکھتا گزر رہا تھا
07:38زندگی بھر لوگوں کے دلوں پر سکہ جمانے والا
07:42آج انہیں لوگوں کے تانوں کو سن رہا تھا
07:44رات ہو چکی تھی
07:46لوگ اپنے اپنے گھروں کو جا چکے تھے
07:48عشاء کی نماز سے فارغ ہو کر
07:50جنید اپنے بستر پر لیٹا
07:53اس کے کانوں میں سید زادے کے وہ الفاظ بار بار گونج رہے تھے
07:57آج میں وعدہ کرتا ہوں
07:59اگر تم نے میری لاج رکھی
08:01تو کل میدان محشر میں اپنے نانا جام سے عرض کر کے
08:05فتح و کامرانی کا تاج تمہارے سر پر رکھواؤں گا
08:08جنید سوچتا
08:10کیا واقعی ایسا ہوگا کیا
08:12مجھے یہ شرف حاصل ہوگا
08:14کہ حضور سرور کونین
08:16حضرت محمد مصطفیٰ
08:19صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھوں سے
08:22یہ تاج میں پہنوں
08:23نہیں نہیں
08:24نہیں میں اس قابل نہیں
08:26لیکن خاندان نبوت کے شہزادے نے مجھ سے وعدہ کیا ہے
08:30آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وعدہ
08:33غلط نہیں ہو سکتا
08:35یہ سوچتے سوچتے
08:37جنید نیند کی آغوش میں پہنچ چکا تھا
08:40نیند میں پہنچتے ہی
08:41دنیا کے حجابات نگاہوں کے سامنے سے اٹھ چکے تھے
08:45ایک حسین خواب نگاہوں کے سامنے تھا
08:48اور گمبد خزرہ کا
08:50سبز گمبد نگاہوں کے سامنے جلوہ گر ہوا
08:53جس سے ہر سمت روشنی بکھرنے لگی
08:56ایک نورانی ہستی جلوہ فرما ہوئی
08:59جن کے حسن و جمال سے جنید کی آنکھیں خیرہ ہو گئیں
09:03دل کیفے سرور میں ڈوب گیا
09:05در و دیوار سے آوازیں آنے لگیں
09:07السلام علیکہ یا رسول اللہ
09:11جنید سمجھ گئے
09:13یہ تو میرے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے
09:16جن کا میں ایک کلمہ پڑھتا ہوں
09:18فوراں قدموں سے لپٹ گئے
09:20حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
09:24اے جنید اٹھو
09:25قیامت سے پہلے اپنی قسمت کی سرفرازی کا نظارہ کرو
09:29نبی زادوں کے ناموس کے لیے
09:31شکست کی ذلتوں کا انعام قیامت تک
09:34قرض رکھا نہیں جائے گا
09:36سر اٹھاؤ
09:37تمہارے لیے فتحو کرامت کی دستار لے کر آیا ہوں
09:41آج سے تمہیں عرفان و تقرب کے
09:43سب سے اونچے مقام پر فائز کیا جاتا ہے
09:46تمہیں اولیاء قرام کی سروری کا عزاز مبارک ہو
09:50ان کلمات کے بعد حضور سرور کونین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنید پہلوان کو سینے سے لگایا
09:59اور اس موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حالت خواب میں جنید کو کیا کچھ عطا کیا
10:07اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے
10:10اتنا اندازہ ضرور لگایا جا سکتا ہے
10:13کہ جب جنید نیند سے بیدار ہوئے
10:15تو ساری کائنات چمکتے ہوئے آئینے کی طرح ان کی نگاہوں میں آ گئی تھی
10:21ہر ایک کے دل جنید کے قدموں پر نثار ہو چکے تھے
10:25بادشاہ وقت نے اپنا قیمتی تاج سر سے اتار کر ان کے قدموں میں رکھ دیا تھا
10:31بغداد کا یہ پہلوان آج سید الطائفہ سیدنا حضرت جنید بغدادی رحمت اللہ علیہ کے نام سے
10:38سارے عالم میں مشہور ہو چکا تھا
10:41ساری کائنات کے دل ان کے لئے جھک گئے تھے
10:45اللہ اکبر
10:47ناظرین یہ تھا قصہ حضرت جنید بغدادی رحمت اللہ علیہ کا
10:51امید کرتے ہیں کہ یہ قصہ سن کر آپ کا ایمان تازہ ہو گیا ہوگا
10:56اور اہل بیعت کی محبت آپ کے دل میں چلک رہی ہوگی
11:01اگر آپ بھی اہل بیعت سے محبت کرتے ہیں
11:04تو اس ویڈیو کو شیئر ضرور کیجئے
11:06آنے والی ویڈیو تک اپنے میزبان قادر بخش کلھوڑو کو اجازت دیجئے
11:11السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
Comments