Skip to playerSkip to main content
Masjid-e-Nabvi Ke Khattat | Pakistan Ke Shafiq-ul-Zaman Sahib Ki Hairat Angeiz Kahani

Yeh kahani hai Pakistan ke mashhoor khattat Shafiq-ul-Zaman Sahib ki, jinhein Masjid-e-Nabvi ﷺ mein khataati ka sharaf hasil hua. Mehnat, sabr aur Quran se muhabbat ne ek aam Pakistani fankar ko duniya ki sab se muqaddas masjid ke liye likhne wala khattat bana diya.

Is video mein aap jaanenge:

Shafiq-ul-Zaman Sahib ka ibtidaai safar

Khataati ka shauq aur sakht mehnat

Masjid-e-Nabvi ﷺ tak pohanchne ki kahani

Is safar se milnay wali roohani aur zindagi badal dene wali naseehat

Yeh kahani humein sikhati hai ke ikhlaas aur lagan ke sath ki gayi mehnat Allah zaroor qubool farmata hai.

🎙️ Bayan: Qadir Kalhoro

#MasjidENabvi #Khattat #ShafiqUlZaman #IslamicInspiration #PakistanPride #IslamicHistory #QadirKalhoro

Category

📚
Learning
Transcript
00:00بسم الله الرحمن الرحيم
00:01السلام عليكم
00:30تم اپنے لادلے کو منع کیوں نہیں کرتے
00:32اسے سمجھاؤ ورنہ اچھا نہیں ہوگا
00:35بڑے میاں نے وقتی طور پر
00:36اہل محلہ کو سمجھا بجا کر
00:38واپس بھیج دیا
00:39لیکن وہ اس شکایت سے قدر نالا بھی تھے
00:43بیٹے کو سمجھایا
00:44کیوں تو لوگوں کو تنگ کرتا ہے
00:47اپنی پڑھائی پر دھیان دے
00:49اور آئندہ شکایت کا موقع نہ دینا
00:51بیٹے نے سر جھکا کر سن تو لیا
00:53لیکن وہ باز رہنے والا کہاں تھا
00:56یہ آڑھی ترچی لکیریں تو اس کا شوق تھا
00:59اور شوق سے لا تعلقی بھلا کون کر سکتا ہے
01:02پھر اس لڑکے نے باپ کا مان رکھتے ہوئے
01:05دیواروں کو کالا کرنا ترک تو کر دیا
01:07لیکن دیواروں کے علاوہ جو بھی خالی جگہ ملتی
01:11وہاں وہ چاک یا کوئلے سے کچھ نہ کچھ بناتا رہتا
01:15یوں یہ شوق پروان چڑھتا رہا
01:18اسکول میں اساتذہ کی غیر موجودگی میں
01:20تختہ سیاہ پر چاک کی مدد سے
01:23وہ اپنے شوق کی تقمیل کرتا رہتا
01:26کبھی ڈانٹ اور کبھی حوصلہ افزائی
01:28دونوں برابر ملتے رہتے
01:30وقت گزرتا رہا
01:31اسکول میں منعقد خطاتی
01:34اور خوشنویسی کے مقابلوں میں حصہ لینا شروع کر دیا
01:37جو بھی لکھا ہوا یا بنا ہوا نمونہ دیکھتا
01:41اسے ہو بہو چاک کی مدد سے بنا لیتا تھا
01:44خوشنویسی کے قواعد یا خطوط کی پہچان
01:48تو اسے بالکل بھی نہیں تھی
01:49لیکن جیسا بھی مشکل سے مشکل خط ہوتا
01:53وہ اسے کاغذ پر اتار لیتا
01:55کوئی پوچھتا کہ یہ کون سا خط ہے
01:57یا کون سا اسٹائل ہے
01:58تو وہ بتا نہیں سکتا تھا
02:00کیونکہ اس کے پاس باقاعدہ تعلیم تو نہیں تھی
02:04نہ ہی پہچان تھی
02:05کلاس میں سب سے پہلے آتا تھا
02:07چاک سے بلیک بورڈ پر اپنی مشک کرتا رہتا
02:11باقی ہم جماعتوں
02:12اور اساتذہ کے آنے سے پہلے
02:14وہ ٹھیک ٹھاک مشک کر لیتا
02:17اور اگر کبھی کبار کوئی استاد دیکھ لیتا
02:20تو حیران رہ جاتا
02:21کہ نو عمر اور نو آموز بچے کا
02:24اتنا عمدہ خوشخط
02:26آہستہ آہستہ اس کی مشک میں
02:28پختگی تو آگئی
02:29لیکن باقاعدہ رہنمائی سے محروم ہی رہا
02:32اسکول میں کوئی خطاتی کا استاد نہیں تھا
02:35اور آرٹ یا ڈرائنگ کا استاد
02:37اسے تھوڑا بہت سکھا تو دیتا تھا
02:39لیکن وہ لڑکا
02:41ان استادوں سے زیادہ بہتر لکھ لیتا تھا
02:43چھوٹے چھوٹے مقابلے جیتا رہا
02:46محلے میں بھی بینر اور اشتہارات
02:49لکھنے والے کی حیثیت سے
02:51پہچان بنوالی
02:52اسی دوران میٹرک کر لی
02:54اور آگے تعلیم جاری رکھنا مشکل ہو گیا
02:57تو اسکول جانا ہی چھوڑ دیا
02:58برش اور رنگ لیتا
03:00اور گلیوں محلوں میں نکل جاتا
03:02لوگوں کی دکانوں پر نام لکھتا
03:05بینر لکھتا
03:06اور چند پیسے کماتا
03:07اس کام سے اسے تسکین نہیں مل رہی تھی
03:10وہ اس کام کو اپنا اوڑنا بچھونا بنانا چاہتا تھا
03:14لیکن اسے کوئی راہ نہیں مل رہی تھی
03:17اسکول جب چھوڑ دیا
03:18تو وقت کی فراوانی بھی ہو گئی
03:20اور کام میں روانی بھی ہو گئی
03:22ایک دن اسے کہیں سے ایک کتاب مل گئی
03:25جس کا نام تھا
03:26خوش خطی سیکھیں
03:28اس کتاب میں اردو اور عربی کے خطوں کے متعلق معلومات تھی
03:32جیسے برش قلم
03:34رنگوں کی بنیادی معلومات
03:36اس نے وہ خط حفظ کر لی
03:38اور خطوں کی شکلیں یاد کر کے
03:40ان کی مشق شروع کر دی
03:42ایک دن وہ بڑی کتابوں کی دکان میں گیا
03:45اور وہاں سے اپنے کام کے متعلق
03:47کسی کتاب کا پوچھا
03:49اسے کوئی خاص کتاب تو نہ ملی
03:51مگر عربی رسم الخط کے متعلق
03:54اسے ایک چھوٹا سا کتابچا مل گیا
03:56اس نے وہی خرید لیا
03:58اب عربی تو وہ پڑھ نہیں سکتا تھا
04:00لیکن عربی خطوں کی شکلیں
04:03اسے پتا چل گئی تھی
04:04چھوٹے چھوٹے کام کرتے ہوئے
04:06وہ بڑی کمپنیوں اور اداروں کے کام کرنے لگا
04:10ایک دفعہ کراچی کی ایک مصروف شارعہ پر
04:12وہ یوں ہی تاج کمپنی کا سائن بورڈ لکھنے میں مصروف تھا
04:16کہ ایک بڑی گاڑی
04:18اس بورڈ کے نیچے آ کر رک گئی
04:20اور گاڑی میں بیٹھے شخص نے
04:22اسے نیچے آنے کا اشارہ کیا
04:24وہ نیچے آیا تو دیکھا
04:26کہ اس سے مخاطب ایک عربی شخص ہے
04:28اور عربی زبان سے تو وہ واقف نہ تھا
04:31اس بڑی گاڑی کے پیچھے
04:33ایک چھوٹی گاڑی بھی آ کر رکھی
04:35اس میں عربی شخص کے جاننے والے پاکستانی افراد تھے
04:39وہ نیچے اترے
04:40اور اس لڑکے سے کہنے لگے
04:41کہ شیخ چاہتا ہے
04:43کہ تم اس کے ساتھ سعودی عرب چلو
04:45اور وہاں جا کر
04:46اس کے لیے خطاتی کا کام کرو
04:49لڑکا کہنے لگا
04:50کہ مجھے تو عربی بولنا اور لکھنا آتی ہی نہیں ہے
04:53میں کیسے یہ کام کروں گا
04:55تو اس عربی شخص نے بتایا
04:56کہ تم جس خط میں یہ بینر لکھ رہے ہو
04:59یہ عرب کا مشہور خط ہے
05:01اور اسے ہر کوئی لکھ بھی نہیں سکتا
05:04تم تو اسے کمال مہارت سے لکھ رہے ہو
05:06اور کہتے ہو کہ میں جانتا بھی نہیں
05:09وہ عربی سعودی صفیر کا دوست تھا
05:11اور پاکستان سے ہنرمند افراد کو لینے آیا تھا
05:14اسے پاکستانی خطات لڑکے کا کام پسند آ گیا
05:18اور اسے ساتھ چلنے کا کہا
05:20یوں گھر سے اجازت لے کر
05:22اس نے پاسپورٹ بنوا کر
05:24شیخ کے حوالے کر دیا
05:25اور چند دنوں بعد وہ سعودی شہر ریاض میں
05:29بیٹھا بینر لکھ رہا تھا
05:31جب کام کرتے ہوئے کافی سال گزر گئے
05:33تو سعودیہ میں رہنے سے
05:35ایک تو اس نے عربی زبان میں مہارت حاصل کر لی
05:39اور دوسرا تمام عربی خط اور رسم الخط میں
05:42وہ تقریباً کمال کے درجے تک جا پہنچا
05:45اس کا کفیل اچھا آدمی تھا
05:47اور اس پاکستانی خطات کی بے پناہ عزت بھی کرتا تھا
05:52وہ اپنے کفیل سے اجازت لے کر
05:54کئی بار عمرہ اور زیارتیں وغیرہ بھی کر آیا
05:57ایک دفعہ مدینہ منوارہ میں
05:59مسجد نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اندر
06:02نماز ادا کرتے ہوئے
06:04اس کے دل میں خواہش نے جنم لیا
06:06کہ کاش مجھے موقعہ ملے
06:08اور مسجد نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اندر
06:13اپنے ہاتھوں سے ایک تختی پر
06:15ایسی خطاتی کروں
06:16کہ دنیا حیران رہ جائے
06:18یہ خواہش لے کر وہ وہاں سے ریاض آ گیا
06:21کام کاج کرتا رہا
06:24لیکن خواہش برابر پروان چڑھتی رہی
06:27ایک بار اس نے کہیں سے سنا
06:29کہ مدینہ منوارہ میں اعلان ہوا ہے
06:31کہ دنیا بھر سے خطات حضرات کو دعوت ہے
06:34کہ وہ ایک مقررہ تاریخ پر
06:37ایک مقصوص رسم الخط میں
06:39ایک مقصوص عبارت لکھ کر جمع کروائیں
06:42جو خطات اس مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا
06:46اسے مسجد نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خطات
06:51مقرر کیا جائے گا
06:52اسے لگا جیسے اس کی خواہش پوری ہونے کا وقت آ گیا ہے
06:56وہ وہاں گیا
06:57تو دیکھا کہ وہاں دنیا بھر سے ایسے ایسے خطات
07:00اپنا نام لے کر آئے تھے
07:02کہ ان سب کے سامنے اس کی حیثیت کچھ بھی نہیں تھی
07:06وہ گیا اور اپنا کام پیش کرنے کی خواہش کی
07:09لیکن کسی نے بھی اسے سنجیدہ نہ لیا
07:13نہ تو وہ معروف تھا
07:14اور نہ ہی اس کا کوئی کام ایسا تھا
07:17جو مشہور ہو
07:18اور اوپر سے وہ کتابت کی جگہ سائن بورڈ اور بینر لکھنے والا
07:22اور پھر اہل زبان بھی نہیں
07:24اور یوں اسے حصہ نالے نے دیا گیا
07:27اور مایوس وہ ریاد لوٹ آیا
07:30مقابلے کے اختتام کا وقت قریب تھا
07:32اور اس کی ایک بھی نہیں چل رہی تھی
07:35تقریباً اس نے دل چھوڑ ہی دیا تھا
07:37کہ اس کی دکان پر ایک عربی آیا
07:40اس نے کہا
07:41کہ مجھے فلانسائز کی تختی خطے سلس میں چاہیے
07:44اس نے لکھ دی تو وہ حیران رہ گیا
07:47کہ اتنے چند ریالوں میں
07:49اتنا بہترین کام تو کوئی بھی نہیں کر سکتا
07:52اس نے کہا
07:52کہ تم میرے ساتھ چلو
07:54اور میرے لئے کام کرو
07:55وہاں معاوضہ دگنا میں لے کا
07:58اس لڑکے نے انکار کر دیا
07:59تو وہ عربی کہنے لگا
08:01کہ میں ایک دکان مدینہ منورہ میں کھولنا جا رہا ہوں
08:05اگر کوئی دوسرا خطات ہوا
08:07تو بتانا
08:08جب اس لڑکے نے مدینہ منورہ کا نام سنا
08:11تو کہا
08:11کہ مجھے لے چلو میں وہاں کام کروں گا
08:14اسے ایک امید لگ گئی
08:16کہ شاید میرا وسیلہ بن جائے
08:17یوں وہ کسی نہ کسی طرح
08:19پہلے مہربان کفیل کو تقریبا ناراض ہی کر کے
08:23مدینہ منورہ چلا گیا
08:25مقابلے کے اختتام کا وقت قریب تھا
08:28اور نئے کفیل کے ساتھ کام کاج بہت زیادہ تھا
08:31دکان چھوڑ کر نکلنا بڑا مشکل تھا
08:34نیا کفیل اس کے کام سے حد درجہ خوش تھا
08:37اس جیسا کام تو سعودیہ میں کوئی دوسرا کرنے والا تھا ہی نہیں
08:42کفیل تو یوں تھا جیسے اس کا مرید ہو گیا ہو
08:45اسے بہترین کھانے کھلاتا
08:47جب بھی ملتا تو ہاتھ اور ماتھا چمتا
08:50غرض بڑی آہو بھگت کرتا
08:52اس نے ایک دن کفیل سے اپنا مدعا بیان کیا
08:55کہ میں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں خطاتی کے مقابلے میں حصہ لینا چاہتا ہوں
09:02میری کچھ مدد کرو
09:04کفیل نے اس کی بات مان لی
09:05اور اپنے جاننے والوں سے کہہ کہہ لوا کر
09:08اسے کسی طرح سے اس مقابلے تک لے ہی گیا
09:12بڑی مشکل سے اس کا نام ریجسٹرڈ ہوا
09:15اور اسے مقابلے کے لیے بطور نمونہ پہلے ایک عبارت لکھوائی گئی
09:20پھر اسے شریک کیا گیا
09:22یوں اس کی لکھی ہوئی تختی اور وہ اس مقابلے میں شریک ہو گئے
09:26مقابلہ ختم ہوا
09:27نتائج کے اعلان کا دن تھا
09:30دنیا بھر سے ماہرہ سات ازا کے درمیان
09:32اس کا کام کیا حیثیت رکھتا تھا
09:35بہرحال مقابلے کے نتیجے کا اعلان ہوا
09:38اور خلاف توقع وہ دنیا بھر کے ماہر خطاتوں کو پچھاڑ کر
09:43اول انعام کا حقدار ٹھہرا
09:45امام الحرم اور جوری نے جب اس خطات کا نام اور ملک پوچھا
09:51تو کہنے لگا شفیق الزمہ پاکستان سے
09:54پورے مجموعے پر خاموش اچھا گئے
09:56پورے عرب کے خطات ایک دم حیران رہ گئے
10:00کہ اجنبی نام اور غیر عرب
10:02کیسے اہلِ عرب سے جیت گیا
10:04اور وہ شخص جیتا
10:06جسے مقابلے میں شریک ہی نہیں ہونے دیا جا رہا تھا
10:09یوں جنابِ محترم شفیق الزمہ کی خوش نصیبی
10:13اور سعادت کے کہاں ایک تختی لگانے کی خواہش
10:17اور کہاں درو دیوار منور کرنے کے لیے
10:20مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خطات مقرر کیا گیا
10:25آہستہ آہستہ وہ وہاں کے تمام خطاتوں کے استاد بن گئے
10:30آج سعودی عرب میں نصف صدی کے لگ بھگ عرصہ گزارنے کے بعد
10:34مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درو دیوار پر
10:39پچاسی فیصد کام شفیق الزمہ کے ہاتھوں کا لکھا ہوا ہے
10:43حتانکہ جس دروازے باب السلام سے داخل ہو کر
10:47اور جس مقام پر پہنچ کر سارا عالم اسلام
10:51روزہِ اقدس پر حاضری اور سلام کی سعادت حاصل کرتا ہے
10:56ان تمام جگہوں کو شفیق الزمہ کے قلم اور برش نے مزین کر رکھا ہے
11:01ایک عجمی کا خطات المسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پانا
11:07ایک موجزہ اور ایک سعادت سے کم نہیں
11:10آج حرم مکی کے امام حرم مدنی کے خطات سے ملنے میں
11:15سعادت اور فخر سمجھتے ہیں
11:17اور حرمین شریفین کے تمام خطاتی کے کاموں کے لیے
11:22شفیق الزمہ سے مشاورت کی جاتی ہے
11:25دوستو یہ تھی کہانی شفیق الرحمن صاحب کی
11:28جو آپ کی خدمت میں پیش کی گئی
11:30ہم امید کرتے ہیں کہ یہ ویڈیو آپ کو ضرور پسند آئی ہوگی
11:34اور اسے اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر بھی کریں گے
11:38آنے والی ویڈیو تک آپ کا اپنا میزبان قادر بخش کلھوڑو
11:42آپ سے اجازت چاہتا ہے
11:44فی امان اللہ
Be the first to comment
Add your comment

Recommended