00:00بسم الله الرحمن الرحيم
00:01السلام عليكم
00:30تم اپنے لادلے کو منع کیوں نہیں کرتے
00:32اسے سمجھاؤ ورنہ اچھا نہیں ہوگا
00:35بڑے میاں نے وقتی طور پر
00:36اہل محلہ کو سمجھا بجا کر
00:38واپس بھیج دیا
00:39لیکن وہ اس شکایت سے قدر نالا بھی تھے
00:43بیٹے کو سمجھایا
00:44کیوں تو لوگوں کو تنگ کرتا ہے
00:47اپنی پڑھائی پر دھیان دے
00:49اور آئندہ شکایت کا موقع نہ دینا
00:51بیٹے نے سر جھکا کر سن تو لیا
00:53لیکن وہ باز رہنے والا کہاں تھا
00:56یہ آڑھی ترچی لکیریں تو اس کا شوق تھا
00:59اور شوق سے لا تعلقی بھلا کون کر سکتا ہے
01:02پھر اس لڑکے نے باپ کا مان رکھتے ہوئے
01:05دیواروں کو کالا کرنا ترک تو کر دیا
01:07لیکن دیواروں کے علاوہ جو بھی خالی جگہ ملتی
01:11وہاں وہ چاک یا کوئلے سے کچھ نہ کچھ بناتا رہتا
01:15یوں یہ شوق پروان چڑھتا رہا
01:18اسکول میں اساتذہ کی غیر موجودگی میں
01:20تختہ سیاہ پر چاک کی مدد سے
01:23وہ اپنے شوق کی تقمیل کرتا رہتا
01:26کبھی ڈانٹ اور کبھی حوصلہ افزائی
01:28دونوں برابر ملتے رہتے
01:30وقت گزرتا رہا
01:31اسکول میں منعقد خطاتی
01:34اور خوشنویسی کے مقابلوں میں حصہ لینا شروع کر دیا
01:37جو بھی لکھا ہوا یا بنا ہوا نمونہ دیکھتا
01:41اسے ہو بہو چاک کی مدد سے بنا لیتا تھا
01:44خوشنویسی کے قواعد یا خطوط کی پہچان
01:48تو اسے بالکل بھی نہیں تھی
01:49لیکن جیسا بھی مشکل سے مشکل خط ہوتا
01:53وہ اسے کاغذ پر اتار لیتا
01:55کوئی پوچھتا کہ یہ کون سا خط ہے
01:57یا کون سا اسٹائل ہے
01:58تو وہ بتا نہیں سکتا تھا
02:00کیونکہ اس کے پاس باقاعدہ تعلیم تو نہیں تھی
02:04نہ ہی پہچان تھی
02:05کلاس میں سب سے پہلے آتا تھا
02:07چاک سے بلیک بورڈ پر اپنی مشک کرتا رہتا
02:11باقی ہم جماعتوں
02:12اور اساتذہ کے آنے سے پہلے
02:14وہ ٹھیک ٹھاک مشک کر لیتا
02:17اور اگر کبھی کبار کوئی استاد دیکھ لیتا
02:20تو حیران رہ جاتا
02:21کہ نو عمر اور نو آموز بچے کا
02:24اتنا عمدہ خوشخط
02:26آہستہ آہستہ اس کی مشک میں
02:28پختگی تو آگئی
02:29لیکن باقاعدہ رہنمائی سے محروم ہی رہا
02:32اسکول میں کوئی خطاتی کا استاد نہیں تھا
02:35اور آرٹ یا ڈرائنگ کا استاد
02:37اسے تھوڑا بہت سکھا تو دیتا تھا
02:39لیکن وہ لڑکا
02:41ان استادوں سے زیادہ بہتر لکھ لیتا تھا
02:43چھوٹے چھوٹے مقابلے جیتا رہا
02:46محلے میں بھی بینر اور اشتہارات
02:49لکھنے والے کی حیثیت سے
02:51پہچان بنوالی
02:52اسی دوران میٹرک کر لی
02:54اور آگے تعلیم جاری رکھنا مشکل ہو گیا
02:57تو اسکول جانا ہی چھوڑ دیا
02:58برش اور رنگ لیتا
03:00اور گلیوں محلوں میں نکل جاتا
03:02لوگوں کی دکانوں پر نام لکھتا
03:05بینر لکھتا
03:06اور چند پیسے کماتا
03:07اس کام سے اسے تسکین نہیں مل رہی تھی
03:10وہ اس کام کو اپنا اوڑنا بچھونا بنانا چاہتا تھا
03:14لیکن اسے کوئی راہ نہیں مل رہی تھی
03:17اسکول جب چھوڑ دیا
03:18تو وقت کی فراوانی بھی ہو گئی
03:20اور کام میں روانی بھی ہو گئی
03:22ایک دن اسے کہیں سے ایک کتاب مل گئی
03:25جس کا نام تھا
03:26خوش خطی سیکھیں
03:28اس کتاب میں اردو اور عربی کے خطوں کے متعلق معلومات تھی
03:32جیسے برش قلم
03:34رنگوں کی بنیادی معلومات
03:36اس نے وہ خط حفظ کر لی
03:38اور خطوں کی شکلیں یاد کر کے
03:40ان کی مشق شروع کر دی
03:42ایک دن وہ بڑی کتابوں کی دکان میں گیا
03:45اور وہاں سے اپنے کام کے متعلق
03:47کسی کتاب کا پوچھا
03:49اسے کوئی خاص کتاب تو نہ ملی
03:51مگر عربی رسم الخط کے متعلق
03:54اسے ایک چھوٹا سا کتابچا مل گیا
03:56اس نے وہی خرید لیا
03:58اب عربی تو وہ پڑھ نہیں سکتا تھا
04:00لیکن عربی خطوں کی شکلیں
04:03اسے پتا چل گئی تھی
04:04چھوٹے چھوٹے کام کرتے ہوئے
04:06وہ بڑی کمپنیوں اور اداروں کے کام کرنے لگا
04:10ایک دفعہ کراچی کی ایک مصروف شارعہ پر
04:12وہ یوں ہی تاج کمپنی کا سائن بورڈ لکھنے میں مصروف تھا
04:16کہ ایک بڑی گاڑی
04:18اس بورڈ کے نیچے آ کر رک گئی
04:20اور گاڑی میں بیٹھے شخص نے
04:22اسے نیچے آنے کا اشارہ کیا
04:24وہ نیچے آیا تو دیکھا
04:26کہ اس سے مخاطب ایک عربی شخص ہے
04:28اور عربی زبان سے تو وہ واقف نہ تھا
04:31اس بڑی گاڑی کے پیچھے
04:33ایک چھوٹی گاڑی بھی آ کر رکھی
04:35اس میں عربی شخص کے جاننے والے پاکستانی افراد تھے
04:39وہ نیچے اترے
04:40اور اس لڑکے سے کہنے لگے
04:41کہ شیخ چاہتا ہے
04:43کہ تم اس کے ساتھ سعودی عرب چلو
04:45اور وہاں جا کر
04:46اس کے لیے خطاتی کا کام کرو
04:49لڑکا کہنے لگا
04:50کہ مجھے تو عربی بولنا اور لکھنا آتی ہی نہیں ہے
04:53میں کیسے یہ کام کروں گا
04:55تو اس عربی شخص نے بتایا
04:56کہ تم جس خط میں یہ بینر لکھ رہے ہو
04:59یہ عرب کا مشہور خط ہے
05:01اور اسے ہر کوئی لکھ بھی نہیں سکتا
05:04تم تو اسے کمال مہارت سے لکھ رہے ہو
05:06اور کہتے ہو کہ میں جانتا بھی نہیں
05:09وہ عربی سعودی صفیر کا دوست تھا
05:11اور پاکستان سے ہنرمند افراد کو لینے آیا تھا
05:14اسے پاکستانی خطات لڑکے کا کام پسند آ گیا
05:18اور اسے ساتھ چلنے کا کہا
05:20یوں گھر سے اجازت لے کر
05:22اس نے پاسپورٹ بنوا کر
05:24شیخ کے حوالے کر دیا
05:25اور چند دنوں بعد وہ سعودی شہر ریاض میں
05:29بیٹھا بینر لکھ رہا تھا
05:31جب کام کرتے ہوئے کافی سال گزر گئے
05:33تو سعودیہ میں رہنے سے
05:35ایک تو اس نے عربی زبان میں مہارت حاصل کر لی
05:39اور دوسرا تمام عربی خط اور رسم الخط میں
05:42وہ تقریباً کمال کے درجے تک جا پہنچا
05:45اس کا کفیل اچھا آدمی تھا
05:47اور اس پاکستانی خطات کی بے پناہ عزت بھی کرتا تھا
05:52وہ اپنے کفیل سے اجازت لے کر
05:54کئی بار عمرہ اور زیارتیں وغیرہ بھی کر آیا
05:57ایک دفعہ مدینہ منوارہ میں
05:59مسجد نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اندر
06:02نماز ادا کرتے ہوئے
06:04اس کے دل میں خواہش نے جنم لیا
06:06کہ کاش مجھے موقعہ ملے
06:08اور مسجد نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اندر
06:13اپنے ہاتھوں سے ایک تختی پر
06:15ایسی خطاتی کروں
06:16کہ دنیا حیران رہ جائے
06:18یہ خواہش لے کر وہ وہاں سے ریاض آ گیا
06:21کام کاج کرتا رہا
06:24لیکن خواہش برابر پروان چڑھتی رہی
06:27ایک بار اس نے کہیں سے سنا
06:29کہ مدینہ منوارہ میں اعلان ہوا ہے
06:31کہ دنیا بھر سے خطات حضرات کو دعوت ہے
06:34کہ وہ ایک مقررہ تاریخ پر
06:37ایک مقصوص رسم الخط میں
06:39ایک مقصوص عبارت لکھ کر جمع کروائیں
06:42جو خطات اس مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا
06:46اسے مسجد نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خطات
06:51مقرر کیا جائے گا
06:52اسے لگا جیسے اس کی خواہش پوری ہونے کا وقت آ گیا ہے
06:56وہ وہاں گیا
06:57تو دیکھا کہ وہاں دنیا بھر سے ایسے ایسے خطات
07:00اپنا نام لے کر آئے تھے
07:02کہ ان سب کے سامنے اس کی حیثیت کچھ بھی نہیں تھی
07:06وہ گیا اور اپنا کام پیش کرنے کی خواہش کی
07:09لیکن کسی نے بھی اسے سنجیدہ نہ لیا
07:13نہ تو وہ معروف تھا
07:14اور نہ ہی اس کا کوئی کام ایسا تھا
07:17جو مشہور ہو
07:18اور اوپر سے وہ کتابت کی جگہ سائن بورڈ اور بینر لکھنے والا
07:22اور پھر اہل زبان بھی نہیں
07:24اور یوں اسے حصہ نالے نے دیا گیا
07:27اور مایوس وہ ریاد لوٹ آیا
07:30مقابلے کے اختتام کا وقت قریب تھا
07:32اور اس کی ایک بھی نہیں چل رہی تھی
07:35تقریباً اس نے دل چھوڑ ہی دیا تھا
07:37کہ اس کی دکان پر ایک عربی آیا
07:40اس نے کہا
07:41کہ مجھے فلانسائز کی تختی خطے سلس میں چاہیے
07:44اس نے لکھ دی تو وہ حیران رہ گیا
07:47کہ اتنے چند ریالوں میں
07:49اتنا بہترین کام تو کوئی بھی نہیں کر سکتا
07:52اس نے کہا
07:52کہ تم میرے ساتھ چلو
07:54اور میرے لئے کام کرو
07:55وہاں معاوضہ دگنا میں لے کا
07:58اس لڑکے نے انکار کر دیا
07:59تو وہ عربی کہنے لگا
08:01کہ میں ایک دکان مدینہ منورہ میں کھولنا جا رہا ہوں
08:05اگر کوئی دوسرا خطات ہوا
08:07تو بتانا
08:08جب اس لڑکے نے مدینہ منورہ کا نام سنا
08:11تو کہا
08:11کہ مجھے لے چلو میں وہاں کام کروں گا
08:14اسے ایک امید لگ گئی
08:16کہ شاید میرا وسیلہ بن جائے
08:17یوں وہ کسی نہ کسی طرح
08:19پہلے مہربان کفیل کو تقریبا ناراض ہی کر کے
08:23مدینہ منورہ چلا گیا
08:25مقابلے کے اختتام کا وقت قریب تھا
08:28اور نئے کفیل کے ساتھ کام کاج بہت زیادہ تھا
08:31دکان چھوڑ کر نکلنا بڑا مشکل تھا
08:34نیا کفیل اس کے کام سے حد درجہ خوش تھا
08:37اس جیسا کام تو سعودیہ میں کوئی دوسرا کرنے والا تھا ہی نہیں
08:42کفیل تو یوں تھا جیسے اس کا مرید ہو گیا ہو
08:45اسے بہترین کھانے کھلاتا
08:47جب بھی ملتا تو ہاتھ اور ماتھا چمتا
08:50غرض بڑی آہو بھگت کرتا
08:52اس نے ایک دن کفیل سے اپنا مدعا بیان کیا
08:55کہ میں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں خطاتی کے مقابلے میں حصہ لینا چاہتا ہوں
09:02میری کچھ مدد کرو
09:04کفیل نے اس کی بات مان لی
09:05اور اپنے جاننے والوں سے کہہ کہہ لوا کر
09:08اسے کسی طرح سے اس مقابلے تک لے ہی گیا
09:12بڑی مشکل سے اس کا نام ریجسٹرڈ ہوا
09:15اور اسے مقابلے کے لیے بطور نمونہ پہلے ایک عبارت لکھوائی گئی
09:20پھر اسے شریک کیا گیا
09:22یوں اس کی لکھی ہوئی تختی اور وہ اس مقابلے میں شریک ہو گئے
09:26مقابلہ ختم ہوا
09:27نتائج کے اعلان کا دن تھا
09:30دنیا بھر سے ماہرہ سات ازا کے درمیان
09:32اس کا کام کیا حیثیت رکھتا تھا
09:35بہرحال مقابلے کے نتیجے کا اعلان ہوا
09:38اور خلاف توقع وہ دنیا بھر کے ماہر خطاتوں کو پچھاڑ کر
09:43اول انعام کا حقدار ٹھہرا
09:45امام الحرم اور جوری نے جب اس خطات کا نام اور ملک پوچھا
09:51تو کہنے لگا شفیق الزمہ پاکستان سے
09:54پورے مجموعے پر خاموش اچھا گئے
09:56پورے عرب کے خطات ایک دم حیران رہ گئے
10:00کہ اجنبی نام اور غیر عرب
10:02کیسے اہلِ عرب سے جیت گیا
10:04اور وہ شخص جیتا
10:06جسے مقابلے میں شریک ہی نہیں ہونے دیا جا رہا تھا
10:09یوں جنابِ محترم شفیق الزمہ کی خوش نصیبی
10:13اور سعادت کے کہاں ایک تختی لگانے کی خواہش
10:17اور کہاں درو دیوار منور کرنے کے لیے
10:20مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خطات مقرر کیا گیا
10:25آہستہ آہستہ وہ وہاں کے تمام خطاتوں کے استاد بن گئے
10:30آج سعودی عرب میں نصف صدی کے لگ بھگ عرصہ گزارنے کے بعد
10:34مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درو دیوار پر
10:39پچاسی فیصد کام شفیق الزمہ کے ہاتھوں کا لکھا ہوا ہے
10:43حتانکہ جس دروازے باب السلام سے داخل ہو کر
10:47اور جس مقام پر پہنچ کر سارا عالم اسلام
10:51روزہِ اقدس پر حاضری اور سلام کی سعادت حاصل کرتا ہے
10:56ان تمام جگہوں کو شفیق الزمہ کے قلم اور برش نے مزین کر رکھا ہے
11:01ایک عجمی کا خطات المسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پانا
11:07ایک موجزہ اور ایک سعادت سے کم نہیں
11:10آج حرم مکی کے امام حرم مدنی کے خطات سے ملنے میں
11:15سعادت اور فخر سمجھتے ہیں
11:17اور حرمین شریفین کے تمام خطاتی کے کاموں کے لیے
11:22شفیق الزمہ سے مشاورت کی جاتی ہے
11:25دوستو یہ تھی کہانی شفیق الرحمن صاحب کی
11:28جو آپ کی خدمت میں پیش کی گئی
11:30ہم امید کرتے ہیں کہ یہ ویڈیو آپ کو ضرور پسند آئی ہوگی
11:34اور اسے اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر بھی کریں گے
11:38آنے والی ویڈیو تک آپ کا اپنا میزبان قادر بخش کلھوڑو
11:42آپ سے اجازت چاہتا ہے
11:44فی امان اللہ
Comments